No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
“سب سے پہلے میں آپ سب کو ایک اہم اطلاع دینا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ سکندر نے خلع کے وہ کاغذات جنہیں آج میرا وکیل دے گیا ہے ان پر اپنے دستخط کر دئیے ہیں۔ اب اس پر زوفا کے دستخط ہو جانے کے بعد وہ مکمل طور پر اس گھٹن زدہ رشتے سے آزاد ہو گی!!! اس نے اطمینان سے بم پھوڑا۔ وہاج شاہ حیرت کی زیادتی سے ساکت رہ گئے۔ باقی سب اپنی اپنی جگہ حیران و پریشان بیٹھے تھے۔
“میرے پیشے سے یہاں سبھی واقفیت رکھتے ہیں میں یہ جانتا ہوں، سو ایک بے قصور و معصوم لڑکی کو اتنے عرصے غیر انسانی حالت میں رکھنے کے جرم میں، میں وہاج شاہ کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے پولیس کسٹڈی میں رکھنا چاہوں گا، ساتھ ہی آپ سب کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سرپنچ کا یہ شملہ زکا شاہ کے حوالے کرتا ہوں۔۔!! اس نے تو جیسے دھماکے پر دھماکہ کرنے کا زِمّہ اپنے سر لیا ہوا تھا۔ زکا شاہ تو ابھی پہلے ہی جھٹکے سے نہ سنبھلے تھے کہ اِس دوسرے جھٹکے نے انہیں وہیں دم بخود کر دیا۔ جبکہ وہاج شاہ بے یقینی سے آنکھیں نکالے اسے دیکھنے لگے اور پھر ایک نظر وہاں موجود مجمع پر ڈالی، تو سبھی لوگ میر سالار سے متفق نظر آئے۔ وہاج شاہ غم و غصّے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے۔ بڑی حویلی کے بقیہ مرد حضرات بھی دم سادھے بیٹھے تھے۔
“سالار، تمہاری یہ جُرّت؟ تم ہوتے کون ہو مجھے گرفتار کرنے والے اور مجھ سے سرپنچ کا عہدہ چھیننے والے؟ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں اپنے پیشے کا رعب یہاں مت جھاڑو سالار، ورنہ نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔۔!! وہاج شاہ غرا کر بولے۔ غصّے کی زیادتی سے ان کا تنفس تیز تر ہو رہا تھا۔ میر سالار کے ہونٹوں پر ایک دھیمی مگر محضوظ کن مسکراہٹ آ گئی۔
“میرے پیارے دادا سائیں، آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ میں اپنے کام میں کوتاہی برداشت نہیں کرتا پھر چاہے وہ مجھ سے ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔ ہمارے طے کردہ قوانین ہر کسی پر لاگو ہوتے ہیں۔ آپ خود کو اس قدر اہمیت نہ دیں۔ جیسے جرم کرنے پر ہر شخص یہاں سزا کا حقدار ہے ویسے ہی آپ بھی ہیں۔ آپ کو یہ سب اپنی اس گھناؤنی سازش سے پہلے سوچنا چاہئے تھا۔۔۔ سکندر شاہ کے نکاح کے بعد شہر جاتے ہوئے آپ بھی میرے ساتھ جائیں گے دادا سائیں!! میر سالار نے دو ٹک انداز میں کہا تو وہاج شاہ غصّے سے بپھرتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“میں تمہارے حُکم کا غلام نہیں ہوں میر۔ مجھے جو صحیح لگا میں نے وہی کیا ہے۔ اپنے کسی بھی فعل کیلئے میں تمہارے آگے جوابدہ نہیں ہوں۔ اور میری بات غور سے سنو، سرپنچ کا شملہ قطعی زکا شاہ کے سر نہیں جائے گا سالار۔ یہ شملہ میرا ہے اس پر صرف اور صرف میرا ہی حق ہے۔ سنا تم نے؟ انہوں نے انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے لہجے میں کہا تو میر سالار بھی اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کام ڈاؤن دادا سائیں، اب چاہے جو بھی ہو جائے فیصلہ تو ہو چکا ہے۔ آپ یہ مت بھولیں کہ اس گاؤں کا کوئی بھی شخص آپ کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے جو بھی فیصلہ کیا ہے نہایت سوچ سمجھ کر اور گاؤں والوں کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ زکا شاہ اپنی انصاف پسند طبیعت کی وجہ سے مستقبل میں اس گاؤں کے ہر شخص کے دل میں اپنا ایک الگ مقام قائم کریں گے۔۔!! اس نے طمانیت سے زکا شاہ کو دیکھا جو ہنوز بے یقینی کی کیفیت سے دو چار تھے۔ وہاج شاہ نے زکا شاہ کو یوں گھورا گویا نظروں سے ہی سالم نگل جائیں گے۔
میر سالار شملہ ہاتھوں میں تھامے زکا شاہ کی جانب بڑھا تو وہ بمشکل اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ فیاض شاہ کی حالت بھی زکا شاہ سے کچھ مختلف نہ تھی۔
“چچا سائیں، آج سے یہ شملہ آپ سے سپرد ہوا۔ امید ہے آپ اپنی زِمّہ داریوں کو بخوبی نبھائیں گے اور اپنے حُسنِ سلوک سے گاؤں والوں کے زخموں پر مرہم کا سبب بنیں گے۔۔!! میر سالار نے شملہ ان کے ہاتھوں میں تھمایا تو انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے شملہ تھام لیا۔ اسے عقیدت سے آنکھوں سے لگا کر انہوں نے میر سالار کو دیکھا۔ ان کی آنکھیں اس پل نم سی ہو گئ تھیں۔
“زکا شاہ زندہ باد، “زکا شاہ زندہ باد، کے نعرے سے وہاں کی فضا گونج اٹھی۔ اسی مجمع سے چند افراد آگے بڑھے اور زکا شاہ کو تقریباً گود میں اٹھائے سرپنچ کی نشست پر بٹھا دیا ساتھ ہی ان کے ہاتھ میں موجود شملا ان کے سر پر سجا دیا۔ ایک بار پھر زکا شاہ کے نام کے نعرے وہاں بلند ہونے لگے۔ وہاج شاہ طیش کے عالم میں پیر پٹختے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔
سبحان شاہ بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔ ان کے چہرے پر شرمندہ کے آثار صاف طور پر نمایاں تھے۔ وہ ندامت کے احساس سمیت زکا شاہ کی طرف بڑھے تو زکا شاہ انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“ہو سکے تو ہم سب کو معاف کر دو زکا، غلطی تو ہم سب سے ہوئی ہے یہ الگ بات کہ ہمیں اصل معاملے سے بے خبر رکھا گیا۔ زوفا کے ساتھ بڑی حویلی میں جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں اس کے لئے ہم تم سے معافی کے طلبگار ہیں!! سبحان شاہ نے شرمندگی سے چور انداز میں کہا تو زکا شاہ نے نششت سے کھڑے ہو کر تسلی آمیز انداز میں ان کا کندھا تھتھپایا۔
“تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے یہی میرے لئے بہت ہے سبحان، جس روز میری بیٹی میرے روبرو ہو گی میں اس روز اس کی مکمل معافی دے دوں گا، لیکن میں وہاج شاہ کو چاہ کر بھی معاف نہیں کر سکوں گا۔ انہوں نے ناقابلِ معافی جرم کیا ہے۔ زکا شاہ نے سپاٹ لہجے میں کہا تو سبحان شاہ کا سر ندامت کے احساس سے مزید جھک گیا۔ دھیرے دھیرے وہاں سے سبھی ہٹ گئے۔ اس جگہ اب فیاض شاہ، زکا شاہ و میر سالار کے الاوہ کوئی نہیں تھا۔
“میر، میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں ہیں جو میں تمہاری تعریف و تمہارے شکرئیے کے لئے ادا کر سکوں! آج جو کچھ تم نے کیا ہے میں تو تمہارا مقروض ہو گیا ہوں بیٹا! زکا شاہ نے انکساری سے کہا۔ ایک بار پھر تشکر سے ان کی آنکھیں بھیگ چلی تھیں۔
“زکا صحیح کہہ رہا ہے۔ تم نے جو کچھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہ کر پاتا، تم نے اس گاؤں کے لئے ایک تاریخ رقم کر دی ہے سالار۔۔۔!! فیاض شاہ نے گرمجوشی سے کہا ساتھ ہی شاباشی دینے والے انداز میں اس کا کندھا تھتھپایا۔
“یہ تو میرا فرض تھا۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ میر سالار نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے گہرا سانس بھرا۔
“میر، زوفا ٹھیک اور محفوظ تو ہے نا؟ کیا ہم اس سے مل سکتے ہیں؟ زکا شاہ نے بیقراری سے پوچھا۔
“آپ بالکل فکر نہ کریں۔ وہ ٹھیک بھی ہے اور محفوظ بھی، رہا ملنے کا سوال تو میں ابھی اس کے حق میں نہیں ہوں۔ انشاء اللّہ وقت آنے پر وہ آپ سب کے درمیان موجود ہو گی۔ اب میں چلتا ہوں۔ پھر ملاقات ہو گی۔۔۔ خدا حافظ !! وہ ان سے مصافحہ کرتا وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے فیاض شاہ و زکا شاہ تشکر کے احساس سمیت ایک دوسرے کو دیکھکر مسکرا دئیے۔
ہمارے قافلے کا ہر گھڑی منظر بدلتا ہے کبھی رہزن بدلتا ہے کبھی رہبر بدلتا ہے ❤️❤️❤️❤️❤️
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے گاؤں سمیت بڑی حویلی کی خواتین تک بھی جا پہنچی تھی۔ مورے تو اس بابت سنتے ہی ہتھّے سے اکھڑ گئیں۔ وہاج شاہ اِدھر سے اُدھر چکر کاٹتے ہوئے اپنا بے تحاشہ طیش ضبط کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھے۔ آج جس قسم کی ان کی عِزّت افزائی ہوئی تھی، اس کے بعد ان کا ایسا ردِعمل تو ہونا ہی تھا۔
“شاہ سائیں، وہ کل کا لڑکا تمام فیصلے خود ہی کرتا گیا اور آپ چپ بیٹھے اس کی مانتے رہے!! مورے کلس کر پوچھنے لگیں۔ اس وقت وہ دونوں افراد اپنے کمرے میں موجود تھے۔
“دماغ خراب ہے تمہارا نیک بخت؟ اور مجھے کیا تم پاگل سمجھتی ہو جو میں اپنی دفاع میں کچھ نہ بولنے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دوں گا۔ میری ہار کی اصل وجہ تو یہ گاؤں والے سارے بیغیرت لوگ ہیں۔ میرا ٹکڑا کھا کر میرے ہی خلاف آواز اٹھائی انہوں نے۔ اور سالار نے اچھا نہیں کیا۔ مجھ سے سرپنچ کا عہدہ چھین کر میری جگہ جرگے کا مالک زکا شاہ کو بنا دیا۔ یہ تم نے ہرگز اچھا نہیں کیا سالار!! وہ ایک بار پھر اپنی بے عِزّتی کو یاد کرتے ہوئے مٹھیاں بھینچ کر چیخے۔
“گاؤں والے بھی اسی سالار کی وجہ سے ہی تو خلاف ہوئے ہیں ورنہ یہاں کسی کی کیا مجال تھی کہ ہمارے لئے اپنے منہ سے کچھ اول فول نکالنے کی کوشش کرے۔ زیشان کا بیٹا تو ضرورت سے زیادہ ہی ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اور اب تو اس نے حد ہی کر دی ہے۔ آپ کی گرفتاری کے متعلق بات کر رہا ہے۔۔!! مورے پان منہ میں ڈال کر ہاتھ نچاتے ہوئے بولیں تو وہاج شاہ کے چہرے پر جاہ و جلال کا رنگ مزید گہرا ہو گیا۔
“ہوں تم صحیح کہتی ہو! سارا کیا دھرا اسی کا ہے۔ لعنت ہو ایسی اولاد پر، دیکھتا ہوں میں بھی کہ کیسے وہ مجھے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ میں بھی وہاج شاہ ہوں۔ مجھے ہرانا اتنا آسان نہیں ہے!! انہوں نے تمسخر سے کہا تو مورے کے ہونٹوں پر بھی طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔
“مجھے حیرانی تو ان کمبختوں پر ہو رہی ہے جنہوں نے میری دفاع میں ایک لفظ بھی نہ کہا۔۔!! یکایک اپنے بیٹوں کا متفق انداز سوچ کر ان کے اندر نئے سرے سے بھانبھڑ جلنے لگے۔
“کہہ تو رہی ہوں کہ ان سب کا زِمّہ دار صرف اور صرف زیشان کا بیٹا سالار ہے۔ ارے ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا اس نے۔ میں کہتی ہوں سائیں کہ کچھ کریں ورنہ پانی سر کے اوپر سے گزر جائے گا۔۔!! مورنے نے مزید جلتی پہ تیل چھڑکا۔
“سرپنچ کا عہدہ واپس لینا اب انتہائی مشکل ہے۔ مگر سالار سے اپنا بدلہ میں جب تک نہ لے لوں مجھے سکون نہیں ملنے والا۔۔۔!! وہ دونوں ہاتھوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے خطرناک تیوروں کیساتھ بولے تو مورے مطمئن ہو کر سر ہلا گئیں۔
🧡🧡🧡🧡🧡
ڈنر سے فارغ ہو کر وہ ملازمہ کو چائے کا کہہ کر سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اپنے کمرے میں آیا تو وہاں مرحا کو نہ پا کر کمرے سے باہر نکل آیا اور متلاشی نظریں برآمدے میں دوڑائیں مگر وہ وہاں موجود نہ تھی۔
“کسے ڈھونڈ رہے ہو میر؟ جبھی سائرہ بیگم کی آواز اپنی پشت پر سن کر وہ چونک کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“مرحا کو! خیر کیسی ہیں آپ امّی سائیں؟ وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔
“تمہیں اس دو ٹکے کی لڑکی میں ایسا کیا دِکھ گیا میر کہ تم اس کی دیوانگی میں اس حد تک گزر گئے۔۔!! وہ جیسے افسوس کرتی ہوئی بولیں۔
“وہ دو ٹکے کی نہیں ہے، میرے نزدیک اس کی بہت اہمیت ہے، اور اس کی خاصیت کو دیکھنے کیلئے خاص نظروں کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ معذرت کیساتھ یہ صلاحیت آپ میں موجود ہی نہیں!! اس نے ابرو اچکا کر ایک لطیف سی چوٹ کی جس پر سائرہ بیگم بلبلا کر رہ گئیں۔
“تم نے تو اپنی مرضی کر لی۔ دعا ہے کہ تمہاری طرح شاہ زر بھی ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے!! وہ کلستے ہوئے بولیں
“میں نے وہی کیا جو مجھے صحیح لگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس بات پر اتنا بڑا ایشو کریٹ کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔ لیکن اگر آپ یہی چاہتی ہیں تو یہی صحیح!! اس نے کندھے اچکا کر بے نیازی سے کہا تو سائرہ بیگم کے ماتھے پر ان گنت بل پڑ گئے۔ جبھی وہاں مرحا چائے لئے چلی آئی، اس نے چائے لاتی ملازمہ کے ہاتھوں سے خود وہ کپ تھام لیا تھا۔ اس نے ایک نظر سالار پر ڈالی جو بلا کا سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔ دوسری نظر اس نے ڈرتے ڈرتے سائرہ بیگم پر ڈالی جو غصّے سے ناک بھوں چڑھائے کھڑی تھیں۔
“اسلام علیکم!! مرحا نے جھجھک کر سلام کیا تو سائرہ بیگم نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا، ساتھ ہی اس پر نظر پڑتے ہی چہرے کے تاثرات مزید پتھریلے ہو گئے۔ میر سالار ان پر نظریں جمائے کھڑا ان کے تاثرات ملاحظہ کر رہا تھا۔
“ہونہہ، یہ اچھا بننے کا ناٹک نا بی بی کسی اور کے ساتھ کرنا۔ تم جیسیوں سے تو میں سلامی بھی نہ لوں۔ ہٹو راستے سے! وہ حقارت سے کہہ کر تنتناتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔ مرحا اس قدر اہانت پر اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔
“فارگیٹ اٹ، ان فضولیات کے الاوہ اور بھی چیزیں ہیں جنہیں تم زہن میں رکھ سکتی ہو! میر سالار نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ بیچارگی سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑے روم میں چلا آیا۔ مرحا یاسیت زدہ سی صوفے پر بیٹھ گئی۔ دروازہ بند کرنے کے بعد میر سالار نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں سے چائے کا کپ لیا اور وہیں بیٹھ کر پہلے چائے ختم کی۔ اس دوران مرحا چپ بیٹھی رہی۔ جبکہ وہ چائے پی کر ڈریسنگ روم میں چینج کرنے کی غرض سے چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ باہر نکلا تو دیکھا وہ اسی زاوئیے پر بیٹھی نہ جانے کن خیالات میں گُم تھی۔
“تمہیں کچھ کہا ہے میں نے مسز؟ میر سالار نے موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
“ایسا کب تک چلے گا سائیں؟ وہ حال میں لوٹتی اداسی سی بولی۔
“جب تک وہ سب اپنا ظرف بڑا نہیں کرتے تب تک تو ایسا ہی چلے گا۔ مگر تم کس خاتے میں اتنی پریشان ہو رہی ہو یار؟ وہ کمرے کی لائٹ آف کر کے صوفے پر اس کے برابر بیٹھ گیا ساتھ ہی اسے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا۔ سائیڈ لیمپ کی روشنی میں اس نے مرحا کا بجھا بجھا چہرہ دیکھا تو گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“تم صرف مجھ پر دھیان دو۔ باقی دنیا کی فکر مت کرو! وہ رومانوی لہجے میں بولا تو مرحا لمحوں میں سرخ ہوتی جزیز سی اس کا حصار ہٹانے کی کوشش کرنے لگی نتیجتاً اس نے مزید اسے اپنے قریب کر لیا اور دلچسپی سے اس کے حیا سے دہکتے چہرے پر نظر ڈالی۔
“چھوڑیں نا؟ وہ حیا آمیز تاثر چھپانے کی ناکام کوشش میں ہلکان سی بولی۔
“میں تو نہیں چھوڑ رہا! وہ اس کی ننھی سی ناک لبوں سے چھوتے ہوئے بولا تو وہ مزید بلش کرنے لگی۔
“مجھے نیند آ رہی ہے! اس کی زومعنی نگاہوں سے بچنے کی خاطر وہ اس کے شانے میں منہ دے کر بولی۔
“اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے مسز کہ ہم آپ کو سونے دیں گے؟ میر سالار نے اس کی کمر کے گرد اپنا حصار مزید مضبوط کر دیا۔ لہجہ بلا کا خمار آلود تھا۔ مرحا کی دھڑکنوں کی دھک دھک بڑھنے لگی۔ ہونٹوں پر شرمگیں سی مسکان آ گئی۔
“آپ کو نیند کیوں نہیں آ رہی؟ آپ بھی تو تھک گئے ہیں نا؟ اب وہ اس کی گرم سانسوں کی تپش اپنی شہہِ رگ پر محسوس کر کے گھبراہٹ زدہ سی آواز میں بولی۔ میر سالار کی قربت اس کی جان نکال لینے کے درپے ہو جاتی تھی۔ دل کی دھک دھک اس کے وجود میں الگ سا ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔
“میری تھکن اتارنے کیلئے تم موجود ہو نا!! وہ اس کی لمبی چوٹیوں کے بل کھولنے لگا۔ مرحا کا دل گویا سینے کی سرحدیں پھلانگ کر باہر نکلنے کو بیتاب تھا۔ اس نے میر سالار کے کندھے پر گرفت مضبوط کر لی البتہ چہرہ ابھی بھی اس کے شانے میں ہی چھپایا ہوا تھا۔ میر سالار نے اس کے کھلے بالوں میں اپنا چہرہ چھپایا ساتھ ہی اس کا نرم گداز سا سراپا خود میں مزید بھینچ لیا۔
“سائیں ہم شہر کب جائیں گے؟ وہ اس کا دھیان دوسری جانب بٹانے کی معصوم سی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ دوسری جانب میر سالار بنا کوئی جواب دئیے صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا ساتھ ہی پورے استحقاق کیساتھ اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا۔
“بتائیں نا؟ وہ مچل کر بولی۔ آواز شرم کی شِدّت سے لرز رہی تھی۔ چہرہ خون چھلکانے کی حد تک سرخ ہو رہا تھا۔ میر سالار اسے لئے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔ کسی کانچ کی گڑیا کی طرح اسے احتیاط سے بیڈ پر لٹا کر وہ سائیڈ لیمپ آف کر کے اس پر جھک گیا۔ مرحا کی پلکیں بوجھل ہو کر عارضوں پر بچھ گئیں۔
“میری جان، فلحال تم صرف مجھے سنو اور مجھے محسوس کرو!! اپنی گمبھیر آواز کے جادو بکھیرتا وہ اس کے چہرے پر جھک کر اس کی بولتی بند کر گیا۔ مرحا نے اس کی بے پایاں محبتوں و شدتوں کے آگے بے بس خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
جو تجھے دیکھنے سے ملتا ہے سارا مسئلہ اسی سکون میں ہے! 🌸🌸🌸🌸🌸 غیروں کی نفرتوں کا گلہ ہم نے کب کیا؟ اپنوں کی شفقتوں کے ستائے ہوئے ہیں ہم!!
وہ بے دم سی بی جان کی گود میں سر رکھے ہوئے تھی۔ رو رو کر اب تو آنسو بھی خشک ہو چلے تھے۔ سائیڈ صوفے پر ایس۔پی حسن لب بھینچے خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھائے ہوا تھا۔ اس لڑکی کے آنسو اسے ایک انجانی سی اذیت سے دو چار کرتے تھے۔ بی جان بھی صدمے کی سی کیفیت میں بیٹھی تھیں۔ ماحول پر عجیب سی اداسی نے دھاوا بول رکھا تھا۔
“زوفا میری بیٹی، میری بات غور سے سنو شاید تمہارے دل کو کچھ سکون آ جائے اس سے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ جو ہوا اچھا ہوا لیکن یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ شاید اوپر والے نے اس میں ہی تمہارے لئے کچھ بہتری لکھی ہو! انہوں نے ایک نظر خاموش بیٹھے حسن کو دیکھ کر کہا۔
“لوگ اس قدر ظالم اور سفاک دل کیسے ہو سکتے ہیں بی جان؟ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
“بیٹا اس دنیا میں بہت طرح کے لوگ ہیں۔ انہیں میں ان کا شمار بھی ہوتا ہے۔ دیکھنا ایک روز وہ تم جیسے نایاب ہیرے کو کھو کر پچھتائے گا۔ تب اس کے پاس سوائے ملال کے کچھ نہیں رہ جائے گا۔ بی جان اس کا سر سہلاتے ہوئے آزردہ سی بولیں۔
“ایسے لوگ کسی کے غم میں خود کو ہلکان نہیں کرتے بی جان۔ یہ بے حس لوگ ہر قسم کی سچویشن میں اپنی لائف انجوائے کرنا بخوبی جانتے ہیں! اس نے ان کی گود سے سر اٹھا کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“میں کہتا ہوں آپ یہ سب آخر بھول کیوں نہیں جاتیں زوفا؟ ایس۔پی حسن نے نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر جمائے بھینچے لہجے میں کہا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ بی جان بھی پوتے کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
“کیا بھولنا اتنا آسان ہے ایس۔پی صاحب بتائیں؟ زوفا نے پھر سے امڈتے آنسوؤں کا گلہ گھونٹتے ہوئے کہا۔
“آسان ہرگز نہیں ہے مگر کوشش تو کی جا سکتی ہے نا؟ ہو سکتا ہے کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرے!! ایس۔پی حسن نے اپنی سرخ ہوتی آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکائیں۔
“میں کوشش ہی تو کر رہی ہوں! زوفا نے بے بسی سے کہا۔
“کون سی کوششوں میں مصروف ہیں آپ؟ اس شخص کے زکر پر آپ کے آنسو فوراً نکل آتے ہیں تو خاک کوشش کر رہی ہیں آپ!! اس بار وہ استفہامیہ انداز میں بولا۔ بی جان بغور اس کو دیکھا۔
“یہ آنسو میرے بس میں تو نہیں ہیں! زوفا نے نظریں جھکاتے ہوئے سپاٹ انداز میں کہا۔
“اپنے آنسوؤں کو اتنا بے مول ہرگز نہ کریں کہ وہ جب چاہیں بنا کسی اجازت کے بہہ نکلیں۔ زوفا آپ کے ساتھ بہت ناانصافی ہوئی ہے جس کے میں خود سخت خلاف ہوں مگر میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتا یار! اس بار وہ قدرے بے بسی سے بولا۔ اسے خود بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ جذبات میں آ کر کیا بول گیا ہے۔ بی جان حیرانگی سے اسے دیکھنے لگیں۔ جبکہ زوفا بھی نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔
“میرا مطلب، یہاں کوئی بھی آپ کو اس حال میں نہیں دیکھنا چاہے گا۔ آفٹر آل میر نے آپ کی زِمہ داری ہمیں سونپی ہے۔ سو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم آپ کا ہر طرح سے خیال رکھیں۔ بی جان بھی کتنا پریشان ہیں کچھ اندازہ ہے آپ کو؟ وہ دونوں خواتین کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات دیکھ کر احساس ہونے پر بات کو نئے سرے پر لے جاتے ہوئے بولا۔ زوفا بھی اس کی بات کو سمجھتی بی جان کو شرمندگی سے دیکھنے لگی جبکہ بی جان کی گہری نظروں کا مرکز ابھی بھی حسن ہی تھا۔
“سوری بی جان، میں نے آپ سب کو پریشان کر دیا ہے۔۔۔ زوفا نے بی جان کا ہاتھ تھام کر بیچارگی سے کہا تو بی جان اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
“ارے میری بچّی، بھلا کیسی باتیں کر رہی ہو؟ ایسی تکلف والی باتیں نہ کرو! ہم بھی تمہارے اپنے ہیں اس لئے تمہاری فکر کرتے ہیں! بس آج کے بعد تمہاری آنکھوں سے آنسو نہیں نکلیں گے۔۔!! بی جان نے پیار سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما تو زوفا کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آ گئی۔
“بی جان اب میں چلتا ہوں۔ کل صبح تک واپسی ہو گی۔۔؛ ایس۔پی حسن اس دھوپ چھاؤں کے منظر کو اپنی نگاہوں میں قید کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔ ساتھ ہی بی جان کو آگاہ کر کے لاؤنج سے باہر نکل گیا۔ بی جان نے محبت سے زوفا کو اپنے گلے سے لگا لیا تو اس نے اس پل سب کچھ بھلا کر آسودگی سے آنکھیں بند کر لیں۔
🥀🥀🥀🥀🥀
