Zra Eik Nazar Mere Bekhabar By Zariya Readelle50066

Zra Eik Nazar Mere Bekhabar By Zariya Readelle50066 Last updated: 9 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zraa Eil Nazar Mere Bekhabar

By Zariya

جو باکردار ہو اس کو سیانی کون کہتا ہے کسی مزدور کی بیٹی کو رانی کون کہتا ہے

صبحِ صادق کا وقت ہو چلا تھا جب کسی کے جھنجھوڑنے پر اس کی آنکھ بمشکل کھلی اور اپنے اوپر خطرناک تیوروں سمیت جھکی شبانہ بی کو دیکھ کر اس کی بچی کھچی نیند بھی بھک سے اڑ گئی تھی۔ وہ منہ بناتے ہوئے کسلمندی سے اٹھ بیٹھی۔

آج مہارانی کا بستر سے نیچے پاؤں اتارنے کا ارادہ ہے یا نہیں ؟ تو تو گھوڑے اور خچر بیچ کر سوتی ہے ایک میں ہوں کُھٹکا ہی لگا رہتا ہے کہ کب کون سی آفت نازل ہو جائے!!! صبح صبح شبانہ بی کی فراٹے سے چلتی زبان اور ان کی تیز آواز گویا اس کے کان کے پردے پھاڑ رہی تھی۔

اماں !! مِرحا نے زچ ہوتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ رات بھی کام دیر سے ختم ہونے کے باعث وہ لیٹ

سوئی تھی اور صبح ہی صبح اٹھا کر بٹھا دی گئی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر لٹکی چھوٹی سی گھڑی کی جانب دیکھا تو گھڑی کی سوئیاں صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھیں۔ وہ بے بسی سے شبانہ بی کو دیکھ کر رہ گئی جو اب بستر تہہ کر کے سلیقے سے ایک جانب رکھ رہی تھیں۔ وہ جانتی تھی ان سے کچھ بھی کہنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا تھا سو وہ چپ چاپ اٹھی فریش ہوئی وضو بنایا اور نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اماں کے ساتھ انیکسی سے نکل کر حویلی کی جانب چل دی، جہاں معمول کے مطابق حویلی کے دیگر ملازمین کی طرح ان دونوں ماں بیٹی کے لئے بھی ڈھیروں کام منتظر تھے۔ مِرحا کے والد چار سال قبل ہی وفات پا چکے تھے۔ وہ بچپن سے ہی اس حویلی کی خدمت پر معمور تھے۔ چونکہ ان کے باپ اور داداؤں سے یہ روایت چلی آ رہی تھی تو ان کی وفات کے بعد بھی شبانہ بی اور مرحا اسی طرح حویلی والوں کی خدمت پر معمور رہیں جس طرح مرحا کے

والد اپنی ساری زندگی حویلی والوں کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ یہاں بہت سے ملازمین ایسے

بھی تھے جو بچپن سے یہاں رہائش پزیر اور کام پر معمور تھے۔ اور چند ملازمین ایسے بھی تھے جو نئے ملازمین کی فہرست میں آتے تھے۔ مرحا نے جب سے ہوش سنبھالا انہی حویلی کے در و دیوار کو اپنے ارد گرد پایا۔ اپنی زندگی کی انیس بہاریں اس نے اسی حویلی میں دیکھیں۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا تو شبانہ بی کی درخواست پر اسے قریبی مدرسے میں پڑھنے

کی اجازت دے دی گئی، جہاں پر اس نے سب سے پہلے قرآن کریم مکمل کیا اور چونکہ قرآن کریم کے علاوہ یہاں اُردو، انگریزی وغیرہ کی بھی کلاسز مختلف اوقات میں دی جاتی تھیں تو وہ ان سے بھی فیضیاب ہو جاتی تھی۔ وہ اس میں ہی خوش تھی اور بقول شبانہ بی کے کہ "ہم نے اس

حویلی کا نمک کھایا ہے، ہم اپنی جان تو دے سکتے ہیں پر غدارّی کے مرتکب نہیں ہو سکتے

؛ یہی ان کے مرحوم شوہر داد بخش کا بھی کہنا تھا، اور اس کی یاد دہانی وہ بعض اوقات مِرحا کو بھی کراتی تھیں۔

فاصلے پر تھی۔ دونوں حویلیاں بڑی حویلی و چھوٹی حویلی کے نام سے مشہور تھیں۔ دونوں گھرانوں میں بہت میل ملاپ تھا۔ دیگر مواقع پر ان کا ایک دوسرے کے یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔ چوبیس سالہ میر سالار جو کہ ایک پولیس آفیسر بھی تھا، اپنے لمبے قد و جسامت پر ڈارک براؤن آنکھوں و گوری رنگت سمیت چونکا دینے والی شخصیت کا حامل تھا، وہ اپنی خاموش طبع، زہانت، رعب و دبدبے سے خاندان میں خاصا مشہور بھی تھا۔ اس کا پیشہ بھی اس کے مزاج کے عین مطابق تھا۔ وہ ایک روایت پسند و سخت گیر مرد تھا۔ مِرحا (جسے حویلی کی معمولی ملازمہ کا شرف حاصل تھا) کب اس سنگدل سے دل لگا بیٹھی تھی اس کی خبر اسے خود بھی نہ ہوئی تھی لیکن اس راز کو اس نے اپنے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ اس کی خبر اس نے شبانہ بی تک کو نہ ہونے دی تھی۔ زوفا شاہ اور مِرحا بخش میں محض حیثیت کا فرق تھا وگرنہ محبّت کے معاملے میں دونوں ہی تشنہ و خالی در پر سوالی کی مانند تھیں۔

کبھی تشنگی، کبھی تیرگی، کبھی دکھ ملا تیرے نام پر میری آبرو، میری جستجو، میرا سب گیا تیرے نام پر