Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 34)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

سب خوش تھے۔۔

سب سے زیادہ ہادی اور نیلم ۔۔

پارٹی ختم ہونے کے بعد ابھی بھی سب ہال میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔

ہانیہ نیلم سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی اور وجاہت کی نظر مسلسل اسکے کھلے ہوئے چہرے پر تھی۔۔

آج ویسے بھی وہ معمول سے زیادہ مسکرا رہی تھی اتنی ٹائم بعد اپنے ماں باپ اور بھائی سے جو ملی تھی۔۔

اور وجاہت اسے خوش دیکھ کے خوش ہورہا تھا۔۔

مجھے ایک بات بولنی ہے۔۔

ہادی پہلے تو دادو کے ساتھ ان سے باتیں کر رہا تھا اب اپنی جگہ سے اٹھ کر سب کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔

سب لوگ اسکی طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔

فرماؤ کیا فرمانا ہے ویسے بھی آج کچھ زیادہ ہی بول رہے ہو۔۔

وجاہت ہادی کو دیکھ کے سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔

مجھے بس سالے صاحب آپکا شکریہ ادا کرنا ہے۔۔

ہادی نے خوشی سے کہا سبھی اسکے وجاہت کو سالے صاحب بولنے پر مسکرا دئیے سوائے وجاہت کے

کیسا شکریہ۔۔

وجاہت اب بھی سنجیدگی سے بولا۔۔

مجھے لگا تمہیں منانے کیلئے لاکھوں جتن کرنے پڑیں گے کئی ریکوئسٹ کرنی پڑیں گی پھر کہیں جاکر تم مانو گے

مگر میری سوچ کے برعکس تم تو بڑی آسانی سے مان گئے۔۔

ہادی نے خوشی سے کہا تو وجاہت دھیرے سے مسکرا دیا۔۔

تمہیں لگتا ہے میں اتنی آسانی سے مان جاؤگا۔۔

وجاہت نے مسکرا کے کہا اسکی مسکراہٹ میں کچھ ایسا تھا کہ ایک پل کو ہادی سوچ میں پڑگیا۔۔

مان کیا جاؤگے تم مان چکے ہو اور اب اور مجھے تم سے کوئی پرمیشن نہیں چاہئیے۔۔

وجاہت کے بدلتے تیور دیکھ ہادی جھٹ بول پڑا۔۔

مانا ہوں مگر شادی تمہاری تبھی ہوگی جب تم میری کچھ شرائط مانو گے۔۔

وجاہت نے اب کے مدعے کی بات کی تو سبھی گھر والے پہلے تو وجاہت اور پھر ہادی کو دیکھنے لگے۔۔

ہادی نے دل میں سوچا کہ کیوں اسنے ابھی اس اکڑو شہزادے کو چھیڑ دیا

ٹھیک ہے بولو ڈرتا تھوڑی ہوں تم سے۔۔

ہادی نے کچھ سوچ کے کہا۔۔

پہلی شرط یہ ہے کہ۔۔

منگنی وغیرہ کا رواج مجھے نہیں پسند تو سیدھے سیدھے شادی ہوگی۔۔

وجاہت نے سنجیدگی سے کہا مگر ہادی کے دل میں تو لڈو پھوٹ گئے۔۔

نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔ ہادی زیر لب بڑبڑایا مگر چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بیچارگی سے بولا۔۔

ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی منظور ہے ۔۔

ہادی کو مصنوعی سنجیدگی طاری کرتا دیکھ وجاہت نے تاصف سے سر ہلایا۔۔

دوسری شرط یہ ہے کہ شادی کے بعد تم لوگ اسی گھر میں رہوگے میں اپنی گڑیا سے دور نہیں رہ سکتا تو تمہیں ہمیشہ اسی گھر میں رہنا ہوگا۔۔

وجاہت کی بات سے سبھی گھر والے متفق تھے۔۔

ٹھیک ہے یہ بھی منظور ہادی صوفے پر بیٹھا اپنی چاروں انگلیاں لبوں پر رکھے بے چارگی سے بولا جیسے اس سے زبردستی کی جارہی ہو۔۔

نیلم اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی اور سمجھ سکتی تھی دل ہی دل میں وہ اس وقت کتنا خوش ہوگا مگر ظاہر نہیں کر رہا۔۔

تیسری شرط یہ ہے کہ تو ہانیہ کو ہانی نہیں بھابھی بولے گا۔۔

یہ شرط سن کے سبھی گھر والے ایک بار پھر مسکرا دئیے۔۔

دیکھ بھائی یہ نہیں کر سکتا میں ہانی میری دوست ہے تو کیوں اسے میری بھابھی بنانا چاہتا ہے پھر مجھے اسکا احترام کرنا پڑے گا اور ہسی مزاق بھی سوچ کے کرنا پڑے گا

میں بولو گا ہانی کو بھابھی جب تم لوگوں کے دس بارہ بچے ہوجائیں گے۔۔

ہادی نے بولنا شروع کیا تو سب کا قہقہہ فضا میں گونجا مگر آخری بات پر ہال میں بیٹھے تمام افراد پر سکتہ سہ طاری ہوگیا۔۔

ہانیہ کی نظریں جھک گئی جبکہ وجاہت اسی کو دیکھنے لگا

ہادی نے سب کو نہ سمجھی سے دیکھا کیونکہ اسے کچھ معلوم نہ تھا۔۔

دادو نے بات سنبھالنے کیلئے بیچ میں بول پڑی

ابھی ایک بچی نے ان دونوں کو ستایا ہوا ہے اس کو تو پال لیں یہ لوگ

دادو نے حور کی طرف اشارہ کر کے کہا جو واکر میں بیٹھی پورے ہال میں گھوم رہی تھی۔۔

سب نے ایک ساتھ حور کو دیکھا تو سب کی نظریں خود پر پا کر حور کھلکھلا کے ہنس دی ہنستے ہوئے اسکے آگے کے دانٹ دکھنے لگے

سبھی ایک ساتھ مسکرا دئیے اس کی اس ادا پر۔۔

چلو جی سالے صاحب اگلی شرط بتاؤ۔۔

وجاہت جو فل ہادی کو چھیڑنے کے موڈ میں تھا اب اسکا دل بری طرح سے خراب ہوگیا تھا

کیونکہ بظاہر تو ہانیہ سب کو دیکھ کے مسکرا دی مگر وجاہت کو اسکی ہنسی کھوکھلی لگی۔۔

آخری شرط یہ ہے کہ شادی تک تم اپنے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوجاؤ

جمشید انکل آجائیں تو تم ان کے ساتھ وہیں رہوگے میں چاہتا ہوں میری گڑیا کی شادی تمام رسم و رواج کے ساتھ ہو

آخری بات بولتے ہوئے وجاہت اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے کمرے میں جانے کیلئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا

جبکہ ہادی نے ایک دم اسکا برا موڈ دیکھا تو آگے سے کچھ بول ہی نہ پایا۔۔

وجاہت کے جاتے ہی سب ایک ایک کرکے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔

ہادی اور نیلم یہی سوچ رہے تھے کہ اچانک سے سب کو ہوا کیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ حور کو اسکے کمرے میں سلا کر آئی تو دیکھا وجاہت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں بیٹھا تھا۔۔

کیا ہوا آپ کو نیند نہیں آرہی۔۔

بظاہر تو وہ مسکرا کر بولی مگر وجاہت نے کمرے میں مدھم روشنی میں بھی دیکھ لیا تھا کہ وہ روئی تھی۔۔

نیند نہیں آرہی تم بھی تو مجھے ٹائم نہیں دیتی۔۔

وجاہت کے شکایتی انداز پر ہانیہ اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی

غلط کہہ رہے ہیں آپ جناب میں آج کل صرف آپ کو ہی ٹائم دے رہی ہوں

ہانیہ نے وجاہت کا ہاتھ تھام کے کہا۔۔

ہاں وہ تو دکھ ہی رہا ہے وجاہت نے حور کے کمرے کی طرف دیکھ کے کہا۔۔

نہیں ایسا بلکل نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں اپنی بیٹی کو بلکل توجہ نہیں دے رہی آج کل مما ہی دیکھ رہی ہوتی ہیں اسے پورا دن۔۔

ہاں تو اب ہماری بیٹی کو بھی تو تھوڑا سوچنا چاہئے نہ کہ ممی پاپا کو پرائویسی دے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کا ہاتھ اپنی طرف کھینچا تو ہانیہ جھٹکے سے وجاہت کے قریب ہوگئی۔۔

بھلا ساڑھے گیارہ ماہ کی بچی سے آپکو پرائویسی ایشو کیسے ہوسکتے ہیں۔۔

ہانیہ نے شرارت سے کہا ۔۔

تمہیں پتہ ہے میرا دل کر رہا ہے کہ ہم واپس اسی ٹیرس پر جائیں جہاں سب کچھ اس وقت خواب ناک منظر پیش کر رہا ہوگا

گلابوں کی مہک کینڈلز کی مدھر روشنی تم اور میں اور سامنے ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر اور اسکی ٹھنڈی ہوائیں ۔۔

وجاہت نے سرگوشی نما آواز میں کہا تو ہانیہ بس اسے پیار سے دیکھے گئی۔۔

مجھے تو ہر وہ جگہ خوبصورت لگتی ہے جہاں آپ میرے ساتھ ہوتے ہیں

ہانیہ نے وجاہت کی اسٹبل پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔

اب وہ اپنی اس دل کی خواہش کو اپنے تک نہیں رکھتی تھی۔۔

ویسے میرے منع کرنے کے باوجود تم نے آج لپ اسٹک لگائی۔۔

ہانیہ کو دیکھتے ہوئے وجاہت کی نظر جب اسکے لبوں پر گئی تو شکوہ کرنے لگا۔۔

آپ نے لپ اسٹک لگانے سے منع کیا تھا تو میں نے نہیں لگائی یہ تو گلوز ہے

مسکراتے ہوئے ہانیہ نے کہا تو وجاہت کو بھی شرارت سوجھی۔۔

پہلے تو اسے تھوڑا برا لگا تھا مگر اس نے سوچا کہ پارٹی کے بعد پوچھے گا ہانیہ سے مگر اب چاہ کر بھی وہ اسے اور ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔

اچھا یعنی کے یہ الگ ہے۔۔

وجاہت نے شرارتی مسکان لئے کہا۔۔

ہاں یہ الگ ہے ہانیہ وجاہت کا ارادہ سمجھ کے بولتے ہوئے وجاہت کی گرفت سے نکل کے واشروم کی طرف بھاگی

اور اس اچانک ہونے والے عمل پر صرف وجاہت ہنستا رہ گیا

کہاں تک بچو گی واپس یہی آنا ہے تمہیں۔۔

ایک آواز لگا کر وجاہت ہنستے ہوئے لیٹ گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

خیریت اس وقت کال کی۔۔

نیلم نے جب موبائل پر پرنس کالنگ لکھا دیکھا تو ایک نظر پہلے وال کلاک کو دیکھا

جو کہ رات کے تین بجا رہی تھی۔۔

پھر کچھ سوچتے ہوئے کال اٹھا لی۔۔

ہاں وہ مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔۔

ہادی کی سنجیدہ آواز پر نیلم جو لیٹی ہوئی تھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔

کیا ہوا پریشان لگ رہے ہیں آپ۔۔

نیلم کی فکر سے بھرپور آواز سن کر ہادی ایک دم مسکرا دیا۔۔

اسے ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا کہ نیلم بغیر کہے ہی ہمیشہ جان جاتی تھی کہ وہ پریشان ہے یہ خوش

اور اب تو وہ اسکی ہمسفر بننے جارہی تھی

ہاں سوچ رہا ہوں کچھ مگر پریشان نہیں ہوں بے فکر رہو۔۔

تو پھر کیا بات ہے۔۔

نیلم نے پوچھا تو ہادی نے سوچتے ہوئے کہا۔۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں نے مذاق ہی مذاق میں ایسا کیا کہا تھا کہ سب لوگ جو ہنس رہے تھے ایک دم خاموش ہوگئے تھے۔۔

ہادی کے بولنے پر نیلم بھی سوچ میں پڑگئی۔۔

سچ کہوں تو میں بھی یہی سوچ رہی تھی مگر مجھے تو ایسی کوئی بات نہیں لگی تھی

نیلم نے بھی رات میں ہونے والی بات کے بارے میں سوچ کے کہا۔۔

خیر چھوڑو اس بات کو میرے سالے صاحب کو کونسا کیڑا کاٹا ہے کہ میں شادی تک اس گھر میں نہیں رہ سکتا بھلا یہ کیا بات ہوئی۔۔

اب کے نیلم ہادی کی بات پر مسکرا دی۔۔

ہاں تو غلط کیا کہا ہے برو نے ٹھیک ہی تو کہہ رہیں تھے ساری رسمیں ہونگیں تو آپ اس گھر میں تھوڑی نہ رہ سکتے ہو۔۔

ارے یہ کیا بات ہوئی میں تمہیں ہر روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں چاہے تو تاریخ ہو نکاح ہو مایوں ہو مہندی ہو سب میں

جانتی ہو میں تو یہ سوچ رہا تھا کل کہ تم مایوں کے جوڑے میں کیسی لگوگی تمہاری گلابی رنگت پر وہ پیلا زرد رنگ کتنا خوبصورت لگے گا مگر میرے سالے صاحب سے کوئی بیر نہیں تمہیں گھونگھٹ ہی نہ کروادے۔۔

ارے یار یہ اکڑو شہزادہ میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیرنے پر طلع ہے۔۔

ہادی کی اکتائی ہوئی آواز پر نیلم سے اپنا قہقہہ روکنا مشکل ہوگیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

صبح وجاہت کے موبائل میں لگا الارم بجا تو سب سے پہلے ہانیہ کی آنکھ کھلی۔۔

مشکل سے ہاتھ بڑھا کر اسنے الارم بند کیا۔۔

وجاہت ہمیشہ کی طرح اسے مضبوطی سے اپنے حصار میں لئے سورہا تھا۔۔

کبھی کبھی تو ہانیہ کو تھوڑی چڑ ہوتی تھی خود تو وجاہت ایک کروٹ ہی سوتا تھا مجبوری میں ہانیہ کو بھی ساری رات ایک ہی کروٹ میں گزارنی پڑتی تھی۔۔

ابھی وہ وجاہت کو جگاتی اس سے پہلے ہی اسے اپنا گلا بھاری بھاری لگا اور متلی سی محسوس ہوئی۔۔

مگر اگلے ہی پل جو وجاہت کا ہاتھ زور سے جھڑک کر واشروم کی طرف بھاگی۔۔

اس کے اس طرح جانے پر وجاہت بھی جاگ گیا اور وہ بھی اس کے پیچھے گیا تو وہ سنک پر جھکی ہوئی تھی۔۔

وجاہت نے اسکی پیٹھ مسلی اور پھر اسکا منہ دھلایا تو وہ نڈھال سی اسکے سینے سے لگ گئی۔۔

وجاہت اسے سہارا دے کر بیڈ تک لایا اور اسے پانی پکڑایا مگر ایک گھونٹ پی کر ہی وہ پھر سے واشروم کی طرف بھاگی۔۔

یہی سلسلہ تیسری بار ہوا تو اب وجاہت پریشان ہوگیا اور جلدی سے جاکر اپنی مام کو بلانے کیلئے جانے لگا۔۔

مگر ہانیہ نے اسے روک دیا کہ کیونکہ اس وقت وہ سورہی ہوتی ہیں اور ابھی تو صرف صبح کے 6 بجے تھے۔۔

قریب پانچویں بار وجاہت اسے واپس واشروم سے لے کر آیا تو وہ نڈھال سی بیڈ پر ہی گر گئی۔۔

سن شائن کیا کھایا تھا تم نے کل۔۔

وجاہت نے پریشان ہوکر ہانیہ نے پوچھا جو کہ آنکھیں موندے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔

رات کو بس اسنیکس کھائے تھے کھانا کھانے کا من نہیں تھا۔۔

وجاہت تھوڑا پریشان بھی تھا کہ صبح صبح متلی ہونا تو مارننگ سیکنیس ہوتی ہے جو کہ پریگنینسی میں ہوتی ہیں مگر وہ کچھ بول نہ سکا کیونکہ ہانیہ نے اسے خود کہا تھا کہ وہ ماں نہیں بن سکتی تو ضرور فوڈ پوائزننگ ہوا ہوگا اسے۔۔

سوچتے ہوئے وجاہت نیچے کچن میں گیا ایک ملازم سے اس نے ادرک کی چائے بنوائی اور کچھ کوکیز لے کر واپس کمرے میں آیا۔۔

ہانیہ کو بہت مشکل سے اس نے 2 کوکیز کھلائے اور چائے پلائی جسے اس نے بہت اڑے تیڑھے منہ بنا کر پی۔۔

واپس اسے لٹا کر وہ اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا کیونکہ ادرک کی چائے سے اسے تھوڑا فائدہ ہوا اور اب وہ آرام سے لیٹی تھی۔۔

ہانیہ سے بات کرنے سے پہلے اس نے سوچا ڈاکٹر ناز سے بات کرے جو کہ عالیہ بیگم کی دوست ہیں

ویسے تو انکا ایک پرائیویٹ کلینک ہے مگر وہ شہر کی جانی مانی گائنی کالوجسٹ ہیں۔۔

مگر ابھی صبح صبح کے وقت اسے انہیں کال کرنا اچھا نہیں لگا ہانیہ کے بالوں میں انگلی چلاتے ہوئے اس نے دیکھا تو ہانیہ پھر سے نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔۔

حور کے جاگنے پر بھی وجاہت نے ہانیہ کو نہیں اٹھایا اب وہ خود بھی حور کو سنبھال لیتا تھا ۔۔

ہو سکتا ہے یہ سب میرا وہم ہو رات میں صرف اسنیکس کھائے تھے تو ہوسکتا ہے کہ صرف فوڈ پوائزننگ ہو

وجاہت حور کو لئے یہی سوچ رہا تھا مگر حور نے اسے اسکی سوچ سے نکال دیا تو وجاہت اسی کے ساتھ مصروف ہوگیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

نیلم زرہ حور کو تیار کردو۔۔

نیلم اپنے کمرے سے نکلی ہی تھی کہ وجاہت نے اسے مخاطب کیا وہ اسے ہی لینے جارہا تھا۔۔

کیوں نہیں بھائی کہاں ہے حور۔۔

نیلم مسکراتی ہوئی وجاہت کے پاس آئی۔۔

کمرے میں ہی ہے بس دیکھنا وہ شور نہ کرے ہانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔

وجاہت کے کہنے کی دیر تھی کہ نیلم ہانیہ کے بارے میں سن کے پریشان ہوگئی۔۔

کیا ہوا بھابھی کو۔۔

کچھ نہیں کل تھکن ہوگئی تھی شاید اسی لئے طبیعت بگڑ گئی ۔۔

وجاہت نے نیلم کو تسلی دی

ہاں تو منع بھی کیا تھا کہ ساری سجاوٹ خود نہ کریں ملازموں سے کروا لیں مگر انہوں نے سنا ہی نہیں۔۔

نیلم کے کہنے پر وجاہت نے اسے چونک کر دیکھا۔۔

کیا مطلب ہے کل وہاں ٹیرس کی ساری سجاوٹ ہانیہ نے خود کی تھی۔۔

یس برو اور کیا کمال کی ڈیکوریٹ کی تھی بھابھی نے ٹیرس۔۔

نیلم کی آگے کی بات سننے سے پہلے ہی وجاہت غصے میں وہاں سے چلا گیا۔۔

اور نیلم اس سوچ میں پڑ گئی کہ برو کو غصہ کس بات پر آیا۔۔

وجاہت اور ہانیہ کے کمرے میں نیلم آئی تو دیکھا کہ ہانیہ کمفرٹر اوڑھے لیٹی سورہی تھی۔۔

تو وہ وہاں سے ہوتی ہوئی حور کے کمرے میں گئی جہاں وہ اپنے کھلونوں سے کھیل رہی تھی۔۔

نیلم نے اسے وائٹ ٹی شرٹ کے ساتھ ریڈ رومپر پہنایا اور ریڈ ہی کلر کا ہیئر کیچ پہنا کر وہ اسے بے بی لوشن لگا رہی تھی کہ حور نے ایک کھلونا دور پھینکا

کھلونے کی آواز پر ہانیہ کی آنکھ کھلی اور وہ حور کو دیکھنے اسکے کمرے میں آئی تو نیلم ہانیہ کو دیکھ کے تھوڑی شرمندہ ہوگئی۔۔

سوری بھابھی وہ حور نے کھلونا پھینک دیا اور میں نے دیہان نہیں دیا آپ کی نیند خراب ہوگئی جبکہ برو نے کہا تھا کہ آپ کی نیند نہ خراب ہو۔۔

ہانیہ نیلم اور حور کو دیکھ کے مسکرا دی

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے اچھا ہوا آنکھ کھل گئی ورنہ شاید سوتی رہتی۔۔

نیلم نے حور کو مکمل ریڈی کر کے اسکا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا

آج کل ویسے بھی وہ گود میں نہیں آتی تھی بلکہ سہارے سے چلتی تھی۔۔

تو نیلم اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے لے جانے لگی۔۔

بھابھی آپ لیٹ جائیں میں ناشتہ اوپر ہی بھجوا دونگی۔۔

نیلم نے ہانیہ چہرا چھو کے دیکھا کہ کہیں ٹیمپریچر تو نہیں۔۔

ارے نہیں تم چلو میں بس ریڈی ہو کر ابھی آتی ہوں نیچے۔۔

مسکرا کر بولتے ہوئے ہانیہ کبرڈ سے اپنے کپڑے نکالنے لگی۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد وہ فریش ہو کر پیلے رنگ کی فراک پہنے ڈائننگ ٹیبل پر آئی۔۔

وجاہت نے پہلے تو اسے غور سے دیکھا پہلے جب اسنے یہی پیلے رنگ کی فراک پہنی تھی تو اس رنگ پر وہ الگ کی کھلی کھلی سی دکھائی دے رہی تھی مگر آج اسی جوڑے میں اسکا رنگ بھی پیلا زرد پڑا ہوا تھا۔۔

ہانیہ وجاہت کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تو وجاہت نے جان بوجھ کر اسکے سامنے آملیٹ رکھ دیا۔۔

جسکی اسمیل سے ہی اس نے اسے خود سے دور کردیا

وجاہت نے اب غور کیا کہ وہ کچھ دن سے نہ املیٹ کھا رہی تھی نہ ہی کافی یا چائے پی رہی تھی صبح بھی وجاہت نے بہت مشکل سے اسے ادرک کی چائے پلائے تھی۔۔

مگر پھر وجاہت نے اس کے سامنے سیریل رکھ دئیے اور اشارے سے کہا کہ کھاؤ اسے ہانیہ نے منہ بنایا مگر وجاہت نے اسے آنکھیں دکھائی تو وہ زبردستی سیریل کھانے لگی مگر سیریل ہنی فلیور کا تھا تو اسے اچھا لگا

سب اپنی اپنی باتوں اور ناشتے میں مگن تھے کسی نے بھی ان دونوں پر دیہان نہ دیا۔۔

البتہ وجاہت نے ہانیہ کو لے کر ڈاکٹر ناز کے پاس جانے کا فیصلہ کیا

کیونکہ صرف وہم سمجھ کر وہ اتنی بڑی بات کو اگنور نہیں کر سکتا تھا۔۔

پہلے بھی وہ یہ غلطی کر چکا تھا نور کے ساتھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *