No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
حرم دل ہی دل میں مکمل طور پر رضامند ہو چکی تھی بس اب وہ اس بات سے سکندر شاہ کو بھی جلد از جلد باخبر کر دینا چاہتی تھی۔ یہی سوچتے ہوئے اس نے سکندر شاہ کے کمرے کا رخ اختیار کیا۔
سکندر شاہ ڈریسنگ روم سے نکلا تو دروازے پر ہو رہی دستک پر آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے حرم کو کھڑا پایا۔ وہ خوشگوار سی حیرت میں مبتلا ہو گیا۔
“حرم تم؟ آج اس خاکسار کی یاد کیسے آ گئی محترمہ؟ وہ سب کچھ بھلا کر قدرے شرارتی لہجے میں بولا۔
“کیا میں اندر آ سکتی ہوں سکندر سائیں؟ حرم نے سنجیدگی سے پوچھا تو سکندر شاہ بھی اس کے انداز پر سنجیدگی اختیار کر گیا۔
“ہاں آؤ نا! وہ دروازے سے ہٹتے ہوئے بولا تو حرم اندر چلی آئی۔ اب سکندر شاہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
“سکندر سائیں، بہت سوچ وچار کے بعد میں نے بالآخر فیصلہ کر لیا ہے! اسی متعلق میں یہاں بات کرنے آئی ہوں۔ حرم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
“بولو حرم میں سن رہا ہوں! تمہارا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر، لیکن پلیز کوئی بھی غلط فیصلہ کرنے سے پہلے ہماری محبت کو ضرور مدِنظر رکھنا۔ سکندر شاہ بیقراری سے کہتے ہوئے صوفے کی دوسری سائیڈ پر بیٹھ گیا۔
“میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں آپ سے شادی کروں گی۔ رہ گئی زوفا تو ویسے تو مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کبھی اسے بیوی کا درجہ نہیں دیں گے مگر پھر بھی میں چاہتی ہوں آپ مجھ سے اس بات کا وعدہ کریں تاکہ یہ بات مزید پکی ہو جائے۔۔۔ وہ سکندر شاہ کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے بولی جبکہ سکندر شاہ کے ہاتھوں جیسے ہفتِ اقلیم لگ گئی۔ خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے اس نے حرم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
“حرم مجھے یقین نہیں آ رہا۔ کیا واقعی میں جو سن رہا ہوں وہ سچ ہے؟ اس نے خوشی سے لبریز لہجے میں پوچھا تو حرم نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں وعدہ کرتا ہوں حرم کہ کبھی بھی زوفا کی جانب پیش و رفت نہیں کروں گا۔ میں اب دادا سائیں سے اس متعلق بات کروں گا پھر انشاء اللّہ ہم بہت جلد ایک خوبصورت بندھن میں بندھ جائیں گے۔۔ وہ پر یقین سا بولا۔ چہرہ خوشی کی شدت سے کھل اٹھا تھا۔
اور اگر اس کا بھائی مل گیا تو آپ اسے طلاق دے دیں گے نا؟ حرم نے کھوجتے لہجے میں سوال کیا۔
“یار یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے بھلا؟ میں بالکل اسے طلاق دے کر فارغ کر دوں گا۔۔۔ ڈونٹ وری مائی لو۔۔۔ وہ پیار سے شہادت کی انگلی سے اس کی ناک چھوتے ہوئے بولا حرم بھی اندر تک مطمئن ہوتی طمانیت سے مسکرا دی لیکن دوسری جانب ایک اور بھی وجود تھا جو اپنی شناخت کھو بیٹھا تھا۔ جس کی پوری ہستی آنسو ہی آنسو بن چکی تھی۔ جس کی زندگی پرخار راستوں سے بھر دی گئی تھی اور جس کی محبت اسی کے لئے ایک روگ بن گئی تھی۔ نہ کوئی تحفہ، نہ کوئی اثاثہ، محض روگ اور مکمل روگ!!!
❤️❤️❤️❤️❤️
اس کی ساری رات نہایت ہی مصروف ترین گزری تھی۔ وہ دو دنوں سے ایک پل کی بھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ صبح کے کہیں سات بجنے کو تھے جب وہ فارغ ہوا۔ فریش ہونے کے بعد وہ بستر پر آ لیٹا۔ کچھ دیر ریسٹ کر کے اسے بڑی حویلی کیلئے بھی نکلنا تھا۔
کچھ سوچتے ہوئے اس نے فون اٹھایا اور فارم ہاؤس کا نمبر ڈائل کیا دوسری جانب وہ گویا اسی کے فون کے انتظار میں فون سے چپکی بیٹھی تھی۔ کال پہلی کے بعد دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لی گئی تھی۔ میر سالار نے ساختہ مسکرا دیا۔
“اسلام علیکم محترمہ، کیا حال ہے، طبیعت اب کیسی ہے، دوا لی تھی؟ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ عقیدت سے پوچھنے لگا۔۔
“ٹھیک ہوں سائیں، طبیعت ٹھیک ہے۔۔ جی دوا تو لے رہی ہوں۔۔ آپ کیسے ہیں؟ دوسری جانب وہ چہک کر بولی۔
“میں تو ٹھیک ہوں مگر لگتا ہے میری غیر موجودگی میں آپ ضرورت سے زیادہ ٹھیک ہیں محترمہ!! اس نے شرارتًا کہا تو مرحا جھینپ سی گئی۔
“ن نہیں سائیں، دراصل میں نے تو آپ کو بہت یاد کیا مگر آپ نے رات فون ہی نہیں کیا۔۔ وہ سر جھکا کر یوں بلش کرتی بولی گویا میر سالار اس کے عین سامنے بیٹھا ہو۔ تاہم لہجے میں تھوڑی خفگی بھی در آئی تھی۔
“اگر آپ اتنا ہی مِس کر رہی تھیں تو کال کر لیتیں مجھے۔ وہاں کے ملازمین کے پاس میرا پرسنل نمبر موجود ہے۔ بائی دا وے یہ میں تمہیں بتانا بھول گیا تھا۔ ویسے مرحا ایک بات بتاؤ۔۔ تم ٹھیک کب ہو گی یار؟ بات کرتے کرتے وہ اچانک لب و لہجہ بدل کر گمبھیر آواز میں بولا۔
“ابھی تو نہیں، ابھی میں بہت بیمار ہوں!!! مرحا نے فوراً سے پیشتر جواب دیا۔
“کہیں یہ مجھ سے بچاؤ کی ادنیٰ سی کوشش تو نہیں مِرحا؟ میر سالار نے مسکراہٹ ضبط کرتے پوچھا دوسری جانب وہ بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان سی بن گئی۔
“کیوں؟ میں آپ سے کیوں بچوں گی؟ آپ کوئی آدم خور تو نہیں ہیں!! وہ اپنی ننھی سی ناک سکوڑتے ہوئے بولی۔
“یس آدم خور تو نہیں ہوں مگر وہ شدت خود میں ضرور رکھتا ہوں جس سے تم،،،،،،،۔۔۔۔۔۔!! اس نے جس معنی خیزی سے کہتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا مرحا شرم و حیا سے وہیں سن ہو گئی۔
“ک کیا مطلب؟ اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
“مطلب تمہیں وقت آنے پر سمجھاؤں گا۔ ویسے میرے سمجھانے کا انداز زرا مختلف ہوگا۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟ میر سالار نے پُر تپش لہجے میں پوچھا۔ مرحا بری طرح سٹپٹا گئی۔
“نہیں تو، میرا مطلب ہاں۔۔۔۔ سرخ پڑتے چہرے کیساتھ اس کے منہ سے بے ربط جملے نکلے۔ دوسری جانب میر سالار کا زندگی سے بھرپور قہقہہ سن کر وہ سخت نروس سی ہو گئی۔
“میرے خیال میں آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ تم بیہوش ہو گئیں تو میرے لئے ہی مسئلہ ہوگا۔ اپنا خیال رکھنا۔ پھر بات ہو گی۔۔ میر سالار نے شوخی سے کہتے ہوئے آخر میں الوداعیہ کلمات کے بعد فون رکھ دیا۔
دوسری جانب مرحا کے لبوں پر اپنی بے ہنگم دھڑکنوں کا شور سنتے ہوئے دھیمی سی شرمگیں مسکان پھیل گئی۔ میر سالار اس کی قسمت کا وہ ستارا تھا جو اس محض اس کے لئے پوری آب و تاب سے چمکتا اس کے وجود کو سر سے پاؤں تک روشنی سے منور کر گیا تھا۔ اس شخص سے محبت دن بہ دن مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔ وہ شخص بیشک اس کے لئے رب کا عطا کردہ ایک نہایت ہی انمول تحفہ تھا اور اپنے نصیب سے ملی ہوئی انمول چیزوں کی قدر کرنا اس کا حق بھی تھا اور فرض بھی۔۔۔!!!
🌸🌸🌸🌸🌸 محبّت ہو بھی جائے تو میرا یہ بخت ایسا ہے!! جہاں پر ہاتھ رکھ دوں میں وہاں پر درد بڑھ جائے محبّت سرد پڑ جائے!!!
وہ زخموں سے لبریز وجود، پھٹے ہوئے کپڑے، و نیلو نیل چہرے و جسم کے ساتھ زمین پر خستہ حال سی پڑی کراہ رہی تھی۔ پہلے کے زخموں میں ابھی بہتری بھی نہ آئی تھی کہ پھر سے ایک نیا زخم اس کے وجود کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کے منہ سے دردناک کراہیں نکل کر زندان کی دیواروں میں گویا سوراخ کر رہی تھیں۔ حفضہ بیگم اپنے رعب و مرتبہ کا مظاہرہ کر کے جا چکی تھیں۔ اب وہاں فقط وہ تھی اور اس کی تنہائی۔
“مجھے معاف کر دیجئے گا بی جان، آپ کی زوفا بہت بدنصیب ہے۔ اتنی بدنصیب کہ اسے آپ کا آخری دیدار تک نہ نصیب ہو سکا۔ میری زندگی میرے لئے ہی ناسور بن گئی ہے۔ یا اللّٰہ اس زندگی سے بہتر تو موت ہے۔ مجھے موت دے دے اللّٰہ۔۔۔۔ اس کی آنکھیں ہنوز بند تھیں مگر وہ زیرلب بڑبڑا رہی تھی۔
جبھی زندان کا دروازہ کھلا اور ناہید (ملازمہ) کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوئی مگر آہٹ پر بھی اس کی آنکھ نہ کھلی۔ رہی سہی طاقت بھی گویا نچڑ کر رہ گئی تھی۔
“یہ لے کھانا کھا لے۔ یہ ڈرامے بازیاں بند کر وڈی آئی۔۔۔ ارے دو روٹی مفت میں کھانے کو مل جاتی ہے رہنے کو ایک پورا کمرہ لیا ہوا ہے۔ پھر بھی ناشکری بن رہی ہے تو۔۔۔ ناہید نے ہاتھ نچاتے ہوئے اینٹھ کر کہا اور ٹرے زمین میں پٹخ کر دندناتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ اس کے جانے کے بعد زوفا بمشکل زمین کا سہارا لیتے ہوئے اٹھی چونکہ ٹرے اس سے قدرے دور رکھی تھی تو خود کو گھٹنوں کے بل گھسیٹتے ہوئے وہ بمشکل ٹرے تک پہنچی اور کانپتے بے جان ہاتھوں سے پانی کا گلاس اٹھا لیا۔ پیاس کے مارے اس کی حلق تو کیا پورے وجود میں کانٹے پڑ گئے تھے۔ بھوک کی بھی شدت عروج پر تھی لیکن پانی کی چاہت اس پر غالب آ گئی تھی۔ وہ ایک ہی سانس میں پانی کا گلاس ختم کر گئی تھی۔
گلاس رکھنے کے بعد اس کے کانوں میں ناہید کی آواز گونجی تو ایک زخمی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔
“تم سہی کہتی ہو میں واقعی بہت خوش قسمت ہوں۔ ایک مثالی مقدر ہے میرا جس کی مثال شاید ہی کہیں ملتی ہو۔۔۔ اس بار وہ خود سے بولتے ہوئے ہنس پڑی اور پھر ہنستی ہی چلی گئی اس بار اس کی کراہوں کی طرح زندان میں اس کی ہنسی کی آواز گونج رہی تھی۔ یکایک دماغ میں کلک ہوا وہ ہنستے ہنستے بالکل چپ ہو گئی۔
“کیا ملا تمہیں محبت کر کے زوفا؟ محرومی، انسو، آہیں، سسکیاں، درد، زلت، رسوائی، تشدد، وحشت، تنہائی، تاریکی، اذیت۔۔۔ واقعی تمہارے پاس اتنا سب کچھ تو ہے پھر بھی تم ناشکری بن رہی ہو! وہ آنکھیں میچ کر خود سے باتیں کرتے ہوئے بے آواز گرتے اشکوں کی برسات میں بھیگنے لگی۔ پھر اس کی سسکیاں تیز تر ہوتی چلی گئیں۔
“یا اللّٰہ مجھے اپنے پاس بلا لے۔ مجھے پتہ ہے تو ہی صرف میرا ہے۔ یہ دنیا بہت سنگدل ہے۔ مجھے مزید اب یہاں نہیں رہنا۔ مجھے اپنے پاس بلا لیں بی جان خدا کیلئے۔۔۔ وہ اب دہاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔ اس وقت وہ ہوش و خرد سے بیگانہ لگ رہی تھی۔
جو اذیت اس کا مقدر بن چکی تھی اس نے اس کی ہستی کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ وہ ایک نامعلوم بند گلی میں تن تنہا اس رہزن کی مانند کھڑی تھی جس کا سارا سامان ازراہِ سفر لوٹ لیا گیا ہو اور وہ بالکل تہی داماں رہ گیا ہو۔
یہ ستارے یہ شبنمی آنسو نہ بہاؤ یہ قیمتی آنسو!! کل بھی آنسو تھے آج بھی آنسو ہو گئی اپنی زندگی آنسو!! 💛💛💛💛💛
اپنے اہم کام سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جب وہ حویلی پہنچا تو شام کے چار بج چکے تھے۔
بڑی حویلی میں اس وقت سارے ہی صحن میں شام کی چائے پر اکھٹے بیٹھے اِدھر اُدھر کی گپ شپ میں مصروف تھے۔ وہ وہیں چلا آیا۔ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے سلام کیا تو سب چونک کر اس کی جانب متوجہ ہو گئے۔ سائرہ بیگم بھی وقتی طور پر ناراضگی چھوڑے بیٹے کو دیکھ کر بے طرح نہال ہو گئیں۔ البتہ مورے کا منہ بن گیا تھا۔
“ارے واہ، آج حویلی کی یاد کیسے آ گئی برخوردار؟ سب خیریت تو ہے نا؟ وہاج شاہ نے چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا۔ لہجہ عجیب سا تھا۔ میر سالار گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“کیوں کیا میں کبھی بنا کسی خیریت کے یہاں حاضر نہیں ہوا ہوں کیا؟ اس نے اسی سنجیدگی سے پوچھا تو وہاج شاہ کے لبوں پر تمسخر در آیا
“ہماری عزت خاک میں ملا کر اگر تم اب بھی خیر و خیریت سے ہو تو لعنت ہے ایسی نافرمان اولاد پر۔۔۔ وہاج شاہ نے غراتے ہوئے کہا تو میر سالار چہرہ اوپر کر کے بے ساختہ ہنس دیا۔ زیشان شاہ سمیت ان کے بقیہ بھائی بھی میر سالار کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سائرہ بیگم کو اب دوبارہ غصہ آنے لگ گیا تھا۔ وہ بھی کڑے تیوروں سے بیٹے کی جانب دیکھنے لگیں مگر وہ وہاں متوجہ نہ تھا۔
“خود تو آپ کی مثالی انصاف کرنے والی عادت نے آپ کی عزت میں چار چاند لگا دیا ہے۔ پھر بھی آپ کو شکوہ ہے تو ناحق ہے۔ وہ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر جتانے والے لہجے میں بولا۔
“خاموش ہو جاؤ میر، تم میرے فیصلے پر انگلی اٹھانے والے کون ہوتے ہو؟ میرا جو دل چاہے گا میں کروں گا سمجھے!! وہاج شاہ غرا کر بولتے ہوئے غصّے سے پھٹ پڑے۔ سکندر شاہ سمیت سارے لڑکے بھی خاموشی سے اس تماشے کو ملاحظہ کر رہے تھے۔
“تو پھر آپ مجھ سے اس بات کی امید کیوں رکھتے ہیں کہ میں ہر کام آپ سے پوچھ کر کرتا پھروں گا؟ جس طرح آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں ٹھیک اسی طرح میں بھی با اختیار ہوں۔ میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ میری زندگی میں دخل اندازی کرے،،، ورنہ۔۔۔۔۔،،، سرد لہجے میں کہتے ہوئے وہ سختی سے ہونٹ بھینچ گیا۔
“ورنہ؟ ورنہ کیا کرو گے تم ہاں؟ زیشان شاہ نے تیز لہجے میں پوچھا۔ غصّے سے وہاج شاہ سمیت مورے و ان کے بیٹوں کا چہرہ سرخ انگارہ ہو رہا تھا۔ جبکہ باقی سب ساکت سے سانس روکے اپنی اپنی جگہ بیٹھے تھے۔
“ورنہ یہ کہ میں بھول جاؤں گا کہ یہاں کا کوئی فرد میرا بھی کچھ لگتا ہے۔ میں میر سالار ہوں سکندر شاہ نہیں، مجھے کٹھ پتلی سمجھنے کی غلطی بھی مت کیجئے گا۔ کروں گا میں وہی جو میرا دل کرے گا۔۔۔۔!! اس نے انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے کہا تو سکندر شاہ کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ ہو گیا۔ حرم اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئی۔
“سالار خاموش ہو جاؤ، کچھ احساس ہے تمہیں کیا بول رہے ہو تم!! تمہارے دادا سائیں نے اگر کوئی فیصلہ کیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔ ویسے بھی وہ جرگے کے سرپنچ ہیں۔ سائرہ بیگم اٹھ کر اونچی آواز میں بولیں تو میر سالار محظوظ ہوتا سر ہلانے لگا۔ مورے اسے خونخوار نگاہوں سے یوں دیکھ رہی تھیں جیسے کچا چبا جائیں گی۔
“واقعی یہ تو سہی کہا آپ نے، یہ جرگے کے سرپنچ تو ہیں مگر میں سوچتا ہوں کبھی کبھی کہ کیوں ہیں۔ جس قسم کا عدل ہے ان کا اس سے تو مجھے ہمارا روشن مستقبل صاف نظر آ رہا ہے۔۔ اس نے تیکھا سا وار کیا۔ وہاج شاہ دانت کچکچاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“زیشان بہتر ہوگا تم اپنی اولاد کو سمجھا لو۔۔۔ مجھ سے آج تک کسی نے ایسی گستاخی نہیں کی۔ تمہارا بیٹا ہر حد سے تجاوز کر رہا ہے زیشان! وہ دانت پیستے ہوئے زیشان شاہ سے بولے تو وہ بھی میر سالار پر ایک دہکتی ہوئی نظر ڈال کر اثبات میں سر ہلا گئے۔ میر سالار کندھے اچکا کر رہ گیا۔ اس کے بعد وہاج شاہ بیٹوں سمیت تن فن کرتے مردان خانے میں چلے گئے۔
“میں پوچھتی ہوں کیا تم یہاں یہ کرنے آئے ہو لڑکے جواب دو؟ مورے نے تلملاتے ہوئے کہا۔
“درست فرمایا آپ نے!! اس نے ہلکے سے سر خم کرتے ہوئے جواب دیا تو مورے کو مزید آگ لگ گئی۔
“خیر فلحال کیلئے میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے کل تک میری واپسی ممکن ہو۔۔۔ اس نے سنجیدگی سے سائرہ بیگم پر نظریں جمائے ہوئے انہیں جیسے بہت کچھ جتایا۔ غصّہ اپنی جگہ مگر وہ تڑپ کر رہ گئیں۔۔۔ وہ اتنے دنوں بعد آیا بھی تھا تو یہ کیا تماشا برپا ہو گیا تھا۔ وہ بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئیں۔ جبکہ میر سالار کو کہیں نہ کہیں اس تماشے کی توقع تھی۔ وہ سختی سے لب بھینچ کر سرد تاثرات سمیت نگاہیں پھیرتے ہوئے واپسی کے لئے پلٹا ہی تھا کہ مورے کی آواز پر اس کے قدم وہی رک گئے۔
کیا بات ہے تمہارے ساتھ تمہاری وہ نوکرانی نہیں آئی؟ ہاں بھئی آتی بھی کیوں، منہ دکھانے کے قابل جو نہیں رہی! مورے نے تمسخر اڑایا۔ ان کی بات پر میر سالار کے بھینچے تاثرات کچھ اور بھی بھینچ گئے۔ وہ پلٹا اور مضبوط قدموں سے چلتا ہوا ان کے دیوان کے پاس آ رکا۔
پہلی بات کہ وہ میری بیوی ہے لہٰذا اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ادب و تمیز کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ دوسری بات وہ آئے گی مگر محدود مدت کیلئے، دوسری صورت میں میں اسے اس جنگل میں جانوروں کے بیچ اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتا نا! آئی ہوپ اب آپ سب کی ناقص عقل میں میری بات سمائی ہوگی! میر سالار نے بھرپور سنجیدگی سے دوبدو جواب دیا تو مورے تو گویا جلتے ہوئے توے پر جا بیٹھیں۔ وہاں بیٹھے افراد منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
اپنے کمرے میں جانے کیلئے راہداری سے مڑتے اس نے برآمدے کی پچھلی سیڑھیوں کی جانب رخ کیا جبھی سیڑھیوں کی نچلی سائیڈ میں بنے کمرے سے آہوں و کراہوں کی آواز پر اس کے قدم وہیں جم سے گئے۔ اس نے چونک کر اس کمرے کی جانب دیکھا جس کا دروازہ ادھ کھلا ہوا تھا۔ وہ نافہم تاثرات کیساتھ سیڑھیاں اترتا ہوا اس کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
جاری و ساری ہے
