Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Last Episode)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

موسم بدلا ساتھ میں رشتے بدلے ہادی اور نیلم کی محبت دن بہ دن بڑھتی گئی۔۔

ولیمہ کے اگلے ہی دن وہ رومانیہ چلے گئے تھے اپنے ہنی مون کیلئے کیونکہ وہ نیلم کی پسندیدہ جگہ تھی اور ہادی سب کچھ ہی نیلم کی پسند کا کرتا آیا تھا۔۔

پھر اسکے بعد وہ لوگ استنبول چلے گئے 4 ماہ کیلئے ہادی کا وہاں کوئی پراجیکٹ چل رہا تھا اور کچھ دن پہلے ہی وہ لوگ واپس پاکستان آئے تھے۔۔

سب گھر والے ان سے بہت پرجوش ہوکر ملے۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

پھر وجاہت اور ہانیہ کی زندگی میں بھی وہ دن آیا جب انکی دوسری اولاد اس دنیا میں آنے لگی۔۔

وجاہت لیبر روم کے باہر کھڑا اپنی سن شائن اور اپنے ہونے والے بچے کیلئے دل ہی دل میں دعائیں کر رہا تھا۔۔

پچھلے 4 گھنٹوں سے ہانیہ لیبر روم میں تھی اور اب تک کوئی خبر نہیں آئی تھی۔۔

آپریشن سے ہانیہ نے صاف منع کر دیا تھا۔۔

وجاہت کے ساتھ اس وقت اسکی مام اور نیلم تھیں ہادی تھوڑا دور کھڑا تھا اور گھر پر شان صاحب اور دادو بھی ہانیہ کیلئے دعاگو تھے

حور کو شان صاحب سنبھال رہے تھے ویسے بھی اب وہ ڈیڑھ سال کی تھی اور دوسرے بچوں سے کافی سمجھدار تھی۔۔

اپنی پرانی عادتوں کے مطابق آج بھی وہ کسی کو تنگ نہیں کرتی تھی بس اپنے کھیل میں لگی رہتی تھی بھوک لگتی تھی تو کبھی رو جایا کرتی تھی ورنہ تو اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں ہی سب کو اپنی طرف متوجہ رکھتی تھی۔۔

ڈاکٹر باہر آئیں تو وجاہت انکی طرف بڑھا ۔۔ ڈاکٹر میری وائف ٹھیک ہیں نہ۔۔ ایک انجانا ڈر تھا وجاہت کے دل میں جسے وہ نہ کسی کو بتا پارہا تھا نہ چھپا پارہا تھا۔۔

جی وہ مبارک ہو اللہ نے آپکو نعمت سے نوازا ہے بیٹا ہوا ہے اور وہ بھی صحت مند اللہ کے کرم سے۔۔

سب لوگ یہ سنتے ہی خوش ہوگئے مگر وجاہت کے چہرے پر اب بھی پریشانی تھی۔۔

ڈاکٹر میں نے اپنی وائف کا پوچھا ہے وہ ٹھیک ہے نہ۔۔

دیکھیں وجاہت صاحب آپ کی وائف بہت ویک تھیں اسی لئے ہم نے انہیں آپریشن پریفر کیا تھا مگر ان کی ضد تھی کہ وہ آپریشن نہیں کروائیں گی تو۔۔

ڈاکٹر نے بولتے ہوئے تو پر سانس لیا تو وجاہت کو ایسا لگا جیسے اسکا سانس بند ہونے لگا ہے۔۔

تو کیا۔۔ وجاہت کی آواز کافی تیش بھری اور بلند تھی۔۔

تو یہ کہ وجاہت صاحب آپکی وائف تھوڑی کریٹیکل ہیں مگر ڈاکٹرز انکے پاس ہیں وہ جلد ہی ٹھیک ہوجائیں گی۔۔

ڈاکٹر نے ہڑبڑاتے ہوئے بات ختم کی وہ وجاہت کو کئی مہینوں سے جانتی تھیں وہ ڈاکٹر ناز کی اسسٹنٹ تھی اور ہمیشہ انہوں نے وجاہت کا دھیما نیچر ہی دیکھا تھا۔۔

ڈاکٹر ناز کہاں ہیں مجھے ان سے ملنا ہے۔۔ وجاہت نے ضبط سے کہا اور آواز بھی تھوڑی نیچی رکھی مگر اسکے لہجے میں سختی تھی جسے وہ کنٹرول نہیں کر پارہا تھا۔۔

ڈاکٹر شکر مناتے ہوئے منظر سے فوری غائب ہوئی چند منٹ بعد ڈاکٹر ناز بے بی کو ہاتھوں میں لئے باہر آئیں تو سب سے پہلے انہوں نے اسے وجاہت کو تھمایا۔۔

وجاہت نے اس ننھی سی جان کو اپنے ہاتھوں میں لے کر پیار کیا تو دیکھا اسکا بیٹا اسے ہی دیکھ رہا ہے۔۔

اسی پل وجاہت کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرا تو دوسری طرف ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔

مگر ہانیہ کے بارے میں سوچ کر اسنے اپنا بیٹا اپنی مام کو دیا اور ڈاکٹر ناز کی طرف متوجہ ہوا

بے بی کو دیکھ کر نیلم اور ہادی بہت خوش تھے ہادی نے گھر پر فون کر کے خوش خبری دی۔۔

ڈاکٹر۔۔ ہانیہ؟؟ میری ہانیہ۔۔؟؟

وجاہت نے ڈاکٹر ناز سے پوچھا۔۔ دیکھو وجاہت بیٹا ہانیہ ٹھیک ہے مگر اسے ہم انڈر آبزرویشن رکھیں گے فکر نہ کرو اور اللہ سے دعا کرو کہ سب ٹھیک ہوجائے۔۔ تھوڑی دیر میں ہم اسے روم میں شفٹ کر دیں گے تو اس سے مل لینا مگر ڈسچارج ہم اسے تب ہی کریں گے جب میں اسکی طبیعت کے حوالے سے مطمئن ہوجاؤ گی۔۔

ڈاکٹر نے وجاہت کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔

نہ جانے کیوں مگر وجاہت مطمئن نہیں تھا ایسی ہی تسلی بھرے جملے اسنے ڈیڑھ سال پہلے بھی سنے تھے مگر پھر۔۔

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میری سن شائن کو کچھ نہیں ہوگا وہ سن شائن ہے میری میں زندگی کا اجالہ میری محبت میری زندگی میری ہر سانس میں بستی ہے وہ جب میں سانس لے رہا ہوں تو وہ بھی لے گی۔۔

وجاہت بڑبڑاتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا پچھلے کئی گھنٹوں سے وہ بیٹھا نہیں مگر ابھی بھی بیٹھنا نہیں چاہتا تھا بس ہانیہ کو دیکھنا چاہتا تھا۔۔

مبارک ہو میرے بھائی بیٹا بہت خوبصورت ہے۔۔ ہادی نے وجاہت کو گلے لگاتے ہوئے کہا تو وجاہت ہلکے سے مسکرا دیا کیونکہ سامنے نیلم کھڑی تھی جو کہ مسلسل وجاہت کے بجھے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔

کیا ہوگیا وجی ۔۔ ہادی نے اسکی پھیکی سی مسکراہٹ دیکھ کے کہا۔۔

کچھ نہیں یار بس ہانیہ سے مل لو ایک بار ۔۔ وجاہت نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔۔

فکر مت کر بھابھی کو کچھ نہیں ہوگا ڈاکٹر نے کہا ہے نہ کہ کچھ دیر میں اسے روم میں شفٹ کر دینگے پھر مل لینا۔۔

ہادی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وجاہت نے دیکھا اسکی مام وہاں نہیں تھیں اور بے بی کو نیلم نے اپنی گود میں لیا ہوا تھا۔۔

مام کہاں ہیں۔۔ وجاہت نے ادھر ادھر دیکھ کے ہادی سے پوچھا۔۔

مام شکرانے کے نفل ادا کرنے گئی ہیں ۔۔ ہادی نے بے بی کا گال سہلاتے ہوئے مسکراہٹ بھری آواز سے کہا۔۔

ہاں مجھے بھی پڑھنے ہیں اور دعا بھی کرنی ہے۔۔ خود سے بولتے ہوئے ہی وجاہت وہاں سے چلا گیا۔۔

یہ کتنا پیارا ہے نہ ہادی۔۔

نیلم نے بے بی کو دیکھ کے ستائش سے کہا۔۔

ہاں بہت پیارا ہے دیکھنا ہمارا بے بی بھی بہت پیارا ہوگا۔۔

ہادی نے پیار سے نیلم کے کان میں کہا۔۔

ہیں ہمارا بے بی کہاں سے آگیا۔۔ نیلم نے ایک دم ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔ ایک نہ ایک دن تو ہوگا نہ اسی لئے کہہ رہا ہوں۔۔ ہادی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

ویسے ہادی کیا ہمیں بے بی پلان کرنا چاہئے نیلم نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔

یہ کیوں کہہ رہی ہو تم؟ ابھی ہماری شادی کو وقت ہی کتنا ہوا ہے ہاں اگر اللہ نے چاہا تو سب سے زیادہ خوش میں ہی ہونگا تب تک مجھے کوئی جلدی نہیں ہے ۔۔

ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔۔

نیلم اسکی بات پر مسکرا دی۔۔ ٹھیک ہے جیسی اللہ کی مرضی۔۔

وہ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک نرس نے آکر بتایا کہ ہانیہ کو روم میں شفٹ کردیا گیا ہے تو نیلم اور ہادی بے بی کو لیکر اسکے پاس چلے گئے تھوڑی دیر بعد عالیہ بیگم بھی ہانیہ کے پاس آگئیں۔۔

تمہارا بہت شکریہ بیٹا اتنا خوبصورت تحفہ دینے کیلئے۔۔ عالیہ بیگم نے محبت سے ہانیہ کو پیار کرتے ہوئے کہا۔۔

وجاہت کہاں ہیں مما۔۔ ہانیہ نے عالیہ بیگم سے پوچھا کیونکہ وہاں وجاہت دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔

بیٹا وہ آتا ہی ہوگا وہ بول ہی رہی تھیں کہ وجاہت کو آتا دیکھا تو مسکرا کے بولیں۔۔

لو آگیا میرا بیٹا۔۔ وجاہت نے ہانیہ کو مسکراتے دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اسکی زندگی اسکی اٹکی سانسیں بحال کردی ہوں۔۔

کیسی ہو تم ۔۔ ہانیہ کے پاس بیٹھتے ہوئے وجاہت نے کہا۔۔

ٹھیک ہوں میں کہاں تھے آپ۔۔ ہانیہ نے مسکرا کے جواب دیا۔۔

عالیہ بیگم نے مسکرا کے ہادی اور نیلم کو اشارہ کیا کہ ان دونوں کو اکیلا چھوڑا جائے ۔۔

نیلم بے بی کو وجاہت کی گود میں دے کر باہر چلی گئی ۔۔

تم نے ہمارا بیٹا دیکھا۔۔ وجاہت نے اپنے بیٹے کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کے کہا۔۔

کہاں کسی نے دکھایا ہی نہیں ۔۔ ہانیہ نے اپنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے ساتھ بیٹھ کر اپنا بیٹا اسکی گود میں دیا۔۔

اپنی اولاد کو گود میں لے کر ہانیہ کے دل کو ڈھیروں سکون ملا۔۔ اور ساتھ میں آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔۔

وجاہت نے پیار سے اسکی کنپٹی کو چوما۔۔ نام رکھو اسکا۔۔ وجاہت نے پیار سے ہانیہ کو کہا۔۔

نہیں میں چاہتی ہوں دادو اسکا نام رکھیں کیونکہ آپ کا نام بھی دادو نے رکھا تھا میں چاہتی ہوں میرا بیٹا بلکل آپ کے جیسا بنے اسی لئے اسکا نام دادو ہی رکھیں گی۔۔

ہانیہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ اپنی انگلی سے پکڑ کے اسے چوم کے کہا۔۔

ٹھیک ہے۔۔ وجاہت نے ہانیہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

3 دن کے بعد ہانیہ کو ڈسچارج کیا گیا تو وجاہت اسے اور اپنے بیٹے کو لے کر عالم ولا میں داخل ہوئے۔۔

گھر میں پہلے سے ہی ہانیہ کے گھر والے موجود تھے۔۔

سب لوگ ان سے بہت پیار سے ملے انکا بیٹا وجاہت کی گود میں تھا تو ہانیہ جیسے ہی لاؤنج میں آئی حور اسے دیکھ کے لپٹ گئی مما کہتے ہوئے اسکی ٹانگ سے ۔۔

نیلم نے ہانیہ کو صوفے پر بٹھایا اور حور کو بھی اسکے ساتھ بٹھا دیا۔۔

میری جان کیسی ہو آپ۔۔ ہانیہ نے حور کو پیار کرتے ہوئے کہا۔۔ تو حور مسکرا دی۔۔

وجاہت نے اپنا بیٹا دادو کی گود میں دیا۔۔ دادو میں اور ہانیہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کا نام آپ ہی رکھیں ۔۔

وجاہت نے نرم لہجے میں کہا تو دادو سرشار سی شان صاحب اور عالیہ بیگم کو دیکھنے لگیں۔۔

انکی آنکھیں نم ہوگئیں اپنے پر پوتے کو دیکھ کے۔۔

میں اسکا نام ماہیر رکھتی ہوں۔۔

دادو کے بولنے پر سبھی لوگ مسکرا دیئے ۔۔

ہانیہ اور وجاہت کو اپنے بیٹے کا نام بہت پسند آیا۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

25 سال بعد۔۔

کہاں ہو نور میں کب سے آوازیں دے رہی تھیں۔۔

حور ہانپتے ہوئے نور اور اپنے مشترکہ کمرے میں آئی۔۔

اپیا میں تیار ہورہی تھی مما نے کہا تھا کہ وقت پر سب ریڈی رہنا باہر کا کام سارا ہوگیا ہے تو میں نے سوچا کہ تیار ہوجاؤ۔۔

نور نے دھیمے لہجے میں مگر لاپرواہی سے کہا۔۔

حور اسکی بات پر مسکرا دی اور اسکی تیاری دیکھنے لگی۔۔

چلو اچھا کیا تیار ہوگئی میں مما کے ساتھ تھیں کھانے کی تیاریاں دیکھ رہی تھیں۔۔ حور نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

اپیا آپ بھی تیار ہوجائیں پارٹی شروع ہوجائے گی اور پھوپھو جان بھی آنے والی ہونگی اور دیکھنا اس بار ہادیہ بھی آئے گی پھوپھو جان اور مسٹر ہینڈسم کے ساتھ ورنہ تو ہمیشہ ہی وہ سڑا ہوا نہال ہی آتا ہے ہمشہ۔۔ نور جہاں ہادیہ کی بات پر خوش تھی وہیں نہال کے بارے میں سوچ کے ہی وہ چڑ گئی۔۔

تم نہال سے اتنا چڑتی کیوں ہو نور۔۔

حور نے اپنا ڈریس ہاتھ میں لے کر کہا جو وہ ابھی پارٹی میں پہننے والی تھی۔۔

اپیا آپ کو نہیں لگتا مسٹر ہینڈسم جتنے ہیپیننگ ہیں ہادیہ جتنی ایکسائٹنگ ہے نیلم پھوپھو جان کتنی سوئٹ ہیں وہ نہال کسی پر نہیں گیا بلکل سڑو ٹائپ بندا ہے ۔۔ نور نے اپنے کانوں میں ائررنگ پہنتے ہوئے کہا۔۔

ہاہاہا۔۔ وہ سڑو نہیں ہے بس خاموش مزاج کا ہے اور سب کہتے ہیں وہ بلکل ہمارے پاپا پر گیا ہے۔۔

بس رہنے دیں اپیا پاپا سے زیادہ زندہ دل انسان کوئی نہیں ہے۔۔

نور تو جیسے نہال کا اپنے پاپا کے جیسا ہونے پر ایک بار پھر چڑ گئی۔۔

پاپا بھی ایسے ہی تھے تب تک جب تک ہماری مما انکی زندگی میں نہیں آئیں تھیں۔۔

دیکھنا نہال بھی بدل جائے گا تم بدل دینا اسے۔۔

حور اپنا سامان لے کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھتے ہوئے بولی اور چلی گئی اسنے نور کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھے تھے۔۔

ہیں کیا واقعی میں نہال کو بدل سکتی ہوں ۔۔

نور سوچتے ہوئے وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی اور اپنا ٹیڈی بئیر جو کہ اسکے پاپا نے اسے دیا تھا جسے وہ رات میں ساتھ لے کر سوتی تھی اسے زور سے بھینچے سوچنے لگی۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ماہیر کے پیدا ہونے کے 4 سال بعد اللہ نے وجاہت اور ہانیہ کو ایک اور بیٹی سے نوازا۔۔

ہانیہ جانتی تھی وجاہت اپنی دوست نور کو بھولنا نہیں چاہتا تو اپنی بیٹی کا نام اسنے نور ہی رکھا گھر والوں نے تھوڑا اعتراض کیا مگر وجاہت ہانیہ کی سوچ جان کر بہت خوش ہوا۔۔

اب جہاں اسکا ایک سمجھدار اور سلجھا ہوا بیٹا تھا اب وہیں اسکی دو پریاں تھیں جن میں وجاہت کی جان بستی تھی۔۔

وقت کے ساتھ ساتھ وجاہت نے اپنے آپ کو بدلہ اپنے بچوں کیلئے اور اپنی سن شائن کیلئے۔۔

اپنا غصہ تیش وہ کافی حد تک ختم کرچکا تھا مگر آج بھی جہاں بات اسکی سن شائن یا اسکے گھر والوں کی آئے تو اسے ایول بننے میں وقت نہیں لگتا تھا۔۔

تیار ہوگئے آپ۔۔ ہانیہ کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا وجاہت ڈریسنگ مرر کے سامنے خود پر پرفیوم اسپرے کر رہا تھا۔۔

کہاں تھیں تم۔۔ وجاہت نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔۔

مجھے کہاں جانا ہے یہیں تھیں تیاریاں دیکھ رہی تھی ہانیہ وجاہت کے قریب آکر اسکے کوٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔

میں ایک گھنٹے سے تمہارا کمرے میں انتظار کر رہا تھا کہا بھی ہے کہ اتنی دیر میری نظروں سے اوجھل مت ہوا کرو۔۔

ہانیہ بس وجاہت کی بات پر مسکرا دی ایسے باتوں کا وہ جواب صرف مسکرا کر ہی دیتی تھی کیونکہ جتنے جواب دو وجاہت اتنے ہی سوال کرتا تھا۔۔

ویسے میری پریاں کہاں ہیں۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔

آپ کی پریاں اپنے روم میں ہیں نور کو میں نے زرا سا کہا تھا کہ وقت پر تیار ہوجانا وہ تو ایسے بھاگی سارے کام چھوڑ کر کہ کیا بتاو بیچاری میری حور ہی میرے ساتھ لگی رہتی ہے۔۔ پتہ نہیں یہ نور کس پر چلی گئی ایک نمبر کی موڈی ہے اور آپ نے بھی اسے کچھ زیادہ ہی سر چڑھایا ہوا ہے چھوٹی ہے تو کیا ہوا میری حور اور ماہیر بھی تو ہیں مجال ہے کبھی تنگ کیا ہو مجھے۔۔

ہانیہ بولنے پہ آئی تو بولتی گئی۔۔ وجاہت محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر جھک کر اسکی بولتی بند کردی۔۔

یہ کیا ہے۔۔ وجاہت کو دور کرکے ہانیہ نے اسے غصے سے دیکھا۔۔

تم ایسے بولتے ہوئے بہت پیاری لگتی ہو۔۔ وجاہت نے گہری نظروں سے اپنی زندگی کو دیکھا۔۔

آپ شاید بھول رہے ہیں کہ دروازہ کھلا ہوا ہے اور کوئی دیکھ لیتا تو۔۔ ہانیہ نے ناراضگی سے کہا۔۔

دیکھ لیتا تو دیکھ لینے دو میں نے اپنی بیوی کو پیار کیا ہے کسی غیر کو تو نہیں۔۔ وجاہت نے مسکرا کے کہا۔۔

شرم کریں تھوڑی اپنی عمر دیکھیں اور حرکتیں دیکھیں۔۔ ہانیہ نے بے نام سی کوشش کی وجاہت کو شرم دلانے کی مگر وجاہت کو کہاں شرم آنی تھی۔۔

تم مجھے اپنے قریب آنے سے نہیں روک سکتی سن شائن تم میری ہو میں تمہارا بس یہ سمجھ لو اور یوں شرمانا بھی چھوڑ دو ہمارے بچے جوان ہوگئے تو کیا ہم ایک دوسرے سے محبت کرنا چھوڑ دیں۔۔

وجاہت نے اب کے تھوڑا سنجیدگی سے کہا تو ہانیہ اسے دیکھے گئی۔۔

وجاہت ابھی فیفٹیز میں تھا مگر دیکھنے میں وہ آج بھی جوان ہی لگتا تھا ۔۔ کسرتی جسم سرخ و سفید رنگت بھورے بال اور بھوری گہری ڈاڑھی جو کہ ہمیشہ سے ہی وجاہت کے چہرے کی زینت تھیں۔۔ مگر اب زرا چاندی چمکنے لگی تھی اسکے بالوں میں جو کہ وجاہت کی شخصیت کو اور خوبصورت بنا رہی تھی۔۔

آج ماہیر اور وجاہت نے ایک جیسا ہی تھری پیس سوٹ پہنا تھا سیاہ رنگ کا۔۔

ماہیر بلکل وجاہت کی ڈٹو کاپی تھا تو کوئی بھی وجاہت کو ماہیر کا پاپا نہیں مانتا تھا بلکہ سب اسے اسکا بڑا بھائی سمجھتے تھے۔۔

میں آج ساڑھی پہنو گی میرے بیٹے نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے میرا جو دل کرے گا وہ پہنو گی۔۔

ہانیہ نے وارڈراب سے اپنی ساڑھی نکالی تو وجاہت اسے گھورنے لگا۔۔

وجاہت آج بھی ہانیہ کو ساڑھی پہننے سے منع کرتا تھا۔۔ نہیں کچھ اور پہن لو۔۔ وجاہت نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔

ہانیہ کچھ کہتی کہ اتنے میں دروازہ ناک ہوا۔۔

وجاہت نے اندر آنے کی اجازت دی تو ماہیر اندر داخل ہوا۔۔

سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس جو کہ اسکے لمبے چوڑے کسرتی جسامت پر بہت جچ رہا تھا وجاہت کی ہی طرح اسکے بھورے بال تھے اور بھوری ہی اسٹبل اسنے بس وجاہت کی طرح داڑھی نہیں رکھی تھی بلکہ اپنے چہرے پر اسنے گہری اسٹبل رکھی تھی سرخ و سفید رنگت والا وجاہت کی ہی طرح اسکی بھوری آنکھیں تھی جن میں زیادہ تر سنجیدگی رہتی تھی مگر صرف غیروں کیلئے اپنوں کیلئے تو ان آنکھوں میں نمی ہی رہتی تھی۔۔

وہ پورا ہی تو وجاہت کا عکس تھا۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو ماہیر تمہیں پارٹی میں سب سے پہلے جانا چاہئے ۔۔ وجاہت نے اسے دیکھ کے کہا۔۔

کیوں آپ لوگوں کا رومانس خراب کردیا کیا۔۔ ماہیر شرارت سے کہتا ہوا ہانیہ کے کندھوں پر اپنے دونوں بازو رکھ کے بولا۔۔

بدتمیز ایسے بات کرتے ہیں پاپا سے ۔۔ ہانیہ نے اسے مصنوعی غصے سے کہا جبکہ وجاہت ماہیر کی بات پر مسکرا رہا تھا۔۔

ارے سن شائن آپ کیوں ناراض ہورہی ہیں۔۔ ماہیر نے ہانیہ کے گال پر پیار کرکے کہا۔۔

بات سنو تم میری میری بیوی سے دور رہا کرو سمجھے اور اسے سن شائن صرف میں کہہ سکتا ہوں۔۔

وجاہت نے مصنوعی غصے سے ماہیر کو جھڑکا کیونکہ ماہیر بھی وجاہت کی طرح ہانیہ کو سن شائن کہتا تھا مما وہ صرف کبھی کبھی ہی بولتا تھا ۔۔

اور وجاہت اسے ہمیشہ ٹوکتا تھا ۔۔ پاپا آپ انہیں سن شائن کیوں کہتے ہیں۔۔ ماہیر نے وجاہت کے ساتھ بیٹھ کے کہا۔۔

ہانیہ مسکراتے ہوئے دونوں باپ بیٹوں کو چھوڑ کے ڈریس چینج کرنے چلی گئی۔۔

کیونکہ وہ روشنی لائی تھی میری اندھیری زندگی میں ۔۔ وجاہت نے مسکراتے ہوئے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا۔۔

بس تو پھر وہ میری بھی تو زندگی کی روشنی ہیں آپ کو جیسا بھی لگے پاپا مگر وہ میری بھی سن شائن ہیں۔۔

ماہیر بول کے رکا نہیں بلکے کمرے سے بھاگ گیا۔۔

مگر جاتے جاتے وہ وجاہت کو آگ لگا گیا۔۔

اور ہاں سن شائن جو چاہیں انہیں پہننے دیں وہ ہر ڈریس میں ہی حسین لگتی ہیں

وجاہت اٹھا تھا اپنی جگہ سے مگر تب تک ماہیر جا چکا تھا۔۔

ہانیہ نیوی بلیو ساڑھی پہن کر اسی وقت کمرے میں داخل ہوئی۔۔

کہہ تو ٹھیک رہا ہے میرا شیر تم ہر ڈریس میں خوبصورت لگتی ہو۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو اپنے حصار میں لے کر کہا تو ہانیہ مسکرا دی۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

مہمان آنا شروع ہوئے تو ہال میں نور بھی آگئی۔۔ جامنی اور کاہیا رنگ کی پیروں کو چھوٹی فراک پہنے جو کہ اسکے نازک سے سراپے پر بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔

ہانیہ کے جیسی ہی سنہری چمکتی ہوئی رنگت کی حامل نور واقعی وجاہت کی آنکھوں کا نور تھی ۔۔

گھنگھرالے بالوں کا اسنے میسی جوڑا بنایا ہوا تھا اور کچھ لٹیں اسکے چہرے کے گرد منڈلا رہی تھی۔۔

وہ بلکل ہانیہ پر گئی تھی اسکے جیسی نرم مزاج معصوم سی مگر وجاہت کے لاڈ نے اسے حد سے زیادہ موڈی بنا دیا تھا مگر ہانیہ کی تربیت نے نور کے دل کو معصوم ہی رکھا۔۔

تو دوسری طرف حور تھی جو کہ گلابی رنگت کی حامل بہت خوبصورت اور شائستہ لہجے کی حامل تھی ۔۔ اسنے سفید رنگ کی پیروں کو چھوتی فراک پہنی تھی جو کہ اسکے سرخ و سفید رنگ پر بہت جچ رہی تھی۔۔

شہدیا رنگ کے بالوں کو اسنے سائڈ فرینچ بریڈ کے اسٹائل میں بنایا ہوا تھا اور لبوں پر ہلکی گلابی لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی ۔۔

ہانیہ اور وجاہت کی دونوں بیٹیاں خوبصورت تھیں دیکھنے والے انہیں چاند اور سورج کہتے تھے۔۔

چاند جیسی خوبصورت حور تو سورج کی روشنی کی مانند سنہری رنگت والی نور۔۔

جتنی وہ وجاہت کی لاڈلی تھیں اتنی ہی وہ اپنے بھائی کی آنکھوں کا تارا تھیں۔۔

ہانیہ اور وجاہت نے انہیں دیکھ کے دل ہی دل میں ڈھیروں دعائیں دیں۔۔

کہاں رہ گئی تھیں تم دونوں ۔۔ ان دونوں کو پاس بلا کر ہانیہ نے سوال کیا۔۔

مما میں بلکل تیار ہوگئی تھی مگر نور کی تیاری ہی پوری نہیں ہورہی تھی ۔۔

حور نے ہانیہ سے کہا تو نور آنکھیں بڑی کر کے حود کو دیکھنے لگی۔۔

اپیا آپ لیٹ تیار ہوئی تھیں جب آپ کمرے میں آئی تھی تب تک میں ریڈی ہوچکی تھی۔۔ نور نے اپنے دفاع میں کہا تو حور اسے گھورنے لگی۔۔

اچھا بچو اور ابھی دو منٹ پہلے تک جیولری کون ڈیسائڈ کر رہا تھا۔۔

حور نے مسکراتے ہوئے کہا تو نور بھی مسکرا دی ۔۔ ہاں وہ الگ بات ہے۔۔ نور کے کہنے پر دونوں بہنیں مسکرا دیں ۔۔ دونوں بہنوں میں حد سے زیادہ محبت تھی۔۔

اچھا ٹھیک ہے نیلم اور ہادی آتے ہونگے تم لوگ زرا مہمانوں کا خیال رکھنا بھائی زرا اپنے مہمانوں کے ساتھ مصروف ہے میں اسے دیکھ لو۔۔

ہانیہ بولتے ہوئے ماہیر کی طرف چل دی۔۔

یہ پارٹی ماہیر کے بزنس میں اعلا کامیابی کی خوشی میں دی گئی تھی۔۔

اور آج کئی سالوں بعد ہادی اور نیلم بھی پاکستان آرہے تھے۔۔

عالیہ بیگم کے اس دنیا کے جانے کے بعد ہادی نے ہی پاکستان سے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔

وہ لوگ ایمسٹرڈیم میں جمشید صاحب کے ساتھ رہتے تھے۔۔

اور وجاہت یہاں شان صاحب اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی رہتا تھا۔۔

دادو بھی ماہیر کے پیدائش کے دو سال بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

نیلم اور ہادی عالم ولا میں داخل ہوئے تو وجاہت اور ہانیہ ان سے بہت محبت سے ملے

پھر ان دونوں سے حور ماہیر اور نور بھی ملیں۔۔ بھئی وجی تیرا بیٹا تو بلکل تیری ڈٹو کاپی بن گیا ہے۔۔

ہادی ماہیر کے گلے لگ کر کہنے لگا۔۔

ہاں تو باپ کی طرح ہی ہینڈسم اور ایک کامیاب بزنس مین ہے۔۔ وجاہت نے فخر سے کہا تو ہادی نے اسکی تائید میں سر ہلایا۔۔

بلکل اتنی کم عمر میں پورا بزنس سنبھال لیا ہے ماہیر نے ۔۔ ہادی نے خوشی سے ماہیر کو دیکھ کے کہا۔۔

مسٹر ہینڈسم ہم بھی لائین میں ہیں ہم سے بھی مل لیں۔۔

نور نے مسکراتے ہوئے کہا وہ ہادی کو مسٹر ہینڈسم کہتی تھی ۔۔ پورے خاندان میں اسے ہادی سب سے زیادہ پسند تھا خوش مزاج ہمیشہ ہنسنے والا اور دوسروں کو ہنسانے والا پتہ نہیں انکا بیٹا کس پر چلا گیا ۔۔

ارے کیوں نہیں میں اپنی گڑیا سے ضرور ملوں گا۔۔

ہادی محبت سے نور سے ملا تو نور نے دیکھا پیچھے سے ہادیہ کے ساتھ نہال بھی گھر میں داخل ہوا۔۔

لمبی چوڑی جسامت والا نہال بلیک جینز پر وائٹ ٹی شرٹ پہنے اسکے اوپر بلیک ہی پارٹی کوٹ پہنے وہ خوبصورت نوجوان اپنی سنجیدہ شخصیت لئے گھر میں داخل ہوا۔۔

ایک پل تو نور اسے دیکھے گئی مگر اگلے ہی پل اس نے اپنی نظریں پھیر لیں۔۔ سڑیل کہیں کا۔۔ یہ بول کر نور ہادیہ سے ملنے لگی جو کہ حور کے گلے لگی ہوئی تھی۔۔

ہادی اور نیلم کو خدا نے شادی کے دوسرے ہی سال بیٹے جیسی نعمت سے نوازا تھا جسکا نام عالیہ بیگم نے نہال رکھا تھا۔۔

پھر نہال کے 5 سال بعد ہادیہ اس دنیا میں آئی ۔۔ ہادیہ شکل و صورت میں تو اپنی ماں پر تھی بہت حسین مگر حرکتوں میں وہ بلکل اپنے باپ پر تھیں حد سے زیادہ چلبلی اور شوخ چنچل

اسی لئے وہ نور کو بہت پسند تھی۔۔ نور اس سے مسلسل رابطے میں رہتی تھی مگر اپنی پڑھائی کی وجہ سے وہ پاکستان نہیں آپاتی تھی۔۔

سبھی بڑے گھر کے اندر چلے گئے تو ہادیہ نور اور حور سے مل کر ماہیر سے بات کرنے لگی۔۔

ہیلو میں ہادیہ ہوں آپ کی ہی کزن ہوں تو آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں اور بات بھی کر سکتے ہیں میں برا نہیں مانو گی۔۔ نہال سب کے ساتھ اندر گیا تو ماہیر بھی جانے لگا مگر ہادیہ نے اسکا راستہ روک کے اس سے بات کرنے لگی۔۔

میں جانتا ہوں تم میری کزن ہو مگر میں لوگوں سے زیادہ بات نہیں کرتا تو بہتر ہے اپنی دوست نور سے ہی بات کرو میرے کچھ دوست آئے ہوئے ہیں مجھے ان کے پاس جانا ہے۔۔

ماہیر نے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا اسے زرا اچھا نہیں لگا تھا ہادیہ کا یوں اسکا راستہ روکنا مگر ایک تو وہ اسکی کزن تھی دوسرا بہت سالوں بعد پاکستان آئی تھی تو ماہیر نے اپنا لہجا نرم ہی رکھا۔۔

لو یہ کہا بات ہوئی نور سے تو میں تقریباً روز ہی بات کرتی ہوں مگر آپ سے سالوں بعد ملی ہوں سنا ہے آپ بھی نہال بھائی کی طرح تھوڑے سڑو ہیں تو سوچا آپ سے مل لوں دیکھوں ایک اور سڑو کو مگر آپ مجھے کافی اچھے لگے سچ کہوں تو بہت ہینڈسم ہیں آپ اگر میں اپنی دوستوں سے یہ کہوں کہ آپ میرے بوائے فرینڈ ہیں تو وہ تو جل جل کے ہی مر جائیں گی۔۔

ہادیہ نے خود ہی کہہ کر خود ہی قہقہہ لگایا۔۔ جبکہ ماہیر بس اس چھوٹی سی لڑکی کو گھور کے رہ گیا۔۔

مجھے لگتا ہے مجھے جانا چاہیئے۔۔ بولتے ہوئے ماہیر واقعی وہاں سے چلا گیا۔۔

اور ہادیہ ارے سنو تو بولتے ہوئے رہ گئی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

اچھی لگ رہی ہو مگر یہ کیا بالوں کو باندھا کیوں ہے۔۔ نہال نور کے سامنے کھڑا ہوکر بولنے لگا۔۔

تم سے مطلب تم ہوتے کون ہو مجھ سے سوال کرنے والے۔۔

نور نے چڑتے ہوئے جواب دیا اسے سخت نہ پسند تھا نہال کا یوں اس سے سوالات کرنا۔۔

تمہاری گردن اور پیچھے کا گلا صاف دکھ رہا ہے اسے ڈھکو ابھی۔۔ نہال نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔

تمہاری پرابلم کیا ہے کس حق سے کہہ رہے ہو تم میرے پاپا نے مجھے کچھ نہیں کہا تم ہوتے کون ہو مجھے حکم دینے والے۔۔

نور نے دبے دبے غصے سے کہا اور ہنہ کہہ کر وہاں سے جانے لگی تو نہال نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔

کوئی حق ہے نہیں تو بنا لونگا مگر یاد رکھنا تم پر صرف میرا حق ہے اور بچی نہیں ہو تم جانتی ہوگی کہ ہمارا رشتہ ہمارے بڑوں نے بچپن میں ہی طے کردیا تھا نانوں کے کہنے پر ۔۔

نہال کے بولنے پر نور اپنا بازو چھڑانے لگی۔۔ میں پاپا سے کہوں گی کہ مجھے اس سڑو سے کبھی شادی نہیں کرنی نم آنکھوں سے بولتے ہوئے نور اپنا بازو چھڑا کر وہاں سے بھاگ گئی۔۔

کہاں تک بھاگو گی ایک نہ ایک دن تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔۔

ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ نہال نے نور کو جاتے ہوئے دیکھ کے کہا۔۔

عالیہ بیگم نے ہی نور اور نہال کا رشتہ طے کیا تھا بڑوں نے انکی خوشی جان کر اس رشتے کو قبول بھی کیا تھا اور یہ بات اپنے بچوں سے بھی نہیں چھپائی تھی۔۔

نہال بھی بچپن سے ہی نور کو پسند کرتا تھا پھر جب اسے یہ پتہ چلا کہ نور اور اسکے رشتے کے بارے میں تو یہ پسند محبت میں تبدیل ہوگئی۔۔

مگر نور اس سے چڑتی تھی حالانکہ وہ صرف اگر ٹوکتا تھا تو اسکے بھلے کیلئے مگر خیر ہے اپنی زندگی میں لاکر وہ نور کو اپنی محبت سے بدل دے گا۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

پارٹی ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے ہادی بھی اپنی فیملی کے ساتھ عالم ولا میں ہی رک گیا

وہ اور نیلم سال میں ایک چکر ضرور لگاتے تھے پاکستان کا بس نہال ہی پاکستان آتا جاتا رہتا تھا۔۔

وہ بزنس کی پڑھائی کر رہا تھا اور وجاہت اور ماہیر کے بہت قریب تھا اسی لئے اسے جب موقع ملتا پاکستان آجاتا تھا۔۔

ہادیہ البتہ پاکستان کئی سال بعد آئی تھی اسے پاکستان کچھ خاصہ پسند نہیں تھا تو وہ اپنے دادا کے پاس ہی رہ جایا کرتی تھی۔۔

ہانیہ کمرے میں آئی تو دیکھا وجاہت ٹیرس پر ریلنگ تھامے کھڑا تھا۔۔

یہاں کیا کر رہے ہیں آپ وجاہت سوئے نہیں ابھی تک۔۔

ہانیہ نے وجاہت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہا۔۔

دیکھ آئی ہمارے بچوں کو وجاہت نے پیار سے ہانیہ کا ہاتھ کندھے سے ہٹا کے چوم کے کہا۔۔

ہاں جب تم انہیں نہ دیکھ لوں نیند ہی نہیں آتی پتہ نہیں میری بیٹیاں جب اس گھر سے رخصت ہونگی تو میں کیسے رہوں گی۔۔ ہانیہ نے وجاہت کے کندھے پر سر رکھ کے کہا۔۔

یہ کیوں کہا تم نے میری پریاں کہیں نہیں جائیں گی میں انہیں ہمیشہ ساتھ رکھوں گا ہادی سے بات کی ہے میں نے کہ اب وہ پاکستان ہی سیٹیل ہوجائے تو اسنے کہا ہے کہ سوچتا ہوں مگر میں جانتا ہوں وہ بھی اب پاکستان ہم سب کے ساتھ رہنا چاہتا ہے بس مجھے چڑانے کیلئے بہانے بناتا ہے۔۔ وجاہت نے مسکرا کے کہا۔۔

چلو اس طرح تو نور ہمارے ساتھ رہے گی مگر حور ۔۔ ہانیہ نے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔

حور مانتا ہوں ساتھ نہیں مگر ہمارے قریب ہی رہے گی۔۔

آج بھی مسٹر آفندی نے کہا ہے اپنے بیٹے عارض کیلئے ۔۔ وجاہت نے ہانیہ کو اپنے سامنے کرکے کہا۔۔

عارض اچھا لڑکا ہے آرمی میں میجر ہے بہت سلجھا ہوا اور پیارا بچہ ہے ۔۔ ہانیہ نے مسکرا کے کہا۔۔ ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر میں حور کی مرضی سے سب کچھ کرنا چاہتا ہوں نور سے تو پوچھنے کا موقع نہ ملا کیونکہ مام نے کہا تھا مگر حور کو میں یہ حق دونگا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کا گال ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے کہا۔۔

ہمم ٹھیک جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔ ہانیہ نے سر اثبات میں ہلا کے کہا۔۔

ویسے آج بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔ وجاہت کا موڈ ایک دم ہی چینج ہوتا دیکھ ہانیہ مسکرا دی۔۔

آپ کو میں کس دن حسین نہیں لگتی۔۔ ہانیہ نے محبت سے وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

تم مجھے ہر دن ہر پل حسین لگتی ہو میری روح میں شامل ہو تم میری نظروں کا نور ہو۔۔

میرے تین بیش قیمتی بچوں کی ماں ہو تم میرا مان ہو تم میری زندگی کا اجالا ہو تم میری دل کی دھڑکن ہو تم تو کیوں نہ لگو گی تم مجھے حسین

بلکہ مجھے لگتا ہے ہر گھڑی وقت کے ساتھ ساتھ تم اور حسین ترین ہوتی جارہی ہو اور میری دیوانگی بھی وقت کے ساتھ ساتھ تمہارے لئے بڑھتی جارہی ہے ۔۔

وجاہت کے لفظ ہمیشہ ہانیہ ہو میسمرائز کردیا کرتے تھے۔۔

آج تک وجاہت ہر روز ہانیہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا تھا اسکا ماننا تھا کہ محبت جتنی محسوس کرنی چاہئے اتنی ہی لفظوں میں بیان کرنی چاہئے۔۔

کس نیکی کا بدلہ ہیں آپ۔۔ ہانیہ نے کئی ہزار بار اپنا دہرایا ہوا جملہ کہا مگر آج تک اسے خود بھی سمجھ نہیں آیا کہ وجاہت واقعی اسکی کس نیکی کا صلاح ہے۔۔

وہ خوبصورت نہ تھی پہلے عام سی شکل و صورت کی حامل تھی مگر وجاہت نے اپنی محبت سے اسے حسین بنا دیا تھا

یوں روز اپنی شوہر کے منہ سے اپنے لئے محبت بھرے الفاظ اسے ایک نئے طریقے سے حسن بخشتے تھے۔۔

خدا سے جتنا شکر ادا کرتی اسے کم لگتا تھا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ وجاہت کی محبت کو اسنے بڑھتے ہوئے ہی دیکھا تھا تو جیسے جیسے اسکی محبت بڑھی ویسے ہی ہانیہ خدا کی اور بھی زیادہ شکر گزار بن گئی۔۔

🌹🌹🌹ختم شد۔۔🌹🌹🌹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *