Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 32)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

رات گئے وجاہت گھر لوٹا تو سب گھر والے لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔

شان صاحب کو وہ دوپہر میں آفس پہنچتے ہی گھر بھیج چکا تھا۔۔

سب تھے وہاں سوائے نیلم اور اسکی سن شائن کے شاید دونوں ہی اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہی ہونگی۔۔

تھکا ہارا وجاہت صوفے پر دادو کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔

اسلام و علیکم دادو۔۔ بیٹھتے ہی وجاہت نے سلام کیا تو دادو نے شفقت سے وجاہت کے سر پر ہاتھ پھیر کے جواب دیا۔۔

بیٹا تھکے ہارے آئے تھے پھر آفس جانے کی کیا ضرورت تھی ایک دن اور تمہارے ڈیڈ آفس سنبھال لیتے۔۔

عالیہ بیگم نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندیں بیٹھا تھا۔۔

ارے یہ تو سپر مین ہے یہ کہاں تھکتا ہے۔۔ ہادی کی آواز پر وجاہت نے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا جو عالیہ بیگم کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا تھا۔۔

ویسے کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم آفس سے کیوں جلدی گھر آرہے ہو دو دن سے۔۔

وجاہت کے سوال پر پہلے تو ہادی کچھ پل سوچ میں پڑ گیا کہ کیا جواب دے۔۔

میرے ڈیپارٹمنت میں زیادہ کام نہیں تھا تو گھر آگیا۔۔

ہاں مگر تم ڈیڈ کی ہیلپ بھی تو کر سکتے تھے نہ۔۔

وجاہت اب سیدھے ہو کر بیٹھ گیا۔۔

ارے بیٹا اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ میری ہیلپ کردے مگر میں نے ہی اسے گھر بھیجا تھا تم اسے کیوں ڈانٹ رہے ہو۔۔

شان صاحب وجاہت کے تیور دیکھ کے بیچ میں بول پڑے سب گھر والے جانتے تھے کہ ہادی ہمیشہ سے نیلم سے بہت اٹیچ ہے جب بھی وہ بیمار پڑتی تھی اس کے پاس سے ہلتا بھی نہیں تھا اور ابھی سے نہیں بچپن سے وہ ایسا ہی تھا

ملک سے باہر بھی ہوتا تھا تو فوراً واپس آجایا کرتا تھا۔۔

مگر یہ بات کبھی وجاہت نے نوٹ نہیں کی تھی کیونکہ وہ اپنی ہی دنیا میں مگن رہنے والوں میں سے تھا۔۔

شان صاحب کی بات پر وجاہت کے تنے اعصاب تھوڑے ڈھیلے پڑے اسے تو یہ دیکھ کے ہی غصہ آگیا تھا جب وہ آفس پہنچا تو شان صاحب فائلوں کا ڈھیر لئے بیٹھے تھے ۔۔

تھکن ان کے چہرے سے عیاں تھی مگر وہ پھر بھی کام میں لگے ہوئے تھے۔۔

آفس پہنچ کر وجاہت اپنے ڈیڈ سے ملا اور انہیں گھر بھیج دیا

پھر رہ رہ کر اسے ہادی پر غصہ آرہا تھا۔۔

ہادی پھر بھی تمہیں ڈیڈ کے ساتھ رکنا چاہئے تھا مجھے تم سے ایسی غیر ذمہ داری کی بلکل توقع نہیں تھی۔۔

وجاہت نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا تو ہادی بھی چڑ گیا اور اپنی چڑ میں وہ وجاہت کو سہی سے تپاتا تھا۔۔

لو دیکھو زرا بول بھی کون رہا ہے زمہ دار انسان۔۔

خود تو تم ایک مہینہ ہنی مون پر گھوم کر آئے ہو اور ہمیں کام کا لیکچر دے رہے ہو۔۔

ہادی نے طنزیہ مسکراہٹ لئے کہا تو سب کے چہروں پر دبی دبی سی مسکان آگئی جبکہ وجاہت ہادی کو اور زیادہ غصے سے دیکھنے لگا۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا دادو نے وجاہت کو بولنے سے پہلے ہی ٹوک دیا

وجاہت جاؤ بیٹا فریش ہوجاؤ اور ہانی کو بھی جگا دو رات کا کھانا سب مل کر کھاتے ہیں۔۔

وجاہت جو غصے سے ہادی کو گھور رہا تھا دادو کی بات پر چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔۔

کیا مطلب ہے دادو ابھی تک آپ لوگوں نے کھانا نہیں کھایا۔۔

رات کے دس بج رہے ہیں اور آپ لوگ ایسے ہی بیٹھے ہیں۔۔

وجاہت نے سب کو دیکھ کے کہا۔۔

بیٹا جی اتنے دنوں بعد آپ لوگ آئے ہو تو ہم نے سوچا آج کھانا ساتھ میں کھائیں گے بس تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔

عالیہ بیگم بولتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھیں۔۔

تم جاؤ فریش ہو اور ہانی کو جگا دو۔۔

بولتے ہوئے وہ کچن کی جانب چلی گئی جبکہ وجاہت کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ ہانیہ دوپہر سے ہی سورہی تھی

کیا ہانیہ دوپہر سے ابھی تک سورہی ہے ٹھیک تو ہے نہ وہ بولتے ہوئے وجاہت اپنے کمرے کی طرف بھاگا جبکہ سب نے ہی ایک دوسرے کو دیکھا

کسی نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ہانیہ تو کبھی اتنا نہیں سوتی سب سمجھے کہ تھکن کی وجہ سے وہ آرام کر رہی ہوگی ۔۔

عالیہ بیگم وجاہت کے کمرے کی طرف بڑھی تو دادو نے انہیں روک دیا۔۔

رکو عالیہ وجاہت ابھی گیا ہے ہانی ٹھیک ہوگی اور ابھی وجاہت کے ساتھ نیچے آجائے گی۔۔

تم ملازم سے کہو کہ کھانا لگائے اور جاکر دیکھو کہ حور نیلم کو تنگ تو نہیں کر رہی ۔۔

عالیہ بیگم جی اچھا کہہ کر کچن میں چلی گئیں جبکہ اب سبھی گھر والوں کو ہانیہ کی فکر لاحق ہوگئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کمرے میں گپ اندھیرا کیا ہوا تھا ۔۔

ہاتھ بڑھا کر اسنے جیسے ہی سوئچ آن کیا کمرا ایک دم روشنیوں سے نہا گیا۔۔

اسنے دیکھا ہانیہ کمفرٹر اوڑھے شاید گہری نیند میں تھی

وجاہت اسکے پاس آکر بیٹھ گیا اور اسے جگانے کیلئے پیار سے اسکا سر سہلانے لگا۔۔

سن شائن چلو اٹھو

دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے وجاہت نے اسے آواز دی جس پر ہانیہ زرا بھی نہ ہلی۔۔

اب کے وجاہت نے اسکا کندھا ہلایا مگر وہ پھر بھی نہ جاگی

اب وجاہت کو اسکی فکر ہونے لگی۔۔

اسکا ہاتھ پکڑ کے وجاہت نے اسکی نبض چیک کی جو کہ بہت ہلکی چل رہی تھی۔۔

اب وجاہت کو صحیح معنوں میں ٹینشن ہوئی سائڈ ٹیبل پر رکھے پانی کی بوتل سے اسنے چند قطرے اپنے ہاتھوں میں لئے اور ہانیہ کے چہرے پر چھڑکے جس سے وہ تھوڑا ہلی اور اسکے چہرے کے زاویے بگڑے

وجاہت نے پھر سے اسکے چہرے پر پانی چھڑکا تو ہانیہ ہوش میں آئی۔۔

جب اسنے آنکھیں کھولیں تو وجاہت نے سکھ کا سانس لیا اور اسے اٹھا کے خود میں بھینچ لیا۔۔

پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ ہانیہ کو سانس لینا دشوار ہوگیا۔۔

وجاہت چھوڑیں مجھے سانس نہیں آرہا۔۔

ہانیہ نے وجاہت کے کان میں کہا تو وجاہت نے ایک جھٹکے میں اسے خود سے الگ کیا اور تشویش سے اسے دیکھنے لگا۔۔

کیا ہوا سانس کیوں نہیں آرہا بلکل ٹھیک تو چھوڑ کے گیا تھا تمہیں اچانک سے کیا ہوگیا۔۔

وجاہت کا فکر مند چہرا دیکھ کے ہانیہ ہلکے سے مسکرا دی۔۔

اتنی زور سے خود میں بھینچیں گے تو کہاں سے سانس آئے گی مجھے ۔۔

وجاہت نے پہلے تو اسکے چہرے کو غور سے دیکھا پھر گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کیا۔۔

سوری میں گھبرا گیا تھا۔۔ ہانیہ کے بالوں کو کندھے سے پیچھے کرتے ہوئے وجاہت تھکے ہوئے انداز میں بولا۔۔

وہ کیوں بھلا۔۔ ہانیہ اسکے گھبرانے کی وجہ بوجھ نہ سکی تو پوچھنے لگی۔۔

تمہیں جگا رہا تھا مگر تم جاگ ہی نہیں رہی تھی میں ڈر گیا تھا مام نے بتایا کہ تم دوپہر سے سو رہی ہو اور اب رات کے 10 بج رہے ہیں مجھے تمہاری فکر ہوگئی کیونکہ تم کبھی اتنا نہیں سوئی

ہاں شاید بلڈ پریشر ڈاؤن ہوگیا ہوگا میرا سوتے ہوئے ہوجاتا ہے اور کچھ دنوں سے دن میں بھی ہوجاتا ہے

ہانیہ نے بہت آرام سے کہا مگر وجاہت فکر اور غصے سے اسے دیکھنے لگا۔۔

تمہارا بلڈ پریشر دن میں لو ہوجاتا ہے یعنی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور تم نے اس بات کی بھنک بھی نہ پڑنے دی مجھے

جانتی ہو کتنا رسکی ہو سکتا ہے یہ بے ہوش پڑی رہتی کون دیکھتا تمہیں پیرس میں اگر میں کہیں باہر ہوتا تو

وجاہت کو غصہ کرتا دیکھ ہانیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

ہاں اسی لئے تو پاکستان واپس آنا چاہتی تھی ۔۔

ہانیہ نے سر جھکا کے کہا تو وجاہت کو اس بات پر اور غصہ آیا

پاکستان آنے کی بات کر سکتی ہو مگر یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ طبیعت خراب ہے

ہانیہ کیوں تم مجھ سے باتیں چھپاتی ہو۔۔ وجاہت نے غصے سے ہانیہ کی کلائی پکڑ کے کہا۔۔

آپ پریشان ہوجاتے نہ ۔۔ اور چھوٹی سی تو بات ہے

ہانیہ نے وجاہت کا چہرا اپنی طرف کرکے اسے سمجھانا چاہا

یہ چھوٹی بات ہے اگر تمہیں اکیلے گھر میں کچھ ہوجاتا یا حور کو کچھ ہوجاتا تو کیا کرتا میں

کتنی بار تم دونوں کو اکیلے چھوڑ جاتا تھا میں جب کوئی ضروری کام ہوتا تھا تو ۔۔

وجاہت کا لہجہ مزید سخت ہوگیا تھا وہ چلا نہیں رہا تھا مگر اسکی آنکھیں شعلے برسا رہی تھی۔۔

سوری۔۔ جب ہانیہ سے وجاہت کی آنکھوں میں دیکھا نہ گیا تو اسنے نظریں نیچی کر کے کہا۔۔

ہانیہ کے منہ سے سوری لفظ سن کر وجاہت نے ضبط سے اپنی آنکھیں بند کرلیں

پھر سائڈ ٹیبل پر رکھا گلاس اٹھایا اور اس میں پانی ڈال کر ہانیہ کو پلایا اور اسے اٹھا کر واشروم تک لے گیا۔۔

منہ ہاتھ دھو لو اور چل کر کھانا کھاؤ ۔۔

ہانیہ خاموشی سے وجاہت کو دیکھ کے واشروم کے اندر چلی گئی اور دروازہ بند کرلیا

خود کو کنٹرول کرنے کیلئے وجاہت نے اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیاں اپنے بالوں میں پھیرنے لگا۔۔

ایک تو اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور اوپر سے میں نے اسے اتنی باتیں سنا دی

دل میں سوچتے ہوئے وجاہت کمرے میں ہی ٹہلنے لگا۔۔

ہانیہ باہر آئی تو دیکھا وجاہت کمرے میں ہی ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا۔۔

آپ بھی فریش ہو جائیں میں کھانا یہیں لے آتی ہوں۔۔

ہانیہ بول کے کمرے سے باہر جانے لگی تو وجاہت نے اسے ٹوکا۔۔

نہیں کھانا سب باہر ہی کھائیں گے کسی نے بھی کھانا نہیں کھایا چلو ۔۔

ہانیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے وہ اسے لئے باہر جانے لگا۔۔

آپ پہلے فریش تو ہوجائیں۔۔

ہانیہ نے اسے اسکی اجڑی حالت میں دیکھا تو اسے بولنے لگی۔۔

کوٹ اور ٹائی وہ اتار چکا تھا استینوں کو بھی اسنے فولڈ کیا ہوا تھا وہ ہانیہ کو اس رف سے حلیہ میں اور بھی پیارا لگا مگر وہ تھکا ہوا تھا

اور تھکن اسکے چہرے سے عیاں ہورہی تھی۔۔

نہیں میں ٹھیک ہوں چلو۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو خود کو تکتا ہوا پایا تو اسے لئے کمرے سے باہر چل دیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

کھانے کیلئے سبھی وجاہت اور ہانیہ کا انتظار کر رہے تھے

وجاہت نے پہلے ہانیہ کیلئے چئیر پل کی اسے بیٹھا کے وہ خود اسکے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔

ان کے آتے ہی سب نے کھانا شروع کیا۔۔

حور کو آج صبح سے ہی عالیہ بیگم سنبھال رہی تھی اور اب حور کو دیکھ نیلم کی طبیعت بھی کافی بہتر لگ رہی تھی۔۔

دادو نے وجاہت کو غور سے دیکھا جب وہ اپنے کمرے میں جارہا تھا تو اسکے چہرے پر صرف تھکن تھی مگر اب اسکے چہرے پر فکر مندی تھی وہ بار بار کھانا کھاتے ہوئے ہانیہ کو دیکھ رہا تھا فکر سے ۔۔۔

فلحال کیلئے دادو نے اس وقت خاموش رہنا ٹھیک سمجھا۔۔

کھانے سے فارغ ہوکر سب لاؤنج میں آکر بیٹھ گئے ملازم سب کیلئے کافی لے آئے تھے۔۔

موسم تھوڑا ٹھنڈا ہوگیا تھا تو اس موسم میں گرم گرم کافی سب کو اچھی لگ رہی تھی۔۔

سوائے ہانیہ کے اسنے کافی کا ایک گھونٹ سے زیادہ نہیں پیا تھا مگر اس نے کسی کو بھی شک نہیں ہونے دیا۔۔

ابھی کیا کم لیکچر سنا تھا اسنے

ہانیہ کو ہنستا مسکرا کر سب سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر وجاہت بھی کافی پرسکون ہوگیا تھا اور سبھی سے بات کر رہا تھا۔۔

جبکہ ہادی اس سوچ میں تھا کہ وجاہت سے ابھی بات کرے کہ نہیں۔۔

اسکے پاپا پاکستان صرف ایک ہفتے رہ کر چلے گئے تھے اور اب وہ ایک دو دن بعد پھر واپس آرہے تھے ہادی اور نیلم کی منگنی کی رسم ادا کرنے کیلئے۔۔

ہادی کچھ کہتا وجاہت سے اس سے پہلے ہی اس کے موبائل پر میسج کی بپ ہوئی۔۔

ہادی نے موبائل دیکھا تو اس میں ہانیہ کا میسج آیا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ مجھے آپ کی ہیلپ چاہئے۔۔

ہادی نے نظر اٹھا کر پہلے ہانیہ کو دیکھا اور ائی برو اچکا کر اسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہوں کہ کیا کام ہے۔۔

ہانیہ نے موبائل میں پھر کچھ ٹائپ کیا۔۔

کل وجاہت کا برتھ ڈے ہے تو میں اسے سرپرائز کرنا چاہتی ہوں۔۔

ہادی نے وہ میسج پڑھا تو اسکے چہرے پر مسکان آگئی۔۔

ٹھیک ہے جو بھی پلان ہے وہ ہم نیلم کے کمرے میں ڈسکس کریں گے رات کو

جوابی میسج بھیج کر اسنے موبائل ٹیبل پر رکھا اور وجاہت سے بات کرنے کا اپنا ارادہ کل تک کیلئے ملتوی کر دیا۔۔

کل ہانیہ نے سرپرائز کے بعد وہ گھر میں پارٹی رکھے گا شام میں اور تبھی وجاہت سے نیلم کا ہاتھ مانگے گا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

رات کو ہادی نے نیلم کے کمرے کا دروازہ ناک کیا تو نیلم نے فوراً سے دروازہ کھولا۔۔

آپ کو اتنی رات میں کیا بات کرنی تھی۔۔

دروازہ تھام کے ہادی کے کچھ بھی بولنے سے پہلے ہی نیلم بول پڑی ۔۔

محترمہ اندر آنے دو اس سے پہلے کہ تمہارا جلاد بھائی مجھے دیکھ لے۔۔

ہادی نے سرگوشی نما آواز میں ادھر ادھر دیکھ کے کہا۔۔

نیلم نے بھی فوراً دروازہ کھول دیا ہادی اسے لئے اندر گیا مگر اسنے دروازہ پورا بند نہیں کیا۔۔

بولیں بھی اب۔۔ ہادی جب صوفے پر بیٹھ گیا تو نیلم بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔

کچھ نہیں بس تمہیں دیکھنے آیا تھا۔۔

ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

مگر آپ نے تو کہا تھا کہ سونا نہیں ضروری بات کرنی ہے۔۔

نیلم نے اسے دیکھ کے موبائل کی اسکرین اسے دکھائی جس میں ہادی کا میسج آیا ہوا تھا کہ سونا مت بات کرنی ہے ضروری۔۔

ہادی موبائل کی اسکرین دیکھ کے مسکرانے لگا۔۔

بہانہ کیا تھا تم سے اکیلے میں ملنے کا۔۔ ہادی بس اسے چھیڑ رہا تھا جس پر وہ بلش کر گئی۔۔

مگر اتنی رات میں آپ کا یوں آنا بہتر نہیں تھا آپ ابھی جائیں ہم کل بات کریں گے۔۔

نیلم نے نظریں جھکا کے کہا۔۔ کیونکہ ہادی اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔

پنک نائٹ سوٹ پہنے ہوئے جو کہ اسکے چہرے کے رنگ سے مل رہا تھا بالوں کی ڈھیلی سی پونی باندھے وہ ہادی کو بہت پیاری لگی۔۔

سوچ لو بھگا رہی ہو مجھے بولو تو چلا جاتا ہوں۔۔

ہادی نے مسکراہٹ چھپا کے کہا تو نیلم سوچ میں پڑ گئی کہ آگے کیا کہے

وہ اسی سوچ میں تھی کہ تبھی ہانیہ دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔

میں نے کسی کو ڈسٹرب تو نہیں کیا نہ۔۔

ہانیہ نیلم اور ہادی کو دیکھ کے بولی

نیلم نے ہانیہ کو دیکھ کے سکھ کا سانس لیا

نہیں بھابھی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔

ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کے نیلم اسے اندر لائی دروازہ اب کے ہادی نے بند کردیا۔۔

جی بولیں کیا کام ہے آپ کو۔۔

ہادی نے ایک نظر نیلم کو دیکھ کے ہانیہ کو کہا۔۔

کل وجاہت کی برتھ ڈے ہے میں نے ابھی تو انہیں وش نہیں کیا مگر کل صبح میں چاہتی ہوں انہیں سرپرائز دوں کوئی اچھا سہ۔۔

ہانیہ نے نیلم اور ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔

ویسے بھابھی مجھے وجاہت سے بات کرنی ہے کچھ تو ایسا کرتے ہیں کہ اپکا سرپرائز ہم سی سائڈ والے گھر میں شفٹ کرتے ہیں پھر رات میں یہاں ایک پارٹی ارینج کریں گے

جس میں وجاہت سے میں اپنی اور نیلم کی شادی کی بات کرونگا ائی ہوپ اسکا موڈ اچھا ہوگا تو وہ مجھے نہ نہیں کہے گا۔۔

ہادی پہلے ہی یہ سب سوچ چکا تھا اسی لئے اپنے آئیڈیاز ہانیہ سے شئیر کرنے لگا۔۔

مگر میں تو خود گھر میں پارٹی دینا چاہتی تھی۔۔

ہانیہ نے جو سوچا تھا وہ ہادی کو بتانے لگی۔۔

ارے بھابھی آپ اگر الگ سے اسے سرپرائز دینگی تو اسے زیادہ اچھا لگے گا۔۔

ایسا کرتے ہیں کل وجاہت کے آفس جانے کے بعد آپ سی سائڈ والے گھر چلے جائے گا میں ابھی اپنے ایک دوست سے بات کرتا ہوں وہ کل دوپہر تک وہاں سب کچھ ریڈی کر دے گا۔۔

جب وہاں سارا کام ہوجائے گا تو میں آپ کو وہاں ڈراپ کردوں گا پھر وجاہت کو وہاں کسی طرح بھیج دونگا۔۔

اور جب تک آپ لوگ وہاں ہونگے یہاں کی تیاری بھی مکمل ہوجائے گی

ہادی کا آئیڈیا ہانیہ کو اچھا تو لگا مگر وہ گھبرا بھی رہی تھی اس طرح کا سرپرائز کے بارے میں تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔

کافی دیر تک وہ تینوں بات چیت کرتے رہے پھر کہیں جاکر ہانیہ مانی مگر اس شرط پر کہ ساری تیاری وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرے گی بس سامان وہاں پہنچا دیا جائے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

اگلے دن جیسے ہی وجاہت شان صاحب اور ہادی آفس کیلئے نکلے ہانیہ نے حور اور نیلم کو ساتھ لیا اور سی سائڈ جانے کیلئے نکل پڑی۔۔

نیلم کو وہ ساتھ اسلئے لے کر گئی کہ ساتھ میں حور بھی تھی

گھر پہنج کر ہانیہ نے سارا سامان چیک کیا اور لگ گئی کام پر اسے گھر کا ٹیرس ڈیکوریٹ کرنا تھا جہاں سے سمندر کا خوبصورت نظارہ دکھتا تھا۔۔

تقریباً تین گھنٹے کی محنت کے بعد ہانیہ نے جانچتی نظروں سے ٹیرس کو دیکھا جب وہ مطمئن ہوگئی تو نیچے لاونج میں آئی جہاں نیلم حور کو لئے بیٹھی موبائل میں کچھ دیکھ رہی تھی۔۔

ہانیہ کو دیکھ کر حور نیلم کی گود سے اتر ہانیہ کی طرف گھٹھنے چل کر آگئی نیلم بھی اپنی جگہ سے اٹھی

بھابھی ہوگیا کیا آپکا کام نیلم نے چہک کر کہا۔۔

وہ کب سے ٹیرس دیکھنا چاہتی تھی جسے ہانیہ سجا رہی تھی۔۔

ہاں ہوگیا آؤ دکھاتی ہوں۔۔

ہانیہ نے حور کو گود میں لیا اور نیلم کو لئے ٹیرس پر آگئی ۔۔

نیلم تو بس ساری سجاوٹ دیکھ کے دنگ ہی رہ گئی۔۔

ٹیرس کے چاروں طرف سفید نیٹ کے پردے وہ پہلے ہی ملازم سے لگوا چکی تھی پوری ٹیرس کو سفید گلابوں سے سجایا گیا تھا۔۔

سفید گلاب ہانیہ اور وجاہت دونوں کو ہی بہت پسند تھے لال گلاب سے بھی زیادہ۔۔

چھوٹی چھوٹی ایل ای ڈی لائٹس پورے طریقے سے ٹیرس پر سجائی گئی تھی جو کہ رات میں جل کر ایک خواب ناک منظر پیش کرتی

کہیں کہیں کینڈل اسٹینڈ رکھے تھے جہاں سینٹڈ کینڈلز رکھی تھی۔۔

ٹیرس کافی بڑی تھی جسے بہت مہارت سے سجایا گیا تھا۔۔

بیچ میں ایک ٹیبل اور دو چیئرز تھے ٹیبل پر ہانیہ نے سفید کور ڈالا ہوا تھا اور اس کے اوپر لال گلابوں سے بھرا واز اور ایک کینڈل اسٹینڈ تھا

نیلم منہ کھولے یہ سب دیکھتی رہ گئی۔۔

سب سے حسین جو چیز وہاں لگ رہی تھی وہ تھی کرسٹل کا وینڈ چائن جو کہ ہوا سے بہت خوبصورت آواز دے رہا تھا اور دن کی روشنی میں بہت حسین لگ رہا تھا۔۔

ہانیہ نے مسکرا کر نیلم کا منہ بند کیا اور ہادی کو کال کر دی کہ نیلم اور حور کو آکر لے جائے اور ساتھ میں جو کیک اسنے آرڈر کیا تھا وہ لے آئے۔۔

کیک بھی ہانیہ خود ہی بنانا چاہتی تھی مگر کام زیادہ تھا اور وقت کم تو کیک اسنے باہر سے ہی منگوالیا۔۔

قریب آدھے گھنٹے بعد ہادی وہاں پہنچا تو ٹیرس کی سجاوٹ دیکھ کے داد دیئے بنا رہ نہ سکا ہانیہ کو۔۔

اس سادی سی جگہ کو آپ نے کتنی خوبصورتی سے سجایا ہے بھابھی۔۔

ہادی نے بھی ٹیرس کا اچھے سے جائزہ لے کر کہا۔۔

شکریہ تعریف کرنے کیلئے آپ کیک لے آئے ۔۔

ہانیہ نے مسکرا کے پوچھا

جی ہاں کیک میں لے آیا ہوں فریج میں رکھ دیا ہے اور آپ کیلئے کھانا لایا ہوں وجی نے لنچ کرلیا ہوگا اور میں نیلم اور حور کے ساتھ باہر لنچ کرلونگا۔۔

وجی کو یہاں آنے میں آدھا گھنٹہ لگ جائے گا تو آپ کھانا کھا لیجیے گا۔۔

میں چلتا ہوں ۔۔

ہانیہ کو چیز سینڈوچز دے کر ہادی نیلم اور حور کو لئے چل دیا

ہانیہ نے ان کے جاتے ہی فون لیا اور وجاہت کو کال کی اور اسے وہاں آنے کیلئے کہا۔۔

ہانیہ وہاں اکیلی ہے یہ سن کے ہی وجاہت آفس سے نکلا کہ کہیں اکیلے میں اسکی طبیعت خراب نہ ہوجائے

ساتھ میں اسے غصہ بھی آرہا تھا کہ وہ وہاں گئی ہی کیوں وہ بھی اکیلے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

پرنسس تم نے غور سے دیکھا نا سب ۔۔

گاڑی چلاتے ہوئے ہادی نے نیلم کو ایک نظر دیکھ کے کہا۔۔

حور کو پیچھے چائلڈ سیٹ پر بٹھا دیا تھا ہادی نے

کیا مطلب کیا دیکھا۔۔

نیلم نے گردن موڑ کر ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔

مطلب کے جیسے بھابھی وجی کو سرپرائز دینے کیلئے اتنی محنت کر رہی تھیں کیا تم بھی میرے لئے کروگی۔۔

ہادی نے نیلم کو دیکھ کے سنجیدگی سے کہا۔۔

نیلم ایک پل کو سوچ میں پڑ گئی

ہادی نے اسے سوچ میں گم دیکھا تو دھیرے سے اس کے گال پر چٹکی کاٹی۔۔

جس سے نیلم ایک دم چونک گئی اور اپنے گال پر ہاتھ رکھ کے ہادی کو گھورنے لگی۔۔

ہادی اسکے گھورنے پر ہنس دیا۔۔

کیا ہوا پرنسس ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ میں یہ سب کروگی کہ نہیں مگر آپ نے جو یہ چٹکی کاٹی ہے نہ تو اب میں ایسا کچھ نہیں کروگی۔۔

نیلم نے منہ بنا کے کہا ۔۔

ٹھیک ہے مت کرنا کچھ بھی بس میرے ساتھ رہنا ہمیشہ مسکراتے ہوئے میرے لئے زندگی کی سب سے بڑی خوشی یہی ہوگی۔۔

موڑ کاٹتے ہوئے ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا تو نیلم بس اسے پیار سے دیکھے گئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت وہاں پہنچا تو اسے دیکھ کے چوکیدار نے فوراً دروازہ کھولا وجاہت تیزی سے گاڑی پورچ میں کھڑی کرکے گھر کے اندر داخل ہوا اور زور زور سے ہانیہ کو آوازیں دینے لگا جب ہانیہ نے کوئی جواب نہ دیا تو وجاہت کو اسکی اور زیادہ فکر ہونے لگی۔۔

گھر کا ملازم بھی موجود نہیں تھا گھر میں وجاہت تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر کے فلور پر آیا اور سیدھا ٹیرس کی طرف گیا۔۔

مگر جیسے ہی اس نے ٹیرس کو دیکھا تو اسکے پیر وہیں جم سے گئے۔۔

وجاہت ٹیرس کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ہانیہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ جھٹکے سے اسکی طرف منہ موڑا۔۔

ہانیہ بے بی پنک کلر کی ساڑھی پہنے ہوئے تھی بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا جو کہ ایک کندھے پر گرے ہوئے تھے۔۔

ہلکا سا میک اپ بھی کیا تھا آج اور ہونٹوں پر شاکنگ پنک کلر کی لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی

وجاہت نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور آخر میں اسکی نظر ہانیہ کہ لبوں پر آکر رک گئی۔۔

ہانیہ اچھے سے سمجھ گئی تھی کہ وجاہت کو اسکا سب کے سامنے تیار ہوکر نکلنا بلکل اچھا نہیں لگتا مگر اکیلے میں تو وہ صرف اپنے شوہر کیلئے جتنا چاہے تیار ہوسکتی تھی

تو اس نے آج کی تمام تیاری صرف وجاہت کیلئے ہی کی اسے یقین تھا کہ وجاہت اسے آج تیار ہونے پر نہیں ڈانٹے گے۔۔

وجاہت کو یوں ہی تکتا ہوا پاکر ہانیہ نے ہاتھ میں موجود رنگ اپنے انگلیوں کے پوروں پر لی اور وجاہت کے سامنے ہی گھٹھنوں کے بل بیٹھی۔۔

اور رنگ اسکی طرف بڑھائی۔۔

وجاہت کو سمجھ میں نہ آیا کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔

میں جانتی ہوں آپ کو یہ سب تھوڑا عجیب لگ رہا ہوگا مگر کیا کروں آپ کی محبت نے مجھے یہ سب کرنے پر مجبور کردیا۔۔

آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں میں مجھے اپنی زندگی میں شامل کرنے کیلئے

ایک ادھوری عورت کو مکمل کرنے کیلئے۔۔

آپ سے شادی کرکے میں نہ صرف آپکی بیوی بنی بلکہ ایک ماں بھی بنی۔۔

شکریہ مجھے اتنا چاہنے کیلئے

شکریہ ہر پل ہر سانس میں مجھے یہ احساس دلانے کیلئے کہ آپ ہر وقت میرے ساتھ ہیں۔۔

میں نہیں سمجھتی کہ اپنے دل کی محبت جو صرف آپ کیلئے ہے وہ کیسے لفظوں میں آپ کو بتاؤ مگر اتنا کہونگی کہ یہ جو سامنے سمندر ہے جتنا یہ گہرا ہے اس سے بھی کئی گنا گہری میری محبت ہے آپ کیلئے۔۔

میں آپ کے ساتھ اپنی آخری سانس تک رہنا چاہتی ہوں۔۔

مرتے دم تک صرف اور صرف آپ کی رہنا چاہتی ہوں۔۔

جب آپ میری فکر کرتے ہیں تو غرور آجاتا ہے مجھ میں ایسا ہمسفر ملنے پر۔۔

جب مجھے مسکرا کر دیکھتے ہیں تو دل میں کئی دفاع میں خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری زندگی میں آپ جیسا پیارا شخص شامل کیا۔۔

مجھے نہیں پتہ کہ میں نے اپنی زندگی میں کونسا ایسا اچھا کام کیا تھا جسکا نتیجہ مجھے اپکی محبت کی صورت ملا ہے۔۔

یہ دن بہت خاص ہے کیونکہ اسی دن مجھ سے محبت کرنے والا شخص میرے لئے اس دنیا میں آیا۔۔

یہ دن بہت خاص ہے کیونکہ آپ بہت خاص ہیں۔۔

جتنی آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں میں بھی اتنی ہی کرتی ہوں مگر آپ کی محبت کی شدت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تو بس یہ ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے امید کرتی ہوں آپ کو پسند آئے گی

اور آپ مجھ سے جو ناراض ہیں وہ ناراضگی بھی ختم کردیں گے۔۔

ہانیہ محبت سے گٹھنوں کے بل وجاہت کے قدموں کے پاس بیٹھی تھی۔۔

اور اسے ہی محبت سے دیکھ رہی تھی۔۔

اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھیں نم تھی۔۔

یہی کچھ حال وجاہت کا بھی تھا پھر وہ بھی اپنے گٹھنوں کے بل بیٹھا اور ہانیہ کو زور کے خود میں بھینچ لیا۔۔

وجاہت کے سینے سے لگ کے ہانیہ کا ایک آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسل گیا۔۔

وجاہت نے اسے الگ کیا اور محبت سے اسکے چہرے کے ہر نقوش پر اپنے لب رکھتا گیا۔۔

جسے ہانیہ نے آنکھیں بند کئے ہی دل سے محسوس کیا۔۔

وجاہت نے اسے اٹھایا اور چئیر پر بٹھایا

ہانیہ نے وجاہت کا ہاتھ تھام کر اس میں ایک رنگ پہنائی اور محبت پاش نظروں میں اسے دیکھ کے کہا۔۔

سالگرہ مبارک ہو۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *