No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
فرض کرو تم کچھ نہ پاؤ
اپنا آپ لُٹا کر بھی
فرض کرو کوئی مکر ہی جائے
سچی قسم اُٹھا کر بھی!!
فرض کرو یہ فرض نہ ہو
سچی ایک حقیقت ہو!!
تیرے عشق کے ہر رستے پر
جانا ایک قیامت ہو!!
اور سنا ہے یہ قیامت بھی
خون جگر کا پیتی ہے!!
تم تو جاناں فرض کرو گے
مُجھ پر یہ سب بیتی ہے!!
اسے گاؤں آئے ہوئے آج چوتھا روز تھا۔ یہاں آ کر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا اس کا کھویا ہوا سکون اسے دوبارہ میسر آ گیا ہو۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا مگر دل کے اندر نجانے کیوں ایک خلش سی تھی۔ بار بار ایک چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے نمودار ہو جاتا اور وہ بے طرح بے چینی کا شکار ہو جاتی۔ وہ چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ ایس۔پی۔حسن کا ہی تھا۔ درحقیقت اسے اب حسن سے کی گئی اپنی تلخ کلامی پر پشیمانی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ایک باوقار و مہذب انسان تھا اس بات کی گواہ وہ خود بھی تھی کیونکہ اس نے زوفا کے ساتھ اس کے گھر میں قیام کے دوران ایسی کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی جو اس کے کردار پر انگلی اٹھانے کا سبب بنے۔ وہ چاہتا تو اپنی بات زور زبردستی کر کے بھی منوا سکتا تھا مگر اس نے باعزت طریقے سے اپنی دلی خواہش اس کے روبرو پیش کی تھی۔
وہ اب اپنے روئیے کی بابت سوچ کر شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔ یہ تلخی اس کے مزاج کا حِصّہ کبھی بھی نہیں رہی تھی لیکن، وقت اور حالات نے اسے کچھ سے کچھ اور ہی بنا دیا تھا۔
دوسری جانب چھوٹی حویلی والوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ اس کی واپسی نے یہاں کی رونقیں دوچند کر دی تھیں۔ زکا صاحب کی زبانی حسن اور اس کی بی جان کے قِصّے سن کر آسیہ بیگم و سویرا وغیرہ بھی خاصی متاثر ہوئی تھیں۔ زکا صاحب ان دونوں کے حُسنِ سلوک کی تعریفیں کرتے نہ تھک رہے تھے۔ انہیں ان دونوں سے ملاقات کر کے واقعتاً خوشی ہوئی تھی۔
آسیہ بیگم جلد ازجلد شائشتہ بیگم سے سعد اور زوفا کے رشتے کے متعلق بات کرنا چاہتی تھیں سو وہ پہلے زکا صاحب سے تفصیلی بات کرنے کو حویلی میں ہی ملحق لائبریری کی جانب چلی آئیں۔ زکا صاحب دوپہر کے اوقات میں زیادہ تر یہیں پائے جاتے تھے۔
وہ کتاب میں پوری طرح محو تھے کہ دستک کی آواز پر ان کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ انہوں نے اجازت کے طور پر باآواز ہنکارا بھرا ساتھ ہی اپنا چشمہ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے آنکھوں کو مسلتے سیدھے ہو بیٹھے۔
“سائیں، میں مخل تو نہیں ہوئی نا؟ آسیہ بیگم اندر داخل ہوئیں ساتھ ہی سوال کیا۔
“ارے بلکل بھی نہیں نیک بخت، تم کہو، کیسے آنا ہوا؟ زکا صاحب نے خوشگواری سے کہا تو وہ ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ ان کے قریب رکھی کرسی پر آ ٹکیں۔
“سائیں مجھے آپ سے زوفا کے متعلق کچھ بات کرنی ہے؛ آسیہ بیگم کا لہجہ کچھ فکرمندانہ تھا۔
“ہاں بولو کیا بات ہے؟ زکا صاحب بھی زوفا کے نام پر الرٹ ہو گئے۔
“میں چاہتی ہوں اب میری بچی کی زندگی میں بھی خوشیاں آئیں۔ اس کی خوشیاں صرف ہم سے ہی وابستہ ہیں۔ میں بھابھی بیگم سے سعد کا رشتہ زوفا کیلئے مانگنا چاہتی ہوں مجھے امید ہے وہ ہرگز انکار نہیں کریں گی۔ وہ تو خود بھی زوفا کو بہت پسند کرتی ہیں۔ ان کے انکار کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا! آسیہ بیگم مکمل طور پر پُر امید تھیں۔ ان کی بات سن کر زکا صاحب بھی چند لمحے سوچ میں پڑ گئے۔
“کیا بات ہے سائیں، آپ میری بات سے متفق نہیں ہیں کیا؟ آسیہ بیگم نے ان کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیوں کو بغور دیکھا۔
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں آسیہ، مگر حویلی میں اس متعلق کسی سے بھی بات کرنے سے پہلے ایک بار زوفا سے ضرور پوچھ لو۔ میں اب اس کی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ بِنا اس کی رضامندی کے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر وہ راضی ہو جاتی ہے تو پھر مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔!!! زکا صاحب نے دو ٹک انداز میں کہا۔
“ٹھیک ہے سائیں، میں اس سے بات کرتی ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اتنی آسانی سے راضی ہوگی مگر میں اسے سمجھاؤں گی اور یقین دلاؤں گی کہ یہ رشتہ ہر لحاظ سے اس کے لئے بہتر ہے۔ انشاء اللّہ وہ بھی راضی ہو جائے گی۔۔!! آسیہ بیگم نے دعائیہ انداز میں اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو زکا صاحب بھی کچھ مطمئن ہوتے ہوئے مسکرا دیئے۔
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ جلے ہوئے پیر کی بلی کی طرح اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھی۔ شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے اور سکندر شاہ کی واپسی کا ابھی تک کہیں نام و نشان نہ تھا۔ تھک ہار کر وہ لان میں موجود جھولے پر آ بیٹھی اور اپنی شعلہ بار نگاہیں سامنے موجود بیرونی گیٹ پر ٹکا دیں۔
“بس ایک بار آ جائیں یہ پھر میں پوچھتی ہوں ان سے کہ آخر دن بھر کدھر اور کون سی ایسی عیاشیاں ہو رہی تھیں جو گھر میں موجود بیوی کی طرف ایک دفعہ بھی دھیان نہ گیا!! وہ دانت پیستے ہوئے خود سے مخاطب تھی۔ اس کا انگ انگ جیسے کسی آگ کی لپیٹ میں تھا۔ سکندر شاہ کی عدم توجہی و غیر حاضری اسے لمحہ بہ لمحہ ہسٹریک کرتی جا رہی تھی۔ اسے یہاں بیٹھے ہوئے آدھا گھنٹہ مزید گزر گیا مگر سکندر شاہ کی واپسی نہ ہوئی۔ وہ جھولے سے اٹھی اور فن فن کرتی اندر جانے کو ہی تھی کہ اسے گیٹ کے اندر داخل ہوتا دیکھکر پہلے تو کچھ بے یقین سی ہوئی پھر اس کی جانب لپکتے ہوئے گویا چیل کی مانند اس پر جھپٹی۔ سکندر شاہ جو کہ اپنے ہی دھیان میں کہیں گُم تھا اس اچانک افتاد پر بری طرح سے چونک اٹھا۔
“کدھر غائب تھے ہاں؟ میں پوچھ رہی ہوں آخر کدھر تھے صبح سے؟ کس کے ساتھ گُل چھرے اڑائے جا رہے تھے جو حویلی واپس آنے کا ہوش نہیں تھا محترم کو؟ زرا میں بھی تو سنوں!! حرم کی طیش سے بھرپور دہکتی آواز پر سکندر شاہ نے بیساختہ گہرا سانس بھرا ساتھ ہی ایک جھٹکے سے اس کی گرفت سے اپنا کالر آزاد کیا۔
“بکواس مت کرو حرم۔۔۔ شوہر ہوں میں تمہارا کوئی زرخرید غلام نہیں ہوں۔ آئیندہ مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنے لب و لہجے پر غور فرما لینا ورنہ۔۔۔؛؛؛ چبا چبا کر کہتے ہوئے اس نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا تو حرم کے ہونٹوں پر استہزائیہ مسکراہٹ آ گئی۔
“ورنہ؟ ورنہ کیا کریں گے آپ ہاں؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے دھمکی دینے کی؟ مجھے کمزور بالکل مت سمجھئے گا۔ آپ کی ان دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونے والی میں سمجھے آپ؟ اس بار وہ کچھ تیز لہجے میں بولی۔ انداز بیحد نڈر سا تھا۔ سکندر شاہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس نے اسے دونوں بازوؤں سے دبوچتے ہوئے خود سے قریب کیا اور اس کی بے خوف آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال دیں۔
“ورنہ میں جو کروں گا مجھے امید ہے وہ تم زندگی بھر نہیں بھول سکو گی۔ بہتر ہے مجھ سے مت الجھو حرم۔ اس رشتے کو میں جتنا دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں تم سے بھی یہی امید ہے مجھے۔ مجھے مجبور مت کرو کہ میں اگلی بار کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاؤں! دھیمی مگر سرد آواز میں اس نے اپنے لفظوں پر زور دیا۔
“اچھی طرح جانتی ہوں میں اس زوفا کی دیوانگی میں پاگل ہوئے جا رہے ہیں آپ۔ مگر میں بھی حرم ہوں۔ جو بھی ہمارے درمیان آنے کی کوشش کرے گا اور میرا گھر توڑنے کی کوشش کرے گا میں اس کو کچا چبا جاؤں گی سنا آپ نے؟ اور ہاں اگر مجھے پتہ چلا کہ ابھی بھی اس زوفا سے رابطے میں ہیں آپ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سکندر سائیں۔۔!! وہ کسی ناگن کی مانند پھنکاری۔ سکندر شاہ نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلا اور بنا کچھ بھی کہے پلٹ کر اندر جانے کو ہی تھا کہ وہ برق رفتاری سے چلتی اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی۔
“میرا سوال ابھی بھی وہی ہے۔ کدھر تھے آخر آپ؟ کچھ پوچھ رہی ہوں میں! وہ طیش سے پھٹی آواز میں بولی
“میرے پاس تمہارے سوال کا کوئی جواب نہیں ہے بیشک ساری رات میرے جواب کے انتظار میں جاگ کر گزار دو۔ میں اندر جا رہا ہوں۔ جب تمہارا دماغ ٹھکانے پر آ جائے تو آ جانا ورنہ بیشک ساری رات اِدھر ہی بِتا دو! وہ غرا کر بولا اور تیز قدموں سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔ حرم تو گویا پاگل ہونے والی ہو گئی۔
“آآآآآآآ۔۔۔،، زوفا تمہیں تو میں دیکھ لوں گی۔ بدکردار عورت، طلاق کے بعد بھی میرے شوہر کے پیچھے پڑی ہو۔ تمہیں تو میں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتاروں گی۔۔۔!! وہ دونوں ہاتھوں سے بالوں کو مُٹّھیوں میں بھینچے چیخ اٹھی۔ اس وقت وہ ہوش و فہم سے بیگانہ کوئی پاگل دکھائی دے رہی تھی جو خود کو ہی نوچ کر کھا جانے کے درپے تھی۔
🧡🧡🧡🧡🧡
میر سالار آفس سے ہی آج گاؤں کیلئے نکل جانے کو تیار تھا۔ اس کا ارادہ آج ہی واپسی کا تھا پھر چاہے واپسی شام تک ہوتی یا رات تک۔ وہ اس مصرفیات میں بہت مشکل سے وقت نکال سکا تھا۔ وہ چاہتا تو یہ بات زکا صاحب سے فون پر بھی کر سکتا تھا، مگر اسے یہ مناسب نہیں لگا۔ وہ ان سے روبرو بیٹھ کر اِس کے متعلق بات کرنا چاہتا تھا۔ اس بار مرحا اس کے ساتھ نہیں تھی، چونکہ وہ کچھ ہی وقت کیلئے جا رہا تھا سو اسے اگلی بار ساتھ لے جانے کا سوچ کر اس نے اکیلے ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی مصروفیات آج کل عروج پر تھیں سو وہ جلد ازجلد یہ کام نپٹا کر واپس آنا چاہتا تھا۔ یہاں بھی ہزاروں کام تھے جو اس کے منتظر تھے۔
گاؤں کیلئے وہ صبح دس بجے ہی روانہ ہو گیا، اور اب تین گھنٹے کا سفر طے کر کے وہ بالآخر گاؤں آ پہنچا تھا۔
سب سے پہلے اس نے بڑی حویلی کا رخ کیا، جہاں رونقیں حسبِ معمول عروج پر تھیں۔ سب اس کی اچانک آمد پر حیرانگی کے ساتھ ساتھ خوش بھی نظر آئے۔ سائرہ بیگم تو اسے دیکھکر کھل اٹھیں۔ بہنیں بھی اس کی آمد پر نہال تھیں۔ البتہ مورے اپنے کمرے میں بند تھیں، (جو کہ آج کل ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا) شاہ زر بھی آج کل کام سے تھوڑی فراغت حاصل کر کے یہاں قیام پذیر تھا وہ بھی سالار کو دیکھکر پرجوش ہو گیا۔ سب سے ملاقات کے بعد وہ صحن میں ہی بیٹھ گیا۔
“سالار تم تو عید کا چاند ہو گئے ہو۔ تم سے کبھی ٹھیک طرح سے ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔۔! اس سے گلے ملتے شاہ زر نے شکوہ کیا۔
“ادا میں تو یہاں آتا رہتا ہوں مگر آپ ہی جب سِرے سے موجود نہیں ہوتے تو ملاقات کیا خاک ہونی ہے؛؛ میر نے شرارتًا کہا۔
“بس یار تمہاری طرح میں بھی فراغت زرا مشکل سے حاصل کر پاتا ہوں۔ اب آیا ہوں تو انشاء اللّہ چند روز یہاں سکون سے گزریں گے؛ شاہ زر نے خوش باش لہجے میں کہا تو میر سالار سر ہلا گیا ساتھ ہی سائرہ بیگم کی جانب متوجہ ہوا جو بڑی دلچسپی سے ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھیں۔ عفاف اور حرم بھی ان دونوں سے لگی بیٹھی ہوئی تھیں۔
ادا مانا کہ آپ چکر لگا لیتے ہیں مگر تھوڑا یہاں بھی کچھ روز آرام سے ٹک جایا کریں، یہاں آتے ہی تو آپ کو واپسی کی پڑ جاتی ہے ! حرم نے منہ بناتے ہوئے کہا تو وہ ہنس پڑا۔
“حرم صاحبہ، آپ میری جگہ ہوتیں تو پوچھتا آپ سے؛ اس کی بات پر حرم اسے گھور کر رہ گئی۔
“اور بتائیں امی سائیں، کسی ہیں آپ؟ سالار نے اپنائیت سے ان کا حال پوچھا
“میں ٹھیک ہوں بچے، تم سناؤ کیا حال ہے تمہارا؟ تمہاری بیوی کیسی ہے؟ سائرہ بیگم کے سوال پر وہ کچھ چونک کر ان کی جانب دیکھنے لگا مگر ان کے چہرے پر طنز کا کوئی تاثر نہ پا کر وہ مزید الجھ سا گیا۔
“میں الحمدللہ ٹھیک ہوں اور مِرحا بھی؛ اس نے مختصر سا جواب دیا۔
“سالار تم مرحا کو ساتھ نہیں لائے؟ شاہ زر کے سوال پر اس نے اپنی مصروفیات میں جلد روانہ ہو جانے کے بارے میں بتایا تو اس نے اصرار کیا کہ اگلی بار وہ مرحا کو بھی ساتھ ضرور لے کر آئے۔
“ہاں بیٹا، اگلی بار تم اسے ساتھ لے آنا؛ اس سے پہلے کہ وہ شاہ زر کی بات کا جواب دیتا، سائرہ بیگم کے کہنے پر ایک بار پھر ٹھٹھک سا گیا اور بغور انہیں دیکھا جو اس کے اس طرح دیکھنے پر کچھ شرمندہ سی نظر آنے لگی تھیں۔
“خیریت تو ہے امّی سائیں؛ آپ کو مرحا سے اتنی انسیت کب سے ہو گئی؟ جہاں تک مجھے معلوم ہے آپ تو ایک معمولی و کم حیثیت سی ملازمہ کو اپنی بہو تسلیم کرنے میں شرم محسوس کرتی ہیں مزید یہ کہ وہ آپ کے نزدیک قابلِ نفرت ہے تو پھر؟؟؟ میر سالار نے کچھ چبھتے لہجے میں اپنی بات کہی۔
“میں بہت شرمندہ ہوں میر۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ ان سب کے پیچھے روشی کی سازش شامل ہے۔ جب مجھ پر حقیقت آشکار ہوئی تو یقین مانو میں دل سے اس پر نادم ہوئی مگر تم سے اس ندامت کا اظہار چاہ کر بھی نہ کر سکی۔ جہاں تک رہی ملازمہ کی بات تو ہاں یہ سچ ہے کہ میں قطعی یہ نہیں چاہتی تھی کہ تم اس لڑکی سے نکاح کرو جس کا اسٹینڈرڈ ہم سے میچ نہیں کرتا مگر اب جب تمہیں اس کے ساتھ خوش و خرم دیکھتی ہوں تو مجھے وہ دل سے قبول ہے۔ تم اسے اگلی بار ساتھ لانا میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔ سائرہ بیگم نے نظریں چراتے ہوئے ندامت سے چور انداز میں کہا۔ میر سالار گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“آپ نے اسے قبول کر لیا یہ میرے لئے باعثِ مسرت ہے۔ اگلی بار وہ میرے ساتھ ہو گی۔۔۔! اس کی بات پر سائرہ بیگم سرشار سی ہو گئیں اور اسے گلے لگا لیا۔ شاہ زر سمیت دونوں بہنیں بھی یہ منظر دیکھکر مسکرا دیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸
میر سالار تھوڑا ریسٹ کرنے کے بعد بڑی حویلی میں سب سے الوداعیہ ملاقات کر کے چھوٹی حویلی کا رخ کرنے کو ہی تھا کہ اس کی ملاقات ڈیرے پر ہی زکا صاحب سے ہو گئی۔ وہ نہایت گرمجوشی کیساتھ اس سے ملے اور حال احوال پوچھا۔ وہ بھی ان کی باتوں کا جواب دیتا سامنے رکھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
“چچا سائیں، آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے آپ سے کہا تھا مجھے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے اور آج اسی سلسلے میں، میں کافی عجلت میں یہاں پہنچا ہوں۔۔ امید ہے آپ میری بات پر غور فرمائیں گے! میر سالار کی بات پر زکا صاحب بھی اس کی بات یاد کر کے سر ہلانے لگے
“ہاں میر مجھے یاد ہے۔ تم بلاجھجک کہو۔۔ ان کی اجازت پر میر سالار کچھ پل پرسوچ انداز میں زمین پر نظریں ٹکائے بیٹھا رہا پھر ان کی جانب متوجہ ہوا جو سوالیہ نگاہوں سے اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“چچا سائیں، میں آپ سے حسن کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے پہلے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ حسن سے آپ کی ملاقات کیسی رہی میرا مطلب وہ آپ کو کیسا لگا؟ میر سالار انہیں جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ حسن کے نام پر زکا صاحب کے لبوں پر نرم سی مسکراہٹ ابھر آئی۔
“ماشاءاللہ وہ تو بہت ہی خوبرو اور فرمانبردار بچہ ہے۔ سچ کہوں تو میں تو اس سے مل کر کافی متاثر ہوا ہوں۔ بہت کم عمری میں ہی اس نے اپنا ایک الگ مقام و پہنچان بنائی ہے۔ بلاشبہہ وہ تعریف کے قابل ہے۔۔ زکا صاحب نے دل کھول کر حسن کی شان میں قصیدے پڑھے۔ میر سالار بیساختہ مسکرا دیا۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ چلیں اس سے مجھے بھی بات کرنے میں آسانی ہو گی۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں آپ زوفا کی شادی حسن کر دیں۔۔! اس کی بات پر زکا صاحب حیرت زدہ سے اسے دیکھنے لگے۔
“سالار، مگر تم یہ بات کیوں کر رہے ہو؟ میرا مطلب تمہارے دل میں یہ خیال کیوں آیا؟ کچھ پل کے بعد زکا صاحب نے اپنی حیرت کو زبان دی۔
“چچا سائیں میرا یقین کریں کہ زوفا حسن جیسا ہی لڑکا ڈیزرو کرتی ہے۔ وہ ایک مہذب انسان ہے میں اسے جتنا قریب سے جانتا اور سمجھتا ہوں شاید ہی کوئی اور سمجھ سکے۔۔۔ وہ زوفا کو سارے جہاں کی خوشیاں دے گا۔ وہ اس کی ہمراہی میں بہت خوش رہے گی اس بات کی گارنٹی میں دیتا ہوں۔۔! میر سالار نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر تسلی آمیز انداز میں انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
“مگر میر، کیا حسن بھی اس کے لئے راضی ہو گا؟ میرا مطلب میری بیٹی تو طلاق یافتہ۔۔۔؛ کہتے کہتے آخر میں زکا صاحب کی آواز رندھ سی گئی۔ میر یاسیت سے انہیں دیکھنے لگا۔
“آپ ایسی باتیں سوچ کر خود کو ٹینس نہ کریں۔ آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہو گی کہ میں حسن کی ہی خواہش کے پیشِ نظر آپ سے یہ بات کر رہا ہوں۔ رہی بات بی جان کی، وہ تو پہلے ہی زوفا کو بہت پسند کرتی ہیں۔ اسے بہو کے روپ میں قبول کرنا ان کیلئے یقیناً باعثِ شرف ہو گا۔۔!! سالار نے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ انہیں ہر طرح سے ریلیکس رکھنے کی کوشش کی جبکہ زکا صاحب حسن کی خواہش کا سن کر مزید حیرت میں غرق ہو گئے۔
“تم سچ کہہ رہے ہو میر؟ انہوں نے خوشی سے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
“بالکل، آپ بس بِسمِ اللّٰہ کریں اور سب کچھ اللّٰہ پر چھوڑ دیں۔ زوفا کی قسمت کا ستارہ بھی اب چمک جانے کو ہے۔ آپ اسے راضی کرنے کی کوشش کریں وہ مان جائے گی مجھے اس بات کا یقین ہے۔ ضرورت پڑی تو میں خود اس سے کال پر بات کروں گا۔۔! زکا صاحب اس کی بات پر اثبات میں سر ہلا گئے مگر پھر کچھ سوچ کر فکرمند سے ہو گئے۔
“میر، لیکن بات یہ ہے کہ تمہاری چچی سائیں زوفا کو اب خود سے علیحدہ نہیں کرنا چاہتیں۔ وہ چاہتی ہیں زوفا ہمیشہ ان کے قریب ہی رہے۔ اس میں قصور ان کا بھی نہیں ہے جو کچھ اس کے ساتھ ہوا اس سے وہ بہت خوف زدہ ہو گئی ہیں۔ تمہاری چچی سائیں ارقم کے بیٹے سعد سے زوفا کا رشتہ کرنا چاہتی ہیں۔۔ شاید جلد ہی وہ اس بارے میں زوفا سے بات بھی کریں۔۔! زکا صاحب نے پیشانی مسلتے ہوئے کچھ جھجھک کر کہا تو میر سالار بھی کچھ پل کو چپ رہ گیا، پھر گہرا سانس بھرتے ہوئے ان کی جانب دیکھنے لگا جو خود بھی کافی کشمکش میں مبتلا دکھائی دے رہے تھے۔
“آپ چچی سائیں کو سمجھائیں پلیز۔ یہ میٹر نہیں کرتا کہ بیٹیاں شادی کے بعد ہم سے کتنی دور ہو گئی ہیں یا کس حد تک نزدیک۔۔ میٹر مقدر کرتا ہے۔۔ اس بات کی زندہ مثال میں سکندر شاہ اور زوفا کے نکاح کی ہی دے دیتا ہوں۔ دو قدم کے فاصلے پر بھی وہ مسلسل ایک عذاب میں مبتلا تھی۔ حسن سے شادی کے بعد وہ بیشک گاؤں سے دور ہو گی مگر کم ازکم خوش باش تو ہوگی۔ کل کو وہ زوفا کو خوش دیکھیں گی تو ہر لحاظ سے مطمئن ہوں گی۔ آپ ان کو سمجھائیں پلیز ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ وہ بیشک زوفا سے بات کریں مگر سعد کیلئے نہیں بلکہ حسن کیلئے۔۔۔ میں چلتا ہوں۔ آپ کے مثبت جواب کے انتظار میں رہوں گا۔ اگر مسئلہ صرف زوفا کے ماننے کا ہوا تو بے فکر رہیں اسے میں خود منا لوں گا۔۔ میر سالار نے انہیں بھرپور یقین دلایا ساتھ ہی ان سے ہاتھ ملاتا واپسی کے ارادے سے وہاں سے نکل آیا۔ زکا صاحب وہیں بیٹھے ابھی تک اس کی بات پر غور فرما تھے۔
ڈیرے سے نکلنے کے بعد وہ چھوٹی حویلی چلا آیا۔ جہاں زوفا اسے دیکھکر بیک وقت خوش اور آبدیدہ سی ہو گئی۔ میر سالار بھی اسے اپنوں میں خوش دیکھکر مطمئن تھا۔ زوفا کی ملاقات چونکہ شہر سے گاؤں واپسی پر مِرحا اور اس سے نہ ہو سکی تھی سو اس نے بیقراری سے مِرحا کا حال احوال بھی پوچھا ساتھ ہی اس سے شکوہ کیا کہ “”وہ اکیلے ہی کیوں آیا مرحا کو بھی ساتھ لے آنا تھا؛؛ میر نے ہنستے ہوئے اگلی بار کا وعدہ کیا۔ آسیہ بیگم و بقیہ افراد سے ملاقات کے بعد وہ شہر واپسی کیلئے روانہ ہو گیا تھا۔ اسے امید تھی کہ فیصلہ حسن کے ہی حق میں ہوگا۔ اب حسن کی قسمت کون سا رخ بدلنے کو تھی یہ تو وقت اور حالات کے دھارے پر تھا مگر وہ مکمل طور پر پُریقین تھا۔
