Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

چینج کر کے اس نے برائے نام ہی کچھ کھایا تھا۔ چونکہ ہاسپٹل میں اس نے سوپ پی لیا تھا سو فلحال اس کا دل بالکل بھی کچھ کھانے کا نہ تھا۔ اس کی دوائیں جو کہ میر سالار نے ترتیب دیکھتے ہوئے اسے نکال کر دیں وہ انہیں لے کر سونے کیلئے لیٹ گئی اور میر سالار ضروری فون کالز پر مصروف ہو گیا۔
اسے شام تک نہایت ہی اہم کام سے دو دنوں کیلئے کہیں جانا بھی تھا۔ دوسرا اہم کام شہلا اور اس کے آدمیوں سے نپٹنا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ مِرحا تھوڑا ریسٹ کر لے پھر وہ اسے شام تک فارم ہاؤس پر چھوڑ کر خود وہاں سے نکل جائے گا۔
فارم ہاؤس پر اس کے قابلِ بھروسہ ملازمین بھی تھے اور مِرحا یہاں کے مقابلے میں وہاں زیادہ رہی بھی تھی۔ ادھر تو مشکل سے دو دن گزرے تھے۔ دو،تین ملازمین یہاں بھی تھے۔ لیکن وہ یہاں مرحا کو قطعی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
اس نے امجد کو کال کر کے فوری طور پر کوئی خاتون ملازمہ ڈھونڈنے کا کہا۔ اس کے فارم ہاؤس پر کبھی کوئی لڑکی خواہ وہ ملازمہ کے ہی روپ میں کیوں نہ ہو وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ مگر اب وہ چاہتا تھا کہ اس کے جانے کے بعد پیچھے کوئی ایسا ہو جو مرحا کا خیال رکھے۔ اس کے کھانے سے لے کر دواؤں تک کی زمہّ داری اٹھائے۔ فلحال جس حالت میں وہ تھی اسے کئیر کی سخت ضرورت تھی۔ اس کے لئے یہ اشد ضروری تھا۔ ویسے بھی وہ کام کے سلسلے میں بعض اوقات دو، تین روز کیلئے فارم ہاؤس سے دور رہتا تھا۔ ایسے میں مرحا کو بھی اس خاتون کی کمپنی میں بوریت کا احساس نہیں ہونا تھا۔

وہ ایس پی حسن جو کہ اس کا بہت اچھا دوست تھا اس سے باتیں کر کے جیسے ہی فارغ ہوا سائرہ بیگم کا نمبر موبائل کی سکرین پر جگمگاتا ہوا دیکھکر اس نے کال پک کی۔

“اسلام علیکم کیسی ہیں امی سائیں؟ لہجہ بلا کا سنجیدہ تھا۔
“بھلا کیسی ہو سکتی ہے تیری ماں؟ بہت بری ہے! ارے اتنی بری ہے کہ جوان اولاد اس کی طرف ایک نظر دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔۔۔ دوسری جانب جلی کٹی آواز ابھری تو میر سالار گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں! میں آج رات بہت بزی ہوں گا کل انشاء اللّہ چکر لگاتا ہوں میں حویلی کا۔۔۔ وہ نپے تلے لہجے میں بولا۔

“ہونہہ، کہاں کی حویلی کہاں کے ماں باپ اور بھائی بہن، تجھے کچھ یاد ہے؟ پتہ نہیں اس منحوس ماری نے کیا جادو کر دیا ہے۔ خود تو اپنی ضد پوری کر کے پورے خاندان میں ہماری ناک کٹوا دی اور تو اور جس سے تونے نکاح کیا ہے نا وہ ہمارے سٹینڈرڈ کی ہوتی تو شاید صبر آ بھی جاتا مگر تھو ہے لعنت ہے اس لڑکی پر۔۔ وہ سیخ پا ہوتے ہوئے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے میں مصروف ہو گئیں۔

“بس امی سائیں، بہت ہو گیا۔ وہ میری محبّت ہے لہذا اسے کچھ بھی کہنے سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اس کے خلاف کوئی بھی بات میں برداشت نہیں کروں گا چاہے وہ میرے ماں باپ کے منہ سے ہی کیوں نہ نکلی ہو! غصّے کی سرخی چہرے پر لئے وہ بیڈ پر بے خبر سوئی ہوئی مرحا پر نظر کرتا لفظوں پر زور دیتا ہوا بولا تو سائرہ بیگم کے تو گویا سر پر لگی اور تلوؤں پر جا کر بچھی۔

“ارے میں تو اس دو ٹکے کی نوکرانی کو منہ نہ لگاؤں کجا کہ اس کے بارے میں بات کرنا۔۔۔ اللّٰہ معاف کرے۔ وہ تنک کر بولیں۔ لہجہ ہتک امیز تھا۔ میر سالار نے سختی سے ہونٹ بھینچ لئے۔

“حیرت کی بات ہے اس قدر نفرت کے باوجود بھی آپ کا موضوعِ گفتگو اب بھی وہی ہے۔ سرد لہجے میں اس نے سائرہ بیگم کو جتایا تو وہ کچھ پل کے لئے چپ رہ گئیں۔
“بہرحال میں کل چکر لگانے کا سوچ رہا ہوں۔ وقت رہا تو آؤں گا۔ خدا حافظ۔ بات ختم کر کے اس نے کال کٹ کر دی جبکہ دوسری جانب سائرہ بیگم دانت پیس کر رہ گئیں۔ مرحا کے لئے دل میں موجود نفرت مزید گہری ہو گئی تھی۔

               🌸🌸🌸🌸🌸

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں
گویا کاغذ کے پھول ہوتی ہیں!!
ہر کسی نام پر نہیں رکتیں
دھڑکنیں بااُصول ہوتی ہیں!!
پتھروں کے خداؤں کے آگے
التجائیں فضول ہوتی ہیں!!
خواب ٹوٹیں یا پھر بکھر جائیں
قیمتیں کب وصول ہوتی ہیں!!
کوئی میرے لبوں کو بھی لا دے
جو دعائیں قبول ہوتی ہیں!!

زوفا حکم کے مطابق اب بنا کسی کے بلاوے پر ہی حویلی میں حاضر ہو گئی تھی۔ اسے پتہ تھا اس کی معمولی سی جنبش پر بھی یہ لوگ اسے روئی کی طرح دھنک دیں گے۔ منتہا آتے جاتے اسے خوں اندام نظروں سے گھورتی رہتی۔ حفضہ بیگم اور مورے کا بس نہ چلتا تھا کہ اس کی رہی سہی سانسیں بھی اس کے جسم کے کھینچ لیں۔ باقی سب کا رویہ بھی اس کے ساتھ خشک اور روکھا ہوتا تھا۔ حرم تو ویسے بھی اس پر ہو رہے ظلم و ستم کے حق میں تھی اور سکندر شاہ بھی اس میں شامل تھا۔
وہ بھوکی پیاسی بے حِس بنی کام میں جتی رہی۔ باغ کے پچھلے حصے میں سرسوں پیٹتے ہوئے اسے خود پر ٹھہری چلچلاتی دھوپ تک کا احساس نہ رہا تھا۔ وہ ایسے ہی لگی رہی۔ جبھی بِٹو (ملازمہ) اس کے لئے شاہ بی بی کا بلاوا لئے چلی آئی۔ وہ کام روک کر بٹو کے ساتھ ہی وہاں سے اٹھ کر صحن کی طرف آ گئی۔ جہاں مورے حسبِ معمول پاندان لئے بیٹھی ملازمہ کی خدمت سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ پاس ہی وہاج شاہ بھی موجود تھے۔ وہ دل ہی دل میں خوف زدہ ہوتی ان کے قریب چلی آئی۔ مورے نے پان چباتے ہوئے استہزائیہ مسکراہٹ سے وہاج شاہ کی سمت دیکھا تو وہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے زوفا کو دیکھنے لگے۔

“لڑکی، آج تمہارا باپ اور دادا آئے تھے بھیک مانگنے۔ ان کے مطابق تیری بی جان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اور وہ آخری وقتوں میں تجھے دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے انہیں سمجھایا نہیں تھا تم نے کہ اس قسم کی بیوقوفی سے آگے پرہیز کریں؟ انہوں نے تیکھے لہجے میں پوچھا جبکہ دوسری جانب زوفا پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ آنکھیں بے اختیار لبالب آنسوؤں سے بھر گئیں۔ سسکیوں کا گلا گھونٹنے کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔

کچھ پوچھ رہے ہیں شاہ سائیں تجھ سے ہوں؟ کیا بہری ہو گئی ہے؟ مورے کی ٹناکے دار آواز پر وہ بے اختیار ضبط کا دامن چھوڑتی ہوئی بھاگتے ہوئے ان کے پیروں پر جا گری۔

“مورے خدا کیلئے مجھے ایک آخری دفعہ میری بی جان سے ملوا دیں۔ پھر میں آپ سب سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔ خدا کیلئے میری بی جان کو مجھے دیکھنے دیں۔ وہ اونچی آواز میں روتے ہوئے التجا کرنے لگی۔ شاہ بی بی نے کینہ توز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے بالوں کو جھٹکے سے مٹھی میں دبوچ لیا

“خبردار جو اس منحوس حویلی میں دوبارہ جانے کی بات کی۔ کوئی بہت لاڈ و پیار سے بیاہ کر نہیں لائی گئی ہے تو کہ جب تیرا دل چاہا یہاں سے وہاں اٹکھیلیاں کرتی پھرے سمجھی، تیری بی جان اگر زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی تب بھی تجھے نہیں جانا ہے۔ یہ بات دماغ میں بٹھا لے اپنے۔۔۔ چیخ چیخ کر کہتے ہوئے انہوں نے اسے دور جھٹک دیا۔ وہاج شاہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے مونچھوں کو ہنوز تاؤ دیتے اس منظر سے بھرپور لطف اٹھا رہے تھے۔ آس پاس کام کر رہے ملازمین کا بھی یہی حال تھا۔ سب مزے لے رہے تھے۔
زوفا کی درد سے بھری رونے کی آوازیں پورے صحن میں زور و شور سے گونج رہی تھیں۔ اپنے شکستہ وجود کو بمشکل سنبھالتے ہوئے وہ وہاج شاہ کے پاس چلی آئی اور ان کے پیر پکڑ لئے۔

“شاہ سائیں، میری بی جان مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ خدارا میرے ساتھ یہ ظلم نہ کریں۔ مجھے ان کا آخری دیدار کرنے دیں آپ کو خدا کا واسطہ ہے؛ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی مگر وہاں پتھر دل لوگ بستے تھے۔ اس کے آنسو و خوشامد زایاں ہی ہو جانی تھیں۔ دھیرے دھیرے حرم سمیت دیگر لڑکیوں و خواتین کا تانتا وہاں لگنے لگا۔ وہاج شاہ نے بیدردی سے اسے ٹھوکر ماری وہ بے دم وجود کے ساتھ جیسے وہیں ڈھے سی گئی۔ جبھی وہاں راکھی کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی چلی آئی۔ شاہ بی بی نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔

“تجھے کیا ہو گیا آج کلموہی؟ انہوں نے پاٹ دار آواز میں پوچھا
“ہائے اللّٰہ معاف کرے شاہ بی بی، خبر ہی ایسی ہے۔ یہ زوفا ہے نا اس کی دادی سائیں کی روح پرواز کر گئی ہے۔ بڑا رونا دھونا مچا رکھا ہے ان کی عورتوں نے؛؛ اس نے ٹھوڑی پر انگلی رکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں کہا تو زمین پر پڑی زوفا کو یوں محسوس ہوا گویا اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین و سر سے آسمان تک کھینچ لیا گیا ہو۔ وہ بسمل کی مانند تڑپتی ہوئی بے ساختہ اٹھی اور گویا راکھی کو نوچنے کے درپے ہو گئی۔

“کیا؟ کیا کہا تم نے؟ نہیں کہہ دو یہ جھوٹ ہے۔۔ میری بی جان ایسے کیسے جا سکتی ہیں مجھ سے بنا ملے ہی وہ چلی گئیں۔ وہ تو مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتی ہیں۔۔ وہ راکھی کو زور زور سے جھنجھوڑتے ہوئے ہذیانی انداز میں چیخی۔ اس کے آنسو تسلسل سے گر رہے تھے۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ لٹی پٹی سی کہیں سے بھی وہ زوفا شاہ نہیں لگ رہی تھی جو آج سے چند روز پہلے تھی۔ راکھی نے اپنا آپ چھڑا کر اسے پیچھے دھکیلا۔ حفضہ بیگم تن فن کرتی آگے بڑھیں اور اس کا بازو اپنی آہنی گرفت میں لے کر بری طرح سے دبا ڈالا۔ وہ بے تحاشہ روتے روتے درد کی شدت سے بلبلا کر رہ گئی۔

“اب پتہ چلا تجھے جب کوئی اپنا جاتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ رو جتنا تیرا دل چاہے رو۔ ایک یہی چیز ہے یہاں جس کی تجھے مکمل طور پر آزادی ہے! سفاک مسکراہٹ لبوں پر سجائے انہوں نے اس کے بازو کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ جبکہ وہ ہوش و خرد سے بیگانہ بس آنسو بہائے جا رہی تھی۔ یکایک اس نے اپنا بازو ان کی گرفت سے آزاد کرایا اور صحن سے نکلتے ہوئے حویلی کے بیرونی حصے کی جانب بھاگی۔ جبھی وہ اندر داخل ہوتے سکندر شاہ سے ٹکرا کر فرش پر ہی گر گئی۔ سکندر شاہ کا غصّہ اسے دیکھکر آسمان کو چھونے لگا۔ شنو (ملازمہ) صحن سے بھاگتی ہوئی اسی جانب آئی اور کھنچتے ہوئے اس کے ٹوٹے بکھرے وجود کو اٹھایا۔ بقیہ خواتین اب وہیں چلی آئی تھیں۔

“سکندر سائیں، میری بی جان کو مجھے دیکھنے دیں۔ میں آپ سے بھیک مانگتی ہوں۔ میرے اوپر رحم کریں سکندر سائیں۔ اتنے سنگدل نہ بنیں خدا کیلئے۔۔۔ وہ ملازمہ کے سہارے کھچتی چلی جا رہی تھی مگر ہاتھ جوڑے مسلسل سکندر شاہ سے التجا کئے جا رہی تھی۔

“لے جاؤ اسے واپس زندان میں، فضول میں دماغ خراب کر رکھا ہے؛ وہ غصّے سے دہاڑا ساتھ ہی وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے حرم کی آنکھوں میں رج رج کے ٹھنڈک اتر آئی تھی۔ اب اس کے دل میں سکندر شاہ کو لے کر کوئی شک باقی نہ رہا تھا۔ وہ طمانیت سے مسکراتی صحن میں واپس چلی آئی جہاں شنو اسے کھینچتے ہوئے واپس مورے کی خدمت میں لے آئی تھی۔

“تیری اتنی ہمت کہ تو نے یہاں سے اپنے قدم باہر نکالنے کی کوشش کی، اس کے لئے کیا سزا ہونی چاہئے شاہ سائیں؟ انہوں نے سلگتے ہوئے نخوت سے کہا ساتھ ہی وہاج شاہ کو دیکھا جن کا چہرہ غصّے کی شدت سے لال انگارہ ہو رہا تھا۔ زوفا کے اندر اب شاید رونے کی بھی ہمت ناپید ہو چکی تھی۔

“لے جاؤ اسے زندان میں حفضہ، اور جتنا ہو سکے آج شموئیل خان کی موت کا غم مناؤ۔۔۔ جاؤ ۔۔۔ انہوں نے کٹھور لہجے میں حفضہ بیگم کو کہا تو وہ آگے بڑھ کر اس کے پھولوں سے بھی زیادہ نازک وجود کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گئیں۔ بقیہ لوگ دھیرے دھیرے وہاں سے ہٹتے چلے گئے۔ حرم بھی ہاتھ جھاڑتے ہوئے وہاں سے نکل لی۔
حفضہ بیگم اسے کھینچتے ہوئے زندان کی جانب لئے چلی جا رہی تھیں مگر اس بار وہ خاموش تھی۔ مکمل خاموش! اس کے چہرے پر ایسی ویرانی و اندر اتنی تاریکی و خاموشی تھی جو شہرِ خموشاں کو بھی مات دے دے۔

وہ منزلیں بھی کھو گئیں
وہ راستے بھی کھو گئے!!
جو آشنا سے لوگ تھے
وہ اجنبی سے ہو گئے!!
یہ پوچھتے ہیں راستے
رکے ہو کس کے واسطے!!
چلو تم بھی اب چلو
وہ مہرباں تو کھو گئے!!

                 💛💛💛💛💛

وہ سو کر اٹھی تو شام کی چائے پینے کے بعد وہ میر سالار کے ہمراہ فارم ہاؤس کی طرف روانہ ہو گئی۔ میر سالار نے اسے اپنے دو دنوں کے دورے سے آگاہ کر دیا تھا اور تب سے اس کا منہ پھولا ہوا تھا۔ اس کی ناراضگی سے وہ واقف ہو چکا تھا حالانکہ اس نے کچھ کہا نہیں تھا۔ مگر اس کے انداز سب پتہ دے رہے تھے۔ میر سالار اپنی مسکراہٹ ضبط کر کے رہ گیا۔
مرحا نے تو اپنی نیند پوری کر لی تھی البتہ میر سالار ایک پل کو بھی نہ سو سکا تھا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر وہ احتیاط سے لیٹ گئی۔ اس دوران وہ دوبارہ سو گئی تھی۔ جبکہ سالار کو فارم ہاؤس پانچ بجے تک پہنچ جانا تھا اس لئے وہ بس تیز رفتار سے گاڑی بھگانے میں مصروف تھا۔
گاڑی جب فارم ہاؤس کے گیٹ پر پہنچی تو پانچ بج چکے تھے۔ مرحا کی بھی آنکھ کھل گئی۔ سالار تیزی سے فرنٹ ڈور کھول کر اترا اور ساتھ ہی پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے اسے سہارا دیتے ہوئے آہستگی سے باہر نکالا۔ اس کا بیگ دینو گاڑی سے اتار کر اندر لے گیا۔

وہ اسے بازوؤں کے حصار میں لئے اندر چلا آیا اور لاؤنج کے کاؤچ پر بٹھا دیا۔ مرحا کی ناراضگی جوں کی توں قائم تھی۔ جبھی وہاں ایک ادھیڑ عمر عورت چلی آئی۔

“اسلام علیکم سائیں، وہ جی میں دینو کے کہنے پر ادھر آئی ہوں۔ وہ عورت مؤدب انداز میں سر جھکائے بولی۔
‘ہاں میں نے ہی اسے کہا تھا اور بات سنو، اب سے تمہیں ان کے آس پاس ہی موجود رہنا ہے۔ ان کی دواؤں سے لے کر کھانے پینے حتیٰ کہ ہر قسم کی ضروریات کا خیال تم رکھو گی۔ لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ وہ حکمیہ انداز میں بولا۔
“آپ بے فکر رہیں سائیں، میں شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گی جی، مجھے سب کچھ آتا ہے کھانا بنانے سے لے کر ہر کام کر لیتی ہوں؛ وہ سر جھکائے ہی بولی۔

“ہوں۔۔ فلحال تم جاؤ اور بی بی سائیں کیلئے کچھ اچھا سا بنا دو۔ لائک سوپ یا نوڈلز وغیرہ! میر سالار نے ریسٹ واچ دیکھتے ہوئے عجلت میں اس سے کہا۔ ساتھ ہی مرحا کو دیکھا جو سر جھکائے اپنے ناخنوں کو دیکھ رہی تھی۔

کیا کھاؤ گئ مرحا، جو بھی کھانا ہو بتا دو یہ بنا دے گی؛ میر سالار نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“زہر کھاؤں گی؛ وہ اسے دیکھ کر تلماتے ہوئے بولی۔
“اوہ گریٹ چوائس، تم ایسا کرو ان کیلئے ڈیلیسیس سا زہر تیار کرو فٹافٹ! وہ بھرپور سنجیدگی سے ملازمہ سے بولا تو مرحا کا منہ مزید پھول گیا۔
ملازمہ حیرت سے منہ کھولے کبھی میر سالار تو کبھی مرحا کو دیکھ رہی تھی۔

“فلحال تم جاؤ، کچھ ٹائم میں دوبارہ پوچھ کر کچھ بنا دینا۔۔۔ وہ اسے جانے کا کہہ کر مرحا کی جانب متوجہ ہوا۔

“یار کام کے سلسلے میں مجھے جانا تو ہوگا نا؟ وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیتا ہوا بولا۔
“سائیں اگر آپ حویلی جائیں گے تو میں نے بھی جانا ہے۔ اماں سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ وہ منت بھرے انداز میں بولی تو میر سالار اسے گھورنے لگا۔ وہ خفیف سی ہو گئی۔ منہ ایک بار پھر پھول کر کُپا ہو گیا۔

“جب تک تم مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہو جاتی تمہیں کہیں نہیں لے جا سکتا میں۔۔ ہو سکتا ہے میں کل شام تک حویلی کا بھی چکر لگاؤں مگر تنہا ہی جاؤں گا۔ تمہیں تمہارے ٹھیک ہو جانے کے بعد لے کر جاؤں گا اور ایک یا دو روز جتنا بھی میں رہوں گا تمہیں بھی اتنا ہی رہنا ہے پھر میرے ساتھ ہی واپسی ہو جائے گی تمہاری۔۔۔ وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا تو وہ نروس سی اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔ میر سالار کی بات ٹھیک بھی تھی۔

“مرحا میں لیٹ ہو رہا ہوں چلتا ہوں۔ اپنا بہت خیال رکھنا۔ انشاء اللّہ میں دو روز میں تمہارے روبرو ہوں گا۔۔۔۔ اس نے عجلت میں ایک بار پھر گھڑی دیکھتے ہوئے کہا ساتھ ہی نہایت عقیدت سے اس کی پیشانی چوم لی۔

آپ جلد آ جائیے گا پلیز؛ وہ منمناتے ہوئے بولی تو وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
“آ جاؤں گا مجھے لوٹ کر تمہارے ہی پاس تو آنا ہے یارا۔ وہ والہانہ انداز میں اس کا گال چومتے ہوئے بولا۔ مرحا اس وارفتگی پر بلش کرنے لگی۔

“پھر ہم حویلی ساتھ چلیں گے نا؟ مرحا نے ایک بار پھر یاد دہانی کرائی۔
“ضرور چلیں گے مگر بس بمشکل دو روز کیلئے، کیونکہ میرے پاس وقت نہیں ہوتا، اچھا سنو، میں لینڈ لائن نمبر پر کال کروں گا۔ اور میرے آنے کے بعد تمہیں تمہارا فون مل جائے گا۔ تا کہ جب بھی میں کہیں نکلوں تم سے باآسانی بات ہو سکے۔ اس نے کہتے ہوئے اس کی پیشانی سے اپنی کشادہ پیشانی ٹکا دی۔ چند لمحے اسی بے خودی میں گزر گئے۔ یکایک فون پر ہوتی رنگ پر میر سالار گہرا سانس بھرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔

“چلتا ہوں۔ خدا حافظ!! زرا سا جھک کر اس کے سر کو چومتے ہوئے وہ عجلت میں اپنا کوٹ اور گاڑی کی کیز اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے وہ اداس اداس سی وہیں کاؤچ پر دوبارہ لیٹ گئی۔

              🥀🥀🥀🥀🥀

چھوٹی حویلی میں ایک محشر برپا تھا۔ بی جان کا یوں چلے جانا ان سب پر غم کا پہاڑ توڑ گیا تھا۔ اور اس غم میں سب سے بڑا غم یہ تھا کہ زوفا ان کے جنازے میں شامل نہیں تھی۔ بڑی حویلی سے کوئی بھی فرد ان کی میت میں شامل نہ ہوا تھا۔ یہاں تک کہ بی جان اپنے آخری سفر کے لئے بھی رخصت ہو لی تھیں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ لڑکی اپنی اوقات کیوں بھول بیٹھی ہے یہاں؟ آج ہمارے فیصلے سے بغاوت کی کوشش کی ہے اس نے شاہ سائیں! مورے اپنے کمرے میں موجود پاس بیٹھے وہاج شاہ سے مخاطب تھیں جو سگار سلگائے اس سے دھوئیں کا ملغوبہ بنانے میں مصروف تھے۔
“جب جب وہ اپنی اوقات بھول بیٹھی گی تب تب اسے اسی طرح اس کی اوقات یاد دلائی جائے گی۔ تم فکر کیوں کرتی ہو؟ ایک خباثت بھری مسکراہٹ وہاج شاہ کے ہونٹوں پر رقص کر رہی تھی۔

“سائیں اصل فکر تو مجھے کمبخت صارم کی ہے۔ منحوس مارا کہاں غرق ہو گیا ہے۔ کہیں سے بھی سراغ نہیں مل رہا اس کا! مورے دانت کچکچاتے ہوئے بولیں۔

“اب جو انکشاف میں کرنے جا رہا ہوں خانم، اسے نہایت ہی غور سے سننا۔۔۔ وہاج شاہ نے اسی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تو شاہ بی بی ہمہ تن گوش ہوئیں۔

“جب صارم شاہ قتل کر کے فرار ہوا تھا تو پتہ چلتے ہی اسی وقت ہم نے اپنے کچھ آدمیوں کو اس کی تلاش میں روانہ کر دیا تھا، اور وہ دو دنوں کے اندر ہی مل گیا تھا گاؤں کی سرحد سے قدرے دور ایک چٹیل میدان کی چھوٹی سی غار میں بزدلوں کی طرح چھپا بیٹھا تھا۔ لیکن وہ تنہا تھا اس کے ساتھ اس کا کوئی ساتھی نہ تھا۔۔۔ وہاج شاہ نے جیسے جیسے بتانا شروع کیا مورے کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹتی چلی گئیں۔

“سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں تو سخت حیرت میں مبتلا ہوں۔ صارم شاہ اگر مل گیا تھا آپ کو تو پھر آزاد کیوں کیا اسے؟ وہ حیرت زدہ سی بولیں۔ وہاج شاہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
“تم بھی نا خانم بلا کی بیوقوف ہو! کب کہا ہم نے کہ اسے آزاد کر دیا تھا۔ ہمارے آدمیوں نے اسے مار کر وہیں دفن کر دیا تھا اور اس بات کی خبر کسی کو کانوں کان نہ ہونے دی ہم نے، ایسا کرنے کا میرا ہی حکم تھا۔ پوچھو کیوں؟ انہوں نے شاطرانہ مسکراہٹ سمیت کہا۔

کیوں؟ مورے نے ہنوز اسی کیفیت میں پوچھا!
“کیونکہ یہ جو لڑکی زوفا ونی کی صورت آئی ہے۔ میں چاہتا ہوں سکندر شاہ سے اس کی کوئی اولاد پیدا ہو۔ اس سے ہمارا ہی فاعدہ ہوگا۔ ہماری نسل اور مضبوط ہوتی جائے گی۔ بچہ ہونے کے بعد بچہ اس سے چھین لیں گے اور سکندر طلاق دے دے گا اسے۔۔۔ کیوں نہ اس ونی میں آئی لڑکی سے فاعدہ اٹھایا جائے۔ ساتھ ہی جب وہ اسے طلاق دے دے گا تو ہم اعلانِ عام کر دیں گے کہ صارم شاہ ہمیں ایک روز پہلے مل گیا تھا فلاں جگہ پر۔۔۔ ہمارے آدمیوں نے اس کو ٹھکانے لگا دیا سو وعدے کے مطابق اب سکندر نے اسے طلاق دے دی ہے۔ بس کسی طرح سکندر شاہ اس لڑکی کی جانب راغب ہو اب، اس کی شادی بھی حرم سے ہو جائے گی۔۔۔ بتاؤ خانم کیا کہتی ہو؟ وہ سفاک لہجے میں کہتے دھیرے دھیرے سب کچھ سمجھ کر اثبات میں سر ہلاتی خانم کو دیکھنے لگے۔

“واہ سائیں، کیا کہنے! کیا خوب سوچا ہے آپ نے! میں اس سے بالکل متفق ہوں! اور میں بہت خوش بھی ہوں کہ وہ بیغیرت موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔۔ وہ سلگتے ہوئے لب و لہجے میں بولیں تو وہاج شاہ نے سر ہلاتے ہوئے دھواں فضا میں اڑایا۔

“سائیں لیکن یہ ہمارے آدمی پھر کسے ڈھونڈ رہے ہیں آخر؟ کچھ ثانئے بعد وہ کچھ حیرت سے پوچھنے لگیں
“وہ محض دکھاوا کر رہے ہیں اسے ڈھونڈنے کا وگرنہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اسے موت کی نیند سلائی ہے۔ یہ ڈارمہ تو ہمیں بھی بہرحال کچھ عرصے تک کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ وہاج شاہ نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا تو مورے کے لبوں پر بھی طنزیہ مسکراہٹ بکھر گئی۔

جاری و ساری ہے