No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
زوفا شاہ کی اپنے لئے محبّت کے انکشافات سے بھرپور اس کی ڈائری کو پڑھکر سکندر کی بے سکونی اب عروج پر جا پہنچی تھی۔ وہ اپنی بے خبری پر روتا رہا، اس کے اوپر ڈھائے گئے اپنے مظالم پر روتا رہا، نہ جانے کون کون سی سوچیں اس کے ذہن کے پردے پر دستک دے دے کر اسے نئے سرے سے اشک بہانے پر مجبور کر رہی تھیں۔ وہ روتا رہا حتیٰ کہ نمازِ فجر کا وقت ہو گیا۔ مؤذن کی اذان کے ساتھ ہی اس کا تسلسل ایک جھٹکے سے ٹوٹ گیا۔ درد سے پھٹتے سر اور بکھرے وجود کو سنبھالے اس نے اپنے قدموں میں پڑی وہ ڈائری اٹھائی اور خود ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ سامنے بیڈ پر حرم ہنوز بے خبری بھری نیند میں محو تھی۔ سکندر شاہ نے ڈائری حرم کے بیگ میں واپس ڈالی ساتھ ہی سرخ متورم آنکھوں کو میچتا بیڈ کے نزدیک آ کھڑا ہوا اور نگاہیں نیند میں غرق حرم پر جما دیں۔
“میں نہیں جانتا یہ ڈائری تمہارے ہاتھ کیسے لگی حرم، مگر میں تمہارا شکر گزار ہوں کہ انجانے میں ہی سہی پر تم نے اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیا جس کا میرے سامنے ظاہر ہونا شاید کبھی بھی ممکن نہ تھا۔ اب میں بہتر طریقے سے یہ سمجھ چکا ہوں کہ تمہاری زوفا سے اس قدر نفرت کی وجہ محض یہ نہیں تھی کہ وہ میرے نکاح میں کیوں تھی، بلکہ اصل وجہ یہ ڈائری تھی۔ میں تم پر کبھی یہ ظاہر نہیں کروں گا کہ مجھے ان سب سے واقفیت ہے، کیونکہ میں اپنی زندگی مزید نظرِ آتش نہیں کر سکتا، مزید جہنم نہیں بنا سکتا۔ لیکن ہاں یہ سچ ہے کہ سکندر شاہ اب پہلے جیسا نہیں رہ جائے گا، نہ تمہارے لئے اور نہ ہی خود کے لئے۔ اب یہ تشنگی اور پچھتاوا آہستہ آہستہ اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا جائے گا مگر تم ان سب سے بے خبر ہوگی ٹھیک ویسے ہی جیسے ابھی ہو؛؛؛ وہ لب بھینچے اس پر نظریں گاڑے کھڑا دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھا۔ جبھی حرم نے کسمسا کر دوسری جانب کروٹ بدل لی۔ وہ ایک نظر اس کی پشت پر ڈالتا تھکے تھکے قدموں سے کمرے سے باہر گیا۔
محفلِ ارا تھے، مگر پھر ہم کم نما ہوتے گئے
دیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے!!
ناشناسی دہر کی، تنہا ہمیں کرتی گئی
ہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے!!
🌸🌸🌸🌸🌸
وہ نجانے کن خیالات میں گُم پیپر ویٹ کو گھمائے جا رہا تھا۔ سامنے چئیر پر براجمان میر سالار کافی دیر سے اس کی عدم توجہی نوٹ کر رہا تھا۔ وہ دونوں اس وقت آفس میں موجود تھے۔
“کیا بات ہے حسن؟ خیریت تو ہے؟ سالار نے اسے بغور دیکھا جو اس کے متوجہ کرنے پر چونک سا گیا تھا۔
“ہاں سب خیریت ہے!! وہ گہرا سانس بھر کر بولا۔
“آر یو شیور؟ میر نے ابرو اچکایا۔
“یس! حسن نے جیسے اس پل خود سے بھی نظریں چرائیں
“مگر مجھے لگتا ہے تم کسی چیز کو لے کر ٹینس ہو! پچھلے آدھے گھنٹے سے میں تمہیں نوٹ کر رہا ہوں!!! میر سالار نے اپنی بات پر زور دیا۔
“میر مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ اس نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے مضطرب انداز میں کہا۔
“ہاں بولو کیا بات ہے میں سن رہا ہوں! سالار ہمہ تن گوش ہوا۔
“تم زوفا کے والدین سے میرے لئے بات مت کرنا کیونکہ میں اب ایسا نہیں چاہتا۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ اس وقت ضبط کے آخری مراحل پر تھا۔ میر سالار کی پیشانی شکن آلود ہو گئی۔
“لیکن کیوں؟ ہوا کیا ہے؟ اس نے قدرے غصّے سے پوچھا
“زوفا اس کیلئے راضی نہیں ہیں اور میں زور زبردستی ہرگز نہیں چاہتا یار بس یہی بات ہے!! حسن نے کچھ جھلا کر کہا۔ میر سالار نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
“نا امیدی کفر ہے پیارے! اس نے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اسے باور کرایا
“جانتا ہوں لیکن تم ہی بتاؤ میں کروں تو کروں کیا آخر؟ انہوں نے مجھے سختی سے کہا ہے کہ میں کسی بھی قسم کی کوئی کوشش نہ کروں۔ اب اگر تم بات کرتے ہو ان کے والدین سے تو زوفا مجھ سے مزید متنفر ہو جائیں گی اور مجھے یہ قطعی گوارا نہیں ہے۔۔۔ حسن نے دو ٹک لہجے میں کہا۔
“اوہ رئیلی، تو پھر ٹھیک ہے قیس و فرہاد کا ٹیگ اپنے ماتھے پر سجائے گھومتے رہنا اور تمہیں اس حال میں دیکھکر لوگ تمہیں خوب داد و تحسین سے نوازیں گے!! کیا خیال ہے؟؟؟ اس کے طنز پر حسن گویا رونے والا ہو گیا۔
“میر کم از کم تم تو مجھے بخش دو یار،، کیوں جلتی پر تیل چھڑکنے والا کام کر رہے ہو؟ حسن نے باقاعدہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔
“تو تم ہی بتاؤ، بنا زوفا کے والدین سے بات کئے میں اس معاملے کو آگے تک کیسے لے جا سکوں گا؟ اب انہیں الہام تو ہوتے نہیں کہ میرے بنا ان سے کچھ کہے ہی وہ سب کچھ سمجھ جائیں گے۔ تمہاری عقل کیا گھاس چرنے گئی ہوئی ہے؟ لگتا ہے اوپری ملبہ آج کل بالکل خالی پڑا ہوا ہے۔۔ سالار ہنوز طنز کے تیر چلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ وہ جوں کا توں اپنی جگہ بیٹھا دانت کچکچا کر رہ گیا۔
“میں تم سے مخاطب ہوں حسن! میر نے اس بار کچھ تیز لہجہ اپنایا
“میرا فیصلہ اب بھی وہی ہے۔ تم بات نہیں کرو گے میر۔ جو جیسا چل رہا ہے مجھے منظور ہے! اس کی آنکھوں کے کنارے لمحہ بہ لمحہ سرخ ہوتے جا رہے تھے۔
“ویری گُڈ،،،ایز یو وِش! میر اسے گہری نظروں سے دیکھتا اپنی کیپ ٹیبل سے اٹھائے وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد ایس۔پی حسن نے لب سختی سے بھینچ کر خود پر ضبط کے کڑے پہرے باندھنے کی کوشش کی۔
“یہی بہتر ہے میرے لئے۔ جو چیز دسترس سے دور ہو اس سے دستبردار ہو جانا ہی بہتر ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر انسان مقدر کا سکندر ہو۔ کچھ لوگوں کی زندگیوں میں محرومیوں کا بھی بول بالا ہوتا ہے۔۔ قسمت میں اگر یہی ہے تو یہی سہی!!! اس نے سسکیاں بھرتے دل کو دلاسہ دے کر گویا تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کی۔
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا!!
بربادیوں کا سوگ منانا فضول تھا
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا!!
جو مل گیا اُسی کو مقّدر سمجھ لیا
جو کھو گیا میں اُس کو بھلاتا چلا گیا!!
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اُس مقام پہ لاتا چلا گیا!!
🧡🧡🧡🧡🧡
ان کی گاڑی جیسے جیسے گاؤں کی سرحد سے نزدیک آتی جا رہی تھی زوفا کے دل کی دھڑکنیں بھی رفتار پکڑتی جا رہی تھیں۔ گاڑی اب پگڈنڈی کے راستے پر آ نکلی تھی جہاں سے بڑی حویلی دور سے ہی اپنی بھرپور قد و قامت پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی۔ زوفا کے دل پر جیسے کسی نے برچھی چلا دی تھی۔ بیک وقت نہ جانے کتنے ہی زخم تھے جو تازہ ہو گئے تھے۔ جو اذیت ناک وقت اس نے اس حویلی کی دیواروں میں کاٹا تھا اسے مرتے دم تک بھولنا شاید اس کے اختیار میں نہ تھا۔ اس نے بمشکل اپنے آنسوؤں پر بند باندھا ساتھ ہی زکا صاحب کو دیکھا جن کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ وہ بھی سب کچھ بھلا کر مسکرا دی۔ اس دوران کئی مرتبہ سویرا و آسیہ بیگم کی کالز آ چکی تھیں۔ ان کی بیتابی عورج پر تھی۔
زکا صاحب سفر کے دوران کئی مرتبہ حسن اور بی جان کی تعریفیں کر چکے تھے۔ وہ ان دونوں کی خوش اخلاقی سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ ان سے ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے کب سفر کا اختتام ہوا پتہ ہی نہ چلا۔ گاڑی اب دم بہ دم چھوٹی حویلی کی جانب رواں دواں تھی۔ اس وقت اس کی جو کیفیت تھی وہ اسے بیان کرنے سے قاصر تھی۔
بالآخر گاڑی چھوٹی حویلی کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ بیرونی دروازے پر حویلی کے افراد کو اپنے استقبال کیلئے کھڑا دیکھکر زوفا کی آنکھیں بیساختہ اشکوں سے لبالب بھر گئیں۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ برق رفتاری سے نیچے اتری اور بھاگتے ہوئے ان سب کی جانب بڑھی۔ آسیہ بیگم نے روتے ہوئے اپنے بازوؤں کو وا کیا تو وہ ان کی آغوش میں آ سمائی ساتھ ہی اس کے آنسو بے تحاشہ نکل آئے۔ آسیہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ سویرا بھی آنسو بہاتے ہوئے اس کی پشت سے لپٹ گئی۔ باقی سارے بھی نم آنکھیں لئے ان کے گرد اکھٹے ہو کر ان کا ملن دیکھنے لگے۔ دو دن قبل ارقم شاہ کی فیملی بھی یہاں آ چکی تھی۔ ان کی آمد سے چھوٹی حویلی میں رونقیں مزید بڑھ گئی تھیں۔
“میری بچی، میں تیرے اس لمس کیلئے کتنا ترسی ہوں یہ میں اور میرا رب ہی جانتے ہیں۔ بہت مشکل وقت تھا وہ اللّٰہ نے پار کرایا۔ اس کا کرم ہے ہم پر کہ تو آج ہمارے روبرو ہے۔۔ آسیہ بیگم نے آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے اوپر والے کا شکر ادا کیا ساتھ ہی اسے خود سے جدا کر کے اس کی پیشانی چوم لی جو اب بھی بس روئے چلی جا رہی تھی۔
“چپ، بالکل چپ ہو جا۔۔ بہت رو لیا تو نے، بہت سہہ لیا ہے۔ اب تو یہی رہے گی تجھے خود سے کبھی جدا نہیں کروں گی میری جان!! آسیہ بیگم نے اس کے آنسو صاف کئے جبکہ سویرا نے اسے مزید خود سے لپٹا لیا۔
“بالکل رونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کو بھی۔ یہ خوشی کے لمحات ہیں انہیں آنسوؤں کی نذر مت کریں سب!! سائشتہ (چچی سائیں) نے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو سب مسکرا دئیے۔
زکا صاحب بھی نم آنکھوں سے کھڑے ان خوشیوں بھرے لمحات کو محسوس کر رہے تھے۔
زوفا آنسو پونچھتے ہوئے باری باری ان سب سے ملنے لگی۔ اس سارے اوقات میں اس کے دل میں مسلسل جو ایک خلا تھا وہ بی جان کی غیر موجودگی تھی۔ وہ آج اگر ان سب کے درمیان موجود ہوتیں تو اس کی حویلی واپسی پر خوشی سے پھولے نہ سماتیں۔ زوفا میں ان کی جان بستی تھی، اس کا غم ہی تو ان کی سانسیں چھین لے گیا تھا۔۔۔ کاش وقت کی سوئیاں پلٹ کر پھر انہی لمحات کی جانب گامزن ہو جائیں۔ جہاں سکون تھا، خوشیاں تھیں، مسکراہٹیں تھیں اور سب سے بڑھکر اس کی پیاری بی جان تھیں۔۔۔ سوچتے ہوئے اس کا دل بے طرح بین کرنے لگا تھا۔
اسی اثناء میں فیاض شاہ بھی میل سے واپس لوٹ آئے۔ انہیں دیکھ کر وہ بیساختہ ان کے سینے سے جا لگی۔ لاڈلی پوتی کو اتنے عرصے بعد روبرو دیکھ کر فیاض شاہ آبدیدہ سے ہو گئے، ساتھ ہی اس کا سر سہلاتے ہوئے محبت بھرے انداز میں اسے تسلی دی تو وہ ان سے الگ ہو کر چہرہ صاف کرتی ان سب کے ساتھ ہی اندر کی جانب بڑھ گئی۔
💚💚💚💚💚
میر سالار سے دوپہر میں بات کرنے پر اس نے بتایا تھا کہ وہ بعدِ عشاء آ جائے گا۔ سو وہ اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئی۔ بریانی کو دم دینے کے بعد وہ نمازِ مغرب سے فارغ ہو کر اطمینان سے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ آج اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنے ہاتھوں سے میر سالار کے لئے کھانا بنائے۔ سو وہ عصر کے وقت سے ہی کچن میں جتی ہوئی تھی۔ ملازمہ کچن کے اوپری کاموں میں مصروف تھی۔ اس نے بریانی کے ساتھ رائتہ اور ساتھ ہی ڈیزرٹ بھی تیار کر لی تھی۔
یہاں شہر میں رہنے کے باوجود اس نے حویلی کے روایتی لباس کو ہی ترجیح دی تھی۔ میر سالار کو وہ ان ملبوسات میں مزید پیاری لگتی تھی جبھی اس کیلئے شاپنگ کرتے ہوئے وہ زیادہ تر اس کیلئے روایتی ملبوسات ہی خریدتا تھا۔ مِرحا کو بھی یہی آؤٹ فٹ پسند تھا۔ اس وقت بھی وہ پیچ کلر کے غرارے میں موجود تھی جس پر بوٹیوں و موتیوں کا کام بنا ہوا تھا۔
ہلکے پھلکے میک اپ کے بعد اس نے اپنے لمبے مخملیں بالوں کو یونہی کیچر سے پِن کر کے کھلا چھوڑ دیا تھا۔ ہاتھوں میں میچنگ چوڑیاں اور کانوں میں ہم رنگ اویزے موجود تھے۔ پیروں میں نازک سی پازیب پہن رکھی تھی ساتھ ہی ہم رنگ جوتوں کے ساتھ وہ کوئی ربڑ کی گڑیا لگ رہی تھی۔ اپنی تیاری پر ایک آخری نظر ڈال کر وہ صوفے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔
گھڑی کی سوئیاں آٹھ کے ہندسے پر جا رہی تھیں کہ گاڑی کے ہارن پر اس کی تمام حسیات الرٹ ہو گئیں۔
دھک دھک کرتے دل کیساتھ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ اندر داخل ہوا تو اِدھر اُدھر اپنی متلاشی نگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ اندر داخل ہو کر اس نے دروازہ بند کیا اور جوں ہی پلٹا نظر سیدھے سامنے کچھ فاصلے پر کھڑی مِرحا پر پڑی تو وہ اپنی جگہ دم بخود کھڑا رہ گیا۔
“اسلام علیکم، اسے اپنی جانب یک ٹک دیکھتا پا کر وہ بلش کرتی ہوئی بولی۔ اس کی گہری و پرشوق نگاہوں کی آنچ پر مرحا کے رخسار تپنے لگے۔ اس کی آواز پر یکایک میر سالار جیسے حال میں لوٹا۔ کیپ اتار کر صوفے پر رکھتے ہوئے وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ دلکشی سے ہنسا ساتھ ہی اس کی جانب بڑھا جو اب اس کی پیش و رفت پر تھوڑا گھبرائی سی نظر آنے لگی تھی۔
“وعلیکم السلام، کیا بات ہے مسز، خیر تو ہے؟ اپنے اس قدر بھرپور استقبال کی توقع نہیں کی تھی میں نے ورنہ سرِ شام ہی آ جاتا!! شرارت آمیز انداز میں وہ اس کے بیحد نزدیک آ کھڑا۔ مرحا مزید پزل ہو گئی۔
“آپ خوش ہیں؟ آپ کو اچھا لگا؟ اس نے ہمت کر کے اس کی جانب دیکھا مگر اس کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھکر وہ بوکھلا سی گئی۔
“اس اقدام پر کون کافر ہے میری جان جو خوش نہیں ہوگا! سالار نے گھمبیر آواز میں سرگوشی کی ساتھ ہی اس کے بالوں کو کیچر سے بھی آزاد کر دیا۔
“آپ پہلے فریش ہو کر کھانا کھائیں میں نے آپ کیلئے بریانی بنائی ہے۔ اس کے بعد۔۔۔۔ مرحا نے شرم سے لرزتی آواز میں کہا اور زرا پیچھے ہٹنے کی کوشش کی
“اس کے بعد کیا؟ میر سالار نے اس کا جملہ وہیں اچک لیا اور دلچسپی سے اس کے ہواس باختگی لئے تاثرات کو دیکھنے لگا۔
“اس کے بعد اور بھی رات ہو جائے گی پھر سونا بھی تو ہے نا!! وہ بمشکل منمنائی۔ میر سالار کا بیساختہ قہقہہ فضا میں گونج اٹھا۔ اس نے والہانہ انداز میں اسے اپنے مزید نزدیک یکھینچا تو وہ اپنے نرم و نازک وجود کے ہمراہ اس کے ساتھ آ لگی۔
“تمہاری یہی معصومیت تو مجھے تمہارا دیوانہ بنائے ہوئے ہے اوپر سے رہی سہی کثر اس روپ نے پوری کر دی ہے۔۔!! جذبات سے چور لہجے میں کہتے اس نے جھک کر تمام تر شدت سے اس کے دونوں عارضوں کو لبوں سے چھوا تو وہ مزید اس میں سمٹ گئی۔ شرم سے برا حال تھا۔ دل کی دھڑکنیں گویا ساتھ چھوڑنے لگی تھیں۔ لبوں پر اس پل جیسے قفل لگ گیا تھا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو میری زندگی، وہ اس کی پیشانی پر مہر ثبت کرتے ہوئے مخمور آواز میں بولا۔
“سائیں پہلے کھانا تو کھا لیں نا!! وہ اپنے بچاؤ کیلئے گھبراہٹ سے چور انداز میں بولی۔
“کھا لیں گے فکر کیوں کرتی ہیں سویٹ ہارٹ! پہلے آپ کی تعریف تو ہو جائے جو کہ آپ کا ذاتی حق ہے!! وہ اسے سرتاپا جن نظروں سے دیکھ کر بولا مرحا کے حواس گویا اس کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ سالار نے اس کے مرمریں وجود کو نرمی سے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔ اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس نے اس کا سر یوں تکئے پر رکھا گویا وہ کوئی نازک آبگینہ ہو جو زرا سی بے احتیاطی پر ٹوٹ جائے گا۔ کمرے کی خاموش و خوابناک فضا میں مرحا کی چوڑیوں کی جھنکار ماحول کو مزید پرکیف بنا رہی تھی۔
“سائیں! مرحا نے بے ہنگم ہوتی سانسوں کو بمشکل قابو کرنے کی کوشش میں کچھ کہنا چاہا، مگر میر سالار نے اس کے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھتے ہوئے اس کے لفظوں کا گلہ گھونٹ دیا۔ اس کی آنکھوں سے چھلکتے تقاضوں پر مرحا کی پلکیں حیا سے مزید بوجھل ہو کر رخساروں پر بچھ گئیں۔ سائیڈ لیمپ آف کر کے اس نے اس کے مخملیں سراپے کو خود میں سمیٹا تو وہ اس کے جذبات کے شوریدہ طوفان میں تنکے کی مانند بہتی چلی گئی۔
💛💛💛💛💛
شام ہو چلی تھی۔ سکندر شاہ کا کچھ اتا پتہ نہ تھا۔ اس پر گزری قیامت سے بے خبر حرم آج اپنی الگ ہی خوشی میں سرشار تھی۔ آج اس نے زوفا کی اس ڈائری کو ردی بنا کر ملازمہ کے ہاتھوں کہیں دور پھینکنے کو بھیجا تھا اب وہ ہر لحاظ سے خود کو ٹینشن فری محسوس کر رہی تھی۔
“اچھا ہی ہوا۔ وہ ڈائری میرے سر پر تلوار کی مانند لٹک رہی تھی۔ مجھے تو یہ کام بہت پہلے ہی کر لینا چاہئے تھا مگر کوئی بات نہیں، دیر آید درست آید!! یہ راز تو اب میرے ساتھ قبر تک جائے گا اور سکندر سائیں کو کبھی بھی اس کی خبر نہیں ہو سکے گی۔۔۔ دل ہی دل میں سوچتے ہوئے وہ مسکرا دی۔ اس وقت وہ برآمدے میں بقیہ لڑکیوں کے ہمراہ بیٹھی ہوئی تھی۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ بقیہ خواتین صحن میں موجود تھیں۔ مورے اپنے کمرے میں تھیں۔ وہاج شاہ کی گرفتاری کے بعد اب ان کے کس بل بھی کچھ ڈھیلے ہو چکے تھے۔
حرم کی نظریں گاہے بگاہے برآمدے کی چوکھٹ پر جا رہی تھیں مگر سکندر شاہ کی آمد کا دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں کڑھنے لگی۔
“یہ کدھر چلے گئے ہیں؟ ہونہہ میں مل گئی ہوں انہیں کافی نہیں ہے کیا جو باہر کی دنیا سے دل ہی نہیں بھرتا ان کا؟ اس نے جل کر سوچا۔
“کی ہویا حرم؟ کس کے انتظار میں ہو؟ زارا نے اس کی عدم توجہی نوٹ کی تو اسے چھیڑنے کو شرارتًا بولی۔
“تمہارے ادا کے انتظار میں ہوں۔ نہ جانے صبح سے کدھر کی خاک چھاننے کو نکلے ہیں!! وہ چلبلا کر بولی تو وہ سب اس کے انداز پر ہنس پڑیں۔
“آ جائیں گے فکر نہیں کرو۔ ڈیرے پر گئے ہونگے!! مریم نے اسے تسلی دی۔
“ہاں لگتا ہے ڈیرے پر ہی اپنا ڈیرہ ڈال لیا ہے جبھی حویلی کی راہ بھول بیٹھے ہیں بیچارے! وہ کلس کر اٹھی اور دندناتی ہوئی باغ کی جانب چلی گئ۔ وہ سب اس کے انداز پر حیرانگی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھتی ہنس دیں۔
⭐⭐⭐⭐⭐
