No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
جیسے دھاگہ ہو کوئی تسبیح میں، ایسے سانسوں کے درمیاں ہو تم!!
شبانہ بی اس کی بے گناہی سب کے سامنے ثابت ہو جانے پر بہت خوش تھیں۔ انہوں نے اس سے اپنے بھی ہتک آمیز روئیے کی معافی مانگنی چاہی مگر مرحا کو یوں اپنے سامنے ماں کا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنا قطعی گوارا نہ تھا۔ اس نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان سے اس بات کیلئے ہرگز ناراض نہیں ہے۔ چونکہ شبانہ بی کو کام تھے، ایک دو بار اس نے بھی ان کا ہاتھ بٹانے کی خاطر اصرار کیا مگر شبانہ بی نہ مانیں۔ سو وہ کچھ دیر ان کیساتھ وقت بتانے کے بعد اپنے کمرے میں چلی آئی۔
میر سالار نے اسپیشلی اس کے لئے بیوٹیشن ہائر کی تھی جو کہ آج اسے مہندی لگانے آ چکی تھی، جبکہ شادی اور ولیمہ کے روز اسے ریڈی بھی کرنے وہی آ رہی تھی۔ باقی حویلی کی لڑکیوں کیلئے دو بیوٹیشن آنے کو تھی، لیکن میر سالار کسی قسم کی کوئی کشیدگی نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے پہلے ہی اس کا انتظام کر رکھا تھا۔
شنّو (ملازمہ) اس کے کمرے تک بیوٹیشن کو چھوڑ گئی تھی۔ وہ جو نہا کر فارغ ہو چکی تھی۔ نم بالوں کو جوڑے کی شکل دیتی خود دونوں آستینوں و شلوار کو زرا اوپر سرکا کر مہندی لگوانے کو بیٹھ گئی۔ بیوٹیشن نے بہت مہارت سے نہایت ہی خوبصورت و عمدہ ڈیزائن سے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کو آراستہ کیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اس نے ایک نظر دیوار گیر گھڑی کی جانب دیکھا جو اب شام کے ساڑھے چار بجا رہی تھی۔ اس نے گہرا سانس بھرتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی۔ مہندی سوکھنے کے بعد اس نے اپنی تیاری بھی کرنی تھی۔ آج اس کا ارادہ سمپل سی ہی تیاری کا تھا اس لئے وہ خود سے ہی تیار ہونا چاہتی تھی۔
دس سے پندرہ منٹ مزید گزر گئے۔ وہ آنکھیں موندے انہی سوچوں میں گُم تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر سیدھی ہو بیٹھی۔ میر سالار کو اندر داخل ہوتا دیکھکر یکایک اسے ہوش آیا کہ اس کا دوپٹہ تو صوفے پر پڑا ہوا ہے، جبکہ وہ دروازہ بند کرتا اسے گہری نظروں کے حصار میں لئے بیڈ کی جانب بڑھا۔
“واؤ بیوٹیفل، کیا بات ہے مسز!! بیڈ پر بیٹھ کر اس کی مہندی کو بغور دیکھتے ہوئے اس نے سراہا تو مِرحا کے چہرہ کھل اٹھا۔
“بس مہندی سوکھنے کا انتظار کر رہی ہوں سائیں، اس کے بعد نماز ادا کر کے مجھے تیار بھی تو ہونا ہے نا!! مرحا نے پرجوش لہجے میں کہا۔ میر سالار دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔ یکایک مرحا کو اس کی گہری نگاہوں کا احساس ہوا تو وہ پزل سی ہو گئی ساتھ ہی چور نگاہوں سے صوفے کی دیکھا۔
“سائیں، پلیز میرا دوپٹہ تھما دیں مجھے، وہ سرخ پڑتے چہرے کیساتھ خود میں سمٹنے لگی، گویا اس کی نگاہوں سے بچنے کی تدبیر کی۔
“تم مجھے ایسے بھی اچھی لگ رہی ہو بیوی، کوئی مسئلہ نہیں!! میر سالار مسکراہٹ دبا کر بولا۔ لہجہ شرارت آمیز تھا۔ مِرحا بلش کرنے لگی۔ سالار نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے جوڑے کو کھول دیا۔ لمبے و ریشمی بال خوبصورتی سے پشت و کچھ بیڈ پر پھیل گئے۔ مرحا بے طرح بوکھلا گئی اور کچھ خفگی سے اسے دیکھا۔
“سائیں، میری مہندی ابھی پوری طرح سوکھی نہیں ہے؛؛؛ اس نے منہ پھلا کر اپنی مہندی کی جانب اشارہ کیا۔
“مرحا تمہاری مہندی کی خوشبو مجھے اپنے حواسوں پر طاری ہوتی محسوس ہو رہی ہے!! اس کی بات نظر انداز کر کے اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اس کی مہندی کی خوشبو کو محسوس کرتا محسور کن لہجے میں بولا۔
“سائیں، نہ کریں ورنہ رنگ نہیں آئے گا؛؛ مرحا کا منہ ہنوز پھولا ہوا تھا۔
“بالکل آئے گا۔ یو ڈونٹ وری، بس کچھ دیر مجھے خود کو محسوس کرنے دو؛ اس نے سرگوشی نما آواز میں کہہ کر بیڈ پر لیٹ کر تکئے پر سر رکھ لیا ساتھ ہی مرحا کو ہولے سے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس کے پہلو میں آ گری۔ ایک تو وہ بنا دوپٹے کی، اور پھر اس کے اس قدر قریب، سوچتے ہوئے وہ شرم سے چور چور ہو گئی۔ میر سالار سے نظریں ملانا اس کے لئے اس پل سب سے مشکل ترین امر تھا۔ اس نے اس کے سینے میں چہرہ چھپا لیا۔ تاہم اس دوران وہ اپنی مہندی کو بچانے کی بھی بھرپور کوشش میں تھی۔
اپنی پشت پر اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے اس کے دل کی دھک دھک بڑھتی چلی جا رہی تھی۔
“سائیں، آپ نے بھی تو ریڈی ہونا ہوگا،، مرحا نے ہمیشہ کی طرح اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کی۔ رگ و پے میں اس کے ہوشربا لمس سے عجیب سی سنسناہٹ سرائیت کرنے لگی۔
“ڈونٹ ڈسٹرب می وائفی،، میر سالار اسے کمر سے جکڑ کر مزید خود سے قریب کر کے خمار آلود آواز میں بولا۔ مرحا لا محالہ چپ کر گئی۔ اپنی گردن پر اس کی گرم سانسوں کی تپش محسوس کر کے اس کی سانسیں بے ترتیب سی ہونے لگیں۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اس کی آواز اس خاموشی میں صاف طور پر سنی جا سکتی تھی۔
“تمہیں پتہ ہے مِرحا، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں تم میرے لئے رب کی جانب سے کتنا عمدہ و نایاب تحفہ ہو! میر سالار کی محبت پاش آواز پر اس نے حیا کی سرخی لئے اپنی آنکھوں کو کھولا۔ وہ اس پر جھکا اسے والہانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“اور میں بھی آپ کے بارے میں یہی سوچتی ہوں؛؛ اس نے دھیمی مسکان کے ساتھ اس کے خوبرو چہرے کو دیکھا تو میر سالار نے جھک کر عقیدت سے اس کی پیشانی پر لب رکھ دئیے۔
“سائیں، اب مجھے جانے دیں؛، مرحا نے جھجھک کر اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ وہ اس پل مکمل اس پر چھایا ہوا تھا۔ وہ اپنے شرمیلے تاثرات پر قابو پانے کی ناکام کوشش میں ہلکان سی ہو گئی۔ میر سالار نے جھک کر ہولے سے اس کے گال کو چھوا اور پھر اسے اپنی گرفت سے آزاد کر کے سیدھا لیٹ گیا۔ مرحا اس کی ناراضگی کے خیال سے بے اختیار اسے دیکھنے لگی۔ مگر وہ مسکراتی نظروں سے اس کے تاثرات ملاحظہ کر رہا تھا۔
“جاؤ ریڈی ہو جاؤ، تم بھی کیا یاد کرو گی مسز کہ کس سخی سے پالہ پڑا ہے؛ وہ دھیمے مگر آنچ دیتے لہجے میں بولا۔ انداز کچھ باور کراتا و شرارت آمیز تھا۔ وہ جھینپ کر خود کو سمیٹتی بیڈ سے اتری اور سیدھے واشروم میں گھس کر خود کو اندر بند کر لیا۔ میر سالار بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بے اختیار ہنس دیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️ آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے برف کو پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے!! چاہے کوئی تھک جائے چاہے کوئی رہ جائے قافلوں کو چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے!! چاہے کوئی جیسا بھی ہمسفر ہو صدیوں سے راستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے!! یہ تو وقت کے بس میں ہے کہ کتنی مہلت دے ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے!! موم کے بدن لے کر دھوپ میں نکل آنا اور پھر پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے!! سوچ کی زمینوں پر راستے جدا ہوں تو دور جا نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے!!
سکندر شاہ کی کج ادائی و بے حِسی نے اس کے دل میں محبّت کے خلاف جو زہر بھر دیا تھا اسے وہ چاہ کر بھی اپنے دل و دماغ سے نہیں نکال سکتی تھی۔
اب اس کیلئے دوسرا بڑا مسئلہ “ایس۔پی۔حسن؛ تھا، جس نے اس کے سامنے برملا اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ وہ اب پلٹ کر پھر سے انہیں راستوں پر نہیں چلنا چاہتی تھی جنہوں نے اس کی زندگی کو پرخار بنا دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اب یہاں سے نکلنے میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتی تھی مگر ابھی حالات اس کے حق میں اتنے سازگار نہ تھے کہ وہ واپسی کا سوچتی۔ اس کی واپسی کا دارومدار میر سالار کے فیصلے پر معمور تھا۔ بی جان اس کے واپس جانے کا سن کر ہی بے چین ہو جاتی تھیں اور اسے بھی بی جان سے ایک عجیب سی انسیت ہو گئی تھی مگر، بات پھر وہی آ جاتی تھی کہ حسن کے سامنے اب ایک ہی گھر میں رہنا اس کیلئے مشکل ثابت ہو رہا تھا۔
وہ کمرے میں اندھیرا کئے قالین پر بیٹھی بیڈ سے پشت ٹکائے ہوئی تھی۔ ذہن اس لمحے خالی اوراق کی مانند تھا۔ نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر ٹکی ہوئی تھیں۔
“مجھے نہیں پتہ کہ میں نے یہ کر کے صحیح کیا ہے یا غلط مگر مجھے کہیں پڑھے ہوئے الفاظ آج شدت سے یاد آ رہے ہیں کہ “عورت ہمیشہ غلط مرد سے دھوکہ کھانے کے بعد اس کا بدلہ صحیح مرد سے لیتی ہے؛؛؛ یکایک اس کے کانوں میں کوئی زور سے چیخا تھا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ بے بسی سے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
“سکندر شاہ تمہاری نفرت نے میری محبّت کو صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ ہر کسی کیلئے ناسور بنا دیا ہے۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی مر کے بھی نہیں!! اس نے بے دردی سے اپنے گالوں کو رگڑا۔
“یا اللّٰہ مجھے کوئی راستہ دکھا۔ مجھے کوئی ایسا ٹھکانہ دکھا دے میرے مالک، جہاں انسانوں کا گزر بسر نہ ہوتا ہو!! زوفا نے اذیت سے سوچتے ہوئے بیڈ سے سر ٹکا لیا۔ پتہ نہیں کیوں دل کو کسی پل قرار نہیں تھا۔ زندگی اسے اب نجانے اپنا کون سا روپ دکھانے کو بیتاب تھی۔
دل کے ٹوٹ جانے کا اب ملال کیا کرنا پتھروں کی بستی میں آئینے تو ٹوٹیں گے آندھیوں کے موسم میں اس طرح تو ہوتا ہے خوشبوؤں کے پھولوں سے رابطے تو ٹوٹیں گے 🌸🌸🌸🌸🌸
بہت سوچنے کے بعد وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ وہ میر سالار سے اس متعلق بات کرے گا۔ وہ جانتا تھا میر شادی اٹینڈ کر کے ہی واپس آئے گا۔ چونکہ اس نے حسن کو بھی انوائٹ کیا تھا مگر مصروفیات کی وجہ سے وہ نہیں جا سکتا تھا۔ میر سالار خود بھی مصروفیات کے پیشِ نظر وہاں سے فوری طور پر نکلنا چاہتا تھا مگر حرم کی شادی بنا اٹینڈ کئے وہ واپس بھی نہیں آ سکتا تھا۔ حسن سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا سو اس نے کال پر ہی سالار سے بات کرنے کی سوچی۔ اس وقت وہ سٹڈی روم میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے سالار کے نمبر پر کال ملائی۔ کچھ توقف کے بعد دوسری جانب سے اس کی آواز ابھری۔
“یار سالار تجھ سے نہایت ہی ضروری بات کرنی ہے۔ جانتا ہوں تو مصروف ہے مگر میری بات بھی اہم ہے۔ انتظار نہیں کر سکتا تھا!! حسن نے پیشانی مسلتے ہوئے اضطراری انداز میں کہا۔ دل میں کہیں نہ کہیں یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ مبادا سالار اس سے زوفا کیلئے ایسے خیالات رکھنے پر ناراض نہ ہو جائے۔
“ہاں بولو نا، مجھے بھی تو معلوم ہو کہ ایسی کیا بات ہے جو حسن صاحب سے انتظار نہیں ہو رہا!! میر شرارت سے بولا۔
“میں بول تو دوں، پر میں کشمکش میں مبتلا ہوں پتہ نہیں مجھے یہ بات تم سے کرنی بھی چاہئے یا نہیں!! حسن کے لہجے میں لاشعوری طور پر ایک جھجھک در آئی تھی۔ میر سالار بھی سنجیدہ ہو گیا۔
“یار ایسی بھی کیا بات ہے جس کیلئے تمہیں اتنی تمہید باندھنے کی ضرورت ہے؟ بتاؤ تو صحیح، ہو سکتا ہے میں تمہاری کوئی مدد کر سکوں خدانخواستہ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو!! میر سالار نے اسے تسلی دی تو حسن نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اسے تمام روداد سنا ڈالی۔ دوسری جانب میر سالار حیرت کی زیادتی سے چند ثانئے ساکت رہ گیا۔
“واٹ؟ یہ کیا کہہ رہے ہو؟ یہ ہوا کب؟ میر سالار کے لہجے میں حیرت رچی بسی تھی۔
“مجھے خود نہیں پتہ سالار کہ یہ کب ہوا۔ لیکن یقین مانو میرے جذبات ہر قسم کی بناوٹ سے پاک ہیں، یہ الگ بات کہ زوفا کی اب یقین کے راستے کے شناسائی نہیں رہی لیکن کھوٹ میری محبّت میں بھی نہیں ہے!! وہ ہارے ہوئے انداز میں بولا۔
“میں تو ابھی بھی حیرت میں مبتلا ہوں۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تم فکر نہ کرو میں چھوٹی حویلی والوں سمیت زوفا کو بھی اس بات پر راضی کر لوں گا۔ بس زرا وقت درکار ہے۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر تسلی آمیز بات ہو ہی نہیں سکتی یار۔ میں اس بات کی بھرپور گارنٹی دے سکتا ہوں کہ زوفا تمہارے ساتھ بیشک بہت خوش رہے گی۔۔!! سالار نے طمانیت سے کہا۔ لہجہ پرسکون تھا۔ حسن کو اپنے دل پر ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑتی محسوس ہوئی۔
“لیکن تم نے جلدبازی سے کام لیا ہے؛ تمہیں یہ بات سب سے پہلے مجھ سے شئیر کرنی چاہئے تھی تو زوفا شاید تمہاری جانب سے متنفر نہ ہوتی!! سالار کی بات پر وہ خجل سا ہو گیا۔
“صحیح کہا تم نے، میں نے واقعی جلدبازی سے کام لیا ہے۔ لیکن کیا کرتا یار ایسا لگتا تھا اگر دل کا حال بیان نہ کیا تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ کوتاہی تو یہاں ہوئی ہے مجھ سے، خیر تم مجھے یہ بتاؤ کہ زوفا کو کیسے ہینڈل کیا جائے کیونکہ وہ تو یہاں سے جانے پر بضد ہیں!! حسن نے بے چارگی سے پوچھا۔
“میں شادی اٹینڈ کر کے فوری پہنچ رہا ہوں۔ خلع کے پیپرز پر اس کے سائن لے کر میں اسے چھوٹی حویلی پہنچا دوں گا۔ انشاء اللّہ وہ رخصت ہو کر تمہارے ہی گھر واپس آئے گی۔ فکر نہ کرو!! آخر میں میر کچھ شرارت سے بولا تو حسن دھیرے سے ہنس دیا۔
“میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں میرے یار، تو واقعی میرا مخلص ترین دوست ہے جسے میں زندگی میں کبھی نہیں کھونا چاہوں گا۔۔!! حسن نے محبت پاش لہجے میں کہا۔
“بس بس بھائی صاحب، تعریف کچھ زیادہ ہی ہو رہی ہے، یو نو اپنی اتنی تعریفیں مجھ سے زرا کم ہی ہضم ہوتی ہیں!! میر سالار کا بے ساختہ قہقہہ نکلا تھا۔
“نہیں سدھر سکتے تم، یہ بتاؤ ہماری پیاری بھابھی کیسی ہیں؟ امید ہے اچھی ہی ہونگی۔۔!! حسن نے معنی خیز بھری شوخی سے پوچھا۔
“تو جب جانتے ہو تو پوچھ کیوں رہے ہو؟ آف کورس وہ بہت اچھی ہے!! میر نے برجستگی سے کہا۔ آواز میں مسکراتا تاثر موجود تھا۔
“اوئے ہوئے کہا کہنے، چل تو انجوائے کر بعد میں بات ہو گی!! حسن نے کہا تو دوسری جانب اس نے بھی الوداعی کلمات کے بعد فون رکھ دیا۔ ایس۔پی حسن نے سرشاری سے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر نظریں چھت پر جما دیں۔ ہونٹوں پر مدھم مگر خوشی سے لبریز مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ دل قدرے پرسکون ہو چکا تھا۔ اب بس اسے زندگی کے اس فیصلے پر قسمت کی مثبت مہر درکار تھی۔
محبّت مانگتی ہے یوں،
گواہی اپنے ہونے کی،
کہ جیسے طِفلِ سادہ شام کو
ایک بیج بوئے،
اور شب کو بارہا اٹھے،
زمیں کو کھود کر دیکھے،
کہ پودا اب کہاں تک ہے!!
