No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
آج سکندر اور حرم کی ڈھولکی کا دن تھا۔ حویلی کی گہما گہمی عروج پر تھی۔ خواتین اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ مِرحا کی بھی تمام شاپنگ پوری ہو چکی تھی۔ میر سالار نے ہر ایک چیز میں سب سے پہلے اس کی پسند کو مدِنظر رکھا تھا۔ سائرہ بیگم و ان کی بیٹیوں کی نظریں آتے جاتے اسے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھیں۔ مِرحا کو معلوم تھا کہ یہاں کا ہر فرد اس کی اس شادی میں شرکت کے خلاف تھا مگر وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ دوپہر سے خاندان والوں کی آمد شروع ہو چکی تھی جس سے حویلی کی ہنگامہ آرائی مزید زور پکڑ چکی تھی۔ ڈھولکی کا پروگرام شام سے شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہنے والا تھا۔
وہ خریداری کی ہوئی تمام چیزیں بیڈ پر پھیلائے ان کا دوبارہ سے معائنہ کرنے میں مصروف تھی۔ میر سالار باہر مردان خانے میں بقیہ لڑکوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ڈھولکی کے دن کے لئے جو سوٹ لیا تھا اس کی میچنگ جیولری کیساتھ وہ سوٹ الگ رکھ دیا اور باقی کی چیزیں دیکھنے لگی کہ یکایک کمرے کا دروازہ زوردار آواز کیساتھ کھلا۔ مرحا چونک کر آنے والی ہستی کو دیکھنے لگی۔ دروازے پر روشانے اپنے مغرور و مخصوص انداز میں کھڑی تھی۔ مرحا ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ جبکہ وہ بیڈ پر پھیلی چیزوں کو ابرو اچکا کر دیکھتی کمرے کے اندر داخل ہو گئی۔
“اوہو! بڑی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ تمہارا وجود اس حویلی میں کسی کو گوارا نہیں ہے۔ مگر ماننا پڑے گا بھئی تم تو ڈھیٹوں کی اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتی ہو! روشانے دونوں کمر پر ہاتھ ٹکائے لڑاکا عورتوں کی طرح سر کر متواتر ہلاتے ہوئے بولی تو مِرحا بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“روشی بی بی! آپ یہاں کیوں آئی ہیں؟ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“او ہیلو! یہ میری حویلی ہے۔ میں جب چاہے جہاں چاہے آ جا سکتی ہوں سمجھی! مجھ سے یہ سوال کرنے سے پہلے آئیندہ ہزار مرتبہ سوچنا! سنا ہے تمہیں میر سائیں شاپنگ پر لے کر گئے تھے! روشی خونخوار لہجے میں بولی تو مرحا گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔
“جی ہاں روشی بی بی! ہم گئے تھے شاپنگ پر، مگر یہ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟ مرحا نے ہنوز سنجیدگی سے استفسار کیا۔
“جس طرح کی حرکتیں تم کرتی پھر رہی ہو اس کے بعد تو کوئی بھی سنے گا تم پر ہنسے گا۔ تمہیں پتہ ہے نا کہ حرم اور عفاف مرتے دم تک تمہیں اپنی بھرجائی کے روپ میں قبول نہیں کریں گی۔ شاہ زر ادا سے بھی کوئی امید مت رکھنا سمجھی۔ رہی حویلی والوں کی بات تو یہاں پہلے ہی تم پر تمہاری حقیقت واضح کر دی گئی تھی مگر تم تو بلا کی بے شرم ہو۔ تم کس خاتے میں اس قدر تیاری میں مصروف ہو ہاں! روشانے کا انداز نفرت و حقارت سے چور تھا۔ مرحا کے دل پر جیسے چوٹ سی لگی۔
“روشی بی بی! میں تمام تیاریاں صرف اپنے شوہر کیلئے کر رہی ہوں۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے وہی صرف میرے اپنے ہیں۔ مجھے انہوں نے اپنی مرضی سے شاپنگ کرائی ہے اور ان کے ہر فیصلے میں میری بھی مرضی شامل ہے۔ رہی حویلی والوں کی بات تو ایک دن یہ سب بھی مجھے قبول کر ہی لیں گے۔۔۔! مرحا نے بھیگتی آواز پر بمشکل قابو پانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب میر سالار مردان خانے سے اٹھ کر سیدھا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ برآمدہ عبور کرتے ہوئے وہ جیسے ہی کمرے کے دروازے پر پہنچا اندر سے آتی آواز پر وہ دانستہ دروازے کی اوٹ میں ہو گیا۔
“بہت یقین ہے تمہیں کہ سب تمہیں قبول کر لیں گے۔ یہ مت بھولو کہ یہ بڑی حویلی ہے۔ یہاں ہر چیز کا قاعدہ و قانون ہے، لہٰذا کسی بھول میں مت رہنا! روشانے اب اس کا بازو پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئی بولی تو مرحا سی کر کے رہ گئی۔ باہر کھڑے میر سالار کی پیشانی دم بہ دم شکن آلود ہوتی چلی جا رہی تھی۔
“روشی بی بی، آپ پلیز یہاں سے چلی جائیں! اگر آپ کی یہاں موجودگی کا مقصد مجھے زک پہنچانا ہے تو خدارا آپ یہاں سے چلی جائیں! مرحا اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے ہانپ سی گئی۔ مگر روشانے کی فولادی گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے میں ناکام رہی۔
“نہیں جاؤں گی بتاؤ کیا کر لو گی! تم پہلے یہ بتاؤ تم اتنی خوش کیسی رہ سکتی ہو ہاں؟ جب تمہیں میر سائیں کیساتھ خوش دیکھتی ہوں نا تو دل چاہتا ہے تمہیں جان سے مار ڈالوں۔۔۔! روشانے ہسٹریک ہو رہی تھی۔ مرحا کو اس سے خوف سا محسوس ہوا۔ میر سالار نے بے تحاشہ امڈتے طیش کو بمشکل ضبط کرتے اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لیں۔
“میرا بازو چھوڑیں روشی بی بی، ورنہ میں بذاتِ خود آپ کی سچائی میر سائیں کو بتا دوں گی کہ کیسے آپ نے وہ کھیل رچا کر انہیں اور مجھے زلیل کیا تھا۔ مرحا کی آواز اس بار بلند تھی۔
“احسان فراموش لڑکی! ایک تو میری ہی وجہ سے تم آج عیاشی کر رہی ہو اور اب مجھے ہی دھمکیاں دے رہی ہو۔ تمہیں تو میں! روشانے تلملا اٹھی۔ اس سے پہلے کہ اس کا ہاتھ مرحا پر اٹھ جاتا، میر سالار پاؤں کی ٹھوکر سے کمرے کے دروازے پر زوردار کِک مارتا اندر داخل ہوا۔ وہ دونوں ہی حواس باختگی سے اس جانب دیکھنے لگیں۔ غصے سے خون چھلکاتی آنکھوں و چہرے کیساتھ مٹھیاں بھینچے کھڑے میر سالار پر نظر پڑتے ہی روشانے ہکا بکا اپنی جگہ بت بنی کھڑی رہ گئی، جبکہ مرحا اپنا شل بازو سہلاتے ہوئے خوف زدہ سی بیڈ پر ٹک گئی۔
“میر سائیں، مم میں نے کچھ نہیں کیا۔ اس مرحا کو دیکھیں مجھے پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ روشانے ہکلا کر بے جا وضاحت دینے لگی۔
“خاموش، بالکل خاموش! ایک لفظ مزید کہا تو تمہارا وجود صفحہِ ہستی سے مٹا ڈالوں گا۔۔ میر سالار کی دہاڑتی آواز پر روشانے کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ سانسیں تو جیسے سینے میں ہی اٹک گئیں۔ مرحا نے خوف کی شدت سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
“بس میں جو پوچھوں مجھے اس کا جواب فوری طور پر چاہئے۔ اگر تم نے زرہ برابر بھی غلط بیانی سے کام لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔!! وہ پھنکارتے ہوئے بولا تو روشانے کی گھگھی بندھ گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ خوف کے مارے پیلا پڑ گیا تھا۔ اوپری منزلہ پر موجود فریدہ و سائرہ بیگم سمیت کچھ لڑکیوں تک بھی میر سالار کی غصے سے بھری بلند آواز جا پہنچی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ سب ہی وہاں موجود تھیں۔ فریدہ بیگم نے حیرت سے بیٹی کا فق چہرہ اور پھر میر کا طیش سے بھرا انداز دیکھا۔ باقی سب بھی حیرانگی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ مرحا بے قصور ہوتے ہوئے بھی جیسے اپنی جگہ چور سی بن گئی۔
“کی ہویا روشی، تو ایسے کیوں کھڑی ہے؟ فریدہ بیگم تڑپ کر بیٹی کی طرف بڑھیں۔
“کیا اس روز جو بھی کچھ ہوا اس سب کی زِمہ دار تم ہو؟ میر سالار نے دانت پر دانت جمائے۔
“مم میر سائیں مم م، میری بات س سنیں! روشانے بوکھلا کر بے ربط سی بولی۔
“مجھے تمہارا جواب چاہئے۔ ڈیم اٹ! ابھی اور اسی وقت جواب دو مجھے! وہ بھوکے شیر کی مانند غرایا۔
“ہوا کیا ہے میر؟ تم روشانے سے ایسے کیوں بات کر رہے ہو؟ سائرہ بیگم بھی بنا کچھ سوچے سمجھے میدان میں کود پڑیں۔
“مجھے کسی کی مداخلت نہیں چاہئے۔ میں خود ہی اس سے نپٹ لوں گا۔ اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں میں، بہتر ہوگا خود ہی بک دو سب کچھ۔۔!! اس کی سرد اور اونچی آواز گویا کمرے کی دیواروں میں سوراخ کر رہی تھی۔
“ہاں وہ سب میں نے ہی کیا تھا۔ کیونکہ آپ نے مجھ سے شادی سے انکار کر دیا تھا تو بدلہ لینے کیلئے میں نے وہ سب کیا تھا! روشانے نے کانپتے ہوئے بالآخر اعترافِ جرم کر ہی لیا۔ سب اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔ میر سالار غصے سے بپھرتے ہوئے جارحانہ تیوروں سمیت آگے بڑھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ روشانے کے منہ پر دے مارا وہ بل کھا کر پیچھے موجود بیڈ پر لڑھک سی گئی۔ مرحا ڈر کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ روشانے اب چہکوں پہکوں آنسو بہانے لگ گئی تھی۔
“ہاؤ ڈئیر یو؟ تم اس حد تک گر جاؤ گی یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ تمہاری وجہ سے میری اور مِرحا کی ذات پورے خاندان کے سامنے سوالیہ نشان بن کر رہ گئی۔ اب مجھ سے کسی قسم کی کوئی امید مت رکھنا۔ تمہیں پورے خاندان کے سامنے ابھی اور اسی وقت اعترافِ جرم کرنا ہوگا۔ اور ہر کسی کے سامنے تمہیں مِرحا سے معافی مانگنی ہوگی۔ بہت استمعال کر لیا تم نے اس کا! انف اِز انف!! اس نے جھٹکے سے روشانے کا بازو پکڑ کر اسے بیڈ سے اٹھایا۔ اس وقت وہ اس قدر طیش میں تھا کہ وہاں موجود افراد کا دل خوف کی زیادتی سے لرز رہا تھا۔
میر، میری بات سنو، باہر پورا خاندان موجود ہے۔ میری بچی ان سب کے بیچ زلیل ہو جائے گی۔۔!! فریدہ بیگم گھگھیائیں۔
“مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب میری ذات کو پراگندہ کیا جا رہا تھا تب بھی حویلی کا ہر فرد موقعے پر موجود تھا۔ لوگ میرے بارے میں کیا بات کرتے ہیں مجھے اس کی ہرگز پرواہ نہیں۔ مگر آپ کی دُخترِ نیک اختر کا پارسا چہرہ سب کے سامنے آنا ہی چاہئے۔۔!! کیا خیال ہے؟ سالار نے گویا انگارے چباتے ہوئے دھواں دھار روتی ہوئی روشانے کی جانب اشارہ کیا۔
“سائیں میری بات سنیں، مرحا نے ہمت کر کے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر میر سالار کی تنبیہی نظروں پر وہ بھی چپ کی چپ رہ گئی۔
“ہائے روشی، مینو نہیں پتہ تھا کہ تو ہے ان سب کارناموں کے پیچھے، بھلا بتا اچھا ہی ہوا پتہ لگ گیا۔ فریدہ، روشی نے میرے بیٹے کیساتھ ٹھیک نہیں کیا۔۔ اللّٰہ ایسی اولاد کسی کو نہ دے۔ توبہ توبہ۔۔!! سائرہ بیگم نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ باقی لڑکیاں بھی تائیدی انداز میں سر ہلانے لگیں
“امّی سائیں، آپ مِرحا کی بات کیوں نہیں کر رہی ہیں ہاں؟ برا تو اس کے ساتھ بھی ہوا ہے بلکہ مجھ سے کہیں زیادہ برا تو مِرحا کیساتھ ہوا ہے مگر آپ کو اس چیز کا احساس ہو تب نا!! کیا آپ کو سچ اور حق کی بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے؟ میر سالار سلگ کر بولا تو سائرہ بیگم چند ثانئے کو اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔ حرم اور عفاف بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر رہ گئیں۔
“تم چلو میرے ساتھ، ابھی اور اسی وقت تم پورے خاندان کے سامنے اقبالِ جرم کرو گی۔ انہیں لفظ بہ لفظ بتاؤ گی کہ اس سارے کھیل میں کس طرح تم ملوث رہی ہو! میر سالار درشتگی سے روشانے کا بازو پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے آیا۔ روشانے اب با آوازِ بلند رونے لگی تھی۔ پیچھے وہ سب بھی کلیجہ تھامے ان کے پیچھے ہو لیں۔ مرحا دھک دھک کرتے دل کیساتھ لرزیدہ قدموں سے نیچے کی طرف بڑھی!
🧡🧡🧡🧡🧡
سفر میں دھوپ تو ہو گی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو!!
اِدھر اُدھر کئی منزل ہیں چل سکو تو چلو
بنے بنائے ہیں سانچے جو ڈھل سکو تو چلو!!
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو!!
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو!!
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انہی کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو!!
ہر ایک سفر کو ہے محفوظ راستوں کی تلاش
حفاظتوں کی روایت بدل سکو تو چلو!!
وہ دانستہ اس جگہ سے بچ نکلنے کی کوشش کرتی تھی جہاں ایس۔پی حسن کی موجود ہوتا تھا۔ وہ کل صبح سے زوفا کا یہ کترایا ہوا رویہ نوٹ کر رہا تھا۔ ویسے تو وہ بی جان کیساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوتی لیکن اگر وہ وہاں آ جاتا تو زوفا کسی نہ کسی بہانے وہاں سے نکل جاتی۔ یہاں تک کہ آج وہ شام کی چائے پر بھی موجود نہ تھی۔ جو وہ نہیں چاہتا تھا بدقسمتی سے وہی سب کچھ ہو رہا تھا۔ اسے معلوم تھا وہ لاکھ کوشش بھی کر لے مگر زوفا کے ذہن و دل سے اس گفتگو کے اثرات نہیں مٹا سکتا تھا۔ شام میں وہ کسی کام سے کچھ دیر کیلئے چلا گیا۔
زوفا اور بی جان ڈنر سے فارغ ہو چکی تھیں۔ زوفا ان کے ساتھ وہیں لاؤنج میں بیٹھ گئی۔
“زوفا میری بچی، تیرے آنے سے میری تنہائی تو یکسر دور ہو گئی ہے۔ اب تو میں تیرے واپس جانے کا کبھی سوچ بھی لوں تو سانس رک جاتی ہے میری! بی جان شفقت سے بولیں ساتھ ہی اس کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا۔
“مگر بی جان، مجھے واپس آج نہیں تو کل جانا تو ہے نا!! زوفا نے ان کا ہاتھ تھام کر گویا انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
“ارے بچی، تو ابھی نام نا لے جانے کا،، میرا تو دم گھٹتا ہے اس تنہائی سے۔ میں نے تو مرتے مرتے زندگی پائی ہے۔ تجھے یہاں آئے وقت ہی کتنا ہوا ہے جو تو واپس جانے کی بات کر رہی ہے؟ بی جان روہانسی ہو چلی تھیں۔ زوفا بے بسی سے انہیں دیکھنے لگیں۔
“کون واپس جانے کی بات کر رہا ہے بی جان؟ اسی اثناء میں لاؤنج میں داخل ہوتے حسن نے ان کی بات اچک لی۔ وہ دونوں اس کی جانب متوجہ ہوئیں جو اب سامنے رکھے صوفے پر آ بیٹھا تھا۔ اس کی نگاہوں کا مرکز لاشعوری طور پر زوفا ہی تھی۔ زوفا جزیز سی ہونے لگی۔
“ارے بیٹا، زوفا کی واپسی کا سوچ کر ہی مجھے کچھ ہونے لگتا ہے۔ میں تو قطعی ابھی اسے نہیں جانے دوں گی! بی جان نے بیچارگی سے کہا۔
“یہ تو میر صاحب طے کریں گے کہ انہیں کب جانا ہے اور کب نہیں، لیکن بی جان کو خوش دیکھکر میری بھی یہی خواہش ہے کہ ابھی آپ نہ جائیں زوفا! ایس۔پی حسن نے اس بار ڈائرکٹ اسے ہی مخاطب کیا۔ وہ جو سر جھکائے دوپٹے کا بارڈر موڑنے میں مصروف تھی خاموش نظریں اٹھا کر حسن کو دیکھا تو نجانے کیوں وہ نظریں چرا گیا۔
“بی جان آپ تھک گئی ہونگی اب ریسٹ کریں! ایس۔پی حسن نے اٹھ کر بی جان کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔
“ہاں بیٹا، تھک تو گئی ہوں۔ نماز تو ادا کر لی ہے۔ تو مجھے لٹا دے میں سو جاؤں گی!! بی جان نے زوفا کا گال سہلا کر حسن سے کہا۔ زوفا بھی ان کے کمرے کی طرف بڑھی۔ حسن نے انہیں کمرے میں لا کر بستر پر لٹا دیا ساتھ ہی لحاف ان پر ڈال کر لائٹ آف کر دی اور پھر دروازے میں خاموش کھڑی زوفا کو دیکھا اور خود باہر نکل آیا۔ زوفا بھی بی جان کے کمرے کا دروازہ بھیڑ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ پیچھے سے اپنے نام کی پکار پر وہی ٹھہر گئی۔
“فرمائیے؛ اس نے بنا پلٹے ہی کہا۔
“میں لاؤنج میں موجود ہوں۔ آپ وہیں آ جائیں آپ سے بات کرنی ہے مجھے! ایس۔پی حسن کہہ کر لاؤنج کی طرف بڑھ گیا۔ ناچار وہ بھی مرے مرے قدموں سے آگے بڑھی۔ سرد تاثرات کیساتھ وہ لاؤنج کے صوفے پر ٹک گئی۔ سامنے بیٹھا حسن اس کے چہرے کے تاثرات کو گہری نظروں سے ملاحظہ کر رہا تھا۔
“یہ سب کیا ہے زوفا؟ وہ ہاری ہوئی آواز میں بولا۔
“میں کچھ سمجھی نہیں؛ زوفا نے کندھے اچکائے
“سمجھ تو آپ گئی ہیں۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں آپ کے اس رویے کے متعلق بات کر رہا ہوں۔ اب تو حقیقتاً مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے کہ میں نے اپنا آپ، آپ پر ظاہر ہی کیوں کیا! خواہ مخواہ آپ کی تکالیف میں مزید اضافے کا سبب بنا!! اس کی آواز میں گہرا افسوس بسا ہوا تھا۔
“دیکھئے ایس پی صاحب، میرا ردعمل بالکل ٹھیک ہے۔ میری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ بھی یہی کرتی۔ میں جانتی ہوں میرے یہاں آنے سے بی جان کی تنہائی قدرے دور ہو گئی ہے، مگر اب سچویشن الگ ہے۔ میں جلد ازجلد یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔ پہلے تو میں نے یہی سوچ رکھا تھا کہ میں جب تک حالات مکمل طور پر بہتر نہیں ہو جاتے یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ پر نا چاہتے ہوئے بھی میرا اب یہاں رہنا میرے لئے مشکل ثابت ہو رہا ہے!! زوفا نے سپاٹ لہجے میں کہا تو حسن کے ہونٹوں پر مضمحل سی مسکراہٹ آ گئی۔
“آپ کی بے اعتباری آپ کے ہر انداز سے بیان ہو رہی ہے زوفا، آپ کے لئے تو اپنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ میں نے آپ کو یقین دلا دیا تھا کہ آئیندہ اس موضوع پر گفتگو نہیں ہو گی۔ مگر کوئی بات نہیں، اگر آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے تو میں خود آپ کی واپسی کی خواہش کے بارے میں سالار سے بات کروں گا۔۔!! وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ انداز میں تھکن در آئی تھی۔
“بات وہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ آئی مین، بات اعتبار کی نہیں ہے؛ زوفا بھی بے بسی سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ساری بات اعتبار کی ہی ہے زوفا، آپ نہ بھی کہنا چاہیں پھر بھی آپ کی بے اعتباری صاف طور پر آپ کی آنکھوں و چہرے سے ظاہر ہو رہی ہے۔ مت بھولیں میں جس پیشے سے تعلق رکھتا ہوں اس میں چہرے پڑھ کر اندر کا حال پتہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے!! ایس۔پی حسن نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔
“میرے خیال میں اب مجھے سو جانا چاہئے؛ زوفا نے نظریں چراتے ہوئے دانستہ بات بدلی
“بالکل، چلتا ہوں۔ شب بخیر!! حسن اسے گہری نظروں سے دیکھتا پلٹ گیا۔ اس کے بعد وہ بھی وہاں ایک پل کو نہیں رکی تھی۔ زندگی نہ جانے اب اپنے کون سے رنگ دکھانے کو تھی۔ وہ زندگی کے اس دوراہے پر آ کھڑی ہوئی تھی کہ نہ ذہن کام کر رہا تھا اور نہ دل ہی کسی چیز کے لئے آمادہ تھا۔ ہر شئے سے بیزاری ہو چکی تھی۔ ایسے میں اب یہ جو نیا باب کھلا تھا اس نے اس کا ذہن مکمل طور پر ماؤف کر کے رکھ دیا تھا۔ اس کے پاس ان سب سے بھاگنے کے سوا کوئی راستہ ہی نہ بچا تھا۔
زندگی تجھ پہ بہت غور کیا ہے میں نے
تو فقط رنگ ہے رنگوں کے سوا کچھ بھی نہیں!!
❤️❤️❤️❤️❤️
حویلی کے وسیع و عریض لان میں ڈھولکی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس وقت سب برآمدے میں ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف کافی خوشگوار ماحول میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میر سالار روشانے کو کھینچتے ہوئے وہیں لے آیا اور ساتھ ہی اسے زوردار جھٹکا دیا وہ اچھل کر مورے کے تخت کے پاس جا پہنچی، اس نے موقعے پر ہی تخت تھام لیا ورنہ شاید اس کی ہڈی پسلی اب تک ایک ہو چکی ہوتی! وہاں موجود تمام افراد اس اچانک افتاد پر ہق دق سے رہ گئے۔ میر سالار کا تنفس غصے کی شدت سے بے ترتیب سا تھا۔ فریدہ بیگم دل پر ہاتھ رکھے روشانے کو دیکھ رہی تھیں جو زور و شور سے رو رہی تھی۔
“اللّٰہ خیر کرے۔ اب کیا ہو گیا میر؟ مورے نے وہاں موجود لوگوں کے حیران و پریشان چہرے پر نظریں دوڑا کر دبی دبی آواز میں پوچھا۔ انداز تیکھا سا تھا۔
“یہ تو آپ کو آپ کی پوتی ہی بتائے گی۔ آفٹر آل آپ کو بھی حقیقت کا علم ہونا چاہئے۔ آپ نے بھی تو کم کیچڑ نہیں اچھالے ہیں مرحا کی ذات پر! وہ دہکتی آواز میں بولا۔ روشانے کا رونا مزید بڑھ گیا۔
“کیا مطلب ہے ہوں؟ کیا کیا ہے روشی نے؟ مورے نے روشانے کو دیکھا جو آج سیلاب لے آنے کے درپے تھی۔
“سب سے پہلے تو میں یہاں موجود تمام افراد کو اس بات کی یاد دہانی کراتا چلوں کہ آج سے ایک مہینہ پہلے کی بات ہے جب تمام خاندان والوں کے سامنے میری عزت کا تماشہ بنایا گیا، نہ صرف تماشہ بنایا گیا بلکہ اس بات کو اشتہار کے طور پر یہاں سے وہاں ٹرانسفر بھی کیا گیا۔ اس سارے معاملے میں مرحا کی جو تذلیل ہوئی اسے بھی قطعاً فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ تو اب آپ سب کو محترمہ روشانے صاحبہ اصل حقیقت سے روشناس کرائیں گی۔ یہ آنسو بہانے کا ناٹک بند کرو اور شرافت سے سب کو سچ بتاؤ!! وہ سخت لہجے میں روشی سے مخاطب ہوا تو وہ یونہی روتے روتے مردہ قدموں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور آنکھیں سختی سے میچ کر سچ سے پردہ اٹھاتی چلی گئی۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ حیرت میں مبتلا تھا۔
مورے کے منہ پر کفل لگ گیا تھا۔ میر سالار استہزائیہ مسکراہٹ کیساتھ آگے بڑھا اور دو سے تین بار تالیاں بجائیں۔ اس خاموشی بھرے ماحول میں اس کی تالیوں کی اواز گویا فضا میں گونج رہی تھی۔
“واہ بہت خوب، اب آپ خاموش کیوں ہیں مورے؟ کیا ہوا؟ اتنا تو میں بہتر جانتا ہوں کہ آپ مرحا کے حق میں ایک لفظ نہیں کہیں گی کیونکہ وہی آپ کی سو کالڈ روایت اڑے آ جاتی ہے۔ مگر ایک بات میری بھی سن لے یہاں پر موجود ہر شخص، مرحا نہ صرف میری بیوی ہے بلکہ میری پہلی اور آخری محبت بھی ہے۔ کسی کو اعتراض ہے تو بیشک رہے میرے جوتوں کو بھی پرواہ نہیں ہے۔ مجھے پرواہ تو اس بات کی بھی نہیں تھی کہ لوگ میرے بارے میں بات کیا کرتے ہیں مگر اب چونکہ سچ سب کے سامنے آ گیا ہے تو روشانے جب تک مرحا سے پورے خاندان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی نہ مانگ لے اس کو نہیں چھوڑنے والا میں،!! میر سالار نے طمانیت سے کہا تو سب آنکھیں پھاڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ مرحا کی آنکھیں اس قدر محبّت و عقیدت پر بھیگ سی گئیں۔ یہ شخص بیشک اس ربِّ کریم کی طرف سے اس کے لئے بیش قیمت تحفہ تھا جسے وہ کبھی نہیں کھونا چاہتی تھی۔
“لیکن یہ آپ سے محبت کرتی تھی اس بات کا اعتراف اس نے خود مجھ سے کیا تھا؛ روشانے آنکھیں رگڑ کر چٹکتے ہوئے بولی۔ اپنی اس قدر بے عزتی کا تو اس نے تصور بھی نہ کیا تھا۔
“اس محبت کا اظہار تو اس نے مجھ سے بھی کیا تھا اس میں کیا بڑی بات ہے۔ تمہیں میں نے جتنا کہا ہے تم بس وہ کرو یعنی معافی مانگو مرحا سے ابھی اور اسی وقت؛ میر سالار نے طنزیہ لب و لہجے میں کہا تو روشانے کی آنکھیں ایک بار پھر برسنے لگیں۔ وہ مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق مرحا کی جانب بڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دئیے۔ مرحا نے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور اس کے ہاتھ فوراً تھامنے چاہے مگر نظریں سیدھی میر سالار سے جا ٹکرائیں جس نے اشارے سے اسے منع کیا۔
“مجھے معاف کر دو مرحا، سارا قصور میرا تھا۔ تم وہ سب نہیں کرنا چاہتی تھی تو میں نے خود وہ سب کچھ کیا اور نام تمہارا لگا دیا۔۔!! روشانے ہنوز ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔ لہجے میں اس بار شرمندگی کے رنگ بھی نمایاں تھے۔ ہر کسی کی نظریں ان دونوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ مرحا نے اس بار اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام کر الگ کیا۔
“میں نے معاف کیا، اللّٰہ آپ کا حامی و ناصر ہو روشی بی بی؛ اس نے نرم لہجے میں کہا۔ میر سالار جو جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا لب بھینچے ہوا تھا اگے بڑھ کر مرحا کا ہاتھ تھام لیا۔
“اب چلو، آئی ہوپ یہاں سب کا دماغ ٹھکانے پر آ چکا ہوگا۔ ایک اور بات، میری بیوی سے حتیٰ الامکان وہ لوگ دور رہنے کی کوشش کریں جنہیں اس سے کسی بھی قسم کی کوئی پرابلم ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی کی بھی چیپ مینٹیلٹی اس کی اذیت کا سامان بنے! سو بی کئیر فُل! سر تاثرات کیساتھ اس نے مضبوط لہجے میں اپنی بات کہی اور مرحا کا ہاتھ پکڑے وہاں سے باہر نکل گیا۔ پیچھے سب اپنی اپنی جگہ بت بنے اسے دیکھتے رہ گئے۔
