Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

کتنی حسرت تھی کہ انجام بدل جائے گا آخری ورق کئی بار پلٹ کر دیکھا!!!

وہ سی گرین کلر کے غرارے و لائٹ میک اپ میں، سوٹ کی ہم رنگ جیولری و چوڑیاں پہنے، ہاتھوں میں مہندی کا بھرپور رنگ لئے اس سادگی میں بھی قیامت ڈھا رہی تھی۔ ہر کسی کی نظریں اس پر ٹھہر کر رہ گئی تھیں۔ میر سالار کے خوف کے باعث پھر کسی کی جرت نہ ہوئی کہ اسے کم حیثیت کا طعنہ دے، یہی وجہ تھی کہ وہ قدرے بے خوف سی حویلی میں اِدھر سے اُدھر کا چکر کاٹ رہی تھی۔ پہلے تو اس کے زِمہ ہزاروں کام ہوتے تھے مگر اب فراغت ہی فراغت تھی۔ وہ شبانہ بی کی مدد کرنا چاہتی تھی مگر وہ ہر بار انکار کر جاتی تھیں وجہ مِرحا بخوبی جانتی تھی۔ ایک تو شبانہ بی کو مورے کا خوف لاحق ہوتا تھا کہ مبادا وہ انہیں طعنہ نہ دے کہ “اپنے حصے کا کام بیٹی سے کروا رہی ہو؛ اوپر سے وہ تو بنا کسی لحاظ کے ہی ہر کسی کی تذلیل کر جاتی تھیں۔ شبانہ بی سے تو وہ مِرحا کے واقعے کے بعد مزید ویسے ہی جلی بھنی بیٹھی تھیں۔
وائٹ کرتا پاجامہ میں، روایتی خسّہ پہنے، کندھے پر نفاست سے شال رکھے، لائٹ براؤن بالوں کو سلیقے سے سنوارے میر سالار اپنے لمبی جسامت سمیت ہر سو چھایا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ چہرے پر ہمیشہ کی طرح مخصوص سنجیدگی نے پہرا ڈال رکھا تھا۔ بلاشبہہ وہ مردانہ وجاہت کا مکمل شاہکار تھا۔

دوسری جانب حرم تھی جو کسی پتنگ کی طرح ہواؤں میں اڑتی پھر رہی تھی۔ اس کا رنگ روپ بھی دیکھنے سے مشابہت رکھتا تھا۔ وہ خوبصورت سے زرتار دوپٹے والے پیلے سوٹ میں ملبوس تھی۔ چہرہ اندرونی خوشی سے لشکارے مار رہا تھا۔ ہاتھوں اور پاؤں میں مہندی رچی ہوئی تھی۔ ہونٹوں پر مسلسل ایک دھیمی سی مسکراہٹ چسپاں تھی۔ سائرہ بیگم نے بیساختہ بیٹی کی نظر اتاری۔
آج تو سکندر شاہ کی بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، مگر دل ہی دل میں کہیں ایک پھانس چبھی ہوئی تھی۔ کچھ بھی تھا وہ طلاق سے پہلے ایک بار زوفا سے روبرو ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ اسے اندر ہی اندر اس کے ساتھ ہوئی زیادتی کا احساس کچوکے مارے جا رہا تھا مگر وہ اس احساس کا گلہ زبردستی گھونٹنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اسے معلوم تھا جو وہ چاہتا ہے وہ اب قطعی ناممکنات میں سے ہے کیونکہ بات یہاں صرف میر کے فیصلے کی نہیں تھی، بلکہ اسے معلوم تھا کہ زوفا بذاتِ خود اس سے ملنے سے کھرا انکار کر دے گی۔ اس لئے اب کسی بھی قسم کی کوشش بھی فضول تھی۔
رات گئے تک ڈھولکی کا شور گاؤں کی فضا میں گونجتا رہا۔ عورتیں الگ گیت گانے میں مصروف تھیں۔ ماحول میں ہر سو رونق چھائی ہوئی تھی۔ ہر کوئی اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔ عورتوں نے الگ محفل سجا رکھی تھی جبکہ ینگ پارٹی نے الگ دھاوا بول رکھا تھا۔ یہ رونقیں وقت کیساتھ کیساتھ مزید بڑھتی جا رہی تھیں۔
بالآخر شادی کا دن بھی آ پہنچا تھا۔ میر سالار نے کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہ کر کے چھوٹی حویلی کے تمام افراد کو مدعو کیا تھا۔ چونکہ عورتیں تو نہ آئی تھیں مگر مرد حضرات نے کچھ دیر کیلئے ہی سہی مگر اپنی شمولیت ظاہر کی تھی۔ وہاج شاہ میر کے اس اقدام پر خون کے گھونٹ بھر کر رہ گئے۔ مورے کو بھی اس بات کا علم ہوا تو وہ اندر ہی اندر بل کھا کر رہ گئیں۔
تمام تر دعاؤں کے سنگ حرم کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی جانب رخصت کر دیا گیا۔ سائرہ بیگم رسمِ دنیا کا خیال کرتے ہوئے تھوڑا آبدیدہ ضرور ہوئیں مگر حرم کی آنکھیں تک نم نہ ہوئی تھیں۔ اس کی خوشی عروج پر تھی۔ میر سالار کا یہاں سے کل ہی ولیمہ کی تقریب کے فوراً بعد ہی نکلنے کا ارادہ تھا۔ اس نے حسن کو بھی اپنے کل نکلنے کی اطلاع دے دی تھی ساتھ ہی وہاج شاہ کی گرفتاری کے متعلق بھی اسے بتا دیا تھا، ساتھ ہی اس نے جرگے سے جڑے مزید انکشافات کئے تو حسن کچھ دیر کیلئے حیرت زدہ رہ گیا۔ میر سالار کی جرت پر وہ اسے جتنا داد سے نوازتا کم ہی تھا۔ اسے میر سالار کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ اسے معلوم تھا، زوفا جب تک خلع کے کاغذات پر دستخط نہیں کر دیتی اس کے لئے سب کچھ مشکل ہی ثابت ہوگا۔ وہ چاہتا تھا زوفا کے والدین تک جلد ازجلد یہ بات میر سالار کے ذریعے پہنچے تا کہ وہ لوگ اس پر اپنی نظر کر سکیں۔ دنیا امید پر ہی قائم ہوتی ہے سو وہ بھی اسی پر قائم تھا۔ باقی سب کچھ اس نے اوپر والے پر چھوڑ دیا تھا۔

               ❤️❤️❤️❤️❤️

آج سکندر شاہ و حرم کا ولیمہ تھا۔ دونوں کے چہرے اندرونی خوشی کے باعث چمک رہے تھے۔ باقی سب بھی انہیں خوش دیکھکر مطمئن تھے۔ ایک وہاج شاہ ہی تھے جنہیں پورا یقین تھا کہ میر جو کہتا ہے وہ ضرور کرتا ہے پھر چاہے دنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی کہی بات کو نہیں بھولے گا۔ ان کا شاطر ذہن برق رفتاری سے اپنی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔ یکایک ان کے دماغ میں جھماکہ ہوا۔ انہیں اپنے وہ محافظ یاد آ گئے جنہوں نے میر سالار کے ہاتھوں اپنی درگت بنوائی تھی۔ وہ سارے بہت شرمندہ تھے اور وہاج شاہ سے معافی کے بھی طلبگار تھے، چونکہ وہاج شاہ نے انہیں ایک موقع اور دیا تھا جس کی وجہ سے ان سب کی جان بخشی ہو گئی تھی۔ ان محافظوں کی بابت سوچتے ہوئے وہاج شاہ کے ہونٹوں پر کمینگی سے بھرپور مسکراہٹ آ ٹھہری۔ کچھ سوچتے ہوئے انہوں نے ملازم کے ہاتھوں ان تمام کو بلاوے کا پیغام بھیجا۔
چونکہ ولیمہ کی تقریب اب ختم ہو چکی تھی۔ سو وہ ڈیرے پر بیٹھے اپنے بچاؤ کی تدابیر کر رہے تھے۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ سب وہاج شاہ کے روبرو تھے۔
“کہاں مر گئے تھے تم سب ہاں؟ جانتے ہو نا کہ میرے پاس وقت نہ ہونے کے برابر ہے؛ وہ ان تمام کو طیش کے عالم میں گھورتے ہوئے کھا جانے والے انداز میں بولے۔ وہ سارے مؤدب سے انداز میں خاموشی اختیار کئے سر جھکائے ہوئے تھے۔
“کیا حکم ہے شاہ سائیں؛ ان میں سے ایک بندے نے ہمت کر کے پوچھا۔
“میری بات غور سے سنو کمبختوں، پہلے ہی تم سب کی وجہ سے میں اس بھاری مصیبت سے دو چار ہوا بیٹھا ہوں۔ اب جو میں کہوں اگر اس کام میں زرہ برابر بھی غلطی ہوئی تو باخدا بنا تم سب کی کوئی وضاحت سنے سیدھا تم سب کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا، سمجھے!!! وہ کچکچا کر بولے۔ اس پل وہ یہ مکمل بھول بیٹھے تھے کہ سرپنچ کے جس شملے پر ان کا غرور آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتا تھا، اس شملے پر اب وہ مکمل طور پر اپنا حق و اختیار کھو بیٹھے ہیں۔
“سائیں، آپ حکم کریں جی؛؛ وہ سب ایک لے میں بولے۔
“یہ آخری موقع دے رہا ہوں تم سب کو،،، یاد رکھو “آخری موقع؛ یہی وقت ہے اپنی وفاداری ثابت کرنے کا۔ اگر بھولے سے بھی کوتاہی ہوئی تو وہاج شاہ کے عتاب سے تم سب کو کوئی نہیں بچا سکے گا؛ انہوں نے سختی سے وارننگ دی تو وہ سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
“اب میری بات نہایت غور سے سنو،؛؛ ان کی اواز پر وہ سب ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
“تم سب میر کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہمیں شاہ سائیں سے خطرہ ہے کیونکہ ہم نے ان کا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا۔ ہم سب کو ڈر ہے کہ وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، وہ اپنا بدلہ ضرور پورا کریں گے، اس لئے ہم سب نے یہ طے کیا ہے کہ ہمیں شاہ سائیں کا محافظ بن کر نہیں رہنا بلکہ آپ ہم سب کو اپنی محافظوں کی قطار میں شامل کر لیجئے۔۔۔!!! بس تم سب نے سالار سے اتنا ہی کہنا ہے،، اور جب وہ اس بات کیلئے راضی ہو جائے تو اس کے بعد جو کرنا ہے اب وہ سنو؛؛!! مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مکروہ مسکراہٹ سمیت وہ اپنے اگلے پلان کے متعلق ان سب کو بتانے لگے جسے سن کر ان تمام افراد کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جن میں خوف واضح طور پر ہلکورے لے رہا تھا۔ مگر وہاج شاہ کا ڈر اس اس خوف پر اس قدر غالب تھا کہ ان سب کی زبانوں پر گویا کفل لگ گیا تھا۔

               🌸🌸🌸🌸🌸

میر سالار اب ولیمے کی تقریب کے بعد شہر جانے کو تیار تھا۔ مِرحا نے فٹافٹ بیگ ملازم کے ہاتھوں گاڑی میں رکھوایا اور شال لئے خود بھی کمرے سے باہر نکل آئی۔ اس کا رخ انیکسی کی جانب تھا۔ واپسی کے خیال سے وہ قدرے افسردہ سی تھی وجہ شبانہ بی سے جدائی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ اس کے حق میں یہی بہتر تھا۔
“اماں؛ وہ انیکسی میں آئی تو دیکھا شبانہ بی کپڑے تہہ کر کے انہیں ترتیب دینے میں مصروف تھیں۔ آواز پر اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔ وہ اداس سی کیفیت میں چلتی ہوئی پلنگ پر آ بیٹھی۔
“کیا بات ہے میرو؟ کوئی بات ہوئی ہے کیا؟ شبانہ بی فکرمندی سے اس کا انداز نوٹ کرتی اس کے قریب آ بیٹھیں۔
“میں آج جا رہی ہوں اماں؛ میر سائیں کو بہت سے اہم کام نپٹانے ہیں۔ ہمیں آدھے گھنٹے کے اندر نکلنا ہے۔ سوچا آپ سے ملاقات کر لوں۔ پھر پتہ نہیں کب ملنا ہوگا۔۔!! وہ نم ہوتی آنکھوں کو جھپک کر بولی تو شبانہ بی بھی آبدیدہ ہو گئیں اور اس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا۔
“دیکھ میرو، جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہی ہوتا ہے۔ میر سائیں بہت اچھے انسان ہیں ان کی ہمیشہ قدر کرنا۔ رہ گئی ادھر آنے کی بات تو، تو انشاء اللّہ آتی جاتی رہے گی اور اس طرح سب سے ملاقات بھی ہوتی رہے گی۔ اچھا ہے نا وہاں تو مستقل میر سائیں کے ساتھ اور پاس رہے گی۔ جب تجھے گھمانا ہوگا وہ ادھر لے آئیں گے۔۔۔ میں تیرے لئے سچ میں بہت خوش ہوں۔ پہلے دل میں ہزاروں خدشات تھے مگر اب یہ دل ہر قسم کے شک و شبہات سے پاک ہے الحمدللہ،،!! انہوں نے محبّت سے چور انداز میں اس کی پیشانی چوم لی۔

“میرے لئے دعا کرنا اماں، اللّٰہ پاک ان سب کے دلوں میں میرے لئے کچھ گنجائش پیدا کر دے، مزید یہ کہ میر سائیں کے ساتھ میں ہمیشہ اسی طرح خوش و خرم رہوں!! وہ انگلیوں کی پوروں سے آنکھیں رگڑتی ہوئی سیدھی ہو بیٹھی۔
“میری تمام دعائیں تیرے ساتھ ہیں میری دھی، چل اب تجھے رخصت کر دوں۔ آ؛ انہوں نے پیار سے کہا ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئیں تو وہ بھی ان کی تقلید میں انیکسی سے باہر نکل آئی۔ شبانہ بی کے ہمراہ وہ لان میں ہی چلی آئی جہاں میر سالار اپنے محافظوں کے ہمراہ اس وقت وہیں موجود تھا جہاں باقی سب شام کی چائے انجوائے کرنے کو بیٹھے تھے۔
“میں ابھی شہر کیلئے نکل رہا ہوں، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ جو میں نے کہا تھا وہ یہاں پر کسی کو یاد ہے یا نہیں؛ میر سالار نے جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے سب کے بے نیاز چہروں پر نظر دوڑائیں۔ وہاج شاہ و مورے کے ماتھے پر ان گنت بل پڑ گئے۔
“کی ہو گیا ہے میر، چھڈ دے جان شاہ سائیں کی، حد ہوتی ہے۔ تو اتنا وڈا ہو گیا ہے اب کہ انہیں اپنے عہدے کا رعب دکھاتا پھرے گا؛ مورے تنک کر ہاتھ نچاتے ہوئے بولیں تو میر سالار کے ہونٹوں پر محضوظ سی مسکراہٹ آ گئی۔
“میرا قانون ہر کسی پر لاگو ہوتا ہے چاہے پھر سامنے وہاج شاہ ہی کیوں نہ ہوں، یہ بات آپ سب جتنی جلدی ہو سکے سمجھ جائیں۔ کیوں دادا سائیں ٹھیک فرما رہا ہوں نا؟ سالار کے ہونٹوں پر اس وقت دل جلا دینے والی مسکراہٹ تھی۔ وہاج شاہ کا چہرہ غصے و اہانت کے احساس سے سرخ ہونے لگا۔
“بہت غلط کر رہے ہو میر، پچھتاؤ گے تم اپنے اس اقدام پر، دیکھ لینا۔۔!! وہ چبا چبا کر بولے۔
“پچھتاوا تو آپ کو ہونا چاہئے کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے آپ کے اپنے ہی گناہوں کی یہ سزا ہے۔ مگر افسوس، پچھتاوا تو دور کی بات ہے آپ کے چہرے پر میں نے ایک دفعہ بھی ندامت کے آثار نہیں دیکھے؛؛ اس نے طمانیت سے انہیں آئینہ دکھایا جس پر وہ مزید کھول کر رہ گئے۔ باقی سب منہ کھولے میر سالار کی جرت و بہادری دیکھ رہے تھے۔
“تم سب بھی تو کچھ بولو بدبختوں، کیا گونگے کا گڑ کھا لیا ہے؟ وہاج شاہ نے چاروں بیٹوں کی جانب دیکھ کر دہاڑتے ہوئے کہا۔
“گستاخی معاف بابا سائیں؛ جرگے کے فیصلے کے مطابق میر جو کر رہا ہے وہ صحیح ہے۔ ویسے بھی پورا گاؤں اب آپ کا مخالف ہے سو آپ سزا سے نہیں بچ سکتے؛ سبحان شاہ نے سپاٹ لب و لہجے میں کہا تو وہاج شاہ کا تنفس غصے کی زیادتی سے تیز تر ہو گیا۔
“خدا غارت کرے تم سب کو، سارے کے سارے نالائق و نِکمّے ہو!! وہ چنگھاڑتی آواز میں بولے۔
“جلدی کرو، میرے پاس فضول وقت نہیں ہے؛ میر سالار نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈال کر عجلت بھرے انداز میں اپنے محافظوں کو اشارہ کرتے ہوئے بولا تو وہ سب کمالِ جرت سے آگے بڑھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے ایک نے وہاج شاہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی۔ وہاج شاہ زخمی شیر کی مانند اپنا ہاتھ آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگے۔
“میر، کیا ساری شرم و حیا کا سودا کر دیا ہے تم نے؟ ارے میں کہتی ہوں اللّٰہ ایسی فتنہ پرور اولاد کسی کو نہ دے؛ مورے سینہ پیٹتے ہوئے واویلا کرنے لگیں۔
“اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری اگلی نسلوں کو آپ جیسے بزرگوں سے بچائے۔ آمین!! میر سالار ٹھہر ٹھہر کر بولا۔ اس پل اس کی آنکھیں ضبط کی شدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔ مورے کلس کر رہ گئیں۔
“چلتا ہوں امّی سائیں؛ اس نے سائرہ بیگم کے سامنے سر خم کیا۔
“جاؤ اللّٰہ کی امان میں؛ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا دی ساتھ ہی سر جھکائے کھڑی مرحا کو دیکھا تو آگے بڑھکر بنا کچھ بھی کہے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی، میر سالار کی آنکھوں میں بھی اس پل حیرت کے رنگ واضح تھے۔ سائرہ بیگم جانے کیوں نظریں چرا کر رہ گئیں۔ سالار نے گہرا سانس بھرتے ہوئے مرحا کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتی ہوئی اس کے ساتھ چل پڑی۔
وہاج شاہ کا حال اس پل دیکھنے سے مماثلت رکھتا تھا۔ گالیاں بکتے ہوئے وہ اپنے آپے میں نہ تھے۔ ساتھ ہی میر سالار کو دھمکیاں بھی دئے جا رہے تھے جس کی اسے قطعاً پرواہ نہ تھی۔ اس کے محافظین جب وہاج شاہ کو باہر لے کر نکلے تو وہاں گاؤں کے لوگوں کا ایک مجمع موجود تھا۔ پتہ نہیں وہ مخبری کرنے والا کون تھا جس نے یہ خبر اس قدر تیزی سے پھیلائی تھی کہ اب لوگ تماشہ دیکھنے کیلئے حویلی کے اطراف میں جمع کھڑے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کے خوشی سے چمکتے چہروں کو دیکھکر وہاج شاہ کا جسم گویا بھسم ہو کر رہ گیا۔
“بہت پچھتاؤ گے تم سب، وہاج شاہ کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے تم سب کو ابھی، ایک ایک فرد سے گن گن کر بدلے لوں گا میں؛؛ وہ خونخوار لہجے میں بولے۔ ان کی اس حالت سے وہاں کھڑا ہر شخص لطف اندوز ہو رہا تھا۔ جبھی وہاج شاہ کی نظر اپنے “سابق؛ محافظوں پر جا پڑی۔ سب کی نظر بچا کر انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں گویا سوال کیا کہ “کیا کام ہو گیا؛ تو ان سب نے سر اثبات میں ہلا کر انہیں ہری جھنڈی دکھائی جس سے ان کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ اپنی جھلک دکھا کر گم ہو گئی۔
“اب دیکھنا میر میری طاقت، تم مجھ پر کبھی فوقیت نہیں پا سکتے۔ تمہارے ساتھ وہ ہوگا جس کا تم نے سوچا بھی نہ ہوگا۔ میں وہاج شاہ ہوں میں نے بھی ہار ماننا نہیں سیکھی ہے میرے پیارے پوتے؛؛؛ بگڑے ہوئے تاثرات کیساتھ انہوں نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے میر کو دیکھ کر سوچا۔ آنکھوں سے گویا نفرت کی چنگاریاں نکل رہی تھیں۔