Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 06)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

ہانیہ اور وجاہت گھر پہنچے تو سبھی گھر والے ان کے انتظار میں تھے ۔۔

سبھی وجاہت سے پرجوش ہو کر ملے کیونکہ وجاہت 4 ماہ کے بعد گھر آیا تھا۔۔

وجاہت بھی سب سے خوشدلی سے ملا اتنے میں ہانیہ کمرے میں جا کر حور کو لے آئی۔۔

وجاہت تو بس حور کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔

جب وہ 4 ماہ پہلے گیا تھا تو حور بہت کمزور سی بچی تھی ۔۔

اور اب جس حور کو وہ لیا ہوا تھا وہ 8 ماہ کی بہت صحت مند بچی تھی نہ جانے کتنی دیر تک تو وجاہت حور کو لئے بیٹھا رہا اسے پیار کرتا رہا۔۔

مگر حور تھی کہ تھوڑا کھیلنے کے بعد ہانیہ کے پاس جانے کی ضد کرنے لگی۔۔

یہ دیکھ کے وجاہت کو تھوڑا برا ضرور لگا کہ اسکی بیٹی اس پر ہانیہ کو ترجیح دے رہی تھی۔۔

ہانی بیٹا آپ حور کو لے لو وجاہت بہت لمبے سفر سے تھک گیا ہوگا اسے آرام کرنے دو۔۔

عالیہ بیگم نے ہانیہ کو کہا۔۔

ہانیہ نے حور کو وجاہت سے لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھائے تو وجاہت نے اسے منع کر دیا۔۔

رہنے دو میں اپنی بیٹی کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنا چاہتا ہوں۔۔

وجاہت ہانیہ کو منع کرتا اپنے کمرے میں جانے لگا۔۔

ہانی آپ بھی وجاہت کے ساتھ جاؤ حور اسے تنگ کرے گی۔۔

دادو نے ہانیہ کو بھی وجاہت کے ساتھ جانے کا کہا۔۔

ہانیہ بھی حور کیلئے وجاہت کے ساتھ چلدی۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو ہانیہ کو اپنے ساتھ چلتا دیکھ وجاہت نے اسے ٹوکا۔۔

وہ حور آپکو تنگ کرے گی اسی لئے آپکے ساتھ آگئی۔۔

ابھی وجاہت ہانیہ کو کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہ کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے دنگ رہ گیا۔۔

وجاہت کا کمرہ پوری طرح سے بدلا ہوا تھا پہلے اسکا کمرا بلیک اور گرے کلر کے کامبینیشن کا تھا مگر اب وائٹ اور ڈارک رائل بلو کلر کا تھا ۔۔

پورا روم ہی رینوویٹ ہوا تھا۔۔

کوئی بھی چیز پہلے جیسی نہیں تھی۔۔

یہ سب کس نے کیا۔۔

وجاہت نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔

وہ دادو نے ہی آپکے کمرے میں کام کروایا ہے اور مجھے کہہ رہی تھیں کہ آپ کے آنے کے بعد میں برابر والے روم میں ہی شفٹ ہوجاؤ۔۔

دو مہینے پہلے ہی ان دو کمروں میں کام ہوا تھا۔۔

ہانیہ جو جانتی تھی وہ وجاہت کو بتا چکی تھی۔۔

وجاہت نے اب کمرے کا جائزہ لیا۔۔

پورا کمرہ اب کافی روشن اور خوبصورت لگ رہا تھا۔۔

وجاہت کو اپنا کمرا بہت پسند آیا۔۔

وجاہت حور لئے بیڈ پر گیا اور اسکو گود میں لے کر پیار کرنے لگا۔۔

مگر حور تھی کہ وجاہت کی گود میں رورہی تھی ہانیہ دور ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔

یہ اتنا رو کیوں رہی ہے۔۔

وجاہت نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔

یہ میڈم بہت شرارتی ہیں آپ انہیں نیچے چھوڑ دیں یہ گود سے زیادہ خود سے ادھر ادھر گھومنا پسند کرتی ہیں۔۔

وجاہت نے ہانیہ کی بات پر حور کو نیچے اتار دیا تو وہ گٹھنے گٹھنے چل کر ادھر سے ادھر گھومی اور پھر ہانیہ کی طرف چل دی۔۔

حور مسلسل وجاہت کو اگنور کر رہی تھی اور اسی وجہ سے وجاہت کو ہانیہ پر غصہ آرہا تھا۔۔

یہ تم نے کیا کر دیا میری بیٹی کو یہ مجھ سے دور کیوں بھاگ رہی ہے۔۔

وجاہت نے دبے دبے غصے سے ہانیہ کو کہا۔۔

جب 4 ماہ اپنی بیٹی سے دور رہیں گے تو وہ کیا خاک آپکا لمس پہچانے گی۔۔

وہ بڑی ہورہی ہے لوگوں کو پہچاننے لگی ہے اس بیچ آپ یہاں نہیں تھے۔۔

ایک دو دن میں وہ اپ کے ساتھ بلکل پہلے جیسے ہوجائے گی۔۔

ہانیہ نے حور کو گود میں لیا اور کمرے سے جانے لگی ۔۔

مما کہہ رہی ہیں تھی آپ تھک گئے ہونگے آرام کریں۔۔

یہ کہہ کر ہانیہ روم سے چلی گئی۔۔

جبکہ وجاہت غصے سے بس مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا ابھی کچھ کر بھی تو نہیں سکتا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

تھکن کی وجہ سے وجاہت بیڈ پر لیٹتے ہی سوگیا تھا

اب اسکی آنکھ بھوک کی شدت سے کھلی تو رات کے 8 بج رہے تھے۔۔

وجاہت واشروم فریش ہونے چل دیا۔۔

کچن میں عالیہ بیگم نے اپنی نگرانی میں وجاہت کا پسندیدہ کھانا بنوایا ۔۔

کھانا بلکل ریڈی تھا تو عالیہ بیگم نے ہانیہ کو وجاہت کو جگانے اور کھانے کیلئے بلانے کا کہا۔۔

تو ہانیہ سر ہلا کے وجاہت کے کمرے کی طرف چل دی ۔۔

زیادہ کچھ نہیں کرنا اگر وہ سورہے ہونگے تو انہیں آواز دے دونگی کہ اٹھ جائیں اور آکر کھانا کھالیں اور اگر جاگے ہوئے ہونگے تو دروازے سے ہی بول کر واپس آجاؤ گی۔۔

ہانیہ یہ سب سوچتے ہوئے وجاہت کے کمرے کے دروازے پر گئی۔۔

پہلے دروازہ ناک کیا مگر کوئی جواب نہ پاکر دروازہ کھول کے خود ہی کمرے کے اندر گئی مگر کمرے میں بھی کوئی نہ تھا۔۔

ممکن تھا کہ وجاہت واشروم میں ہو۔۔

وہ دروازہ ناک کر کے عالیہ بیگم کا پیغام وجاہت تک پہنچا کے وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔۔

مگر ہائے رے قسمت۔۔

جیسی ہی اسنے دروازہ ناک کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا اسی وقت وجاہت نے دروازہ کھول دیا ۔۔

وجاہت وائٹ ٹراؤزر پر بغیر شرٹ کے گلے میں تولیہ ڈالے فریش فریش سا واش روم کے دروازے پر تھا۔۔

ہانیہ نے اسے دیکھ کے فورا رخ پھیر لیا

وہ آپکو مما کھانے کیلئے بلا رہی ہیں۔۔

ہانیہ یہ کہہ کر کمرے سے بھاگنے لگی کہ اچانک وجاہت نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی جانب کھینچا۔۔

وجاہت کی اس حرکت پر ہانیہ کی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی۔۔

میں جب سے آیا ہوں تم مجھے غصہ دلا رہی ہو۔۔

کچھ زیادہ ہی زبان نہیں چلنے لگی۔۔

وجاہت کی اتنی قربت پر ہانیہ بوکھلا سی گئی۔۔

میں نے کیا کہا مجھے مما نے کہا تھا کہ آپ کو کہو کہ کھانا کھانے آجائیں۔۔

ہانیہ نے بہت مشکل سے الفاظ ادا کئے۔۔

وجاہت کے پاس سے شاور جیل کی بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی جسے ہانیہ پوری طرح محسوس کر سکتی تھی۔۔۔

اپنی لمٹ میں رہو اور مجھ سے دور رہو سمجھی تم۔۔

وجاہت نے اسکے بازو پر گرفت اور مضبوط کی تو ہانیہ درد کی شدت سے کراہ اٹھی۔۔

مجھے درد ہورہا ہے۔۔

ہانیہ بس اتنا ہی بول پائی۔۔

مگر وجاہت پر تو جیسے کچھ اثر ہی نہیں ہورہا تھا۔۔

میں نے تمہیں پہلی ملاقات میں ہی یہ بات باور کروا دی تھی کہ مجھ سے اور میرے معاملات سے دور رہنا مگر تمہارے تو کچھ زیادہ ہی پر نکل آئے ہیں۔۔

وجاہت نے نخوت سے ہانیہ کو دیکھا جسکی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ کر اسکے گال پر آگیا تھا۔۔

آئیندہ اگر تم نے مجھ سے زبان درازی کی تو اس سے بھی زیادہ برا پیش آسکتا ہوں میں۔۔

وجاہت نے جھٹکے سے ہانیہ کو خود سے دور کیا۔۔

ہانیہ تیزی سے کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ڈائننگ ٹیبل پر وجاہت سب سے ساتھ کھانے میں مصروف تھا جب دادو نے ہانیہ کے بارے میں وجاہت سے پوچھا۔۔

وجاہت بیٹا ہانی کہاں ہے تمہیں بلانے گئی تھی خود آئی ہی نہیں۔۔

پتہ نہیں دادو مجھے کھانے کا بول کے وہ وہاں سے چلی گئی۔۔

وجاہت کے الفاظ پیچھے سے آتی ہوئی ہانیہ نے سنے مگر وہ بغیر کچھ کہے ہی اپنی چئیر پر بیٹھ گئی حور کو گود میں لئے۔۔

ہانی بیٹا کہاں رہ گئی تھی۔۔

عالیہ بیگم نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔

مما وہ حور سونے کیلئے تنگ کر رہی تھی تو اسے ہی سلا رہی تھی مگر اتنی دیر بعد بھی وہ نہیں سوئی تو میں اسے نیچے ہی لے آئی۔۔

ہانیہ کی بات سن کے سب ایک بار پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے ۔۔

صرف وجاہت نے ہی یہ بات نوٹس کی کہ ہانیہ بہت بے دلی سے صرف چمچ ہی چلا رہی تھی پلیٹ میں کھا کچھ نہیں رہی تھی ۔۔

اور اوپر سے حور بھی اسے کھانا کھانے نہیں دے رہی تھی جس پر ہانیہ کے منہ سے حور کیلئے اف بھی نہ نکلا۔۔

کھانے سے فارغ ہو کر سبھی گھر والے ایک ساتھ بیٹھے چائے کے مزے لیتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔

تو وجاہت بیٹا کیسا رہا تمہارا پراجیکٹ۔۔

شان صاحب نے وجاہت کو مخاطب کیا جسکی نظریں اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلتی ہوئی حور پر ہی تھی۔۔

ڈیڈ پراجیکٹ بہت بہت اچھا رہا اس پراجیکٹ کے ذریعے ہمیں بہت بڑی کامیابی ملی ہے اور ہماری کمپنی ترقی کی ایک نئی اونچائی پر پہنچ گئی ہے۔۔

وجاہت نے پر جوش لہجے میں شان صاحب کو بتایا۔۔

واؤ برو اس بات پہ تو سیلیبریشن ہونا چاہئیے نا۔۔

نیلم نے وجاہت کی بات سن کے چہک کے کہا۔۔

ہاں کیوں نہیں بس ایک بار ہادی آجائے پھر سیلیبریشن بھی کریں گے۔۔

وجاہت نے بھی خوشی سے ہی جواب دیا۔۔

بیٹا ہادی کو گئے 6 ماہ ہوگئے وہ آیا کیوں نہیں۔۔

دادو نے ہادی کے بارے میں وجاہت سے سوال کیا۔۔۔

دادو بس وہ سارا کام فائنل کر کے آب کافی عرصے تک پاکستان میں ہی رہے گا آپ کے ساتھ۔۔

ہاں بیٹا ہادی سے ملے ہوئے 6 ماہ گزر گئے اسکو تو اپنی دادو کی یاد بھی نہیں آتی۔۔

دادو نے اپنے پلو نے اپنی آنکھیوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

ایسا نہیں ہے دادو اس بار کام ہی اتنا ہے کہ مجھے بھی 4 ماہ لگ گئے تو وہ تو پھر سارا کام ہی سنبھالتا ہے اسے تو وقت لگتا ہی ہے نہ۔۔

ہمم۔۔ دادو نے بس سر اثبات میں ہلا دیا۔۔

ہانی بیٹا آپ کیوں خاموش ہو ورنہ تو ہماری بیٹی سبھی سے باتیں کرتی ہے۔۔

شان صاحب نے ہانیہ کو مخاطب کیا جو خاموشی سے صوفے پر بیٹھی بس حور کو ہی دیکھے جارہی تھی۔۔

کچھ نہیں بس حور کو دیکھ رہی ہوں۔۔

ہانیہ نے مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا کے کہا۔۔

ہانی میری جان کیا ہوا ہے بیٹا بہت چپ چپ سی ہو۔۔

دادو نے بھی اب ہانیہ کی خاموشی کو اب نوٹ کیا۔۔

دادو کے کہنے پر سبھی نے ہانیہ کی طرف دیکھا سب کی نظروں میں اس نے وجاہت کی نظروں کو بھی خود پر محسوس کیا۔۔

ہانیہ ایسی ہی تھی وہ اپنے جزبات چھپانا جانتی ہی نہیں تھی خوشی ہو یہ غم وہ اسکے چہرے سے ہی جھلکتا تھا۔۔

کچھ نہیں دادو بس بابا کی یاد آرہی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ دنوں کیلئے بابا کے گھر چلی جاؤ۔۔

ہانیہ نے اس گھر سے فرار کا راستہ یہی سوچا۔۔

وجاہت کے الفاظ اور اسکا رویہ اسے بہت برا لگا تھا۔۔۔

وہ اس سے کوئی واسطہ رکھنا نہیں چاہتی تھی مگر اتنے دنوں میں اس نے وجاہت کے بارے میں اتنا کچھ سنا اور اسکا نام ہمیشہ اپنے نام سے جڑا محسوس کیا۔۔

اور پھر دادو نے بھی اسکو اتنا سمجھایا کہ وہ وجاہت کو اپنی اہمیت کا احساس دلائے۔۔

اسی لئے وجاہت کی بات اسے بہت بری لگی اسکی نظروں میں اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا جس پر وجاہت نے اسے ڈانٹا۔۔

ٹھیک ہے بیٹا آپ کل چلی جاؤ حور کو لے کر وجاہت آپ کو چھوڑ آئے گا

ویسے بھی شادی کے بعد سے ہی وجاہت ایک بار بھی آپ کے گھر والوں سے نہیں ملا۔۔

دادو کے حکم پر وجاہت فوراً بولا۔۔

دادو کل مجھے بہت کام ہیں اور حور کہیں نہیں جائے گی میں اتنے مہینوں بعد آیا ہوں میں حور کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔۔

ٹھیک ہے تو بس تم ہانی کو چھوڑ آنا اور حور کو بھی پھر خود ہی سنبھالنا۔۔

ہانیہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر دادو نے اسے کچھ بولنے نہ دیا۔۔

ساجدہ بیگم بھانپ چکی تھی کہ وجاہت کے آنے کے بعد ہانیہ خاموش خاموش سی تھی شاید وجاہت نے اسے کچھ کہا ہوگا۔۔

ہانیہ کی اہمیت وجاہت کو سمجھانے کیلئے یہ ضروری تھا کہ وجاہت حور کو کچھ وقت ہی سہی خود سنبھالے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

دادو یہ ہادی کون ہے جس کے بارے میں آپ لوگ بات کر رہے تھے۔۔

ہانیہ روز کی طرح آج بھی رات کے وقت دادو کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔

یہ اسکا معمول تھا وہ اپنا زیادہ تر وقت ساجدہ بیگم کے ساتھ ہی گزارا کرتی تھی ۔۔

بیٹا ہادی شان عالم کے دوست کا بیٹا ہے ہادی کی پیدائش کے وقت اسکی ماں چل بسی تو ہادی زیادہ تر عالیہ کی گود میں ہی پلا بڑا ہے ۔۔

جنید نے دوسری شادی نہیں کی کبھی اور ہادی کیلئے بھی وہ بے فکر ہوگیا تھا کیونکہ وہ یہی ہمارے پاس رہا ہے ہمیشہ سے۔۔

بس جب بھی جنید پاکستان آتا تھا تبھی ہادی کچھ دن کیلئے اپنے بابا سے ملنے جاتا تھا۔۔

جنید اپنی بیوی کے مرنے کے بعد پاکستان سے باہر چلا گیا۔۔

مگر چونکہ تب تک ہادی عالیہ سے کافی مانوس ہوگیا تھا اسی لئے وہ اسے ساتھ لے کر نہیں گیا۔۔

ہادی وجاہت کا ہم عمر ہے وہ دونوں بہت اچھے دوست بھی ہیں ۔۔

ہادی پاکستان سے باہر کا بزنس سنبھالتا ہے اور وجاہت پاکستان کا۔۔

دونوں ہی مل کر بزنس چلاتے ہیں جب ہادی کو وجاہت کی ضرورت ہوتی ہے تو وجاہت کو بھی ملک سے باہر جانا ہوتا ہے۔۔

ایسا سمجھ لو ہادی بھی اس گھر کا ایک فرد ہے۔۔

دادو نے اسے تفصیل سے سب بتایا۔۔

اس پر ہانیہ نے صرف جی اچھا ہی کہا۔۔

ہانی میری جان۔۔

جی دادو بولیں۔۔

بیٹا وجاہت گھر آگیا ہے وہ تمہارا شوہر ہے تمہیں اس کے ساتھ بھی تھوڑا وقت گزارنا چاہئے۔۔

دادو نے ہانیہ کو سمجھانا چاہا کیونکہ وجاہت دوپہر سے گھر آیا ہوا تھا مگر گھر میں کسی نے بھی ان دونوں کو آپس میں بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔

دادو مانتی ہوں وہ میرے شوہر ہیں مگر دادو آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ ہماری شادی کیوں اور کس لئے ہوئی ہے۔۔

یہ شادی تو انہوں نے مجبوری میں اپنی بیٹی کیلئے کی ہے تو اس حساب سے میرا ان سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں بنتا۔۔

ہانیہ نے سر جھکا کر دادو سے کہا۔۔

مگر بیٹا مانتی ہوں تم لوگوں کا رشتہ مجبوری کے تحت جڑا مگر رشتہ تو ہے نہ۔۔

دادو آپ مجبوری کو رشتے کا نام دے رہی ہیں۔۔

ہانیہ نے مسکرا کے جواب دیا۔۔

دادو اس کے آگے کچھ نہ بولیں تو ہانیہ بھی حور کو لئے انکے کمرے سے چلی گئی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *