Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

عالم ولا کراچی کے مہنگے ترین علاقے میں اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔۔
اس گھر میں کل 5 افراد رہتے تھے ۔۔
سب سے بڑی ساجدہ بیگم تھی جنہیں اللہ نے ایک بیٹا دیا تھا جسکا نام انہوں نے شان عالم رکھا تھا ۔۔
شان عالم ایک بہت ہی کامیاب اور سلجھے ہوئے انسان تھے۔۔
انہوں نے اپنی زندگی جتنی کامیابیاں دیکھی تھیں وہ شاید کسی کسی نے دیکھیں ہوں مگر پھر وہ اتنے ہی عبادت گزار اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے۔۔
شان عالم اور انکی زوجہ عالیہ بیگم کو اللہ نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا تھا بڑا بیٹا وجاہت عالم اور چھوٹی بیٹی نیلم عالم تھی۔۔
وجاہت عالم اپنے نام کی ہی طرح مردانہ وجاہت کا شاہکار مانا جاتا تھا اپنی خوبصورت اور چارمنگ پرسنالٹی کی وجہ کئی دلوں کی دھڑکنوں کا مالک تھا جبکہ اسکا دل صرف ایک لڑکی کیلئے دھڑکتا تھا وہ تھی اسکی بچپن کی دوست نور ۔۔
نور جتنی حسین تھی اتنی ہی مغرور بھی تھی وہ اپنے سے کم تر لوگوں کو بلکل بھی پسند نہیں کرتی تھی غرور اور تکبر اسکی ہر ادا سے جھلکتا تھا مگر وہ وجاہت سے محبت کرتی تھی۔۔
نور کے غرور اور تکبر کے باوجود شان عالم اور عالیہ بیگم نے خوشی سے اپنے بیٹے وجاہت کی شادی نور سے کروا دی تھی کیوں وہ جانتے تھے کہ وجاہت اور نور بچپن سے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔
مگر یہ محبت چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان کم سے کم تر ہوگئی تھی جب شادی کے 6 ماہ بعد اللہ نے وجاہت اور نور کے ہاں خوشخبری دی
پورے عالم ولا میں خوشیوں کی ایک مہک آگئی تھی سب بہت خوش تھے سوائے نور کے وہ ابھی ماں نہیں بننا چاہتی تھی مگر وجاہت کی ضد کے آگے وہ خاموش تھی۔۔
پھر کچھ مہینوں بعد وجاہت اور نور ایک پارٹی سے لیٹ نائٹ واپس آرہے تھے کہ کسی کار نے انکی گاڑی کو زوردار طریقے سے ٹکر ماری ۔۔
دونوں ہی بہت زخمی ہوئے تھے مگر نور اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی اور جاتے جاتے وہ اپنی پرچھائی اپنی بیٹی وجاہت کو دے گئی تھی جس کا نام عالیہ بیگم نے حور رکھا تھا ۔۔
نور کے جانے کے بعد وجاہت نے خود کو کام میں اتنا الجھا لیا تھا کہ پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ اپنے گھر والوں اور دنیا سے دور ہوتا چلا گیا۔۔
جس مسکراہٹ پر لڑکیاں فدا ہوتی تھیں وہ مسکراہٹ کہیں گم ہی ہوگئی تھی۔۔
بھائی آپ اتنا پریشان کیوں رہنے لگے ہیں ۔۔
ہانیہ فاخر کو ٹی وی لاؤنج میں موجود بیٹھا دیکھ وہیں اسکے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔
کیونکہ فاخر ہانیہ کو بہت پریشان لگا وہ بار بار ٹی وی کا چینل چینج کر رہا تھا مگر دیکھ کچھ نہیں رہا تھا۔۔
کچھ نہیں ہانی بس اپنی جاب کے وجہ سے بہت پریشان ہوں۔۔
فاخر اور ہانیہ ایک دوسرے سے بہت اٹیچ تھے دونوں ایک دوسرے سے کبھی کچھ نہیں چھپاتے تھے۔۔
کیسی پریشانی بھائی؟
ہانی 5 سال ہوگئے ہیں مجھے یہ جاب کرتے ہوئے پوسٹ کو بڑھی ان 5 سالوں میں مگر سیلری بلکل نہیں بڑھی آج تک اور مہنگائی بھی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔۔
بھائی لیکن آج سے پہلے تو آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے۔۔
ہانیہ نے فاخر سے دھیمے لہجے میں کہا۔۔
ہانی یہ سال کا شروع ہے اور ابھی سے ہی مہنگائی کتنی ہی گنا بڑھ گئی ہے رانیہ کی فیس اور بابا کی میڈیسن سب سے ضروری ہیں اور گھر کا خرچ اور یہ سب تو پھر بھی اللّٰہ سب کروا ہی رہا ہے۔۔
تو آپ پریشان کس لئے ہیں بھائی۔۔؟
ہانیہ کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ فاخر جو کبھی اپنی آمدنی کو لے کر پریشان نہیں ہوا بلکہ وہ جتنا بھی کماتا تھا اس میں بھی اللہ کا شکر گزار رہتا تھا۔۔
ہانی میں تمہیں ماسٹرز کروانا چاہتا ہوں تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں اس قابل بنانا چاہتا ہوں کہ لوگ تمہیں دھتکارنے سے پہلے دس بار سوچیں۔۔
مگر چاہ کر بھی میں اپنے بجٹ سے تمہاری پڑھائی کے اخراجات نہیں مینج کرپا رہا ہوں۔۔
آج پہلی بار مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ پیسہ واقعی بہت ضروری ہوتا ہے انسان کی زندگی میں۔۔
بھائی آپ یہ سب ممانی جان کی باتوں کی وجہ سے سوچ رہے ہیں نہ ۔۔
ہانیہ کو اب سمجھ آیا کہ فاخر آج اتنا پریشان کیوں ہے۔۔
وہ ہوتی کون ہیں میری ہانی کے بارے میں کچھ بھی بولنے والی سنا تھا میں نے جب وہ تمہارے لئے ایک بوڑھے آدمی کا رشتہ لے کر آئیں تھی جو کہ پوتے پوتی اور نواسہ نواسی والا تھا۔۔
سمجھ کیا رکھا ہے انہوں نے میری معصوم سی بہن کیا میرے لئے کوئی بوجھ ہے ۔۔
فاخر شدید اشتعال میں بول رہا تھا اور ہانیہ نم آنکھوں سے بس اپنے بھائی کو مان سے دیکھ رہی تھی۔۔
غصہ کم کریں فاخر بھلا ممانی جان نے ایسا بھی کیا کردیا جس سے آپ اتنا غصہ کر رہے ہیں ۔۔
ایشا نے جب فاخر کی غصے بھری آواز سنی تو وہ بھی ٹی وی لاؤنج میں چلی آئی۔۔
اب بھلا ایک طلاق یافتہ اور اوپر سے بانجھ لڑکی سے کون شادی کرتا ہے بھلا۔۔
وہ تو ہانیہ کیلئے اچھا ہی سوچ رہی تھیں نہ۔۔
فاخر اور ہانیہ حیرت سے ایشا کو بولتا دیکھ رہے تھے جو کہ بہت عام سے انداز میں فاخر سے مخاطب تھی پر نظریں ہانیہ کی طرف کی ہوئی تھی۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے تمہارا کہاں میری کم عمر بہن اور کہاں وہ 65 سال کا بوڑھا آدمی۔۔
فاخر اب باقائدہ ایشا پر چلا رہا تھا جبکہ ہانیہ ایشا کی باتیں اس سے زیادہ سن نہیں پائی اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *