Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 27)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

وجاہت لگتا ہے ہمارے بچے ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہیں۔۔

ریان عالیان اور حور کو ساتھ میں کھیلتا دیکھ کے خوشی سے بولا جبکہ وجاہت کی نظریں ضرور بچوں پر تھیں مگر ذہن کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔

کیا ہوا کہاں کھوئے ہوئے ہو

وجاہت نے جب ریان کی ایک دو باتوں کا جواب نہ دیا تو ریان پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔۔

وجاہت نے جب اپنے کندھے طر کسی کا ہاتھ محسوس کیا تو ایک پل تو وہ چونک گیا۔۔

کیا ہوا۔۔ وجاہت نے سوالیہ نظروں سے ریان کو دیکھا۔۔

کچھ نہیں تم مجھے تھوڑے پریشان لگ رہے ہو۔۔

دیکھو میں جانتا ہوں کہ ہم آج پہلی بار ملے ہیں مگر مجھے اچھا لگے گا اگر تم مجھ سے اپنی پریشانی شئیر کروگے۔۔۔

ریان نے وجاہت کو کسی سوچ میں گم دیکھا تو بولا۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے پریشانی تو مجھے کوئی نہیں ہے بس کچھ اور سوچ رہا ہوں۔۔

وجاہت کو ایک پل ریان کا فکرمندانہ انداز اچھا مگر اگلے ہی پل وہ سنبھل گیا۔۔

میں انسسٹ نہیں کرونگا مگر ایک مشورہ دے سکتا ہوں یہ ضروری نہیں کہ ہم ہمیشہ اپنی پرابلمز اپنے تک ہی رکھیں جانتے ہو

میں نے اپنی لائف میں بھی بہت سی غلطیاں کی ہیں جسکا مججے شاید ساری زندگی پچھتاوا رہے گا

اور شاید اگے بھی بہت سی غلطیاں کرتا اگر میرے بڑے بھائی مجھے نہ سمجھاتے۔۔

تو شاید میں آج ایک پرسکون اور اچھی زندگی نہ گزار رہا ہوتا بلکہ کچھ پل کہ غصے کی وجہ سے میں پری کو کھو چکا ہوتا۔۔

ریان کی سنجیدہ بات سن کہ وجاہت نے فیصلہ کیا کہ اسے بھی اب کسی سے بات کرنی ہی چاہئے۔۔

خیر میں نے بھی شاید کچھ غلطیاں کی ہیں مگر جان بوجھ کے نہیں جسکی میں دھیرے دھیرے تلافی کر رہا ہوں۔۔

مگر۔۔

وجاہت بہت سوچ سوچ کہ بول رہا تھا اور ریان اسے غور سے سننے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی دیکھ رہا تھا۔۔

میری اور ہانیہ کی لو میرج نہیں ہے بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ میں نے ہانیہ سے مجبوری میں شادی کی اپنی بیٹی کیلئے۔۔

وجاہت کی بات پر ریان نے اب باقائدہ رخ وجاہت کی طرف کر کے دیکھا۔۔

ریان کی نظروں کا مطلب سمجھ کے وجاہت نے گہرا سانس لے کر کہا۔۔

ہاں حور میری اور ہانیہ کی بیٹی نہیں ہے وہ میری اور میری پہلی بیوی کی بیٹی ہے جسکی حور کے پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔

حور ایک پری میچور بچی تھی تو اسکی دیکھ بھال کوئی کر نہیں پارہا تھا مجھے اسکے لئے ایک نینی چاہئے تھی

پھر ایک دن ہانیہ میرے آفس جاب انٹرویو کیلئے آئی تو اسنے حور کو دیکھا اور اسے پیار کرنے لگی ۔۔

ریان پوچھنا چاہتا تھا کہ اتنی چھوٹی بچی آفس میں کیا کر رہی تھی مگر اسکی ہمت ہی نہ ہوئی کیونکہ اگر وہ وجاہت کو بیچ میں ٹوکتا تو وہ وہیں خاموش ہوجاتا۔۔

اسے دیکھ کے مجھے احساس ہوا کہ اس لڑکی سے زیادہ کوئی میری بیٹی کو نہیں چاہ سکتا اسی لئے اسے میں نے اس کے سامنے شادی کا پروپوزل رکھا

پھر حالات کچھ ایسے ہوئے کہ ہانیہ نے مجھ سے شادی کرلی۔۔

کانٹریکٹ کے بارے میں وجاہت نے کچھ نہ کہا۔۔

شادی کے اگلے ہی دن میں ملک سے باہر چلا گیا کیونکہ میں اپنی لائف میں کسی کو نہیں چاہتا تھا۔۔

کافی مہینوں بعد آیا تو ہانیہ سے اٹیچمنٹ ہوگئی شاید ہمارے رشتے کی کشش نے مجھے اسکی طرف راغب کر دیا۔۔

میں اسے پیرس بھی اسی لئے لے کر آیا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں ایک دوسرے کو جانیں اور دل سے اس رشتے کو قبول کریں۔۔

مگر میں ایک ایسا انسان ہوں جسے اپنی فیلنگز ایکپریس کرنی نہیں آتی۔۔

مجھے لفظوں میں محبت بیان کرنی نہیں آتی۔۔

تم نے کہا کہ تم پہلے سے شادی شدہ تھے اور اس رشتے سے تمہاری ایک بیٹی بھی ہے اور پھر بھی تم کہہ رہے ہو کہ تمہیں محبت کا اظہار کرنا نہیں آتا۔۔

ریان وجاہت کو حیرانی اور الجھن سے دیکھ کے بولا۔۔

ریان کی بات پر وجاہت کے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ آگئی اسی سوال سے بچنے کیلئے وہ کسی سے بات نہہں کر رہا تھا اور یہی سوال ریان نے سب سے پہلے کر لیا۔۔

نور میری بچپن کی دوست تھی وہ مجھے جانتی تھی میرے نیچر کو جانتی تھی مجھے اچھے سے سمجھتی تھی

ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے بس محبت کا اظہار تو ہم دونوں نے ہی کبھی ایک دوسرے سے نہیں کیا تھا

اس نے کبھی شکایت بھی نہیں کی تھی۔۔

مگر آج مجھے ہانیہ کی باتوں سے احساس ہوا کہ ہانیہ بہت الگ ہے وہ ایک فینٹسی ورلڈ میں رہنے والی لڑکی ہے جو زیادہ نہیں تو اپنی لائف میں تھوڑی بہت تو فینٹسی چاہتی ہے۔۔

دیکھو میں سمجھا نہیں پاؤنگا وجاہت بولتے ہوئے اپنے الفاظوں میں ہی الجھ رہا تھا۔۔

وہ خوش ہے خوشی اس کے چہرے سے جھلکتی ہے مگر میں چاہتا ہوں میں اسے ایسی لائف دوں جیسی وہ چاہتی ہے۔۔

وجاہت کو اتنی چھوٹی سی بات پر پریشان ہوتا دیکھ ریان اپنے قہقہہ ضبط کرنے لگا مگر جب وجاہت نے الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھا تو ریان سے ضبط کرنا مشکل ہوگیا اور اسکا قہقہہ فضا میں گونجا۔۔

ریان کو اس طرح قہقہہ لگاتا دیکھ وجاہت کا چہرا غصے سے سرخ ہوگیا۔۔

اور وہ خود کو دل ہی دل میں کوسنے لگا کہ کیوں آخر کیوں اسنے کسی سے اپنی اتنی پرسنل بات شئیر کی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

تمہیں یہاں دیکھ کے مجھے بہت لگا چلو اس غیر ملک میں مجھے ایک دوست مل گئی۔۔

ٹھنڈ کی شدت بڑھتے دیکھ پریہا پاس کے ہی کیفے سے گرما گرم کافی اپنے اور ہانیہ کیلئے لے آئی اور اب وہ دونوں ہی کافی کے مزے لے رہے تھے جب ہانیہ نے پری سے کہا۔۔

ہانیہ کی بات پر پری مسکرا دی۔۔

اگر میں تم سے ایک بات پوچھو تو تم برا تو نہیں مانو گی۔۔

پری نے ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔

پری کے اس سوال پر ہانیہ نے سوالیہ نظروں سے پری کو دیکھا۔۔

ہاں بولو۔۔

دیکھو غلط مطلب نہیں لینا مگر مجھے لگتا ہے تمہارے شوہر تھوڑے شکی نہیں ہیں۔۔

ابھی ریان کو دیکھ کے انکے تاثرات مجھے کچھ اچھے نہیں لگے تھے ۔۔

پری کی بات پر ہانیہ مسکرا دی ۔۔

نہیں ایسا نہیں ہے وہ شکی نہیں بس میرے آس پاس کسی کو برداشت نہیں کرتے ۔۔

انہیں لگتا ہے میں اس دنیا کی حسین ترین انسان ہوں جسے ہر کوئی دیکھے گا ان کا بس نہ چلے مجھے کسی انجان آئی لینڈ پر لے جائیں۔۔

جبکہ وہ یہ نہیں دیکھ سکتے تھے شاید کہ جس انسان سے وہ چڑ رہے ہیں اسکی اپنی بیوی حد سے زیادہ حسین ہے۔۔

ہانیہ نے پری کو پیار بھری نظروں سے دیکھ کے کہا۔۔

ہانیہ کے بچوں جیسے انداز پر پری بھی مسکرا دی اود مسکراتے ہوئے اسکے ڈمپل واضح ہونے لگے۔۔

ایسا نہیں ہے ہانیہ تمہارے ہسبینڈ کا تھوڑی فکر کرنا تو بنتا ہے۔۔

دیکھو میں ایک عورت ہوں مگر پھر بھی تم مجھے اتنی پیاری لگی پھر آدمی تو آدمی کی نظروں کو سمجھتے ہیں

تم باقی لڑکیوں سے بہت الگ ہو یہ سنہری چمکتی ہوئی رنگت ہر کسی کی نہیں ہوتی یہ قدرتی ہے جو کہ کسی کسی کی ہی ہوتی ہوگی اور سب سے نمایاں تمہارے اس سنہری رنگت پر تمہارے گلابی گال ہیں جو تمہیں بلکل الگ ہی بناتے ہیں۔۔

پریہا کے نرم سے لہجے پر ہانیہ نے مسکرا کر کافی کا سپ لیا۔۔

اگر تمہارے ہسبنڈ کو میرے ہنبینڈ کی نظروں میں تھوڑی بھی خرابی محسوس ہوتی تو وہ ان کے ساتھ نہ جاتے نہ ہی ہمیں اکیلا یوں بیٹھنے دیتے۔۔

ایک بات کہوں۔۔

ہانیہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔

ہاں بولو نہ۔۔

پریہا نے چھی کافی کا سپ لے کر کہا۔۔

مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آرہی۔۔

ہانیہ نے اتنی معصومیت سے کہا کہ پریہا کو اس پر بے انتہا پیار آیا۔۔

لڑکی ایک بچی کی ماں بن گئی ہو اور سمجھ بلکل نہیں ہے تم میں۔۔

پریہا نے مسکرا کے کہا تو ہانیہ کے چہرے پر ایک پل کیلئے پریہا نے کچھ ایسا محسوس کیا جسے وہ کوئی نام نہ دے سکی مگر بولی کچھ نہیں۔۔

میں تمہیں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تمہارے ہسبنڈ تمہیں لے کر بہت پوزیسو ہیں اس بات کا ہمیشہ خیال کرنا۔۔

مرد اس ٹاپک پر بہت حساس ہوتے ہیں جب تم نے ریان سے بات کی تھی آج تو تم نے اسے بھائی کہہ کر ہی مخاطب کیا تھا مگر تمہارے ہسبینڈ کو پھر بھی اچھا نہیں لگا تھا تمہارا ریان کے بات کرنا۔۔

تو اس معاملے میں تمہیں تھوڑا سنبھل کے رہنا ہوگا اور اپنی محبت سے اپنے شوہر کی اس حساسیت کو ختم کرنا ہوگا۔۔

ریان میں بھی ایک وقت میں ایسی ہی عادتیں تھی جس سے مجھے سخت چڑ تھی ۔۔

مگر جانتی ہو میرے غصے کی وجہ تھے میں نے تقریباً اسے کھو دیا تھا۔۔

وہ تو بھلا ہو علی بھائی کا یعنی میرے جیٹھ کا جنہوں نے ریان کو سمجھایا ۔۔

پھر مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنے بھی کچھ طریقوں کو بدلنا پڑے گا

پریہا ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہنے لگی جو اسکی باتوں کو بہت غور سے سن رہی تھی۔۔

پھر اپنے کیا کیا۔۔

ہانیہ نے سوال پر پریہا نے اسکا ہاتھ تھام کے کہا۔۔

میں نے پہلے اپنے رشتے کو بہت مضبوط کیا۔۔

پھر اپنی محبت سے ریان کو چینج کیا وقت بہت لگا مگر میں نے صبر سے کام لیا۔۔

تمہیں اس لئے یہ سب کہہ رہی ہوں کیونکہ میں نے آج پہلی باری میں ہی تمہارے ہسبنڈ کے بارے میں یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ انہیں بلکل نہیں پسند تمہارا کسی انجان آدمی سے بات کرنا۔۔

اب ہانیہ کو پریہا کی باتیں سمجھ میں آئی

شکریہ پریہا ۔۔ مجھے واقعی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔

ہانیہ خوشدلی سے بولی تو پریہا جانے کیلئے آٹھی۔۔

تمہیں سمجھانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ میری والی غلطی تم نہ دہراؤ۔۔

پریہا اور ہانیہ دونوں ہی اب بچوں کو دیکھنے کی غرض سے وجاہت اور ریان کی طرف چلی گئیں۔۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت کا غصے سے سرخ چہرا دیکھ کے ریان نے اپنا قہقہہ روکا۔۔

مجھے لگتا ہے ہمیں چلنا چاہئے۔۔

سرد لہجے میں کہتا ہوا وجاہت اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔۔

اسے یوں اٹھتے دیکھ ایک پل تو ریان گڑبڑا گیا۔۔

ارے بھائی تم کہاں چل دئیے تمہیں برا لگا کیا میرا ہنسنا۔۔

ریان نے وجاہت کو دوبارہ بٹھانا چاہا مگر وجاہت کوئی جواب دیئے بغیر بس ریان کو غصے سے گھور رہا تھا۔۔

معافی چاہتا ہوں یار تم اتنے پریشان دیکھائی دے رہے تھے جبکہ بات بہت چھوٹی تھی۔۔

ہنسی اس بات پر آئی کہ ایک وقت میں میں بھی انہیں سوچوں میں گم رہتا تھا بلکہ ٹینشن میں رہتا تھا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔۔

بس اپنا والا حال دیکھ کے خود پر ہنس دیا ۔۔

ریان نے وجاہت کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔

ریان کی بات سن کے وجاہت بھی تھوڑا نرم پڑا ۔۔

دیکھو یار ہم مرد جب محبت کرتے ہیں تو دلوں جان سے کرتے ہیں۔۔

اسی لئے ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے ہر طرح سے خوش دیکھنا چاہتے ہیں

تم خود کہہ رہے ہو کہ تمہیں تمہاری وائف کے چہرے پر خوشی دکھتی ہے۔۔

تو بس اسی خوشی کو انجوائے کرو خود کو اتنا بدلنے کی کوشش نہ کرو کہ اپنا آپ ہی کھو دو۔۔

کیا پتا تمہاری وائف کو تمہارا یہی انداز پسند ہو جسے تم بدلنا چاہتے ہو۔۔

دیکھو ہر انسان میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی ہے۔۔

تم میں بھی آئے گی مگر وقت کے ساتھ ایک دم نہیں

تو آج جیسے ہو ویسے ہی رہو بس اپنی محبت کا احساس دلاؤ سامنے والے کو وہ تمہارے لئے کتنی خاص ہے اسے احساس دلانے کے ساتھ ساتھ لفظوں سے بھی بیان کرو۔۔

محبت جتنی محسوس کی جاتی ہے اتنی ہی الفاظوں میں بیان کی جاتی ہے۔۔

اپنے رشتے میں محبت اور بھروسہ قائم رکھو محبت خود بہ خود پروان چڑھتی جائے گی۔۔

اور رہی بات یہ فینٹسی ٹائپ سرپرائز دینے کی تو انٹرنیٹ زندہ باد وہیں سے کچھ دیکھ لیا کرو میں بھی یہی کرتا ہوں کون اپنا دماغ لڑائے میری تو سوچوں سے پری نکلتی ہی نہیں ہے پلاننگ کیا خاک کرونگا۔۔

آخری بات ریان کے مسکراتے ہوئے کہی۔۔

وجاہت کو ریان کی باتوں نے بہت متاثر کیا۔۔

جتنا وہ شوخ ٹائپ کا لگتا ہے وہ اتنا ہی سنجیدہ بھی ہے۔۔

سالوں بعد وجاہت نے کسی سے یوں کھل کے بات کی جس پر اسے چند منٹ پہلے افسوس ہورہا تھا مگر اب وہ کافی مطمئن تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *