Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

وہ اب رونے لگ گئی تھی، اور میر سالار کا تو غصّہ عروج پر جا پہنچا تھا۔
سائیں پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔ مجھے اکیلے بہت ڈر محسوس ہو گا!! وہ سوں سوں کرتی اپنی لال ہوتی ننھی سی ناک رگڑنے لگی۔ میر سالار نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا اور جارحانہ تیوروں سمیت اسے گھورا تو مِرحا کی گِھگھی بندھ گئی۔ ویسے بھی اس شخص کے غصّے سے وہ بخوبی واقف تھی مگر سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس سے یہ بیوقوفی سرزد ہو گئی تھی۔

خاموش! وہ اتنی اونچی آواز میں دہاڑا کہ مرحا کا دل خوف سے بند ہونے کے قریب ہو گیا۔ لب پھڑپھڑ کر رہ گئے۔
دماغ درست ہے تمہارا ہاں؟ تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری ان ڈرامے بازیوں سے متاثر ہو جاؤں گا مِرحا بی بی تو واقعی ہی پھر تم اوّل درجے کی بیوقوف ترین لڑکی ہو! ابھی تو میں لیٹ ہو رہا ہوں میری واپسی کے بعد تمہیں اچھی طرح سمجھاؤں گا کہ میر سالار کیا چیز ہے! اسے سختی سے کندھوں سے جکڑ کر وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا تو مرحا کی آنکھوں میں بے تحاشہ دھند اتر آئی۔
یہ شخص اس قدر بے حِس تھا کہ اسے اس کے مرنے یا جینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس پتھر سے ٹکرا کر وہ خود تو زخمی ہو سکتی تھی مگر شاید اس ظالم کو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔

ٹیبل سے گاڑی کی کیز اٹھاتے ہوئے اس نے ایک دہکتی نظر اس کے آنسوؤں سے تر چہرے پر ڈالی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
گاڑی فارم ہاؤس کے گیٹ سے باہر نکل چکی تھی۔ اس کی گاڑی کے پیچھے اس کے محافظوں کی بھی گاڑیوں موجود تھیں۔ سختی سے دانت پر دانت جمائے وہ تیز رفتار سے گاڑی چلانے میں مصروف تھا مگر ذہن بار بار جانے کیوں بھٹک کر ان روئی روئی آنکھوں کی جانب جا رہا تھا۔ اپنی اس کیفیت سے وہ بری طرح جھلا گیا۔ گاڑی اب جنگل نما راستے سے گزر رہی تھی۔
گاڑی کی رفتار کی مانند اس کا ذہن بھی تیزی سے حرکت میں تھا۔ فارم ہاؤس سے نکلے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔

“سائیں پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائیں؛ یکایک پوری شدت سے کانوں میں وہ بھیگی بھیگی اواز گونجی تو اس نے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی۔
ڈیم اٹ! کیا مصیبت ہے یار! زوردار پنچ سٹیرنگ پر مارتے ہوئے وہ اپنے لائٹ براؤن بالوں میں اضطراب سے ہاتھ پھیرنے لگا۔

“سالار یار، پاگل ہو گئے ہو کیا؟ تم اس لڑکی سے ہمدردی جیسے جذبے کے مرتکب ہو رہے ہو جس نے خاندان کے سامنے تمہارے کردار کو مشکوک ترین بنا کر رکھ دیا۔ وہ ہرگز اتنی معصوم نہیں ہے جتنا خود کو شو کر رہی ہے؛ دماغ نے گویا ڈپٹا تھا جبکہ اسے خود اپنی اس کیفیت سے بے پناہ غصّہ آئے جا رہا تھا۔ وہ پتھر دل تو مشہور تھا تو پھر اچانک اس لڑکی کے لئے دل میں رعایت برتنے کا جذبہ کیونکر پیدا ہو رہا تھا؟
وہ جتنا سوچتا جاتا تھا اتنا ہی خود سمیت مِرحا پر بھی طیش بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

پانچ منٹ انتظار کے بعد محافظوں کی گاڑی سے دو آدمی اتر کر اس کی گاڑی کے قریب آئے۔
“سائیں کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا؟ ایک آدمی نے کھڑکی پر جھکتے ہوئے پریشانی سے پوچھا تو اس نے لب بھینچتے ہوئے اسے دیکھا۔

“سب خیریت ہے۔ فلحال فارم ہاؤس واپس چلو! اس نے آرڈر دیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی تو وہ دونوں سر ہلاتے ہوئے پیچھے گاڑی میں سوار ہو گئے۔ دونوں گاڑیاں اب واپسی کے سفر پر گامزن تھیں۔

               ❤️❤️❤️❤️❤️

زخموں سے چور چور بدن کے ساتھ نہ جانے کتنی دیر سے وہ یونہی زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ اسے ہوش آیا تو پورے جسم کے ساتھ ساتھ اس کا سر بھی جیسے پھوڑے کی مانند دُکھ رہا تھا۔ تھوڑی ہمت کر کے وہ اٹھ بیٹھی تو لبوں سے سسکیاں برآمد ہونے لگیں۔ اس کا انگ انگ درد کی شدت سے کراہ اٹھا۔ آنکھوں کے آگے سے تھوڑا دھند ہٹی تو سامنے کا منظر کچھ واضح ہونے لگا تھا۔
اس کال کوٹھری میں ایک سائیڈ پر چھوٹا سا واشروم تھا۔ ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس سے ہلکا سا اجالا کمرے کے اندر اپنی جھلک دکھاتا تھا۔ ایک معذور سا پلنگ اسی کھڑکی کی دیوار سے لگا رکھا ہوا تھا۔ کھڑکی پلنگ سے بالکل نزدیک بھی نہ تھی کہ وہ باہر جھانک کر خود میں زندگی کی تھوڑی سی رمق محسوس کر سکتی۔
“یہ سب کیا تھا؟ کیا وہ پوری زندگی اسی زندان میں یونہی تڑپ تڑپ کر گزارتے مر جائے گی؟ سوچتے ہوئے اس کے درد میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس نے نگاہیں پھیریں تو نظر سامنے رکھی چھوٹی سی ٹرے میں رکھے برتنوں پر جا ٹھہری جن میں پتلی سی دال، تھوڑے سے چاول، اور دو روٹیاں موجود تھیں۔ یہ ٹرے کب کس نے یہاں لا رکھی تھی اسے خبر تک نہ ہوئی تھی۔ اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا تو اسے شدت سے بھوک کا احساس ہوا۔ اس نے بے دم ہاتھوں سے ٹرے اپنی جانب کھسکائی اور روٹی سے دال کے نوالے بنا کر کھانے لگی۔ ایک روٹی کھانے کے بعد اس نے ٹرے دور کھسکا دی تھی۔
بمشکل دیوار کا سہارا لیتے ہوئے وہ اٹھی اور لڑکھڑاتے قدموں سے واشروم کی جانب بڑھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وقت کیا ہو رہا ہے مگر اس نے دقتوں سے ہی سہی وضو کیا اور نماز کے انداز میں دوپٹے کو لپیٹے واپس اسی جگہ پر آ کر زمین پر بیٹھ کر دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں پھیلا لئے۔ اس کی اس قید میں اس کے لئے کوئی جائے نماز نہ تھا۔ اس کے وجود پر جگہ جگہ خون جم سا گیا تھا۔ کپڑے بھی پھٹ چکے تھے اور ان پر بھی خون کے نشانات واضح تھے۔

“ائے اللّٰہ، میں نہیں جانتی کہ اس حالت میں میری دعا یا میری نماز قبولیت کا درجہ حاصل کرے گی یا نہیں،، مگر تو تو میرے حال سے واقف ہے نا؟ میری آزمائش ختم کر دے مولا۔۔ مجھ میں مزید سہنے کی قوت نہیں ہے۔ میرے رب مجھے میری طاقتوں سے زیادہ نہ آزما، میں بہت کمزور ہوں۔ مجھ پر اپنا رحم فرما۔۔۔ زیرلب دعا مانگتے ہوئے وہ اذیت کی آخری آخری انتہا پر تھی۔ جبھی قدموں کی آہٹ پر اس کا دل خوف کے مارے سکڑ سا گیا۔ اس نے بے اختیار تیزی سے دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہراساں نظروں سے دروازے کی جانب دیکھا اور پھر دروازے میں جس ہستی کا چہرہ نمودار ہوا اس نے زوفا کو وہیں ساکن کر کے رکھ دیا۔

               🌸🌸🌸🌸🌸

فارم ہاؤس پہنچ کر وہ جیسے ہی راہداری سے ہوتا ہوا لابی میں داخل ہوا نظر سامنے صوفے پر بے خبری بھری نیند سوتی مِرحا پر جا پڑی۔ چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے سے نشانات تھے۔ کچھ دیر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے چہرے پر سرد نگاہیں جمائے کھڑا وہ اسے دیکھتا رہا پھر دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کر لب بھینچتے ہوئے نپے تلے قدموں سے چلتا وہ اس کے سر پر جا کھڑا ہوا پتہ نہیں اس کی گھورتی نظروں کا اثر تھا یا مِرحا کی ہی نیند میں خلل پڑا تھا بہرحال اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ پہلے تو نیم واں آنکھوں سے اس نے صوفے کے قریب کھڑے میر سالار کو دیکھا پھر یکایک ساری نیند بھک سے اڑ گئی اور آنکھیں پھیل کر مزید بڑی ہو گئیں۔ وہ اچھل کر اٹھ بیٹھی اور بے یقینی سے اسے دیکھا جو اب پلٹ کر سامنے صوفے پر جا بیٹھا تھا۔

“سائیں آپ؟ آپ تو چلے گئے تھے نا؟ مرحا نے ڈرتے ڈرتے دل میں پنپتا سوال داغا۔
جیسے جانے کا حق رکھتا ہوں، ویسے ہی واپس بھی آنے کا بھی حق رکھتا ہوں۔ بائی دا وے، یہ سوال کرنے کی جرت کیسے ہوئی تمہاری؟ وہ ٹانگوں پر ٹانگیں جماتے ہوئے سرد مہری سے بولا تو مرحا کو پکا یقین ہو گیا کہ وہ واپس لوٹا ہی اسے ڈانٹنے کے لئے تھا۔ اس شخص کو تو بس اسے ذلیل کرنے کا موقع چاہئے ہوتا تھا۔ سوچتے ہوئے وہ بے طرح روہانسی ہونے لگی۔

“اب جو میں کہہ رہا ہوں نہایت ہی غور سے سننا، غلطی اگر بھولے سے بھی ہوئی تو اس کی ذمّہ دار تم خود ہوگی۔ پندرہ منٹ کے اندر پیکنگ کرو اپنی اور ساتھ چلو میرے! اسے حکم دیتے ہوئے اس نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکال لیا اور اس پر مصروف ہو گیا جبکہ مِرحا تو مارے حیرت کے مرنے والی ہو گئی۔

“سائیں مم مطلب میں بھی ساتھ جا رہی ہوں؛ وہ کانپتے ہوئی آواز میں بولی تو میر سالار نے موبائل سے نظریں ہٹا کر بری طرح اسے گھورا۔
“تو کیا میں فارسی میں بات کر رہا ہوں، ایک بار کا کہا تمہارے پلے نہیں پڑتا؟ وہ کھولتے ہوئے لہجے میں بولا تو مرحا نے خفت سے لب دانتوں تلے دبا لئے۔

“اب اگر ڈراموں سے فرصت مل گئی ہو تو جاؤ۔۔ پانچ منٹ تو ویسے بھی تم نے ضائع کر لئے۔ دس منٹ میں تیاری مکمل کرو اپنی۔۔۔ وہ قہر آلود انداز میں بولا تو مرحا کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

سنیں کون سے کپڑے پہن کر چلوں؟ میرا مطلب ہم دور جا رہے ہیں نا؟ وہ خود پر جمی اس کی گھورتی نظروں سے خفیف ہوتی اٹک اٹک کر بولی۔

کیوں؟ کیا کپڑوں کا قحط پڑ گیا ہے؟ عقل گھاس چرنے گئی ہے تمہاری؟ تین سے چار ڈریسز رکھو اور ہاں حویلی کے روایتی ملبوسات رکھنا۔ وہاں بقیہ آفیسرز کی بیگمات بھی ہو سکتی ہیں۔ گو اینڈ ہری اپ!! وہ غصّے سے بل کھاتا ہوا بولا تو وہ دل ہی دل میں اپنی بے پناہ خوشی چھپائے جبکہ چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت طاری کئے فوراً حکم کی تعمیل کو وہاں سے نکلی۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے دوبارہ موبائل کی جانب متوجہ ہو گیا۔

پھر واقعی ہی وہ دس منٹ پورے ہونے پر اس کے سامنے حاضر تھی۔ حویلی کے روایتی لباس میں وہ انتہا سے زیادہ دلکش و معصوم لگ رہی تھی۔ اس کے بے ریا چہرے پر اس کی اندرونی خوشی شعاعوں کی طرح پھوٹ رہی تھی۔ ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالتے ہوئے وہ اسے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا خود باہر نکل گیا۔ ملازم نے مرحا کا پیک شدہ چھوٹا سا بیگ اٹھایا اور برق رفتاری سے جا کر گاڑی میں رکھ دیا۔ وہ کچھ ڈرتے ڈرتے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی جبکہ وہ بھی بھرپور سنجیدہ تاثرات لئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ مرحا کو اب اسے قریب سے و فرصت سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اس نے چور نظروں سے میر سالار کو دیکھا۔
نیوی بلیو جینس، وائٹ شرٹ پر بلیک جیکٹ پہنے، لائٹ براؤن بال سلیقے سے سنوارے، اپنی ہیزل آنکھیں سامنے سڑک پر جمائے وہ کسی ریاست کا شہزادہ ہی تو لگ رہا تھا۔ گوری رنگت میں سرخی نمایاں تھی شاید وہ غصے کی سرخی تھی کم ازکم مرحا کو تو یہی لگا۔ وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا گویا کچھ بھی بولنا حرام ہو وہ بھی خود کی خیریت کی دعا کرتے سیٹ سے سر ٹکائے بیٹھی باہر کے نظارے میں گم تھی۔
سفر پندرہ منٹ کا ہی گزرا تھا کہ اسے میٹھی میٹھی سی جھپکیاں آنے لگیں۔ کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند کی آغوش میں تھی۔

               😍😍😍😍😍

وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ سکندر شاہ تھا۔ وہ نیم واں لب سمیت اسے دیکھ رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں اس شخص کو اپنے سامنے دیکھکر آنکھوں کے گوشے تیزی سے نم ہوئے تھے۔ مگر وہ اپنے آنسوؤں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرنے لگی۔
بے تحاشہ سرخ آنکھوں و ضبط کی آخری حد کو چھوتا سکندر شاہ اسے کینہ توز نظروں سے دیکھتا ہوا اندر داخل ہوا تو وہ ہتھیلیوں سے زمین کا سہارا لیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے دیکھا جو اب سرتاپا بگڑے ہوئے تاثرات کیساتھ اس کا جائزہ لے رہا تھا۔

“میں یہاں آنا تو نہیں چاہتا تھا مگر سوچا تم پر تمہاری حیثیت جو میری نظروں میں اور میرے دل میں ہے اسے واضح کر دوں؛! کچھ ثانئے کے بعد اس کی بھاری مردانہ اواز گونجی تو زوفا نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ یعنی وہ بھی،،،؟ وہ بھی ہر کسی کی طرح اسے اس کی اوقات یاد دلانے ادھر کا رخ کر بیٹھا تھا۔
زوفا کے چہرے پر ایک ہلکی مگر زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری۔ اس نے پرنم آنکھوں سے اسے دیکھا جو اسے ہنوز انہیں تاثرات کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔

“ان سب میں میرا قصور کہاں ہے سکندر سائیں؟ صارم ادا نے جو کیا مجھے بھی اس کا بیحد دکھ ہے۔ پھر یہ الزام مجھ پر کیوں؟! وہ بھیگے ہوئے لہجے میں سراپا سوال تھی۔ اس کے سوال پر سکندر شاہ کی آنکھوں کی جلن مزید بڑھ گئی۔ وہ نپے تلے انداز میں کچھ قدم آگے بڑھ آیا۔

“بس بہت ہوا،،، تمہارے اس ابلیس بھائی نے ہمارے لئے جو طوفان لا کھڑا کیا ہے اسے بھلایا نہیں جا سکتا، ویسے بھی تم سب اسے بچانا چاہتے ہو یہ ہم سب کو بہتر پتہ ہے۔ جب تمہارے گھر والوں نے بیٹے پر بیٹی قربان کر دی تو تم تو پھر بھی ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہو۔ تمہاری حیثیت “اب؛ اس گھر کی ملازمہ سے بھی کمتر ہے، لہٰذا اپنی حد مت پار کرنا۔ اور دوسری جانب تم میری محبّت (حرم) کی جگہ پر بھی قابض ہو بیٹھی ہو۔ دل چاہتا ہے تم دونوں بھائی بہن کو اپنے ہاتھوں لحد میں اتار دوں۔ وہ غراتے ہوئے بولا۔ زوفا کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔ شاید وہ یقین یا پھر وہ مان جو اسے سکندر پر تھا کہ وہ اس حویلی کے باقی لوگوں کی طرح اس سے ویسا سلوک نہیں کرے گا۔ مگر اس کے الفاظ کافی تھے اسے لہولہان کرنے کیلئے۔۔۔!!

“آپ بے فکر رہیں میں آپ کے اور حرم کے بیچ کبھی نہیں آؤں گی۔ مجھے اپنی حیثیت کا پتہ ہے۔ حرم آپ کے ساتھ خوش رہے مجھے اور کچھ نہیں چاہئے۔ اس نے متورم آنکھوں سے سکندر شاہ کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ سکندر شاہ کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آ گئی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ ہمیں تمہارے مشورے کی یا اجازت کی کوئی ضرورت ہے؟ شادی تو میں حرم سے ہی کروں گا۔ تمہیں یہ بتانے کا مقصد محض یہ ہے کہ مجھ سے کبھی کوئی امید مت رکھنا۔ صارم شاہ جس روز مل گیا اسی روز اسے پھانسی کی سزا ہوگی اور تمہیں طلاق،،، اور اگر وہ نہ ملا تو زندگی تمہاری اسی حویلی کے زندان میں گزرے گی۔ یہ یاد رکھنا۔ وہ پھنکارتے ہوئے بولا۔ زوفا بس اسے دیکھے جا رہی تھی۔ یہ وہ شخص تھا جس سے اس نے دل کی گہرائیوں سے محبّت کی تھی اور بے غرض محبّت کی تھی۔ جس کی سلامتی کی دعا وہ اپنی ہر نماز میں کیا کرتی تھی۔ جس کی قدموں کی دھول سے بھی اسے عشق تھا۔ اور آج اس کے منہ سے اپنے لئے ایسے الفاظ سن کر اس کا دل کسی نے ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے نا دل میں بسنے والوں کے منہ سے یوں روح کو چیر دینے والے الفاظ سننا!
وہ بات ختم کر کے وہاں سے چلا گیا تھا مگر وہ بت کی مانند وہیں کھڑی دروازے پر نظریں جمائے ہوئی تھی۔ بے اختیار اس کے لبوں سے ایک سسکی برآمد ہوئی اور پھر جیسے آنسوؤں پر اس کا اختیار ہی نہ رہا۔
سکندر شاہ کے نفرت انگیز الفاظ اس کے کانوں میں ابھی بھی گونج رہے تھے۔ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ شدت سے آج اپنے دل کی موت پر ماتم کناں تھی۔

“آپ نے واقعی آج مجھے جیتے جی لحد میں اتار دیا ہے سکندر سائیں۔۔۔ میں ختم ہو گئی ہوں مکمل ختم!! اذیت سے سوچتے ہوئے محبتوں میں گندھی وہ لڑکی سر سے لے کر پاؤں تک اشکبار تھی۔

سلگتی تلخ باتوں سے بڑے بے درد ہاتھوں سے، لو دیکھو ہار دی تم نے محبّت مار دی تم نے!!! 💛💛💛💛💛

پورے راستے و نیند کی گہری آغوش میں ہوش و خرد سے بیگانہ ہوئی پڑی تھی۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب وہ مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے۔

“لگتا ہے کوئین الزبتھ کا آج اٹھنے کا کوئی نہیں ارادہ ہے! میر سالار کی کرخت آواز پر وہ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی تو احساس ہوا اس کا سر اس کے کندھے سے ٹکا ہوا تھا۔ اس کی خود پر جمی نظروں پر وہ بے طرح شرمندہ ہو گئی۔ پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہو گئے تھے۔

“سائیں ک کیا ہم آ گئے ہیں؟ وہ اپنی جھینپ مٹانے کو پوچھ بیٹھی۔ وہ جو گاڑی کا ڈور کھولنے لگا تھا پلٹ کر اسے دیکھا۔ انداز تلملاہٹ سے بھرپور تھا۔
“جی بالکل؛ مگر آپ کے ہوش و حواس سلامت ہوں تو خبر ہو آپ کو! وہ ایک بار پھر اس کی بیہوشی بھری نیند پر چوٹ کرتا بولا۔ اس بار وہ گڑبڑا کر بنا کچھ کہے خود بھی ڈور کھول کر باہر نکل آئی۔

میر سالار سے زرا پیچھے وہ آہستہ قدموں سے چلتی اندر کی جانب بڑھی۔ یہ ایک فلیٹ نما بے حد خوبصورت گھر تھا۔ وہ اطراف کا جائزہ لیتی ہوئی اپنے دھیان میں چلتی جا رہی تھی کہ اچانک وہ پلٹا اور وہ اس کے چوڑے سینے سے ٹکرا گئی۔ مِرحا کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئ۔ لمحے کے ہزارویں حصّے میں اس نے میر سالار سے الگ ہونا چاہا مگر اس نے اسے بازوؤں میں مضبوطی سے بھینچ کر ٹھوڑی سے پکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔

“اوپر والے نے تمہیں یہ جو بڑی بڑی بٹن جیسی آنکھوں سے نوازا ہے۔ شاید تمہیں اس کا استعمال کرنا نہیں آیا اب تک! کیوں صحیح کہہ رہا ہوں نا؟ وہ اس کی کاجل سے بھری پھیلی ہوئی دلکش آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔ وہ بنا کچھ بولے محض پلکیں جھپکا کر رہ گئی۔

“واؤ کیا رومینٹک سین ہے؛ اچانک کسی نسوانی آواز پر دونوں چونک کر اس جانب متوجہ ہوئے تو مِرحا ایک جھٹکے سے سالار سے علیحدہ ہوئی مگر اس کی پھیلی آنکھیں اب اور بھی پھیل کر گویا پھٹنے کے قریب ہو گئیں۔
وہ جو کوئی بھی تھی بہت ہی پیاری مگر کافی بولڈ ڈریس میں تھی۔ مرحا نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے میر سالار کو دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات پتھر کی طرح سخت ہو گئے تھے۔ وہ ایک بار پھر ناسمجھی سے اس لڑکی کی جانب دیکھنے لگی جو بڑی دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجائے میر سالار کو دیکھ رہی تھی۔

جاری و ساری ہے