Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

میر سالار مرحا کے ہمراہ اپنی گاڑی میں تھا جسے وہ خود ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ دوسری گاڑی میں اس کے اپنے محافظوں کے ہمراہ وہاج شاہ موجود تھے۔ ایک گاڑی میں وہاج شاہ کے سابق محافظین موجود تھے جو کہ اب میر سالار کے محافظین میں سے تھے۔ یہ الگ بات کہ میر ابھی ان کی اصلیت سے قطعاً واقف نہ تھا۔
چونکہ ان کی روانگی ہی شام کے وقت گاؤں سے ہوئی تھی سو جب وہ شہر پہنچے تو گھڑی کی سوئیاں رات کے آٹھ بجا رہی تھیں۔ میر سالار نے فارم ہاؤس پہنچتے ہی سب سے پہلے محافظین کو حکم دیا کہ “وہ وہاج شاہ کو اصطبل کی سائیڈ والے روم میں لے جائیں اور وہیں پہرے داری کریں؛ انہوں نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔
“میر، بہت پچھتاؤ گے تم یاد رکھنا میری یہ بات! تم نہیں جانتے کہ کس قسم کی سنگین غلطی کر رہے ہو تم!! وہاج شاہ کی دھمکیاں مسلسل جاری و ساری تھیں مگر وہ ان کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا مرحا کے ہمراہ اندر بڑھ گیا جو اس صورتِحال سے کافی سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔

کمرے میں آ کر اس نے سب سے پہلے ایس۔پی۔حسن کو کال کی اور پھر فریش ہونے ہونے چلا گیا جبکہ مرحا بھی اپنے ملبوسات وغیرہ کو ان کے ٹھکانے پر رکھ کر خود بھی فریش ہونے چلی گئی۔ اسی اثناء میں ملازم نے حسن کے آنے کی اطلاع دی، میر سالار جو کہ فریش ہونے کے بعد اسی کے انتظار میں تھا فوراً لاؤنج میں چلا آیا۔ حسن نہایت خوشگوار موڈ کے ساتھ اس کے گلے آ لگا۔
“یار سالار، تجھے نہیں لگتا کہ تو نے اس بار زیادہ ہی لمبا ٹور کر لیا گاؤں کا؟ حسن نے شرارت سے کہا۔
“تمہاری بات بجا ہے اور مجھے اس کا اندازہ بھی ہے، مگر وہاں معاملات کچھ اس نہج پر جا پہنچے تھے کہ اسے نپٹانے میں خاصا وقت لگ گیا، خیر الحمدللہ کام ہو گیا۔ ابھی تمہیں یہاں نہایت ہی اہم کام سے طلب کیا ہے؛ میر سالار نے سنجیدگی سے کہا تو اس بار حسن بھی سنجیدہ ہو گیا۔
“کیا ہوا میر؟ سب خیریت؟ حسن نے اس کے چہرے کو جانچا جہاں گہری سنجیدگی کے سوا کچھ نظر نہ آ رہا تھا۔
“سوچ رہا ہوں انسان بعض اوقات کس قدر بے بس ہوتا ہے، اسے وہ سب بھی کرنا پڑتا ہے جسے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کرنے پر مجبور ہوتا ہے، وجہ وہ بربریت وہ بے رحمی ہوتی ہے جسے وہ مزید بڑھاوا نہیں دینا چاہتا۔ خون کے رشتے ہی اگر سفاکیت کی انتہا کو پہنچ جائیں تو میرے نزدیک جیسے باقی مجرم ہیں ویسے ہی یہ بھی ہیں!! وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ افسردگی سے بولا تو حسن ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“میں دادا سائیں کی بات کر رہا ہوں جنہیں میں اسی بربریت کے کیس میں گرفتار کر کے اپنے ساتھ شہر لے آیا ہوں!! حسن کی سوالیہ نظروں کے جواب میں میر نے اسے یاد دلایا تو وہ جیسے کچھ سمجھتے ہوئے گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“میں سمجھ سکتا ہوں میر، تم صحیح ہو! اب بتاؤ کرنا کیا ہے؟ حسن نے آگے کا پلان پوچھا
“میں چاہتا ہوں انہیں تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے لے جاؤ۔ باقی مجرموں کی طرح انہیں بھی لاک اپ میں رکھنا ہوگا۔ باقی کا کام تم دیکھ لو۔ صبح تو ویسے بھی میں اُدھر ہی آ رہا ہوں! فلحال میں زوفا سے ملاقات کا سوچ رہا ہوں۔ سوچ رہا ہوں یہ خلع والا معاملہ بھی جلد ازجلد نپٹ جائے تاکہ تمہیں بھی سکون ہو اور باقی سب کو بھی!! آخر میں اس کا لہجہ قدرے شوخ سا ہو گیا، حسن اپنی بے پایاں خوشی چھپانے کے چکر میں چہرے پر ہاتھ پھیرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“شکریہ میرے دوست! چلو پھر صبح ملاقات ہوگی، کیونکہ مجھے تو وقت لگ جائے گا۔۔!! حسن ایک بار پھر اس سے گلے ملتے ہوئے بولا۔
“آئی نو، تم اس کی فکر مت کرو! صبح ملیں گے! میر سالار نے اس کا کندھا تھپتھپایا تو وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا۔ اسی اثناء میں مرحا چلی آئی مگر تب تک حسن جا چکا تھا۔ آہٹ پر میر سالار نے پلٹ کر اسے دیکھا جو نکھری نکھری سی اس کے روبرو کھڑی تھی۔
“کیا بات ہے بیگم بہت لائٹ مار رہی ہیں آپ! وہ شرارتًا کہتا ہوا اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ وہ کچھ جھینپ سی گئی۔
“آپ بھی اچھے لگ رہے ہیں سائیں؛ مرحا نے اس کے خوبرو چہرے پر نظریں دوڑائیں تو بیساختہ میر سالار کا قہقہہ گونجا۔
“یار میں نے تم سے تعریف کے بدلے میں تعریف کرنے کو تو نہیں کہا تھا؛ وہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا تو وہ خود بھی ہنس دی۔
“آپ کہیں جا رہے ہیں کیا؟ اس کے ہاتھ میں گاڑی کی کیز اور ایک لفافہ دیکھ کر مرحا نے پوچھا۔
“ہاں، میں زوفا کے یہاں جا رہا ہوں۔ خلع کے کاغذات پر اس کے سائن مطلوب ہیں سو اسی سلسلے میں جا رہا ہوں؛ تم ریسٹ کرو، ویسے بھی زوفا چھوٹی حویلی جانے سے قبل تم سے ملاقات کر کے جائے گی! میر سالار نے اسے تفصیل سے آگاہ کر کے محبت سے اس کی پیشانی کو چھوا۔
“بیچاری زوفا بی بی، مجھے تو ان پر بہت رحم آتا ہے۔ اللّٰہ نے یقیناً ان کے لئے کوئی بہتری لکھی ہو گی۔۔!! مرحا پُر امید سی بولی۔
“بیشک، اوکے مسز سی یو سون۔ جب تک ڈنر کر کے تھوڑا ریسٹ کر لو۔ میری فکر مت کرو میں واپس آنے کے بعد ڈنر کر لوں گا۔۔!! اس کا گال سہلا کر وہ عجلت بھرے انداز میں ٹیبل سے اپنا فون اٹھا کر باہر نکل گیا۔ مرحا بھی ملازمہ کو آواز دیتے ہوئے خود کچن کی جانب بڑھ گئی۔

              ❤️❤️❤️❤️❤️

میر سالار اپنے محافظین کے ساتھ ایس۔پی۔حسن کے گھر کو روانہ ہوا تھا جبکہ اس نے گاؤں سے ساتھ آئے ان محافظوں کو وہیں رکنے کو کہا ساتھ ہی انہیں ہر قسم کے خطرے سے محتاط رہنے کی تاکید کی تھی۔ اس کے جانے کے بعد وہ سب چوکیدار کو گیٹ سے ہٹانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہو گئے۔
“فکر نہ کرو میرے پاس یہ رومال ہے۔ چوکیدار کو بیہوش کر کے یہ کام باآسانی ہو سکتا ہے؛ ایک نے دھیمے لب و لہجے میں تدبیر بتائی تو وہ سب خوشی سے کھل اٹھے۔
“یار مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔ مجھے پتہ ہے میر سائیں ہمیں شروع شروع میں آزمائیں گے کہ ہم ان کے وفادار ہیں یا نہیں، اگر بھولے سے بھی انہیں بھنک پڑ گئی کہ ہم نے یہ کیا ہے تو وہ ہم سب کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے؛ ایک نے کپکپاتی آواز میں اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“لیکن اگر ایسا نہ کیا تو شاہ سائیں کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ آخر کریں تو کریں کیا؟ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ تم سب اچھی طرح جانتے ہو کہ شاہ سائیں کا ان سب کے پیچھے مقصد اپنی آزادی ہے دوسری صورت میں انہوں نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر میرا کام نہیں ہوتا تو لڑکی کا کام وہیں تمام کر دینا!! ایک آدمی نے جھنجھلا کر کہا۔
“لیکن اس کو اندر سے باہر لائیں گے کیسے؟ جگہ تو ویسے بھی شاہ سائیں نے بتا دی ہے! اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ لڑکی کو اندر سے باہر لانے کا مسئلہ ہے۔ گیٹ سے چوکیدار تو ہٹ جائے گا، باقی ملازمین کا کیا کریں! ان میں سے ایک آدمی کا دھیان اب اس جانب گیا تھا۔
“ملازمین کون سا اس لڑکی کے پاس موجود ہوں گے۔ وہ سب اپنی اپنی ڈیوٹی پر ہیں۔ یہ رومال والا کام اس کے ساتھ بھی کریں گے جس سے اس کی بولتی وہیں بند ہو جائے گی اور پھر اسے وہیں سے غائب کر دیں گے! ایک نے خود کو تیس مار خاں سمجھتے ہوئے چٹکیاں بجائیں۔
“اور پھر بعد میں میر سائیں کو جواب کیا دیں گے بتاؤ! یہ بہت رسک والا کام ہے! ہمارے پاس کرنے کو کوئی تو ٹھوس بہانہ ہونا چاہئے ورنہ ان کا سارا شک ہم پر ہی جائے گا؛ ایک آدمی نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر زوردار مکا مارا۔
“یار ہم میں سے صرف دو آدمی اس لڑکی کو لے کر جائے گا، اسے وہیں قید کر کے واپس آ جانا ہے فوری طور پر، پھر بعد میں خود میر سائیں کے یہاں کال کر کے انہیں اس بارے میں بتا دیں گے کہ گیٹ پر چوکیدار موجود تھا اس لئے ہم سب اصطبل کی سائیڈ پر تھے۔ جب ہم شور سن کر اس جانب آئے تو دیکھا کہ چوکیدار بیہوش ہے اور ایک گاڑی پر کچھ لوگ سوار ہو کر تیزی سے بھاگے ہیں۔۔!! بس اب بہت ہو گیا، چلو یہ کرتے ہیں ورنہ وہ آ جائیں گے! وہ سب کہتے ہوئے برق رفتاری سے اپنے انجام سے بے پرواہ اس گھناؤنے عمل کو اٹھ کھڑے ہوئے۔

               💛💛💛💛💛

وہ جب حسن کے گھر پہنچا تو زوفا اور بی جان ڈنر سے فارغ ہو کر حال روم میں ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔ وہ دونوں ہی میر سالار کو دیکھکر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئیں۔ زوفا خوش ہونے کے ساتھ ساتھ آبدیدہ بھی ہو گئی تھی۔ میر سالار احترام سے بی جان کے سامنے جھکا تو انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔
“میر ادا آپ کو بہت یاد کیا۔ کیسے ہیں آپ اور مِرحا ٹھیک ہے؟ وہ سیدھا ہوا تو زوفا اس سے لگتی ہوئی بھیگے لہجے میں بولی۔
“الحمدللہ، ہم دونوں ہی ٹھیک ہیں۔ میں سمجھ سکتا ہوں مگر گاؤں میں بھی کچھ ضروری کام نپٹانے تھے خیر تم بتاؤ، یہاں تمہارا دل لگا یا نہیں؟ میر نے اپنائیت سے پوچھا ساتھ ہی اس کے ہمراہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
“ہاں بی جان بہت اچھی ہیں۔ میرا بہت خیال رکھتی ہیں! زوفا نے ہلکے سے مسکرا کر بی جان کو دیکھا تو وہ نہال ہی ہو گئیں ساتھ ہی ملازمہ کو آواز دے کر چائے بنانے کو کہا۔
“اور آپ بتائیں بی جان، زوفا آپ کو تنگ تو نہیں کرتی؟ میر نے قدرے شرارت سے پوچھا تو زوفا کا منہ کھل گیا۔
“تنگ تو کرتی ہے۔ بار بار میرے نہ چاہنے کے باوجود واپسی کی بات کرتی ہے۔ ارے بیٹا میں تو اب ہرگز نہیں چاہتی کہ یہ یہاں سے جائے۔ سمجھ نہیں آتی کیا کروں؟ بی جان افسردہ سی بولیں تو زوفا گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔
“آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خیر زوفا میرے یہاں آنے کا مقصد ایک اور اہم کام بھی ہے جو کہ میرے خیال میں آج ہی مکمل ہو جانا چاہئے۔ یہ خلع کے کاغذات ہیں جن پر سکندر کے دستخط موجود ہیں اب تم ان پر اپنے سائن کر کے اس رشتے سے مکمل طور پر آزادی حاصل کر سکتی ہو! میر سالار نے لفافے سے وہ پیپرز نکالے تو زوفا کا چہرہ فق سا ہو گیا۔ قسمت نے اس سے جو بھیانک مذاق کیا تھا اس کا مقصد و مطلب وہ آج تک نہ سمجھ سکی تھی۔ لب دانتوں تلے دبا کر اس نے بمشکل اپنی امڈتی سسکیوں کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی۔ بی جان بھی پُر ملال سی ہو گئیں۔
“کر دو بیٹا دستخط اور خود کو اس گھٹن زدہ رشتے کے بوجھ سے آزاد کر لو۔ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے اس سے بہتر چن رکھا ہو گا، انشاء اللّہ۔ افسردہ نہ ہو۔ جانتی ہوں تمہارا غم بہت بڑا ہے لیکن یہ یاد رکھو بیٹا کہ اوپر والا سب سے بڑا ہے۔۔!! بی جان نے اس کے ضبط کی شدت سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر سمجھایا تو وہ سر ہلا کر میر سالار کے ہاتھوں سے پین لئے کاغذات پر اس کے بتانے پر مطلوبہ جگہ پر اپنے دستخط کرنے لگی۔ درد حد سے سوا تھا۔ اس شخص کی زندگی میں داخل ہونے سے اس کی زندگی سے بے دخل ہونے تک کا سفر ایسے ہی تھا جیسے کسی جلتے صحرا میں کوئی میلوں کا سفر ننگے پاؤں طے کرے۔ اس رشتے نے اسے فقط آنسوؤں کے سوا دیا ہی کیا تھا۔ آخری سائن کرتے ہوئے اس کے ذہن میں یہ سوچ آئی جس میں واقعی صداقت تھی۔
“ڈونٹ وری، جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہی ہوتا ہے۔ میں چلتا ہوں اب، انشاء اللّہ جلد ہی آؤں گا پھر تم چھوٹی حویلی باآسانی جا سکو گی۔ بی جان مجھے اجازت دیں۔۔!! وہ زوفا کا سر تھتھپاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ساتھ ہی بی جان سے اجازت لی۔
“بیٹھیں تو سہی پہلے ڈنر کریں۔ چائے بھی بس تیار ہے۔ زوفا نے اسے روکنا چاہا مگر وہ کافی عجلت میں تھا۔ پھر کبھی کا وعدہ کر کے وہ باہر نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد اس نے متورم آنکھوں سے بی جان کو دیکھا تو وہ بھی افسردگی سے سر ہلا کر رہ گئیں، گویا کہہ رہی ہوں “قسمت بھی اپنے کون کون سے روپ دکھاتی ہے؛ اس وقت وہ دونوں ہی خاموش تھیں۔ زوفا نے اپنے ہنوز بین کرتے دل کو سختی سے ڈپٹا اور اٹھ کھڑی ہوئی ساتھ ہی بی جان کو احتیاط سے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور ان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

دل کے ٹوٹ جانے کا اب ملال کیا کرنا پتھروں کی بستی میں آئینے تو ٹوٹیں گے!! آندھیوں کے موسم میں اس طرح تو ہوتا ہے

خوشبوؤں کے پھولوں سے رابطے تو ٹوٹیں گے!!

              ✨✨✨✨✨

وہ جیسے ہی گاڑی میں آ کر بیٹھا اس کا فون بج اٹھا۔ اس نے فون ریسیو کر کے کان سے لگایا مگر دوسری جانب سے ملنے والی اطلاع پر گویا میر سالار کے سر پر آسمان اپنی پوری قوت سے آ گرا۔
“واٹ؟ کیا بک رہے ہو؟ ہوش و حواس میں ہو؟ وہ انتہائی زوردار آواز میں دہاڑا۔ اس کے محافظین ایک دوسرے کی جانب ناسمجھی سے دیکھنے لگے۔
“کیسے لے گئے اخر؟ تم سب کیا بیہوش ہوئے پڑے تھے جو خبر تک نہ ہوئی۔ اگر اسے ایک خروچ بھی آئی تو سب کے سب بے موت مارے جاؤ گے سنا تم سب نے! سٹئیرنگ پر زوردار پنچ مارے ہوتے ہوئے اس کی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔ طیش سے برا حال تھا۔ فون ڈیش بورڈ پر پھینک کر سخت اضطراری کیفیت میں اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور اسے فل سپیڈ پر چھوڑ دیا۔ اس پل اس کا دل چاہ رہا تھا کہ پوری دنیا کو آگ لگا دے۔ گرم خون دماغ کی دیواروں میں ٹھوکریں مارنے لگا تھا۔ اس کے محافظین بھی حیران و پریشان سے اس کے پیچھے پیچھے تھے۔ ایک نئی مصیبت اپنا منہ کھولے سامنے کھڑی تھی۔