Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 44)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

امی خدارا کچھ تو کھالیں آپ۔۔ مہرو کب سے اپنی امی کو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر کوشش بے ضرر تھی وہ تو بس ہاتھوں میں تسبیح لئے جائے نماز پر بیٹھی تھی اپنے بیٹے کیلئے دعا مانگ رہی تھیں جو کہ کل گھر سے جو نکلا تھا وہ ایک دن بعد بھی گھر نہیں پہنچا تھا۔۔

فرزانہ معظم کے لاپتہ ہونے پر حد سے زیادہ پریشان تھیں۔۔

حرا میرے بیٹے کا کچھ پتہ چلا ۔۔ حرا کو گھر میں آتا دیکھ فرزانہ اسکی طرف بڑھی۔۔

نہیں اماں بھائی کے دوستوں سے پوچھ لیا وہ پرسوں سے کسی سے نہیں ملے محلے داروں سے بھی پوچھا مگر کسی کو کچھ نہیں پتہ بھائی کے دوستوں کو کہا ہے کہ پولیس سے مدد لیں ۔۔

حرا صوفے پر بیٹھ کر اپنی شال طے کرتے ہوئے بولی۔۔

آپ فکر نہ کریں امی بھائی کی تو عادت ہے یوں کئی کئی دنوں تک گھر سے باہر رہنے کی ہانیہ بھابھی کے سامنے بھی تو وہ کئی کئی دن گھر نہیں آتے تھے پھر سے پرانا شوق چڑ گیا ہوگا۔۔

حرا نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی گلاس میں نکال کر پینے کے بعد بولی۔۔

مگر وہ مجھے تو بتاتا تھا حرا مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا میرا دل کہہ رہا ہے کہ میرا بیٹا ضرور کسی مصیبت میں ہے میں ماں ہوں ۔۔ ماں کا دل جھوٹ نہیں بولتا۔۔

فرزانہ حرا سے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولیں۔۔

تو اماں ڈھونڈ تو آئی ہوں میں بھائی کے دوستوں سے کہا تو ہے کہ پولیس کے پاس جائیں اب آپ کیا چاہتی ہیں میں اور مہرو گلی گلی بھائی کو ڈھونڈیں۔۔

حرا چڑ کر بولی وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں معظم کی عزت ختم ہوتی جارہی تھی اسکے کارنامے سن سن کے اب اسے اپنے بھائی سے چڑ ہونے لگی تھی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہاں بولو اصغر میں نے تمہیں ایک کام دیا تھا کیا ہوا اس کام کا۔۔

وجاہت اپنے آفس میں بیٹھا سامنے بیٹھے اصغر کو دیکھ کے بولا۔۔

وجاہت صاحب جس آدمی کی اپنے معلومات اکھٹی کرنے کا کہا تھا وہ کام ہوگیا ہے۔۔

اصغر وجاہت کے سوال کرنے پر مودبانہ انداز میں بیٹھ کر اسے سب بتانے لگا۔۔

سر معظم نامی یہ شخص کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے کا مکین ہے

گھر میں ایک ماں اور دو کنواری بہن ہے اور یہ اس گھر کا واحد مرد ہے

باپ کا انتقال کافی سالوں پہلے ہوچکا ہے

کچھ سالوں پہلے اسکی شادی اسکی کسی دور پلہ کی رشتہ دار سے ہوئی تھی مگر اس نے اسے طلاق دیدی ۔۔ طلاق کی وجہ معلام نہ ہوسکی۔۔

چھوڑو اس بات کو آگے بتاؤ۔۔ اصغر بول ہی رہا تھا کہ وجاہت نے اسے ٹوک دیا۔۔

سر پھر یہ کسی لڑکی کے عشق میں پاگل ہوگیا کہتے ہیں وہ اسکی یونیورسٹی کی دوست تھی۔۔

مگر جب اسکی نوکری گئی تو اس لڑکی نے اسے چھوڑ کر کسی امیر بوڑھے بزنس مین سے شادی کرلی

اس کے کچھ قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کے پیچھے ہی اسنے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اپنی بیٹیوں کی شادی کیلئے جو پیسہ اسکے باپ نے چھوڑا تھا وہ بھی اس نے اس لڑکی پر خرچ کردیا۔۔

آج کل بے روزگار ہے یہ وقت پر شادی نہ کر سکا تو اسکی ایک بہن کی شادی ٹوٹ گئی تھی اور اب چھوٹی بہن کی شادی قریب ہے مگر یہ کمائے گا تو شادی کرے گا نہ اسکی ایک بہن آج کل ایک مال میں ملازمت کرتی ہے اور ماں گھر میں سلائی کرتی ہے۔۔

مگر سر ایک بات ہے اسکی ماں بہنیں بہت پریشان ہیں ایک بہن تو نہ جانے کہاں کہاں ڈھونڈ چکی ہے اسکے دوستوں سے بھی پوچھا ہے اسنے

اصغر نے وجاہت کو ساری تفصیلات سے اگاہ کیا۔۔

ٹھیک ہے جس سے یہ سب معلومات لی ہیں وہ منہ تو نہیں کھولے گا نہ۔۔

نہیں سر میں نے اسکا منہ پیسوں سے بند کردیا ہے اور کسی کو بھی آپ کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تو بے فکر رہیں آپ۔۔

ہمم ٹھیک ہے یہ لو اپنا انعام جاسکتے ہو تم ۔۔

وجاہت نے ایک کاغذ کا پیکٹ اصغر کی طرف بڑھایا جسے اسکے مسکراتے ہوئے تھام لیا۔۔

شکریہ وجاہت صاحب جب بھی کوئی کام ہو تو یاد کیجیئے گا۔۔

سر جھکا کر بولتے ہوئے اصغر وجاہت کے آفس سے باہر چلا گیا۔۔

وجاہت یہی سوچ رہا تھا کہ معظم کے ساتھ کیا کرے کیونکہ اب بات اسکے گھر والوں کی بھی تھی دو چھوٹی کنواری بہنیں تھی اسکی جس میں سے ایک کی شادی ٹوٹ چکی تھی اور دوسری کی قریب تھی

اگر اسے کچھ ہوتا ہے تو اس کے گھر والوں کی زندگی بہت مشکل ہوجائے گی

پھر ہانیہ کی باتیں بھی ذہن میں آنے لگی جو وہ اس سے کہہ رہی تھی اور پھر آخر میں اسکا دیا ہوا اسکا وعدہ وجاہت اپنے انگھوٹے سے اپنی کنپٹی مسلتے ہوئے سوچنے لگا۔۔

پھر اٹھ کر اپنے فارم ہاؤس چل دیا جہاں اس نے معظم کو رکھا ہوا تھا۔۔

فارم ہاؤس پہنچ کر اسنے اپنے آدمی کو فون پر کچھ ہدایات دیں اور ہانیہ کو کال بھی کی اور اسے ڈرائیور کے ساتھ فارم ہاؤس آنے کیلئے کہا

قریب ڈیڑھ گھنٹے میں ہی اسکا آدمی اور ہانیہ دونوں ہی فارم ہاؤس پہنچ چکے تھے۔۔

وجاہت اپنے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے۔۔ ہانیہ کو وجاہت کا اس طرح سے اچانک فارم ہاؤس بلانا سمجھ نہ آیا۔۔

کسی سے ملوانا ہے تمہیں۔۔ وجاہت نے اپنی پینٹ کی جیب سے ہاتھ نکالا اور اپنا ہاتھ ہانیہ کے بازوؤں کے گرد پھیلا کر اسے ساتھ لے جانے لگا۔۔

ایک کمرے میں جاکر وجاہت نے لائٹس آن کری تو ہانیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی حیرت سے کیونکہ سامنے ہی معظم کو کرسی پر رسی سے باندھا ہوا تھا۔۔

یہ سب کیا ہے وجاہت۔۔ خوف سے وہ وجاہت کو دیکھنے لگی۔۔

کمرے میں ایک دم سے روشنی ہونے پر معظم نے اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے وجاہت کے ساتھ ہانیہ کو دیکھ کر وہ ششدر رہ گیا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو کوئی جواب نہ دیا اسے کمرے میں رکھے صوفے تک لے گیا اسے بٹھا کر وجاہت نے معظم کو آزاد کیا۔۔

کچھ کہہ رہے تھے کل تم میری بیوی کے بارے میں دوبارہ بولنا چاہوگے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔۔ ہانیہ کبھی وجاہت کا غصے سے بھرا چہرا دیکھنے لگی تو کبھی معظم کا شرمندگی سے جھکا ہوا چہرا

جلدی بولو وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔

وجاہت نے اب کی بار آواز کو زرا اونچا کر کے کہا تو ہانیہ ذرا سہم سی گئی۔۔

وجاہت نے اسکے کندھے پر ذرا دباؤ دیا جس سے وہ تھوڑی پرسکون ہوئی۔۔

میں معافی چاہتا ہوں جو کچھ میں نے کہا تھا وہ سب جھوٹ تھا ہانیہ نے اپنی زندگی میں کچھ غلط نہیں کیا بلکہ غلط تو میں نے کیا تھا اس کے ساتھ سارے خاندان میں میں نے اسے رسوا کیا تھا اسے طلاق دے کر مگر میرا یقین کریں میں نے یہ سب صرف اپنی محبت کو پانے کیلئے کیا تھا

ہانیہ مجھے معاف کردو میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا تھا تو دیکھو میرے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا سونیا مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور حرا کی شادی ٹوٹ گئی میری نوکری بھی چلی گئی ۔۔

معظم ہانیہ نے معافی مانگنے لگا۔۔

تم کو کیا لگا تم میری بیوی کے بارے میں کچھ بھی کہو گے اور میں تمہاری باتوں پر یقین کرونگا اپنی بیوی کو میں مہینوں سے جانتا ہوں اور تم سے میں پہلی بار ملا تھا کیا لگا تھا تمہیں کہ میں تمہاری بناوٹی کہانی پر یقین کرونگا۔۔

چوٹ تم نے بلکل سہی جگہ لگانے کی کوشش کی تھی مگر میرا یقین تمہاری تچی سی سوچ سے کہیں زیادہ ہے اپنی بیوی پر ۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے تم ابھی تک زندہ کیوں ہو۔۔؟ وجاہت نے شعلہ برساتی آنکھوں سے معظم کے آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

میں نہیں جانتا ۔۔ وجاہت کی نظروں میں دیکھنے کی معظم میں ہمت نہیں تھی تو وہ نظریں جھکا کر بولا۔۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ میری بیوی نے مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں کوئی غلط کام نہیں کرونگا

دوسری یہ کہ کہیں نہ کہیں تم وجہ ہو ہانیہ کو میری زندگی میں بھیجنے کے

اور آخری وجہ تمہارے گھر میں بیٹھی بیوہ ماں اور دو چھوٹی بہنیں ہیں ۔۔

میں بھی ایک بہن کا بھائی ہوں بہنوں کی تڑپ سمجھ سکتا ہوں اسی لئے تمہیں آزاد کر رہا ہوں باہر تمہیں ایک آدمی ملے گا اس کے پاس ایک بیگ ہے

وہ تم اس سے لیتے ہوئے جانا میرا آدمی تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دے گا اس بیگ میں اتنا پیسہ ہے کہ تم آگے کی اپنی زندگی آرام سے گزار سکتے ہو اپنی بہنوں کی شادی کرو اور اپنی ماں کو لیکر اس شہر سے اور میری دنیا سے بہت دور چلے جاؤ اور اگر آئیندہ تم نے دوبارہ میری دنیا میں آنے کی کوشش کری تو اس پل کے بعد تم سانس نہیں لوگے۔۔

صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے وجاہت نے کہا۔۔

اپنی محبت کے صدقے میں تمہیں تمہاری جان دے رہا ہوں میں معافی مانگو اس سے اور دفع ہوجاؤ۔۔

وجاہت نے معظم کو دیکھ کے کہا۔۔

معظم نے بھی فوراً ہی اپنے ہاتھ ہانیہ کے آگے جوڑ لئے احساس ندامت سے اسکا سر جھکا ہوا تھا۔۔

ہانیہ مجھے معاف کر دو جو کچھ بھی میں نے تمہارے ساتھ کیا اس سب کیلئے ۔۔

میں نے تو آپ کو کب کا معاف کردیا تھا معظم جب وجاہت سے محبت ہوئی اسی دن آپ کو معاف کردیا تھا میں نے

بلکہ شکر گزار ہوں میں آپکی کہ آپ کی وجہ سے ہی مجھے ایک سچا پیار کرنے والا اور عزت دینے والا شوہر ملا۔۔

ہانیہ نے نظریں وجاہت پر مرکوز کئے معظم کو کہا وہ اس شخص کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی

وجاہت کی نظریں بھی اسی پر تھی معظم ہانیہ کے الفاظ سن کر کمرے سے نکلتا چلا گیا

مجھے یقین تھا آپ کبھی کسی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کریں گے۔۔

ہانیہ نے مسکرا کے وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

جو کچھ بھی اس نے مجھے کہا تھا سن شائن دل تو کیا تھا کہ اسے اسی وقت سبق سیکھاؤ مگر پتہ نہیں کیوں رک گیا میں پھر پہلے آج تمہاری باتیں ذہن میں چلنے لگیں اور بعد میں اس آدمی کے گھر والوں کے بارے میں پتہ چلا تو میں رک گیا۔۔

جو کچھ اب اس کو دیا وہ صرف اسکی ماں اور بہنوں کیلئے کیونکہ ایک وقت میں انہوں نے تمہارا خیال رکھا بس انسانیت کی خاطر یہ سب کیا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کا چہرا ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے کہا۔۔

ہانیہ بس مسکرا دی آج اسکے دل میں وجاہت کی عزت اور بھی بڑھ گئی محبت تو پہلے ہی اپنی جگہ بنا چکی تھی اسکے دل میں۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

دیکھتے دیکھتے وہ دن بھی آگیا جب عالم ولا کو دلہن کی طرح سجایا گیا۔۔

وجاہت تو چاہتا تھا اسکی گڑیا کی شادی بہت شاندار طریقے سے کسی ریزورٹ میں ہو مگر ہانیہ کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے اسنے مہندی کی رسم گھر کے لان میں ہی رکھی۔۔

سورج کے ڈوبتے ہی عالم ولا اپنی شان و شوکت سے جھلملانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔

زرد رنگ کے پھولوں اور سفیداور دھانی رنگ کے پردوں اور فینسی لائٹوں سے لان کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔

مایوں کی رسم میں ہادی اور نیلم کیلئے جھولے کو خوبصورتی سے گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا نیلم کو لانے کیلئے ایک راستہ بنایا گیا جسے خوبصورتی سے گیندے کے پھول کی پتیوں سے بھر دیا گیا۔۔

عالیہ بیگم نے ہلدی رنگ کا خوبصورت سوٹ پہلنا تھا۔۔

شان صاحب اور جمشید صاحب نے سفید کاٹن کا سوٹ پہنا تھا جس کے اوپر دونوں کے ہی مہندیا رنگ کی واسکٹ پہن رکھی تھی۔۔

مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالم ولا کے لان میں لوگ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ۔۔

لڑکیوں اور لڑکوں کی ہنسی قہقہہ لان میں گونجنے لگا جو کہ ماحول کو اور بھی حسین بنا رہے تھے۔۔

دادو اپنے مہمانوں کے ساتھ لان میں ہی بیٹھی تھی سب لوگ ہی ان سے احترام سے مل رہے تھے

ہانیہ اور نیلم ابھی گھر میں ہی موجود تھی جنہیں پارلر والی تیار کرکے جاچکی تھی۔۔

نیلم اپنے کمرے میں بیٹھی ہلدی اور ہلکے گلابی رنگ کے لہنگے میں بھاری دوپٹا جس پر سونے کی ستاروں سے خوبصورتی سے کام کیا گیا تھا سر پر اچھے سے سیٹ کئے گلابی رنگ کے آدھ کھلے گلاب کے پھولوں کے زیور میں پارلر والی کی ہاتھوں کے مہارت نے نیلم کو کوئی سچ مچ کی شہزادی ہی بنادیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالیہ بیگم نے اپنی نازوں پلی بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھا تو ان کی آنکھیں چھلکنے لگی ۔۔

ماشاءاللہ اللہ نظر بد سے بچائے عالیہ بیگم نے نیلم کو پیار کرکے دل سے دعا دی۔۔

ہانیہ بھی اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ہاتھوں میں چوڑیاں پہن رہی تھی اسے عالیہ بیگم اور دادو نے منع کیا تھا کسی بھی طرح کے پھولوں کے زیور پہننے سے۔۔

اورنج اور دھانی رنگ سے خوبصورت لہنگا چولی میں ملبوس ہلدی رنگ کے ڈوپٹے کو ایک کندھے پر سیٹ کئے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی

سنہری رنگ کے زیورات پہنے وہ بھی کسی دلہن سے کم نہیں لگ رہی تھی

کمر پر سنہری رنگ کا کمر بند باندھا ہوا تھا جو کہ ڈوپٹہ کے اوپر تھا ۔۔ ڈوپٹہ ایسے مکمل طور پر سیٹ کیا ہوا تھا جس سے ہانیہ کو چلنے پھرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔۔

بیوٹیشن کے کئے گئے میک اپ مین آج اسکا سنہری روپ الگ ہی خوبصورتی پیش کر رہا تھا۔۔

آج بالوں کو بھی اسنے سائڈ بریڈ کے سے اسٹائل میں بنوایا تھا۔۔

وجاہت سے بہت ضد کر کے اس نے بیوٹیشن سے میک اوور کروایا تھا ورنہ تو وجاہت نے کہا تھا کہ بلکل سادگی میں رہنا مگر پھر وہ مان گیا کیونکہ انکی شادی کی تو کوئی رسمیں ہوئی نہیں تھی تو اسی لئے وجاہت چاہتا تھا کہ نیلم کی شادی کو ہانیہ دل سے انجوائے کرے جیسے بھی وہ چاہتی ہے۔۔

یار سن شائین دیکھو زرا اس نے اپنے بالوں سے ہئیر کیچ کھینچا تو مجھے اب اس کے بال کچھ اچھے نہیں لگ رہے زرا اسے ٹھیک کردو۔۔

وجاہت حور کو گود میں لئے کمرے میں داخل ہوا اور اپنی ہی دھن میں بولتا چلا گیا ۔۔ ہانیہ بیڈ پر اسکی مخالف سمت بیٹھی چوڑیاں پہن چکی تھی وجاہت کی آواز پر وہ اٹھی اور اپنا رخ وجاہت کی طرف کیا۔۔

ہانیہ کو دیکھ کے وجاہت جو شاید آگے بھی کچھ کہتا مگر اب تو جیسے اسکے ہونٹ سل گئے تھے۔۔

ہانیہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ وجاہت نے اپنی پلکیں بھی نہ جھپکائیں اسکی نظر تو جیسے تھم سی گئی اپنی سن شائن پر جو کہ آج سچ مچ میں اپنے سنہری روپ سے وجاہت کی آنکھوں میں جگمگا رہی تھی۔۔

حور وجاہت کی گود سے اترنے کیلئے کسمسائی تو وجاہت ایک دم چونک کر حال میں واپس آیا۔۔

کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔ ہانیہ نے خوبصورت مسکان لبوں پر سجائے وجاہت سے پوچھا۔۔

یار اتنی خوبصورت نہ لگو کہ میں بے حس ہو کر تمہیں اس کمرے میں بند ہی نہ کردوں۔۔ اتنی حسین نہ لگو کہ میں تم پر سے نظریں ہی نہ ہٹا سکوں۔۔۔ سچ کہوں تو آج ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سنہری پری کو مجھے دنیا سے چھپا کے رکھنا چاہئیے۔۔

وجاہت کے بے خودی سے بولنے پر ہانیہ کا چہرا اتر گیا۔۔ مطلب آج بھی آپ مجھے تیار ہوکر باہر جانے نہیں دینگے۔۔

ہانیہ نے بجھے دل سے سوال کیا تو وجاہت کو ایک دم سنبھلنا پڑا دوسری طرف حور اپنے ہاتھ پیر چلانے لگی وجاہت کی گرفت میں ۔۔

وجاہت نے اسے نیچے اتارا اور ہانیہ کے قریب آیا۔۔

نہیں آج کچھ نہیں کہوں گا گڑیا کی شادی میں تمہارا جو دل کرے وہ تم کرو میں نہیں روکوں گا بس اپنا خیال رکھنا زیادہ چہل قدمی مت کرنا اور جو بھی دادو اور مام کہیں انکی سننا۔۔

وجاہت نے اسکے ماتھے پر سجی نازک سی بندیا پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔

وجاہت کے لمس کو محسوس کرکے ہانیہ پھر سے مسکرانے لگی۔۔

پھر اسنے حور کو دیکھا جو اپنے بال پورے بگاڑ چکی تھی

ہانیہ کے جیسے ہی اورنج دھانی اور ہلدی رنگ کے چھوٹے سے لہنگے میں حور بہت ہیاری لگ رہی تھی۔۔

اس کے ہئیر کیچ میں ستاروں کا کام تھا جو کہ شاید اسے چبھ رہا تھا تو اسنے اپنے سر سے اتار دیا۔۔

جسکی وجہ سے اسکے بال خراب ہوگئے اور وجاہت اپنی بیٹی کے بال ٹھیک کروانے کیلئے ہانیہ کے پاس لایا۔۔

ہانیہ نے حور کے گال پر پیار کیا اور پھر اسکے بال بنانے کے بجائے حور کے کپڑوں کے ساتھ آئے چھوٹے سے ڈوپٹے کو لیا جوکہ اسے پہنایا نہیں تھا اب ہانیہ نے اسے کھول کر اسکے سر پر رکھا اور اسکی گردن کے پیچھے کر کے اسنے پن لگا دی جیسے کشمیری عورتیں اپنی گردن کے پچھلے حصے پر اسکارف باندھتی ہیں وجاہت اپنی چھوٹی سی پری کو دیکھ کے مسکرا دیا۔۔

وجاہت نے اس وقت سفید شیروانی پہن رکھی تھی جس پر اسنے دھانی رنگ کی شال مفلر کی طرح لی ہوئی تھی بھورے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیا ہوا تھا ۔۔ بھورے آنکھوں میں آج سنجیدگی کے بجائے آج نرمی تھی ۔۔ گھنی موچھوں تلے ہونٹ مسکرا رہے تھے اپنی چھوٹی سی پری کو دیکھ کے ۔۔

ہانیہ نے بے اختیار ہی اپنی ہارٹ بیٹ مس کی یہ مغرور شہزادہ ہانیہ کو ایک محبت کرنے والے شوہر اور نرم لہجے والے باپ کی صورت میں ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا۔۔

چلیں سن شائن ۔۔ میری گڑیا کی فرمائش ہے کہ ہم دونوں اسے اسٹیج تک لے کر جائیں۔۔

وجاہت نے حور کو پھر سے گود میں لیا اور ہانیہ کی طرف ہاتھ بڑھا کے کہا۔۔ ہانیہ نے مسکراتے ہوئے وجاہت کا ہاتھ تھام لیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت حور اور ہانیہ نیلم کے کمرے میں داخل ہوئے تو عالیہ بیگم نے محبت سے ان تینوں کو دیکھا دل ہی دل میں ان تینوں کی خوب بلائیں لی۔۔

نیلم نے بھی اپنے بھائی اور بھابھی کو دیکھا تو دل ہی دل میں ان کی خوشیوں کیلئے ڈھیروں دعائیں کی۔۔

ماشاءاللہ نیلم میری جان اتنی حسین لگ رہی ہو۔۔ ہانیہ نے نیلم کو دیکھ کے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔

شکریہ بھابھی مگر ایک بات کہوں گی بھائی پلیز بھابھی سے دوبارہ شادی کرلیں قسم سے بھابھی آپ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی ہیں اتنی خوبصورت کے کیا بتاؤں۔۔ نیلم نے اپنے نرم لہجے میں دل سے ہانیہ کی تعریف کی جسے سن کمرے میں موجود سبھی مسکرا دیئے۔۔

وجاہت نے پیار سے نیلم کو گلے لگایا اور اسکے ماتھے پر پیار کیا ۔۔ ماشاءاللہ میری گڑیا اتنی پیاری لگ رہی ہے پتہ ہی نہیں چلا تم کب بڑی ہوگئی نیلم۔۔

وجاہت نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔

عالیہ بیگم اور ہانیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں بھائی بہن کو ساتھ لگے دیکھ کے۔۔

چلو تم دونوں نیلم کو باہر لے کر آؤ میں حور کو ساتھ لے جاتی ہوں۔۔

عالیہ بیگم بول کے حور کو لئے کمرے سے چلی گئیں۔۔

وجاہت اور ہانیہ اسے لئے چل دئیے لان میں اسٹیج تک جانے والے راستے پر نیلم نے ہانیہ اور وجاہت کا ہاتھ تھام لیا اور ان کے ساتھ اسٹیج کی طرف جانے لگی۔۔

اسٹیج پر ہادی کریم کلر کی شیروانی کے اوپر ہلدی رنگ کی شال کو مفلر کی طرح لئے کسی شہزادے کی طرح اپنی شہزادی کا انتظار کر رہا تھا۔۔

وجاہت اور ہانیہ نیلم کو اسٹیج تک لے کر گئے پھر اسے ہادی کے ساتھ ہی پھولوں سے سجائے گئے جھولے پر بٹھا دیا۔۔

پرنسس بہت حسین لگ رہی ہو آج دل کر رہا ہے آج ہی چرا کے لے جاؤ مگر یہ کمبخت رسم و رواج میرے پیروں میں بیڑیوں کا کام کر رہی ہیں۔۔

نیلم کی طرف چہرا کئے ہادی سرگوشی نما آواز میں بولا تو نیلم کا جھکا سر شرم سے اور جھک گیا جسے دیکھ کے ہادی کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔

کچھ ہی دیر میں ہلدی کی رسم شروع ہوئی تو عالیہ بیگم نے نیلم کو ہلدی لگائی جبکہ شان صاحب نے ہادی کو ہلدی لگائی۔۔

ہانیہ اور وجاہت نے بھی نیلم اور ہادی کی ہلدی کی رسم کی۔۔

جمشید صاحب نے بھی اپنے بیٹے اور بہو کی رسم کی آج انہیں اپنی شریک حیات کی کمی بہت زیادہ محسوس ہورہی تھی۔۔

اپنے خوبرو بیٹے کو گلے لگا کر انہوں نے اسے اسکی آگے کی زندگی کیلئے ڈھیروں دعائیں دیں۔۔

باری باری سب مہمان بھی رسم کے مطابق دلہا دلہن کو ہلدی لگاتے گئے ساتھ میں ہادی کے کچھ دوست اور نیلم کی کچھ کزنز مسلسل انہیں اپنی باتوں سے ہادی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے جس کا جواب ہادی بہت مزے لے لے کر دے رہا تھا اور نیلم سر جھکائے بس مسکرائے جارہی تھی۔۔

ہانیہ گھر کی بہو ہونے کے ناطے سب مہمانوں سے مل رہی تھی ہر کوئی اس سے محبت سے مل رہا تھا اور ڈھیروں دعائیں دے رہا تھا۔۔

کچھ لڑکے لڑکیوں نے شور کیا کہ ہادی نیلم کو ہلدی لگائے تو ہادی نے اپنے ہاتھوں پر ہلدی لے تو لی مگر لگانے سے پہلے اسنے وجاہت کو دیکھا جو مصنوعی غصے سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔

ہادی نے ایک چڑانے والی مسکراہٹ وجاہت کو پاس کی اور ساتھ بیٹھی نیلم کے گالوں پر ہلدی لگائی

وجاہت رخ موڑ کر مسکرانے لگا یہ سوچ کر کہ ہادی کبھی نہیں سدھر سکتا ہر موقع پر وہ وجاہت کو زچ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے کہاں دیتا تھا۔۔

پھر اسنے اپنی سن شائن کو دیکھا جو کسی لڑکی سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی وجاہت کو ایک دم خیال آیا کہ اتنی دیر سے اسنے کچھ کھایا پیا نہیں تو پہنچ گیا اس کے پاس اور اسے لئے ایک ٹیبل پر گیا اور ویٹر سے کچھ اسنیکس منگوائے اور اسے خود اپنے ہاتھ سے کھلانے لگا۔۔

کئی لوگوں نے انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں دعائیں دیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *