Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

رئیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو ہم نفس کوئی نہ ہو اور ہم نوا کوئی نہ ہو بے در و دیوار سا ایک گھر بنانا چاہئے کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار اور اگر مر جائیے نوحہِ خواں کوئی نہ ہو

میر سالار کے جانے کے بعد وہ ایک پل بھی اس روم میں نہ ٹھہری تھی بلکہ نیچے آ کر دوسرے روم میں لیٹ گئی تھی مگر، اب نیند اچاٹ ہو چکی تھی۔ پتہ نہیں وہ اتنی عجلت میں کہاں نکل گیا تھا۔ خیر وہ تو یہ بھی پوچھنے کا حق نہیں رکھتی تھی۔ سوچتے ہوئے وہ یاسیت زدہ سی ہو گئی۔
انہی سوچوں میں وقت کا پتہ ہی نہ لگا جب ازان کی آواز پر وہ چونک سی گئی۔ مسجد شاید فارم ہاؤس کے بہت قریب تھی جبھی آواز صاف طور پر سنائی دے رہی تھی۔ وہ نماز کے ارادے سے اٹھی اور وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔
کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ وہیں چلی آئی تو دیکھا خانساماں وہاں مصروف تھا۔ اسے دیکھکر اس نے سلام کیا تو مرحا نے آہستگی سے جواب دیا۔ اسے زوروں کی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے کچن میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اور پھر خانساماں کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کچھ چاہیئے تھا بی بی جی؟ اس نے پوچھا تو اس کے اندازِ تخاطب پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی، اس شخص نے تو اس کا تعارف بھی کسی سے کرانا گوارا نہ کیا تھا۔ پر یہ خانساماں تو اسے بہت عزت دے رہا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھ رہا ہو کہ یہ حویلی کی ہی کوئی فرد ہے۔ خیر، اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ساتھ ہی اس سے کھانے کا پوچھا تو اس نے کہا کہ “آپ ٹیبل پر بیٹھ جائیں میں ناشتہ لاتا ہوں؛ وہ سر ہلاتی ہوئی ڈائننگ روم میں ٹیبل پر جا بیٹھی۔ کچھ ہی دیر کے بعد وہ ناشتہ لے آیا۔ دو دنوں کی بھوک سے نڈھال وہ تقریباً ادھ موئی سی ہو گئی تھی مگر بخار قدرے کم ہو کر اب حرارت میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر ناشتہ کیا اور چائے کے بعد ڈائننگ روم سے باہر نکلی ہی تھی وہاں شرفو (ملازم) آ گیا۔
“بی بی جی، آپ کی ضروریات کی تمام اشیاء میں کل ہی لے آیا تھا وہ اس روم کی الماری میں موجود ہیں! اس نے اسے اطلاع دیتے ہوئے ہاتھ سے اسی روم کی جانب اشارہ کیا جہاں اس نے صبح کی تھی۔
وہ دل ہی دل میں حیرت زدہ سی ہوتی سر ہلا گئی۔
بات سنیں، اس نے واپس پلٹتے ہوئے شرفو کو آواز دی،
جی، بی بی جی، شرفو نے مؤدب انداز میں پوچھا۔
“تمہارے سائیں کدھر گئے ہیں، کچھ معلوم ہے؟ مرحا نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
ہاں جی، وہ تو حویلی گئے ہیں، کل آنے سے پہلے انہوں نے ہی یہ چیزیں لانے کے لئے مجھے کہا تھا، اور دکاندار کو پہلے ہی بتا دیا تھا سب، میں بس لے آیا تھا جی،، وہ اسے مزید اطلاعات فراہم کرتا پلٹ گیا جبکہ وہ ہنوز حیرت کے سمندر میں غوطے کھاتے ہوئے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ اس شخص نے تو اسے حیران ہی کر دیا تھا۔ یہ سب کچھ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔
کمرے میں آ کر اس نے الماری سے وہ تمام چیزیں باہر نکالیں، مختلف شاپرز تھے جن میں ضروریاتِ زندگی کی اشیاء موجود تھیں۔ ہیئر برش، لوشن، شیمپو، کنگھے، کئی خوبصورت جوڑے، کچھ سینڈیلز، اور گھر میں استعمال ہونے والی چپلیں، تولیہ، باڈی لوشن، ٹوتھ برش، ربربینڈ، حتیٰ کہ ضروریات کی ہر چیز موجود تھی۔ وہ گہرا سانس بھرتی اٹھی اور اس کمرے کی خالی وارڈروب میں تمام چیزیں سیٹ کرنے کے بعد ایک سوٹ کے ساتھ نہانے کی غرض سے باتھ روم میں گھس گئی۔

              💛💛💛💛💛

بڑی حویلی میں ایک نہ ختم ہونے والا محشر برپا تھا۔ شموئیل شاہ کی نمازِ جنازہ ادا کر گئی تھی۔ چھوٹی حویلی کے کسی بھی فرد کو شموئیل شاہ کا مردہ وجود دیکھنے نہ دیا گیا حتیٰ کہ مرد حضرات کو نمازِ جنازہ تک میں شامل نہ ہونے دیا گیا۔ مورے نے تو باقاعدہ ملازمہ کے ہاتھوں چھوٹی حویلی یہ پیغام بھجوایا تھا کہ “کوئی بھی خواتین حویلی آنے کی زحمت نہ کرے، ہمیں کسی کی ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ اس پیغامِ رسائی کے بعد وہاں کی کسی بھی خواتین نے شرکت نہیں کی یہاں تک کہ بی جان بھی تڑپ تڑپ کر رہ گئیں، لیکن سب کچھ بے سود رہا۔

مورے کا بددعائیں دے دے کر برا حال تھا۔ بڑی حویلی کے تمام مرد بے حد طیش کے عالم میں تھے اور ان کا یہ جاہ و جلال بجا بھی تھا۔ حفضہ بیگم کو اب تک ہوش نہ آیا تھا۔ باقی سب کی آنکھیں رو رو کر اپنی اصل حالت کھو بیٹھی تھیں۔ حویلی سمیت پورا گاؤں ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ میر سالار فجر کے وقت حویلی پہنچ گیا تھا۔ اب جنازے میں شرکت کے بعد جرگے میں شمولیت کر کے ہی اسے شہر جانا تھا۔ نمازِ جنازہ چونکہ صبح آٹھ بجے ادا ہوئی تھی۔ سو جرگے کا وقت دس بجے کا طے کیا گیا تھا۔
“دس بجے سارے مرد حضرات جرگے میں شمولیت کی غرض سے بیٹھک کی جانب بڑھ گئے۔ سبحان شاہ ایک ہی روز میں بوڑھے دکھنے لگے تھے، جوان بیٹے کا یوں چلے جانا انہیں اندر تک توڑ گیا تھا۔ سکندر شاہ کا حال بھی عجب دلسوز تھا۔ بھائی کی ابدی جدائی نے اس کا دل خون خون کر دیا تھا۔ وہ ہنوز بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔ اسے اس بات پر یقین کرنا مشکل ثابت ہو رہا تھا کہ وہ کچھ دیر پہلے اپنے جان سے پیارے بھائی کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں سلا آیا ہے، اور یہ کہ وہ اب زندگی بھر کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے گا۔ اس کے دل میں صارم شاہ سمیت چھوٹی حویلی کے ہر فرد کے لئے ایک نفرت سی بھر گئی تھی۔
“وہاج شاہ سر پر سرپنچ کا شملہ رکھے اپنی جگہ بیٹھ گئے باقی سب نے بھی نشست سنبھال لی۔ چھوٹی حویلی کے تمام مرد بھی وہاں موجود تھے۔ فیاض شاہ و زکا شاہ کے سر شرم سے جھکے ہوئے تھے۔ صارم شاہ نے یقیناً انہیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
“زکا شاہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ تمہارے بیٹے صارم شاہ نے ہمارے پوتے شموئیل شاہ کا قتل کیا ہے، ہمارے خاندان کے یہی اصول اور ہمارے اہم ترین فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ ہم خون کے بدلے خون کی مانگ کریں، تو بتاؤ کہاں ہے صارم شاہ؟ انہوں نے با رعب لہجے میں کہتے ہوئے زکا شاہ سے سوال کیا!
معاف کیجئے گا بڑے ابا سائیں، پر مجھے اس بابت کوئی علم نہیں ہے۔ قتل کی واردات کے بعد سے ہی وہ فرار ہے! زکا شاہ نے سر جھکائے ہوئے ہی جواب دیا۔ ان کے جواب پر سکندر شاہ غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
“نا ممکن، تمہارا بیٹا بڑی حویلی کے سپوت کے خلاف قتل کی سازشیں کرتا پھر رہا تھا اور تم لوگوں کو اس کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی، یہ کیسے ہو سکتا ہے زکا؟ وہاج شاہ نے سخت تفتیش بھرے انداز میں ان کی بات کی نفی کی تو سبحان شاہ نے بھی وہاج شاہ کی تائید کی۔
ہمیں واقعی میں کوئی خبر نہیں تھی اسکی، نہ ہی اس نے ہمیں اس بابت کچھ اشارے دئیے۔ فیاض شاہ نے اس بار وضاحت کی تو وہاج شاہ کے چہرے پر تمسخر پھیل گیا۔
“قتل کی وجہ کیا تھی یہ تو پتہ ہو گا یا یہ بھی نہیں معلوم، اسے شموئیل سے کس بات پر اختلاف تھا؟ اس نے کبھی تو حویلی میں شموئیل کے خلاف ایسا کچھ کہا ہوگا جس سے تم لوگوں کو اس کی شموئیل شاہ سے نفرت کا اندازہ ہوا ہو؟ بتاؤ یہ اہم معلومات ہیں جسے ہم تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ ہمارے پاس اور بھی بہت راستے ہیں۔ غصّے میں بھینچی ہوئی آواز میں وہاج شاہ نے دھمکی آمیز انداز اپناتے ہوئے کہا تو چھوٹی حویلی کے مرد حضرات آنکھوں میں بے بسی کی سی کیفیت لئے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ سکندر شاہ کے ہمراہ بیٹھا میر سالار بھی بھرپور سنجیدگی سے ساری گفتگو ملاحظہ کر رہا تھا۔
وہ شموئیل شاہ کی منکوحہ منتہا سے محبت کرتا ہے، اسی کو حاصل کرنے کیلئے اس نے شموئیل کا قتل کیا ہے جہاں تک امید ہے۔ کیونکہ اس نے ایک دفعہ حویلی میں منتہا کے لئے اپنی محبت ظاہر کی تھی۔ زکا شاہ نے شرمندگی سے چور لہجے میں حقیقت بیان کی تو بڑی حویلی والوں کے چہرے پر بے یقینی کے ساتھ ساتھ مزید غصّہ پھیل گیا۔ صارم شاہ کی پست ذہنیت پر جتنا افسوس کیا جاتا کم تھا۔
اور شموئیل شاہ کے لئے اپنی نفرت بھی ظاہر کی ہوگی ہے نا؟ وہاج شاہ نے طنزیہ کہا تو زکا شاہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

“تمہارا بیٹا تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہے زکا، لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس کا پالہ کن لوگوں سے پڑا ہے۔ اس کی اتنی جرت کہ وہ خاندان کی عزت کے بارے میں ایسی سطحی سوچ رکھے۔ اس کا جرم نا قابلِ فراموش ہے۔ وہ ملا تو بنا اس سے کوئی بھی وضاحت مانگے اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ وہاج شاہ نے دہاڑتے ہوئے فیصلہ سنایا جبکہ زکا شاہ سمیت فیاض شاہ کا سر مزید جھک گیا۔
“وہ پتہ نہیں کدھر غائب ہو گیا ہے اس کا ملنا مشکل ثابت ہو رہا ہے، ہم نے خود بہت سی کوششیں کر لیں مگر بے سود رہا ، آپ کوئی بھی فیصلہ کریں ہمیں منظور ہے؛ زکا شاہ نے وہاج شاہ کو اپنی رضامندی دے دی۔

“ہمیں ایسا کیوں لگ رہا ہے زکا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا وہ قاتل و بیغیرت فرزند کدھر چھپا بیٹھا ہے، خیر وقت آنے پر سب پتہ چل جائے گا۔ اور رہی ہمارے فیصلے کی بات تو سنو، تمہارا بیٹا صارم شاہ جب تک حاضری نہیں دے دیتا تک تب تمہاری چھوٹی بیٹی “زوفا؛ ونی کے طور پر سبحان شاہ کے چھوٹے بیٹے سکندر شاہ کے نکاح میں دی جاتی ہے، اور تمہاری بیٹی کے ساتھ بڑی حویلی کے ہر فرد کا خواہ وہ کسی بھی طرح کا رویہ ہو اس کی پوری طرح اجازت دی جاتی ہے۔ یہی ہمارا فیصلہ ہے۔ وہاج شاہ کا فیصلہ سن کر جہاں باقی سب اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گئے وہیں سکندر شاہ کے سر پر گویا دھماکہ ہو گیا تھا۔ وہ اپنی جگہ پتھر بنا وہاج شاہ کو دیکھ رہا تھا۔

دادا سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ قطعی منظور نہیں ہے مجھے، آپ جانتے ہیں حرم میری منگیتر ہے پھر بھی یہ فیصلہ کیا ہے آپ نے؟ سکندر شاہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیز لہجے میں بولا
خاموش سکندر شاہ، تمہارے لئے اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ اہم ہے یا اپنی محبت جواب دو؟ اور ویسے بھی کون سا حرم تم سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ رہی ہے۔ یہ لڑکی تو محض صارم شاہ کو اپنے جال میں پھنسانے کیلئے تمہاری زندگی میں شامل کی جا رہی ہے۔ اپنی بہن کا حال سنے گا تو خود ہی چل کر شکاری پنجرے میں پھنس جائے گا۔ وہاج شاہ نے متانت سے بھرپور لہجے میں ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے کہا جبکہ سکندر شاہ غصے سے بل کھاتا بیٹھک سے واک آؤٹ کر گیا۔ اس کے لئے اس محفل میں اب ایک بھی پل بھی اور بیٹھنا برداشت سے باہر ہو گیا تھا، جبکہ میر سالار بھی بے یقینی و طیش کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا۔
دادا سائیں، آپ کا یہ فیصلہ ہم سب کیلئے نا قابلِ قبول ہے۔ آپ میری بہن حرم کی جگہ کسی اور لڑکی کے وجود کو فوقیت دے رہے ہیں۔ آپ کا یہ فیصلہ سراسر غلط ہے،،،! میر سالار نے سلگتے ہوئے کہا تو وہاج شاہ کا چہرہ لال ہو گیا۔
برخوردار، جس طرح تمہیں اپنے فیصلے لینے کی عادت ہے ویسے ہی ہمیں بھی ہے۔ بہتر ہوگا ہمیں مت سکھاؤ کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے کیا نہیں!! انہوں نے اسے گھورتے ہوئے چبا چبا کر کہا تو میر سالار کے چہرے پر استہزائیہ تاثر پھیل گیا۔
“میرے فیصلے کے بارے میں کچھ مت کہئے، میں نے جو کیا ہے دماغ سے سوچ کر کیا ہے۔ مگر لگتا ہے آپ میں سوچنے کی صلاحیت کم اور محض اپنا رعب و رتبہ دکھانے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ وہ بھی انہی کے انداز میں بولتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ پیچھے وہاج شاہ دانت پیس کر رہ گئے۔

وہاج شاہ کے اس فیصلے پر زکا شاہ تڑپ سے گئے تھے۔ لیکن وہ مجبور تھے۔ ان کے بیٹے نے اپنی ضد اپنے انتقام کے آگے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ وہ اپنی جان سے پیاری بیٹی کے لئے یہ فیصلہ سن کر روح کی گہرائیوں تک گھائل ہو گئے تھے۔ مگر ان کے اختیار میں کچھ بھی نہ تھا۔ جرگے کی یہ محفل وہاج شاہ کے فیصلے کے ساتھ ہی برخاست ہو گئی تھی۔ لڑکھڑاتے قدموں سمیت چھوٹی حویلی کا رخ کرتے ہوئے زکا شاہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ زوفا ان کی سب سے لاڈلی بیٹی تھی۔ مگر اس سنگ دل دنیا کا یہی نظام ہے کہ یہ لاڈلوں کے ساتھ ہی بہت برا سلوک کرتی ہے۔

               ❤️❤️❤️❤️❤️

فیاض شاہ سمیت باقی مرد حضرات حویلی پہنچے تو خواتین بے صبری سے ان کی راہ تک رہی تھیں۔
شِدّتِ ضبط سے سرخ پڑتے چہرے کیساتھ زکا شاہ جیسے ہی حویلی میں داخل ہوئے سب سے پہلی نظر ہی زوفا پر جا پڑی۔ جو ہراساں آنکھوں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی۔ انہیں دیکھکر بیقرار سی بی جان لپک کر فیاض شاہ کے پاس آئیں۔
شاہ سائیں، کیا فیصلہ ہوا ہے جرگے میں؟ صارم کی کچھ خبر ملی؟ اس حوالے سے کیا فیصلہ سنایا گیا ادھر؟ انہوں نے ایک سانس میں سوالات کئے۔ فیاض شاہ نے نظریں چرا لیں۔
کیا ہوا سائیں، زکا تم کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ وہ فیاض شاہ کی طرف سے جواب نہ پا کر زکا شاہ کی جانب متوجہ ہوئیں جو خود پر ہزار ضبط کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“بی جان، اب جو میں کہنے جا رہا ہوں، اسے نہایت صبر و تحمل کیساتھ سنئے گا، نہ صرف سنئے گا بلکہ اسے قبول بھی کیجئے گا آپ سب!! انہوں نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے خواتین پر سرسری سی نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔

“صارم شاہ غائب ہے۔ جب تک صارم نہیں مل جاتا یا خود حاضری نہیں دے دیتا اُتنی مدت کے لئے انہوں نے زوفا کو ونی میں سکندر شاہ کی بیوی کے طور پر مانگا ہے۔ اور یہ ان کا آخری فیصلہ ہے، بڑی حویلی میں زوفا کے ساتھ چاہے کسی بھی قسم کا سلوک ہو اس کی وہ رضامندی دیتے ہیں۔۔۔ ان سب کو تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے زکا شاہ کی آواز کپکپا سی گئی، اور سامنے کھڑی زوفا کی آنکھوں کے آگے جیسے گہرا اندھیرا سا چھا گیا، اسے لگا اس کی ہستی کو کسی نے پل بھر میں تار تار کر دیا ہو، اچانک اسے زوروں کا چکر آیا اور دونوں ہاتھوں میں اپنا گھومتا ہوا سر تھامے وہ دھیرے دھیرے قدموں سے پیچھے کی جانب ہونے لگی۔ بی جان سمیت بقیہ خواتین گویا پتھر کے مجسمے میں ڈھل گئی تھیں۔
“یہ یہ کیا کہہ رہے ہو زکا، یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔ ایسا کوئی بھی فیصلہ شاہ سائیں کیسے کر سکتے ہیں، نہیں میری زوفا تو رل جائے گی، میری بچی کو وہ لوگ جیتے جی مار دیں گے۔ تم جانتے ہو نا کہ “ونی؛ کا مطلب کیا ہے!! یکایک بی جان ہوش میں آئیں اور سرسراتے ہوئے ان کے لبوں سے یہ لفظ نکلے۔ بقیہ خواتین بھی ہوش میں آئیں تو جیسے ان کے لبوں سے چیخیں امڈنے لگیں۔

“یہ ظلم ہے میری پھول سی بچی کیساتھ سائیں، خدا کیلئے انہیں انکار کر دیں۔ میں خوب اچھی طرح جانتی ہوں انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے۔ ہمیں بے موت مارنا چاہتے ہیں وہ، آسیہ بیگم کی دلسوز آواز حویلی کی چار دیواری میں گونج رہی تھی۔
“میں یا بابا سائیں کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا آسیہ بات کو سمجھو اور اسے تسلیم کرو۔ ہمیں اپنی معصوم بیٹی کی قربانی دینی ہی ہوگی۔ زکا شاہ نے نم آنکھوں و بھیگی آواز کے ساتھ مسلسل نفی میں سر ہلاتی بلکتی آسیہ بیگم کا بازو تھام کر انہیں سمجھاتے ہوئے بولے، جبکہ بی جان اونچی آواز میں رو رہی تھیں۔ سویرا بھی اپنی جگہ ساکت و جامد بیٹھی تھی۔ بات ختم کر کے زکا شاہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ شاید مقصد بند کمرے میں کھل کر دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔ باقی مرد حضرات مردان خانے میں چلے گئے۔

“اللّٰہ غارت کرے تجھے صارم، تو نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے۔ تو نے ہمیں برباد کر دیا ہے۔ یا اللّٰہ ہمیں صبر دے، ہمیں ہماری طاقتوں سے زیادہ نہ آزما۔۔۔۔ بی جان نے دوپٹہ پھیلاتے ہوئے اونچی آواز میں رو کر فریاد کی جبھی پیچھے کچھ گرنے کی زوردار آواز پر وہ سب حواس باختہ سی پلٹیں تو ان کی چیخیں نکل پڑیں۔ زوفا بے ترتیب سی زمین بوس ہوئی ہوش و خرد سے بیگانہ پڑی تھی۔
“زوفا میری دھی، ہوش کر میری بچی،، آسیہ بیگم دوڑ کر اس کے پاس آئیں اور اس کا سر گود میں رکھ کر گال تھپتپھانے لگیں مگر دوسری جانب کوئی جنبش نہ ہوئی تھی۔ چہرہ پل بھر میں کمہلا سا گیا تھا۔ بی جان سر ہاتھوں میں تھامے تسبیح کا ورد کرنے لگیں۔ آنسو متواتر آنکھوں سے جاری تھے۔
سویرا وغیرہ کی بہت سی کوششوں کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آئی۔ دل و دماغ کو اس قدر شدید جھٹکا پہنچا تھا کہ اس کا اتنی جلدی ہوش میں آنا ممکن نہ تھا۔ پلکیں عارضوں پر ہنوز ساکن تھیں ایسا لگتا تھا کہ عمر بھر نہ اٹھنے کی قسم دے کر بچھی ہوں۔ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب بالکل خاموش تھے۔ دل کی دھڑکن ساکن جبکہ سانسیں بے حد مدھم چل رہی تھیں۔ وہ کلیوں کی مانند نازک سی لڑکی زمانے کے سخت تھپیڑوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی ہی شاخ پر مرجھا سی گئی تھی۔

وفا کے قید خانے میں
فرائض کے نبھانے میں،
جو لڑکی دار چڑھتی ہے
جسے سپنوں کے بننے کی
سزائیں وقت نے دی ہوں،
جو رسموں اور رواجوں کے
الاؤ میں سلگتی ہو؛
لبوں کی نوک پر جس کے
گِلے بے جان ہوتے ہوں،
تو پھر یوں لوگ اسے کہتے،
“بہت سنجیدگی اوڑھے رکھتی ہے
عجب بے حِس سی لڑکی ہے؛!!

               🌸🌸🌸🌸🌸

دوسری جانب بڑی حویلی کے باقی مکینوں تک جب یہ خبر پہنچی تو خواتین میں کچھ تو اس فیصلے کے حق میں دکھائی دیں جبکہ حرم تو گویا پاگل ہو اٹھی تھی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہاج شاہ جرگے میں یہ فیصلہ کریں گے۔ بیٹی کا رونا پیٹنا فریدہ بیگم سے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہاج شاہ کے اس فیصلے سے زیشان شاہ کی پوری فیملی کو اختلاف تھا مگر سب جانتے تھے وہاج شاہ کا فیصلہ پتھر پر لکیر کی مانند ہے۔ حرم رو رو کر دیوار میں بھی سر مار لیتی پھر بھی ان کا فیصلہ اب تبدیل نہیں ہونا تھا، جبکہ مورے و حفضہ بیگم قدرے پرسکون تھیں۔ سکندر شاہ جرگے سے واپسی کے بعد اب تک اپنے کمرے میں بند تھا۔

“دیکھو حرم، اس فیصلے سے ہم سب کو اختلاف ہے، تمہاری خوشی ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے مگر تم یہ بھی تو سوچو زوفا محدود مدت کے لئے سکندر کے نکاح میں رہے گی۔ اس صارم کے مل جانے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا؛ شاہ زر نے زار و قطار روتی ہوئی حرم کو سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ مزید بپھر اٹھی۔ پاس ہی چہرے پر سنجیدہ تاثرات لئے دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے میر سالار کھڑا تھا۔

“ہرگز نہیں، قطعی نہیں سنا آپ سب نے؟ میں سکندر سائیں کے ساتھ کسی اور لڑکی کا وجود کبھی شئیر نہیں کر سکتی، نفرت محسوس ہو رہی ہے مجھے دادا سائیں سے، کیوں کیا انہوں نے ایسا؟ وہ ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے بولی تو فریدہ بیگم نے اسے سینے سے لگا لیا۔
“میری بچی، میں جانتی ہوں تیرا دکھ بہت بڑا ہے۔ مجھے خود اس بات کو لے کر شاہ سائیں سے ناراضگی ہے۔ لیکن یہ بھی تو سوچ تجھ سے بڑا دکھ تو حفضہ کا ہے۔ اس بیچاری کا تو جوان بیٹا چلا گیا ہے۔ صبر رکھ میری بچی!! فریدہ بیگم اسے سمجھاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں جبکہ وہ جھٹکے سے ان سے الگ ہو گئی۔
میری بات سنیں امی سائیں، ان کا مسئلہ الگ ہے اور میرا الگ، مجھے کچھ نہیں سننا نا سمجھنا ہے۔ نفرت محسوس ہو رہی ہے مجھے اب اس زوفا سے!! چیخ چیخ کر اس کا چہرہ سرخ ہوا جا رہا تھا۔ وہ مکمل ہوش و حواس سے بیگانہ لگ رہی تھی۔ اس فیصلے کو سننے کے بعد وہ وہاج شاہ سے بھی باز پرس کرنے جانے کو تھی مگر فریدہ بیگم نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اسے زبردستی روکا تھا۔ مگر اب وہ آپے سے باہر ہو رہی تھی۔ یہ سب دیکھکر میر سالار کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو رہا تھا جبکہ دل میں گویا بھانبھڑ جل رہے تھے۔ اس کے بعد وہ وہاں ایک پل نہیں رکا بلکہ اسی وقت شہر کے لئے روانہ ہو گیا۔
فریدہ بیگم سمیت شاہ زر و عفاف وغیرہ نے حرم کو کچھ دیر کیلئے اکیلے چھوڑ دیا تا کہ وہ تھوڑا ریلیکس ہو جائے۔ ان کے جانے کے بعد وہ روتی ہوئی بستر پر گر گئی۔
“زوفا شاہ، تو چاہے جس بھی حالات میں، مگر تم مجھے سکندر سائیں سے چھیننے میں کامیاب ہو ہی گئی آخر۔ میں خوب جانتی ہوں تمہاری چال کو، تم سب کو پتہ ہے کہ صارم ادا کدھر ہے، تم لوگ اسے بچا رہے ہو۔ اسی چکر میں تمہارے ہاتھ یہ سنہری موقع جو آ گیا۔ نفرت کرتی ہوں میں تم سے، بے تحاشہ نفرت،،، تم بھلے ہی اس گھر کی بہو بن کر آ جاؤ مگر اب یہاں تمہیں “ونی؛ میں آئی ہوئی لڑکیوں کا مطلب بخوبی سمجھایا جائے گا۔ سکندر سائیں کو صرف مجھ سے پیار ہے۔ تم مر کر بھی ان کا پیار نہیں پا سکو گی۔۔۔۔ مٹھیاں بھینچ کر سوچتے ہوئے وہ نفرت کی انتہا پر تھی۔

                🤍🤍🤍🤍🤍

تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے لگے تھے اسے فارم ہاؤس پہنچنے میں۔ پارہ اس کا اس قدر ہائی تھا کہ جس کی کوئی حد نہ تھی۔ مزید یہ کہ وہ شموئیل شاہ کی موت سے کافی ڈسٹرب بھی تھا۔ جو حال وہ حرم کا دیکھکر آیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر ڈالے۔ لاؤنج میں داخل ہو کر اس نے زوردار آواز میں “بخشو؛ کو پکارا وہ الادین کے چراغ والے جن کی طرح سیکنڈ میں حاضر ہو گیا۔

کہاں ہے وہ لڑکی؟ سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
سائیں وہ اپنے کمرے میں ہیں جی۔۔۔ بخشو کپکپاتا ہوا بولا
“فوراً اسے یہاں بھیجو! اس کے حکم پر بخشو الٹے قدموں واپس بھاگا جبکہ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا سرخ آنکھوں سے تھکے تھکے انداز میں سر صوفے کی پشت سے ٹکا گیا۔ کچھ اثناء کے بعد قدموں کی آہٹ پر اس نے اپنی جلتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور آنے والی ہستی پر ٹکا دیں۔
پنک کلر کے سمپل سے سوٹ میں وہ سہمی سہمی سی انگلیاں مروڑتی کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگ رہی تھی۔ مرحا نے لرزتی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا جو تپتی ہوئی آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔ وہ مزید پزل ہو گئی۔
“سائیں آپ نے بلایا؟ اس نے نظریں جھکاتے ہوئے پوچھا
“بالکل، سوچا زرا “ملکہ وکٹوریہ؛ کا دیدار کر لیا جائے۔۔۔ کیوں صحیح کہہ رہا ہوں نا؟ اس نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ ظاہر سی بات ہے اب اس کا سارا ملبہ تو اسی پر گرنا تھا۔ اس ملبے کی واحد حقدار “مرحا بخش؛ ہی تو تھی۔ مرحا کا چہرہ اہانت سے سرخ ہو گیا۔
“ادھر آؤ اور پیر دباؤ میرے؛ اس نے ہنوز اسے گھورتے ہوئے اپنے پاؤں کی جانب اشارہ کیا تو وہ لرزتی کانپتی آگے بڑھی اور اس کے قدموں میں بیٹھ کر پیر دبانے لگی جبکہ میر سالار نے سر دوبارہ صوفے کی پشت سے ٹکا لیا۔ تھوڑی دیر گزر جانے کے بعد اس نے اسے روک دیا۔ وہ سر ہلاتی ہوئی اٹھ کر جانے کو تھی کہ میر سالار نے اس کا ہاتھ اپنی فولادی گرفت میں پکڑ کر کھینچا وہ بے توازن سی ہوتی اس کی گود میں گر سی گئی۔ مرحا کا چہرہ گویا خون چھلکانے لگا تھا جبکہ وہ چبھتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کا تاثر اتنا ہتک آمیز تھا کہ بے بسی کے مارے مرحا کو رونا آنے لگا اس نے زرا سا فاصلہ قائم کرتے ہوئے اٹھنا چاہا تو میر سالار نے اسے کمر سے جکڑ کر خود سے قریب تر کر لیا۔ پکڑ اس قدر مضبوط تھی کہ مرحا کو لگا اس کی کمر چار حصوں میں بٹ جائے گی۔ اس نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا جو چہرے پر استہزائیہ تاثر لئے اس کی بے بسی دیکھ رہا تھا۔

“میں نے کہا تھا بس کرو، کیا میں نے جانے کیلئے کہا تمہیں بولو؟ اس نے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے ہوئے پُر تپش لہجے میں کہا۔ مرحا کا سانس گلے میں اٹکنے لگا۔ اسے یوں محسوس ہوا اگر وہ تھوڑی دیر اور ایسے ہی رہی تو پکا اوپر کوچ کر جائے گی۔ میر سالار کے کپڑوں سے اٹھتی پرفیوم کی خوشبو اس کے حواسوں پر بجانے لگی۔

“سائیں چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ اس نے بھیگی آواز میں اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے جیسے التجا کی۔
“کیوں؟ اتنی محبّت کرتی ہو مجھ سے تو تمہیں نہیں لگتا یہ تمہارا حق ہے؟ اس کے لہجے میں واضح طنز تھا۔ مرحا کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی۔ اسے معلوم تھا وہ اس کی قربت سے متاثر نہیں ہو رہا بلکہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ کر کے محض اسے ٹارچر کرنا ہی اس ظالم کا مقصد ہے۔ وہ دوبارہ سے اپنا بازو چھڑانے کی جدو جہد میں لگ گئی۔ کچھ دیر اسے سرد نظروں سے دیکھنے کے بعد میر سالار نے اس کے بازو پر اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ لرزتے قدموں سے اس کے حصار سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے ابھی اور اسی وقت؛ وہ دھیمے مگر سرد لہجے میں پھنکارتے ہوئے بولا تو وہ تقریباً بھاگتی ہوئی لاؤنج سے باہر نکل گئی جبکہ میر سالار کی شعلہ بار نظریں ابھی بھی وہیں ٹکی ہوئی تھیں جہاں سے وہ گئی تھی۔

🥀🥀🥀🥀🥀 جاری ہے