Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 03)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 03)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
وجاہت کو رہ رہ کر ہانیہ پر غصہ آرہا تھا۔۔
کہ کیسے ایک معمولی سی لڑکی نے وجاہت عالم کو نہ کہا۔۔
اور ہانیہ تھی جسے ڈھیروں حیرت نے آن گھیرا تھا کہ کیسے ایک انسان کسی کی زندگی کا فیصلہ اتنی آسانی سے لے سکتا ہے۔۔
مجھے لگتا ہے مجھے یہاں سے چلنا چاہیئے۔۔
ہانیہ نے اب کی بار آرام سے جانے کی اجازت چاہی۔۔
رکو ایک منٹ۔۔ وجاہت نے ایک بار پھر اسے رکنے کیلئے کہا۔۔
دیکھیں آپ جو چاہتے ہیں میں وہ نہیں کر سکتی۔۔
ہانیہ نے مظبوط اور اٹل لہجے میں کہا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو جواب دینے کے بجائے انٹرکام پر کسی کو کال کی اور اسے بلایا بھی۔۔
اگلے منٹ میں ہی ایک عورت ایک چھوٹی بچی کو لئے آفس کے روم میں داخل ہوئی۔۔
وجاہت اپنے آپ کو بہت زیادہ کنٹرول کر رہا تھا شائد آج زندگی میں پہلی بار وہ کسی کو کنوینس کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
اور یہ بات وجاہت عالم کی انا کو ٹھیس پہنچا رہی تھی مگر اس وقت جو ہانیہ کے سامنے بیٹھا تھا وہ وجاہت عالم نہیں بلکہ حور کا باپ تھا
جو یہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی دادو اسے کیا سمجھانا چاہ رہی تھیں۔۔
کہ واقعی حور کو ایک ماں کی ضرورت ہے اور ہانیہ کو دیکھ اسے یہ یقین ہوگیا کہ حور کیلئے ہانیہ سے بہتر شاید ہی کوئی ہوگی۔۔
ہانیہ اس بچی کو دیکھ رہی تھی جو کہ ابھی تک سورہی تھی ۔۔
ہانیہ نے ہی تو اسے سلایا تھا وہ کیسے اتنی سی دیر میں اسے بھول سکتی تھی۔۔
میڈ سے حور کو لینے کے بعد وجاہت نے میڈ کو افس سے جانے کا اشارہ کیا تو وہ تابعداری سے سر جھکا کے وہاں سے چلی گئی۔۔
یہ میری بیٹی ہے۔۔
میری وائف کی ڈیتھ ایک ایکسیڈنٹ میں ہوگئی تھی اسی لئے حور ایک پری میچور بے بی پیدا ہوئی ہے ۔۔
وجاہت بہت ٹہر ٹہر کے بات کر رہا تھا جیسے اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہو۔۔
میری دادو چاہتی ہیں کہ حور کو ایک ماں کا پیار ملے مگر میں کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔
اسی لئے آپ سے شادی کا کانٹریکٹ کرنا چاہتا ہوں اس سے اپ حور کی ماں کہلائیں گی اور میری زندگی میں کوئی دخل اندازی بھی نہیں کریں گی۔۔
ہانیہ کا دل تو اس بچی کو دیکھ کے ہی پگھل گیا تھا اور اب اسکی ماں کی ڈیتھ کا سن کے اب وہ اور زیادہ محبت سے حور کو دیکھ رہی تھی۔۔
دیکھئے سر میں سمجھ سکتی ہوں آپ کے خدشات مگر شادی کا کانٹریکٹ میں نہیں کر سکتی اگر آپ چاہتے ہیں تو میں زندگی بھر اپکی بیٹی کی دیکھ بھال کیلئے راضی ہوں مگر شادی جیسی جھنجھٹ میں میں نہیں پڑنا چاہتی۔۔
ہانیہ نے ایک بار پھر اپنا لہجہ مضبوط کرکے کہا۔۔
شادی کی دو وجہ ہیں ۔۔
ایک یہ کہ اگر میں نے آپ سے شادی نہیں کی تو ابھی نہ سہی کچھ ٹائم کے بعد میرے گھر والے میرے پیچھے پڑ جائیں گے جبکہ آپ سے شادی کرکے میرے ساتھ شادی شدہ کا ٹیگ بھی لگ جائے گا۔۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میں آپ کو بغیر کسی رشتے کے اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا کیونکہ پھر ابھی نہ سہی کبھی نہ کبھی آپ کے گھر والے آپ کی شادی کروا دیں گے اور اگر میری بیٹی آپ سے مانوس ہوگئی تو وہ اپ کے بغیر رہ نہیں پائے گی۔۔
اور اگر میں آپ کو اس بات کا یقین دلاؤ کہ میری کبھی کوئی شادی نہیں کرے گا تو۔۔
ہانیہ نے اپنی طرف سے وضاحت دی کیونکہ وہ حور کے ساتھ رہنا چاہتی تھی مگر وجاہت سے شادی وہ کر نہیں سکتی تھی۔۔
ہانیہ کی مسلسل نفی وجاہت کو طیش دلا رہی تھی مگر وہ پھر بھی خود پہ ضبط کئے ہوئے تھا۔۔
آج نہیں کل کوئی تو آپ کی زندگی میں آئے گا نہ آپ شکل و صورت کی بھی اچھی ہو یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی آپ کو اپنا ہمسفر بنانا چاہے گا اور اس سب میں میری بیٹی کا کیا ہوگا۔۔
دیکھئے مسٹر وجاہت عالم میں آپ کی بیٹی کی زمیداری سنبھالنے کیلئے تیار ہوں مگر اپ جو چاہتے ہیں وہ کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔
ہانیہ دروازے تک گئی پھر مڑ کے ایک بار پھر وجاہت کو مخاطب کیا۔۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ ایک انتہائی خود سر انسان ہیں صرف اپنی بیٹی کے بارے میں سوچ رہے ہیں اگر اپ اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ کسی اور کی بیٹی کے بارے میں ایک فیصد بھی سوچیں گے نہ تو کبھی بھی کسی سے بھی اس کانٹریکٹ کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔
یہ بول کے ہانیہ ایک نظر اس پیاری سی بچی پہ ڈال کے چلی گئی اور وجاہت نے انٹر کام کے زریعے میڈ کو بلا کے حور کو اسکے حوالے کیا کیونکہ اپنے غصے کو بے قابو ہوتا دیکھ وہ حور کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا دے ۔۔۔
حور کے جانے کے بعد وجاہت نے غصے میں اپنے ورکنگ ٹیبل پر موجود ہر چیز کو نست ونابود کر دیا مگر غصہ تھا کہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا…
یہ تو اب طے تھا کہ ہانیہ سعید کی دنیا اب حود سے شروع ہوکے حود پر ہی ختم ہونی تھی ۔۔
ہانیہ کی مرضی سے نہ سہی اب زبردستی ہی سہی۔۔












ہانیہ گھر پہنچی تو سب اپنے اپنے کمرے میں موجود تھے تو ہانیہ بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔
اسے رہ رہ کر وجاہت عالم پر غصہ آرہا تھا ۔۔
وہ ہوتا کون ہے میری زندگی کا فیصلہ کرنے والا۔۔
مگر وہ بچی وہ کیسے اس آیا کہ پاس رہے گی وہ تو اسے ٹھیک سے سنبھال بھی نہیں پارہی تھی ۔۔
مجھے کیا اس کی بیٹی ہے میں کیوں کسی کی اولاد کی فکر کروں ۔۔
مگر وہ بچی تھی کتنی معصوم اور بہت پیاری بھی اس کا باپ ایک اکڑو انسان ہے اس میں اس بچی کا کیا قصور۔۔
مگر میں کیسے ایک ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہوں جس سے میرا کوئی واسطہ ہی نہیں ہوگا۔۔
کیسے صرف کسی کے نام کے سہارے میں ساری زندگی گزاروں گی۔۔
اس سے تو بہتر ہے کہ میں اکیلے ہی زندگی گزاروں۔۔۔
ہانیہ اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی اور مسلسل وجاہت عالم اور اسکی بچی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔












اس بات کو تقریباً ایک ہفتہ سے زیادہ ہوگیا تھا مگر اس کے بعد ہانیہ نے جہاں بھی اپلائے کیا وہاں سے اسے مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔۔
اور یہ سب وجاہت عالم کی ہی مہربانی کا نتیجہ تھا جس سے ہانیہ لا علم تھی۔۔
ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی جب ہانیہ کو جاب نہ ملی تو ایشا نے ایک بار پھر گھر والوں پر ہانیہ کیلئے آئے ہوئے رشتے پر غور کرنے پر زور دیا۔۔
اس بات پر فاخر نے ایشا کو بہت ڈانٹا مگر شاید اب وہ یہ سوچے بیٹھی تھی کہ کسی بھی طرح اسے ہانیہ کا پرچھاوا خود سے دور کرنا ہے۔۔
یہ دیکھ اب سعید صاحب اور فاطمہ اپنے بچوں کیلئے بہت پریشان تھے۔۔
کیونکہ فاخر اور ایشا کی ہر دوسرے دن ہانیہ کو لے کر لڑائی ہوتی تھی ۔۔۔
سعید صاحب کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہانیہ کی شادی ہم خود کسی اچھے اور مناسب انسان سے کر دیں ۔۔
کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ ایک بیٹی کی خوشی کیلئے ہم دوسرے بیٹے کا بھی رشتہ بھی مصیبت میں ڈال رہے ہیں ۔۔
ایشا کسی بھی حال میں ہانیہ کو اب برداشت نہیں کر رہی پتہ نہیں اسے کیا ہوتا جارہا ہے دن بہ دن اسکا رویہ ہانی کے ساتھ بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔۔
فاطمہ سعید صاحب سے بات کر رہی تھیں اس بات سے انجان کہ ہانیہ دروازے کی اوٹ میں چھپ کر انکی سب باتیں سن رہی تھی ۔۔
آنسو ہانیہ کے چہرے کو بھگو رہے تھے اور وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔۔
ابھی وہ کچھ سوچتی کہ اسکے موبائل پر کال آنے لگی ۔۔
انجان نمبر دیکھ پہلے ہانیہ نے سوچا کہ کال نہ اٹھائے پھر کچھ سوچتے ہوئے کال ریسیو کرلی ۔۔
مس ہانیہ سعید بات کر رہی ہیں۔۔
سامنے سے کسی لڑکی کی آواز تھی۔۔
جی میں ہی ہانیہ ہوں آپ کون۔۔
جی میں عالم انٹرپرائزز سے بول رہی ہوں ہمارے باس وجاہت عالم اپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ اپ نے کانٹریکٹ کے بارے میں کیا کرنا ہے آپ نے ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیا تھا۔۔
ہانیہ نے کوفت سے ایک بار موبائل کو دیکھا ابھی وہ اس لڑکی کو کھری کھوٹی سناتی کہ اسے ایک بار پھر اپنے ماں باپ کی باتیں یاد آئی۔۔
ٹھیک ہے اپ ان سے کہیں میں کل آکر ان سے بات کرونگی۔۔
ہانیہ نے یہ کہہ کے کال کاٹ دی بغیر کوئی جواب سنے۔۔
جبکہ ہانیہ کے جواب پر وجاہت ایک بار پھر آپے سے باہر ہوگیا۔۔
یہ معمولی سی لڑکی سمجھتی کیا ہے خود کو مجھے ایٹیٹیوڈ دکھا رہی ہے مجھے وجاہت عالم کو ۔۔
وجاہت نے ایک بار پھر غصے سے ہانیہ کو مخاطب کیا اگر وہ اس وقت آفس میں موجود ہوتی تو ممکن تھا کہ وجاہت کا غصہ اس پر کسی لاوے کی طرح برستا۔۔
ان دنوں میں وجاہت نے کئی انٹرویوز لئے تھے حور کیلئے ایک لائف ٹائم میڈ رکھنے کی مگر وہ ہانیہ جیسی حور سے محبت کرنے والی ایک لڑکی بھی نہ ڈھونڈ پایا۔۔
تو ایک بار پھر مجبور ہوکر اسنے اپنی پی اے کو ہانیہ کو کال کرنے کا کہا کیونکہ کمپنی میں اپلائے کرتے وقت اسنے کانٹیکٹ کیلئے اپنا نمبر دیا تھا۔۔
مگر اب اسکا جواب سن وجاہت خود کو ہی کوس رہا تھا کہ کیوں وہ ایک لڑکی کی منت سماجت کر رہا تھا۔۔











اگلے دن ہانیہ وجاہت کے آفس پہنچی تو وجاہت ویسی ہی بے رخی لئے اپنے آفس میں موجود تھا۔۔
سو مس ہانیہ کیا سوچا آپ نے کانٹریکٹ کے بارے میں۔۔
وجاہت نے بغیر اسکی طرف دیکھے ہی کہا۔۔
مجھے لگتا ہے آپ کا جواب ہاں ہی ہوگا کیونکہ ایسی آفر آپ کو کبھی نہیں مل سکتی ۔۔
وجاہت کی باتیں سن کے ہانیہ نے ایک گہری سانس لے کر بات کا آغاز کیا۔۔
مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔۔
جی کہئے۔۔
وجاہت اب ہانیہ کی طرف پوری توجہ مرکوز کئے ہوئے تھا۔۔۔
میں ایک طلاق یافتہ ہوں میری پہلے بھی شادی ہوچکی ہے اور شادی کے دو سال بعد ہی مجھے طلاق ہوگئی تھی وجہ میں اپ کو بتانا مناسب نہیں سمجھتی۔۔
ابھی ہانیہ کچھ اور کہتی وجاہت نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا ۔۔
مجھے آپ میں یا آپ کے ماضی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے میں نے اپ کو بس ہاں یا نہ کہنے کیلئے بلایا ہے۔۔
