Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“یقین کیسا؟ گمان کیسا؟ عروج کیسا؟ زوال کیسا؟ “محبتیں تو محبتیں ہیں محبتوں میں حساب کیسا؟

اس کی شہہِ رگ سے لب ہٹاتے ہوئے میر سالار نے دلچسپی سے اس کی بند آنکھوں پر لرزتی پلکوں کو دیکھا۔
“میرے خیال میں آج کیلئے اتنا کافی ہوگا۔ تم پھر سے پہلے والی پوزیشن میں چلی گئی تو بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔ ویسے بھی ابھی تمہارے اندر اتنا سٹیمنا نہیں کہ تم یہ سب کچھ سہہ سکو۔۔۔ کچھ دیر اسے مخمور نظروں سے دیکھتے رہنے کے بعد باری باری اس کی دونوں آنکھوں کو چومتا وہ قدرے شرارت بھرے لہجے میں گویا ہوا تو مِرحا نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی بولتی نظروں کی معنی خیزیوں سے وہ بے طرح جھینپ کر نظروں کا رخ پھیر گئی۔ دل کی دھڑکنیں عروج پر جا پہنچی تھیں۔ جبھی روم کا دروازہ ناک ہوا تھا۔

آ جاؤ!! میر سالار نے سیدھا ہوتے ہوئے اجازت دی تو عارف کچھ کھانے پینے کے سامان کیساتھ روم میں داخل ہوا اس دوران مِرحا خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ عارف شاپر رکھ کر واپس چلا گیا تھا۔ میر سالار نے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے سیدھا کر کے بٹھاتے ہوئے اس کے پیچھے تکیہ لگا دیا۔

سائیں کسی نرس کو بلا لیں وہ مجھے کچھ کھلا دے گی۔۔۔ مرحا نے جھجھکتے ہوئے کہا۔ پتہ نہیں کیوں میر سالار کی نظریں اسے کوئی اور ہی داستان کہتی محسوس ہو رہی تھیں۔

“میں اس نرس سے بھی بہتر خدمات سر انجام دے سکتا ہوں۔ آزمائش شرط ہے!!! اس کی ہچکچاہٹ کو محسوس کرتے ہوئے میر سالار کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آ گئی۔ مرحا سخت نروس سی ہو گئی۔
چونکہ عارف سب انتظام کر کے آیا تھا اس لئے کسی بھی چیز کی اب ضرورت نہ تھی۔
سالار نے باؤل میں سوپ نکالتے ہوئے پہلا چمچہ اس کی جانب بڑھایا تو اس نے سرخ پڑتے چہرے کیساتھ منہ کھول دیا۔ پھر ایک کے بعد ایک چمچہ لیتے ہوئے اس نے فرمانبرداری سے سارا سوپ ختم کر لیا تھا۔ میر سالار نے اسے پانی پلانے کے بعد تمام چیزیں سائیڈ ٹیبل پر رکھیں اور خود اس کے قریب رکھی چئیر پر بیٹھ گیا اب نظروں کا مرکز سامنے بیٹھی مرحا تھی جو اب انگلیاں مروڑتی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

سائیں ہم گھر کب جائیں گے؟ اس نے نظریں جھکائے جھکائے ہی سوال کیا۔ ا
بس کچھ ہی ٹائم میں، ویسے یہ سوال تم میری طرف دیکھ کر بھی پوچھ سکتی ہو! ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے وہ مسکراتی آواز میں بولا تو مرحا نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔
سائیں آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ میرا مطلب دیکھیں مجھے شرم سے کچھ ہو جائے گا۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا تو میر سالار کا بے ساختہ قہقہہ گونجا تھا۔ وہ مزید خفیف سی ہو گئی۔

“جو چیز میری ہے اسی کو دیکھ رہا ہوں مجھے کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے؛؛؛ اپنے بے حد قریب دھیمی مگر جذبات سے پُر سرگوشی پر مرحا نے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوئے میر سالار کو دیکھا جو کھڑے کھڑے ہی ایک ہاتھ سے دیوار کا سہارا لئے اس پر جھکا ہوا تھا۔

“سائیں پلیز دیکھیں میرے گالوں سے دھواں نکل رہا ہے! اس نے اپنے تپتے ہوئے گالوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر روہانسے لہجے میں کہا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ میر سالار کی توجہ کسی اور جانب کیسے مبذول کرائے، شرم و حیا سے برا حال تھا۔ مگر وہ شخص اس کی سوچ سے بھی زیادہ زیرک نگاہ و تیز تر ذہن رکھتا تھا۔ وہ اس کی اندرونی فیلنِگس سے اس پل مکمل طور پر واقف تھا۔ دوسری جانب سے کوئی ردعمل نہ پاکر مرحا نے حیرانگی سے اسے دیکھا جو وارفتگی سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا پھر وہ سیدھا کھڑا ہو کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ہولے سے ہنس دیا۔

“سوچ رہا ہوں ابھی تو میں نے اپنی خواہشات کو عملی جامہ بھی نہیں پہنایا تو تمہارا یہ حال ہے،، بعد میں تو۔۔۔۔۔۔،،، جملہ ادھورا چھوڑ کر اس نے جن نظروں سے اسے دیکھا وہ گویا شرم سے پگھل کر پانی پانی ہو گئی۔ اسے لگا وہ یہیں بیہوش ہو کر گر پڑے گی۔ اس کے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے تھے۔ دوسری جانب میر سالار اس کی حالت پر لب دانتوں میں دبا کر ہلکے سے سر خم کرتے ہوئے ہنسا تو مرحا دھک دھک کرتے دل کو بمشکل سنبھالتے ہوئے اسے خفگی سے دیکھ کر رہ گئی۔

“اینی ویز مسز سالار باقی باتیں بعد میں، فلحال تمہارے ڈسچارج کا ٹائم ہو گیا ہے۔ تم ساتھ چلو میں عارف کو دوائیں وغیرہ لے کر آنے کو کہتا ہوں۔۔ کلائی پر بندھی واچ پر نظریں دوڑاتے ہوئے اس نے مرحا سے کہا۔ کچھ ہی منٹوں بعد ڈاکٹر چلا آیا۔ چیک کر کے تسلی کی تو اس نے آگے بڑھ کر نہایت احتیاط سے اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا۔ مرحا نے سکون سے اس کے شانے پر سر ٹکاتے ہوئے بایاں بازو اس کی گردن میں حمائل کر دیا۔
اسے لئے وہ روم سے باہر نکل آیا ساتھ ہی عارف کو دواؤں وغیرہ کا کہتا وہ ہاسپٹل کی منزل سے باہر نکل آیا۔ کسی کانچ کی گڑیا کی طرح محتاط انداز میں اس نے اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ کچھ ہی سیکنڈ میں گاڑی فلیٹ کے راستے پر رواں دواں تھی۔

                 ❤️❤️❤️❤️❤️

چھوٹی حویلی میں اس وقت سارے پریشان حال سے بی جان کے کمرے میں ان کے اطراف جمع تھے۔ ان کی حالت بے حد تشویشناک تھی۔ زوفا کا صدمہ ان کو پہلے سے بھی زیادہ کمزور و لاغر کر گیا تھا۔

“سائیں، خدا کیلئے ایک بار شاہ سائیں سے بات تو کر کے دیکھیں، میری بچی نجانے کس حال میں ہوگی۔ ان سے کہیں کہ صرف ایک بار وہ اسے یہاں آنے دیں۔ بی جان اسے آخری وقتوں میں دیکھنا چاہتی ہیں۔۔۔ آسیہ بیگم بھرائی ہوئی آواز میں بولیں تو زکا شاہ کے چہرے پر بے بسی کے تمام رنگ سمٹ آئے۔

“آسیہ ان سے بات کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن تم یہ بات بخوبی جانتی ہو کہ شاہ سائیں کے فیصلے سے انحراف کا ہمارے پاس کوئی جواز نہیں ہے وہ اس لئے نہیں ہے کیونکہ وہ اس گاؤں کے سرپنچ ہیں۔ جب فیصلہ ہی اسی شرط پر طے پایا تھا کہ زوفا یہاں زندگی بھر قدم نہیں رکھے گی اور اگر رکھے گی بھی تو اسی صورت میں جب تک صارم شاہ مل نہیں جاتا یا خود حاضری نہیں دے دیتا۔ ایسی صورتحال میں تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ زکا شاہ نے پیشانی مسلتے ہوئے پریشان کن لہجے میں کہا تو آسیہ بیگم کے چہرے پر زہرخند ابھر آیا۔

“اپنے قاتل بیٹے پر میری پھول جیسی نازک بیٹی کو قربان کرتے ہوئے آپ سب نے ایک پل کو بھی نہیں سوچا کہ میری بیٹی کو آپ سب ایک برزخ کے حوالے کر رہے ہیں۔ میں نے کتنا منع کیا تھا آپ کو اس وقت کہ آپ شاہ سائیں کو انکار کر دیں مگر آپ نہ مانے۔۔۔ میری بچی کو ان ظالموں کے حوالے کرتے ہوئے دل نہیں کانپا آپ کا سائیں؟ وہ ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

“تمہیں کیا لگتا ہے آسیہ مجھے کوئی غم نہیں ہے؟ زوفا تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے میں خود کو کیسے سنبھالے ہوئے ہوں یہ صرف میں ہی جانتا ہوں! زکا شاہ نے آبدیدہ لہجے میں بیچارگی سے کہا مگر آسیہ بیگم کچھ بھی سننے و سمجھنے کی حالت میں نہ تھیں۔

“جھوٹ بالکل جھوٹ! آپ کو اگر اتنی ہی محبت تھی اس سے تو اسے قربانی کا بکرا بناتے وقت یہ نام نہاد محبت آپ کی کہاں جا سوئی تھی بتائیں؟ اس بار غم و غصّے سے ان کی آواز پھٹ سی گئی تھی۔

“دیکھو آسیہ، یہ وقت صبر و تحمل کا ہے۔ شور شرابے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ زکا جائے گا ان سے بات کرنے کیلئے۔ لیکن ہم تمہیں امید کا کوئی سرا ابھی نہیں تھما سکتے کیونکہ ہمیں قطعی یقین نہیں ہے کہ وہ لوگ ہماری بات کو اہمیت دیں گے۔ فیاض شاہ نے آسیہ بیگم کو سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ مزید ہتھے سے اکھڑ گئیں۔

“گستاخی معاف بابا سائیں، مگر آپ سب پہلے کب میری امیدوں پر پورے اترے ہیں جو اب اتریں گے۔ میری بچی تو رل گئی نا۔۔۔ اب جشن منائیں آپ سب!!! کہتے کہتے وہ پھپھک کر رو پڑیں اور ساتھ ہی تیز قدموں سے وہاں سے باہر نکل گئیں۔ سویرا بھی خفگی بھری نظر زکا شاہ پر ڈالتی ماں کے پیچھے چلی گئی۔

“آسیہ صحیح کہتی ہے سائیں، میری لاڈوں پلی بچی جسے میں نے زمانے کی سرد گرم ہواؤں سے ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی اپ سب نے لمحہ بھی نہ لگایا اسے جیتے جی دفن کرنے میں، پتہ نہیں میں اسے دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں۔ سچ کہوں تو اب مجھے کوئی آس ہی نہیں رہی۔۔۔ بی جان غنودگی بھری آواز میں تھکے تھکے انداز میں بولیں ساتھ ہی ان کا نہ ختم ہونے والا کھانسی کا دودہ شروع ہو گیا۔ زکا شاہ نے جلدی سے اٹھ کر انہیں سہارہ دے کر بٹھایا اور پاس پڑے پانی کا گلاس ان کے لبوں سے لگا دیا۔ دو گھونٹ پینے کے بعد انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا تو انہوں نے واپس انہیں بستر پر لٹا دیا۔

“زوفا میری جند جان، یہ تو اپنی بی جان کو کیسا روگ دے گئی ہے؟ لوٹ آ میری بچی تجھے دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔ انہوں نے خود میں ہی بڑبڑاتی ہوئی آنکھیں بند کر لیں۔ آنسو بند آنکھوں سے ایک تسلسل سے جاری ہو گئے تھے۔ فیاض شاہ سمیت سب یاسیت زدہ سے اپنی اپنی جگہ بت بنے ہوئے تھے۔ ماحول پر عجیب سی سوگواری طاری تھی۔

                🌸🌸🌸🌸🌸

گاڑی فیلٹ کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو وہ ڈرائیونگ سیٹ سے اترا اور اس کی جانب کا دروازہ کھول کر اسے تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو وہ جو پہلے ہی بیر بہوٹی بنی ہوئی تھی مزید خود میں سمٹ گئی۔

“سائیں میں چل لوں گی۔۔۔ اس کی شرٹ کے کالر پر نظریں جمائے اس نے حیا آلود لہجے میں کہا تو میر سالار نے ایک ابرو اچکاتے ہوئے اس کا شرمایا گھبرایا ہوا روپ دیکھا۔
“اوکے آؤ! اسے سہارا دیتے ہوئے اس نے اسے گاڑی سے اتارا ساتھ ہی اسے بازوؤں کے حصار میں لئے اندر کی جانب بڑھ گیا۔ سیڑھیوں پر اسے چڑھنے میں مدد دیتے ہوئے وہ اسے اسی کمرے میں لے آیا جہاں وہ پہلے ٹھہرے ہوئے تھے۔

“سائیں یہ فلیٹ کس کا ہے؟ مرحا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔ میر سالار اب وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگا تھا۔

“یہ بھی اپنا ہی ہے۔ بعض اوقات کام کی وجہ سے میں یہاں بھی ٹھہر جاتا ہوں؛، اسے بتاتے ہوئے وہ واشروم کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ وہ بھی اب ایک سائیڈ پر پڑے ہوئے اپنے بیگ سے کپڑے نکالنے کے لئے اٹھ گئی۔ ہلکا پھلکا سا جوڑا نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے وہ خود آہستگی سے چلتے ہوئے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ہاسپٹل کا منظر پوری آب و تاب سے آنکھوں کے سامنے روشن ہو گیا۔
آہستگی سے اپنی شہہِ رگ کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتے ہوئے وہ سالار کے لمس کو آنکھیں بند کئے محسوس کرنے لگی۔ ساتھ ہی اس نے دھیرے سے اپنے دونوں گالوں پر انگلیاں پھیریں۔ دل میں عجیب سے احساسات جنم لے رہے تھے۔ صحیح معنوں میں اسے ابھی تک اپنی خوش قسمتی کا یقین نہیں آ رہا تھا۔
دھیرے سے اپنی پیشانی سہلاتے ہوئے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اپنے عین پیچھے میر سالار کے آئینے میں نظر آتے عکس کو دیکھکر بیساختہ اس کی چیخیں نکل گئیں۔ چہرہ یکلخت بے تحاشہ سرخ پڑ گیا جبکہ وہ بظاہر سنجیدہ تاثرات لئے ہوئے تھا مگر آنکھوں میں بلا کی شوخی رقص کر رہی تھی۔ وہ سٹپٹا کر بے اختیار پلٹتے ہوئے اس کی سائیڈ سے نکل جانے کو تھی مگر سالار نے اس کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اس کا بایاں بازو تھامتے ہوئے اس نے اس کا رخ واپس آئینے کی جانب موڑ دیا۔

“سائیں مم مجھے چینج کرنا ہے، پھر دوا بھی کھانی ہے؛ وہ اس کے عکس کو ایک نظر دیکھ کر پلکیں جھپکاتے ہوئے منمنائی۔ بنا کچھ بھی کہے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس کی پشت احتیاط سے اپنے سینے سے لگا کر اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو آپس میں باندھ کر ان پر اپنے ہاتھوں کی گرفت مضبوط کی ساتھ ہی اس کے گرد اپنا نرم سا حصار قائم کر دیا۔

“کر لینا چینج بھی، ابھی مکمل طور پر نہ سہی مگر مجھے خود کو تھوڑا محسوس تو کرنے دو، بے فکر رہو تمہاری صحت مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مگر فلحال مجھے ان لمحات کو محسوس کرنے دو۔۔۔ مِرحا کی سماعتوں تک اس کی جان لیوا سرگوشی پہنچی تو مارے حیا و گھبراہٹ کے اس کی دونوں ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں۔ کچھ کہنے کی چاہت میں محض لب پھڑپڑا کر ہی رہ گئے۔
بے خود انداز میں میر سالار نے اس کی سفید گردن پر اپنے ہونٹ رکھے تو مرحا کی پلکیں رخسار پر بے اختیار سایہ فگن ہو گئیں۔ میر سالار کے ہاتھوں پر اس کے ہاتھوں کی گرفت زور پکڑتی جا رہی تھی۔
پھر اس کا دہکتا لمس گردن سے ہوتے کندھے تک جا پہنچا تھا۔ مرحا کا سارا وجود بے جان سا ہونے لگا۔ اس شخص کی قربت اس کے پورے وجود کو سرتاپا جلا رہی تھی۔
میر سالار نے حصار توڑتے ہوئے یکایک اس کا رخ اپنی جانب موڑا۔ مرحا کی پلکیں ہنوز رخساروں پر گری ہوئی تھیں۔ اس نے دلچسپی سے اس کی اس ادا کو دیکھا۔

“اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں جو صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو؛

اس کے چاند سے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے گمبھیر آواز میں اپنی آواز کا جادو بکھیرا تو مرحا نے حیا کی سرخی سے لبریز آنکھوں سے اس دشمنِ جاں کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے میر سالار کی نظریں اس کے لرزتے ہونٹوں پر آ ٹھہریں۔

“مرحا اس سے پہلے کہ میں کسی اور گستاخی کا مرتکب ہو جاؤں جاؤ چینج کر لو۔ اس حالت میں یقیناً میرے ساتھ ساتھ تم بھی ایسا نہیں چاہتی ہوگی۔ اس کی معصومیت بھری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میر سالار نے جس لب و لہجے میں کہا وہ گڑبڑا کر پیچھے ہٹی اور بنا اس کی جانب دیکھے واشروم کی طرف بھاگی۔ پیچھے میر سالار کا جاندار قہقہہ گونج اٹھا تھا۔

               💛💛💛💛💛

حرم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں! حرم جو اپنے گرد کتابیں بکھرائے ان پر جھکی ہوئی تھی سر اٹھا کر دروازے پر استادہ سکندر شاہ کو دیکھا جو بے حد سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔ آج سنڈے تھا سو اس کی کالج سے چھٹی تھی۔
سکندر شاہ کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ کے قریب رکھی چئیر پر بیٹھ گیا۔ انداز بے حد نڈھال سا تھا۔حرم اب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“حرم، ہمارے بیچ اب اتنے فاصلے در آئے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتا میں اس ساری سچویشن کو ہینڈل کیسے کروں؟ تم اس بات سے پوری طرح واقف ہو کہ جو کچھ بھی ہوا اس میں میری زرہ برابر بھی غلطی نہیں ہے۔ پھر بھی تم مجھ سے اتنا بے رخی بھرا رویہ اختیار کئے بیٹھی ہو! ٹرائی ٹو انڈر سٹینڈ می یار! وہ عاجزی سے کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھ گیا۔

“کیا کہنا چاہتے ہیں سکندر سائیں، کھل کر بات کریں۔ حرم کا لہجہ اب بھی سوالیہ ہی تھا۔
“یار تم ابھی بھی مجھ سے یہ پوچھ رہی ہو کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ لُک حرم، صارم شاہ اب نہیں ملنے والا، وہ ملنا ہوتا تو اب تک ہاتھ لگ چکا ہوتا نہ جانے کہاں غرق ہو گیا ہے وہ۔۔۔ رہی اس کی بہن زوفا کی بات تو اس لڑکی کی اس حویلی میں جو حیثیت ہے اس سے اب تک تو تم واقف ہو ہی گئی ہوگی۔ میں بھی اسے اپنی بیوی کے روپ میں تسلیم نہیں کرتا نہ ہی آگے کروں گا۔ حرم میں صرف تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں! پلیز انکار مت کرنا اب، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا یار۔۔۔ وہ ہارے ہوئے انداز میں کہہ کر حرم کا ہاتھ اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیتے ہوئے بولا تو حرم کی سپاٹ آنکھوں میں طنز ابھر آیا۔

“مگر وہ لڑکی زوفا آپ کی بیوی کی حیثیت سے اس حویلی میں لائی گئی ہے۔ یہ سچ عمر بھر میرے سر پر مسلط رہے گا تو میرا تو جینا حرام ہو جائے گا نا؟ وہ انگارے چباتے ہوئے بولی۔
“یہ جاننے کے باوجود بھی کہ میرے اس دل میں اور میری زندگی میں فقط تمہاری گنجائش ہے؟ سکندر شاہ کے لہجے میں حیرت رچی بسی تھی۔ حرم نظریں چرا گئی۔

“میرا یقین رکھو حرم، تمہاری حیثیت و مرتبہ جو ہوگا میری زندگی میں اس تک زوفا کبھی نہیں پہنچ سکتی۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے! سکندر شاہ نے محبت سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کی تو وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“سکندر سائیں مجھے تھوڑا وقت دیں، میں آپ کو سوچ کر جواب دوں گی۔ حرم نے آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا تو سکندر شاہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

“میں انتظار کر سکتا ہوں حرم! مگر جواب مثبت ہونا چاہئے پلیز! کچھ نہ سہی تو میرا تو خیال کر لو! میں تمہارے جواب کا منتظر رہوں گا! وہ اس کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے پر امید لہجے میں بولا اور چئیر سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ حرم آنکھوں میں سوچ کی گہری پرچھائیاں لئے کھلے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھی ہوئی تھی۔

              🥀🥀🥀🥀🥀 

وہاج شاہ کچھ آدمیوں کیساتھ ڈیرے پر موجود تھے جبھی وہاں سر جھکائے ہوئے فیاض شاہ کے ساتھ زکا شاہ کو آتے دیکھکر ان کے ماتھے پر ان گنت بل پڑ گئے۔

“فیاض شاہ! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ بیغیرتی کی بھی حد ہوتی ہے۔ کیا اپنی اور تذلیل کرانی ہے؟ انہوں نے چبھتے ہوئے لہجے میں وار کیا تو فیاض شاہ زکا شاہ کی سمت دیکھنے لگے۔

بڑے ابّا سائیں، بات بہت اہم ہے اس لئے ہمیں یہاں آنا پڑا۔ دراصل بی جان کی طبیعت بہت خراب ہے وہ آخری دفعہ زوفا کو۔۔۔۔ زکا شاہ نے ملتجی لہجے میں کہنا چاہا کہ وہاج شاہ کی جنگھاڑتی ہوئی آواز نے ان کی آواز کو وہیں دبا دیا۔

“خاموش ہو جاؤ زکا شاہ، میرا فیصلہ یہاں ہر کسی لئے اول و آخر ہونا چاہئے۔ جب میں نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ وہ اس حویلی سے باہر تب تک قدم نہیں نکالے گی جب تک کہ اس کا بھائی بذاتِ خود چل کر یہاں نہیں آ جاتا یا ہماری تلاش جب تک پوری نہیں ہو جاتی سمجھے تم! انہوں نے غراتے ہوئے کہا تو زکا شاہ کا چہرہ اندرونی خلفشار کے باعث سرخ سا ہو گیا۔

“اور اگر صارم نہ ملا تو؛؛ فیاض شاہ نے خدشات بھرے لہجے میں سوال کیا تو وہاج شاہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے سفاکی سے مسکرائے۔

“یہ سوال بہت اچھا کیا ہے تم نے فیاض، تو جواب بھی سنو، اگر تمہارا وہ بیغیرت پوتا نہ ملا تو اپنی لاڈلی پوتی کو اپنے تئیں مرا ہوا تصور کر لینا۔ یہی میرا فیصلہ ہے! انہوں نے دو ٹک لہجے میں بولتے ہوئے ہاتھوں کے اشارے سے دونوں کو واپس جانے کا کہا۔

“مگر بڑے ابا سائیں، یہ سراسر ظلم ہے؛ زکا شاہ نے آخری کوشش کرنی چاہی۔
“مجھے تمہاری بکواس نہیں سننی زکا شاہ، اب تم دونوں جا سکتے ہو! وہاج شاہ اونچی آواز میں بولے تو وہ دونوں بنا کچھ بھی کہے ایک دوسرے کی جانب نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے مردہ قدموں سے واپسی کیلئے مڑ گئے۔

جاری و ساری ہے