Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

2nd Last Episode

وہ زاروقطار روتے ہوئے بین کر رہی تھیں۔ ان کے لبوں پر محض زوفا کا ہی نام تھا۔ وہ بار بار اپنے مظالم کیلئے جو کہ انہوں نے زوفا پر ڈھائے تھے، معافی مانگ رہی تھیں، مگر جس کیلئے ان کے یہ الفاظ تھے، اس کا آس پاس کہیں بھی نام و نشان نہ تھا۔ بڑی حویلی کے چند افراد (جو کہ فلحال ہاسپٹل میں ان کے ساتھ موجود تھے) ان کے ارد گرد کھڑے تاسف سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ آج جب قدرت کی لاٹھی نے اپنا کمال دکھایا تھا تو شاہ بی بی جنہیں اپنے آگے لوگ کسی تنکے سے بھی کمتر محسوس ہوتے تھے، کے تمام تر کس بل نکل چکے تھے۔
قریب کھڑی حفضہ بیگم کی آنکھوں میں بھی بیک وقت شرمندگی اور خوف دونوں ہی اپنی جھلک دکھا رہے تھے۔ ان کا جوان بیٹا قتل ہو کر منوں مٹی تلے دفن ہو چکا تھا اس بات کا سبھی کو غم تھا، مگر جس طرح کا سلوک انہوں نے زوفا کیساتھ رواں رکھا تھا اب انہیں اس پر ندامت ہوتی تھی۔ جب سے انہیں یہ معلوم ہوا تھا کہ “ان کے فرزند شموئیل خان کا قاتل صارم اپنے انجام کو بہت پہلے ہی پہنچ چکا تھا جبکہ زوفا نے ناحق اس کے گناہ کی سزا کاٹی تھی، تب سے وہ تو خود سے بھی نظریں چار کرنے کے قابل خود کو نہ پا رہی تھیں۔

“زوفا بس ایک بار میرے روبرو آ جاؤ اور کہہ دو کہ تم نے مجھے معاف کیا۔ تم مجھے معاف نہیں کرو گی تو مجھے قبر میں بھی راحت و سکون نصیب نہیں ہوگا؛ شاہ بی بی اونچی آواز میں گریہ و زاری کر رہی تھیں۔
“مورے، زوفا یہاں کہیں نہیں ہے۔ اب ان معافی تلافی کا کوئی فاعدہ نہیں ہے۔ جو گزر گیا سو گزر گیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب اس سب کی کوئی ضرورت ہے؛؛ زیشان شاہ نے انہیں سمجھانے والے انداز میں کہا، مگر اس کے برعکس وہ مزید مچل اٹھیں۔
“تم چھوٹی حویلی جاؤ زیشان خدا کیلئے اسے مناؤ، اسے کہو مجھے معاف کر دے ورنہ میں ہر لحاظ سے تباہ و برباد ہو جاؤں گی؛ انہوں نے زیشان شاہ کو ملتجی نگاہوں سے دیکھا۔ ان کی بات سن کر وہ بدک گئے۔
“ہرگز نہیں مورے، میں اپنے اندر قطعی اتنی ہمت نہیں پاتا کہ چھوٹی حویلی کہ دہلیز پر قدم بھی رکھ سکوں کجا کہ زوفا سے نظریں ملانا۔۔۔ ہرگز نہیں، مجھے معاف کریں۔۔!! ان کے دو ٹک انکار پر وہ مزید زور و شور سے رونے لگیں۔
“مانا کہ اس گناہ میں ہم سبھی شامل تھے مگر، مجھے ایک بات بتائیں مورے، ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے جیسے بابا سائیں کے کارنامے کے متعلق آپ کو پہلے سے ہی آگہی تھی۔ بابا سائیں نے صارم کو قتل کر دیا تھا وہ بھی شموئیل کے قتل کے دو روز بعد ہی، کیا آپ کو اس راز کے سب کے روبرو فاش ہونے سے پہلے سے ہی اس بات کا علم تھا؟ سبحان شاہ نے سوال اٹھایا۔

“ہاں، مجھے اس کے چند روز بعد یہ خبر تمہارے بابا سائیں سے ہی پتہ چلی تھی۔ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی میں ان کیساتھ اس گناہ میں شامل ہو گئی۔ اللّٰہ نے میرے لئے بہتر سزا چنی ہے۔ بیشک وہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ مجھ جیسی کیلئے یہی سزا ہونی چاہئے کیونکہ میں اسی قابل ہوں۔۔!! وہ دونوں ہاتھوں سے بالوں کو مٹھیوں میں بھینچ کر بولیں جبکہ بقیہ افراد کی آنکھوں میں ان کیلئے اب تاسف کیساتھ ساتھ رحم بھی در آیا تھا۔ خاموش کھڑی حفضہ بیگم نے خود ہی چھوٹی حویلی جانے کا دل ہی دل میں مسمم ارادہ باندھا اور گہرا سانس بھرتے ہوئے مورے کو دیکھنے لگیں۔

“یہ جس مٹی پہ تم اترا رہے ہو منوں مٹی تلے جانا ہے اِس کو؛ ❤️❤️❤️❤️❤️

صبح ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد وہ آسیہ بیگم کے کمرے میں چلی آئی۔ ساری رات وہ جس ادھیڑ بن کا شکار رہی تھی اب اس سے نجات پانے کی شدت سے خواہش مند تھی۔ آسیہ بیگم ناشتے کی میز پر بھی بہت خاموش خاموش سی تھیں۔ زوفا جانتی تھی کہ وہ اس کی وجہ سے فکرمند ہیں۔ وہ ایک “ماں؛ تھیں پھر بھلا اسے دکھ اور اذیت میں گِھرا کس طرح دیکھ سکتی تھیں۔
“امی سائیں؛ کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟ اس نے کھلے دروازے پر ہی انگلی کی مدد سے ٹک ٹک کی تو آسیہ بیگم جو کہ اب وارڈروب کھولے کھڑی تھیں چونک کر اس کی جانب مڑیں۔
“آ جاؤ زوفا؛ گہرا سانس بھرتے ہوئے وہ وارڈروب کھلا چھوڑے ہی بیڈ پر آ بیٹھیں تو وہ بھی چلتی ہوئی بیڈ پر ان کے قریب ہی ٹک گئی۔
“آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ اس نے بغور انہیں دیکھا۔
“نہیں میری جند جان؛ میں بھلا تجھ سے کیسے ناراض ہو سکتی ہوں۔ بس تیرے لئے فکرمند ہوں، مگر خیر چھڈ دے اس گل کو، جب تجھے یہ رشتہ نہیں منظور تو میں بھی تجھ سے جبر و زبردستی کی خواہش نہیں رکھتی۔۔،، انہوں نے محبّت سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اس کا گال سہلایا تو زوفا کی آنکھیں نم سی ہو گئیں۔
“مجھے معلوم ہے آپ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں اور ایک ماں ہونے کے ناطے آپ کی بے لوث محبت کی میں دل سے قدر بھی کرتی ہوں۔ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے امّی سائیں؛ اس نے ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تو وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگیں۔ اسی دوران زکا صاحب جو کہ کمرے میں ہی آ رہے تھے ان کی گفتگو پر وہیں دروازے پر ٹھہر گئے، اور دونوں ہاتھوں کو پشت پر باندھے وہ انہیں سماعت کرنے لگے تاہم ان دونوں کو زکا صاحب کی آمد کی خبر نہ ہوئی تھی۔
“جس رشتے کیلئے آپ نے رات مجھ سے بات کی تھی، میں اسی بابت آپ سے بات کرنے آئی ہوں۔۔؛ زوفا نے نظریں جھکا کر کہا تو آسیہ بیگم الجھ کر اسے دیکھنے لگیں۔
“زوفا میری جان، کوئی بات نہیں بیٹا، مجھے پتہ ہے تم مجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی مگر یقین مانو میرے لئے تمہارے خوشی سب سے اوّل ہے۔ میں نے رات تم سے بات کی اور تم نے انکار کر دیا بس بات ختم!! آسیہ بیگم نے دوبارہ اس کے اس متعلق بات کرنے کو اس کی شرمندگی سے تعبیر دی تو اسے ریلیکس کرنے کو سمجھانے لگیں۔
“نہیں امّی سائیں، بات دراصل یہ ہے کہ اب میں اس رشتے کیلئے راضی ہوں۔۔؛ زوفا نے بمشکل پلکیں جھپکتے ہوئے گویا اشکوں کو اندر اتارا جبکہ آسیہ بیگم آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگیں۔ انہیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔ ان کے برعکس زکا صاحب کے لبوں پر شکر آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔
“یہ کیا بات کر رہی ہے زوفا؟ کل رات تو تو بضد تھی کہ تجھ سے اس رشتے تو کیا بلکہ کسی بھی رشتے کے متعلق بات نہ کی جائے پھر اب کی ہویا؟ آسیہ بیگم جب زرا بولنے کے قابل ہوئیں تو ایک ہی سانس میں سوال کر بیٹھیں۔
“بس خدا نے میرے دل میں ڈال دیا ہے کہ مجھے اس رشتے پر راضی ہو جانا چاہئے۔ میں بضد ضرور تھی مگر اب خود حامی بھر رہی ہوں۔ “میں حسن سے شادی کیلئے راضی ہوں۔ ماضی کا دامن چھوڑ کر اب میں محض اپنے حال اور مستقبل کا پہلو تھامنا چاہتی ہوں؛ اس نے کانپتی آواز میں کہا تو آسیہ بیگم نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ اس پل زوفا کے بھی ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ زکا صاحب کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر خود بھی اشکوں سے بھر آئیں۔ وہ ان دونوں کے قریب آ کھڑے ہوئے اور تسلّی آمیز انداز میں باری باری دونوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا تو وہ چونک کر علیحدہ ہوئیں۔ زوفا زکا صاحب کو دیکھکر بے اختیار بیڈ سے اٹھی اور ان کے سینے سے آ لگی۔
“بابا سائیں؛ بمشکل اس کے لبوں سے یہ الفاظ نکلے اور ایک بار پھر اس کی سسکیاں بندھ گئیں۔
“بس کرو میری بچی، اللّٰہ نے یقیناً تمہارے لئے کچھ بہترین اور خوبصورت سوچا ہے۔ یہ رشتہ ہر لحاظ سے اچھا ہے۔ لڑکا بھی مکمل طور پر خوبرو اور لائق ہے۔ کسی چیز کی کوئی کمی نہیں۔ وہ محبت کرنے والے اور عزت دینے والے لوگ ہیں۔ مجھے امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ تم اس شخص کی ہمراہی میں بہت خوش رہو گی۔۔؛ زکا صاحب آبدیدہ لہجے میں کہتے ہوئے اس کا سر سہلانے لگے ساتھ ہی آسیہ بیگم کو دیکھا تو وہ بھی اس کی پشت سہلاتے ہوئے طمانیت سے اثبات میں سر ہلا گئیں۔ ان دونوں کے ہی دل اس وقت اپنی لاڈلی بیٹی کی حقیقی خوشیوں کے لئے دعائیں مانگ رہے تھے۔

                 🌸🌸🌸🌸🌸

دل یہ کہتا ہے ضبط لازم ہے
ہجر کے دن کی دھوپ ڈھلنے تک!!
اعترافِ شکست کیا کرنا
فیصلے کی گھڑی بدلنے تک!!
دل یہ کہتا ہے حوصلہ رکھنا
سنگ رستوں سے ہٹ بھی سکتے ہیں!!
اس سے پہلے کہ آنکھ بجھ جائے
جانے والے پلٹ بھی سکتے ہیں!!
اب چراغاں کریں ہم اشکوں سے
یا مناظر بجھے بجھے دیکھیں!!
ایک طرف دل ہے ایک طرف تو ہے
دل کی مانیں کہ اب تجھے دیکھیں!!

اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ اب پلٹ کر ماضی کی راکھ کو کریدنا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی محبت کی نارسائی پر ماتم کرنا چاہتا تھا۔
دوسری جانب زکا صاحب نے سالار کو فون کال کے زریعے زوفا کی رضامندی کا عندیہ دے دیا۔ کچھ پل کو تو میر سالار کو بھی اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا مگر پھر زکا صاحب کے یقین دلانے پر اس کے چہرے پر خوشی اور حیرت کے تاثرات بیک وقت در آئے۔ وہ حسن کیلئے بہت خوش تھا اور اب جلد از جلد اسے یہ خوشخبری سنانا چاہتا تھا۔ مرحا کو بھی اس کی زبانی زوفا کی رضامندی کا علم ہوا تو وہ خوشی و مسرت سے پھولے نہیں سمائی۔
میر سالار نے بی جان کو کال پر ہی ساری بات سے آگاہ کرتے ہوئے ساتھ ہی زوفا کے مان جانے کی خوشی سنائی تو بی جان کے ہاتھوں گویا ہفتِ اقلیم لگ گئی۔ زوفا اب ہمیشہ کیلئے ان کے گھر کی زینت بننے کو تھی یہ سوچ کر ہی وہ نہال ہو گئیں۔ میر سالار نے بی جان کو حسن سے اس بابت بات کرنے سے فلحال منع کیا کیونکہ وہ خود حسن سے اس بارے میں روبرو کلام کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بی جان کا فون نمبر بھی آسیہ بیگم کو دے دیا تاکہ دونوں خواتین آپس میں سارے معاملات طے کر سکیں۔
صبح کے دس بجنے کو تھے۔ وہ آفس میں بیٹھا فائلوں سے طبع آزمائی میں مصروف تھا کہ ایس۔پی۔حسن چلا آیا۔ چہرے پر سنجیدگی کے آثار صاف طور پر نمایاں تھے۔ میر سالار نے آہٹ پر سر اٹھایا تو سامنے اسے کھڑا دیکھکر ہولے سے مسکرا دیا۔
“مانا کہ مجھ سے ناراضگی ہے، مگر ایسی بھی کیا خفگی کے بندہ چہرے پر بارہ بجائے چار سو گھومتا رہے؛؛ سالار نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ہنس کر کہا تو حسن نے جل کر اسے دیکھا۔
“تم میری ناراضگی کی وجہ بخوبی جانتے ہو سالار؛؛ وہ لفظوں پر زور دیتا خود سامنے رکھی کرسی پر آ بیٹھا۔
“وجہ تو جانتا ہوں مگر تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ میں نے جو کچھ بھی کیا تمہاری ہی خوشی کیلئے کیا ہے؛؛ میر سالار نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا تو حسن یاسیت سے اسے دیکھنے لگا۔
“میں ایک طرفہ خوشی میں کبھی خوش نہیں رہا میر۔ میرے لئے وہ خوشی، خوشی ہی نہیں ہے جو مقابل کی اذیت کا سامان بنے۔ تم نے بیشک میرا اچھا سوچا ہے اس میں ہرگز کوئی شک نہیں، مگر زوفا نے بہت پہلے ہی مجھ پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کے دل میں اور ان کی زندگی میں میرے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب اس کے بعد بھی اگر میرے رشتے کیلئے چھوٹی حویلی میں بات ہوئی ہے تو یہ سراسر میری توہین ہے۔۔۔!!! حسن پیشانی مسلتے ہوئے کچھ جھلا کر بولا
“بے فکر رہو حسن، تم فضول کی سوچوں میں بلا وجہ ہی خود کو رنج پہنچا رہے ہو۔ میں تو آج تمہیں ایک خوشخبری دینا چاہتا ہوں۔ یہ ایسی خبر ہے جسے سن کر تمہیں یقین تو نہیں آئے گا مگر یہ سچ ہے۔۔؛؛ میر نے معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا تو وہ جو اضطراری کیفیت میں پیشانی مسل رہا تھا چونک کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“کیسی خوشخبری؟ میں کچھ سمجھا نہیں؛؛ حسن نے الجھن آمیز لہجے میں سوال کیا۔
“سمجھاتا ہوں پیارے؛ تو آپ جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ محترمہ زوفا اس رشتے کیلئے بقائمی ہوش و حواس میں حامی بھر چکی ہیں۔ امید ہے چند روز میں وہ آپ کی شریکِ حیات کے روپ میں آپ کے روبرو ہونگی؛؛ میر نے طمانیت سے حسن کے سر پر بم پھوڑا۔ وہ حیرت و بے یقینی کی شدت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا یقین نہیں آیا نا؟ سالار نے ابرو اُچکا کر اس کا حیرت سے بھرپور انداز نوٹ کیا تو وہ چونک کر یکلخت جیسے ہوش و خرد کی دنیا میں لوٹا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو سالار؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ہاں؟ کل تک تو وہ اس رشتے کی زور و شور سے نفی کر رہی تھیں پھر آج آخر کون سا ایسا معجزہ درپیش آ گیا کہ انہوں نے فوراً سے حامی بھی بھر لی؟ حسن جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور تقریباً چبا چبا کر بولا تو میر سالار نے مسکراہٹ دباتے ہوئے دونوں شانے اچکا دئیے۔
“اب اس بات کا تو مجھے کوئی علم نہیں، مگر چچا سائیں نے مجھے اس کا یقین ضرور دلایا ہے کہ زوفا اپنی مرضی سے اس رشتے کیلئے راضی ہوئی ہے؛؛ اس نے زکا صاحب کے الفاظ دہرائے تو حسن کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ بکھر گئی۔
“خوب اچھی طرح سے جانتا ہوں میں کہ وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے والدین کی خوشی کیلئے قربانی کا بکرا بننا چاہتی ہیں۔ مجھے ان سے اس بیوقوفی کی امید ہرگز نہیں تھی۔ بھلا اس رشتے کیلئے حامی بھرنے کی ان کو ضرورت ہی کیا تھی۔۔؛؛ کلس کر کہتے ہوئے وہ اِدھر سے اُدھر چکر کاٹنے لگا۔
“تم ایک بات تو بتاؤ مجھے۔ اب وہ راضی ہے تو تمہیں کیا مسئلہ ہے یار؟ اس کے راضی ہونے کا ہی مسئلہ درپیش تھا نا اب تو وہ بھی حل ہو گیا پھر کس بات کی الجھن ہے تمہیں؟ سالار نے زچ ہوتے ہوئے کچھ اونچی آواز میں پوچھا۔ حسن خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا؟ اب یہ سائلنٹ لک کیوں دے رہے ہو مجھے؟ میری بات کا جواب دو حسن؛؛ میر اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
“کسی بات کی الجھن نہیں؛؛ حسن نے جیسے خود سے کہا۔ آواز قدرے آہستہ تھی، پھر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔ میر سر کو ہولے سے دائیں بائیں جنبش دیتا فون کی بجتی بپ پر اس کی جانب متوجہ ہو گیا۔

                 💜💜💜💜💜

حفضہ بیگم راکھی کے ہمراہ چھوٹی حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئیں تو لان میں موجود ملازمہ اتنے عرصے بعد انہیں وہاں موجود دیکھکر فوراً اندر اطلاع دینے کو بھاگی۔ وہ اپنے اندر ہمت جمع کرتی راہداری سے ہوتے ہوئے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئیں۔ ابھی انہوں نے داخلی دروازے پر قدم ہی رکھا تھا کہ اپنے مقابل آسیہ بیگم کو کھڑا دیکھکر وہ وہیں ٹھہر گئیں۔ نگاہیں چار ہونے پر حفضہ بیگم نے نظریں چرا لیں ساتھ ہی آسیہ بیگم کے ہمراہ کھڑی شائستہ بیگم کو دیکھا جو خود بھی آسیہ بیگم کی ہی طرح انہیں تلخ نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔
“پوچھ سکتی ہوں کہ تم کیوں اور کس منہ سے آج چھوٹی حویلی کا رخ کر بیٹھی ہو حفضہ؟ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد اب بھی دل نہیں بھرا کیا تم سب کا جو اب رہی سہی کثر بھی پوری کرنے چلی آئی ہو؟ آسیہ بیگم بیک وقت دلگیری و غم و غصّے سے تیز لہجے میں بولیں تو حفضہ بیگم تڑپ کر انہیں دیکھنے لگیں۔ اسی دوران وہاں سویرا و دیگر لڑکیاں بھی چلی آئیں۔ مرد حضرات حویلی میں اس وقت موجود نہ تھے۔
“بھابھی بیگم، میں تو یہاں بس اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے آئی ہوں۔ آپ کا اور میرا دکھ سانجھا ہے۔ جوان بیٹا میں نے بھی کھویا ہے اور آپ نے بھی۔ میں جانتی ہوں دل پہ کیا قیامت گزرتی ہے، مگر اپنے غم میں میں یہ بھول بیٹھی تھی کہ اوپر والی ذات جو کہ سب سے برتر اور اعلیٰ ہے اس کے قوانین کے آگے ہم انسانوں کے بنائے گئے فرمان کسی کام نہیں آتے۔ میں نے صارم کے جرم کی سزا زوفا کو دے کر اپنے لئے بے سکونی کا سامان خود کیا ہے۔ مجھے نہ دن میں سکون ہے اور نہ رات میں نیند آتی ہے۔ خدا کیلئے زوفا کو بلا دیں میں اس سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔؛؛ حفضہ بیگم کہتے ہوئے زار و قطار رونے لگیں۔ آسیہ بیگم کی آنکھوں میں نمی کیساتھ ساتھ ڈھیروں دکھ اتر آئے۔
“تم سب نے میری بیٹی پر رحم کیا تھا جو میں اب تمہارے حال پر رحم کروں بتاؤ؟ اس کی بی جان اس کی ایک جھلک کو تڑپتی رہیں حتیٰ کہ زندگی کی بازی تک ہار گئیں مگر تم سب کو اس کے حال پر رحم نہ آیا تو اب کس امید کے تحت تم میرے سامنے کھڑی ہو؟ انہوں نے غصے سے پھٹی ہوئی آواز میں سوال کیا تو حفضہ بیگم کا چہرہ ندامت کے احساس سے متغیر ہو گیا۔
“میں مانتی ہوں کہ ہم نے اس پر ناحق ظلم کے پہاڑ توڑے مگر بھابھی بیگم خدارا میری صرف ایک بار زوفا سے ملاقات کرا دیں۔۔؛؛ حفضہ بیگم دونوں ہاتھوں کو جوڑے ایک بار پھر زور و شور سے رونے لگیں۔
“اگر میر نے زوفا کو اس زندان سے نہ نکالا ہوتا تو اب تک میں اپنی بیٹی کا شاید مرا ہوا وجود بھی دیکھ چکی ہوتی جو کہ تم سب کی ہی بدولت ہوتا۔۔؛؛ نکل جاؤ یہاں سے۔ اب کسی معافی تلافی کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔۔؛ آسیہ بیگم نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تو حفضہ بیگم دو قدم مزید آگے بڑھ آئیں۔
“بھابھی بیگم، میری طرح مورے بھی بہت تکلیف میں ہیں۔ وہ سیڑھیوں سے گر پڑی ہیں جس سے انہیں کافی چوٹیں آئیں ہیں حتیٰ کہ ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر آ گیا ہے۔ اب شاید وہ اپنی بقیہ زندگی میں کبھی بستر سے نہ اٹھ سکیں۔ وہ بھی زوفا سے معافی کی خواہشمند ہیں۔ خدا کیلئے زوفا کو بلا دیں۔۔؛؛ حفضہ بیگم بتاتے ہوئے دوبارہ ملتجی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگیں، جبکہ آسیہ بیگم کے سپاٹ چہرے پر اس پل کوئی تاثر موجود نہ تھا سوائے تلخی کے،،،
“ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ انہی کی دین ہے؛ اس میں میں اور میری بیٹی کچھ نہیں کر سکتے۔۔ تم جاؤ یہاں سے؛؛ آسیہ بیگم نے سرد لہجے میں کہا۔
“میں یہاں موجود ہوں؛؛ یکایک زوفا کی آواز پر سب چونک کر پیچھے کی جانب مڑے جہاں وہ دروازے کے پیچھے کھڑی خاموش نگاہوں سے کسی پتھر کی مورت کی مانند کھڑی تھی۔ اسے سامنے دیکھکر حفضہ بیگم دیوانہ وار اس کی جانب بڑھیں۔
“زوفا؛ انہوں نے اسے شانوں سے تھامنا چاہا مگر وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
“جو کہنا ہے فاصلے سے کہیں۔ آپ جیسوں کی قربت مجھے راس نہیں ہے۔ یہ میں دیکھ بھی چکی ہوں اور سمجھ بھی چکی ہوں؛؛؛ طنزیہ نظروں سے حفضہ بیگم کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے اس نے تیکھا سا وار کیا تو وہ گویا بلبلا کر اسے دیکھنے لگیں۔
“مجھے معاف کر دو زوفا، بلکہ ہم سب کو معاف کر دو؛؛ مجھے پتہ ہے ہمیں تمہاری ہی آہ لگی ہے جو کسی بھی پل سکون نہیں ہم سب کو۔۔،، مورے اور بابا سائیں کو بھی ان کے ظلم و ستم کے لئے معافی دے دو۔۔!! حفضہ بیگم گڑگڑاتے ہوئے بولیں۔
“میں نے کبھی کسی کو بھی بددعا نہیں دی کیونکہ مجھے اس بات پر پختہ یقین تھا، ہے، اور تاعمر رہے گا کہ وہ جو کُل کائنات کا مالک و خالق ہے جب وہ انصاف کرنے پر آتا ہے تو سب کچھ دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ میرا صبر رنگ لایا اور میرے ساتھ اس پاک ذات نے بھرپور انصاف کیا ہے۔ رہی بات آپ کی منت سماجت کی تو جب اپنا وقت یاد کرتی ہوں تو دل چاہتا ہے وہ شب و روز جو کہ میں نے اس حویلی کے زندان میں گزارے تھے انہیں اپنی زندگی کے صفحے سے کھرچ کر پھینک دوں۔۔؛؛ ضبط کی شدت سے کانپتی آواز پر قابو پانے کی بمشکل کوشش کرتے ہوئے وہ حفضہ بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
“زوفا خدا کیلئے چپ ہو جاؤ۔ تمہارے الفاظ میرے جسم پر کسی چابک کی مانند لگ رہے ہیں۔ خدا کیلئے رحم کرو زوفا،، حفضہ بیگم نے اس کے ہاتھوں کو تھامنا چاہا مگر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور سرد نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔
“چلی جائیں یہاں سے؛ آئیندہ میرے سامنے مت آئیے گا۔ جو بھی اس ظلم و ستم کا حصہ رہا ہے میں اس کا سامنا نہیں چاہتی۔۔ بہتر ہوگا آپ یہاں سے ابھی اور اسی وقت نکل جائیں۔۔!! اس نے اپنے گالوں کو دونوں ہاتھوں سے رگڑا اور پلٹ کر اندر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
“زوفا تم نے مجھے معاف کر دیا نا؟ مجھے یوں کشمکش میں چھوڑ کر نہ جاؤ۔ مجھے معافی کا عندیہ دے دو ورنہ میری یہ زندگی میرے لئے موت سے بھی بدتر بن جائے گی۔۔؛؛ پیچھے حفضہ بیگم دہاڑیں مار مار کر رونے لگیں۔ زوفا کے قدم وہیں ٹھہر گئے تاہم وہ پلٹی نہ تھی۔
“اپنے گناہوں کی معافی اوپر والے سے طلب کریں۔ میں تو بہت ادنیٰ سی چیز ہوں اور خود کو سمجھتی بھی ہوں۔ اس پاک ذات کی بارگاہ میں جھکیں اور اسی سے معافی طلب کریں۔ باقی میں اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔؛ آہستہ مگر کاٹ دار لہجے میں کہہ کر وہ تیز قدموں سے اندر چلی گئی۔ حفضہ بیگم کے آنسو اس کی بات پر کچھ پل کو ٹھٹھر سے گئے پھر وہ دوبارہ اشک بہانے لگیں۔ فرداً فرداً وہاں سے سارے ہی افراد اندر کی جانب بڑھ گئے جبکہ حفضہ بیگم ہارے ہوئے جواری کی طرح نامراد واپسی کے راستے پر ہو لیں۔ ایک کونے میں خاموش تماشائی بنی کھڑی راکھی بھی مایوسی سے سر ہلاتی ان کے ساتھ بڑی حویلی کو روانہ ہو گئی۔

“ازل سے ہے مکافاتِ عمل کا سلسلہ قائم

رلایا جس نے اوروں کو وہ خود بھی چشمِ تر ہوگا؛