Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 26)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 26)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
واؤ یہ سب کتنا خوبصورت ہے۔۔
ہانیہ اشتیاق سے ائفل ٹاور کے ٹاپ پہ کھڑے ہوکر پیرس کا خوبصورت نظارہ دیکھ رہی تھی جو کہ اتنی اونچائی سے دیکھنے پر ایک الگ ہی خوبصورتی پیش کر رہا تھا۔۔۔
وجاہت حور کو گود میں لئے اسے مسکرا کے دیکھ رہا تھا۔۔
انہیں یہاں آئے دس منٹ ہوگئے تھے۔۔
چلیں سن شائین۔۔ یہاں کافی ٹھنڈ ہے اور مجھے لگتا ہے حور کو ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔
وجاہت حور کو دیکھ کے بول رہا تھا جبکہ ہانیہ نے منہ بنا کے اسے دیکھا۔۔
کتنی شوق سے میں نے ان مسٹر کو بتایا تھا اپنے ناول کے بارے میں کہ ہیرو اپنی ہیروئن کو ائفل ٹاور پر پروپوز کرتا ہے ۔۔
مگر دیکھو پروپوز تو دور ایک بار آئی لو یو بھی نہیں کہا مجھے
وہ بھی اتنی رومینٹک جگہ پر۔۔
ہانیہ نچلہ ہونٹ کاٹ کر دل میں خود سے بولی۔۔
کیا ہوا سن شائین چلنا نہیں ہے کیا۔۔
وجاہت نے ایک بار پھر اسے کہا تو وہ غصے سے منہ بنائے لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔














ہادی پچھلے دس منٹ سے نیلم کا ویٹ کر رہا تھا انگلی میں چابی گھماتے ہوئے وہ موبائل میں بار بار وقت دیکھ رہا تھا۔۔
نیوی بلو شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ میں وہ سادگی میں بھی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔
نیلم کی اس پر نظر پڑی تو ساتھ میں اسکے چہرے پر خوبصورت مسکان آگئی۔۔
ہادی نے نیلم کو دیکھا جو نیوی بلیو لینن کے شرٹ اور ٹراؤز پہنے بالوں کو ہالف فرینچ اسٹائل میں بنائے بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔۔
نیلم کو دیکھ کے ہادی کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک ابھری جسے آج نیلم نے پہلی بار محسوس کیا۔۔
کچھ پل وہ دونوں ایک دوسرے کو تکتے رہے
نیلم کی آنکھیں بھی وجاہت کی طرح بھوری تھی اور اس پر گھنی پلکوں کی جھالر ان آنکھوں کو اور حسین بناتی تھی۔۔
نیلم کو یوں تکتا پاکر ہادی نے اپنی ایک ہارٹ بیٹ مس کی۔۔
مگر پھر خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے نیلم کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔
نیلم بھی ہادی کو مسکرا کے دیکھ کر کار میں بیٹھ گئی۔۔
جبکہ اسکے بیٹھتے ہی ہادی نے گہرا سانس خارج کیا اور خود بھی کار میں بیٹھ کر کار ڈرائیو کرنے لگا۔۔
تم میری ہی نکل کرنا ہمیشہ۔۔
ہادی نے اپنا موڈ تھوڑا چینج کرنے کیلئے نیلم کو چھیڑا۔۔
میں بھلا آپ کی کیوں نکل کرنے لگی۔۔
نیلم نے گھور کے ہادی کو دیکھا پھر بولی۔۔
اچھا تو پھر سیم کلر کیوں پہنا۔۔
ہادی نے موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔۔
مجھے یہ ڈریس اچھا لگا تو پہن لیا ۔۔
نیلم نے شیشے کے پار دیکھ کے کہا۔۔
سگنل ریڈ ہونے پر ہادی نے کار روکی اور ان کے ساتھ ایک اور کار بھی سگنل پر آکر رک گئی۔۔
اس میں کچھ لڑکے تھے جو کہ شکل سے ہی آوارہ لگ رہے تھے۔۔
ایک لڑکے نے نیلم کو دیکھا پھر اپنے ساتھ والے دوست کو کہنی مار کر نیلم کی طرف متوجہ کیا۔۔
ہادی کی نظر جب ان لڑکوں پر گئی تو اسکا کھون کھول اٹھا۔۔
وہ مرد تھا اور مردوں کی نظروں کو اچھے سے پہچانتا تھا۔۔
جیسے ہی سگنل گرین ہوا ہادی نے غصے کو قابو پاتے ہوئے پھر سے گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔۔
مگر جیسے ہی اس نے کار کی اسپیڈ تھوڑی تیز کری وہ پہلے والی کار ہی نیلم اور ہادی کی کار کی طرف بڑھی۔۔
ہادی کو یہ سب دیکھ شدید غصہ آیا وہ پانچ منٹ میں چاروں لڑکوں کو ڈھیر سکتا تھا مگر اب ساتھ میں اسکی محبت اور اسکی ذمی داری بھی تھی
وہ چاہ کر بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کر سکتا تھا جس سے نیلم متاثر ہو۔۔
اسی لئے اسنے فوراً نے موڑ کاٹ کر اپنا راستہ ہی الگ کرکیا۔۔
ہاں مگر ان لڑکوں کی شکل اور گاڑی کا نمبر اسے بہت اچھے سے یاد ہوگیا تھا۔۔













تمہیں کیا ہوا جب ہم آئیں تھے یہاں تو بہت خوش تھی اور بہت چہک رہی تھی۔۔
وجاہت نے اپنی سن شائین کا اترا چہرا دیکھ کے کہا جو اپنے گرد بازو لپیٹے بغیر وجاہت کی طرف دیکھے چلے جارہی تھی۔۔
جبکہ وجاہت حور کو بے بی کیرئیر میں لیا ہوا تھا۔۔
یار کچھ تو بولو۔۔ چلو گھر چلتے ہیں اگر تمہیں یہاں اچھا نہیں لگ رہا تو ۔۔
وجاہت کو لگا شاید ہانیہ سے ٹھنڈ برداشت نہیں ہورہی جبکہ وہ ٹاپ کے اوپر سویٹر اور پھر اس پر اوور کوٹ پہنی ہوئی تھی۔۔
سردی کا تو پتہ نہیں ہاں دل جل رہا تھا۔۔
آپ بورنگ انسان ہیں مسٹر اکڑو۔۔ ہانیہ نے منہ بنا کے کہا۔
اب یہ بات کہاں سے آگئی گھر پر تو تم کہہ رہی تھی کہ میں مسٹر اکڑو سے مسٹر رومینٹک بنتا جارہا ہوں تو اب ایسا کیوں بول رہی ہو۔۔
جب بھی کوئی کپل آئفل ٹاور پر پہلی بار جاتا ہے تو وہ اپنے پیار کو بہت یونیک طریقے سے ایکسپریس کرتے ہیں ایک دوسرے کو اسپیشل فیل کرواتے ہیں۔۔
ہانیہ نے آدھی بات وجاہت کو کہی جبکہ آخری بات اس نے اپنے دل میں کہی۔۔
لو مجھے کیا پتہ فینٹسی ناولز تم پڑھتی ہو میں نہیں میں بس آفس کی فائلز پڑھتا ہوں۔۔
مجھے کیسے پتہ ہوگا کہ یہ سب کیسے کرتے ہیں۔۔
ہانیہ نے غصے سے رخ موڑ لیا۔۔
تو وجاہت نے ایک ہاتھ سے ہانیہ کو کمر سے تھام کے اسکا رخ اپنی طرف کیا ۔۔
دیکھو سن شائین میں تمہارے لئے خود کو بہت بدل رہا ہوں۔۔
میں ہر وہ چیز کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جس سے تمہیں خوشی ملے۔۔
کیا تم مجھے تھوڑا وقت نہیں دے سکتی نہ ہم کہیں جارہے ہیں اتنی جلدی۔۔
نہ یہ آئفل ٹاور کبھی کہیں جانے والا ہے۔۔
آج کا میرا باہر کا پلان صرف صبح کا تھا پھر موسم دیکھ کے میں نے پلان کینسل کیا
مگر تمہارے کہنے پر میں تمہیں باہر لے کر آیا۔۔
اتنی ٹھنڈ ہونے کے باوجود تمہیں اور حور کو آئسکریم کھلائی
میں کھاتا نہیں تھا مگر تمہاری خوشی کیلئے آئسکریم بھی کھائی۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ میں سب بدل دونگا ۔۔ خود کو بھی۔۔
وجاہت نے اسے اتنے پیار سے سمجھایا کہ ہانیہ کے چہرے پر ناراضگی کے باوجود بھی تبسم پھیل گیا۔۔
ہانیہ کو مسکراتا دیکھ وجاہت نے اسکی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی جسے حور نے فوراً مٹا دیا۔۔
اصل میں ہوا یہ کہ حور وجاہت کی ہی گود میں تھی جب وجاہت نے ہانیہ کے ماتھے پر بوسہ دیا تو حور کو اچھا نہیں لگا۔۔
اور اس نے اپنے ننھے ہاتھوں کو تھوڑا اونچا کر کے ہانیہ کے ماتھے پر سے وجاہت کی محبت کی مہر مٹا دی
اور وجاہت کی گردن میں ہاتھ ڈال کے بولی۔۔ اے۔۔ مما ۔۔مے۔۔
حور کی اس حرکت پر ہانیہ اور وجاہت دونوں کا قہقہہ فضا میں گونجا۔۔













مما دیتھو۔۔ (دیکھو) وی بے بی(وہی بے بی)…
عالیان نے ریان کا ہاتھ تھامے دوسرے ہاتھ سے پریہا کا کوٹ کھینچا ۔۔
ریان اور پریہا سیلفی لے رہے تھے۔۔
جب عالیان کے زور سے بولنے پر ایک دم اسکے ہاتھ کے اشارے کی طرف انہوں نے دیکھا تو وہاں ہانیہ اور وجاہت انہیں دکھائی دیئے۔۔
حور کو دیکھ کے تو عالیان نے ضد ہی باندھ لی۔۔
نہیں یانو بیٹا ان کو بار بار ڈسٹرب کرنا اچھی بات نہیں ۔۔
ریان نے عالیان کا چہرا تھام کے پیار سے کہا۔۔
نو پاپس بے بی۔۔
عالیان کہاں کسی کی سنتا تھا گھر بھر کا لاڈلا تھا۔۔
خاص کر کے علی اور نائل کا ۔۔
علی کو جتنا اپنا بیٹا نائل عزیز تھا اتنا ہی ریان کا بیٹا عالیان۔۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ نائل اور ماہم سے زیادہ سبھی گھر والے عالیان سے محبت کرتے تھے تو یہ غلط نہ ہوگا۔۔
خود نائل کی بھی اپنے چھوٹے بھائی میں جان بستی تھی۔۔
ابھی بھی جب وہ پری اور ریان کے ساتھ پیرس آرہا تھا تو نائل نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔
پاپس تلو(چلو)۔۔ دیتھو(دیکھو) بے بی۔۔
عالیان اب باقائدہ ریان کا ہاتھ پکڑ کے کھینچ رہا تھا۔۔
پری جانم مجھے لگتا ہے ہمیں اب اپنے بیٹے کی خوشی کیلئے اسکی بہن لانے کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔۔
ریان نے دھیمی آواز میں پریہا کے کان میں کہا۔۔
اس نے اتنے سنجیدہ ہوکر اتنی غیر سنجیدہ بات کہی کہ پری اس وقت بلش کرنے لگی۔۔
لو اس میں شرمانے والی کیا بات ہے۔۔
پری کو بلش کرتا دیکھ ریان اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے چھیڑنے لگا۔۔
پہلے اسے پال لیں پھر سوچیں گے۔۔
پری مسکراتے ہوئے بولی۔۔
ارے جانم سنو تو ابھی تو بس ایک بیٹی کا کہہ رہا ہوں اتنا سوچیں گے تو باقی بچوں کی باری کب آئے گی ۔۔۔
پریہا کا چہرا ریان کی بات پر اور سرخ ہوگیا۔۔
اس نے ایک مکا ریان کے بازو پے مارا۔۔
اے ظالم ہاتھ توڑ دیا میرا۔۔
ریان نے شرارت میں اپنا بازو تھاما۔
مگر جیسے ہی اسنے عالیان کا ہاتھ چھوڑا وہ دوڑتا ہوا حور کی جانب بھاگا۔۔
جانم یہ بچہ کبھی ہمیں رومینس نہیں کرنے دیتا۔۔
عالیان کی طرف چلتے ہوئے ریان نے تاصف سے کہا۔۔
لو ایک سے گھبرا گئے ابھی تو ڈھیر سارے بچوں کی بات کر رہے تھے۔۔
پریہا نے تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
تو کیا ایک بچے کی وجہ سے میں اپنے باقی ڈھیر سارے بچوں کے ساتھ نا انصافی تھوڑی کرونگا۔۔
سب کا اپنا اپنا حق ہوتا ہے بھئی۔۔
ریان کی باتیں سن کے پریہا کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا۔۔
ریان کو دھکا دے کر وہ تیزی سے عالیان کی طرف بڑھی جو کہ حور کے پاس پہنچ چکا تھا اور اب وجاہت سے بات کر رہا تھا۔۔












یار سن شائین تم تو پہلے ہی دن دوسری بار ناراض ہوگئی مجھ سے۔۔
وجاہت حور کا بے بی کیری کا بیلٹ کھولتے ہوئے بولا کیونکہ حور نیچے اترنے کی ضد کر رہی تھی۔۔
وجاہت نے اسے نیچے اتارا اور اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
یہ دیکھ ہانیہ اور وجاہت دونوں کو ہی حیرت ہوئی۔۔
کہ حور وجاہت کا ہاتھ تھامے اپنے پیروں پر کھڑی تھی۔۔
وجاہت نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا مگر حور ایک بار بھی نیچے نہیں بیٹھی تھی بلکہ اپنے قدم بڑھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
ہانیہ اپنی ناراضگی بھول کر حور کو حسرت اور محبت سے دیکھنے لگی جو قدم بڑھا تو نہیں رہی تھی مگر کوشش کر رہی تھی۔۔
ہانیہ کی آنکھوں میں یہ دیکھ نمی آگئی ۔۔ حال کچھ ایسا وجاہت کا بھی تھا مگر اس نے اپنے جزبات کو اچھے سے کنٹرول کیا۔۔
اتنے میں وہی بچہ جو کیفے میں ملا تھا وہ بھاگتا ہوا حور کے پاس آگیا۔۔
عالیان کو دیکھ حور بھی کھلکھلانے لگی۔۔
اور وجاہت کی طرف دیکھ کے پھر سے عالیان کو دیکھ کے ہنسنے لگی ۔
انکل بے بی میں تو دو نہ۔۔
عالیان اپنی توتلی زبان میں بولا۔۔
اس بار وجاہت تھوڑا جھک کے بولا۔۔
عالیان بیٹا آپ پھر مما بابا کو بتائے بغیر آئے ہو کیا۔۔
عالیان کچھ کہتا پریہا تیزی سے وہاں آئی۔۔
معافی چاہتی ہوں پر یانو نے حور کو دور سے دیکھ لیا اور ریان کا ہاتھ چھڑا کے یہاں بھاگ آئے یہ موصوف۔۔
پریہا تھوڑا سانس بحال کر کے بولی۔۔
پریہا کو دیکھ ہانیہ خوشی سے مسکرا دی۔۔
دوسری طرف پریہا بھی ہانیہ کو دیکھ کے مسکرائی۔۔
لو جی وجاہت ایک کام کرو میرے یانو کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔
ریان نے ہنستے ہوئے وجاہت سے کہا تو عالیان اپنے پاپس کی بات سن کے فوراً ریان کے پاس آیا۔۔
نو پاپس میں بے بی کو دیتھنے(دیکھنے)آیا۔۔
عالیان کی بات پر ریان نے اس کے بال بگاڑے۔۔
میں نے اسے منع کیا تھا کہ آپ لوگوں کو ڈسٹرب نہ کرے مگر یہ سنے تب نہ ہاتھ چھڑا کے یہاں کی طرف دوڑ لگادی۔۔
کوئی بات نہیں بچہ ہے۔۔
وجاہت نے مسکرا کے کہا مگر وجاہت کا ڈس کمفرٹ کسی سے چھپا نہیں تھا اسے عالیان کا آنا برا نہیں لگا تھا۔۔
ہاں اسے ریان کا وہاں آنا تھوڑا برا لگا تھا۔۔
وہ ہادی کو برداشت نہیں کرتا تھا ہانیہ کے آس پاس جو کہ اسکے بھائیوں جیسا تھا پھر ریان تو غیر تھا
جسے بھلے ہی وہ جانتا تھا مگر ملا تو پہلی بار ہی تھا۔۔
پریہا وجاہت کے چہرے پر کچھ پڑھ کے عالیان کو وہاں سے لے جانے لگی۔۔
مگر عالیان جانا نہیں چاہتا تھا۔۔
پریہا نے جب عالیان کو تھوڑا ڈانٹا تو وجاہت کو تھوڑی شرمندگی ہوئی۔۔
ریان ایک کام کرو تم عالیان کو لے لو ہم زرا بچوں کو تھوڑی واک کروا دیں یہ لیڈیز یہاں بیٹھ جائیں گی اور ہم تھوڑی بات چیت بھی کر لیں گے۔۔
ریان کو اسکا مشورہ پسند آیا تو وہ عالیان کا ہاتھ تھامے چل دیا جبکہ وجاہت نے حور کو گود میں لیا اور آگے بڑھ گیا۔۔
اسے ویسے بھی کسی سے بات کرنی تھی۔۔
ہانیہ کو کچھ شکایتیں تھی وجاہت سے جسے وہ سمجھ نہیں پارہا تھا جیسے کہ آئفل ٹاور کے ٹاپ پر وہ چاہتی تھی کہ وجاہت اسے سر پرائیز کرے
اب ہادی سے وہ بات تو کر نہیں سکتا تھا کیونکہ پھر یہ سب سن کے اس نے جو ریکارڈ لگانا تھا اسکا ۔۔
اور پھر ریان اسے کافی سلجھا ہوا اور اچھا انسان لگا
سیدھے سیدھے نہ سہی مگر تھوڑا بہت آئیڈیاز تو وہ لے ہی سکتا تھا۔۔
دوسری طرف پریہا اور ہانیہ قریب ہی ایک بینچ پر بیٹھ گئی اور باتوں میں مصروف ہوگئین۔۔
