Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

شِدّتِ عشق خیر ہو تیری کیسے عالم میں لا کے چھوڑ دیا!

وہ جس کیفیت میں ڈرائیونگ کر رہا تھا اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی بھی پل یہاں کچھ بھی ایسا ہو جائے گا جو ناقابلِ قبول ہوگا۔ سخت پریشانی کے پیشِ نظر اس کی پیشانی کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ اس نے موڑ کاٹا ہی تھا کہ اس کا موبائل ایک بار پھر چیخ اٹھا۔ ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر اس نے اسکرین پر نظر ڈالی تو وہاں زکا صاحب کا نام دیکھکر وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔ اس وقت وہ جن حالات سے گزر رہا تھا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ گاؤں میں اس بابت کسی کو بھی علم ہو۔ وہ یہ معاملہ اپنے تئیں نپٹانا چاہتا تھا۔ بمشکل خود کو کمپوز کرتے ہوئے اس نے کال ریسیو کی۔

“ہیلو میر، زکا بات کر رہا ہوں؛ دوسری جانب سے زکا صاحب کی آواز ابھری
“ہاں چچا سائیں بولیں،؛ اس نے اسپیکر آن کر کے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا۔
“بیٹا، اب تو چچا سائیں (وہاج شاہ) کو بھی تم نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ بیٹا میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا ہوں۔ مجھ سمیت یہاں چھوٹی حویلی کا ہر ایک فرد زوفا سے ملنے کا متمنی ہے۔ اگر تم اجازت دو تو میں خود زوفا کو وہاں آ کر لے جاؤں گا۔ تم اپنے کام میں مصروف ہوگے۔ ان مصروفیات میں تمہارا بار بار گاؤں آنا بھی ممکن نہیں ہے۔ میرے خیال میں اب کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہے، تو کیا میں زوفا کو شہر سے واپس لا سکتا ہوں؟ زکا صاحب کے لہجے میں بیقراری بھری ہوئی تھی۔
“ٹھیک ہے چچا سائیں، آپ زوفا کو لے جا سکتے ہیں۔ میں معذرت خواہ ہوں۔ واقعی مصروفیات بہت ہیں، ورنہ میں تو خود اسے گاؤں اپنے ساتھ ہی لے جانے کو تھا۔ آپ آ جائیں۔ کوئی مسئلہ نہیں! بعد میں، میں حویلی کا چکر لگاؤں گا۔ آپ سب سے ضروری بات بھی کرنی ہے سو اس کیلئے مجھے گاؤں آنا ہوگا۔۔۔! اس نے اپنی پریشانی چھپاتے ہوئے لہجے کو بمشکل نارمل ہی رکھا۔ دوسری جانب زکا صاحب اس کے اجازت نامے پر بے طرح خوش ہو گئے، ساتھ ہی اسے اپنے کل تک آنے کی اطلاع دیتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔ میر سالار نے گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کر دی۔
تقریباً پندرہ منٹ کے بعد اس کی گاڑی جب فارم ہاؤس کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو وہ گویا زخمی شیر کی مانند گاڑی سے اترا اور خونخوار انداز میں ان سب کی جانب بڑھا جو اپنے ہوائیاں اڑاتے چہروں کے ساتھ بڑے مؤدب انداز میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔

“کون تھے وہ لوگ ہاں؟ تم سب کیا نشہ کر کے سوئے ہوئے تھے جو خبر نہیں ہوئی؟ کچھ پوچھ رہا ہوں میں!! اس نے جھٹکے سے ان میں سے ایک آدمی کی گردن اپنی آہنی گرفت میں جکڑتے ہوئے پوچھا۔ اس کی دہاڑتی آواز اور آنکھوں میں اترا خون دیکھکر ان سب کے دل سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگے۔
“سائیں وہ جی ہم سب موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ ہم پچھلے حصے کی جانب تھے۔۔۔ ان میں سے ایک نے ایک سانس میں وضاحت پیش کی۔ میر سالار نے اس شخص کی گردن پر اپنی پکڑ ڈھیلی کی ساتھ ہی اسے زوردار دھکا دیا۔ وہ شخص کسی فٹ بال کی مانند اڑتا ہوا زمین پر جا گرا۔ میر سالار دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ان سب کے چہروں کا بغور معائنہ کرنے لگا۔ وہ سب خشک ہونٹوں پر بار بار زبانیں پھیر رہے تھے۔ ان تمام افراد کے ایک ایک انداز سے اضطراب اپنی جھلک دکھا رہا تھا۔ میر کی آنکھوں کی سرخی میں مزید اضافہ ہونے لگا۔
“تم سب پر اپنی حفاظت کا زِمّہ لگاتے ہوئے میں یہ کیوں بھول گیا کہ تم سب مجھ سے پہلے جس شخص کے محافظ رہ چکے ہو اس کی فطرت میں محض لوگوں کو دھوکہ دینے کے الاوہ کچھ بھی شامل نہیں ہے۔ تم سب میں اور وہاج شاہ میں پھر بھلا فرق کیسے ہو سکتا ہے۔ تم سب نے بھی وہی خصلت پائی ہے۔ بے فکر رہو اس کا بھی علاج ہے میرے پاس!! اس نے اپنی زیرک نگاہیں ان سب کی مشکوک حرکتوں پر ڈالتے ہوئے اپنے محافظین میں سے ایک کو آواز دی۔

“سائیں، ہم بے قصور ہیں۔ ہم نے کچھ نہیں کیا جی؛ ایک آدمی اس کے قدموں میں گر کر گڑگڑاتے ہوئے بولا۔ باقی سارے بھی اب ہاتھ جوڑے رحم کی بھیک مانگنے لگے تھے۔
“تم تمام اپنی خاطر خواہ عزت افزائی کے بعد یہ بھی بتا دو گے۔۔۔ کوئی بات نہیں چلو خیر ہے!! میر سالار نے اپنے محافظ کو آنکھوں کے اشارے سے ان سب کی مرمت کا حکم دیا اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ حقیقت آشکار ہونے کے بعد اب نہ صرف وہاج شاہ کی سزا میں اضافہ بلکہ ان کے آدمیوں کی بھی بھرپور شامت آنے کو تھی!!!

               ❤️❤️❤️❤️❤️

میر سالار قطعی نہیں چاہتا تھا کہ زوفا کی گاؤں کے لئے روانگی فارم ہاؤس سے ہو۔ وہ جانتا تھا فارم ہاؤس پر مِرحا کی غیر موجودگی زوفا کو پریشان کر دے گی۔ جن حالات میں مرحا اس کی زندگی میں شامل ہوئی تھی اس سب سے بھی زوفا بخوبی واقف تھی، سو وہ زوفا کو یہ بھی کہہ کر نہیں ٹال سکتا تھا کہ وہ مِرحا کو حویلی چھوڑ آیا ہے۔ زکا صاحب نے بھی کل تک آ جانا تھا۔ میر کے لئے یہ ایک اور طمانیت شدہ بات تھی کہ اسی بہانے زکا صاحب کی ملاقات براہِ راست حسن سے بھی ہو جائے گی۔ جس سے انہیں بعد میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی فیصلہ لینے میں مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اس نے ایس۔پی حسن کو فون پر تمام روداد بتاتے ہوئے ساتھ ہی زکا صاحب کی آمد کا بھی بتا دیا۔ اس نے حسن سے زوفا کو مِرحا کی گمشدگی کے متعلق کچھ بھی بتانے سے سختی سے منع کیا ساتھ ہی اسے یہ بھی کہا کہ وہ زوفا سے یہ کہے کہ کچھ اہم مصروفیات کی وجہ سے میر نہیں آ سکتا وہ بعد میں گاؤں کا چکر ضرور لگائے گا، فلحال وہ خوشی خوشی زکا صاحب کے ساتھ یہاں سے چھوٹی حویلی کو روانہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے زکا صاحب کو بھی حسن کے گھر کا ایڈریس دیتے ہوئے انہیں زوفا کے وہاں ٹھہرنے کی اصل وجہ بتائی۔ انہیں اس پر مکمل اعتماد تھا سو انہوں نے بھی آگے سے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
“حسن مرحا کی گمشدگی سے خود بھی پریشان ہو گیا تھا۔ وہ فوراً فارم ہاؤس کیلئے نکل جانا چاہتا تھا مگر میر سالار نے اسے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ سب سنبھال لے گا۔ اب میر صاحب کا حکم تھا تو حسن پریشان ہونے کے الاوہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ ساتھ ہی زوفا کی روانگی کا سن کر اس کی اداسی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ بہرحال وہ ابھی ایسا کوئی حق محفوظ نہیں رکھتا تھا کہ جس کی بنا پر وہ زوفا کو یہاں رکنے پر مجبور کر سکے۔ لامحالہ اسے نا چاہتے ہوئے یہ کام بھی کرنا ہی تھا۔

“محبّت زندگی کے فیصلوں سے لڑ نہیں سکتی کسی کو کھونا پڑتا ہے، کسی کا ہونا پڑتا ہے؛

وہ متلاشی نظریں اطراف میں دوڑاتے ہوئے بی جان کے کمرے میں داخل ہوا تو اسے وہ وہاں بیٹھی نظر آ گئی۔ وہ دونوں خواتین باتوں میں مصروف تھیں۔
“میں اندر آ سکتا ہوں؟ حسن نے گہری نظروں سے سامنے بیٹھی اس دشمنِ جاں کو دیکھتے ہوئے اجازت طلب کی۔ زوفا نے اسے ایک نظر دیکھکر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
“ہاں آؤ نا بیٹا؛ بی جان نے اس کی مردانہ وجاہت کو نثار ہو جانے والی نگاہوں سے دیکھا۔ وہ نپے تلے قدموں سے چلتا ہوا چئیر پر بیٹھ گیا۔
“زوفا آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے؛ اس نے اس بار ڈائریکٹ اسی کو مخاطب کیا جو شاید اسے بھرپور نظر انداز کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ اس کی بات پر وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
“کیا بات ہے حسن، خیریت تو ہے نا؟ بی جان نے بغور حسن کا حد سے زیادہ سنجیدہ انداز نوٹ کرتے ہوئے سوال کیا۔
“میر کی کال آئی تھی۔ اس نے مجھے زوفا کو یہ اطلاع دینے کو کہا ہے کہ ان کے بابا انہیں کل یہاں سے لے جانے کو آ رہے ہیں۔ میر بہت مصروف ہے ورنہ وہ خود زوفا کو حویلی چھوڑنے جاتا!! حسن کی اطلاع نے تو جیسے زوفا پر شادیٓ مرگ طاری کر دی تھی۔ وہ مسرور ہو اٹھی۔ بجھی آنکھوں کی جوت یکایک جل اٹھی تھی۔ اس کے برعکس بی جان بے حد اداس ہو گئیں۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا؟ اتنی جلدی؟ زوفا کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بی جان نے افسردگی سے کہا۔
“بی جان میرے خیال میں یہی بہتر ہے۔ زوفا کے والدین بہت پریشان ہیں۔ اب ان کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ زوفا کو یہاں سے لے جائیں۔۔۔ ایس۔پی حسن نے ہمکتے دل کو ڈپٹ کر چپ کراتے ہوئے سپاٹ انداز میں کہا۔ زوفا نے اس کے اس انداز کو جانے کیوں بغور دیکھا تھا۔
“لیکن میں فارم ہاؤس سے روانہ ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ میر ادا اور مِرحا سے بھی ملاقات ہو جاتی میری!! زوفا نے اپنی خواہش ظاہر کی۔
“نہیں فلحال یہ ممکن نہیں۔ آپ کی ملاقات بہت جلد ان دونوں سے بھی ہو جائے گی فکر کی بات نہیں۔ آفٹر آل وہ دونوں حویلی کا چکر تو لگاتے ہی رہیں گے نا۔ اور پھر میر نے بھی تو یہی کہا ہے نا سو بات کو سمجھیں پلیز! حسن نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گئی، ساتھ ہی بی جان کو دیکھا جو خاموشی سے بیٹھی نہ جانے کن سوچوں میں گُم تھیں۔ چہرے پر اداسی نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ زوفا نے بے اختیار ان کا ہاتھ تھام لیا تو وہ اسے دیکھنے لگیں۔

“بی جان پلیز اس طرح تو نہ کریں۔ انشاءاللّہ زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی ہماری! آپ بہت اچھی ہیں۔ اس عرصے میں آپ نے مجھے جو محبت و عزت دی ہے اس کا احسان میں تاعمر نہیں بھول سکتی اور نا ہی بھولنا چاہوں گی! اس نے ان کے ہاتھ کو عقیدت سے چوما۔ بی جان کی آنکھیں نم سی ہو گئیں۔ سامنے چئیر پر بیٹھا حسن یک ٹُک زوفا کے چہرے کو تک ریا تھا۔ اس کے اندر اس پل عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔

“چپ کرو زوفا، ہم نے ہرگز تم پر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔ یہ تو ہمارا فرض تھا بیٹا۔ رہی بات ملاقات کی تو چھوڑو اسے، کیوں نہ تم ہمیشہ کیلئے یہیں آ جاؤ میرے پاس۔۔ کیوں حسن کیا خیال ہے؟؟؟ بی جان نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا اور پھر ساتھ ہی حسن کو مخاطب کیا۔ زوفا کا رنگ فق سا ہو گیا، جبکہ ایس۔پی حسن بی جان کی معنی خیز بات پر کچھ گڑبڑا سا گیا تھا۔
“بی جان میں زرا پیکنگ کر لوں! بعد میں آتی ہوں آپ کے پاس!! زوفا نے لبوں پر بمشکل ہلکی سی مسکراہٹ سجائی ساتھ ہی اٹھ کر بنا اِدھر اُدھر دیکھے کمرے سے باہر نکل گئی۔ بی جان کی بات کا مطلب وہ بخوبی سمجھ گئی تھی۔ اس میں اب مزید وہاں رکنے کی سکت باقی نہ تھی۔
“بی جان آپ کو کیا ضرورت تھی ان سے ایسی کوئی بھی بات کرنے کی؟ اس کے جانے کے بعد ایس۔پی حسن قدرے جھلا کر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا
“تو پھر قسم دو میری کہ تم ایسا نہیں چاہتے۔ اگر تم واقعی ایسا نہیں چاہتے تو میں آئیندہ ایسی کوئی بھی بات نہیں کروں گی۔ مگر حقیقت بتانا!! بی جان نے اپنی جانچتی نظروں سے اس کے چہرے کا گویا ایکسرے کرتے ہوئے پوچھا۔
“کوئی فاعدہ نہیں بی جان۔ مت کریں یہ فضول سی کوشش۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔!! دوسری جانب تو⁦ وہ جیسے خود سے ہی ناراض تھا۔ تقریباً پیر پٹختے ہوئے کمرے سے ہی واک آؤٹ کر گیا۔ مگر اپنے ہر انداز سے وہ بی جان کے شک پر تصدیق کی مہر لگا گیا تھا۔ بی جان ساری فکر و پریشانیاں ایک جانب رکھتے ہوئے پرجوش انداز میں مسکرا دیں۔

                🌸🌸🌸🌸🌸 

حرم نے میک اپ کی تہہ اتارتے ہوئے ایک نظر سکندر شاہ پر ڈالی جو موبائل پر مصروف تھا۔ ان کی شادی کو آج تیسرا روز تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی سنگت میں بہت خوش تھے مگر حرم نے متعدد دفعہ سکندر شاہ کا کھویا کھویا انداز بھی نوٹ کیا تھا۔
“سکندر سائیں، ایک بات پوچھوں؟ اس نے مسکارا اتارتے ہوئے پوچھا
“پوچھو! سکندر شاہ نے مصروف سے لہجے میں کہا۔
“کیا کوئی بات ہے جو آپ کو پریشان کر رہی ہے؟ وہ اب بیڈ پر اس کے قریب آ ٹکی۔ چہرے پر آدھے ادھورے میک اَپ کے نشانات ابھی بھی باقی تھے۔
“نہیں تو، تمہیں ایسا کیوں لگا؟ سکندر شاہ نے فون ایک جانب رکھ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“بس ایسے ہی، مجھے پتہ نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی بات سے پریشان ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو! حرم نے کندھے اچکا کر اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے میری جان۔۔ تم پریشان نہ ہو۔ میں کسی بات سے پریشان ہونگا تو تم سے شئیر ضرور کروں گا۔۔! سکندر نے پیار سے اس کے گالوں پر چٹکی بھری تو وہ مسکرا دی مگر اندر سے وہ مطمئن اب بھی نہ ہوئی تھی۔
“ایک بات پوچھوں؟ اس نے سکندر کے کندھے سے سر ٹکا کر ایک بار پھر پوچھا۔
“پوچھو! سکندر شاہ نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
“زوفا چھوٹی حویلی میں موجود ہے یا ابھی بھی شہر میں ہی ہے؟ اس نے لہجے کو سرسری سا بناتے ہوئے سوال کیا جبکہ سکندر شاہ کے چہرے کے اعصاب تن سے گئے۔ اس نے ایک جھٹکے سے حرم کو خود کو علیحدہ کیا۔
“یہ سوال بہتر ہے تم کسی اور سے کرو حرم اگر تمہیں اس بابت جاننے میں اتنی دلچسپی ہے تو،، میرا اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔! اس نے قدرے غصّے سے کہتے ہوئے ٹی۔وی کا ریموٹ اٹھا لیا۔ حرم کے چہرے پر پہلے تو حیرت ابھری پھر اسہزائیہ تاثر بکھر گیا۔
“ٹھیک ہے میں مانتی ہوں “اب؛ کوئی تعلق نہیں ہے تو کیا میں یہ مانوں کہ “پہلے؛ کوئی تعلق تھا؟ وہ سینے پر دونوں ہاتھ باندھے اٹھ کھڑی ہوئی۔ لہجہ قدرے جتاتا ہوا تھا۔ سکندر شاہ زچ آ کر بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کوئی بات نہیں ہے۔ تمہارے شک و شبہات کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔۔! وہ تیز لہجے میں کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
حرم کے اندر بھانبھڑ جل اٹھے۔ چہرہ آگ برسانے لگا تھا۔
“میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس زوفا کا غم آپ کو کھائے جا رہا ہے سکندر سائیں۔۔! اور وہ لڑکی اتنی بڑی غاصب نکلی کہ آپ کی زندگی سے نکل جانے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑا اس نے۔ سب جانتی ہوں میں، ہر بات کی خبر ہے مجھے۔ جلد از جلد اب اس ڈائری کو بھی مجھے ٹھکانے پر لگانا ہوگا ورنہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ابھی تو سکندر سائیں کو اس سے ہمدردی کا بخار چڑھا ہوا ہے نا، وہ ڈائری ان کے ہاتھ لگ گئی تو میرے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔۔!! کلس کر سوچتے ہوئے وہ دوبارہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

                 💛💛💛💛💛

کیا ہوا؟ اپنی اوقات دکھائی ان لوگوں نے یا اب تک نہیں؟ میر سالار نے پستول کے اندر گولی چیک کر کے سامنے دیوار کی جانب نشانہ کیا۔ پاس ہی سہما سہما سا نعیم (محافظ) کھڑا تھا۔ وہ اس وقت ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا پستول سے نبردآزما تھا۔
“سائیں ان سب کی ہم نے کافی خاطر مدارت کی ہے جی، آخرکار انہوں نے سچ سے پردہ اٹھا ہی دیا!! نعیم بنا رکے ہی شروع ہو گیا۔
“کیا بتایا ہے انہوں نے؟ میر نے ایک نظر نعیم کو دیکھا۔ اس کے بعد نعیم نے جو بتایا اسے سن کر میر سالار کا گرم خون گویا پورے جسم میں لاوا بن کر گردش کرنے لگا تھا۔
“ان سب کو اپنی حراست میں لو۔ اور انہیں وہاج شاہ کی ہی جگہ ایک خاص پروٹوکول کیساتھ پہنچا دو۔ انہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گا۔ فلحال میں جا رہا ہوں۔ اور ہاں غلطی سے بھی کوئی غلطی نہ ہو۔ یہ لاسٹ وارننگ ہے میری!! وہ عجلت میں گاڑی کی کیز اٹھا کر وہاں سے باہر نکل گیا۔ نعیم کے بتائے پتے کی جانب وہ اپنی گاڑی برق رفتاری سے بھگائے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس وقت دو سے تین آدمی موجود تھے۔ وہ جلد از جلد مِرحا کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا وہ بہت کمزور لڑکی ہے۔ اس ساری صورتِحال سے وہ بہت خوف زدہ ہو چکی ہوگی۔ اس کے بعد اسے وہاج شاہ سمیت ان کے آدمیوں کا بھی علاج کرنا تھا۔

تقریباً آدھے گھنٹے کا راستہ طے کر کے وہ مطلوبہ جگہ پر جا پہنچا تھا۔ وہ ایک بوسیدہ سی عمارت تھی جو شاید کسی بھی پل ایک ملبے میں تبدیل ہو جانے کو تھی۔ گاڑی سے اتر کر وہ تیز قدموں سے اس عمارت کی جانب بڑھا۔ اس کے آدمی بھی اسلحہ سنبھالے اس کی تائید میں اندر کی جانب بڑھے۔

“مِرحا، مِرحا کدھر ہو تم میری جان۔۔!! میر سالار بھینچی و قدرے بلند آواز میں مرحا کو پکارتے ہوئے سامنے بنے ایک کمرے کی جانب بڑھا۔ آواز میں جیسے کچھ چِھن جانے کا خوف سرائیت کر رہا تھا۔ اور پھر یکایک اس کے قدم وہیں دروازے پر جم سے گئے۔ اس کی ساکت نظریں اندرونی مناظر پر ٹھہر سی گئیں۔

اندر کی ٹوٹ پھوٹ سے ٹوٹے ہیں لفظ بھی
دورانِ گفتگو یوں اٹکتا نہیں تھا میں!!!