No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
واؤ آفیسر، یہ یقیناً تمہاری وائف ہے نا؟ وہ مِرحا کو سر سے پاؤں تک گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے میر سالار سے پوچھنے لگی جبکہ وہ بنا کچھ بھی کہے محض لب بھینچے دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ ہم سب کو خبر تھی کہ تم آ رہے ہو انفیکٹ ایک آفیسر کی بیوی رہ چکی ہوں میں بھی، اب ان سب معاملات سے باخبر رہنے کی مجھے عادت جو پڑ گئی ہے۔ وہ ناز سے اٹھلاتی ایک ادا سے اپنے بال پیچھے جھٹک کر بولی۔ مِرحا کے چہرے کے زاوئیے بگڑ سے گئے۔ اسے یہ محترمہ قطعی پسند نہیں آئی تھی۔ ایک تو اس نے اس قدر بیہودہ لباس زیب تن کر رکھا تھا کہ اسے میر سالار سے خود بخود شرم آنے لگی تھی۔
“دیکھ رہا ہوں کہ بے حیائی کی اعلیٰ مثال ہو تم؛ دور رہو مجھ سے ورنہ تمہارا انجام تمہارے شوہر سے بھی بدتر ہوگا۔ وہ سلگتے لہجے میں اسے وارن کرتے ہوئے بولا تو سامنے کھڑی اس لڑکی کا چہرہ اہانت سے لال ہو گیا۔
“دیکھو آفیسر، میرا شوہر بھلے ہی غدار تھا مگر تم نے اس کی جو جمع پونجی قانونی کسٹڈی میں لے رکھی ہے وہ آزاد کر دو، ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ وہ چیختے ہوئے بولی تو میر سالار کے چہرے پر استہزائیہ تاثر بکھر گیا۔ وہ دو قدم آگے بڑھتا اس لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہو گیا۔ مرحا پلکیں جھپکاتی اس صورتِحال کو دیکھ رہی تھی۔ یہ سب کچھ اس کی سمجھ سے باہر تھا
“تم اپنے شوہر کی جس حرام جمع پونجی کے متعلق بات کر رہی ہو وہ اس نے غلط طریقے سے جمع کر رکھی تھی یہ تم بھی بہتر جانتی ہو۔ رہ گئیں تمہاری یہ دھمکیاں،،، ان کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بہتر ہوگا وقت سے پہلے باز آ جاؤ ورنہ تمہارا بھی علاج ہے میرے پاس۔۔۔ چبا چبا کر کہتے ہوئے وہ مرحا کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھ گیا۔
مرحا کو اس لڑکی سے اب شدید ترین جلن کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کے خیال میں معاملہ چاہے جو بھی تھا مگر یہ لڑکی میر سالار کو ادائیں دکھا کر اپنی طرف راغب کرنا چاہتی ہے؛ اس سوچ کے آتے ہی اس کے اندر جوار بھاٹا پھٹ پڑا۔ شہلا ابھی بھی اپنی جگہ کھڑی ان دونوں کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔
“اپنی انہی سوچوں میں گم وہ لان سے اندر کی جانب بڑھی ہی تھی کہ تھوڑی دور چلنے کے بعد ہی وہ بری طرح بے توازن ہوتی ہوئی زمین پر جا گری۔
“آہ اللّٰہ جی۔۔۔ اس کی حلق سے بے اختیار چیخ نمودار ہوئی۔ میر سالار جو فون پر مصروف تھا بے ساختہ پلٹا اور مرحا کو زمین پر گرا دیکھ کر برق رفتاری سے فون پاکٹ میں ڈالتا اس کے قریب آ گیا۔
“کیا ہوا؟ کیسے گر گئی تم؟ ہیلز پہن کر چل نہیں سکتیں تو پہننے کی ضرورت کیا تھی ہاں؟ وہ گھٹنوں کے بل لان کی گھاس پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ لہجہ بے حد فکرمندانہ تھا۔ مرحا دل ہی دل میں خوشگوار احساس سے گھر گئی۔ بنا کوئی جواب دئیے وہ اسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ اس کے پاؤں کا جائزہ لیتے ہوئے میر سالار نے اچانک اپنی مقناطیسی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ سٹپٹا گئی۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں محترمہ، جواب آج کی صدی میں مل جائے گا مجھے؟ وہ تلملا کر بولا تو پہلے تو مرحا نے چور نظروں سے پیچھے دیکھا اسے ابھی بھی وہ لڑکی وہیں کھڑی انہیں گھورتی نظر آئی پھر اس نے میر سالار کو دیکھا۔
“سائیں مجھے یہاں چوٹ آئی ہے! اس نے رونی صورت بنا کر ہاتھ کے اشارے سے بتاتے ہوئے روہانسے لہجے میں کہا۔ حالانکہ وہ بس بے توازن ہو کر گر پڑی تھی۔ اسے کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔ مگر اس نے سوچ لیا تھا آج وہ اس لڑکی کو مزا چکھا کر رہے گی تا کہ اگر وہ اس کے سائیں کے بارے میں کچھ ایسا ویسا سوچ رہی ہے تو وہیں فُل اسٹاپ لے لے۔
کہاں؟ یہاں؟ میر سالار نے تشویش سے پوچھتے ہوئے اس کے پنجوں سے تھوڑا اوپر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا کیونکہ اس نے وہیں بتایا تھا۔
“نہیں سائیں یہاں نہیں۔۔۔ وہ زبردستی آنکھوں کو رگڑتی ہوئی بولی۔
“تو پھر کہاں؟ سالار کی تشویش مزید بڑھ گئی۔ اس نے اس کے پیروں کا جائزہ لیتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
“میں بتاتی ہوں سائیں، دراصل میں بھول گئی۔ ایک منٹ رکیں۔۔۔ وہ کہتے ہوئے خود بھی اس نادیدہ چوٹ کے نشان تلاش کرنے لگی جو دراصل اس کے پیروں پر کہیں تھے ہی نہیں۔۔۔ میر سالار زچ ہوتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کر دیا۔
“تمہیں ایسے ہی بیوقوف نہیں کہتا میں، اب بتاؤ چل سکوگی یا نہیں؟؛ وہ دھیمے لہجے میں غصّے سے بولا۔
تو مرحا نے موقعے کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ ساتھ ہی دوبارہ زرا سا پیچھے مڑ کر دیکھا تو شہلا اب کسی سے فون پر مصروف تھی مگر نظریں ابھی ابھی ان دونوں پر ہی جمی ہوئی تھیں۔
اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میر سالار گہرا سانس بھرتا آگے بڑھا اور اسے کسی ربڑ کی گڑیا کی مانند اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا اور مضبوط قدموں سے چلتا آگے بڑھ گیا۔ مرحا کے رگ و پے میں جیسے بھونچال سا آ گیا۔ اس شخص کی قربت کسی سحر کی سی تھی جو اسے ہمیشہ اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی تھی۔
میر سالار کے کندھے پہ تھوری ٹکاتے ہوئے اس نے اس لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات بگڑے ہوئے تھے پھر وہ جھٹکے سے پلٹ کر کھلے گیٹ سے باہر نکل گئی۔ مرحا کے اندر گدگدی سی ہونے لگی۔ اپنی کامیابی پر وہ ایسے خوش ہو رہی تھی گویا ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کر لی ہو جبکہ اس کے برعکس میر سالار بھرپور سنجیدہ تاثرات لئے ہوئے تھا۔
💛💛💛💛💛
کہتے ہیں انسان کو سولی پر بھی نیند آ جاتی ہے ٹھیک اسی طرح اپنی تقدیر پر ماتم کرتے کرتے وہ اپنے اس قیدخانے میں کب نیند کی وادی میں اتر گئی پتہ ہی نہ چلا۔ نہ جانے کتنی دیر گزری تھی کہ اس کی آنکھ جھٹکے سے کسی کے جھنجھوڑنے پر کھلی۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو راکھی اس پر جھکی ہوئی تھی۔
“او مہارانی اٹھو اب، سمجھی، یہ لے میری اترن پہن لے۔ شاہ بی بی کا حکم ہے کہ فوراً کپڑے تبدیل کر کے تو حویلی چل ساتھ میرے۔۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا جوڑا زوفا پر اچھالتے ہوئے تنتنا کر کہا تو وہ حویلی جانے کا سن کر ہی کانپ گئی۔ نہ جانے اب کون سے ستم باقی تھے جو اس پر ڈھانے تھے۔
جوڑا ہاتھوں میں تھامے وہ آہستگی سے چلتی ہوئی واشروم میں چلی گئی۔ اپنے زخموں کو پانی سے صاف کر کے اس نے خود پر بھی پانی گرایا اور راکھی کے کپڑے پہن کر باہر نکل آئی۔ جو کپڑے اس نے پہلے پہنے تھے ان کی حالت اب ایسی نہیں تھی کہ وہ انہیں دوبارہ پہننے کا سوچتی سو وہ کپڑے ہاتھوں میں ہی لئے وہ باہر آئی تھی۔ راکھی جو اس کی منتظر کھڑی تھی۔ کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھورا۔
“راکھی یہ کپڑے کدھر پھینکوں میں؟ میرا مطلب یہ صحیح نہیں ہیں۔۔۔ وہ آہستگی سے پوچھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ لہجہ نم سا ہو گیا تھا۔
ہونہہ،، مہارانی کو شہزادیوں والی آن بان چاہئے اب؟ یہ مت بھول زوفا کہ تو ونی میں آئی ہوئی ہے۔ تو شہزادی تو تھی لیکن پہلے، یہاں تو صرف غلام ہے لہذٰا صرف غلامی کر، اپنی اوقات مت بھول۔۔۔ چھیتی آ۔۔۔ اس کے ہاتھ سے کپڑے جھپٹ کر وہ تن فن کرتی باہر نکل گئی۔ جبکہ راکھی کے اس انداز پر وہ کچھ ثانئے کے لئے ساکن رہ گئی۔ یہ وہی راکھی تھی جو اس کے بڑی حویلی آنے پر خوشی سے ناچتی پھرتی تھی۔ اور آج اس کا یہ ہتک آمیز رویہ دیکھکر زوفا کا دل دکھ سے لبریز ہو گیا۔
واقعی وقت اور حالات انسان کو کہاں سے کہاں لا کھڑا کرتے ہیں۔ ایک معمولی سی کم حیثیت ملازمہ بھی اب “زوفا شاہ؛ کو اس کی یہاں حیثیت کا اندازہ دلا رہی تھی۔
دکھوں میں ڈوبی نہ جانے کتنی دیر وہ یونہی کھڑی رہتی کہ راکھی پھر سے دندناتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے زخموں سے بھرے بازو کو اس بیدردی سے کھینچا کہ اس کی روح تک گویا تڑپ اٹھی۔
تجھے کہا تھا میں نے کہ چھیتی آ مگر تیرے تو نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے۔ کیا چاہتی ہے کہ شاہ بی بی خود یہاں آ کے تجھے اپنے طریقے سے حویلی لے جائے؟ وہ غصّے سے ہاتھ نچا کر بولی تو بنا ایک لفظ بھی کہے زوفا اپنے بے تحاشہ درد کرتے بازو کو سہلاتے اس کے ساتھ حویلی کی جانب چل پڑی۔
خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اجڑ گئیں
تنہائیوں کی دھوپ نے چہرہ جلا دیا
🌸🌸🌸🌸🌸
سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے ایک کمرے کا دروازہ کھول کر میر سالار اسے لئے اندر داخل ہوا اور پٹکنے کے سے انداز میں بیڈ پر بٹھا دیا۔
“تم جتنی احمق لڑکی میں نے اب تک کی زندگی میں کہیں نہیں دیکھی۔۔ وہ کام کرتی ہی کیوں ہو جو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں؟ بیڈ کے دونوں اطراف میں ہتھیلیوں کو ٹکاتے ہوئے وہ اس کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑتا دہکتے لہجے میں بولا۔
“و، وہ سائیں س سچ میں چوٹ آئی ہے؛ اس نے سر جھکا کر منمناتے ہوئے کہا۔
شٹ اپ! وہ تیز لہجے میں بولا تو وہ حواس باختہ ہو گئی۔ ایک تو اس شخص کا غصّہ بھی بن بلائے مہمان کی طرح حاضر ہو جاتا تھا۔
“کچھ دیر ریسٹ کرو رات کے بارہ بجے تک مجھے نکلنا ہے۔ ٹائم پر تیار رہنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ تپتے ہوئے انداز میں کہتا وہ ہاتھ ہٹا کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔
“بارہ بجے؟ میرا مطلب سائیں ہم رات کے بارہ بجے کہاں جائیں گے؟ وہ ہکلاتے ہوئے حیران پریشان سی بولی۔
ڈاکہ ڈالنے، چلیں گی میرے ساتھ؟ ایک بار پھر وہ اس کی جانب اسی انداز میں جھکتا اس کی ہرنی کی طرح سہمی ہوئی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے طنزیہ لب و لہجے میں بولا تو مرحا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
“ک، کیا ڈ،، ڈاکہ؟ نہیں ہرگز نہیں سائیں، قسم سے اپنی پوری زندگی میں میں نے ایک روپیہ تک کسی کا نہیں چرایا اور آپ مجھے ڈاکہ ڈالنے کیلئے ساتھ لے کر جائیں گے؟ ہائے میں یہ نہیں کروں گی میں مر جاؤں گی۔۔!! منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بھرائی ہوئی آواز رونے کے قریب آ گئی۔ آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئی تھیں۔ میر سالار نے سرد مگر گہری نگاہوں سے اسے دیکھا اور زچ ہو کر سر کو ہلکے سے نفی میں ہلاتے ہوئے بنا کچھ بھی کہے شرٹ کے بٹن کھولتا ہوا وارڈروب سے کپڑے نکال کر واشروم کی جانب بڑھ گیا۔ وہ ابھی بھی صدمے کی سی کیفیت میں وہیں کی وہیں بیٹھی تھی۔
وہ چینج کر کے نکلا تو وہ اسی زاوئیے پر بیٹھی تھی۔
“اگر تمہارا مراقبہ ختم ہو گیا ہو تو اب سو جاؤ۔۔۔ مجھے وقت کی پابندی بہت عزیز ہے لہذٰا کوتاہی نہ ہو۔۔ وہ لفظ بہ لفظ زور دیتے ہوئے بولا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی مگر پھر فوراً ہی نظریں جھکا لیں۔ چہرے سے ناراضگی کا عنصر صاف طور پر نمایاں تھا۔
میر سالار لائٹ آف کرتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بیڈ کی طرف آ گیا۔ وہ بھی ڈری سہمی سی ایک کونے پر کروٹ کے بل لیٹ گئی۔ سائیڈ لیمپ آف کرتے ہوئے اس کا خوف سے سہما ہوا سراپا دیکھتے ہوئے وہ بمشکل ہونٹوں کے گوشوں سے امڈتی اپنی خوبصورت مسکراہٹ کا گلہ گھونٹتے ہوئے بیڈ پر سیدھا لیٹ گیا۔ نائٹ بلب کی مدھم روشنی کمرے کی فضا کو خوابناک سا بنا رہی تھی۔
دوسری جانب مرحا بی بی کے تو ہوش ہی اڑے ہوئے تھے۔
“سائیں آپ پولیس ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکو بھی نکلیں گے یہ میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ اور اب آپ چاہتے ہیں میں بھی ڈاکونی بن جاؤں۔۔۔ نہیں۔۔۔ سوچتے ہوئے اس کے ہاتھ پیر مزید پھولنے لگے۔
“تمہارا آج سونے کا ارادہ ہے کہ نہیں؟ کمرے کی خاموش فضا میں سالار کی سنجیدہ آواز گونجی تو وہ ہونق سی ہو گئی اور جلدی سے آنکھیں بند کر لیں۔
“جادو گر بھی ہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا مجھے؛ کلستے ہوئے اس نے سوچا۔ نیند میں جانے سے پہلے یہ آخری سوچ تھی جو اس کے ذہن میں آئی تھی۔
😍😍😍😍😍
رات کے دس بجنے کو تھے جب وہ راکھی کے ہمراہ لرزیدہ قدموں سے حویلی آئی تو وہاں سب ڈائننگ روم میں رات کے کھانے پر موجود تھے۔ راکھی اسے ڈائننگ روم کے دروازے پر چھوڑ کر اسے اندر جانے کا اشارہ کرتی ہوئی خود کسی اور طرف نکل گئی۔
خوف سے دھڑکتے دل کیساتھ وہ اندر داخل ہوئی تو سب کی نظریں ایک لے سے اس پر اٹھیں۔ سلیقے سے دوپٹہ سر پر اوڑھے، نظریں جھکائے وہ مورے سے تھوڑا فاصلے پر جا کھڑی ہوئی۔ وہاں سکندر شاہ بھی موجود تھا۔ ایک اچٹتی ہی سہی مگر زوفا کی نظر اس پر گئی تھی۔ اس شخص کو دیکھکر اسے اپنے تمام درد بین کرتے محسوس ہونے لگے۔
“اسے اس کی حقیقت سے روشناس کرایا یا نہیں؟ وہاج شاہ نے مورے کی سمت دیکھتے ہوئے زہرخند لہجے میں پوچھا
کیوں نہیں، حفضہ نے اچھی طرح اوقات بتا دی ہے اسے اسکی، مگر پھر بھی مہارانی کے ناز نخرے عروج پر ہیں۔ خود سے کیوں نہیں آئی کام کیلئے حویلی میں بول؟ شاہ بی بی اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے بال جارحانہ انداز میں اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر غرائیں تو بے اختیار زوفا کی سسکی نکل گئی۔
“مورے خدا کیلئے چھوڑ دیں بہت تکلیف ہو رہی ہے مجھے؛ وہ بھیگی آواز میں التجا کرتی ہوئی بولی
“ہونہہ، ہاہاہاہا۔۔۔ یہ تکلیف اس تکلیف کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے جو تم لوگوں نے ہمیں پہنچائی ہے۔ خبردار جو آگے سے میرے یا اس حویلی کے کسی فرد کے آگے رونا رویا تو،،، اور آئیندہ سے مجھے مورے نہ کہنا۔ تجھے کتنی بار بولوں ہاں؟؟؟ ہذیانی انداز میں اس کے بال چھوڑتے ہوئے انہوں نے بیدردی سے اس کے کندھوں کو پکڑ کر کھسوٹتے ہوئے کہا تو وہ درد کی شدت سے بلبلا کر رہ گئی۔ بے اختیار اس کی نظریں سکندر شاہ کی جانب اٹھیں مگر وہ یوں لاپرواہی سے کھانے کی جانب متوجہ تھا جیسے اس کے آس پاس اس وقت سب کچھ نارمل چل رہا ہو۔ وہاں کچھ لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے تو کچھ کھانے سے ہنوز انصاف کرنے میں مصروف تھے جس میں سرِ فہرست سکندر شاہ بھی تھا۔
اس کی بے اعتنائی دیکھکر زوفا کا دل دہاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ ساتھ ہی اس کی نظریں حرم کی جانب اٹھیں جو کھانے سے انصاف کرتے ہوئے تند نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اتنی دوری سے بھی اس کی نظروں سے چھلکتی حقارت کو زوفا صاف طور پر دیکھ سکتی تھی۔
“کیا دیکھ رہی ہے ہاں، آنکھیں نکال لوں گی تیری۔۔۔ جا جا کر برتن دھو آج تجھے سونا نہیں ہے یہی تیری سزا ہے؛ مورے کی چنگھاڑتی ہوئی آواز پر وہ ہوش میں آئی اور پھر سے ایک اذیت بھری نظر سکندر شاہ پر ڈالتی ہوئی وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کیساتھ حویلی کے باورچی خانے کی اور بڑھ گئی۔
اس زمانے میں میرے یار کہاں ملتے ہیں اپنے دامن میں محبت کو بسائے ہوئے لوگ تجھ کو ائے شخص مگر زیست کی تنہائی میں یاد آئیں گے ہم عُجلت میں گنوائے ہوئے لوگ 🥀🥀🥀🥀🥀
دو گھنٹے کی نیند لینے کے بعد میر سالار سمیت وہ بھی وہاں سے نکلتے ہوئے گاڑی میں آ بیٹھے۔ اپنے بیگز وغیرہ اس نے اسی گھر میں چھوڑ دئیے تھے کیونکہ میر سالار کا واپسی کا ارادہ تھا۔ کم از کم مرحا کو تو یہی لگا تاہم اس نے اس سے اس بابت کچھ نہیں پوچھا۔
سفر ہمیشہ کی طرح خاموشی سے گزر رہا تھا۔ وہ کھڑکی سے ٹیک لگائے باہر دیکھنے میں مگن تھی مگر اس تاریکی میں ہر شئے دھندلی دکھائی دے رہی تھی۔
جبھی سالار کا موبائل بپ کرنے لگا۔ اس نے کال ریسیو کرتے ہوئے اسپیکر آن کیا۔
“سر ایک اہم خبر ہے۔ جو ہم نے سوچا تھا وہی ہوا راستے میں شہلا اپنے کچھ آدمیوں کیساتھ گھات لگائے ہوئے ہے سر۔ محافظوں سے کہئے وہ الرٹ رہیں۔ ہم بھی پہنچ رہے ہیں۔۔۔!! دوسری جانب سے آتی آواز پر مرحا خوف و ہراس سے گنگ رہ گئی اس کے برعکس میر سالار نارمل ہی تھا۔
“تم گھبراؤ نہیں، کچھ نہیں ہوگا۔ اچھا ہے اسی بہانے اس کے بھی آدمی سامنے آئیں گے، اس کو تو میں دیکھ لوں گا۔ دہکتی ہوئی آواز میں کہہ کر اس نے کال کٹ کر دی اور کار کی اسپیڈ مزید بڑھا دی۔ مرحا کا دل خوف سے سکڑنے لگا۔
“سائیں سنیں، ہماری جان کو خطرہ ہے کیا؟ اس بار آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگ ائے تھے۔ سالار نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سامنے سڑک پر نظریں جما دیں۔ گاڑی اب جنگل کے راستے سے گزر رہی تھی۔ ہر طرف تاریکی ہی تاریکی تھی۔ مرحا کا خوف دوچند ہو گیا
“بے فکر رہو، مختصر کہتے ہوئے اس نے موڑ کاٹا جبھی گولیاں چلنے کی آواز پر وہ چیختی ہوئی میر سالار کے بازو سے لگ گئی۔ میر سالار کو بھی فوری گاڑی روکنا پڑی تھی۔ اس کے تمام محافظ بھی برق رفتاری سے گاڑی سے اتر جوابی کاروائی کرتے ہوئے جنگل کے اطراف میں بکھر گئے۔ مرحا کے آنسو متواتر بہتے چلے گئے۔ اس ساری صورتحال سے وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔
“مرحا بات سنو میری کیپ کوائٹ! میر سالار جب اس کے مسلسل رونے سے عاجز آ گیا تو اونچی آواز میں بولا۔ مرحا کے آنسو وہیں جم گئے۔
“یہ رونا دھونا بند کرو اور میری بات غور سے سنو! تم یہیں گاڑی میں بیٹھی رہو بنا کوئی آواز کئے میں بس ابھی آیا۔۔۔ وہ عجلت میں کہتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولنے کو ہی تھا کہ مرحا نے ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کا بازو تھام لیا وہ پلٹ کر اسے تیز نظروں سے اسے گھورنے لگا۔
“سائیں پلیز مت جائیں وہ لوگ آپ کو مارنا چاہتے ہیں؛ خدا کیلئے مت جائیں!! اس کی نظروں کی پرواہ کئے بنا ایک بار اس کے آنسو بہہ نکلے۔
“نہایت ہی کوئی احمق لڑکی ہو تم، میں بزدلوں کی طرح یہاں نہیں بیٹھ سکتا آئی سمجھ۔ مجھے اپنا مشن کمپلیٹ کرنا ہے۔ تم چپ کر کے یہاں بیٹھو بس کچھ ہی وقت کی بات ہے! وہ چبا چبا کر کہتے ہوئے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑاتا باہر نکلا جبھی مرحا کی نظر تیزی سے گاڑی کی جانب بندوق کا نشانہ تانے آتے ایک شخص پر پڑی جو سیدھا میر سالار کی جانب ہی آ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میر سالار خود کا بچاؤ کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرتا، مرحا تڑپ کر تیر کی سی تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی اور بھاگتے ہوئے سالار کے سامنے آ گئی اسی پل اس شخص کی بندوق سے نکلی گولی تیزی سے مرحا کے بازو و کندھے پر آ لگی۔ اس کی دلدوز چیخ جنگل کی فضا میں پوری شدت سے گونج اٹھی تھی اور وہ وہیں لہرا کر اپنے لہولہان وجود کیساتھ میر سالار کے بازوؤں میں آ گری۔
جاری و ساری ہے
ایپیسوڈ کیسی لگی؟ آج کی ایپیسوڈ کے حوالے سے کمنٹس اور لائکس کرنا نہ بھولیں۔ دعاؤں کی طلبگار آپ کی “زاریہ؛ ♥️😍♥️
