No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
وہ کُل آٹھ افراد سر جھکائے وہاج شاہ کے روبرو کھڑے تھے۔ وہاج شاہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے خشمگیں نگاہوں سے انہیں گھور رہے تھے۔ اس وقت ڈیرے پر سکندر شاہ بھی وہاج شاہ سمیت موجود تھا۔
وہ بھی چارپائی پر بیٹھا خاموشی سے وہاج شاہ کے کچھ بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔
“ہاں تو بتاؤ تم سب؛ کچھ پتہ چلا اس شیطان (صارم) کے بارے میں؟ کدھر ہے وہ؟ انہوں نے ایک نظر سکندر شاہ پر ڈالتے ہوئے ان سب کو تیز نظروں سے گھورا۔
“ن نہیں سائیں، ہماری تلاش جاری ہے۔ مگر ابھی اس کا کچھ پتہ نہیں لگ سکا!!! اس میں سے ایک آدمی نے انکساری سے کہا۔
“تم سب کے سب نامرد ہو! ایک کام دیا تم سب کو وہ بھی پورا نہیں کر سکے کمبختوں! رعونت سے ایک آدمی کے پاؤں پر زوردار ٹھوکر مارتے ہوئے وہ دہاڑے۔ وہ آدمی وہاج شاہ کے قدموں میں گر پڑا اور ہاتھ جوڑے رحم کی بھیک مانگنے لگا۔
“دادا سائیں درست فرما رہے ہیں آخر تم سب کر کیا رہے ہو؟ ایک آدمی کی تلاش میں آٹھ آدمی جھک مار رہے ہیں! یہ کسی مذاق سے کم نہیں لگتا! سکندر شاہ بھی طنز کرنے سے باز نہ آیا۔ جبکہ وہ سارے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
“سائیں، ایک موقع اور دیں۔ وہ بہت جلد مل جائے گا۔ ہماری محنت ضائع نہیں ہوگی! ایک نے کپکپاتی اواز میں اپنی بات کہی تو وہاج شاہ کے تاثرات کچھ اور حقارت سے پُر ہو گئے۔
“تم سب بیکار و ناکارہ ہو! میں کہتا ہوں کہ صارم شاہ اگر پاتال میں بھی ہو تو مجھے وہ چاہئے۔ یہ کام چاہے ایک موقع لے کر کرو یا ہزاروں مواقع،، مگر وہ مجھے زندہ چاہئے سمجھے! وہ دہاڑتے ہوئے بولے تو سکندر شاہ بھی ان کی تائید کرتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“دادا سائیں، میں حویلی جا رہا ہوں! امید ہے ان سب کا دماغ آپ بہت اچھے طریقے سے درست کریں گے! درشتگی سے کہتا ہوا وہ حویلی جانے کے لئے ڈیرے کے دروازے سے باہر نکل گیا۔ وہاج شاہ نے محتاط نظروں سے دروازے کی سمت دیکھا اور پھر ان سب کو دیکھا جو آنکھوں میں سوال لئے کھڑے تھے۔ گویا پوچھ رہے ہوں اب ہمارے لئے کیا حکم ہے!
میری بات غور سے سنو تم سب! وہاج شاہ کا لہجہ پر اصرار قسم کا تھا۔ چونکہ سکندر کے سامنے صارم والا ڈرامہ تو ختم ہو چکا تھا سو اب وہ مدّے کی بات پر آئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سکندر شاہ زوفا میں دلچسپی نہیں رکھتا، اس لئے وہ زوفا کے متعلق کوئی بھی بات اس کے سامنے نہیں کرنا چاہتے تھے۔
سکندر ابھی دو قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اس کی سماعتوں تک وہاج شاہ کے یہ الفاظ پہنچے۔ نا محسوس طریقے سے وہ ایک بار پھر دروازے کے قریب آیا۔
“جی حکم سائیں! ایک آدمی کی گھگیائی ہوئی آواز نکلی۔
“تم سب ابھی اور اسی وقت شہر کے لئے روانہ ہو جاؤ، میر کے فارم ہاؤس سے مجھے وہ لڑکی زوفا ہر قیمت پر آج کے آج ہی چاہئے۔ میر تو ویسے بھی کام کے سلسلے میں فارم ہاؤس سے دور رہتا ہے۔ امید ہے تم سب یہ کام بخوبی کر لو گے، اور کان کھول کر سن لو اگر نہ کر سکے تو تم سب کے مقدر میں وہاج شاہ کے ہاتھوں ہی موت لکھی ہے۔ سمجھ گئے میری بات؟ کوئی بیوقوفی ہرگز مت کرنا پہلے پتہ کرنا آس پاس سے کہ وہ فارم ہاؤس پر موجود ہے یا نہیں،، اس کی غیر موجودگی میں جانا تا کہ لڑکی بآسانی ہاتھ آ سکے۔ اور بات سنو اس کے محافظوں نے اگر حملہ کیا تو خود بھی شیروں کی طرح جوابی کارروائی کرتے ہوئے وہاں سے لڑکی کو لے کر فرار ہو جانا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔۔۔!!! وہ غرا کر بولے تو وہ ان سب نے بیک وقت اثبات میں سر ہلایا۔
دوسری جانب سکندر تک وہاج شاہ کا ایک ایک لفظ پہنچ چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ سب باہر نکلتے سکندر شاہ تیز قدموں سے خود ڈیرے سے باہر نکل آیا اور ڈیرے کے باہر موجود گاڑی میں آ بیٹھا۔ اس کا ارادہ اب یہاں سے میل کی طرف جانے کا تھا۔ گاڑی کو ڈیرے سے کچھ دور لے جا کر اس نے اپنی نظریں ڈیرے پر ہی جما دیں۔ جبھی وہ سب بھی وہاں سے باہر نکلے۔ سکندر شاہ بغور ان کو دیکھنے لگا۔
وہاج شاہ کے حکم کے مطابق وہ آٹھوں اسی وقت گاڑی میں سوار ہو کر شہر کی جانب روانہ ہو لئے تھے۔
“کیا مجھے یہ سب کچھ میر کو بتا دینا چاہئے؟ یس! کیونکہ اس میں کہیں نہ کہیں میرا بھی فاعدہ ہے۔ میں خود بھی نہیں چاہتا کہ زوفا اب یہاں آئے۔ اسے لے کر میں اپنے اور حرم کے درمیان مزید ڈسٹربنس نہیں چاہتا! مجھے سالار کو آگاہ کرنا ہی ہوگا تا کہ وہ چوکنا رہے! سکندر شاہ نے سوچتے ہوئے ڈیش بورڈ سے فون اٹھایا ساتھ ہی میر سالار کا نمبر ڈائل کیا۔ فون کی بجتی رنگ پر وہ دوسری جانب سے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ اسے پتہ تھا وہاج شاہ ابھی کچھ دیر ڈیرے پر ہی گزاریں گے اور وہ یہ کام یہیں نپٹا دینا چاہتا تھا۔ اپنی خود غرضی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے یہ قدم اٹھایا تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ ایسا کر کے وہ زوفا کے لئے آسانیوں کی راہیں ہموار کر رہا ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️
میر سالار بنا ناشتہ کئے ہی عجلت میں اب ہاسپٹل کیلئے نکلنے کو تیار تھا۔ خود پر پرفیوم کا چھڑکاؤ کرنے کے بعد وہ آستینوں کے کف لگانے لگا جبھی مِرحا چلی آئی۔
“سائیں آپ کدھر جا رہے ہیں؟ ناشتہ نہیں کریں گے کیا؟ مرحا اس سے پوچھتی ہوئی اس کے نزدیک آ کھڑی ہوئی۔
“نہیں! بہت لیٹ ہو جائے گا۔ مجھے فوری نکلنا ہے۔ میری دوست کی بی جان ہیں نا ان کی طبیعت ناساز ہے۔ ان کی عیادت کو ہاسپٹل جا رہا ہوں! وہ اسے آگاہ کرتے ہوئے اپنا موبائل اٹھانے کو سائیڈ ٹیبل کی جانب بڑھا۔
“میں بھی چلوں؟ مرحا نے جلدی سے پوچھا مبادا وہ نکل نہ جائے۔ اس سے پہلے کہ میر سالار کچھ جواب دیتا فون کی بپ پر اس کی جانب متوجہ ہوا تو سکرین پر سکندر شاہ کا نام دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے اس نے فون اٹھا لیا۔
“ہاں بولو سکندر کیا بات ہے؟ فون ریسیو کر کے وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ انداز عجلت بھرا تھا۔ مرحا بھی اس کے پاس آ بیٹھی۔
“میر مجھے تم سے نہایت ہی ضروری بات کرنی ہے تم مصروف تو نہیں ہو؟ دوسری جانب سکندر شاہ کی فکرمندانہ آواز پر وہ چونک سا گیا ساتھ ہی گھڑی کی سوئیوں کی جانب دیکھا جو اب پونے بارہ بجا رہی تھی۔
“ہاں دراصل مجھے فوری طور پر کہیں جانا ہے مگر تم اپنی بات کہو جتنی جلدی ہو سکے، میں سن رہا ہوں! میر سالار نے گہرا سانس بھر کر اسے اجازت دی۔ دوسری جانب سکندر شاہ نے جو بات بتائی سن کر اس کے پیشانی شکن آلود ہو گئی ساتھ ہی چہرے کے اعصاب تن سے گئے۔ مرحا نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہونہہ، یہ تو مجھے کہیں نہ کہیں پتہ تھا کہ وہاج شاہ صاحب اپنی اوقات دکھانے سے باز نہیں آئیں گے،، جیسے کہ پہلے بھی کئی مواقع پر وہ دکھا چکے ہیں! تم فکر نہ کرو اس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ مجھے ہرانا اتنا آسان نہیں ہے جتنا دادا سائیں نے سوچ کر رکھا ہے۔ آنے دو ان سب کو ان سے تو میں نمٹ لوں گا۔۔۔۔!! اس نےچبا چبا کر کہا
“تو تم نے کیا سوچا ہے سالار؟ سکندر شاہ نے جاننے کی کوشش کی
“جو سوچا ہے بہت جلد سب کو پتہ لگ جائے گا۔ فلحال میں کہیں جا رہا ہوں۔ خدا حافظ! دو ٹک انداز میں کہتے ہوئے اس نے فون کاٹ دیا۔ چہرے پر غصّے کی سرخی واضع تھی۔ بھینچے ہوئے تاثرات کے ساتھ اس نے نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر ٹکا دیں۔ اس کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔
“سائیں سب خیریت تو ہے نا؟ مرحا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ اسے دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں سوچ کی گہری پرچھائیاں نظر آ رہی تھیں۔
“ہاں سب خیریت ہے! ایسا کرو تم اور زوفا میرے ساتھ ہاسپٹل چلو! آگے کیا کرنا ہے یہ وہیں طے پائے گا!!! اٹھو فوراً ورنہ اور بھی لیٹ ہوگا!! میں گاڑی میں تم سب کا انتظار کر رہا ہوں۔ وقت کا خیال رکھنا!! وہ جلدبازی میں حکم دیتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
ہیں؟؟ انہیں کیا ہو گیا!! مرحا اس کی بات پر حیران ہوتی زوفا کو اطلاع دینے چل دی۔
ملازم نے زوفا کی ضروریات کی تمام تر چیزیں لا دی تھیں جسے وہ اب ملازمہ کے ہمراہ انہیں ان کی جگہوں پر سیٹ کرنے میں مصروف تھی کہ مرحا چلی آئی اور اسے سالار کا پیغام دیا تو وہ بقیہ کام ملازمہ کے سپرد کرتی شال لے کر مِرحا کیساتھ باہر نکل آئی۔
میر سالار گاڑی میں بیٹھا فون پر مصروف تھا۔ ان دونوں کے پچھلی سیٹ پر براجمان ہوتے ہی گاڑی فل اسپیڈ میں بھگاتے ہوئے وہاں سے نکلا۔ اس کی اس طوفانی اسپیڈ پر وہ دونوں بے ساختہ مختلف دعاؤں کے ورد میں مصروف ہو گئیں۔ ساتھ ہی ان کی نظریں باہری مناظر کو ملاحظہ کرنے میں مصروف تھیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸
بی جان کے ہوش میں آنے کی اطلاع ملتے ہی گویا اس کے ہاتھوں ہفتِ اقلیم آ لگی۔ انہیں اب آئی۔سی۔یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا یعنی اب وہ ان سے مل سکتا تھا۔
اس کا دل بے ساختہ رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا جس نے اس کی بی جان کو نئی زندگی بخشی تھی۔ وہ تیز قدموں سے روم میں داخل ہوا تو بی جان جو کہ اب مکمل ہوش میں آ چکی تھیں اسے دیکھکر خفگی سے منہ موڑ لیا۔ وہ بیقرار سا ان کے قریب آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“بی جان اب ایسا تو نہ کریں پلیز! آپ جانتی ہیں آپ میرے لئے سب کچھ ہیں۔ اپنے لئے نہ سہی کم از کم میرے لئے تو اپنا خیال رکھیں؛! آپ کو پتہ ہے آپ ہارٹ اٹیک سے بچی ہیں اور یہ سن کر میں کس تکلیف سے گزرا ہوں اس کا اندازہ ہے آپ کو؟؟؟ وہ احترام بھرے انداز میں ان کے ہاتھ چومتا ہوا بے چارگی سے بولا۔
“تو پھر کیوں نہیں مان لیتا میری بات بتا؟ بی جان گردن موڑے موڑے ہی تنک کر کہا آواز آہستہ ہی تھی۔تو وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“آپ کیا چاہتی ہیں بی جان؟ اس بار اس کا انداز شکستہ سا تھا۔ وہ بی جان کو مزید اپنی وجہ سے کوئی صدمہ نہیں دینا چاہتا تھا۔
“تو تو ایسے پوچھ رہا ہے جیسے تجھے پتہ ہی نہ ہو کہ میں کیا چاہتی ہوں! بی جان نے اسے بری طرح گھورا تو وہ بے ساختہ ہنس دیا۔
“اب آپ کا حکم سر آنکھوں پر! حکم کریں! ایس پی حسن سر خم کرتے ہوئے بولا۔
“دیکھ حسن، یہ تنہائی میری جان کا عذاب بن چکی ہے۔ میں چاہتی ہوں تیرے نام سے جڑا جو وجود ہمارے گھر میں آئے اس کے دم سے وہاں رونقیں ہی رونقیں ہوں! میری یہ خواہش بے جا تو نہیں ہے۔ تو آخر میری بات کیوں نہیں مان لیتا؟ بی جان نے کمزور لہجے میں کہا۔ آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
“بی جان پلیز، اگر آپ کا ایک بھی آنسو گرا تو میں ناراض ہو جاؤں گا۔۔!! وہ ان کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگاتا ہوا مصنوعی ناراضگی سے بولا تو بی جان نے جلدی سے آنکھیں صاف کر لیں۔
“تو اب بات بدل رہا ہے۔ تونے وعدہ تو کیا ہی نہیں!! بی جان نے اسے آنکھیں دکھائیں اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا اس کا فون بج اٹھا۔ دوسری جانب میر سالار تھا۔ اسے روم نمبر بتاتے ہوئے ایس پی حسن نے فون رکھ کر بی جان کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“بی جان سالار آ رہا ہے!! اس نے انہیں بتایا تو بی جان کا چہرہ کھل اٹھا۔ انہیں حسن کا یہ دوست بہت پسند تھا۔ وہ سر ہلاتے ہوئے دروازے کی سمت دیکھنے لگیں۔ حسن نے ان کی پشت تکئے کے سہارے لگا کر انہیں بٹھا دیا۔
میر سالار ان دونوں کیساتھ روم میں داخل ہوا تو حسن اٹھ کر گرمجوشی سے اس کے گلے جا ملا تاہم دھیان ابھی صرف میر سالار پر ہی تھا۔ جبکہ زوفا اور مرحا بے اختیار اپنی شال کچھ اور درست کرتیں ان دو اجنبی چہروں کی جانب دیکھنے لگیں۔ میر سالار بی جان کے پاس آیا اور جھک کر ان کا حال پوچھا تو وہ بے طرح نہال ہو گئیں۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے اسے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا!! ان کے انداز پر وہ مسکراتا ہوا سیدھا ہوا تو یکایک بی جان کی بھی نظر ان دونوں پر جا پڑی۔ زوفا اور مرحا کے منہ سے بے اختیار سلام نکلا تو بی جان نے شفقت سے سلام کا جواب دیا۔
“یہ دونوں کون ہیں بیٹا؟ بی جان نے پرشوق نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو مرحا نروس سی ہوتی میر کی اوٹ میں چھپ سی گئی۔ زوفا بھی سٹپٹا کر ان کی جانب دیکھنے لگی۔ ایس پی حسن بھی ان کی جانب متوجہ ہوا اور سامنے کھڑی لڑکی پر نظر پڑتے ہی چند لمحے کو وہ اپنی جگہ ساکن رہ گیا۔
اس قدر مکمل حسن، شال کے ہالے میں اس کا چاند کی مانند چمکتا چہرہ گویا آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ وہ جو کوئی بھی تھی بلاشبہہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔ مگر اس کے چہرے پر یہ جا بجا زخم کیسے تھے؟؟ حسن کی آنکھوں میں بیک وقت ستائش و الجھن اتر آئی تبھی زوفا نے نظروں کی تپش پر آنکھیں اٹھائیں تو اس نے لمحے کے ہزارویں حصّے میں نظروں کا زاویہ بدل لیا۔ مگر گھائل وہ پہلے ہی وار میں ہو چکا تھا۔
“اب وہ وقت آ گیا ہے کہ میں اس سچ سے پردہ اٹھا دوں، ویل، محترمہ مِرحا سے ملئے بی جان، ایک مہینہ ہوا انہیں میری زوجہٓ عالیہ کے عہدے پر فائز ہوئے! اور یہ میری کزن سسٹر زوفا ہے! وہ مسکراہٹ ضبط کرتا بیر بہوٹی بنی مرحا کا تعارف کرانے کے بعد زوفا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا تو حسن چونک کر میر سالار کو دیکھنے لگا۔ میر سالار نے تو گویا بنا کسی لحاظ کے اس کے اور بی جان کے سروں پر دھماکہ کر دیا تھا۔ بی جان بھی حیرت کی زیادتی سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگیں۔
“واٹ؟ کیا مطلب ہے میر؟ تو نے شادی کر لی اور مجھے بتایا بھی نہیں؟ ایک مہینہ ہو گیا اور تو نے بھنک بھی نا پڑنے دی! وہ کڑے تیوروں سے چیخا تو میر سالار کا بے ساختہ قہقہہ نکلا۔ مرحا جھینپ سی گئی۔
“بس سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مجھے بتانے کا موقع ہی نہ ملا! خیر اب بتا رہا ہوں نا! سالار اطمینان سے کہتا ہوا چئیر پر بیٹھ گیا ساتھ ہی وہ دونوں بھی چئیر پر بیٹھ گئیں۔
“یار یقین نہیں آتا مجھے؛ تجھے بتانے کے لئے کون سے پہاڑ توڑنے تھے جو اتنا وقت لگ گیا! وہ ناراضگی سے کہہ کر مرحا کے قریب رکھی چئیر پر بیٹھ گیا۔ وہ مزید حواس باختہ سی ہو گئی۔
“کیسی ہیں بھابھی جان؟ حسن نے شرارت آمیز انداز میں اسے دیکھا تو وہ گڑبڑا سی گئی۔
“جی ٹھیک ہوں! مرحا سرخ چہرے کیساتھ بولی۔ میر سالار کی وارفتہ نگاہیں اس کے پزل ہوتے مکھڑے پر ٹک گئیں۔ حسن نے ستائشی نظروں سے میر سالار کو دیکھا گویا مرحا کی تعریف کی۔ میر سالار سر خم کرتے ہوئے کھل کر مسکرا دیا۔
“یار سالار ہماری بھابھی کو بھی گھر لاؤ ہمارے کبھی!! حسن نے گرمجوشی سے کہا۔
اوکے موقع ملا تو ضرور!! سالار نے ہامی بھر لی۔
حسن نے ایک نظر زوفا پر ڈالی جو اس سب کے دوران سر جھکائے اپنے ناخنوں سے کھیل رہی تھی۔
ادھر آؤ بچیوں! بی جان جو ان دونوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں شفقت سے انہیں اپنے پاس بلایا۔ وہ دونوں اٹھ کر ان کے نزدیک چلی آئیں۔
“تم دونوں ماشاء اللّٰہ بہت پیاری ہو! اللّٰہ زندگی میں ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے۔ انہوں نے محبّت سے دعائیں دیتے ہوئے دونوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔
“اور آپ بھی جلد از جلد صحتیاب ہو جائیں بی جان!! مرحا نے اپنائیت سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا زوفا نے بھی آہستگی سے ان کا ہاتھ سہلایا تو وہ بے طرح نہال ہو گئیں۔
“بیٹی یہ زخم کیسے ہیں؟ چوٹ آئی ہے کیا؟؟؟ بی جان نے زوفا کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔ حسن بھی خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اہممم !! ایکچولی بی جان مجھے اسی متعلق بات کرنی ہے۔ زوفا کو یہاں لانے کا مقصد کچھ اور ہے! امید ہے آپ میری بات سمجھیں گی۔۔!!! میر سالار کی بات پر سب چونک اس کی جانب متوجہ ہو گئے۔ وہ دونوں بھی اپنی اپنی جگہوں پر آ بیٹھیں۔ زوفا اپنی جگہ حیران و پریشان تھی۔ آخر ایسی بھی کیا بات ہو سکتی تھی۔ سب کی سوالیہ نظریں میر سالار کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
🥀🥀🥀🥀🥀
ہسپتال کے کمرے میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔ میر سالار اپنی بات ختم کر کے اب بی جان کو دیکھ رہا تھا جو یہ سب سننے کے بعد نہایت صدمے کی سی کیفیت میں بیٹھی تھیں جبکہ ایس۔پی۔حسن صحیح معنوں میں قوتِ گویائی کھو بیٹھا تھا۔ اس نے ظلم و ستم کی بہت سی داستانیں سن رکھی تھیں۔ مگر اپنوں پر ناحق ظلم کی اس داستان نے اسے حقیقتاً افسردہ کر دیا تھا۔ زوفا سر جھکائے اپنی سسکیوں کا گلہ گھونٹ رہی تھی۔ (تو گویا بڑی حویلی والوں کا ابھی دل نہیں بھرا تھا جو اب وہاج شاہ نے اپنے آدمیوں کو بھیج دیا تھا) سوچتے ہوئے اس کا دل زور زور سے رونے لگا۔
اسے میر سالار کا فیصلہ بالکل درست لگا تھا۔ وہ دوبارہ سے اس عذاب کے عتاب میں نہیں آنا چاہتی تھی جس نے اس کے جسم سے اس کی روح تک کھینچ لی تھی۔ اس کا دل چاہا وہ دنیا کے کسی ایسے کونے میں جا چھپے جہاں انسان نما شیطانوں کا دور دور تک گزر بسر نہ ہو!
“تم فکر مت کرو سالار، اسے بالکل میں اپنی بچی کی طرح پالوں گی۔ سچ کہوں تو مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے بیٹا کہ تو نے ہمیں اس قابل سمجھا! تو بلا جھجک اسے ہمارے ساتھ روانہ کر دے! میری تنہائی بھی ختم ہو جائے گی اور بچی بھی وہاں محفوظ رہے گی!! کچھ دیر کے بعد بی جان نے خوشی سے لرزتی آواز میں کہا تو میر سالار کے چہرے پر دنیا جہاں کا سکون چھا گیا جبکہ مرحا بھی طمانیت سے مسکرا دی۔ اسے زوفا کی خوشی اور اس کا تحفظ ہر حال میں عزیز تھا ایسے میں وہ میر سالار سے کسی قسم کی کوئی ضد بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ایس۔پی۔حسن نے افسردگی بھرا سانس لیتے ہوئے ایک گہری نظر زوفا پر ڈالی جو سر جھکائے ہوئے تھی۔ اس لڑکی پر جو گزری تھی اسے جان کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ وہ دل سے اس کا درد محسوس کر رہا تھا۔
“سالار اب تم بے فکر ہو کر گھر جاؤ! بی جان کو ویسے بھی ہسپتال میں رکنا موت کے برابر لگتا ہے۔ میں انہیں بس ڈسچارج کرانے لگا ہوں! فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ حسن نے ماحول کی افسردگی دور کرنے کیلئے ہلکے پھلکے لہجے میں سالار کا کندھا تھتھپاتے ہوئے کہا تو وہ چئیر سے اٹھ کر اس کے گلے لگ گیا۔
“شکریہ میرے یار، تو نے واقعی آج ثابت کر دیا کہ تو میرا مخلص دوست ہے!! میر سالار نے اسے زوروں سے خود میں بھینچ کر تشکر سے کہا۔ حسن سے الگ ہو کر وہ سر جھکائے کھڑی زوفا کے پاس آیا تو وہ اس سے لگتی بے اختیار سسک اٹھی۔ میر سالار نے گہرا سانس بھرتے ہوئے خود پر ضبط باندھا اور تسلی آمیز انداز میں اس کا سر سہلایا
“زوفا مجھے پورا یقین ہے ایک روز سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ میں نے نہایت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ حالات بہتر ہونگے تو میں خود تمہیں فارم ہاؤس لے جاؤں گا۔ مگر فلحال وہ جگہ تمہارے لئے قطعی غیر محفوظ ہے۔ کیونکہ دادا سائیں کو پورا یقین تھا کہ میں تمہیں وہیں لے جا سکتا ہوں جبھی انہوں نے ان سب کو وہاں بھیجا ہے! تم بالکل فکر مت کرو۔ حالات ایک روز تمہارے حق میں بہتر ہونگے!!! وہ دھیمے لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا۔ وہ سر ہلاتی ہوئی اس سے علیحدہ ہوئی چہرہ رونے کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا۔ مرحا کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ بھی آگے بڑھکر بے ساختہ زوفا سے لگ گئی۔ زوفا کی آنکھیں پھر سے برسنے لگیں۔
“رو مت زوفا پلیز، میں آتی رہوں گی تمہارے پاس!! ابھی تو میں اسی میں خوش ہوں کہ تم ان ظالموں سے بچ جاؤ گی۔ سائیں کی موجودگی میں ایسا ممکن ہی نہیں، مگر ان کی غیر موجودگی میں تم ان سے محفوظ نہیں رہ سکتی تھیں۔ اللّٰہ کا شکر ہے کہ اس نے وصیلہ بنایا!! مرحا بھرائی آواز میں اسے تسلیاں دیتے ہوئے بولی۔
“تم ٹھیک کہتی ہو مرحا! میں دوبارہ بڑی حویلی کسی قمیت پر جانے کی ہمت نہیں رکھتی۔ مجھے اگر میری حفاظت کیلئے کوئی دوسری محفوظ جگہ مل گئی ہے تو میں اسے قطعی رد نہیں کر سکتی!! وہ آنسوؤں سے بھیگی آواز میں بولی۔ مرحا نے پیار سے اس کا گال چوم لیا۔ ساتھ ہی وہ اور میر سالار اجازت لینے کو بی جان کے آگے جھکے تو انہوں نے ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے باری باری دونوں کی پیشانی پر بوسے دئیے۔
میر سالار حسن کو ان کے ڈھیروں خیال کی تمہید کی۔ ایک بار پھر زوفا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ مرحا کے ہمراہ وہاں سے نکل گیا۔
ان کے جانے کے بعد ایس۔پی۔حسن نے اسے دیکھا جو سر جھکائے کشمکش کے عالم میں انگلیاں مروڑتی کھڑی تھی۔ چہرہ رونے کے باعث متورم جبکہ پلکیں ابھی بھی بھیگی ہوئی تھیں۔
“بی جان میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں!! وہ بی جان سے مخاطب تھا جبکہ نظریں زوفا کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ ان سے کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا۔
“ادھر آ میری بچی! اتنی دور کیوں کھڑی ہے؟ بی جان نے اپنے کمزور بازو دھیرے سے وا کئے تو وہ بے اختیار آگے بڑھ کر ان کے نزدیک آ بیٹھی۔ ساتھ ہی اپنا سر ان کے کندھے سے ٹکا لیا۔ ایک بار پھر اس کی سسکیاں عروج پر تھیں۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا بس زرا سا وقت درکار ہے۔ ان ظالموں کی رسی اللّٰہ نے دراز کی ہوئی ہے میری بیٹی، ان کا بھی برا وقت آئے گا تب انہیں احساس ہوگا کہ برائی کا انجام برائی ہی ہوتا ہے۔ انشاء اللّہ۔۔۔!!! وہ اس کے بالوں کو ہولے ہولے سہلاتے ہوئے بولیں تو زوفا کے سسکتے دل کو جیسے قرار آنے لگا۔ اسے بے ساختہ اپنی بی جان یاد آ گئیں۔ وہی شفقت بھرا لہجہ، وہی جاں نثار کرنے والا انداز، وہی نظروں سے ٹپکتی محبت۔۔۔!!! اس کے دل کو جیسے سکون سا آنے لگا۔
“آپ کو پتہ ہے بی جان انہوں نے میری بی جان کی موت پر ان کا آخری دیدار بھی مجھے نہیں کرنے دیا!! وہ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی۔ بی جان تڑپ سی گئیں۔
“ہائے ہائے حد ہے ظلم و ستم کی بھی،، اللّہ ان سے اس ظلم کا حساب ضرور لے گا بیٹا!! آج سے میں تیری بی جان ہوں تو مجھے اپنی بی جان بنا لے۔ یقین مان تجھے کبھی مایوس نہیں کروں گی!! وہ اس کا سر چومتی ہوئی شفقت سے چور لہجے میں بولیں تو زوفا بے اختیار آنکھیں موندے ان کے محبت بھرے لمس میں کھو سی گئی۔
ڈاکٹر کے ہمراہ اندر داخل ہوتے حسن نے یہ منظر بے حد گہری نگاہوں سے ملاحظہ کیا تھا۔
عشق واجب، وفا لازم، درد واجب، دوا لازم ہجر واجب، سزا لازم، روگ واجب، دعا لازم 💛💛💛💛💛
مرحا اداسی کی سی کیفیت میں گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ موسم بھی عین اس کے مزاج کی طرح اداس ہو چلا تھا۔ آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ شاید موسلادھار بارش ہونے کو تھی۔ پرندوں کا شور فضا میں رچا بسا تھا۔ وہ خاموشی سے باہر دیکھتے ہوئے اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔ میر سالار بھی سنجیدگی سے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔ جبھی فون بجنے پر اس نے کال پک کی اور اسپیکر آن کر کے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔
“ہاں بولو ارشد؟ موڑ کاٹتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
“سائیں اہم خبر ہے۔ بڑی حویلی سے کچھ لوگ آئے تھے جی، فارم ہاؤس کے اندر نہایت ہی بدتمیزی سے گھس آئے۔ بار بار بس ایک ہی بات کہے جا رہے تھے کہ لڑکی کدھر ہے جواب دو! یہ بھی بتایا کہ بڑی حویلی سے آئے ہیں۔ ہم نے ان پر فائرنگ کرنی ہی تھی کہ وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن ہم سب ان کے پیچھے آئے ہیں جی۔ زیادہ دور نہیں گئے ہونگے مل جائیں گے! ارشد نے ایک ہی سانس میں تفصیل بتائی۔ مرحا کا ہاتھ بے اختیار دل پر پڑا تھا۔ سخت ہراساں نظروں سے اس نے سالار کی جانب دیکھا جس کا تنفس غصے کی شدت سے تیز ہو گیا تھا۔
“وہ لوگ مجھے میرے سامنے چاہئیں ہر حال میں، وہ بچ کے نکلنے نہ پائیں۔ انہیں حراست میں لے کر میرے سامنے حاضر کرو میں بھی وہاں پہنچ رہا ہوں! اب ان کا دماغ میں ٹھکانے پر لگاؤں گا۔۔۔ بھینچے ہوئے جبڑے کیساتھ اس کا طیش عروج پر جا پہنچا تھا۔ گاڑی اب ہوا سے باتیں کرنے لگی تھی۔ اس کے غصے سے دہکتے چہرے کو دیکھ کر مرحا کی کچھ بولنے کی ہمت ہی نہ ہو سکی۔ وہ اسے محض دیکھ کر ہی رہ گئی۔
تقریباً بیس منٹ بعد جب وہ فارم ہاؤس پہنچے تو میر سالار تیزی سے گاڑی سے اترا۔ مرحا بھی جلدی سے اتر کر اس کی جانب بڑھی۔
“سائیں !! اس نے کچھ کہنا چاہا۔
“مرحا فلحال اندر جاؤ۔ میں اب ان سے نمٹ کر ہی آؤں گا۔۔ تم جاؤ ریسٹ کرو میں بعد میں آتا ہوں! اس کا گال سہلا کر اس نے اسے اندر جانے کو کہا تو وہ ناچار سر ہلاتی اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئی۔
میر سالار وہیں چکر کاٹتے ہوئے ارشد وغیرہ کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر میں اس کے محافظوں کی گاڑیاں گیٹ کے اندر داخل ہوئیں۔ وہ سب ان تمام آدمیوں کو کھینچتے ہوئے گاڑی سے لے کر نیچے اترے جو وہاج شاہ کے بھیجے ہوئے تھے۔ ان سب کی درگت بنی ہوئی تھی۔ ان کے اصلحے بھی ان سے چھین لئے گئے تھے۔
میر سالار فاتحانہ مسکراہٹ کیساتھ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا آگے بڑھا۔
“تم سب کو دادا سائیں نے بھیجا ہے نا لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ میر سالار اڑتی چڑیا کے پر بھی گننے کی مہارت رکھتا ہے۔ پھر تم سب میرے سامنے کس کھیت کی مولی ہو؛؛ لے جاؤ ان سب کو، ان سے نپٹنا میرے لئے بہت آسان ہے!!! سلگتے انداز میں اس نے اپنے محافظوں کو حکم دیا تو وہ سب انہیں کھینچتے ہوئے
فارم ہاؤس کے ایک حصے کی جانب بڑھ گئے۔ جو اصطبل کی شکل میں تھا۔ وہاں میر سالار کا پسندیدہ گھوڑا بندھا ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ لگا ایک کمرہ جو کہ بالکل خالی ہوتا تھا۔ وہ ان سب کو وہیں لے آئے۔ وہاج شاہ کے آدمی اس وقت بھیگی بلی کی مانند لگ رہے تھے۔ ان کا سارا پلان فیل ہو گیا تھا۔
ان سب کو اس کمرے میں بند کر کے میر سالار کے محافظین وہاں سے چلے گئے۔
‘اب کیا کریں؟ ہماری تو درگت بن گئی ہے۔ اور ابھی ہماری خلاصی ممکن نہیں کیونکہ میر سائیں کو لگتا ہے سب پتہ چل چکا ہے۔ ان کے سوال کا جواب نہ دیا تو ہم بے موت مارے جائیں گے۔ ان میں سے ایک آدمی کانپتے ہوئے بولا۔
“لیکن اگر جواب دیا تو شاہ سائیں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جائیں گے۔ ایک اور خوف سے بھرپور آواز ابھری۔ جبھی کمرے کا دروازہ کھول کر میر سالار اندر داخل ہوا۔ اسے دیکھکر ان سب کی گھگھی بندھ گئی۔ ہاتھوں میں پسٹل تھامے انہیں شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ سامنے پڑی چئیر پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گیا۔ وہ سب ہاتھ جوڑے اس کے قدموں میں جا گرے۔ اس کے محافظین کمرے کے باہر پہرہ دے رہے تھے۔
“سائیں ہمیں چھوڑ دیں، ہم بس شاہ سائیں کے کہنے پر زوفا بی بی کو لینے آئے تھے جی۔ باقی ہمیں کچھ نہیں پتہ!! ان میں سے ایک آدمی باقاعدہ اونچی آواز میں روتے ہوئے بولا
“بکواس بند، بس جتنا پوچھوں اتنا ہی جواب ملنا چاہئے ورنہ تم سب کی گردنیں تن سے جدا کر دوں گا۔ آئی سمجھ!! اس کی آواز میں شیر کی سی دہاڑ تھی۔ وہ سب تھر تھر کانپنے لگے۔
“کیا دادا سائیں نے تم سب پر صارم شاہ کو تلاش کرنے کی زِمہ داری عائد کی ہے؟ اس نے سخت لہجے میں سوال کیا وہ سب بوکھلا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔ میر سالار ان کے چہروں کے تاثرات کو باریکی سے ملاحظہ کرنے لگا۔
“نہ نہیں سائیں، ہمیں ت تو نہیں دی ہے ج، جی، انہوں نے دوسرے آدمیوں کو دی ہے! ایک نے گڑبڑا کر جلدی سے کہا تو بقیہ سارے بھی تیزی سے سر ہلانے لگے۔
“لگتا ہے تم سب کو مرنے کا بہت شوق ہے۔ کیوں صحیح کہہ رہا ہوں نا؟ میر سالار نے ان سے نظریں ہٹا کر پسٹل کے منہ پر پھونک ماری تو ان سب کے ہوش اڑ گئے۔
“چلو کوئی بات نہیں، آسانی سے نہیں بتاؤ گے تو نہ سہی۔ تم میں سے ایک دو جب تک اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے تب تک میری بات تم سب کے پلے نہیں پڑے گی جانتا ہوں!!! اس نے پسٹل کا رخ ایک شخص کی جانب کیا تو مارے خوف کے ان سب کی چیخیں نمودار ہو گئیں۔
“سائیں رکیں بتاتا ہوں سائیں خدا کے لئے اسے نیچے کریں! اپنے اوپر تنی پسٹل کو دیکھ کر اس شخص کی آواز خوف سے پھٹ سی گئی۔ میر سالار کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ در آئی۔
“جلدی بکو! میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے!! وہ ہنوز پسٹل اسی زاوئیے پر رکھے ہوئے تھا۔
“سائیں جب صارم شاہ قتل کر کے فرار ہوا تھا تو ہم سب شاہ سائیں کے حکم پر اس کی تلاش میں نکلے تھے اور وہ ہمیں دو روز بعد ہی مل گیا تھا جی۔ جب ہم نے اس کے ملنے کی خبر شاہ سائیں کو دی تو انہوں نے کہا کہ اسے مار کر وہیں کہیں دفن کر دو اور اس بات کی بھنک کسی کو مت پڑنے دینا۔ اب انہوں نے ایسا کیوں کہا ہمیں نہیں پتہ جی!!! وہ آدمی ڈرتے کانپتے آخر اپنی زبان کھولنے پر مجبور ہو ہی گیا۔ دوسری جانب میر سالار اس انکشاف پر اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔
