Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 33)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

وجاہت نے ہانیہ کو مسکرا کے دیکھا پھر اپنے ہاتھ کی انگلی میں پہنی پلیٹینئم کی رنگ کو۔۔

ویسے مرد تحفے دیتے ہوئے اچھے لگتے ہیں تم کیوں لے آئی

وجاہت نے ہانیہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما

باہر کے مسلم ممالک میں شادی کے بعد لوگ رنگ پہنتے ہیں جسے ویڈنگ رنگ کہا جاتا ہے تو میں آپ کے لئے یہ پلاٹینییم کی رنگ لے آئی اب سب کو پتہ چل جائے گا پاکستان میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی کہ یہ ہینڈسم ہنک کسی کی قید میں قید ہوچکا ہے

تو بھلائی اسی میں ہے کہ اس قیدی کے جیلر سے بچ کے رہیں۔۔

ہانیہ نے شان کے گردن اکڑا کے کہا تو وجاہت ہانیہ کے اس نئے انداز کو حیرت اور محبت سے دیکھنے لگا۔۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔ ہانیہ کو مسلسل وجاہت کو تکتا ہوا پایا تو پوچھنے لگی۔۔

بس دیکھ رہا ہوں کہ تم کیسی تھی اور کیسی ہوگئی ہر دن تم میں مجھے ایک نئی ہانیہ دکھتی ہے۔۔

وجاہت نے پیار سے کہا تو ہانیہ سوچ میں پڑگئی۔۔

تو آپ کو کونسی ہانیہ زیادہ پسند ہے۔۔ ہانیہ نے سوچتے ہوئے کہا۔۔

میں نے کہا مجھے ہر روز ایک نئی ہانیہ دکھتی یے مگر محبت تو مجھے میری سن شائن سے ہے۔۔

جسکا ایک دل ہے اور وہ دل بہت حسین ہے مجھے اسی دل سے عشق ہے تو روز بدلنے والی ہانیہ سے مجھے کیا۔۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جس ہانیہ کو دیکھا تھا وہ ایک ڈرپوک اکڑ اور ضدی ہانیہ تھی اور اب اس ہانیہ میں نہ ڈر ہے نہ ضد اور نہ اکڑ پن

اس میں سادگی ہے معصومیت ہے سب کیلئے دل میں محبت ہے اور ایک پیاری سی مسکان ہے جو کہ اب ہر وقت اسکے پیارے سے چہرے پر سجی رہتی ہے۔۔

آپ کو پتہ ہے آپ کے الفاظوں میں جادو ہے یہ کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لینے کا فن رکھتے ہیں۔۔

ہانیہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو وجاہت مسکرا دیا۔۔

اسی لئے تو میں لوگوں سے زیادہ بات نہیں کرتا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

اچھا کرتے ہیں بہت ۔۔

ہانیہ نے بھی وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

لو باتوں باتوں میں ایک کام تو بھول ہی گئی۔۔

ہانیہ نے سر پہ ہاتھ مارا اور وجاہت سے اپنا ہاتھ چھڑا کے چلی گئی

وجاہت بس اسے حیرت سے جاتا دیکھتا رہا۔۔

جب وہ چلی گئی تو وجاہت نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ارد گرد کا جائزہ لیا۔۔

جب وہ یہاں پہنچا تو بس ایک نظر ہی اس جگہ کو دیکھا تھا اگلے ہی پل ہانیہ نے اسے اپنی طرف مائل کرلیا

اب اسکی سن شائن سے بڑھ کر کوئی خوبصورت ہو سکتا ہے کیا ہانیہ کو دیکھنے کے بعد وجاہت نے اس پر سے ابھی تک نظر نہیں ہٹائی تھی تو اب اسکے جانے کے بعد غور سے اس جگہ کو دیکھ رہا تھا۔۔

ساری سجاوٹ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ٹیرس کے سامنے کا منظر مل کر اس جگہ کو اور خواب ناک بنا رہے تھے۔۔

وجاہت نے دل ہی دل میں داد دی۔۔

ہانیہ کیک لئے ٹیرس پر آئی اور کیک ٹیبل پر رکھ کے وجاہت کو آواز دی جو ریلنگ تھامے اب سمندر کو دیکھ رہا تھا۔۔

ہانیہ کی آواز پر وجاہت نے مڑ کر دیکھا تو ہانیہ کیک پر لگی کینڈلز جلانے کی کوشش کر رہی تھی جو کہ ہوا سے بار بار بجھ رہی تھی

ٹیبل تھوڑا اونچا تھا تو ہوا ریلنگ سے اوپر آرہی تھی

وجاہت نے اسے چڑتے ہوئے دیکھا تو مسکرانے لگا

ہانیہ کے ہاتھ سے لائیٹر لے کر اسنے ٹیبل پر رکھا

ہانیہ کو چئیر سے اٹھا کے خود چئیر پر بیٹھا اور اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا۔۔

وجاہت کے پیروں پر بیٹھنا ہانیہ کو بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔

آپ کو نہیں لگتا آپ دن بہ دن زیادہ ہی رومینٹک ہوتے جارہے ہو۔۔

شرماتے ہوئے ہانیہ نے کہا تو وجاہت نے ہانیہ کا چہرا تھام کے اپنی طرف کر کے کہا۔۔

یا یوں کہہ سکتی ہو کہ میرے عشق میں بلندی آتی جارہی ہے ہر نئے دن کے ساتھ ہر نئے گھنٹے ہر نئے منٹ اور ہر نئے سیکنڈ میں۔۔

کیک کاٹ لیتے ہیں ورنہ یہ میلٹ ہونا اسٹارٹ ہوجائے گا۔۔

ہانیہ کے چلاکی سے ٹاپک چینج کرنے پر وجاہت دھیرے سے ہنسا۔۔

ہانیہ کا ہاتھ تھام کے اسنے کیک کو کٹ کیا اور چھوٹا سا پیس ہانیہ کو کھلایا۔۔

ہانیہ نے بھی کیک کا پیس لیا اور وجاہت کو کھلانے کیلئے اسکے منہ کے آگے کیا

وجاہت نے اپنا منہ کھولا تو ہانیہ نے شرارت سے کیک اسکی ناک پہ لگا دیا

ہانیہ کی حرکت پر وجاہت اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا جبکہ ہانیہ کا زور دار قہقہہ ہوا میں گونجا۔۔

وجاہت کچھ کرتا اس سے پہلے ہی ہانیہ نے دوبارہ کیک لیا اور اب کے اسکے گال پر مل دیا۔۔

وجاہت نے بھی کوئی مزاحمت نہ کی۔۔

محترمہ آپ بھول گئی ہیں کیا کہ بیٹھی کہاں ہیں اور پھر اس پر اتنی جرت۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو ہنستے ہوئے دیکھ کے کہا۔۔

ہانیہ یہ سب سن کے ایک دم خاموش ہوگئی۔۔

آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو یہ سب صرف میرے لئے ہے یہ سوچ کر ہی مجھے کتنی خوشی ہورہی ہے تم سوچ بھی نہیں سکتی

مگر تمہاری حرکت کا بدلہ بھی تو لینا ہے۔۔

بولتے ہوئے وجاہت نے اپنا گال ہانیہ کے گال پر رگڑ دیا جتنا کیک اب وجاہت کے رخسار پر تھا اب اتنا ہی ہانیہ کے رخسار پر تھا

وجاہت کی اس حرکت پر ہانیہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

مگر اب کے اسے وجاہت کی نظریں کچھ الگ لگی تو وہ بہانا کر کے وہاں سے جانے لگی مگر وجاہت نے اسے جاتا دیکھ کے اسکا ہاتھ تھام کے اپنے قریب کیا۔۔

تمہیں لگتا ہے کیا مجھ سے تم اتنی آسانی سے دور بھاگ جاؤگی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

چلیں نہ دادو پارٹی میں ۔۔

ہادی تیار ہوکر دادو کو پارٹی میں لے جانے آیا تو دادو نے آج کی پارٹی میں جانے سے بھی انکار کردیا۔۔

دادو آپ دن بہ دن بور ہوتی جارہی ہیں۔۔

ہادی دادو کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا ۔

بیٹا یہ سب تم بچوں کے شوق ہیں میرا بھلا وہاں کیا کام اور تمہیں پتہ ہے مجھے زیادہ لوگوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے تو میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔

دادو نے سہولت سے ہادی کو منع کردیا تھا۔۔

ٹھیک ہے مگر آپ آتی تو بہت اچھا لگتا مجھے اور وجی کو۔۔

وجاہت کو میں اکیلے میں مبارک باد دے دونگی سالگرہ کی اب تم لوگ جاؤ مزے کرو۔۔

دادو کے کہنے پر ہادی نے انکا ہاتھ تھام کے اسے چوما احتراماً۔۔

آپ جانتی ہیں آپ دنیا کی بیسٹ دادو ہیں۔۔

ہادی نے پیار سے دادو کو دیکھ کے کہا۔۔

جانتی ہوں کوئی نئی بات بتاؤ

دادو کے کہنے پر ہادی مسکراتا ہوا انکے کمرے سے چلا گیا۔۔

نیوی بلو سوٹ میں آج ہادی روز مرہ سے کہیں زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا نیلم کیلئے بھی اسنے نیوی بلیو سوٹ ہی لیا تھا ویسے بھی ہمیشہ ہر ایوینٹ پر ہادی اور نیلم ایک دوسرے کے سیم کلر کامبینیشن کے ڈریس ہی پہنتے تھے کیونکہ نیلم ہی اپنا اور ہادی کا ڈریس لاتی تھی ہمیشہ پارٹی کیلئے

مگر آج نیلم سے پہلے ہی ہادی اپنے اور نیلم کیلئے ڈریس لے آیا تھا

نیلم کی ڈیوٹی اس بار ہانیہ اور وجاہت کا ڈریس لینے کی تھی

مگر جب نیلم نے ہانیہ کا ڈریس لیا تو اسی رنگ کا ملتا جلتا ڈریس اس نے حور کیلئے بھی لیا۔۔

آج کل یہ ٹرینڈ بھی چل رہا تھا ماں اور بیٹی کے ایک سے کپڑے بنتے ہیں

تیار ہو کر جب نیلم نیچے آئی تو دیکھا مہمان تھوڑے بہت ہی تھے اور باقی آہی رہے تھے

سامنے ہی اسکا ہینڈسم پرنس کسی کے بات کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔۔

نیلم نے اسے پیار سے دیکھا تو اسکے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی

کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے ہادی نے بے اختیار ہی نظر اٹھا کے سیڑھیوں پر کھڑی نیلم کو دیکھا تو اسکی نظروں نے پلٹنا سے انکار کردیا۔۔

نیوی بلیو گاؤن جس پر کوپر کلر کے پرلز کا کام ہوا وا تھا اسکے نازک سے سراپے پر بہت جچ رہا تھا۔۔

لائٹ میک کیا ہوا مگر ہونٹوں پر آج اسنے سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی بالوں کو اسٹائلش سے جوڑے میں باندھا ہوا تھا

کانوں میں نازک مگر خوبصورت ائرنگ پہنے اسنے ہادی کے دل کو زور سے دھڑکنے پر مجبور کر دیا۔۔

ہادی کے ساتھ کھڑے ہوئے آدمی نے جب اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے ہادی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ہادی چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔

ہادی کو یوں چونکتے دیکھ نیلم مسکرا دی۔۔

وہ ہادی کی ہی طرف جارہی تھی کہ اس کے موبائل پر میسج کی بپ ہوئی۔۔

اس نے دیکھا تو ہانیہ کا میسج آیا ہوا تھا

ہم گھر پہنچنے والے ہیں میوزک سارے آف ہی رکھنا میں وجاہت کو لان کے دروازے سے ڈائرکٹ پیچھے کے راستے سے روم میں لے جاؤگی

نیلم نے میسج پڑھ کے ہانیہ کو ریپلائی کیا۔۔

نہیں پارٹی شروع ہوچکی ہے تو آپ سیدھے بھائی کو مین راستے سے لے کر آئیں انہیں سرپرائز دینگے پھر آپ لوگ روم میں جاکر ٹھیک سے تیار ہو کر آجانا۔۔

ہانیہ نے وہ میسج پڑھا تو ایک پل تو وہ سوچ میں پڑ گئی اسنے ابھی بھی ساڑھی پہنی ہوئی تھی

وہ پہلے وجاہت کا ری ایکشن دیکھ چکی تھی جب اسنے ساڑھی پہنی تھی کتنا غصہ کیا تھا اسنے اور بہانے سے چینج بھی کروا دی تھی

اور پھر آج تو اسنے کافی میک اپ بھی کیا تھا بس ہم وہاں پہنچے سب سے مل کر میں جلدی سے روم میں چلی جاؤگی حور کو دیکھنے کے بہانے۔۔

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔

ہانیہ کو مسلسل کسی سوچ میں گھرا دیکھ وجاہت نے اسے آواز دی۔۔

وجاہت کے آواز دینے پر ہانیہ نے اسے دیکھا۔۔

کن سوچوں میں گم ہو کافی دیر سے۔۔

وجاہت موڑ کاٹتے ہوئے بولا۔۔

ہے ایک انسان جو آج کل میری سوچوں میں کیا میرے ذہن پر سوار رہتا ہے۔۔

ہانیہ نے مسکرا کے جواب دیا تو وجاہت بھی اسکی بات پر مسکرا دیا وہ اچھے سے جانتا تھا کہ ہانیہ کس بارے میں بات کر رہی تھی۔۔

وہ ہر منٹ میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

آپ آگے دیکھ کر گاڑی چلائیں مجھے ساری زندگی دیکھتے رہنا۔۔

ہانیہ نے اسے مسلسل خود کو تکتا پاکر کہا۔۔

یار ایک تو جب میں نے یہ لپ اسٹک اچھے سے صاف کر دی تھی تو تم نے دوبارہ کیوں لگالی مجھے یہ ڈسٹریکٹ کر رہی ہے ۔

وجاہت نے معصوم چہرا بنا کے کہا۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ بلش کرنے لگی۔۔

آپ گاڑی چلائیں۔۔ اس نے بس اتنا کہا اور چہرا دوسری طرف موڑ لیا۔۔

منہ دوسری طرف کر کے وہ آنکھیں میچے اپنے لب کاٹنے لگی۔۔

جب وجاہت نے سائڈ مرر میں اسے دیکھا تو اسے ٹوک دیا۔۔

سن شائن ایسا کر کے تم مجھے تکلیف پہنچا رہی ہو۔۔

ہانیہ نے وجاہت کی بات پر اسے دیکھا۔۔

کیا مطلب۔۔

مطلب میں تمہیں بعد میں سمجھاؤں گا ابھی ہم گھر پہنچ چکے ہیں۔۔

وجاہت نے گاڑی گھر کے اندر پارک کی اور اسے لئے گھر میں داخل ہونے لگا

گھر میں کافی اندھیرا تھا وجاہت نے ملازموں کو آواز دی تو ایک دم ساری لائٹس آن ہوگئیں اور پورا ہال روشنیوں سے چمک گیا۔۔

سب گھر والوں نے اسے برتھ ڈے وش کیا اور مہمانوں نے بھی۔۔

میں کیا کوئی چھوٹا بچہ ہوں جو میرے لئے یہ برتھ ڈے سیلیبریشن رکھا ہے آپ لوگوں نے۔۔

وجاہت کوفت زدہ ہو کر بولا۔۔

ارے میرے اکڑو شہزادے یہ سب تمہاری خوشی کیلئے کیا ہے مگر تم ہمیشہ سڑے ہی رہنا یار کبھی تو خوش ہوجایا کرو۔۔

ہادی نے تاصف سے سر ہلا کے کہا۔۔

میں خوش ہوں مگر تھوڑا اکورڈ بھی لگ رہا ہے۔۔

وجاہت نے بات سنبھالنے کیلئے کہا۔۔

واؤ بھابھی آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں اس ساڑھی میں دیکھیں زرہ سب لوگ صرف آپ کو ہی دیکھ رہے ہیں۔۔

نیلم کے الفاظ جیسے ہی وجاہت کے کان میں پڑے اسنے فوراً مڑ کے آس پاس دیکھا سب ہی نیلم اور ہانیہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔

ویسے تو سب فارملی ہی ہانیہ کو دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ وجاہت عالم کی بیوی تھی اس پارٹی کے خاص لوگوں میں سے ایک تھی تو ظاہر سی بات تھی مہمان اسے دیکھتے ۔۔

مگر وجاہت کا موڈ یہ سب دیکھ کے بگڑنے لگا۔۔

اوپر سے ہانیہ نے اسی کی دی ہوئی ساڑھی پہنی ہوئی تھی جو کہ بے حد جچ رہی تھی اس پر پھر جب وجاہت کی نظر ایک بار پھر اسکے لبوں پر گئی جو کہ مسکرا رہے تھے

وجاہت تیزی سے ہانیہ کی طرف گیا اور اسے کمر سے تھام کر بولا۔۔

پارٹی کیلئے مجھے لگتا ہے ہمیں بھی ڈریس چینج کرلینی چاہئے۔۔

بولتے ہوئے وہ ہانیہ کو ساتھ چلانے لگا جب نیلم نے انہیں روکا۔۔

برو بھابھی اس ساڑھی میں بہت خوبصورت لگ رہی ہیں انکا ڈریس تو نہ چینج کروائیں۔۔

نیلم کے کہنے پر وجاہت نے اسے گھورا مگر بس اتنا کہا کہ مجھے یہ ڈریس اچھا نہیں لگ رہا اور کہہ کر ہانیہ کو لئے اوپر چلا گیا۔۔

نیلم نے ہادی کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کے مسکرا رہا تھا نیلم نے اسکی طرف دیکھا تو وہ اسکے پاس ہی آگیا۔۔

اب دیکھنا تمہارا سڑا ہوا بھائی کیسے اپنی بیوی کو بلکل سمپل روپ میں باہر لائے گا۔۔

ہادی نے کہا تو نیلم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔

وہ کیوں بھلا۔۔

کیونکہ تم نے کہا کہ ہانیہ اتنی خوبصورت لگ رہی ہے کہ سب اسے دیکھ رہے ہیں بس ہمارے اکڑو شہزادے نے یہ سن لیا اور لے گیا اپنی بیوی کو

تم ٹینشن نہ لو پارٹی انجوائے کرو۔۔

ہادی نے پیار سے نیلم سے کہا

ہادی اگر کوئی میری طرف بری نظر سے دیکھے گا تو آپ کو کیسا لگے گا۔۔

نیلم نے بس ایسے ہی پوچھ لیا مگر پھر اس نے ہادی کے تاثرات پل میں بدلتے دیتے اور پھر اگلے ہی پل وہ پھر سے ویسا ہی ہوگیا۔۔

مجھے کیسا لگے گا یہ تو صرف تمہیں وہ دیکھنے والا شخص ہی بتا سکتا ہے اب اپنے منہ سے میں تمہیں کیا بتاؤں۔۔

بظاہر تو ہادی نے مسکرا کے کہا مگر نیلم کو اسکی مسکراہٹ بناوٹی لگی

بولتے ہوئے ہادی کی نظروں میں ان لڑکوں کا چہرا گھوما جو سگنل پر گاڑی روک کر نیلم کو دیکھ رہے تھے اس وقت تو ہادی نے کچھ نہیں کیا مگر بعد میں اس نے ان لوگوں کا حشر برا کردیا تھا

وہ بھی اسکی نیلم کو دیکھنے پر

گاڑی کا نمبر وہ یاد کر چکا تھا تو گھر پہنچتے ہی اسنے گاڑی کے نمبر سے ان لوگوں کا پتہ کروایا اور انہیں اچھی سی سزا دی

ہادی اور وجاہت کی پرسنالٹی میں کتنا ہی فرق کیوں نہ ہو ایک چیز جو دونوں میں کامن تھی وہ یہ تھی کہ وہ کبھی بھی اپنا ایول سائڈ گھر والوں کے سامنے نہیں دکھاتے تھے بلکہ یہ سب کام وہ بغیر کسی کو بتائے بہت خاموشی سے کردیا کرتے تھے۔۔

ہادی کو سوچ میں ڈوبا دیکھ نیلم نے اسکی آنکھوں میں جھانک کے دیکھا جہاں اسے سرخ ڈورے نظر آئے

ایک پل کیلئے تو نیلم گھبرا گئی مگر جب ہادی نے اسکا گھبرایا ہوا چہرا دیکھا تو ایک پل نہیں لگا اسے اپنا موڈ پھر سے ٹھیک کرنے میں۔۔

ارے پرنسس تمہیں کیا ہوا ۔۔

ہادی نے نیلم کے رخسار کو چھو کر کہا۔۔

مجھے لگا آپ غصے میں ہیں۔۔ نیلم نے دھیمی آواز میں کہا۔۔

میں اور غصہ مجھے بھی اپنے سڑے ہوئے بھائی کی طرح سمجھ لیا ہے کیا۔۔

ہادی نے مسکرا کے کہا تو نیلم بھی پرسکون ہوئی ۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت ہانیہ کو لئے کمرے میں داخل ہوا اور جلدی سے دروازہ بند کرکے اسے لاک کیا ۔۔

ہانیہ بس اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔

نیچے اتنے لوگ آئے ہوئے تھے تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں

وجاہت ہانیہ کا ہاتھ تھام کے بولا۔۔

مجھے لگا وہ سرپرائز پارٹی ہے اسی لئے نہیں بتایا۔۔

ہانیہ نے مزاق میں کہا اور ڈریسنگ روم کی طرف جانے لگی۔۔

اسی وقت وجاہت نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسکے گرد اپنا حصار مضبوط کر دیا۔۔

وجاہت چھوڑیں مجھے نیچے پارٹی چل رہی ہے ہمیں جلدی سے تیار ہوکر نیچے جانا ہے۔۔

ہم کہیں نہیں جائیں گے سب سے کہہ دیتا ہوں میں کہ کھانا کھا کے چلے جائیں اپنے اپنے گھر۔۔

وجاہت کے یوں بولنے پر ہانیہ نے کوفت سے اسے دیکھا۔۔

یہ پارٹی آپ کے لئے رکھی گئی ہے کیا ہوگیا ہے آپ کو گھر آتے ہوئے تو آپکا موڈ بلکل ٹھیک تھا تو اب کیا ہوگیا اچانک

تمہیں پتہ ہے جب سب لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا نیچے تم یہ ساڑھی پہن کر گھر میں داخل ہوئی ہر کسی کی نظر تم پر تھی۔۔

وجاہت نے غصے سے کہا۔۔

وجاہت سب صرف مجھے نہیں ہم دونوں کو دیکھ رہے تھے کیونکہ لاسٹ میں ہم ہی تو ہال میں داخل ہوئے

ہانیہ نے اسے سمجھانا چاہا مگر وجاہت کہاں ماننے والا تھا۔۔

ٹھیک ہے اگر تمہیں نیچے جانا ہے تو کپڑے چینج کرو اور کچھ سادہ سا پہنو اور چہرا صاف کرو اپنا ایک تو اتنی ڈارک لپ اسٹک لگانے کی ضرورت کیا ہے تم کو۔۔

وجاہت نے بہت مشکل سے اسے ڈانٹا۔۔

اچھا جی کچھ گھنٹے پہلے تو یہی ہونٹ آپ کو خوبصورت لگ رہے تھے اور اب برے لگ رہے ہیں۔۔

ہانیہ نے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے کہا تو وجاہت نے اپنی پکڑ اور مضبوط کردی۔۔

تب اس لئے تعریف کی تھی کیوں وہ سب صرف میرے تھا نیچے ہر کوئی تمہیں مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔

مجھے غصہ مت دلاؤ چہرا صاف کرو اپنا ورنہ ہم کہیں نہیں جائیں گے اور یہ چہرا بھی میں خود ہی صاف کردوں گا۔۔

وجاہت بولتے ہوئے ہانیہ کے چہرے پر جھکا ہی تھا کہ ہانیہ بیچ میں بول پڑی۔۔

ٹھیک ہے جیسا آپ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی ۔

ہانیہ نے ہار مانی تو وجاہت بھی مسکرا دیا۔۔

دیٹس مائی گرل۔۔ ہانیہ کی لپ اسٹک بگاڑنے کے بعد وہ بولا تو ہانیہ سرخ چہرا لئے ڈریسنگ روم کی طرف بھاگی۔۔

جبکہ اسے یوں جاتا دیکھ وجاہت ہنس دیا۔۔

ڈریسنگ روم میں دو ڈریس رکھے ہوئے تھے ہانیہ جانتی تھی کہ نیلم اسکے اور وجاہت کے ڈریسز لے آئی ہے

ڈریس کھول کے دیکھا تو وہ ایک بلیک کلر کی پیروں کو چھوتی ہوئی فراک تھی جو کہ سمپل سی تھی بس اسکے گلے پر ہلکا سا کام تھا اور استینیں اسکی بلیک نیٹ کی تھی۔۔

ہانیہ نے جلدی سے ڈریس چینج کیا اور باہر آگئی۔۔

وجاہت جو کہ موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا ہانیہ کو دیکھ کر ایک پل کو موبائل بھول ہی گیا۔۔

بلیک رنگ وجاہت کا پسندیدہ رنگ تھا اور ہانیہ پر اسے یہ رنگ بہت اچھا لگتا تھا۔۔

پیروں کو چھوتی ہوئی فراک ویسے تو سمپل دکھتی تھی مگر اسکی نیٹ کی آستینوں سے اسکے سنہری بازو جھلک رہے تھے۔۔

نیٹ جبکہ اتنی باریک نہ تھی مگر پھر وجاہت کو وہ ایک آنکھ نہ بھائی عام دنوں کیلئے تو وہ کبھی کچھ نہ کہتا مگر پارٹی میں اتنے لوگوں کی موجودگی کا سوچ کے وہ ایک بار ہانیہ کو ڈریس چینج کرنے کہنے لگا۔۔

ہانیہ نے اب اسکی طرف دکھ سے دیکھا وجاہت اگر آپ کو نہیں پسند کوئی میری طرف دیکھے تو بتا دیجیے مجھے میں خوشی خوشی پردہ کیا کرونگی سب سے مگر یوں پل پل اپنا موڈ چینج مت کیا کریں زرا زرا سی بات پر غصہ کرنا یہ سب مجھے تکلیف دیتا ہے

ہانیہ نے تھکے ہوئے انداز میں وجاہت کو دیکھا تو وجاہت گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کرنے لگا۔۔

ٹھیک ہے رہنے دو مگر چہرا سمپل ہی رکھنا اور لپ اسٹک تو بلکل بھی مت لگانا۔۔

بولتے ہوئے وجاہت بغیر ہانیہ کی طرف دیکھے ڈریسنگ روم کی طرف چل دیا۔۔

ہانیہ نے شکر کا سانس لیا اور جلدی سے تیار ہوگئی اس سے پہلے وجاہت باہر آتا۔۔

میک اپ تو اسنے نام کا ہی کیا جو کہ بلکل واضح نہیں ہورہا تھا ہاں آنکھوں کا لائینر اسنے تھوڑا بولڈ لگایا تھا اس پر نیوڈ لپ گلوس لگائی اور بالوں میں لوز کرلز ڈالے

بالوں کو کرل کرنے میں اسے بس ٹائم لگا مگر پھر بھی وہ 15 منٹ میں ریڈی ہوگئی اتنے میں وجاہت بھی شاور لے کر باہر آیا اور ایک نظر ہانیہ کو دیکھ کے تیار ہونے لگا۔۔

اس سے زیادہ وہ ہانیہ کا موڈ خراب کرنا نہیں چاہتا تھا جبکہ دل تو کر رہا تھا کہ اسے اسی کمرے میں لاک کردے یا پھر یہ اسے لے جائے یہاں سے۔۔

تقریبآ آدھے گھنٹے سے بھی پہلے وہ لوگ دوبارہ پارٹی میں شامل ہوگئے۔۔

ہانیہ کا ڈریس سیاہ رنگ کا تھا تو وجاہت کا سوٹ بھی پورا سیاہ رنگ کا ہی تھا اور تو اور حور نے بھی ساہ رنگ کی ہی فراک پہنی تھی جس پر میچنگ ہئیر کیچ لگائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔

ہانیہ نے اسے گود میں اٹھایا تو ایک دم اسے چکر سا آگیا۔۔

حور اب کافی صحت مند ہوگئی تھی مگر ہانیہ ہمیشہ اسے اٹھائے اٹھائے ہی پھرتی تھی پھر اچانک سے۔۔

ہانیہ کو لڑکھڑاتا دیکھ عالیہ بیگم نے فوراً سے حور کو اس کی گود سے لیا اور فکر سے اسے پوچھنے لگی۔۔

کیا ہوا ہانی ٹھیک تو ہو۔۔

عالیہ بیگم کو اپنی طرف پریشانی سے دیکھتا دیکھ ہانیہ ایک دم سنبھلی ۔۔

کچھ نہیں بس تھوڑا ڈس بیلنس ہوگئی تھی ہانیہ نے فوراً بات بنائی کیونکہ کوئی بیر نہ تھا کہ وجاہت کو پتہ چلتا کہ اسے چکر آگیا تو ایک پل بھی اسے وہاں کھڑے ہونے نہ دیتا۔۔

ہانیہ پھر سے حور کو لینے لگی تو عالیہ بیگم نے اسے منع کردیا۔۔

رہنے دو تم تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔ عالیہ بیگم نے اسے پیار سے کہا ہانیہ اس سے پہلے کچھ کہتی اس نے اپنی امی اور پاپا کو آتے دیکھا۔۔

وہ خوشی سے انکی طرف گئی اور اپنے پاپا سے لپٹ گئی۔۔

وجاہت نے بھی اسے اپنے پاپا کے گلے لگا دیکھا تو مسکرا دیا۔۔

کیسا ہے میرا بچہ سعید صاحب نے ہانیہ کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہا۔۔

آنکھوں میں نمی لئے ہانیہ نے اپنے پاپا کو دیکھا جب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔۔۔

میں ٹھیک ہو پاپا میں نے آپ لوگوں کو بہت یاد کیا۔۔

ہانیہ نے مسکرا کے کہا اتنے میں وجاہت بھی وہاں چلا آیا اور سب سے احترام سے ملا۔۔

سعید صاحب سے مل کر ہانیہ اپنی امی کے گلے لگ گئی اور پھر فاخر کے

فاخر نے بھی پیار سے اسکے سر پر ہاتھ لگا۔۔

کیسی ہو ہانی ۔۔ فاخر نے پیار سے پوچھا تو ہانیہ مسکرا دی

میں ٹھیک ہوں بھائی آپ کیسے ہیں اور بھابھی آپ کیسی ہیں۔۔

فاخر کو جواب دے کر ہانیہ نے فاخر کے ساتھ کھڑی ایشا سے پوچھا۔۔

ہم ٹھیک ہیں بلکل ایشا نے مسکرا کے جواب دیا

ویسے بھی جب سے ہانیہ کی شادی ہوئی تھی ایشا کا رویہ پھر سے ہانیہ کے ساتھ بہتر ہوگیا تھا۔۔

رانیہ تو ہانیہ کو دیکھ کے اس سے چپٹ گئی پھوپھو بول کے۔۔

7 سالہ رانیہ بلکل ہانیہ کی کاپی لگتی تھی ناک نکش اسکا پورا ہانیہ پر ہی تھا۔۔

سبھی گھر والے ایک دوسرے سے خوشدلی سے ملے۔۔

پارٹی جاری تھی کیک آیا تو ہانیہ نے وجاہت عالیہ بیگم اور شان صاحب کے ہاتھوں سے کیک کٹوایا ۔۔

اب سبھی لوگ اپنی اپنی باتوں میں لگے پارٹی آنجوائے کر رہے تھے کہ ہادی نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔

ہادی کے متوجہ کرنے پر سب لوگ ہادی کو دیکھنے لگے۔۔

وجاہت کیا تم میرے پاس آؤگے۔۔

ہادی نے وجاہت کو اپنی طرف بلایا تو وجاہت اسکی طرف چلا گیا۔۔

دنیا میں آج تک لڑکا لڑکی کو پروپوز کرتا ہے مگر میں شاید پہلا شخص ہونگا جو کہ لڑکی کے بھائی سے پرمیشن اس انداز میں لونگا۔۔

ہادی نے مسکرا کے کہا تو سبھی مہمان مسکرا دئیے جبکہ وجاہت ناسمجھی سے ہادی کو دیکھنے لگا۔۔

کہنا کیا چاہتے ہو۔۔

تمہیں یاد ہے میں نے تم سے ایک پرامس لیا تھا کہ میں تم سے جو مانگو گا تم مجھے دوگے۔۔

ہادی کے کہنے پر وجاہت نے یاد کرکے سر اثبات میں ہلایا۔۔

کیا چاہئے۔۔ وجاہت نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔۔

مجھے تمہاری بہن نیلم کا ساتھ چاہئیے ساری زندگی کیلئے۔۔

ہادی کے لفظوں کو سن کے ایک پل کو وجاہت کے تاثرات بگڑے

یہ سب بڑوں کے معاملے ہیں۔۔ سپاٹ لہجے میں وجاہت نے جواب دیا اسے ہادی کا یوں نیلم کا ہاتھ مانگنا برا نہیں لگا تھا بس تھوڑا عجیب لگ رہا تھا۔۔

یہ بڑوں کا ہی فیصلہ ہے اور سب اس رشتے پر راضی بھی ہیں بس میں تم سے تمہاری اجازت چاہتا ہوں

کیونکہ نیلم کو اس گھر میں سب سے زیادہ تم چاہتے ہو تم ظاہر کم کرتے ہو مگر سب جانتے ہیں کہ تم نے ہمیشہ نیلم سے ویسی ہی محبت کی ہے جیسی تم اپنی بیٹی سے کرتے ہو

اسی لئے مجھے لگا کہ سب سے اہم تمہاری رضا مندی ہے

ہادی نے امید بھری نظروں سے وجاہت کو دیکھا۔۔

تو کیا تم راضی ہو اس رشتے پر۔۔

ہادی کی بات پر وجاہت نے پہلے شان صاحب اور عالیہ بیگم کو دیکھا جنہوں نے اسے اشارے سے ہاں کہنے کو کہا پھر اس نے نیلم کو دیکھا جو آس بھری نظروں سے وجاہت کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔

وجاہت ہمشہ سے جانتا تھا کہ ہادی نیلم کا بہت خیال رکھتا ہے اسے پرنسس صرف کہتا ہی نہیں ہے بلکہ اسے کسی پرنسس کی طرح ہی ٹریٹ کرتا ہے

اور سب سے بڑھ کر اگر گھر کے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کے ہی کیا ہوگا تو وجاہت نے اپنی رضامندی دے ہی دی۔۔

جیسے ہی وجاہت نے رضامندی دی حال پوری طرح تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔۔

ہادی نے خوشی سے وجاہت کو گلے لگا لیا تو وجاہت بھی اس کے گلے لگ کر مسکرا دیا۔۔

ہانیہ ایک سجی ہوئی ٹرے وہاں لے کر آئی جس میں دو مخملیں ڈبیہ رکھی تھی کھلی ہوئی جس میں دو انگھوٹیاں تھی۔۔

ایک عالیہ بیگم نے نیلم کو پکڑائی تو دوسری ہانیہ نے ہادی کو شان صاحب دادو کو باہر لے آئے تھے۔۔

ہادی نے نیلم کو انگھوٹی پہنائی تو ہانیہ نے نیلم سے کہا کہ وہ بھی ہادی کو انگھوٹی پہنائے

نیلم نے انگھوٹی ہادی کے ہاتھ کی طرف بڑھائی مگر پہلے وجاہت کو دیکھا جو ہادی کے ساتھ ہی کھڑا تھا

وجاہت نے مسکرا کے نیلم کو دیکھ کے سر اثبات میں ہلایا تو نیلم نے ہادی کو آنگھوٹی پہنائی

اسی وقت پھولوں کی بارش کی گئی ان سب پر جس کا انتظام ہادی پہلے ہی کر چکا تھا وہ جانتا تھا وجاہت اس سے کتنا ہی چڑ جائے مگر محبت وہ اس سے بھائیوں جیسی ہی کرتا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *