No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وفا کے قید خانے میں
سزائیں کب بدلتی ہیں!!
بدلتا دل کا موسم ہے
ہوائیں کب بدلتی ہیں!!
میری ساری دعائیں تم سے ہی
منسوب ہے ہم دم
محبّت ہو اگر سچّی
دعائیں کب بدلتی ہیں!!
کوئی پا کر نبھاتا ہے
کوئی کھو کر نبھاتا ہے
نئے انداز ہوتے ہیں
وفائیں کب بدلتی ہیں!!
میر سالار کی نظروں کے تقاضوں پر وہ بری طرح سٹپٹا گئی پھر چور نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھا۔ شبانہ بی کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ وہ دل ہی دل میں ان کے جلد آنے کی دعا مانگنے لگی سالار دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے اس کی کیفیت سے بھرپور لطف اندوز ہو رہا تھا۔
“آپ ایسے ہی دیکھتے رہے تو میں کھانا کیسے کھاؤں گی؟ اس کی معنی خیز نگاہوں پر وہ منہ پھلا کر بولی تو وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
“تو تمہیں کس نے کہا ہے کہ اس قدر اچھی لگو؟ اب ظاہر ہے مسز، جب ایسی دکھو گی تو کس کافر کو پاگل کتے نے کاٹا ہوا ہے!! وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مخمور لہجے میں بولا تو مرحا کا چہرہ مزید بلش کرنے لگا۔
“سائیں میں آج اماں کے ساتھ سو جاؤں؟ پھر میں چلی جاؤں گی تو کہاں اتنی جلدی ان سے ملنا ہو گا۔۔۔؛ وہ میر سالار کے قریب آ کر اس کے کندھے پر پڑی شال سے کھیلنے لگی۔
“سو جاؤ، مگر یہ رعایت بس آج کیلئے ہی ہے،، میر سالار نے نرمی سے اس کی بے داغ پیشانی پر اپنا لمس چھوڑا تو وہ اس کے اجازت نامے پر بے طرح خوش ہو گئی، ساتھ ہی اس نے زوفا کے سر و سامان کے متعلق بات کی تو سالار نے فارم ہاؤس فون ملا کر موبائل اسے تھما دیا، اس نے ملازمہ کو اچھی طرح سے سمجھا دیا۔ ساتھ ہی میر سالار نے ڈرائیور کے یہاں کال ملا کر اسے ایس۔پی حسن کے گھر کا ایڈریس بتا دیا۔ مرحا نے اب جا کر گویا اطمینان کا سانس لیا۔
اسی اثناء میں شبانہ بی کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوئیں، مرحا اچھل کر اس سے قدرے فاصلے پر ہوئی۔ شبانہ بی سامنے میر سالار کو کھڑا دیکھکر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئیں۔
“میر سائیں، بیٹھیں نا کھڑے کیوں ہیں؟ وہ کھانے کی ٹرے چھوٹی سی اسٹول پر رکھتی ہوئی عاجزی سے بولیں۔
“نہیں اب میں چلتا ہوں، دراصل میں مرحا کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ آپ بتائیں کیا حال ہے؟ میر سالار نے سہولت سے انکار کرتے ہوئے ان کی خیریت پوچھی
“رب سوہنے کا شکر ہے سائیں؛ شبانہ بی انکساری سے بولیں۔
“اچھی بات ہے، اوکے میں چلتا ہوں آپ دونوں خواتین باتیں کریں۔ وہ ایک نظر گھڑی پر جبکہ دوسری گہری نظر خود کی جانب دیکھتی مرحا پر ڈال کر وہاں سے نکل گیا۔ اس کے انداز پر مرحا ہولے سے مسکرا دی ساتھ ہی کھانے سے بھرپور تناول فرماتے ہوئے شبانہ بی سے دنیا جہاں کی باتوں میں مصروف ہو گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️
ایک مکمل اور بھرپور نیند لے کر جب وہ اٹھی تو سر سے لے کر پاؤں تک خود کو فریش فریش سا محسوس کر رہی تھی۔ وہ بی جان کے کمرے میں آئی تو وہ بھی جاگ چکی تھیں۔ آنکھیں بند کئے تسبیح کے دانے گراتے ہوئے وہ پوری طرح سے خود میں محو تھیں۔ زوفا نے احترام سے سلام کیا تو اس کی آواز پر انہوں نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور شفقت سے مسکرائیں۔ وہ بھی دھیمی سی مسکراہٹ کیساتھ ان کے قریب ہی ٹک گئی۔
“بیٹا تمہاری نیند میں کوئی خلل تو نہیں پڑا نا؟ ٹھیک طرح سے نیند تو آئی تمہیں نا؟ انہوں نے محبّت سے سوال کیا۔
“بالکل بی جان، سچ کہوں تو بہت سکون بھری نیند آئی مجھے، فریش سا فیل کر رہی ہوں خود کو!! وہ آسودگی سے بولی تو بی جان دل سے مطمئن ہوئیں۔
جبھی ملازمہ چائے اور گرم پکوڑوں کے ساتھ حاضر ہو گئی۔ وہ بی جان کے ساتھ نرم گرم سے پکوڑوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے چائے پینے لگی۔
“بی جان ایک بات بتائیں، آپ اس گھر میں تنہا کیوں ہیں؟ میرا مطلب ایسا کون سا حادثہ پیش آیا تھا کہ جس نے آپ کے اپنوں سے آپ کو جدا کر دیا؟ زوفا نے کمرے میں نظریں دوڑاتے ہوئے وہاں کے گوشے گوشے میں بسی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔
“کیا بتاؤں بیٹا، قدرت کے فیصلے کے آگے انسان مکمل بے بس بوتا ہے۔ میرا اکلوتا بیٹا مراد آج سے دس سال قبل اپنی بیوی کے ہمراہ ایک کار ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہو گیا۔ اس صدمے نے میری کمر توڑ ڈالی۔ مگر میں نے ہمت کی کیونکہ اگر میں خود کو نہ سنبھالتی تو حسن کا خیال اور اس کی دیکھ بھال کون کرتا۔ حسن کے دادا تو مراد کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ چاہے ہزار مشکلیں درپیش ہوں مگر میں حسن کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گی۔ اللّہ کا کرم کہ اس نے اتنا نوازا تھا کہ مجھے اپنے پوتے کی پرورش میں کبھی کوئی دقت پیش نہ آئی، ہاں بس ایک بے سکونی کا سبب بس میری تنہائی ہی تھی۔ پھر حسن جب ایس۔پی کے عہدے پر فائز ہوا تو اس دن میری خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا۔ میں تو یہ چاہتی تھی کہ وہ جلد از جلد شادی کر کے اپنا گھر بسا لے تا کہ میری بھی تنہائی دور ہو مگر وہ ہر بار ٹال جاتا تھا، خیر اب بھی اس کا یہی حال ہے۔ اور آج اللّٰہ کے کرم سے میری تنہائی تمہارے توست سے دور ہو گئی بیٹا!! بی جان بتاتے بتاتے آبدیدہ ہو گئیں۔ زوفا کو بھی حقیقتاً یہ سب کچھ سن کر دکھ پہنچا تھا۔ واقعی انسان کتنا بے بس ہے اس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے، جان سے پیارے لوگوں کا بچھڑنا بھی رو دھو کر قدرت کے فیصلے کے آگے قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔!!! اس تکلیف سے تو وہ بھی گزری تھی بھلا وہ کیسے بھول سکتی تھی!! سوچتے ہوئے وہ یاسیت زدہ سی ہو گئی۔
“بیٹا تو جا زرا باہر لان میں چہل قدمی کر آ، شام کے وقت بہت اچھا لگتا ہے وہاں۔۔!! بی جان کی آواز پر وہ چونک سی گئی۔
“آپ بھی چلیں بی جان!! اس نے چائے کا کپ ٹرے میں رکھ کر انہیں سہارا دے کر اٹھانا چاہا۔
“ارے نہیں بیٹا! میں ٹھیک ہوں، بس ایک اور تسبیح پڑھنی ہے تم چلی جاؤ کوئی بات نہیں! انہوں نے اس کا گال نرمی سے سہلایا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر باہر نکل آئی۔
لان کا منظر واقعی میں دل کو موہ لینے والا تھا۔ آسمان پر نارنجی رنگ اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوائیں چہرے کو چھو کر دل و دماغ کو ایک عجیب سا سرور بخش رہی تھیں۔وہ ننگے پاؤں گھاس پر چہل قدمی کرنے لگی۔ نرم نرم گھاس پیروں کو چھو کر دماغ کو عجب تازگی بخشنے لگی۔ وہ خود میں کھوئی ادھر سے ادھر چکر کاٹنے میں مصروف تھی۔
“اسلام وعلیکم، گھمبیر آواز پر وہ جو خود میں ہی گم تھی اچھل پڑی۔ نظر اٹھائی تو سامنے حسن کو کھڑا پایا۔
“وعلیکم السلام، مختصر جواب دیتے ہوئے وہ خفیف سی نظر جھکا گئی۔
“کیا ہو رہا ہے؟ آپ یہاں پرسکون تو ہیں نا؟ وہ شگفتگی سے پوچھنے لگا۔
“جی الحمدللہ، زوفا نے آہستگی سے جواب دیا۔
بیٹھیں! وہ لان میں موجود چئیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ایک چئیر پر بیٹھ گیا۔ زوفا بھی خاموشی سے کرسی پر ٹک گئی۔
“موسم اچھا ہے نا؟ اس نے آس پاس کے مناظر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ہممم؛ زوفا نے ہاتھوں کی انگلیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے محض “ہممم؛ سے کام چلایا۔
“ایک بات بتائیں زوفا! حسن کے کہنے پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“آپ شروع سے ہی کم بولتی ہیں یا اب کم کر دیا ہے؟ ایس۔پی حسن نے اس کے مختصر جوابات پر چوٹ مارتے ہوئے کہا۔
“نہیں تو، ایسی تو کوئی بات نہیں؛ اس بار خیال آنے پر وہ قدرے خفت سے بولی۔
“تو پھر ایسی نہیں تو کسی بات ہے؟ حسن نے شوخی سے پوچھا تو وہ کچھ جھینپ سی گئی۔
“میں تو اسی بات سے مطمئن ہوں کہ آپ کے یہاں آنے سے بی جان کی تنہائی میں کمی آ گئی ہے۔ یہ یقیناً خوش آئیند بات ہے۔ آپ فکر نہ کریں وہ وقت بھی آئے گا جب آپ کی اپنے گھر والوں سے ملاقات ہو گی۔ میں جانتا ہوں آپ اس جانب سے بھی فکرمند ہیں! ایس۔پی حسن نے اس کا حسین چہرہ نگاہوں کی گرفت پر رکھتے ہوئے اسے تسلی دی۔
“مگر میں جب تک سکندر سائیں کے نکاح میں ہوں یہ ناممکن ہے۔ جو بھی ہے مگر میں ہمیشہ تو یہاں نہیں رہ سکتی نا! آج یا پھر کل مجھے چھوٹی حویلی تو جانا ہی ہے نا! وہ اپنی نم آواز پر بمشکل قابو پاتے ہوئے بولی تو ایس۔پی حسن گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“آپ فکر کیوں کرتی ہیں؟ سالار جو کرے گا آپ کے حق میں بہتر ہی ہوگا، دوسری بات آپ بالکل یہاں رہ سکتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے چھوٹی حویلی جانا ہی نہیں ہے بیشک جائیں مگر آپ یہاں “بھی؛ رہ سکتی ہیں! اگر آپ چاہیں تو!! وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔ لہجہ زومعنی تھا۔
زوفا الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا تھا۔
“مطلب؟ سوری میں کچھ سمجھی نہیں! اس نے نا سمجھی کے تاثرات سمیت کہا تو ایس۔پی حسن کے ہونٹوں پر ایک محضوظ سی مسکراہٹ آ گئی۔
ان دی فیوچر آپ اس کا مطلب بھی سمجھ جائیں گی؛ ابھی تو آپ اس خوبصورت موسم کو انجوائے کریں۔ پھر ملاقات ہو گی۔۔۔،، وہ اس کی توجہ دوسری جانب مرکوز کراتا اٹھ کھڑا ہوا اور ہنوز اس کے الجھے تاثرات سے لطف اندوز ہوتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ پیچھے زوفا بھی سر جھٹک کر دوبارہ سے موسم کی رعنائیوں میں کھو گئی۔
🌸🌸🌸🌸🌸
وہ نصفِ شب تک شبانہ بی کے ساتھ باتوں میں مصروف رہی پھر ہی کہیں جا کر سوئی۔ صبح شبانہ بی نے اسے فجر کی نماز کیلئے جگایا تو وہ اٹھی نماز ادا کرنے کے بعد حویلی آ گئی جہاں حسبِ معمول آہستہ آہستہ ملازمین کی آمد شروع ہو چکی تھی۔
وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گئی۔ کمرے کا دروازہ اندر سے لاک نہیں تھا سو وہ باآسانی اندر داخل ہو گئی۔ ایک محتاط سی نظر اس نے بے خبر سوئے میر سالار پر ڈالی اور فریش ہونے کی غرض سے کپڑے لئے واشروم میں گھس گئی۔
تقریباً دس سے پندرہ منٹ کے بعد وہ اپنے ہی دھیان میں تولئے سے لمبے بالوں کو رگڑتی گنگناتی ہوئی باہر نکلی اور ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس پل وہ کمرے میں میر سالار کی موجودگی مکمل فراموش کر چکی تھی۔
خود میں مگن وہ گیلے بالوں میں کنگھی کرنے کو ہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اسے اپنے مضبوط حصار میں جکڑ لیا۔ وہ بوکھلا کر ہوش میں آئی تو ساتھ ہی سب کچھ یاد آ گیا۔ اس نے آئینے میں دراز قامت کھڑے اس شخص کو دیکھا۔ میر سالار نے بے خودی سے اس کے گال سے اپنا گال رگڑا تو وہ چھوئی موئی سی ہو گئی۔
“کیا بات ہے مسز؟ صبح صبح ہی میرے ہوش اڑانے کا سامان کئے بیٹھی ہیں آپ۔ اٹس ناٹ فئیر یار! وہ شرارتًا بولا تو وہ اسے آنکھیں پھیلا کر دیکھنے لگی۔
“سائیں صبح ہو گئی ہے! وہ اس کا حصار توڑنے کی کوشش کرنے لگی مگر سالار نے مزید اسے خود میں بھینچ لیا۔
“ظاہر ہے ہر رات کے بعد صبح ہی ہوتی ہے۔ اس میں کیا نیا ہے؟ وہ اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے بولا۔
“میرا مطلب، صبح ہو گئی ہے نیچے چلیں! وہ منمنا کر بولی۔ صبح صبح ہی اس کی وارفتگی کے اس مظاہرے پر اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے۔
“نہیں تم نیچے سب کے ساتھ ناشتہ نہیں کرو گی۔ فلحال میں نہیں چاہتا کہ صبح صبح پھر سب کی عزت افزائی میرے ہاتھوں ہو۔ سو تمہارا ناشتہ میں کمرے میں ہی ملازمہ کے ہاتھوں بھیج رہا ہوں۔ باقی میں وہیں سے اس کام سے نمٹ کر ڈیرے پر جا رہا ہوں! آئی ہوپ آج شام تک ڈرائیورس پیپرز مجھے دستیاب ہو جائیں! وہ اس کا سر ہولے سے چوم کر اب کی بار سنجیدگی سے گویا ہوا۔
“لیکن میں ایک دفعہ بات کرنا چاہتی ہوں، میرا مطلب حرم بی بی وغیرہ سے، ہو سکتا ہے ان کے دل میں میرے لئے کچھ گنجائش پیدا ہو جائے پلیز!! مرحا نے اپنا رخ اس کی جانب کرتے ہوئے اس کے سینے سے سر ٹکا لیا۔
“ہرگز نہیں مرحا، یہ میرا حکم ہے۔ تم ان سب کے آگے نہیں جھکو گی۔ میں بخوبی ان کا مقصد سمجھتا ہوں۔ ان کا مقصد محض تمہیں جھکانا و خود سے کمتر دکھانا ہے اور یہ مجھے قطعی منظور نہیں ہے۔انہیں تمہیں قبول کرنا ہے تو خوشی خوشی اور اپنی رضامندی سے کریں وگرنہ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی؛ میر سالار نے دو ٹک لہجے میں کہا تو ناچار اس نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
“اچھا اب تم ریلیکس کرو، میں نیچے جاتا ہوں تو ملازمہ سے تمہارا بریک فاسٹ یہی لانے کو کہتا ہوں! اس کے گال پر اپنا بھرپور لمس چھوڑتے ہوئے وہ وارڈروب کی جانب بڑھ گیا۔ مرحا دھیمے سروں میں گنگناتی ہوئی واپس آئینے کی جانب متوجہ ہو گئی۔
🧡🧡🧡🧡🧡
بڑی حویلی میں سکندر و حرم کی شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ حرم سمیت سائرہ بیگم حفضہ بیگم کے ہمراہ بازار گئی ہوئی تھیں۔ مورے بھی زور و شور سے فل فارم میں آ چکی تھیں، البتہ بہوئیں خاص طور پر حفضہ بیگم کا رویہ مورے کے ساتھ سرد سا تھا۔ جبکہ وہاج شاہ کا موڈ کچھ اکھڑا اکھڑا سا تھا وجہ ان کے بیٹوں کا سرد رویہ تھا جو حقیقت کے آشکار ہونے کے بعد انہوں نے وہاج شاہ سے رکھا ہوا تھا۔ وہاج شاہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ میر سالار کو کچا ہی نگل جائیں۔ آخر ان کے تمام کھیل کو ملیامیٹ کرنے والا میر سالار ہی تو تھا۔ وہ اندر ہی اندر کڑھ رہے تھے۔
دوسری جانب سکندر اور حرم کی خوشی کا کوئی سرا ہی نہ تھا۔ سکندر شاہ کو ایک بھی دفعہ بھولے سے بھی زوفا کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا خیال نہیں آیا تھا۔ اس کی خود غرضی اسے کچھ اور سوچنے ہی نہیں دے رہی تھی۔ دوسری جانب حرم کے قدم تو پہلے زوفا سے جان چھوٹ جانے پر زمین پر ہی نہ پڑ رہے تھے اب تو خیر بات ہی الگ تھی۔ وہ ہواؤں میں اڑتی پھر رہی تھی۔
شام کا وقت ہو چکا تھا۔ پرندے اپنے اپنے نشیمنوں کی جانب لوٹنے کو تھے۔ سکندر شاہ ڈیرے پر بیٹھا وہاں موجود آدمیوں کو کل کیلئے کچھ ہدایات دے رہا تھا کہ وہاں میر سالار چلا آیا۔
“ارے سالار آؤ بیٹھو! سکندر نے گرمجوشی سے کہا تو میر سالار سنجیدگی سے اسے دیکھتا وہیں چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں موجود پیپرز کو سکندر نے ایک نظر دیکھا پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“میں یہاں جس مقصد کیلئے حاضر ہوا ہوں امید ہے وہ پورا ہو گا۔ سو بنا کسی تمہید کے مطلب کی بات پر آتا ہوں۔ مجھے آج ڈائیورس پیپرز موصول ہو گئے ہیں۔ بلکہ کچھ دیر پہلے۔ یہ ایک تسلی بخش بات ہے۔ اب تم خاموشی سے اس پر سائن کر دو سکندر! اس نے پیپرز سکندر کی جانب بڑھاتے ہوئے دو ٹک انداز بات کی۔
“سالار میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں! سکندر نے پیپرز تھامتے ہوئے ان پر نظریں دوڑائیں۔
“جلدی پوچھو، وقت نہیں ہے میرے پاس؛ میر سالار نے سرد مہری سے کہا۔ ویسے بھی اسے سکندر شاہ کی بزدلی سے چڑ ہوتی تھی۔
“جب دادا سائیں نے ان آدمیوں کو بھیجا تو وہ ناکام لوٹ آئے خیر تمہیں اس بابت پتہ چل گیا تو ہو سکتا ہے اس وجہ سے ان کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ مگر تم یہ بتاؤ کیا واقعی زوفا فارم ہاؤس پر ہی موجود ہے یا کہیں اور؟ سکندر شاہ نے کچھ جھجھکتے ہوئے ہوچھا تو میر سالار کے چہرے پر طنزیہ تاثر ابھر آیا۔
“مسٹر سکندر شاہ، میرے خیال میں آپ کا اس سارے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بہتر ہوگا اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے نہایت خاموشی سے آپ ابھی یہ کام انجام دیں جو کہ نہایت اہم ہے۔ میر سالار نے پیپرز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے استہزائیہ لب و لہجے میں کہا تو سکندر شاہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
“یہ مت بھولو سالار کہ وہ ابھی بھی میرے نکاح میں ہے۔ وہ کہاں ہے یہ جاننے کا حق ابھی بھی رکھتا ہوں میں! سکندر شاہ نے اپنا غصہ بمشکل دبا کر دبی دبی آواز میں کہا۔
“اور تم یہ بھولے سے بھی مت بھولو کہ اسے اپنے نکاح میں رکھتے ہوئے بھی تم نے کبھی اسے بیوی کا درجہ نہیں دیا تو اب یہ غور و فکر فضول و بے معنی ہے۔ تم خاموشی سے سائن کرو! میر سالار نے سلگ کر کہتے ہوئے پین اس کے ہاتھ میں پکڑایا تو سکندر شاہ چپ کا چپ رہ گیا۔
