Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 41)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

وجاہت اپنے آفس میں بیٹھا اسی سوچ میں تھا کہ وہ کون شخص تھا اور کیا چاہتا تھا ہانیہ سے۔۔

اسکی سن شائن کی آنکھوں میں اس ذلیل شخص کی وجہ سے آنسو آئے تھے اتنی آسانی سے اسے چھوڑا نہیں جاسکتا۔۔

سوچتے سوچتے ہی وجاہت کا ایول موڈ آن ہوچکا تھا آنکھیں سرخ ہوچکی تھی۔۔

کچھ بھی کر کے مجھے اس شخص کا پتہ لگانا پڑے گا۔۔

وجاہت نے اپنی سوچ پر حتمی فیصلہ لیا اور فون اٹھا کر کسی کو کال کرنے لگا۔۔

وعلیکم السلام۔۔ ہاں اصغر ایک آدمی کے بارے میں پتہ کرنا ہے کہاں رہتا ہے کیا کرتا ہے اور اس وقت کہاں ہے تم مجھے سب بتاؤ گے

وجاہت نے اس آدمی کے متعلق اپنے خاص آدمی اصغر کو بتایا اور اپنی سوچ کا مرکز اب اسنے اپنے کام کو بنایا۔۔

کچھ گھنٹے کام میں مصروف رہنے کے باوجود وہ ہر گھنٹے گھر پر فون کرتا رہا تھا

کام کتنا بھی کیوں نہ ہو اسکی سن شائن سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔۔

وہ ہر گھنٹے اسکی خیریت گھر کے کسی نہ کسی فرد سے لے رہا تھا۔۔

پھر جب شام کے 6 بجے تو اسنے گھر جانے کیلئے اپنی فائلوں کو سمیٹا جنہیں وہ گھر لے جانا چاہتا تھا

آفس سے نکلنے ہی لگا تھا کہ انٹرکام پر کسی کے آنے کی اطلاع ملی

وہ جو کوئی بھی شخص تھا اسکا کہنا تھا کہ وجاہت اسے جانتا ہے۔۔

وجاہت نے اس آدمی کو آفس میں بھیجنے کا کہہ کر وہ ایک بار پھر اپنی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔

کچھ ہی منٹوں بعد اسے وہی آدمی نظر آیا جو ہانیہ کو ہوٹل میں تنگ کر رہا تھا۔۔

اس کو دیکھ کے وجاہت کا پارہ ایک دم ہائی ہوگیا۔۔

کیا تم جانتے ہو یہاں آکر تم نے اپنی موت کو دعوت دی وجاہت نے اسے گھورتے ہوئے کہا تو معظم نے اپنی ہمت جما کر کے وجاہت کے سامنے معزرت خواہانہ انداز میں بولنے لگا۔۔

مجھے معاف کردیں سر مگر اس دھوکے باز لڑکی کو دیکھ کر مجھ سے اپنا غصہ کنٹرول نہیں ہوا ۔۔

معظم اپنے طور پر اپنا لہجے میں بے چارگی لئے بولنے لگا۔۔

وجاہت نے غور سے اسکے چہرے کو دیکھا جہاں لہجے میں تو بے چارگی تھی مگر چہرے پر اس بیچارگی کے اثرات بلکل بھی نہیں تھے۔۔

لگتا تھا کہ وہ ایک اناڑی ہے جسے ٹھیک سے اپنی بات کا یقین تک دلانا نہ آتا ہو۔۔

وجاہت نے طنزیہ مسکراہٹ لئے اسے دیکھا پھر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔

اگر سامنے کوئی وجاہت کا جاننے والا ہوتا تو کبھی اسکے یوں بٹھانے پر نہیں بیٹھتا۔۔

کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔۔ وجاہت نے ایسے کہا جیسے فرصت سے اسکی بات سننے کیلئے ہی بیٹھا ہو۔۔

سر جو لڑکی آپکی بیوی ہے اصل میں وہ ایک دھوکے باز لڑکی ہے آپ سے شادی کرنے سے پہلے اسنے مجھ سے شادی کی تھی۔۔

مجھ سے شادی کرنے کی وجہ اس وقت میری جاب بہت اچھی تھی اپنا گھر تھا ایسا سمجھیں کہ میں ویل سیٹیل لگتا تھا اسکو اور اس بات کا ذکر وہ کئی بار کرتی تھی۔۔

میری ماں نے اسے میرے لئے پسند کیا تھا تو میں نے بھی اس کو اپنایا تھا۔۔

مگر شادی کے کچھ عرصے بعد ہی مجھے پتہ چلا کہ وہ کئی کئی لڑکوں سے تعلقات رکھ چکی تھی۔۔

اور یہ سب اسکے سابقہ عاشقوں نے مجھے بتایا کہ اس ناگن سے دور رہنا۔۔

مگر میں اپنی ماں کی پسند کی لاج رکھ کے خاموش رہا پھر کچھ وقت بعد اسے مجھ سے بہت سے اختلافات ہونے لگے۔۔

میں اسکی ہر بات خاموشی سے سنتا تھا حتیٰ کہ کوشش کرتا تھا اسکی تمام خواہشات کو پوری کرنے کا۔۔

مگر وہ میرے ساتھ خوش نہیں تھی گھنٹوں فون پر نہ جانے کس سے لگی رہتی تھی مگر میں پھر بھی خاموش رہا یہ سوچ کر کہ اب وہ میری عزت ہے۔۔

ایک سال کے بعد میرے گھر والوں نے ہمارے بچوں کی خواہش ظاہر کی تو ہانیہ نے ایک دم دو ٹکہ سا سب کو جواب دیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ اسے بچے نہیں چاہئے۔۔

اماں نے زور دیا تو وہ مجھ سے جھگڑا کرنے لگی۔۔

یہاں بھی جب اسکا دل نہیں بھرا تو اس نے اپنے اور میرے ٹیسٹ کروائے صرف گھر والوں کو خاموش کروانے کیلئے۔۔

اور جب مجھے پتہ چلا تھا کہ ہانیہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تو میرے گھر والوں نے مجھے حوصلہ دیا کہ صبر کرو۔۔

مگر ہانیہ پھر بھی نہ بدلی۔۔ ضدی، ڈھیٹ بدزبان اور بدتمیز تو وہ ہمیشہ سے ہی تھی۔۔

مگر اس واقعے کے بعد وہ بدلحاظ بھی ہوگئی تھی۔۔

میں نے بہت کوشش کی تھی اپنے رشتے کو بچانے مگر جیسے ہی میری جاب گئی اس نے مجھ سے طلاق کے بابت مطالبہ کردیا۔۔

بہت سمجھایا اسے مگر وہ نہ مانی گھر کا سکون جب برباد ہونے لگا تو میں نے ہار مان لی اور ہانیہ کو طلاق دے دی

مگر اس دن وہ مجھے دکھی میری زندگی برباد کرکے اب وہ آپ کے پیچھے پڑ گئی ہے میں نے اس سے بس یہی سوال کیا تھا کہ اب کس کی زندگی برباد کرنے کا سوچا ہے تو وہ مجھے ہی الٹا سنانے لگی۔۔

میں نے اسے سمجھایا مگر وہ میرے منہ پر دروازہ بند کرنے لگی

میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا اسی لئے اسکا دروازہ پکڑا تھا۔۔

معظم نہایت افسوس سے نظریں جھکائے بول رہا تھا۔۔

وجاہت ایول اسمائل لئے خاموشی سے سب سن رہا تھا۔۔

معظم کو زرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وجاہت نے اس دن ہوٹل میں ہانیہ اور معظم کے بیچ ہونے والی تمام باتیں سنی تھیں۔۔

تم کیا چاہتے ہو اب؟؟

وجاہت نے سپاٹ چہرا لئے معظم سے سوال کیا۔۔

خبردار کرنا چاہتا ہوں بس آپ کو کہ اس لالچی لڑکی سے دور رہیں ورنہ آپ کو بھی وہ برباد کر دے گی۔۔

ٹھیک کہتے ہو اس لالچی لڑکی( بولتے ہوئے وجاہت نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں) کا کچھ تو کرنا ہوگا۔۔

بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ معظم وجاہت کے اتنی آسانی سے مان جانے پر مسکرا دیا

اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ کتنا ہی اچھا ہوگیا یہ سب ایک تیر سے دو نشانے لگ گئے۔۔

پہلے تو ہانیہ ایک بار پھر رسوا ہو کر رہ جائے گی طلاق یافتہ کے طور پر دوسری طرف یہ وجاہت عالم جو پاگل ہوا جارہا ہے ہانیہ کے پیچھے وہ بھی اکیلا رہ جائے گا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

لیڈیز کیا چل رہا ہے آج ۔۔ ہادی نے گھر میں داخل ہوا تو ہانیہ نیلم کو ہال میں بیٹھے ہوئے باتوں میں مگن دیکھ کے بولا۔۔

کیا کریں گے فارغ ہیں بلکل ٹی وی پر مووی بھی دیکھ لی شام میں لان میں واک بھی کرلی کھانا ملازم بنا چکے ہیں تو اب ہم ہمیشہ کی طرح فارغ ہوکر بور ہورہے ہیں۔۔

نیلم نے ہلکی مسکراہٹ لئے کہا ہادی سر نفی میں ہلا کے رہ گیا۔۔

تو اتنا ہی بور ہورہی ہو تو گھر کی صفائی کرلو۔۔

ہادی نیلم کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

میں اور گھر کی صفائی کروں مسٹر کیا آپ بھول گئے ہیں کہ میں صرف نام کی ہی نہیں بلکہ گھر بھر کی پرنسس ہوں کوئی مجھے کبھی کسی کام کا نہیں کہتا ۔۔

نیلم نے گردن اکڑا کے کہا۔۔

ہانیہ نیلم کو دیکھ کے مسکرا دی۔۔

نیلم کا شاداب چہرا دیکھ کے ہادی کی تو مانو دن بھر کی تھکن ہی اتر گئی۔۔

بلیو جینس کے اوپر وائٹ ٹاپ پہنے گلے میں بلیو اسٹرالر پہنے وہ بہت فریش فریش سی لگی۔۔

ٹھیک ہے کرلو یہاں آرام مگر شادی کے بعد گھر بھر کا کام تمہیں ہی کرنا ہوگا جب جب ہم ملک سے باہر جائیں گے

پتہ ہے نہ باہر ممالک میں کتنے مہنگے ہوتے ہیں سرونٹس

ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

اگر یہ بات آپ نے برو کے سامنے کہی نہ تو وہ میری شادی آپ سے کبھی نہیں کریں گے۔۔

نیلم نے اترا کے کہا تو ہانیہ زور سے ہنس دی نیلم کی بات پر نہیں ہادی کے تاثرات پر شاید ہانیہ کی ہی طرح وہ بھی آج نیلم کو پہلی بار یوں ہر بات کا جواب دیتے سن رہا تھا۔۔

اور اب ہادی کو سمجھ آیا کہ جو مسکراہٹ پہ وہ خوش ہورہا تھا اصل میں تو وہ طنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔

ہانیہ ان دونوں کی نوک جھوک کو انجوائے کر رہی تھی۔۔

آج کافی دن بعد وہ کھل کے مسکرا رہی تھی۔۔

ایسے کیسے وہ اکڑو شہزادہ منا کرے گا شادی سے۔۔ احترام کے طور پر ایک بار پوچھ چکا ہوں میں اس سے۔۔ ایک سال بڑا جو ہے وہ مجھ سے

اب اگر اس نے منع کیا نہ تو اٹھا کے لے جاؤنگا تمہیں اور بھگا کے شادی کرونگا

ویسے بھی بڑی خواہش ہے میری ایسے شادی کرنے کی اگر میں شرافت دکھا رہا ہوں تو تم بھی شرفاء بنی رہو۔۔

ہادی اپنی شرٹ کی آستین بازو تک فولڈ کرتا ہوا بولا جیسے لڑکے کیلئے تیار ہورہا ہو۔۔

میرے برو کے سامنے تو آپ کی آواز نہیں نکلتی بھگا کے کیا لے جائیں گے مجھے۔۔

نیلم نے اپنے ناخنوں کو پھونک مار کے کہا انداز ایسا تھا جیسے ہادی کی بات کا کوئی اثر نہ لیا ہو۔۔

ہانیہ کیلئے تو نیلم کا یہ انداز کافی شاکنگ تھا۔۔

یار میں تو سمجھا تھا کہ تم اللہ میاں کی گائے ہو مگر تم بھی لڑاکا ہو ۔۔

ہادی نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔۔

میری گڑیا کو ایسا بولنے سے پہلے سوچ لو ہادی اگر وہ لڑنا جانتی ہے تو پیٹنا بھی جانتی ہوگی۔۔

وجاہت نے ہال میں قدم رکھا اور ان تینوں کے پاس ہی چلا آیا ہانیہ کو ہنستے ہوئے دیکھ کے اسکا موڈ بھی خوشگوار ہوگیا۔۔

ہانیہ کے برابر میں بیٹھ کے وجاہت نے اسکی طبیعت کے بارے میں پوچھا

کیسی ہو سن شائن ۔۔ ہانیہ نے مسکرا کے وجاہت کو دیکھا جو محبت پاش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

ٹھیک ہوں میں بلکل آپ کیلئے پانی لاتی ہوں۔۔

ہانیہ بول کے اٹھنے لگی تو وجاہت نے اسے روکنا چاہا مگر وہ پھر بھی چلی گئی اور دو گلاس پانی کے لے آئی ایک وجاہت کو دیا تو دوسرا ہادی کو۔۔

دیکھو سیکھو زرا ہانی سے کیسے اپنے شوہر کے آتے ہی اسکی فکر لگ گئی انہیں ۔۔

ہادی نے پانی پیتے ہوئے نیلم سے کہا

ہاں تو برو شوہر ہیں ان کے۔۔ نیلم نے ہادی کو گھورتے ہوئے کہا۔۔

ہاں تو میں بھی تو تمہارا ہونے والا مجازی خدا ہوں۔۔

ہادی نے اکڑ سے کہا۔۔

تم کچھ زیادہ ہی نہیں بول رہے۔۔ وجاہت نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔۔

غصے میں ہوں میں ہادی نے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔

اس سے پہلے میں غصے میں آجاؤ آئندہ ہانیہ کو ہانی مت کہنا۔۔

وجاہت نے گھٹنوں پر اپنے بازو رکھ کے کہا۔۔

میں تو کہونگا ہانی جب انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تو تمہیں کیا مسئلہ ہے۔۔

ہادی نے ناک پر سے مکھی اڑانے کے سے انداز میں کہا۔۔

کچن سے عالیہ بیگم اپنے بچوں کو خوش گپیاں کرتے دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔

ٹھیک ہے جمشید انکل کب آرہے ہیں پاکستان۔۔؟؟ وجاہت نے طنزیہ مسکراہٹ لئے کہا۔۔

پاپا کا اس بات میں کیا ذکر۔۔ ہادی نے جانچتی نظر سے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔

زیادہ کچھ نہیں بس اتنا کہونگا ان سے کہ شادی اگلے مہینے نہین بلکے اگلے سال ہے وہ کیا ہے نہ اس سال میری دوسرا بے بی دنیا میں آجائے تاکہ وہ بھی تمہاری شادی کا حصہ بنے اب اس کے لئے تو ایک سال شادی آگے بڑھانی پڑے گی۔۔

وجاہت نے مسکراتے ہوئے کہا مگر ہادی خاموشی سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔

نیلم اور ہانیہ کا قہقہہ چھوٹ گیا ہادی کو دیکھ کے۔۔

جبکہ وجاہت ہادی کو حیران کر کے محفوظ سا مسکرا رہا تھا۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوگا ہاں اپنے بھتیجے کی خوشی کیلئے میں دوبارہ شادی کرلوں گا مگر ابھی شادی اگلے مہینے ہی ہوگی

ہادی نے تیزی سے کہا اور بغیر کسی کا جواب سنے ہی وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔

نیلم بھی اس کے جانے کے بعد وہاں سے اٹھ کے چلی گئی۔۔

اب وجاہت نے ہانیہ کو دیکھا جو آج بہت خوش لگ رہی تھی۔۔

وجاہت یہ آج نیلم کو کیا ہوا ہے میں نے کبھی اسے اتنا بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔

میری گڑیا اتنا صرف ہادی کے سامنے ہی بول سکتی ہے وہ بھی جب وہ اس سے ناراض ہو ویسے وہ ناراض ہوتی نہیں ہے مگر ہوئی ہوگی کوئی بات

تم ٹینشن نہ لو ہادی اسے بچپن سے جانتا ہے اور اسے منانا بھی جانتا ہے جبھی تو روٹھتی ہے وہ اس سے

وجاہت نے پیار سے کہا تو ہانیہ نے مسکرا کے کہا۔۔

ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ انسان اس سے ہی روٹھتا ہے جس سے امید ہو کہ وہ اسے منائے گا۔۔

اچھا اگر ایسا ہے تو تمہیں امید نہیں ہے کیا کہ میں تمہیں مناؤگا نہیں۔۔

ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ ہانیہ وجاہت کی شرارت سمجھے بغیر بولی۔۔

کیونکہ تم کبھی مجھ سے روٹھتی ہی نہیں ہو۔۔

وجاہت نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

آپ نے ہی کہا تھا کہ آپ کو منانا نہیں آتا اسی لئے میں روٹھ کے کرونگی بھی کیا۔

ہانیہ نے وجاہت کی طرف دیکھے بغیر کہا۔۔

روٹھ کر دیکھو بہت اچھے سے منانا آگیا ہے مجھے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے کان میں کہا تو ہانیہ اس سے دور ہوئی اور سرگوشی نما آواز میں کہا کہ ہم اس وقت اپنے روم میں نہیں بلکہ ہال میں بیٹھے ہیں۔۔

تو چلو نہ روم میں ۔۔ وجاہت نے معصومیت سے کہا تو ہانیہ شرمانے لگی۔۔

سدھر جائیں آپ۔۔ ہنس کر بولتے ہوئے وہ اٹھنے لگی تو وجاہت بھی اس کے پیچھے چل دیا

کمرے میں آکر وہ حور کے کمرے میں گئی حور کو دیکھا جو ابھی تک سور رہی تھی۔۔

یہ اس وقت کیوں سورہی ہے۔۔

وجاہت نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو ساڑھے سات بج رہے تھے۔۔

محترمہ دن بھر کھیلتی رہیں اور شام میں تھک کر نیچے ہال میں ہی سوگئیں۔۔

نیلم ہی اسے یہاں لٹا کر گئی تھی۔۔ ہانیہ نے وجاہت کو بتاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔

وجاہت میں اپنی بیٹی کو گود میں نہیں لے پاتی وہ میری گود میں آنا چاہتی ہے مگر مما مجھے منع کرتی ہیں۔۔

ہانیہ نے بجھے دل سے کہا۔۔

سن شائن ڈاکٹر نے منع کیا ہے تمہیں زرا بھی وزن اٹھانے سے کچھ مہینوں کی ہی بات ہے ویسے بھی ہماری جان اب بہت جلد بغیر سہارے کے چلنے لگے گی تو دیکھنا وہ کبھی کسی کی گود میں نہیں آئے گی

بڑی آپی جو بننے والی ہے۔۔ وجاہت نے محبت سے حور کے سر پر ہاتھ پھیر کے کہا۔۔

تو ہانیہ نے پیار سے وجاہت کے کندھے پر سر رکھ لیا۔۔

وجاہت اسے حور کے روم سے باہر لایا اور بیڈ پر بٹھا دیا۔۔

دوائیاں کھائی تم نے۔۔ سائڈ ٹیبل پر رکھے میڈیکل باکس کو چیک کرتے ہوئے وجاہت نے کہا۔۔

جی ہاں کھالیں ساری ۔۔ ہانیہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔۔

میڈیکل باکس واپس رکھ کے وجاہت ہانیہ کی طرف متوجہ ہوا۔۔

کچھ کھانے کا من ہے کیا۔۔ جو کہو گی وہ کھلاؤگا۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو حیرت سے دیکھ کے کہا۔۔

خیریت تو ہے نہ یہ آپ ہی ہیں جو ہر وقت مجھے باہر کے کھانے پر ٹوکتے ہیں آج خود مجھے کہہ رہے ہیں کہ کیا کھاؤگی۔۔

اب میں نے یہ کب کہا کہ باہر کا کھانا کھلاؤ گا۔۔

وجاہت نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

پھر فائدہ۔۔ ہانیہ نے پھر سے منہ لٹکا کے کہا۔۔

ارے یار میرا مطلب تھا جو کھانا ہے بتاؤ میں گھر میں بنوا دونگا۔۔

گھر میں وہ بات نہیں آتی جو باہر بیٹھ کر کھانے میں ہے۔۔ ہانیہ نے للچاتے ہوئے کہا۔۔

سن شائن معزرت مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا میں نے پہلے کبھی تمہیں کھانے نہیں دیا تو اب تو تمہاری صحت کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھنا ہے۔۔

وجاہت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو ہانیہ منہ پھیر کے بیٹھ گئی۔۔

دیکھ رہے ہو بے بی تمہارے پاپا پہلے تو خود پوچھتے ہیں کہ کیا کھاؤگی پھر کچھ کھلاتے بھی نہیں ہیں۔۔

ہانیہ نے رخ موڈ کے کہا تو وجاہت کو اسکے اسطرح اپنے بے بی سے بات کرنے پر بہت پیار آیا۔۔

ٹھیک ہے کہو کیا کھانا ہے مگر جگہ میں پسند کرونگا اور اگر تمہاری طبیعت زرا بھی خراب ہوئی باہر کا کھانا کھانے سے تو تمہیں سزا ملے گی۔۔

وجاہت نے آخری جملہ مسکراتے ہوئے کہا

کیا بات ہے آج آپ کا موڈ کافی اچھا ہے ویسے۔۔

ہانیہ کے بولنے پر وجاہت ہلکا سا مسکرا دیا۔۔

تمہارا ساتھ ہی مجھے اتنی خوشی دیتا ہے جب جب تمہارا مسکراتا ہوا چہرا دیکھتا ہوں تو دل اپنے آپ خوش ہوجاتا ہے۔۔

ہانیہ وجاہت کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی۔۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ وجاہت نے ہانیہ کو اسے تکتا ہوا دیکھ کے بولا۔۔

سوچ رہی ہوں کہ کس نیکی کا صلاح ہیں آپ ۔۔

ہانیہ بولتے ہوئے اٹھ کر ڈریسنگ روم میں گئی اور وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگی وجاہت کے

پھر بلیک ٹراؤزر کے ساتھ گرے شرٹ وجاہت کو دے کر وہ کمرے میں جانے لگی تو وجاہت نے اسے خود کے قریب کیا۔۔

مجھے نہیں پتہ کہ میں کسی نیکی کا صلاح ہوں یا نہیں مگر آج جو بھی ہوں جیسا بھی ہوں صرف تمہاری وجہ سے ہوں

ورنہ دیکھا تھا نہ مجھے تم نے کیسا تھا میں زندگی سے بیزار صرف سانس لیتا تھا جینا تم نے سکھایا

پھر سے مسکرانا بھی تم نے سکھایا تمہارے ساتھ نے مجھے سکون بخشا میری زندگی ہو تم عزت ہو تم تمہاری طرف اٹھنے والی ہر آنکھ کو میں نوچ لونگا تباہ کردونگا اسے مگر تمہارے خلاف کبھی کچھ نہیں کرنے دونگا کسی کو۔۔

کیوں کہ نہ صرف عزت ہو تم میری بلکہ میرے بچوں کی ماں ہو میری خوشی ہو میری زندگی ہو میرا سب کچھ ہو

کسی کے بھی چند الفاظ میرے دل سے تمہاری محبت نہیں نکال سکتے

لوگوں سے زیادہ مجھے تم پر بھروسہ ہے تمہارے کردار پر بھروسہ ہے۔۔

وجاہت کے محبت سے چور لہجے پر ہانیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔

وہ سمجھی نہیں وجاہت اسے یہ سب کیوں کہہ رہا ہے مگر اسے ہمیشہ وجاہت کے اظہارِ محبت پر خوشی ملتی تھی

اور ایسا اظہار وہ تقریباً ہر دن کرتا تھا اپنی محبت کا یقین وہ ہر روز اسے دلاتا تھا

اسی لئے تو انکی محبت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ ہی رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *