Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

کوئی رسوا تو کوئی معتبر ہوتا ہی رہتا ہے یہاں یہ کھیل پیارے عمر بھر ہوتا ہی رہتا ہے

یہ دنیا ہے یہاں تم حادثوں سے دوستی کر لو
کہ ہر لمحہ یہاں زیر و زبر ہوتا ہی رہتا ہے

میر سالار کو اپنی سماعتوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا، وہاج شاہ اس قدر اپنے معیار سے گر سکتے تھے اس کے لئے اس بات کا یقین کرنا دوسرا مشکل ترین امر تھا۔ طیش کے عالم میں وہ مٹھیاں بھینچے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ تمام ہاتھ جوڑے اشخاص اس کے غصّے کی شدت سے سرخ چہرے کو دیکھکر مزید خوف میں مبتلا ہو گئے۔
“سائیں اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں جی، ہم نے تو بس وہی کیا ہے جو شاہ سائیں کا حکم تھا۔ ہماری جان بخش دیں سائیں۔۔۔!!! ایک آدمی نے گڑگڑا کر کہا تو باقی سب بھی التجا کرنے لگے۔ سب کو اپنی اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔
“بہتر، لیکن تم سب کسی بھول میں نہیں رہنا کہ ایسے ہی خلاصی ہو جائے گی، جو بیان تم لوگوں نے یہاں دیا ہے یہی بیان تم سب کو وہاج شاہ سمیت تمام حویلی والوں کے سامنے دینا ہوگا۔ دوسری صورت میں تم لوگ مجھ سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے!!! چبا چبا کر اس نے اپنی بات مکمل کی۔ اس کے حکم پر ان سب پر لرزہ طاری ہو گیا۔
“سائیں خدا کیلئے ایسا مت کریں، شاہ سائیں ہم لوگ کو اس کی بہت عبرتناک سزا دیں گے۔ خدا کیلئے رحم کریں۔۔۔ ایک خوف و ہراس سے کپکپاتی آواز ابھری تو میر سالار کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔
“تم لوگ مرد ہو تو مرد بننا بھی سیکھو۔ بزدلی مردوں کی زندگی معتبر نہیں بلکہ مذاق بنا دیتی ہے۔ میرے حکم سے انکار کی گنجائش ہی نہیں بچنے دیتا میں، امید ہے اگلا جملہ بنا کہے ہی سمجھ جاؤ گے سب!! اس نے ابرو اُچکا کر وارننگ والے انداز میں کہا تو ان سب کے منہ پر گویا کفل لگ گیا جبکہ وہ اب وہیں کھڑے کھڑے ہی کسی کا نمبر ملانے لگا۔ کچھ توقف کے بعد کال ریسیو ہو گئی۔
“میر سالار بات کر رہا ہوں؛ وکیل صاحب آپ سے نہایت ہی ضروری کام ہے۔ مجھے دو، تین روز کے اندر ڈائیورس کے پیپرز تیار چاہئیں۔ ارجنٹ ہے، امید ہے کوتاہی نہیں ہوگی،، ایڈریس میں آپ کو بتا دوں گا آپ مطلوبہ ایڈریس پر وہ پیپرز پہنچا دیجئے گا۔۔۔!!! سلام دعا کے بعد اس نے سنجیدگی سے اپنی بات کہی۔
دوسری جانب وکیل کے تسلی امیز الفاظ پر اس نے مطمئن ہو کر فون کاٹ دیا پھر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلا ساتھ ہی باہر کھڑے اپنے محافظوں کو دیکھا۔ وہ سب بھی اس کے حکم کے منتظر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“ان سب کو حویلی لے چلو۔ میں بھی ابھی آتا ہوں۔ یاد رکھنا اگر ان سب نے بھاگنے کی کوششں کی اور اس میں کامیاب ہو گئے تو تم سب اپنے انجام کے لئے تیار ہو جانا!!! سخت لہجے میں باور کراتے ہوئے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔

                 🌸🌸🌸🌸🌸

جب اس نے مِرحا کو بڑی حویلی ساتھ چلنے کا کہا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھی۔ “آخر میر سالار نے اتنی جلدی حویلی جانے کا پروگرام کیوں بنا لیا تھا جبکہ اس کی ایک روز قبل ہی حویلی سے واپسی ہوئی تھی؛ اپنی خوشی کے دوران مرحا کو یہ خیال بھی کئی دفعہ چھو کر گزرا۔ میر سالار کے تاثرات و اس کی بھرپور سنجیدگی کہیں نہ کہیں کسی گڑبڑ کا پتہ دے رہی تھی۔ وہ جب طیش میں ہوتا تھا تو مرحا کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ ناچار وہ بِنا کچھ بھی جاننے کی کوشش کئے بڑی حویلی بقول میر سالار کے اپنے دو سے چار روز کے دورے کی تیاری میں مصروف ہو گئی۔
سارے راستے وہ ایک عجیب سی کیفیت سی دو چار رہی۔ ٹھیک ایک مہینے کے بعد وہ حویلی جا رہی تھی۔ شبانہ بی اور صغریٰ (سہیلی) کا ری ایکشن اسے دیکھ کر کیا ہوگا؟ بقیہ حویلی والے اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے؟ اس پل یہ تمام سوچیں اس کے دماغ میں گھر کئے ہوئے تھیں۔ دل و دماغ پر گھبراہٹ الگ طاری تھی۔ اس دوران میر سالار خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔
اس ادھیڑ بن میں کب سفر کا اختتام ہوا پتہ ہی نہ چلا۔ شام کے ساڑھے پانچ بجنے کو تھے جب وہ حویلی پہنچے۔ میر سالار کی گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو مرحا لرزتے قدموں و دھڑکتے دل کیساتھ گاڑی کا دروازہ کھولے باہر نکلی۔ بے اختیار اس کی نظریں انیکسی کی جانب اٹھیں مگر وہاں کسی کی بھی موجودگی کا گمان نہ ہوتا تھا شاید سارے ملازمین اس وقت حویلی میں ہی موجود تھے۔
حویلی کے روایتی لباس میں کندھے پر شال ڈالے وہ میر سالار کی نوعیت میں سر جھکائے آہستہ قدموں سے اندر کی جانب بڑھی۔ سالار کے اندازے کے مطابق بڑی حویلی میں اس وقت سارے اکھٹے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ وہ سب باتوں میں مصروف تھے سو کسی کا دھیان ان پر نہ گیا۔ مرحا اس کی اوٹ میں خود کو یکسر چھپانے کی کوشش میں مصروف تھی جبکہ نظریں شبانہ بی کی تلاش میں ادھر سے ادھر بھٹک رہی تھیں۔ جبھی گرم گرم پکوڑے لاتی گلاٹی کی نظر اس پر پڑی اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پکوڑوں کی پلیٹ سب کے درمیان میں رکھ کر وہ برق رفتاری سے اندر کی جانب بھاگی۔ انداز ایسا تھا جیسے مخبری کرنے جا رہی ہو۔
“اسلام علیکم؛ میر سالار نے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چبھتی نظروں سے وہاج شاہ کو دیکھا جو مزے سے چائے کی چسکیاں بھر رہے تھے۔ اس کی آواز پر وہاج شاہ سمیت بقیہ سارے بھی چونک کر میر سالار کو دیکھنے لگے، ساتھ ہی اس کے ساتھ کھڑی مرحا کو دیکھ کر وہاج شاہ و مورے سمیت سائرہ بیگم کو آگ لگ گئی جبکہ کچھ نے یوں بنا لیا جیسے منہ میں کڑوے بادام کا ذائقہ گھل گیا ہو۔ روشانے اسے سامنے دیکھ کر پہلے تو حیرت میں مبتلا ہوئی پھر دانت کچکچا کر رہ گئی۔ زیشان شاہ کا بھی چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

“وعلیکم السلام برخوردار، ہمیں تمہارا ہی انتظار تھا۔ تمہارے کارنامے ہی اتنے اعلیٰ ہیں کہ داد دئیے بنا ہم رہ نہیں سکتے تھے۔ اچھا کیا چلے آئے تم!!! وہاج شاہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“کون سے کارنامے؟ وضاحت فرمائیں گے آپ؟ میر سالار نے ابرو اچکایا۔ وہ ان کی باتوں کی معنی خیزی سے بخوبی واقف تھا مگر وہ ان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
“دیکھا زیشان، تمہارا بیٹا تو یوں انجان بن رہا ہے جیسے اس کو پتہ ہی نہ ہو کہ شاہ سائیں کس بابت بات کر رہے ہیں!!! مورے نے اسے بری طرح گھورتے ہوئے زیشان شاہ کو مخاطب کیا تو وہ گہرا سانس بھر کر میر سالار کو دیکھنے لگے۔ وہاج شاہ کا چہرہ ضبط کی شدت سے لال انگارہ ہو رہا تھا۔ سکندر شاہ خاموشی سے بیٹھا میر سالار کو دیکھ رہا تھا۔ حفضہ بیگم سمیت منتہا بھی میر سالار کو غصے بھری نظروں سے دیکھے جا رہی تھیں۔ مرحا سالار کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں ہلکان ہوئی جا رہی تھی کہ میر سالار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر کھڑا کرتے ہوئے اسے ایک بازو کے گھیرے میں لے لیا۔ یہ منظر دیکھ کر سب کی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔
مرحا سخت نروس سی انگلیاں مروڑتی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔ اسی اثناء میں شبانہ بی بھی اس کی آمد کی اطلاع پا کر بھاگتی ہوئی برآمدے کی سمت آئیں۔ سامنے میر سالار کے بازو کے حصار میں کھڑی مرحا کو دیکھکر خوشی کے مارے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں تاہم مرحا کی نظر ابھی ان پر نہیں گئی تھی۔

“تم اس نوکرانی کو یہاں پھر سے لے آئے میر؟ ہم نے تمہیں کہا تھا نا کہ اس کی اب اس حویلی میں کوئی جگہ نہیں ہے نہ ہی یہاں کا کوئی بھی فرد اسے کبھی اس حویلی کی بہو تسلیم کرے گا؛ وہاج شاہ کا غصہ اب مرحا پر نکلا تھا۔
“ہونہہ سائیں، یہ بھی بلا کی بے شرم ہے۔ منہ اٹھائے چلی آئی۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، مگر شبانہ لگتا ہے تمہاری بیٹی ساری شرم و حیا گھول کر پی گئی ہے۔ بیغیرت!!! مورے نے تنک کر شبانہ سے کہا۔ انداز و لہجہ حقارت سے چور تھے۔ ان کی باتوں پر مرحا نے تڑپ کر سر اٹھایا تو بیقرار سی آنسوؤں بھری آنکھوں سے کھڑی شبانہ بی پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں دھند اتر آئی۔ بمشکل اپنے آنسو پیتے ہوئے اس نے میر سالار کو دیکھا۔ میر سالار کا چہرہ بے تحاشہ سرخ و آنکھیں انگارے برسانے لگیں۔
“خاموش! بہت ہو گئی بکواس آپ سب کی، سب سے پہلی بات کہ یہ نوکرانی نہیں ہے۔ اسے میری محبّت و میری بیوی ہونے کا درجہ حاصل ہے لہٰذا میری بیوی کے بارے میں بات کرتے ہوئے لہجے میں شامل حقارت، نفرت، و بدتہذیبی کا خاص خیال رکھا جائے۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ آپ لوگ اسے قبول نہیں کرتے تو بیشک نہ کریں۔ مجھے شوق بھی نہیں ہے ان سب چونچلوں کا۔ بس اپنا لہجہ میری بیوی کیلئے درست کر لیں ورنہ اپنے حشر کا سامان وہ خود کرے گا جو یہ جرت کرے گا۔۔۔!!! اس کی غراتی ہوئی آواز سن کر وہاں بیٹھے نفوس کو سانپ سونگھ گیا۔

“مجھے چکمہ دینے کی کوشش مت کرو میر، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ زندان سے اس ونی میں آئی دو ٹکے کی لڑکی کو تم ساتھ لے گئے ہو!! وہاج شاہ نے بات بدلتے ہوئے دہاڑتی آواز میں کہا
“کام ڈاؤن دادا سائیں، آپ کی زرا سی غلطی آپ کو عرشِ معلیٰ تک پہنچا سکتی ہے۔ رہی بات زوفا کی تو جی ہاں اسے میں لے کر گیا ہوں ساتھ۔ ایسا میں نے اس لئے کیا کہ مجھے لگتا ہے کسی اور کے جرم کی سزا کسی اور کو دینا انسانیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ ایسا کر کے آپ نے واقعی ثابت کر دیا کہ آپ بظاہر انسان تو دکھتے ہیں مگر ایک غلاظت سے بھرا ہوا شیطانی دماغ بھی رکھتے ہیں۔ کیوں صحیح کہا نا میں نے؟ میر سالار نے جلانے والے انداز میں کہا تو وہاج شاہ کا تنفس غصے کی زیادتی سے تیز تر ہو گیا۔
‘تم کسی بھول میں مت رہنا میر، میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا ہے اس لڑکی کو وہاں سے اٹھانے کیلئے،، افسوس کہ تم اپنے ہی جال میں پھنس گئے۔ تم تو یہاں چلے آئے اور اب میرے آدمی بھی اسے لے کر یہاں آتے ہی ہونگے۔۔۔!!! انہوں نے فاتحانہ انداز میں کہا تو میر سالار کا بیساختہ قہقہہ گونجا تھا۔ مورے اب مرحا کو گھورنے لگی تھیں جس نے اپنی پلکیں دانستہ جھکائی ہوئی تھیں۔ سائرہ بیگم سمیت ان کی بیٹیوں کا بی۔پی تو اسے میر کے پہلو میں کھڑا دیکھکر ہی لو ہوا جا رہا تھا۔

“آپ کو کیا لگتا ہے دادا سائیں کہ میں آپ کی کسی چال سے واقف نہیں ہوں۔ ایکچولی مجھے حیرت تو آپ کے ان بنا سر پاؤں کے اندازوں پر ہو رہی ہے۔ لیکن خیر دیر ابھی بھی نہیں ہوئی ہے۔ میرے پاس آپ کیلئے ایک خوشخبری ہے۔ جن آدمیوں کو آپ نے زوفا کو لینے بھیجا تھا میں آپ کے انہی آدمیوں کیساتھ یہاں واپس لوٹا ہوں! وہ اب آپ سب کو ایک ایسی حقیقت سے روشناس کرائیں گے جس کا تصور بھی آپ سب نے نہیں کیا ہوگا۔۔۔!!! میر سالار نے پہلے مسکراتی آواز اور پھر بعد میں جتانے والے انداز میں سب سے کہا تو مورے سمیت وہاج شاہ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ بقیہ تمام لوگوں کی آنکھوں میں سوال کے ساتھ ساتھ تجسّس بھی در آیا۔ آخر ایسی بھی کیا بات تھی کہ میر سالار کو ایک ہی روز کے بعد واپس آنا پڑا۔ سب کے ذہن میں یہ سوال پنپ رہا تھا۔
میر سالار نے ملازمہ کو باہر بھیج کر اپنے محافظوں کو حاضر ہونے کو کہا۔ مرحا بھی اب خائف سی سالار کو دیکھ رہی تھی جس نے سختی سے ہونٹ بھینچ رکھے تھے۔ کچھ ہی پل میں وہ سب میر کی خدمت میں حاضر تھے۔
“کدھر ہیں وہ سب؟ اس نے ان سب سے استفسار کیا۔
“سائیں وہ سارے گڈی میں ہی موجود ہیں۔ کوئی ایک بھی بھاگنے میں کامیاب نہیں ہوا جی، کیونکہ سب کے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ پاؤں میں بھی بیڑیاں موجود ہیں!! ایک آدمی نے حفاظتی تفصیلات بتائی۔ اس آدمی کی بات پر وہاج شاہ کا چہرہ مزید فق ہو گیا۔ انہوں نے مورے کی جانب دیکھا تو وہ خوامخواہ نظریں چرانے لگیں۔
“ٹھیک ہے اب انہیں ہمارے پیارے دادا سائیں کی خدمت میں حاضری کا شرف بخشو؛ اس نے آرڈر دیا تو وہ سب الٹے قدموں باہر کی جانب بھاگے۔ کچھ ہی دیر میں وہ سارے بری طرح سے کراہتے ہوئے وہاں حاضر تھے البتہ ہاتھوں اور پاؤں سے بیڑیاں اب غائب تھیں۔ وہاج شاہ نے کھا جانے والی نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ وہ تمام کے تمام خاصی بری حالت میں ان کے سامنے موجود تھے۔
“شاہ سائیں ہمیں معاف کر دیں جی، مگر میر سائیں کے آدمیوں نے ہمیں موقعے پر ہی پکڑ لیا۔ ہمیں معافی دے دیں خدا کیلئے۔۔!! وہ سارے ہی فریادیں کرنے لگے۔ وہاج شاہ خوں اندام نظروں سے ان سب کو دیکھ رہے تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان تمام کو کچا ہی نگل جائیں۔ سب کی سوالیہ و حیرت بھری نظریں ان آدمیوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔
“بہت ہو گئی معافی طلافی، اب وہ کہو جسے کہنے کے لئے تم سب کو یہاں حاضر کیا گیا ہے۔۔۔!! میر سالار نے اونچی آواز میں کہا تو وہ سب کانپتے ہوئے اسے دیکھنے لگے پھر ہمت کر کے ان میں سے ایک آدمی اٹھا اور آنکھیں خوف سے میچ کر اس سچ سے پردہ اٹھا ہی دیا جسے سن کر وہاں سب کے سروں پر دھماکہ ہو گیا تھا۔ وہاج شاہ و مورے کے چہرے کی رنگ دیکھنے لائق تھی جبکہ بقیہ سارے اپنی اپنی جگہ گنگ ہو گئے تھے۔ حرم کے دل میں یہ خبر سن کر تو گویا ابھی سے شادیانے بجنے لگے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا اب سکندر شاہ یہ سچ جان کر زوفا کو قطعی اپنے نکاح میں مزید نہیں رکھے گا۔۔۔ خوشی سے اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو تم سب؟ کیا یہ سچ ہے بابا سائیں؟ لیکن ان سب کے پیچھے آپ کا مقصد کیا تھا؟ کیوں کیا ایسا؟ میرے بیٹے کا قاتل مارا گیا وہ بھی اتنے چپکے سے کہ میں اس کا انجام تک اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکا۔ آخر کیوں کیا ایسا جواب دیں؟ سبحان شاہ نے غصے میں بپھرتے ہوئے سوال اٹھایا۔
“اس سوال کا جواب تو میں بھی جاننا چاہتا ہوں بلکہ یہاں سب ہی جاننا چاہتے ہیں۔ بتائیں دادا سائیں کیوں کیا ایسا آپ نے؟ میر سالار نے بھی وہی سوال دہرایا۔ وہاج شاہ فق چہرے کے ساتھ فلحال کچھ بولنے کے قابل نہ تھے۔ تھوڑی ہمت کر کے واپس اپنے چہرے پر زبردستی کی ہٹ دھرمی سجائی اور وہاں بیٹھے افراد کو ایک نظر دیکھا۔
“میں نے سوچا اب یہ لڑکی ونی میں آ ہی گئی ہے تو اس کا فاعدہ اٹھایا جائے۔ اس سے اولاد ہوتی تو ہماری نسل بڑھتی چاہے ایک اولاد کے بعد سکندر اسے طلاق ہی کیوں نہ دے دیتا۔ اس سے اولاد کا اس لئے سوچا کیونکہ بھلے ہی دشمنی میں ہی سہی وہ تھی تو ہمارا ہی خون نا، اس کی چھٹی ایسے ہی تو نہیں کر سکتے تھے نا۔ ہر چیز سے کچھ نہ کچھ فاعدہ حاصل کرنا چائیے۔۔۔!!! لہجے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہوئے وہاج شاہ نے اپنے مکروہ ارادے سے سب کو آگاہ کیا۔ میر سالار تاسف سے سر ہلانے لگا۔ حد تھی حیوانیت کی بھی؛؛ وہ جتنا افسوس کرتا کم ہی تھا۔ بقیہ سارے بھی بت بنے یہ انکشاف سن رہے تھے۔ مورے نظریں زمین پر گاڑے بیٹھی ہوئی تھیں۔ اتنی جلدی حقیقت سے پردہ اٹھ جائے گا یہ تو ان کے اور وہاج شاہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

“دادا سائیں آپ نے یہ سوچا بھی کیسے؟ آپ کو بخوبی حرم سے میری محبت کا علم ہے۔ اس طرح کے خیالات رکھتے ہوئے مجھ سے مشورہ بھی آپ نے ضروری نہیں سمجھا۔ اس صارم کو ہم سے چھپا کر موت کی نیند بھی سلا دی اور ہمیں خبر تک نہیں ہونے دی۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا دادا سائیں۔۔۔!!! سکندر شاہ غصے سے بیحال اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ حفضہ بیگم بھی سر تھامے بیٹھی ہوئی تھیں۔
“دیکھو سکندر، تم جذباتی ہو رہے ہو! وہاج شاہ نے آخری کوشش کرنی چاہی
“میں جذباتی نہیں ہو رہا، میں جو کہہ رہا ہوں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ اور اب سب کان کھول کر سن لیں میری اور حرم کی شادی جلد ہی ہوگی۔ جلد کا مطلب اسی ہفتے۔ مجھے مزید کچھ نہیں سننا!! غصّے سے سیخ پا ہوتے وہ بات ختم کر کے پیر پٹختا وہاں سے نکل گیا۔ وہاج شاہ کا چہرہ اہانت سے مزید لال ہو گیا۔

“چچ چچ افسوس صد افسوس آپ کا سارا پلان فیل ہو گیا۔ آپ کو خون کا بدلہ لینے کے لئے ایک کمزور لڑکی کا سہارا لینا پڑا جس سے آپ کو بلا کی نفرت تھی۔ مگر اسی لڑکی کے بطن سے اس حویلی کا وارث پیدا کروانے کا خیال آپ کو آیا تو ساتھ ہی یہ بھی یاد آ گیا کہ اس کا آپ سے خون کا رشتہ ہے؛ لعنت بھیجتا ہوں میں آپ سمیت آپ کی ان مکروہ روایات و سوچ پر!! میں نے وکیل سے طلاق کے پیپرز تیار کرنے کو کہہ دیا ہے۔ دو روز میں وہ پیپرز موصول ہو جائیں گے۔ سکندر بھی بنا کسی چوں چرا کے ان پیپرز پر دستخط کر دیگا۔ اب تو خیر اس میں کوئی شک نہیں۔۔!! میر سالار نے اپنی سلگتی ہوئی نظریں وہاج شاہ پر جمائے ہوئے کہا۔

“تم کہنا کیا چاہتے ہو میر؟ تم اپنا قانون یہاں مت جھاڑو! مجھے جو صحیح لگا میں نے وہی کیا ہے!! وہاج شاہ نے اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش میں کہا۔ لہجہ اب کی سکشتہ ہی تھا۔ مورے الگ چور بنی بیٹھی ہوئی تھیں۔
“اب مجھے بھی جو صحیح لگے گا وہ میں کروں گا۔ رہی قانون کی بات تو میرا قانون سب پر لاگو ہوتا ہے چاہے وہ حویلی کا کوئی فرد ہی کیوں نہ ہو! میں خود ایک جرگہ بٹھانا چاہتا ہوں۔ اس بار فیصلہ میرا ہوگا۔ طلاق کے پیپرز پر سکندر کے سائن لینے کے بعد وہ جرگہ بیٹھے گا۔ تب تک آپ اپنی خیر منائیں دادا سائیں۔۔!!! اس نے لفط بہ لفط چبا چبا کر کہا تو وہاج شاہ کے چہرے سے جیسے دھواں نکلنے لگا۔ مورے کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔ کہیں سے خلاصی کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی۔
“تمہیں اچھی طرح معلوم ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ یہاں تمہارے دادا سائیں کے ہی فیصلے کا سکہ چلتا ہے اور انہی کا جرگہ بیٹھتا ہے کیونکہ وہ سرپنچ ہیں اس گاؤں کے۔ سب جانتے بوجھتے بھی تم یہ حماقت کر رہے ہو میر کیوں؟ مورے نے تپ کر کہا تو میر سالار کے چہرے پر تمسخر در آیا۔

“تاریخ اب دوبارہ رقم ہوگی۔ فیصلہ اس بار میرا ہوگا اور جرگہ بھی۔ مزید بحث کے موڈ میں نہیں ہوں میں!! اس نے کھولتے لہجے میں کہا ساتھ ہی مرحا کو دیکھا جو سہمی ہوئی ہرنی کی طرح اس کے بازو میں مقید کھڑی تھی۔ وہ اسے لئے وہاں سے نکل آیا۔ پیچھے وہاج شاہ سمیت مورے کی بھی سانسیں رک سی گئی تھیں۔ وہاج شاہ کے بیٹے ناراضگی کے طور پر وہاں سے اٹھ گئے تھے بقول ان کے کہ ان کے ساتھ غلط بیانی و دھوکا دہی سے کام لیا گیا ہے۔ حفضہ بیگم و منتہا بھی تن فن کرتی وہاں سے نکل گئیں۔ باری باری وہاں سے سب ہٹ گئے۔
وہ میر سالار کے ہمراہ راہداری کی جانب ائی تو سالار نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا جو سر جھکائے اپنے ناخنوں سے کھیل رہی تھی۔
“میں تمہارے ساتھ موجود ہوں اور تمہارا ذہن کہاں گردش کر رہا ہے؟ میر سالار نے شگفتگی سے اسے میں مزید بھینچ کر کہا تو وہ تھوڑا جھینپ گئی تاہم نظریں اس کی شرٹ کی بٹنوں پر جمائے رکھیں۔ میر سالار اس کے چہرے کی اداسی سے ہی اس کے دل کا حال معلوم کر سکتا تھا۔ اسے پتہ تھا سب کے ہتک آمیز رویے پر وہ دل برداشتہ ہے۔ گہرا سانس بھرتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔
“مرحا تم فکر نہ کرو، میں تمہارے ساتھ ہر پل ہر لمحہ ہوں۔ بس تم اپنا خیال رکھو اور تمام سوچوں کو ذہن سے محو کر کے پرسکون رہو! تم اپنی امی سے ملاقات کرنا چاہتی ہو تو جاؤ! میر سالار نے اس کا سر چوما تو وہ شبانہ بی کے زکر پر بے طرح خوش ہو گئی۔

“شکریہ سائیں، مجھے پتہ ہے آپ میرا ہمیشہ ساتھ دیں گے۔ میں اماں سے مل کر آتی ہوں!!! وہ خوشی سے کانپنے لہجے میں بولی اور فوراً اس کے حصار سے نکل کر بھاگتی ہوئی انیکسی کی جانب چلی گئی۔ میر سالار دلکشی سے مسکراتا آگے بڑھ گیا۔

               🧡🧡🧡🧡🧡

وہ انیکسی کے کمرے میں داخل ہوئی تو خوشی کے مارے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ یہاں کے چپے چپے سے اس کی شناسائی تھی۔ ہر چیز نظروں کو ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔ وہ چلتی ہوئی پلنگ پر آ بیٹھی۔ جبھی قدموں کی آہٹ پر دروازے کی سمت دیکھا تو وہاں شبانہ بی کو دیکھکر وہ خوشی سے بے قابو ہو گئی۔
“اماں؛ وہ بے اختیار پلنگ سے اٹھی اور بھاگتے ہوئے ان کے گلے جا لگی۔ شبانہ بی نے اسے خود میں سمو لیا۔ آنکھیں بھیگ چلی تھیں۔
“مرحا تجھے پتہ ہے میں نے تجھے کتنا یاد کیا ہے؟ پل پل تیری یاد میں تڑپی ہوں۔ راتوں کو مجھے نیند نہیں آتی تھی کیونکہ تیرے وجود کی عادت اس کمرے سمیت مجھے بھی ہے میری دھی۔۔ میر سائیں یہاں آئے مگر میری ہمت ہی نہ ہو سکی کہ ان سے تیری خیریت دریافت کر سکوں! تو بتا خوش تو ہے نا؟ انہوں نے آبدیدہ لہجے میں آپ بیتی بتاتے ہوئے سوال کیا۔ مرحا آنسو پونچھتے ہوئے ان سے الگ ہوئی اور چٹاچٹ ان کے گالوں پر بوسے دئیے۔
“خوش نہیں بہت خوش ہوں۔ میر سائیں بہت اچھے ہیں۔ وہ میرا ہر لحاظ سے بہت خیال رکھتے ہیں۔ میں سچ میں بہت خوش قسمت ہوں اماں جو اللّٰہ نے میرے حصّے میں میر سائیں جیسا مرد لکھا۔ وہ شابہ بی کا ہاتھ تھامے پلنگ کی اور بڑھ گئی۔
“اللّٰہ بری نظر سے بچائے میری دھی، وگرنہ جن حالات میں یہ شادی ہوئی تھی میں تو بہت ڈری ہوئی تھی۔ یہاں بھی تجھے لے کر سب کا غصہ عروج پر ہے۔۔۔ شبانہ بی نے دلگیری سے کہا۔ مرحا کچھ پل کو خاموش رہ گئی۔
“اماں اس وقت تو میرا بھروسہ آپ نے بھی نہیں کیا تھا۔ حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کہ میرا صفائی دینا قسمیں کھانا سب بے سود رہا!!! لیکن اب میں خود چاہتی ہوں کہ جلد از جلد روشی بی بی کا اصل چہرہ بھی سب کے سامنے آئے جیسے شاہ سائیں آج بے نقاب ہوئے ہیں نا ویسے ہی میں روشی بی بی کو کٹگھرے میں کھڑا کرنا چاہتی ہوں!!! کچھ توقف کے بعد اس نے شبانہ بی کی گود میں سر رکھتے ہوئے اپنی خواہش کا اعتراف کیا۔

“کیا وہ بات واقعی میں سچ ہے مرحا؟ اگر سچ ہے تو پھر میر سائیں کا رویہ تیرے ساتھ ٹھیک کیسے ہے؟ شبانہ بی نے حیرانگی سے پوچھا تو مرحا نے تمام کتھا انہیں سنا ڈالی۔ سب کچھ جاننے کے بعد شبانہ بی کی حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ دونوں نہ جانے کب تک باتیں کرتی رہتیں کہ گلاٹی سمیت صغریٰ وغیرہ نے وہاں دھاوا بول دیا۔ اب ان سب کے نا ختم ہونے والے سوالات شروع ہو چکے تھے۔ مرحا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ان سب کے سوالوں کے جوابات دے رہی تھی۔ شبانہ بی پاس بیٹھی محبت سے اسے تک رہی تھیں۔
“ہائے او مرحا، تیرے تو بھاگ کھل گئے۔ کیا قسمت لکھوا کر لائی ہے تو؛ آخر کس قلم سے لکھوا کر لائی ہے کہ سب کو پیچھے چھوڑ دیا! صغریٰ نے آہیں بھرتے ہوئے کہا تو وہ سب ہنس پڑیں
“یہ بتا میرو، شہر کی آب و ہوا میں گم ہو کر ہمیں اور اپنے اس پرانے مسکن کو بھول تو نہیں گئی نا؟ راکھی نے چہکتے ہوئے پوچھا۔
“ارے نہیں کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ میں آپ سب کو بھلا بھول سکتی ہوں کیا؟ سچ کہوں تو آپ سب کو سامنے دیکھ کر اور اس کمرے میں وقت گزار کر دلی سکون مل رہا ہے مجھے! وہ طمانیت سے مسکرا کر بولی تو وہ سب خوشی سے پھول کر کپا ہو گئیں۔
بہت دیر تک ان کی یہ خوش گپیاں جاری رہیں۔ پھر یکایک شبانہ بی سمیت ان سب کو حویلی کے بقیہ شدہ کام یاد آ گئے۔ سر پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ سب اسے بعد میں ملنے کا کہہ کر وہاں سے نکل گئیں۔ ان سب کے جانے کے بعد وہ بھی وہاں سے نکل کر حویلی کی جانب بڑھ گئی۔

               🥀🥀🥀🥀🥀

آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی۔ نظر سامنے بیڈ پر آنکھیں بند کئے لیٹے میر سالار پر پڑی۔ سائیڈ ٹیبل پر چائے کا کپ پڑا ہوا تھا۔ گویا ابھی بھی چائے سے لطف اندوز ہوا گیا تھا۔ وہ دھیمی مسکراہٹ کیساتھ بے آواز چلتی بیڈ کے دوسرے کونے پر آ لیٹی۔ اس کی نظریں میر سالار کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔ لبوں پر معصوم سی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ کچھ سوچ کر وہ دھیرے سے اپنی جگہ سے سرک کر اس کے زرا اور نزدیک آ گئی۔ احتیاط سے اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھنا ہی چاہا کہ یکایک میر سالار نے بند آنکھیں کھول کر جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا۔ وہ حواس باختگی سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ دلچسپ نظروں سے اس کے تاثرات ملاحظہ کر رہا تھا۔
“سائیں آپ جاگ رہے تھے؟ وہ ہونق سی پوچھ بیٹھی۔
“نہیں بس تمہاری موجودگی کے احساس سے آنکھیں کھل گئیں۔ تم بتاؤ، ملاقات ہوئی؟ وہ اسے خود سے مزید قریب کرتے ہوئے بولا تو مرحا کی جان پر بن آئی۔
“سائیں، زرا دور ہوں ایسے تو میں نہیں بتا سکوں گی؛ وہ شرم سے لرزتے ہوئے اس کے اور اپنے مابین فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“نہیں بتانا ہو تو ایسے ہی بتاؤ۔ دوسری صورت میں بیشک مت بتاؤ!! وہ اسے محضوظ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ مرحا کا چہرہ شرمگیں تاثر دینے لگا۔
“آپ بہت خراب ہیں!! وہ قدرے خفگی سے بولی تو میر سالار کا قہقہہ گونج اُٹھا۔ وہ مزید بوکھلا گئی۔
“مسز ایک طرف تم کہتی ہو کہ میں بہت اچھا ہوں دوسری طرف میں خراب بھی ہوں، اب فیصلہ کرو جلدی کہ میں کیا ہوں وگرنہ میں تم سے ناراض بھی ہو سکتا ہوں! اس کی بات پر وہ مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔
“ہاں تو ہو جائیں ناراض، میں بھی نہیں بولتی۔۔!! وہ شرارت سے بولی
“اوہ اوکے مسز؛ تم رہ سکتی ہو بنا کچھ بھی بولے؟ چیلنج کر رہا ہوں تمہیں کہ تم رہ ہی نہیں سکتیں؛ اگلے دس منٹ کے اندر تم نہ بولیں تو میرا نام بھی میر سالار نہیں!!! میر سالار ابرو اچکا کر بولا تو اس نے اس کی بانہوں کے حصار سے نکل کر اپنے تکئے پر سر رکھ لیا۔
“دیکھ لیجئے گا؛ پھولے ہوئے منہ کے ساتھ کہا گیا۔ میر سالار نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔ مگر مرحا بی بی کی بے چینی اب عروج پر جا پہنچی تھی۔