Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 42)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

معظم کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک اندھیرے کمرے میں پایا۔۔

میں تو وجاہت عالم سے ملنے گیا تھا یہ میں کہاں آگیا۔۔ آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے معظم نے سوچا مگر اگلے ہی پل خوف سے اسکی سانسیں رکنے لگی کیونکہ وہ جہاں بھی تھا اس وقت کسی کی قید میں تھا جسکا ثبوت یہ تھا کہ اسکے ہاتھ پیر کرسی کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیئے گئے تھے۔۔

یہ سب کیا ہے کوئی ہے یہاں۔۔ مجھے کیوں باندھا ہے یہاں پر۔۔۔

پلیز کوئی میری مدد کرو۔۔ زور زور سے چلانے پر بھی کسی نے نہ سنا تو معظم نے افسوس سے سر جھکا لیا کانوں میں وجاہت عالم کے الفاظ گونجنے لگے۔۔

کیا تم جانتے ہو یہاں آکر تم نے اپنی موت کو دعوت دی ہے۔۔۔

سوچ کے ہی معظم کو اب اپنی غلطی کا اندازہ ہورہا تھا۔۔

مگر وہاں کوئی ہوتا تو اسکی سنتا۔۔

وجاہت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اسکا کرنا کیا ہے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

چلو تم میرے ساتھ ہمیں ابھی کہیں جانا ہے۔۔

ڈنر کے بعد نیلم لان میں آگئی تو ہادی اسکے سر پر سوار ہوگیا۔۔

مجھے کہی نہیں جانا نیلم نے کہہ کر اپنا رخ دوسری طرف کیا اور چلنے لگی۔۔

میں آخری بار پوچھ رہا ہوں چل رہی ہو یا نہیں۔۔

ہادی نے نیلم کا بازو پکڑ کے اسکا رخ اپنی طرف کرکے کہا۔۔

نہیں مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔۔ نیلم نے اپنا بازو چھڑایا اور گھر کے اندر جانے لگی۔۔

جیسے ہی نیلم نے گھر کی طرف قدم بڑھائے ہادی نے گہرا سانس لیا اور اسے کندھوں پر اٹھا لیا۔۔

اس اچانک عمل پر نیلم چیخ مارتے مارتے رکی کیونکہ اگر چیختی تو پورا گھر یہیں جما ہوجاتا اور پتہ نہیں سب کیا سمجھتے ہادی کو۔۔

مگر ہادی کو ایسی کوئی فکر نہیں تھی وہ دادو اور عالیہ بیگم کو بتا کے آیا تھا کہ وہ نیلم کے ساتھ باہر جارہا تھا پھر ایئرپورٹ سے اپنے پاپا کو پک کرکے وہ تینوں گھر آجائیں گے ۔۔

کندھے پر اٹھائے ہی ہادی نیلم کو ڈرائیو وے تک لے گیا اپنی کار کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور زن سے گاڑی بھگا لے گیا بغیر کسی کی کسی بھی مزاحمت کی پرواہ کئے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

تم تو کہہ رہی تھی کہ تمہیں آج باہر کھانا کھانا ہے۔۔

وجاہت حور کو لئے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا جو کہ اپنے پاپا کی گھڑی کی جانچ پڑتال کر رہی تھی۔۔

ہانیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے چئیر پر بیٹھی اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی۔۔

ہاں گھر میں مما نے میرے لئے میری فیورٹ کری بنوائی تھی تو میں باہر کیوں جاتی۔۔

ہانیہ نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔۔ اصل میں تو وہ اس لئے باہر نہیں گئی کہ اگر باہر کا کچھ کھانے سے طبیعت زرا بھی خراب ہوئی تو وجاہت غصہ تو کرتے ہی کرتے ساتھ میں سزا بھی دیتے اور اتنے مہینوں میں وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی وجاہت کی سزاؤں کو۔۔

وجاہت ہانیہ کو دیکھ کے مسکرا دیا۔۔ سن شائن یہ کہو نہ کہ میری سزا سے ڈر گئی۔۔

وجاہت کو بلکل سہی تکا لگاتے دیکھ ہانیہ بے اختیار ہی مڑ کے وجاہت کو دیکھنے لگی۔۔

وجاہت نے حور کو اسکا ٹوئی دیا پھر بیڈ سے اٹھ کر ہانیہ کے پاس آیا اور اسکے ہاتھ سے لے کر ہئیر برش رکھا ۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اولیو آئل کی بوتل آٹھائی اور ہانیہ نے سر میں ہلکا ہلکا مساج کرنے لگا۔۔

دھیرے دھیرے وجاہت کی انگلیاں سر میں چلنے لگیں تو ہانیہ کو ڈھیروں سکون نے آن گھیرا آنکھیں موندیں وہ وہیں بیٹھی رہی۔۔

وجاہت کے چہرے پر اسکی بند آنکھوں کو دیکھ کے مسکان ابھری۔۔

ویسے یہ ہیڈ مساج کس خوشی میں۔۔ ہانیہ نے ایک آنکھ کھول کے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔

وجاہت کی اسکی اس حرکت پر مسکان گہری ہوتی چلی گئی۔۔

تم نے آج صبح کہا تھا جب میں تمہیں جگا رہا تھا کہ تمہارا سر بھاری بھاری رہتا ہے۔۔

تو میں نے انٹرنیٹ پر سرچ کیا تو رات کو سونے سے پہلے کسی بھی آئل سے بالوں میں مساج کیا جائے تو نیند بھی اچھی آتی ہے اور صبح سر بھاری بھی نہیں ہوتا۔۔

وجاہت نے مساج کرتے ہوئے ہانیہ کا عکس آئینے میں دیکھ کے کہا۔۔

شکریہ۔۔ ہانیہ نے وجاہت کے ہاتھ بالوں سے نکال کے اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا۔۔

شکریہ کس لئے۔۔ وجاہت نے ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔

پتا نہیں کس کس بات پر شکریہ کہو دل کیا تو کہہ دیا میں نے۔۔

ہانیہ نے بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بناتے ہوئے کہا۔۔

تم آرام کرو میں حور کو اسکے کمرے میں لے جاتا ہوں جب وہ سوجائے گی تو آجاؤ گا۔۔

ہانیہ کو بیڈ پر لٹا کر وجاہت بولا اور حور کو لئے اسکے کمرے میں چلا گیا پھر واپس آکر اسنے اسکے ٹوائز اٹھائے اور ہانیہ کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی پھر لیمپ آف کرکے اور چلا گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

کہاں لے کر جارہے ہیں آپ مجھے ہادی۔۔

نیلم نے حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات لئے کہا۔۔

ہم شادی کرنے جارہے ہیں۔۔

ہادی نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے عام سے انداز میں کہا۔۔

کیا کہہ رہے ہیں آپ ہادی ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔ نیلم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

بہت کہہ رہی تھی نہ کہ میرے برو یہ کردیں وہ کریں گے تو تمہیں کیا لگا میں مزاق کر رہا تھا۔۔

میں اب تم سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ دنیا کی فکر اب میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔۔

اور ویسے بھی ابھی ہماری شادی ہوجائے گی اس کے بعد ہم ائرپورٹ جائیں گے پھر سیدھے ملک سے باہر ایک سال کیلئے۔۔

پھر جب خوب گھوم پھر کے واپس آئیں گے تو تب تک وجاہت کا بے بی اور میرا بھتیجا اس دنیا میں آچکا ہوگا تو ہم دوبارہ شادی کر لیں گے۔۔

ہادی کا لہجہ بہت عام سا تھا شرارت اس میں کہیں بھی نہیں جھلک رہی تھی۔۔

نیلم کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔۔

وہ اتنا گھبرا گئی کہ منہ سے اور ایک لفظ بھی نہ بول سکی۔۔

دوسری طرف ہادی اسکی اس حالت سے خوب محفوظ ہورہا تھا۔۔

مزید دس منٹ کے بعد اس نے گاڑی ایک جگہ روکی سمندر کا شور ہادی اور نیلم بہت صاف سن سکتے تھے۔۔

نیلم نے سہما ہوا چہرا لئے ہادی کو دیکھا مگر ہادی نے بغیر اسکی طرف دیکھے کار کا انجن آف کیا اور گاڑی سے اتر گیا

پھر دوسری طرف آکر اسنے نیلم کا دروازہ کھولا اور اسے باہر آنے کیلئے کہا۔۔

نیلم نے اسے پہلے بیچارگی سے دیکھا مگر ہادی نے جب اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور نیلم نے کچھ سوچتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام لیا اور اسکے ساتھ چلنے لگی۔۔

تھوڑا چلنے کے بعد ہی نیلم نے چھوٹی چھوٹی ایل ای ڈی لائٹ سے سجی وہ جگی دیکھی۔۔

چار پلر سے اسے ایک ہٹ نما اسٹائل دیا گیا تھا اور اس پر پنک کلر کا نیٹ کا کپڑا کینوپی کا کام کر رہا تھا۔۔

پنک روزز سے پوری جگہ کو سجایا گیا تھا اور اوپر کی سائڈ پر چھوٹے چھوٹے چائینیز پیپر لیمپس لٹکے ہوئے تھے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر۔۔

لیمپ اور ایل ای ڈی لائٹس سے وہ جگہ کافی روشن ہورہی تھی۔۔

بیچ میں ایک ٹیبل اور دو چئیرز رکھی تھی جسے خوبصورتی سے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔

نیلم وہ خواب ناک منظر دیکھ کے بغیر پلکے چھپکائے دم بخود سی دیکھنے لگی۔۔

ہادی نے نیلم کے چہرے پر ستائش دیکھ کے ہنس دیا

یہ سب میں نے حور کے برتھ ڈے والے دن کیلئے پلان کیا تھا کیونکہ اسی دن ہماری شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی مگر برتھ پارٹی کے بعد جو کچھ ہوا میں تمہیں یہ سرپرائز دے نہیں پایا۔۔

لیکن چلو اچھا ہی ہوا تمہیں روٹھا ہوا دیکھ کے تمہارا ایک نیا انداز بھی دیکھ لیا اسی بہانے اور سچ کہوں تو پھر سے محبت ہوگئی ہے تم سے۔۔

ہادی نے سرگوشی نما آواز میں نیلم کے کان میں کہا۔۔

نیلم دھڑکتے دل کے ساتھ ہادی کو دیکھنے لگی۔۔

ہادی نے پاکٹ سے ایک باکس نکالا اس میں سے اس نے ایک نفیس سا بریسلیٹ نکالا اور اسے پہنانے کے لیے ہادی نے نیلم کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔

نیلم نے اسے اپنا ہاتھ تھمایا تو ہادی نے اسکے ہاتھوں میں خوبصورت سا بریسلیٹ پہنایا جو کہ اسکی سفید دودھیا کلائی پر بہت جچ رہا تھا

بے اختیار ہی ہادی نے نیلم کے ہاتھوں کو چوم لیا پھر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ دئیے۔۔

نیلم نے بھی آج آنکھیں بند کئے اسکے لمس کو محسوس کیا۔۔

محبت کی یہ مہر میں تمہارا محرم بن کر تمہیں سونپنا چاہتا تھا مگر دل باغی دل کا کیا کروں

ہادی نے مسکراتے ہوئے اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔۔

نیلم نے خاموشی سے بس اپنی نظریں جھکا دیں ۔۔

چلو آؤ تھوڑی دیر یہاں بیٹھتے ہیں پھر ائیرپورٹ جانا ہے پاپا آرہے ہیں آج۔۔

ہادی نیلم کو چئیر پر بٹھا کے اپنی چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

تو آپ نے جھوٹ کہا تھا مجھ سے۔۔ نیلم نے کہنیاں ٹیبل پر رکھ کے کہا۔۔

مذاق کر رہا تھا یار تمہیں تنگ کر رہا تھا۔۔

ہادی نے خوبصورت مسکراہٹ لئے کہا۔۔ اور میں امید کرتا ہوں شادی کے بعد ہمارا کبھی جھگڑا نہ ہو کیونکہ آج تمہارا نیا روپ دیکھ کے میں تھوڑا ڈر گیا ہوں۔۔ ہادی نے شرارت سے کہا تو نیلم بھی ہنس دی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

حرا مہرو یہ معظم کہاں رہ گیا ہے بیٹا صبح کا گیا میرا بچہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔۔

فرزانہ نظریں دروازے پر جمائے بیٹھی تھیں۔۔

جب سے نوکری گئی تھی معظم صرف انٹرویو دینے جاتا تھا اور دوپہر تک گھر واپس مگر آج تو آدھی رات ہوگئی تھی مگر اسکا کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔۔

اے میرے پروردگار میرے بچے کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔۔

فرزانہ نے دل سے دعا کی

اماں بھائی کا موبائل آف ہے کیسے پتہ کریں۔۔

مہرو نے فکر مندی سے کہا۔۔

کیا ہوگیا ہے آپ دونوں کو بھائی بچے تھوڑی ہیں آجائیں گے لیٹ جائیں آپ لوگ میں جاگ رہی ہوں کھول دونگی دروازہ۔۔

بظاہر تو عام سے لہجے میں بول کے حرا نے اپنا پہلو بدلہ اصل میں دل میں وہ خود اپنے بھائی کیلئے پریشان تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *