No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
بمشکل دو منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھی اور سخت خفگی سے میر سالار کو دیکھا جو آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا۔
“نہیں بالکل نہیں، بھلا کیوں نہیں رہ سکتی میں ان سے ناراض، دس منٹ تو کیا میں آرام سے صبح تک اس ناراضگی میں رہ سکتی ہوں۔۔!! میر سالار پر نظریں جمائے وہ خود سے بھرپور عزم میں مصروف تھی۔ دو منٹ مزید گزر چکے تھے۔ وہ دوبارہ سے سونے کیلئے لیٹ گئی۔ مگر پاگل دل ہمک ہمک کر اپنی ہی کہے جا رہا تھا۔
“نہ میں ان کی طرف دیکھوں گی اور نہ ہی میرا بولنے کا دل کرے گا۔۔!! اس سوچ کے آتے ہی اس نے میر سالار کی جانب سے کروٹ بدل لی۔ مگر دل کی بے چینی حد سے سوا تھی۔
“زرا دیکھوں، کہیں سائیں سو تو نہیں گئے۔ ہائے اللّٰہ۔۔!! یکایک اس کے ذہن میں یہ خیال کوندا تو اس نے اپنا رخ دوبارہ سالار کی جانب کر لیا اور نہایت غور سے اسے دیکھا، مگر اسے سمجھ نہیں آ سکی کہ وہ واقعی سو چکا ہے یا محض آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا ہے۔ وہ دوبارہ سے اپنی جگہ سے اٹھی اور آہستگی سے میر سالار کے زرا نزدیک آتے ہوئے اس کے چہرے پر جھک کر بھرپور معائنے میں مصروف ہو گئی۔
“سائیں؛ اس نے دھیرے سے اسے آواز دی جبھی میر سالار نے اپنی مقناطیسی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تو وہ بوکھلا سی گئی۔ ہڑبڑاہٹ میں اس نے فوراً اس سے دور ہونا چاہا مگر سالار نے اپنی امڈتی مسکراہٹ پر قابو پاتے ہوئے اسے واپس اپنی طرف کھینچا وہ بے اختیار اس سے آ لگی۔
“جہاں تک مجھے یاد ہے محترمہ، آپ تو مجھ سے بات نہیں کرنے والی تھیں، تو پھر اب کیا ہوا؟ آنکھوں میں مسکراتا تاثر جبکہ لہجہ بلا کا سنجیدہ تھا۔ مرحا نے خفیف ہو کر خشک لبوں پر زبان پھیری۔
“ہاں تو؟ میں اب بھی کہاں بات کرنے والی تھی۔ وہ تو میں بس چیک کر رہی تھی کہ آپ سو گئے ہیں یا جاگ رہے ہیں!! خود کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش میں وہ چلبلا کر بولی۔ میر سالار محضوظ ہوتا دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کی بولتی نگاہوں سے وہ مزید خائف ہوتی خود میں سمٹ گئی۔ ساتھ ہی بے ساختہ زرا سا فاصلہ قائم کرنا چاہا مگر اس کی یہ مزاحمت بیکار ہی گئی۔ میر سالار نے اسے مزید خود میں سمیٹ لیا۔ وہ سرتاپا رنگوں میں نہانے لگی۔
“تم مانو یا نہ مانو مِرحا، مگر یہ کام تمہارے لئے ازحد مشکل ہے، اور اس کا مجھے مکمل یقین ہے۔۔!! اس کی گمبھیر آواز سرگوشی سے کم نہ تھی۔ لہجہ باور کراتا ہوا تھا۔
“تو جب جانتے ہیں تو پھر مجھے تنگ کیوں کرتے ہیں؟ وہ خفگی سے اس کی شرٹ کے بٹنوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہوئی بولی۔
“تمہیں تنگ کرنے کا پرمٹ جو حاصل کیا ہے۔ یہ الگ بات کہ ابھی میں نے اس کا بھرپور استعمال نہیں کیا۔ مجھے لگتا ہے اب تم ٹھیک ہو!! میر سالار نے شرارتًا اسے گہری نگاہوں کی زد پر رکھتے ہوئے کہا تو مرحا کے ہوش و حواس اس کا ساتھ چھوڑنے لگے۔
“ن نہیں سائیں، میں سچ میں ٹھیک نہیں ہوں۔ یہ د، دیکھیں مم میرے ہاتھوں میں بہت درد ہے۔ اس نے بے ربط ہوتے ہوئے کسی طرح بات مکمل کی۔ کمرے کی فضا میں بے اختیار میر سالار کا خوبصورت قہقہہ گونج اٹھا۔ مرحا کا چہرہ خون چھلکانے لگا۔ وہ سخت نروس سی ہونٹوں کو کچلنے لگی۔
“لیکن مسز یہ درد تو ابھی کچھ لمحے پل تک نہیں تھا، پھر اب کیسے؟ اس پر روشنی ڈالیں گی آپ؟ اس نے جاندار مسکراہٹ کیساتھ پوچھا۔ مرحا لاجواب سی ہوتی نظریں چرا گئی۔
“مم مجھے پیاس لگی ہے چھوڑیں۔۔!!! وہ اس کا حصار توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ پورا وجود شرم کی شدت سے لرز رہا تھا۔
“اور مجھے بھی، اسے خود سے قریب تر کرتے ہوئے میر سالار نے جس انداز میں کہا، مرحا کو یوں لگا اس کے جسم کے ہر مسام سے پسینہ بہہ نکلا ہو۔ کچھ کہنے کی شدت میں ہونٹ محض پھرپھڑا کر رہ گئے۔
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں!! وہ روہانسی سی ہو کر اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی اور اپنا ننھا سا حصار اس کے گرد باندھ لیا۔
“جانتا ہوں! گمبھیر آواز میں عجب سا سحر تھا جس میں مرحا خود کو جکڑتا محسوس کر رہی تھی۔ میر سالار کا ہاتھ اس کے بازوؤں سے سرائیت کرتا ہوا کندھے پر آ رکا۔ مرحا کے دل کی دھک دھک شدت پکڑتی جا رہی تھی۔ سانسیں الگ اتھل پتھل سی ہونے لگیں۔ اس نے مٹھیوں کی گرفت سالار کی شرٹ پر مضبوط کر لی۔ اس کا دوپٹہ اس کے گلے سے آزاد کر کے وہ اس کا سر تکئے پر رکھتا اس پر جھک گیا۔
مرحا کی آنکھوں میں شرم کی لالی پھیلنے لگی۔ اس شخص کی جانب دیکھنا ہی اس کے لئے محال ثابت ہو رہا تھا۔ اس کی بوجھل پلکیں رخسار پر سایہ فگن ہو گئیں۔ سالار کی گرم سانسوں کی تپش سے اس کو اپنا چہرہ بھاپ بن کر اڑتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ خود میں مزید سمٹ سی گئی۔
اسے وارفتگی سے چور نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ اس کی گردن پر جھک گیا۔ اس کے لبوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے مرحا کے رگ و پے میں سنسنی سی دوڑنے لگی۔ سانسیں گویا جسم کا ساتھ چھوڑنے لگیں۔ چند لمحے اسی طرح گزر گئے۔ وہ آنکھیں بند کئے ہر قسم کی مزاحمت سے مبرّا لیٹی ہوئی تھی۔ پیشانی سے ہوتے ہوئے اسے اپنے رخساروں پر میر سالار کا دہکتا ہوا لمس محسوس ہوا تو اس کے بے جان ہوتے جسم میں زرا سی حرکت ہوئی۔ اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اٹھا کر اس نے سالار کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر بچاؤ کی معصوم سی کوشش کی۔ آنکھیں ہنوز بند اور پلکیں لرز رہی تھیں۔ میر سالار نے خمار آلود نظروں سے اس کے چہرے پر بکھری قوسِ قزح کو دیکھا اور اس کا نرم و نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں بھینچ لیا۔
“تیرے چہرے کے نقوش ایسے ہیں آنکھ اٹھاتا ہوں بھٹک جاتا ہوں تیری آنکھوں سے تیرے ہونٹوں تک سفر اتنا ہے کہ تھک جاتا ہوں؛
بوجھل سرگوشی مرحا کے کانوں میں اتری تو چہرے پر شرمگیں تاثر مزید اپنا رنگ جمانے کو بیتاب ہو گیا۔
اس سے پہلے کہ وہ آنکھیں کھولتی سالار مکمل اس پر حاوی ہوتا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔ مرحا اس کے شوریدہ جذبات کے آگے ہار مانتی گویا کسی تنکے کی مانند اس کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئی۔
میرا سوچنا تیری ذات تک میری گفتگو تیری بات تک!! نہ تم ملو جو کبھی مجھے میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک!! کبھی فرصتیں جو ملیں تو آ میری زندگی کے حصار تک!! میں نے جانا کہ میں تو کچھ بھی نہیں تیرے پہلے سے تیرے بعد تک!! ❤️❤️❤️❤️❤️ زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے بڑھ کے ملئے اور مل کر دور جاتے جائیے!!
بن کے خوشبو کی اداسی رہئے دل کے باغ میں
دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے!!
کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سِمتوں میں تو پھر
جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے!!
ان دو افراد کے ہمراہ وہ تمام راستے عجیب و غریب سوچوں میں گھری بیٹھی ہوئی تھی۔”اس کی آگے کی زندگی اب نہ جانے کون سا رخ اختیار کرنے کو تھی؛ سوچتے ہوئے وہ تھکا ہارا سا سانس بھر کر رہ گئی۔
بی جان پورے سفر کے دوران اس کے کندھے سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی رہیں اور زوفا نے انہیں اپنے حصار میں لئے رکھا مبادا وہ ایک طرف کو نہ گر جائیں۔ کھڑکی سے باہر بھاگتے ہوئے مناظر کو دیکھتے ہوئے وہ خود میں گم تھی۔
ایس۔پی حسن نے بیک مرر سے ایک نظر اس پر ڈالی اور اس کا کھویا کھویا انداز نوٹ کیا۔ وہ جانتا اور سمجھتا تھا جس طرح کی سچویشن سے وہ گزری تھی یہ غور و فکر اس لڑکی کے لئے فطری سی بات تھی۔ ایک لمحے کو اس کا دل چاہا اس کے تمام غم سمیٹ کر اس کی زندگی بے پایاں خوشیوں سے بھر دے۔
آدھے گھنٹے کے اس سفر کا اختتام ہوا اور گاڑی ایک خوبصورت و پرُ ستائیش گھر کے سامنے آ رکی۔ زوفا بھی چونک کر حال میں لوٹ آئی۔ نظر اٹھائی تو سامنے وسیع و عریض عمارت کو دیکھکر اس کی آنکھوں میں بھی تعریف کے رنگ اتر آئے۔ حسن گاڑی کا دروازہ کھول کر پیچھے کی جانب آیا ساتھ ہی پچھلی گاڑی کا دروازہ کھول کر زوفا بی جان کو سہارا دیتے ہوئے باہر نکلی تو حسن نے بی جان کا دوسرا بازو تھام لیا۔
بی جان ان کے سہاروں پر آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ گئیں۔ بڑے سے حال میں داخل ہو کر انہوں نے بی جان کو صوفے پر بٹھا دیا۔
“بی جان آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ زوفا نے بی جان کا کمزور ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اپنائیت سے پوچھا۔
“ہاں میری بچی میں ٹھیک ہوں۔ بس زرا سا سانس پھول رہا ہے؛ انہوں نے گہری سانسیں لیتے ہوئے کہا تو زوفا پانی لینے کی غرض سے صوفے سے اٹھی ہی تھی کہ حسن نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا اور خود کسی خاتون کو آواز دی۔ کچھ ہی پل میں ایک ادھیڑ عمر خاتون وہاں حاضر تھی۔
“بی جان کے لئے کچھ کھانے کے کیلئے لاؤ ساتھ میں نیم گرم پانی لانا۔ اور یہ زوفا ہیں اب سے ہمارے ساتھ ہی رہیں گی ان کی خاطر مدارت میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہ ہو! جاؤ پہلے ان کے لئے بھی چائے وغیرہ بناؤ بعد میں ان کی پسند کا کھانا پوچھ کر بنا دینا!! ایس۔پی حسن نے سنجیدگی سے اس عورت کو حکم دیا تو زوفا بوکھلا سی گئی۔
“امممم ا، اس کی کوئی ضرورت نہیں پلیز، وہ خوامخواہ پریشان ہونگی؛ وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔ اس پورے وقت میں وہ پہلی دفعہ اس سے مخاطب ہوئی تھی۔ حسن نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ بی جان صوفے کی پشت سے سر ٹکائے ان دونوں کو بڑے وثوق سے دیکھ رہی تھیں۔
“اس میں پریشانی کی تو کوئی بات نہیں، آپ کی خاطر مدارت ہمارا فرض ہے۔ آپ اس طرح کی سوچوں سے خود کو پریشان نہ کریں پلیز۔ ریلیکس۔۔۔!! وہ ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ شائستہ انداز میں بولا۔ لہجہ تسلی آمیز تھا۔
“حسن بالکل صحیح کہہ رہا ہے بچی، تم اب سے یہاں کی ایک فرد ہو! بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ کسی بھی قسم کا تکلف ظاہر کرو گی تو میں یہ سمجھوں گی کہ تم نے ہمیں بالکل پرایا سمجھ رکھا ہے!! بی جان نے اس کا گال سہلا کر کہا تو اس قدر محبت و اپنائیت پر زوفا کی آنکھیں نم سی ہونے لگیں۔ اپنوں کا انسانیت سے مبرّا سلوک دیکھنے کے بعد غیروں سے ملی اس قدر عزت پر اسے ٹوٹ کر رونا آیا۔ بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوئے اس نے بی جان کا ہاتھ تھام لیا۔ ایس۔پی حسن خاموشی سے نظریں اس پر جمائے کھڑا تھا۔
“آپ بہت اچھی ہیں۔ میں اوپر والی ذات کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے جس نے مجھے آپ جیسے بے غرض و شفاف دل لوگوں سے لا ملایا۔۔۔!! وہ بھیگی آواز میں بی جان کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا کر بولی تو اس کی اس حرکت پر بی جان تو گویا نہال ہی ہو گئیں۔
حسن کے ہونٹوں پر بھی ایک دلکش مسکراہٹ نے اپنی جھلک دکھائی۔
“بی جان آپ دونوں لاڈ پیار کریں۔ میں فریش ہو کر کچھ دیر ریسٹ کروں گا پھر مجھے کہیں جانا بھی ہے؛ کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈال کر اس نے بی جان کو آگاہ کیا۔ زوفا بھی قدرے خفت زدہ ہو گئی۔
“ایک تو تیرے اس آنے جانے سے میں سخت پریشان ہوں؛ بی جان چڑ کر بولیں تو وہ قہقہہ لگا بیٹھا۔
“اٹس آ مورل فیکٹ بی جان، جاؤں گا جبھی نا واپس آؤں گا؛ وہ شرارتًا بولا تو بی جان مصنوعی خفگی سے اسے گھورنے لگیں۔ وہ ہنستا ہوا تھوڑا سا جھکا اور ان کی پیشانی چوم کر وہاں سے نکل گیا۔ بی جان مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگیں تو وہ بھی دھیمے سے مسکرا دی۔
تھوڑی دیر کے بعد ملازمہ تمام چیزوں کے ساتھ حاضر تھی۔ بی جان سوپ وغیرہ پی چکیں تو زوفا نے ملازمہ سے ان کا کمرہ پوچھ کر انہیں ان کے کمرے میں پہنچا دیا۔ آرام سے انہیں بستر پر لٹا کر وہ خود ان کے پاس بیٹھنے کو تھی کہ شاید انہیں کسی چیز کی ضرورت پڑے مگر بی جان نے ملازمہ سے زوفا کو اس کا کمرہ دکھانے کا کہا ساتھ ہی تسلی دی کہ “بیٹا ابھی میں کچھ دیر سو رہوں گی تو بھی جا آرام کر۔ کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو صبوحی (ملازمہ) ہے نا اسے کہہ دوں گی۔۔۔!! ان کے کہنے پر وہ سر ہلاتی ملازمہ کی نوعیت میں اس کمرے میں آ گئی جو اب اس کا تھا۔ نفاست و سلیقے سے ہر چیز اپنی جگہ پر موجود تھی۔ بلاشبہہ یہ گھر قابلِ تعریف تھا۔ وہ سوچتی ہوئی دروازہ بند کر کے بیڈ پر آ لیٹی اور کچھ ہی پلوں میں وہ نیند کی گہری وادیوں میں اتر گئی۔
🌸🌸🌸🌸🌸
بھلا بتاو سائرہ، اس قدر بڑا دھوکہ دیا ہے ہم سب کو شاہ سائیں نے، ارے کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی اور خود ہی سب کچھ نپٹا لیا۔ اپنے مفاد کیلئے انہوں نے یہ تک نہ سوچا کہ یہ سارا ماجرا جاننے کے بعد ہم سب پر کیا گزرے گی۔ خاص طور پر میرے دل پر جو گزری ہے وہ بیان سے باہر ہے!! حفضہ بیگم چہکوں پہکوں روتے ہوئے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے میں مصروف تھیں۔ پاس ہی گھر کی بڑی (ماسوائے مورے کے) بقیہ خواتین بھی موجود تھیں۔
“میں بھی تو یہی کہتی ہوں بھابھی بیگم، اور جہاں تک مجھے لگتا ہے ان سب میں شاہ بی بی بھی شامل ہیں۔ ان کا چہرہ دیکھا تھا آپ نے کیسے فق سا ہو گیا تھا سالار کے منہ سے حقیقت کو سن کر؟ سائرہ بیگم نے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنے تئیں اندازہ لگایا تو وہ سب بھی تائیدی انداز میں سر ہلانے لگیں۔
“شک کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اگر انہیں پہلے سے سب کچھ معلوم نہ ہوتا تو وہ یہ سوال ضرور شاہ سائیں سے کرتیں کہ آخر آپ نے ایسا کیوں کیا؟ مگر انہوں نے تو ایک بار بھی سوال نہیں اٹھایا!! دونوں ہی اس کھیل میں برابر کے شریک رہے ہیں!! حفضہ بیگم دانت پیس کر کھا جانے والے لہجے میں بولیں۔
“میری بیٹی بھری جوانی میں بیوہ ہو گئی۔ اس کے سہاگ کو اجاڑنے والے کا انجام میں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکی۔ یہ صدمہ تو میری جان لے لے گا۔۔۔ ثریا بیگم (منتہا کی امی) کہتے کہتے آبدیدہ ہو گئیں ساتھ ہی دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔
“ان سب کے پیچھے جو گھناؤنی سازش انہوں نے رچائی ہے نا میں تو چاہتی ہوں کہ میر انہیں سزا سنائے وہ بھی ایسی کہ سارا زمانہ یاد رکھے۔ رہی بات سکندر کی تو اسی ہفتے اس کی شادی حرم سے ہو گی۔ ہمیں شادی کی تیاریاں شروع کر دینی چاہیئے اب؛ حفضہ بیگم ایک بار پھر وہاج شاہ پر غصہ نکالتے ہوئے سائرہ بیگم کی جانب متوجہ ہوئیں تو وہ بھی ان کے فیصلے پر مطمئن ہوتی طمانیت سے سر ہلانے لگیں۔
صحن کی جانب آتی حرم کے کانوں میں حفضہ بیگم کے یہ الفاظ شہد کی چاشنی کی مانند اترے تھے۔ اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ اپنے خوشی سے بے قابو ہوتے دل کو سنبھالنے کی ناکام کوشش میں ہلکان وہ جھومتی ہوئی یہ خبر بقیہ لڑکیوں تک پہنچانے کو حال کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ ویسے تو سکندر شاہ کی زبانی سب نے اس کا فیصلہ سن ہی لیا تھا، مگر اب حفضہ بیگم کا فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ بات انہوں نے سبحان شاہ سے مشورے کے بعد کی ہے۔ اس بات پر مہر لگ چکی تھی سو حرم کا ہواؤں میں اڑنا تو ظاہری سی بات تھی۔
🧡🧡🧡🧡🧡
اس کی آنکھ کھلی تو رات کے تقریباً نو بجنے کو تھے۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ساتھ ہی کچھ یاد آنے پر بے تحاشہ سرخ پڑتے ہوئے اس نے چور نگاہوں سے بیڈ کی دوسری سائیڈ پر دیکھا مگر وہاں میر سالار کو موجود نا پا کر اس کی جان میں جان آئی، وگرنہ اس کا سامنا کرنے کی ہمت فلحال اس میں سرے سے مفقود تھی۔
گزرے ہوئے خوبصورت پل کسی فلم کی مانند اس کے ذہن کی سکرین پر چلنے لگے۔ جن میں اس شخص کی بے پناہ محبتیں و جسارتیں ان لمحات کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا سبب بن رہی تھیں۔ اس کی منمانیوں کے متعلق سوچتے ہوئے اس کے لبوں پر حیا آلود مسکان بکھر گئی۔
نا جانے کتنے ہی پل وہ ان سحر انگیز لمحات کی گرفت میں قید بیٹھی رہی پھر یکایک اس کے اندر بھوک کا شِدّت سے احساس جاگا۔
میر سالار نے جس قدر جلدبازی مچائی تھی وہ عجلت میں بمشکل بیگ میں دو سے تین جوڑے ٹھونس کر وہاں سے نکلی تھی۔ وہ بیڈ سے اٹھی اور بیگ سے سوٹ نکال کر فریش ہونے کی غرض سے واشروم میں چلی گئی۔
جلدی جلدی باتھ لے کر وہ باہر نکلی، خود کو آئینے میں ایک نظر دیکھ کر وہ اپنے گرد شال لپیٹے کمرے سے باہر نکل آئی “شاید میر سائیں ڈنر کے بعد ڈیرے وغیرہ پر چلے گئے ہوں یا شاید مردان خانے میں موجود ہوں؛ دل ہی دل میں سوچتے ہوئے وہ برآمدے سے ہوتے ہوئے جیسے ہی راہداری مڑی سامنے سے آتی روشانے کو دیکھکر پل بھر کو اس کے قدم رکے۔ وہ بھی اسے دیکھ چکی تھی۔ اس کے چہرے پر حقارت در آئی تھی جبکہ وہ نظریں پھیرتے ہوئے سرعت سے اس کی سائیڈ سے گزر جانے کو تھی کہ روشانے نے دانت پیستے ہوئے اچانک اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے مقابل لا کھڑا کیا۔ اس اچانک افتاد پر مرحا پل بھر کو ہکا بکا رہ گئی۔ پھر اس نے جلد ہی خود کو نارمل کر لیا۔ اسے پتہ تھا وہ جتنا ڈرے گی روشی اسے اتنا ہی ڈرانے کی کوشش کرے گی۔
“لو جی، بڑے پر نکل آئے ہیں تمہارے تو، پہلے نوکرانی کی حیثیت سے تم یہاں جانی جاتی تھیں اور اب تو مہارانی بن کر تمہارے مزاج ہی نہیں مل رہے کسی سے ہونہہ؛ وہ جارحیت سے بولی۔
“میرا بازو چھوڑیں روشی بی بی؛ مرحا نے خود پر ضبط کرتے ہوئے تحمل سے کہا۔
“کیوں چھوڑوں ہاں؟ پہلے میری بات کا جواب دو تم، مت بھولو کہ یہ میری ہی کرم نوازیاں ہیں جس کی بدولت آج تم عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہو ورنہ تمہارے پاس تھا کیا سوائے خوبصورتی کے؛ تمہاری یہ خوبصورتی بھی تمہارے لئے ناسور بن جاتی اگر میں بروقت مدد نہ کرتی تو؛ روشانے کی تلملاہٹ عروج پر تھی۔ مرحا کے لبوں پر دھیمی مگر طنزیہ مسکراہٹ اتر آئی۔
“میں ضرور آپ کی شکر گزار ہوتی اگر آپ کے ارادے نیک ہوتے تو، اس بات کا تو مجھے بخوبی علم ہے کہ آپ یہ نہیں چاہتی تھیں مگر یہ ہو گیا۔ دیکھا جائے تو مجھے سب کچھ مل گیا ہے الحمدللہ، مگر لگتا ہے آپ سے میری خوشیاں ہضم نہیں ہو رہی ہیں روشی بی بی۔۔؛؛ مرحا نے جھٹکے سے اس کی گرفت سے اپنا بازو چھڑایا جس پر وہ مزید سیخ پا ہو گئی۔
“واہ بھئی اب تو چیونٹی کے بھی پر نکل آئے ہیں۔ بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری تو، زیادہ مت اڑو ورنہ پچھتاؤ گی۔۔۔!! روشانے آگ بگولہ ہوتی اطراف میں ایک نظر ڈال کر دھیمے لہجے میں پھنکاری۔
“اور آپ کے لئے بہتر ہو گا کہ آپ کسی بھی قسم کے تماشے کو ہوا نہ دیں، ورنہ اگر سچ سب کے سامنے آ گیا تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جائیں گی آپ!! وہ طمانیت بھرے انداز میں بولی تو روشانے کا چہرہ پہلے تو فق ہو گیا پھر وہاں غصّے کی سرخی نے اپنا رنگ جما لیا۔
“اوہ تو اب ایک معمولی و کم حیثیت ملازمہ مجھے دھمکی دے گی یعنی روشانے شاہ کو؟ وہ کچکچا کر بولی تو مرحا کے ہونٹوں پر بھرپور مسکراہٹ آ گئی۔
“یہ دھمکی نہیں ہے۔ حقیقت بیان کر رہی ہوں۔ خیر اب میں چلتی ہوں۔ فضول کے بحث و مباحثے میں اپنے وقت کا مزید زیاں نہیں کر سکتی میں؛؛ ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات ختم کر کے مرحا تیزی سے وہاں سے نکل گئی جبکہ پیچھے روشانے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔
وہ باورچی خانے میں آئی تو وہاں راکھی سمیت شبانہ بی کو مصروف پایا۔ اس نے شبانہ بی سے اپنی بھوک کا اظہار کیا تو انہوں نے اسے انیکسی میں بھیجا۔ اس کا کھانا ان کا وہیں لے جانے کا ارادہ تھا۔ وہ تھوڑا وقت بھی اس کیساتھ گزارنا چاہتی تھیں۔
مرحا انیکسی کے کمرے میں آ کر پلنگ پر بیٹھ گئی۔ اس کا ذہن زوفا کی طرف چلا گیا ساتھ ہی دل سے اس کے لئے ڈھیروں دعائیں نکلیں۔
وہ تینوں اس قدر جلدی میں ہاسپٹل پہنچے تھے کہ زوفا کا کوئی بھی سامان اس کے ہمراہ نہیں جا سکا تھا اور جاتا بھی کیسے، میر سالار نے اپنے فیصلے کے متعلق پہلے آگاہ جو نہیں کیا تھا۔ اب اس نے سوچا تھا فارم ہاؤس کال کر کے ملازمہ کو زوفا کا تمام سامان پیک کرنے کو کہے گی، میر سالار ڈرائیور کو ایڈریس بتا دے گا تاکہ سامان بآسانی زوفا تک پہنچ جائے۔۔۔!!! سوچتے ہوئے وہ قدموں کی آہٹ پر دروازے کی سمت دیکھنے لگی۔ مگر وہاں میر سالار کو آتا دیکھکر اس کی آنکھیں پھیل سی گئیں۔ وہ تو شبانہ بی کی امید کر رہی تھی۔ وہ دروازے پر کھڑا دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے بھرپور دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ مرحا اسی لحاظ سے بوکھلا کر پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو چلا تھا۔ ٹانگیں الگ کانپنے لگیں۔
“سائیں وہ میں ابھی آتی ہوں کھانا کھا کر؛ بیساختہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر وہ آہستگی سے منمناتی آواز میں بولی تو میر سالار اپنی امڈتی مسکراہٹ کا گلہ گھونٹتے ہوئے آگے بڑھا۔ مرحا نے ہاتھوں کے جھروکے سے اسے اپنی سمت بڑھتے دیکھا تو لرز کر پلنگ پر بیٹھ گئی۔ چہرہ ہنوز چھپا رکھا تھا۔
“کیا یار مسز، مجھے اپنا یہ والا روپ تو دکھا دو؛ مسکراتی آواز پر اس نے ہتھیلیوں کی گرفت چہرے پر مزید سختی سے جما دی۔
“ہرگز نہیں ابھی، کھانا کھا کر آؤں گی۔ آپ سے شرم آ رہی ہے مجھے پلیز دیکھیں؛؛ وہ شرم سے جزیز ہوتی دھیمے سے چلا کر بولی تو میر سالار نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیا، مرحا نے خوف کے مارے ہاتھ ہٹا کر دروازے کی سمت دیکھا پھر سالار کو دیکھا جو بے خودی سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ ایک تو شبانہ بی کے کسی بھی پل آ جانے کا خوف، دوسرا اس شخص کی نظروں کا سامنا کرنا اس کیلئے بے حد مشکل ثابت ہو رہا تھا۔
“سائیں ابھی اماں آ جائیں گی؛ وہ خفیف سی بولی۔
“تو آ جانے دو، اس کو تو جیسے پرواہ ہی نہ تھی۔ مرحا سرخ چہرہ لئے ہونٹ کچلتی نظریں جھکا گئی۔
“تمہارا یہ روپ بہت پیارا ہے مِرحا!! وہ اس کے چہرے پر اپنی والہانہ نظریں دوڑاتے ہوئے اسے خود سے قریب کر گیا۔ لہجہ وارفتگی سے چور تھا۔ مرحا ہولے سے مسکرا دی اور بوجھل پلکیں اٹھا کر اپنے ہمسفر کو دیکھا جس کے چہرے پر اس کے لئے محبتوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔
