Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 29,30)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

ہادی نے گاڑی فارم ہاؤس کے گیٹ پر روکی تو گارڈ نے اسے دیکھ پھرتی سے مین گیٹ کھولا ۔۔

ہادی نے گارڈ کے سلام کا جواب دے کر گاڑی اندر لے گیا اور گیٹ پر روک کر وہ گاڑی سے اترا اور نیلم کی طرف کا دروازہ کھولا۔۔

جیسے ہی نیلم گاڑی سے اتری ہادی نے اسکی آنکھوں پر ایک سیاہ رنگ کی پٹی باندھ دی۔۔

یہ میری آنکھیں کیوں بند کر رہے ہیں آپ ہادی۔۔

نیلم کو ہادی کی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ آج بہت زیادہ عجیب طریقے سے پیش آرہا تھا۔۔

پرنسس تمہیں مجھ پر یقین ہے نہ۔۔؟؟

ہادی نے نیلم کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

آپ پر تو مجھے خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔۔

نیلم نے ہادی کے ہاتھ کا لمس اپنی ہتھیلی پر محسوس کر کے نہ جانے کیسے بغیر کچھ سوچے سمجھے بول گئی۔۔

ہادی نے نیلم کے چہرے کو غور سے دیکھا جو دیکھ تو کچھ نہیں سکتی تھی مگر پھر بھی ہادی کی نظروں کو خود پر محسوس کرکے وہ سرخ ہورہی تھی۔۔

ہادی نے نیلم کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اسے لئے وہ فارم کے بیک سائڈ پر بنے لان میں آگیا

نیلم کے پیروں میں پہنے سینڈل ہادی لان میں آنے سے پہلے ہی آتار چکا تھا ۔۔

ہادی نے جب نیلم کے پیروں کو ہاتھ لگایا اور نیلم ایک دم کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی۔۔

یہ آپ کیا کر رہے ہیں میرے پیروں کو مت ہاتھ لگائیں۔۔

نیلم کے چہرے کا رنگ آڑا دیکھ کے ہادی نے مسکرا کر اسے پیار سے سمجھایا۔۔

اب تمہاری آنکھیں بند ہیں تم نے سینڈل ایسی پہنی ہے کہ اسے اتارنا تھوڑا مشکل ہے اسٹیپ تم کھول نہیں پاؤگی اسی لئے میں اتار دیتا ہوں کونسی بڑی بات ہے۔۔

ہادی نے بولتے ہوئے نیلم کے پیر سینڈل سے آزاد کر دیئے۔۔

اب وہ اسے لئے لان میں داخل ہوا

نیلم کو اپنے پیروں کے نیچے نرم سا لمس محسوس ہورہا تھا جسے محسوس کر کے اسے گدگدی بھی ہورہی تھی اور ساتھ میں خوشی بھی ہورہی تھی جسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر پارہی تھی۔۔

ہادی اسے لئے تھوڑا آگے گیا اور پھر اسے کندھوں سے تھام کے ایک طرف کھڑا کیا۔۔

ریڈی ہو۔۔ نیلم کے کان میں سرگوشی ہوئی تو وہ بس سر اثبات میں ہلا کے رہ گئی۔۔

ہادی نے اس سے کہا کہ آپنی آنکھیں کھولے پھر جیسے ہی اسنے اپنی آنکھیں کھولی ہادی اسکے سامنے ایک گھٹنے پر بیٹھا نیلم کے سامنے ایک مخملی ڈبی کھولے بیٹھا تھا۔۔

یہ منظر دیکھ ایک پل تو نیلم دنگ رہ گئی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ حقیقت ہے یہ خواب۔۔

الفاظوں میں بیان کرنا بہت ہے جو تمہارے دل میں ہے وہی میرے دل میں بھی ہے

اور ہمارے رشتے کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ ہم دونوں نے ہی کبھی نہ تو الفاظوں سے نہ ہی اپنے اعمال سے ایک دوسرے کو اس بات کا احساس دلایا کہ ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے کتنی محبت ہے

اور شاید محبت سے زیادہ ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے عزت ہے اور مان ہے

میں ہمیشہ چاہتا تھا کہ میں جس لڑکی سے محبت کروں اسے ایک پاک اور حلال رشتے میں رہ کر محبت کروں

تمہارے گھر والوں سے پاپا بات کرچکے ہیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔

سب کی رضامندی جان کر اب تم سے تمہاری رضا مندی چاہتا ہوں

تمہارا جواب کیا ہے وہ میں اچھے سے جانتا ہوں

پر کیا کروں یہ دل الفاظوں میں اقرار سننا چاہتا ہے

میں وعدہ کرتا ہوں تمہارا یہ حسین کھلا ہوا خوبصورت چہرا جسکی گلابی رنگت مجھے تمہاری طرف کھینچتی ہے اسے کبھی مرجھانے نہیں دونگا۔۔

زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دونگا۔۔

محبت کے ساتھ ساتھ تمہیں میں عزت بھی دونگا جو کہ میں دل سے کرتا ہوں تمہاری ۔۔

بس تمہارے اس حساس سے نازک دل کو سب کی رضامندی سے اپنانا چاہتا ہوں

اور بتاتا چلو کہ ہاں شوخ قسم کا انسان ہوں سب سے فری بہت جلدی ہوجاتا ہوں مگر یقین کرو کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ تک نہ لگایا ہے

اپنے آپ کو اپنے جیون ساتھی کے معیار کے مطابق رکھنے کیلئے اپنے کردار کو بہت مضبوط رکھا ہے میں نے

تم ہی اس دل میں پہلی اور آخری جگہ بنا چکی ہو نہ تم سے پہلے کوئی تھا نہ ہی کوئی اور کبھی آسکتا ہے۔۔

تم سے بہت محبت کرتا ہوں نیلم عالم کیا تم مجھے شادی کرکے مسز نیلم ہادی جمشید بننا پسند کروگی۔۔

ہادی کے الفاظوں نے نیلم پر ایک سحر سہ طاری کر دیا تھا۔۔

آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے مگر چہرے پر مسکان تھی وہ دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی جسنے اسکی محبت اسے دے دی تھی۔۔

کتنا خوبصورت احساس تھا یہ نیلم کیلئے۔۔

بغیر کچھ کہے ہی نیلم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہادی کو اسکا جواب مل گیا تھا لفظوں میں نہیں تھا جیسے وہ چاہتا تھا مگر جواب تو جواب ہوتا ہے اور آج نہیں تو کل اسے نیلم اپنے الفاظوں سے بھی اپنی محبت کا اظہار ضرور کرے گی۔۔

ہادی نے اسکا ہاتھ تھاما اور اس میں نفیس سی ڈائمنڈ رنگ پہنائی

ہادی کا دل بہت کیا ان نرم ملائم ہاتھوں میں پہنی اسکی دی ہوئی انگھوٹی پر اپنے لب رکھے مگر اس نے ایسا کچھ نہ کیا

محبت بھرا لمس بھی وہ نیلم کا محرم بن کر ہی اسے دینا چاہتا تھا۔۔

اپنی جگہ سے اٹھ کر ہادی ہٹ پہ لگی ایک ڈوری کھینچی

تھینک یو سو مچ۔۔ پرنسس میری کوئن بننے کیلئے۔۔

ہادی کے بولنے کی دیر تھی کہ ڈھیروں گلاب کی پتیاں ان دونوں کے اوپر گرنے لگی اور نیلم انہیں دیکھ اپنے ہاتھ پھیلائے دھیمے سے گھومنے لگی چہرا اوپر کئے وہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ گلاب کی پتیوں کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر محسوس کر رہی تھی

اور ہادی بس اسے دیکھ ہی رہا تھا خوشی سے محبت سے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت اور ہانیہ کو پیرس آئے ہوئے ایک ماہ ہونے کو آیا تھا

ان دنوں ہانیہ کیلئے وجاہت کی محبت دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔

گھر والوں سے وہ لوگ تقریباً روز ہی بات کیا کرتے تھے ہادی اور نیلم کے رشتے کے بارے میں ہانیہ کو پتہ تھا جبکہ وجاہت سے یہ بات چھپائی گئی تھی کہ جب وہ لوگ واپس آئیں گے تو اسے سرپرائز دینگے۔۔

وجاہت نیلم کو بہت چاہتا تھا اور ہادی سے تھوڑا چڑتا تھا نفرت نہیں کرتا تھا اور بھائیوں کی طرح اسکا خیال کرتا تھا مگر بس اسکی حرکتوں سے چڑتا تھا۔۔

اور ہادی خود اپنے منہ سے وجاہت کو بتانا چاہتا تھا نیلم اور اسکے رشتے کے بارے میں تاکہ اسکا ری ایکشن دیکھ سکے ۔

سبھی گھر والے ان سے کئی بار پوچھ چکے تھے کہ واپس کب آوگے مگر وجاہت ایک ہی جواب دیتا تھا کہ جب دل کرے گا تب واپس آونگا۔۔

اسے کیا پتہ تھا کہ اسکی وجہ سے اسکی بہن کی انگیجمنٹ سیریمنی رکی ہوئی ہے۔۔

وہ تو بس اپنی سن شائن کے ساتھ خوش تھا۔۔

آفس ہادی اور شان صاحب سنبھال رہے تھے کوئی ضروری کام ہوتا تھا تو وجاہت وہیں سے اپنے لیپ ٹاپ پر کرلیا کرتا تھا اور ضروری میٹنگ ہوتی تھی تو وہ بھی ویڈیو کال کے ذریعے اٹینڈ کرتا تھا۔۔

ریان اور پریہا سے وہ لوگ ملتے رہتے تھے مگر اب تو وہ لوگ بھی 3 ہفتے کی چھٹیوں کے بعد واپس چلے گئے تھے مگر وجاہت کا واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔

رات کو بھی ہانیہ نے اسے اتنا کہا کہ واپس پاکستان چلتے ہیں مگر اس نے باتوں ہی باتوں وہ بات ہی گل کردی

ہانیہ کو غصہ آیا تو وہ حور کو اپنے اور وجاہت کے درمیان میں سلاکر خود منہ موڑے سوگئی تھی۔۔

اتنا تو اسے اندازہ ہوہی گیا تھا کہ وجاہت کو بلکل نہیں پسند تھا کہ اس کے اور ہانیہ کے بیچ کوئی بھی کسی بھی قسم کی مداخلت کرے

تو اپنے طور ہانیہ نے اپنا غصہ اور ناراضگی وجاہت پر آشکار کردی تھی۔۔

پہلے پہل تو وجاہت نے اسے بہت غصے سے گھورا مگر ہانیہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی

یہ ڈھیل بھی وجاہت نے ہی اسے دی تھی جو کہ اب کھل کے اپنی محبت اور ناراضگی دونوں کا اظہار کرتی تھی۔۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

صبح کی نرم دھوپ جب ہانیہ کے چہرے پر پڑی تو اس نے کسمسا کر آنکھ کھولی تو دیکھا وہ روز کی طرح آج بھی وجاہت کے حصار میں بندھی ہوئی تھی۔۔

وہ اسے نیند میں بھی اتنی مضبوطی سے تھام کے سوتا تھا کہ ہانیہ کروٹ بھی نہیں لے پاتی تھی

شروع شروع میں اسے مشکل ہوئی مگر 2 ہفتے بعد اسے تقریباً عادت ہوگئی

جس طرح دن بہ دن وجاہت کی محبت بڑھ رہی تھی اسی طرح وہ دن بہ دن اسے لے کر حساس بھی ہوتا جارہا تھا۔۔

محبت جب اپنی حدود سے آگے بڑھتی ہے تو جنون کی حد تک پہنچنے لگتی ہے

اور وہ کہتے ہیں نہ محبت میں سکون ہے تو عشق میں جنون ہے اور جنون کا دوسرا نام ڈر بھی ہے

کسی اپنے کو کھو دینے کا ڈر جو کہ شاید وجاہت کے دل میں گھر کر رہا تھا

جتنا وہ ہانیہ سے محبت کرنے لگا تھا اتنا ہی اسے ڈر بھی رہتا تھا کہ وہ کہیں اسے کھو نہ دے۔۔

ہانیہ اٹھنا چاہتی تھی مگر وجاہت کی گرفت مضبوط تھی

محبت پاش نظروں سے اسنے وجاہت کا خوبصورت چہرا دیکھا سرخ و سفید رنگت پر ڈارک براؤن اسٹبل اسے اور خوبصورت بناتی تھی

ہانیہ اسکے چہرے پر سجی اسٹل کو ہاتھوں سے چھو رہی تھی

ہانیہ کی انگلیوں کے لمس پر وجاہت نے آنکھ کھول کے دیکھا تو ہانیہ اسے ہی محبت سے دیکھ رہی تھی۔۔

وجاہت نے ہانیہ کا چہرا اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلا کر چہرے پر آئے بال کان کے پیچھے کئے اور ہانیہ کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیئے۔۔

چلیں چھوڑیں بھی ۔۔ وجاہت نے جب دوبارہ اپنی آنکھیں موندیں تو ہانیہ نے اسے ٹوکا۔۔

سن شائن یہ تمہاری سزا ہے رات کو مجھ سے دور جانے کی۔۔

آنکھیں بند کئے ہی وجاہت نے ہانیہ سے کہا اور جو گرفت اسنے تھوڑی ڈھیلی کی تھی وہ دوبارہ مضبوط کر دی تھی۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ کو یاد آیا کہ وہ تو رات میں وجاہت سے ناراض تھی اور حور کو ساتھ لے کر سوئی تھی ۔۔

مگر اب جب اسنے تھوڑا سر اٹھا کے دیکھا تو حور اپنے کاٹ میں ہی سورہی تھی۔۔

کیسے ظالم باپ ہیں آپ وجاہت اپنی بیٹی کو بھی زرا سا برداشت نہیں کرتے۔۔

ہانیہ کی بات پر وجاہت نے آنکھیں کھولیں اور اپنا سر کہنی پر ٹکائے اسے گور سے دیکھا۔۔

مجھے اپنی بیٹی سے بہت محبت ہے سن شائن مگر اگر بات تمہارے اور میرے درمیان آنے کی ہوئی تو ہاں یہ سچ ہے میں حور کو بھی برداشت نہیں کرونگا۔۔

مگر حور میں میری جان بستی ہے اسے میں کبھی کچھ نہیں کہونگا یہ تم بھی جانتی ہو تو اسے جان بوجھ کر ہمارے درمیان مت لایا کرو ۔۔

سنجیدہ لہجے میں بات کر کے وجاہت نے ہانیہ کو اپنی گرفت سے آزاد کیا اور واشروم کی طرف چلا گیا۔۔

جبکہ ہانیہ اسی سوچوں میں تھی کہ ناراض تو وہ تھی تو یہ کیوں ایک بار پھر مسٹر اکڑو کی طرح باتیں سنا کے چلے گئے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت جاگنگ پر جا چکا تھا تو اب ہانیہ نے جلدی سے ناشتے کا سامان ریڈی کیا

اب وجاہت کے آنے پر اسے بس فرینچ ٹوسٹ فرائی کرنے تھے۔۔

اپنے لئے چائے اور وجاہت کی کافی اسنے ریڈی کر دی تھی اب وہ بیڈ روم میں گئی حور کو جگایا اور اسے تیار کردیا۔۔

ناشتہ دونوں ہی کچھ خاص نہیں کرتے تھے۔۔

حور کی بھی روٹین چینج ہوگئی تھی اب وہ راتوں کو سکون سے سوتی تھی اور صبح ہی ہانیہ کے جگانے پر آرام سے آٹھ جایا کرتی تھی۔۔

ہانیہ تو کہتی تھی کہ حور اپنے باپ کی دہشت دیکھ کے ہی سوجاتی تھی جو اسکے جاگنے پر حور کو خود گود میں لئے رکھتا تھا اور ہانیہ کو سوجانے کا کہہ دیتا تھا۔۔

دادو کے کہنے پر ہانیہ وجاہت سے حور کا تھوڑا بہت کام کروانے لگی تھی تو جب وجاہت کو حور کو سنبھالنا تھوڑا آسان لگا تو اس نے سب سے پہلے راتوں کو جاگنے کی ہانیہ کی ڈیوٹی خود لے لی۔۔

اور صرف 2 ہفتے بعد ہی حور نے اپنے بابا کے آگے سرینڈر کردیا اور پھر وہ پوری رات سکون سے سونے لگی۔۔

وجاہت جاگنگ سے واپس آیا فریش ہوکر ایک بار پھر حور کے ساتھ مصروف ہوگیا اتنے میں ہانیہ نے جلدی جلدی ناشتہ ریڈی کرکے ٹیبل پر سیٹ کیا اور وجاہت کی گود سے حور کو لیا اور اسے اسکی چائلڈ سیٹ پر بٹھا کر اسے ناشتہ کروانے لگی۔۔

وجاہت بھی مسکرا کر ناشتہ کر رہا تھا اور ساتھ میں ہانیہ سے بات بھی کر رہا تھا۔۔

تھوڑی دیر پہلے والی ناراضگی شاید وہ کب کی بھول چکا تھا۔۔

ہانیہ نے جب اسکا موڈ پھر سے اچھا دیکھا تو ایک بار پھر کچھ دنوں کی دہرائی بات ایک بار پھر دہرائی۔۔

وجاہت۔۔ ہانیہ نے دھیمے لہجے میں اپنا نام سن کر وجاہت نے اسے غور سے دیکھا۔۔

بولو سن شائن کیا ہوا۔۔

ٹوسٹ کا بائٹ لے کر اسنے ہانیہ سے کہا۔۔

ہم پاکستان کب جائیں گے مجھے اب سب کی بہت یاد آرہی ہے ایک مہینہ ہوگیا ہمیں یہاں آئے اب مجھے واپس جانا ہے۔۔

ہانیہ نے اس بار ضدی لہجے میں کہا تو وجاہت نے فورک اور نائف ٹیبل پر رکھ کے پوری طرح ہانیہ کی طرف متوجہ ہوا۔۔

کیوں تمہیں کیا میرے ساتھ یہاں رہنا اچھا نہیں لگ رہا ۔۔

وجاہت نے دبے دبے غصے سے کہا وہ ہانیہ پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اسکا لہجا نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سخت تھا۔۔

اتنے ٹائم بعد ہانیہ نے وجاہت کا غصہ اور اسکی سرد آنکھیں خود پر محسوس کی تو آنکھیں خود بہ خود نمکین پانی سے بھر گئیں۔۔

وجاہت نے جب ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ٹیرس پر آگیا اور اپنا غصہ قابو کرنے لگا۔۔

کتنے دل سے وہ ہانیہ کے ساتھ یہاں رہ رہا تھا اسکی خوشی کیلئے وہ حور کو بھی ساتھ ہی لایا تھا

وہ مزید یہاں رہنا چاہتا تھا مگر ہانیہ اسے مسلسل ایک ہفتے سے دن میں کئی بار یہی جملہ کہتی تھی۔۔

پتہ نہیں اسے پاکستان جانے کی کیا جلدی تھی۔۔

وجاہت نے جیب سے فون نکالا اور پاکستان واپس جانے کیلئے

ٹکٹس کنفرم کئے فلائٹ رات کی تھی تو اسے اب جلد ہی پیکنگ کرنی تھی۔۔

ٹیرس سے نکل کر اسنے کمرہ لاک کیا اور جلدی جلدی اپنا ہانیہ اور حور کا سامان پیک کرنے لگا۔۔

جب تک غصہ ٹھنڈا نہیں ہوجاتا وہ ہانیہ کے سامنے جانا نہیں چاہتا تھا۔۔

کہیں غصے میں وہ کچھ سخت الفاظ نہ بول دے اپنی سن شائن کو جس سے اسے تکلیف ہو اور اسے تکلیف میں دیکھ کے خود اسے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو۔۔

جاری ہے۔۔

Episode 30

مما مجھے نہیں کھانا یہ سب آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں۔۔

نیلم نے روتی صورت بنا کے عالیہ کو دیکھا۔۔

تو ہم نے کہا تھا اتنا تیز بخار چڑھا کے بیٹھ جاؤ۔۔

عالیہ بیگم کچھ بولتی پیچھے سے ہادی کی آواز پر دونوں نے مڑ کے ہادی کو دیکھا۔۔

ہاں میں نے تو دعوت نامہ لکھا تھا نہ کہ آؤ بخار اور مجھ پر چڑھ جاؤ

نیلم کے انداز پر ہادی کے چہرے پر مسکان آگئی جسے اسنے نیلم سے چھپا لیا تھا۔۔

میرا بچہ کچھ دن کھالو یہ سب جب ٹھیک ہوجاؤ گی تو جو کہو گی وہی بنا کے دونگی ۔۔

عالیہ بیگم نے نیلم کو پچکارتے ہوئے کہا

مما میں دو دن سے صرف ویجیٹیبل سوپ اور یہ سلاد ہی کھا رہی ہوں اور اب یہ دلیہ تھوڑا رحم کرلیں مجھ پر ویسے ہی دوائیوں سے منہ کا ذائقہ بگڑا ہوا ہے اور اوپر یہ اعلا ذوق کے پکوان۔۔

نیلم نے ایک بار پھر منہ بنا کے کہا اور صوفے سے اٹھنے لگی کہ ایک دم اسکا سر چکرایا اور وہ گرنے کے سے انداز پر صوفے پر بیٹھی۔۔

ہادی فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کر نیلم کے پاس بیٹھ گیا۔۔

دیکھو پرنسس 2 دن تک تم بخار میں بری طرح تپتی رہی ہو ابھی میں تمہاری ضد پر تمہیں باہر لایا ہوں اگر پھر ضد کروگی تو ایک مہینے تک کمرے سے باہر نہیں آسکو گی ۔۔

ہادی نے مصنوعی غصے سے کہا وہ چاہتا تھا نیلم اسکی ڈانٹ کے اثر سے تھوڑا بہت کچھ کھالے مگر وہ تو آنسو بہانے بیٹھ گئی۔۔

جائیں سب جائیں میں چلی جاؤگی اپنے کمرے میں میرے برو نہیں ہیں تو سب مجھ پر اپنا حکم چلا رہیں

نیلم نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو ہادی نے بیچارگی سے عالیہ بیگم کو دیکھا۔۔

رشتہ پکا ہونے کے بعد بھی وہ لوگ ویسے ہی رہ رہے تھے جیسے پہلے رہتے تھے

ہادی اور وجاہت دونوں ہی نیلم کا بہت خیال رکھتے تھے وہ دونوں سے ہی لاڈ اٹھواتی تھی اپنے مگر نور کے جانے کے بعد وجاہت تھوڑا اپنے آپ میں ہی سمٹ گیا تھا

اور نیلم ہادی کے زیادہ قریب ہوگئی تھی مگر جانے کب اسکے دل میں ہادی کیلئے فیلنگز جاگی وہ خود بھی سمجھ نہیں پائی۔۔

گھر والوں نے ان دونوں کے ملنے اور ساتھ بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور عالیہ بیگم کو اپنی تربیت پر پورا بھروسہ تھا

ہادی بھلے سے جانتا ہو اپنے اور نیلم کے رشتے کے بارے میں مگر نہ تو کسی نے اس کی نظروں میں فرق دیکھا تھا نہ ہی اسکے برتاؤ میں۔۔

سب کو یہی لگتا تھا کہ یہ رشتہ بڑوں کی مرضی سے ہوا ہے

عالیہ بیگم نے ہادی کے بیچارگی سے دیکھنے پر کندھے اچکا دئیے جیسے کہہ رہی ہوں کہ بگاڑا بھی تو تم نے ہے۔۔

جبکہ نیلم اپنے رونے کا شغل پورا کر رہی تھی اتنے میں ہی اسنے وجاہت کی فکر سے بھری آواز سنی

کیا ہوا گڑیا رو کیوں رہی ہو؟؟

وجاہت ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تھا اور نیلم کے رونے کی آواز پر نیلم کے پاس آگیا

وجاہت کو دیکھ نیلم جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور وجاہت کے پاس جانے لگی کہ ایک دم پھر اسکا سر چکرایا تو وہ گرنے لگی جسے اب ہادی نے مضبوطی سے تھام لیا۔۔

کیا کر رہی ہو پرنسس بیٹھ نہیں سکتی کیا ایک جگہ۔۔

ہادی نے اسے کندھوں سے تھام کے پھر سے بٹھایا وجاہت بھی فوراً ہی نیلم کے ساتھ بیٹھا اور فکر مندی سے اسکا پیلا زرد چہرا دیکھنے لگا۔۔

ہانیہ حور کو لئے گھر میں داخل ہوئی تو حود نیلم کو دیکھ کے اسکے پاس جانے کی ضد کرنے لگی

ہانیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور وہ خود چلنے کی ضد کر رہی تھی مگر ابھی وہ صرف سہارے سے کھڑی ہوتی تھی۔۔

تو ہانیہ اسے لئے نیلم کے پاس گئی پر اسے دیکھ کے وہ بھی پریشان ہوگئی۔۔

ہوا کیا اسے۔۔

وجاہت نے سختی سے ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔ جیسے اسی نے اسے بیمار کیا ہو۔۔

ہادی نے پہلے تو گھور کے وجاہت کو دیکھا پھر گہری سانس لے کر بولا۔۔

یہ محترمہ 3 دن پہلے ہونے والی بارش میں خوب نہائی ہیں ٹھنڈ کی بارش تھی تو بخار چڑ گیا اور اب 3 دن سے بخار میں تپ رہی ہیں۔۔

آج تو پھر بھی بہت بہتر ہے بس کچھ کھا پی نہیں رہی تو یہ حال ہوگیا ہے

ہادی کے لہجے میں تھوڑی تکلیف تھی جسے وجاہت نے اچھے سے محسوس کیا تھا۔۔

کیوں گڑیا ایسے کیوں ضد کر رہی ہو وجاہت نے نیلم کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہا۔۔

تو نیلم چھوٹے بچوں کی طرح وجاہت کے کندھے پر سر رکھ کے بیٹھ گئی۔۔

برو یہ لوگ مجھے سبزیوں کے سوپ سلاد دلیہ وغیرہ کھلا رہے ہیں

پہلے ہی میں بیمار ہو اوپر سے یہ بد ذائقہ کھانا مجھ سے بلکل کھایا نہیں جارہا ۔۔

ہانیہ کو دیکھ کے ہادی اپنی جگہ سے اٹھا تو ہانیہ نیلم کی دوسری طرف آکر بیٹھ گئی جبکہ حور کو ہادی ہانیہ سے لے کر اسے باہر لے کر چلا گیا۔۔

چندا کھاؤگی نہیں تو ٹھیک کیسے ہوگی ابھی تم مصالحوں والے کھانے نہیں کھا سکتی جب ٹھیک ہوجاؤ گی تو پھر سے جو دل کرے کھا لینا۔۔

ہانیہ نے نیلم کو پیار سے سمجھایا۔۔

کچن سے نکلتی ہوئی عالیہ بیگم نے جب وجاہت اور ہانیہ کو دیکھا تو تیزی سے انکی طرف آئی۔۔

تم لوگ آگئے سچ میں اب آنکھیں ترس رہی تھی میری تو۔۔

وجاہت پہلے اٹھ کے اپنا مام کے گلے لگا پھر ہانیہ نے عالیہ بیگم کو گلے لگا لیا

ہانیہ سے الگ ہو کر عالیہ بیگم نے ہانیہ کا ماتھا چوما۔۔

میں نے بہت یاد کیا تم لوگوں کو اور حور کہاں ہے۔۔

وہ اسے ہادی لے کر گئے ہیں ابھی باہر لان میں ہونگے۔۔

ہانیہ نے جواب دیا اور وجاہت پھر سے نیلم کے پاس بیٹھ گیا۔۔

مام آپ نیلم کا کھانا لے کر آئیں میں خود اپنی گڑیا کو اپنے ہاتھ سے کھلاؤ گا۔۔

وجاہت کا بدلہ ہوا روپ دیکھ کے عالیہ بیگم نے حیرت سے وجاہت کو دیکھا

کچھ ایسا ہی حال نیلم کا بھی تھا

پچھلے ایک سال میں پہلی بار دوبارہ سے وجاہت پہلے والا وجاہت لگ رہا تھا

عالیہ بیگم نے مسکرا کے سر اثبات میں ہلایا اور کچن کی طرف چلی گئی۔۔

ہانیہ نے بھی ایک نظر وجاہت کو دیکھا جو اسکی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا

پھر نیلم کا ماتھا چوم کر وہ دادو کے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔

یہ وقت دادو کے آرام کا تھا جبکہ شان صاحب آفس میں تھے

ہادی بھی ساتھ ہی آفس گیا تھا مگر کوئی ضروری کام نہ تھا تو جلدی آگیا ویسے بھی اسکا دل تو گھر میں اٹک کر رہ گیا تھا ۔

وجاہت کی نظروں نے ہانیہ کو جاتے ہوئے دیکھا

ہانیہ کو جب محسوس ہوا وجاہت اسے دیکھ رہا ہے تو اسنے پیچھے مڑ کے دیکھا مگر اس کے دیکھنے سے پہلے ہی وجاہت نے منہ موڑ کر ایک بار پھر نیلم سے بات کرنے لگا۔۔

ہانیہ سمجھ گئی کہ یہ ناراضگی اتنی آسانی سے نہیں جانے والی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت نے جلدی جلدی اپنا ہانیہ اور حور کا سارا سامان پیک کیا اس سب میں اسے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ لگ گیا تھا

اس بیچ ہانیہ کے کئی دفع دروازہ بجایا مگر وجاہت نے اسے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہ کچھ کام کر رہا ہے۔۔

جب وہ اسٹڈی روم سے اپنا لیپ ٹاپ لینے نکلا تو ہانیہ نے کمرے میں جاکر دیکھا کہ وجاہت نے سارا سامان تقریباً پیک کر دیا تھا۔۔

ایک منٹ کیلئے تو وہ حیران رہ گئی وجاہت کے کمرے میں واپس آنے کے بعد اس سے پوچھنے لگی۔۔

یہ سب پیک کیوں کیا ہے

وجاہت نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھا پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔۔

تمہیں گھر والوں کی بہت یاد آرہی تھی تو سوچا انہیں کے پاس لے جاؤں تمہیں۔۔

میں نے ایسا تو نہیں کہا تھا کہ فوراً ہی چلتے ہیں بس پوچھا تھا کہ کب جائیں گے۔۔

اور یہ بات تم ایک ہفتے سے پوچھ رہی ہو صاف کہہ دو کہ تنگ آگئی ہو مجھ سے۔۔

وجاہت کے بولنے پر ہانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔

مجھے بس سب کی یاد آرہی تھی اسی لئے پوچھ رہی تھی میں بھلا آپ سے تنگ کیسے آسکتی ہوں

آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے بولتے ہوئے ہانیہ کی آواز بھرا گئی۔۔

وجاہت نے گہرا سانس لے کر ہانیہ کو دیکھا جو نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔

اگر آپ کہیں گے تو ہم ایک مہینے اور یہاں رہیں گے بس میں کبھی اتنی دن دور نہیں رہی گھر والوں سے تو اسی لئے آپ سے بار بار پوچھ رہی تھی

معاف کردیں مجھے۔۔ ہانیہ نے وجاہت کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کے کہا۔۔

ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اسنے اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو کہ ہانیہ نے پکڑے ہوئے تھے۔۔

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں نے فلائٹ کی ٹکٹس بک کردیں ہیں رات کی فلائٹ ہے

آپ ناراض ہیں مجھ سے اور غصہ بھی ۔۔

ہانیہ نے اب کے ایک ہاتھ وجاہت کے گال پر رکھ کے کہا۔۔

ہاں ناراض ہوں ہرٹ کیا ہے تم نے مگر غصہ نہیں ہوں

وجاہت نے ہانیہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

مانیں گے کیسے ؟؟ بچوں سا لہجا لئے ہانیہ نے وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

وجاہت کو اس کے انداز پر بہت پیار آیا جس کا اظہار اس نے ہانیہ کا ماتھا چوم کے کیا۔۔

تمہیں بہتر پتہ ہوگا کہ میں کیسے مانو گا

مناؤ مجھے۔۔

شوخ نظروں سے وجاہت نے ہانیہ کو دیکھا تو ہانیہ اسے دیکھ ہنسنے لگی۔۔

آپ نے منایا تھا کیا مجھے جو میں مناؤ آپ نے ہی کہا تھا نہ کہ آپ کو منانا نہیں آتا تو مجھے بھی نہیں آتا۔۔

ہانیہ نے ہنستے ہوئے کہا تو وجاہت کا موڈ ایک بار پھر خراب ہوگیا اور وہ ہانیہ کو چھوڑ کے پھر سے اپنے کام میں لگ گیا۔۔

جب سیکھ جاؤ تو منا لینا ۔۔

مصروف سے انداز میں وجاہت نے ہانیہ کو جاتے ہوئے دیکھا تو کہا۔۔

اور وجاہت کی بات سن کے ہانیہ پھر سے مسکرا دی۔۔

جانتی تھی کہ وجاہت کی ناراضگی کیسی ہوگی ۔۔

کچھ اندازہ تو تھا اسے اتنے دنوں کا کہ وہ ہانیہ کے بغیر رہ نہیں سکتا

ہنستے ہوئے وہ کمرے سے نکلی جبکہ وجاہت نے حیرت سے اسکی پیٹھ دیکھی۔۔

کیا اسکی ناراضگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

سارے راستے وجاہت نے ہانیہ کو خود سے مخاطب نہیں کیا ہاں اسکی پوچھی گئی باتوں کا جواب وہ دے رہا تھا۔۔

کہ کہیں اپنی ناراضگی کے چکر میں وہ اسے ہی ناراض نہ کردے۔۔

اپنی تو خیر ہے مگر اپنی سن شائن کی ناراضگی وہ کیسے برداشت کرتا کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اس سے دور دور رہتی

فلائٹ میں جب ہانیہ تھک کر سوگئی تو وجاہت نے اسکا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا

پھر جب ہانیہ کی آنکھ کھلی تو اسنے دیکھا کہ وجاہت سیٹ پر سر ٹکائے گہری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

ہانیہ کو جاگتا دیکھ وجاہت نے پیار سے اسکا بالوں کو سہلایا۔۔

یہ دیکھ ہانیہ کے دل کو سکون ملا کہ وجاہت ناراض سہی مگر وہ اس سے کبھی محبت کرنا نہیں چھوڑے گا۔۔

کوئی بات نہیں گھر پہنچ کر میں اپنے مسٹر اکڑو کو منا لونگی۔۔

دل میں سوچتے ہوئے ہانیہ نے ایک بار پھر آنکھیں موند لیں۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ٹھیک ہو پرنسس۔۔

ہادی نے دروازہ کھول کے دیکھا تو نیلم جاگ رہی تھی تو وہ اندر اکر اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔

دروازہ اس نے کھلا ہی چھوڑ دیا۔۔

جی ٹھیک ہوں۔۔ ہادی نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔۔

مجھے تم روتی ہوئی بلکل اچھی نہیں لگتی ۔۔

نیلم نے ہلکا سا اسے مسکرا کے دیکھا۔۔

تو پھر میں کیسی اچھی لگتی ہوں۔۔

ہادی نے اسے غور سے دیکھا

مجھے تم ہر طرح سے ہر روپ میں ہر انداز میں اچھی لگتی ہو مگر جب تم روتی ہو تو مجھے تکلیف ہوتی ہے

اور یہ ابھی سے نہیں ہمیشہ سے ہوتی ہے۔۔

مگر ابھی تو اپنے کہا کہ میں روتے ہوئے اچھی نہیں لگتی

میرے کہنے کا مطلب تھا کہ روتی ہوئی تو ٹھیک ہے مگر روتے ہوئے جو تمہاری ناک بہتی ہے وہ مجھے اچھی نہیں لگتی

ہادی کے شرارت سے کہنے پر نیلم کا منہ کھل گیا اور غصے سے وہ اپنے ہاتھ چھڑانے لگی جسے ہادی نے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا

چھوڑیں میرے ہاتھ ۔۔ نیلم نے کہا تو ہادی نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔۔

سوچ لو چھڑوانا چاہتی ہو اپنے ہاتھ میرے ہاتھوں سے۔۔

ہادی کی اس بات پر نیلم ایک دم خاموش ہوگئی اور سر نفی میں ہلانے لگی۔۔

نیلم کو یوں نفی میں سر ہلاتا دیکھ ہادی نے اسکے ہاتھوں کو چھوڑا اور بس گڈ گرل کہہ کر کمرے سے ہی چلا گیا۔۔

اس سے پہلے دل کوئی بغاوت کرتا وہ اسکے پاس سے اٹھ کر ہی آگیا۔۔

ویسے بھی وجاہت آگیا تھا تو ہادی اب اپنے رشتے کے بارے میں جلد از جلد وجی سے بات کرنا چاہتا تھا اور اب وہ منگنی نہیں سیدھا شادی کرنے کی بات کرے گا سب سے۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *