Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 22)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 22)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
12 گھنٹے کے سفر کے بعد وہ لوگ پیرس پہنچے ۔۔
اس وقت یہاں رات کے 11 بج رہے تھے۔۔
کھانا وہ لوگ راستے میں ہی ایک ریسٹورنٹ سے کھا چکے تھے۔۔
یہاں پر ہادی کے والد جمشید صاحب کا پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ تھا جسکی چابی ہادی اسے دے چکا تھا۔۔
جمشید صاحب چونکہ الگ الگ ملک گھومتے رہتے تھے اسی لئے وہ اس وقت کینیڈا میں تھے۔۔
وجاہت ہانیہ اور حور کو لئے اسی پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ میں لے گیا۔۔
وہ پہلے بھی پیرس آچکا تھا مگر ہمیشہ ہوٹل میں ہی اپنا اسٹے کرتا تھا۔۔
اسے سخت ناپسند تھا کسی کو ڈسٹرب کرنا یہ کوئی اسے ڈسٹرب کرے ۔۔
گھر کا ایک ملازم وجاہت اور اسکی فیملی کو ائیرپورٹ لینے آیا تھا ۔۔
مگر گھر پہنچ کر ہی وجاہت نے اسے واپس بھیج دیا اور صرف صفائی والوں کو صبح آنے کا کہا وہ بھی صرف 2 گھنٹے کیلئے۔۔
یہ کافی بڑا اپارٹمنٹ تھا جو کہ اٹالین طرز کا بنا تھا
ہر چیز ہی یہاں سفید رنگ کی تھی جو اس اپارٹمنٹ کو اور کشادہ اور خوبصورت دکھا رہی تھی سفید ہی ٹائلز سے بنا صاف شفاف چمکتا ہوا فرش تھا اور ہر چیز سلیقے سے سجائی ہوئی تھی جو کہ کسی کے اعلیٰ ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھی۔۔
لگ ہی نہیں لگا تھا کہ یہ گھر مہینوں بند رہتا تھا۔۔
ہانیہ کو وہ گھر بہت زیادہ پسند آیا تھا ۔۔
اس اپارٹمنٹ میں 3 کشادہ کمرے بھی تھے ایک جمشید صاحب کا تھا دوسرا ہادی کا تھا
ایک بڑا سا ہال تھا جس میں خوبصورت سے صوفوں کے ساتھ جدید ڈیزائن کے ٹیبل تھے اور اسکے ساتھ ہی اوپن کچن اور ٹی وی لاونج تھا۔۔
تیسرا کمرہ ہادی نے وجاہت کیلئے سیٹ کروایا تھا کہ کبھی تو وہ اس گھر میں آئے گا۔۔
اور ہادی نے وہ کمرا کبھی کسی کو استعمال بھی کرنے نہیں دیا تھا۔۔
ہادی اپنے دوست سے بہت محبت کرتا تھا کیونکہ ایک اسی کی بدولت ہی تو وہ اس کے گھر میں رہتا تھا جیسے وہ اسی کا گھر ہو اسکی فیملی کو اپنی فیملی مانتا تھا اگر وجاہت نہ چاہتا تو ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔۔
شان صاحب اور عالیہ کتنا ہی ہادی سے محبت کرتے مگر اگر وجاہت کو اسکا وہاں رہنا اچھا نہیں لگتا تو وہ کبھی اس گھر میں نہیں رہتا۔۔
وجاہت ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کے حور کو گود میں لئے جو کہ سورہی تھی کمرے میں داخل ہوا۔۔
کمرے میں کںگ سائز بیڈ سے منسلک دیوار پر وجاہت کی بڑی سی پورٹریٹ لگی ہوئی تھی
جس میں وجاہت بلیک ٹو پیش میں ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے آنکھوں پر کالا چشمہ پہنے مغروریت سے کھڑا تھا۔۔
ہانیہ نے وہ پورٹریٹ بہت پیار سے دیکھی۔۔
وجاہت نے حور کو بیڈ پر لٹایا اور ہانیہ کو اپنی گرفت میں لے کر اسکے کان میں بولا۔۔
کبھی مجھے بھی اتنے پیار سے دیکھ لیا کرو میری تصویر کو دیکھ کے تمہیں کیا ملے گا۔۔
وجاہت کی بات پر ہانیہ مسکرا دی۔۔
میں تو آپکی تصویر دیکھ رہی ہوں کیونکہ اس میں آپ بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں۔۔
ہانیہ نے نظریں ابھی بھی تصویر پر سے نہیں ہٹائی تھی۔۔
وجاہت نے اسکا رخ اپنی طرف کرکے شرارت سے بولا۔۔
اب میں اس تصویر سے زیادہ ہینڈسم ہوگیا ہوں یہ تو کچھ سالوں پرانی تصویر ہے
ایسا لوگ کہتے ہیں تم زرا غور کر کے بتاؤ کیا واقعی ایسا ہے۔۔
وجاہت نے اپنا گال ہانیہ کے ہونٹوں کے بلکل سامنے کر کے کہا۔۔
ہانیہ بس مسکرا دی۔۔
چلو جلدی سے چیک کرو ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔
وجاہت بھی کہا پیچھے ہٹنے والا تھا ۔۔
ہانیہ نے شرارت سے اسے غور سے دیکھا پھر اپنی ہنسی کنٹرول کرکے بولی۔۔
ہینڈسم کا تو پتہ نہیں ہاں بڈھے ہونے لگے ہیں آپ۔۔
ہانیہ کے الفاظ جیسے ہی وجاہت نے سنے اسے لگا اسنے غلط سنا چہرا موڑ کر اسنے ہانیہ کو دیکھا جو اپنی ہنسی ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہورہی تھی۔۔
وجاہت سمجھ گیاکہ وہ بس اسے چھیڑ رہی تھی۔۔
تیس سال کا جوان آدمی تمہیں بوڑھا لگ رہا ہے۔۔ ابھی بتاتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔۔
وجاہت اسے گدگدانے لگا جس سے ہانیہ کی چیخ نکل گئی اور وہ وجاہت سے دور بھاگنے لگی مگر وجاہت نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
زور سے کھینچنے پر ہانیہ وجاہت کے سینے سے جا لگی وجاہت ہنستے ہوئے اسے بولا۔۔
تنگ کیا ہے تو سزا بھی بھگتو
وہ ہانیہ کے چہرے کی طرف جھکا ہی تھا کہ حور کی روتی ہوئی آواز آئی۔۔
وہ ہانیہ کے چیخنے پر ہی آٹھ گئی تھی اور اب باقائدہ گلا پھاڑ کے رو رہی تھی۔۔
ہانیہ نے فوراً خود کو وجاہت کی گرفت سے نکال کر حور کو گود میں لیا اور اسے کندھے سے لگائے اسکی پیٹ تھپکنے لگی۔۔
وجاہت برا سا منہ بنا کر بیڈ پر جاکر لیٹ گیا۔۔
آنکھیں موندیں وہ کروٹ دوسری طرف کرکے سوگیا یا ہانیہ کو ایسا لگا شاید تھکن کی وجہ سے سوگئے ہونگے۔۔
تھوڑی ہی دیر میں حور دوبارہ سوگئی تو ہانیہ نے بھی سوجانے کا ہی سوچا اب کپڑے چینج کرنے تک کا دل نہیں تھا
وجاہت بھی جیسے آیا تھا انہیں کپڑوں میں سوچکا تھا۔۔
حور کو اپنے اور وجاہت کے بیچ میں لٹا کر ہانیہ بھی لیٹنے ہی لگی کہ وجاہت نے اسے مڑ کر دیکھا۔۔
یہ کیا تم حور کو ہمارے بیچ میں سلاؤگی۔۔
ہانیہ جو لیٹنے ہی لگی تھی وجاہت کی آواز پر اسے چونک کر دیکھنے لگی۔۔
مجھے لگا آپ سوگئے ہونگے۔۔
اور حور کو یہاں نہیں لٹاؤ تو کہاں سلاؤگی یہاں تو بے بی کاٹ بھی نہیں ہے ۔۔
ہانیہ نے بے چارگی سے وجاہت کو دیکھا تو وجاہت اپنی جگہ سے اٹھا اور حور کو سائڈ پر لٹا کر اسکے دوسری طرف کشنز رکھ دیئے تاکہ وہ کروٹ لینے پر گرے گی نہیں۔۔
ہانیہ بس اسکی کاروائی دیکھ کے مسکرا دی۔۔













دادو گھر کتنا خالی خالی لگ رہا ہے۔۔
نیلم صوفے پر بیٹھ کر اداسی سے کہنے لگی وہ لوگ ابھی ناشتے سے فارغ ہوئے تھے اور اس ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
ارے نیلم کل ہی تو سب گئے ہیں تم ابھی سے بور ہوگئی۔۔
شان صاحب نے نیلم کا اترا چہرا دیکھ کے پیار سے بولے۔۔
ہادی اور شان صاحب آفس جانے کے لئے نکل ہی رہے تھے کہ نیلم کا اترا چہرا دیکھ کے شان صاحب رک کر بولے جبکہ ہادی بس اسے دیکھے ہی گیا۔۔
جانتی ہو ڈیڈ پر حور نے جب سے بولنا شروع کیا تھا ہر وقت گھر میں ایک میٹھا سا شور ہوتا رہتا تھا وہ اپنی زبان میں ہی کچھ نہ کبھ بولتی رہتی تھی۔۔
نیلم نے دادو کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔۔
تو پرنسس تم کرلو نہ شور حور کی طرح آئیں آئیں آئیں کر کے۔۔
ہادی نے حور کی نکل اتارتے ہوئے کہا تو نیلم کے ساتھ سبھی گھر والوں کا قہقہہ فضا میں گونجا۔۔
سب کو ہنسا کر ہادی نے شان صاحب کو چلنے کا کہا تو وہ باہر کی طرف بڑھ گئے
ہادی نے جاتے ہوئے ایک نظر نیلم کو دیکھا جو اسے ہی حسرت سے دیکھ رہی تھی
ہادی کی نظریں خود پر پاکر وہ جلدی سے منہ موڑ گئی۔۔
ہادی اسکی اس حرکت پر مسکراتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔۔













صبح کی روشنی کمرے میں داخل ہوئی تو وجاہت کی آنکھ کھلی۔۔
ہانیہ کو خود میں بھینچے شاید وہ رات سے ایسے ہی سو رہا تھا۔۔
ہانیہ کی دوسری طرف حور سورہی تھی جو کہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کے سورہی تھی۔۔
وجاہت نے اسے پیار سے دیکھا ۔۔
واو ۔۔ میری بیٹی ہی مجھے کامپیٹ کرے گی وہ بھی اپنی ماما کیلئے۔۔
وجاہت مسکراتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔۔
رات کے واقعے جب اسے یاد آئے تو چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔
پہلے ہانیہ اور پھر حور کا ماتھا چوم کر وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔
ابھی ان دونوں کے جاگنے کا وقت نہیں ہوا تھا۔۔
واشروم سے فریش ہوکر باہر اپنے کپڑے لینے آیا
سوٹ کیس اٹھا کے اسکے ٹیبل پر رکھا تو ہلکی سی آواز پر ہانیہ کی آنکھ کھل گئی۔۔
کیا کر رہے ہیں آپ صبح صبح۔۔
ہانیہ نے آنکھ مسلتے ہوئے معصومیت سے کہا۔۔
ہانیہ کے بولنے کے انداز پر وجاہت مسکرا دیا۔۔
ارے بچے تم کیوں اٹھ گئی میں بس اپنے کپڑے لے رہا ہوں تم سوجاؤ ۔۔
وجاہت نے دھیمی آواز میں کہہ کر اپنے کپڑے دیکھنے لگا۔۔
پھر کافی کپڑے ادھر ادھر کرنے کے بعد بھی جب اس نے کوئی سوٹ نہ نکالا تو ہانیہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
کیا ہوا کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا پہنو تو میں نکال دوں۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو الجھن میں دیکھ کے کہا۔۔
نہیں ضرورت نہیں ہے بس یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہادی کے بچے نے میرے کپڑے اس میں پیک ہی نہیں کئے
وجاہت تاصف سے اپنے بیگ کو دیکھنے لگا جس میں صرف ٹی شرٹ اور جینز ہی تھی جو کہ بلکل نئی تھی
وجاہت نے سفید ٹی شرٹ اور بلیو جینز لے کر واشروم کی طرف چل دیا۔۔
ہانیہ نے ایک نظر اسے دیکھ کے اپنے بیگ کو کھول کے دیکھا کہ کہیں یہ سب اسکے ساتھ تو نہیں ہوا
مگر جیسے ہی اسنے اپنا بیگ کھولا اس میں بھی ہانیہ کے کپڑے نہیں تھے
یہ کپڑے تو ہانیہ نے نیلم کیلئے پسند کئے تھے۔۔
اس میں صرف جینز اور ٹاپ ہی تھے۔۔
ہانیہ نے اپنا دوسرا بیگ کھول کے دیکھا تو اس میں کچھ فارمل ڈریسز تھے۔۔
ہانیہ کو نیلم اور ہادی کی شرارت پر ہنسی آگئی اسی لئے ان دونوں نے وجاہت اور ہانیہ کی پیکنگ کی تھی۔۔
ہانیہ ہنس رہی تھی تبھی وجاہت گلے میں تولیہ لئے باہر آیا اور ہانیہ کو دیکھنے لگا۔۔
تم کیوں اکیلے مسکرا رہی ہو۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو دیکھ کے اپنے بیگ کی طرف اشارہ کیا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے کپڑوں کو دیکھا پھر اپنے کندھے اچکا دیئے۔۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں تم نے ہی دونوں کو سر پہ چڑھایا ہوا ہے۔۔
وجاہت نے ہانیہ سے کہا جو اب اسے گھور کے دیکھ رہی تھی۔۔
ویسے یہ کپڑے تم پر بہت اچھے لگے ہیں
وجاہت نے اپنے بال تولیے سے رگڑتے ہوئے کہا۔۔
ہانیہ نے ایک نظر وجاہت کو دیکھا جو آئینے کے سامنے اپنے گیلے بال سکھا رہا تھا
تولیہ وہ اب صوفے پر پھینک چکا تھا اور اب آئینے کے سامنے اپنے بال بنا رہا تھا
ہانیہ اسے دیکھے گئی وہ فریش سا بہت اچھا لگ رہا تھا گیلے بالوں میں وہ جیل لگا کر سیٹ کر رہا تھا۔۔
آئینے میں ہانیہ کا عکس دیکھ کے وجاہت کے چہرے پر تبسم پھیل گیا۔۔
یار جانم ایسے دیکھو گی تو میں گھر سے باہر کیسے جاونگا۔۔
وجاہت نے شرارت سے کہا۔۔
ہانیہ نے ایک دم چونک کر اپنا رخ موڑ لیا اور اپنے لئے کپڑے نکالنے لگی۔۔
وجاہت مسکراتا ہوا اس تک چل کر آیا اور اسکے بیگ سے اسے سفید ٹاپ اور بلیو جینز نکال کے دی ۔۔
آج میرے ڈریس سے کلر میچنگ کرلو پھر باہر چلیں گے
اور اب ایسے مت دیکھو جاو جاکر فریش ہوجاؤ میں ناشتہ منگواتا ہوں دوپہر تک گروسری اجائے گی تو پھر گھر پہ ہی کھانا بنائیں گے۔۔
اوکے۔۔
ہانیہ کا گال تھپکا کے کہتے ہوئے وہ بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا اور ہادی کو کال کرنے لگا۔۔
ہادی اس وقت گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا وہ آفس سے نکل ہی رہا تھا کہ وجاہت کی کال آتا دیکھ پھر اپنی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔
ہاں بول میری جان کدھر چلا گیا تو تیری یاد میں میں صبح سے آنسو بہا رہا ہوں۔۔
ہادی نے شرارت سے کہا تو وجاہت کو اور غصہ آنے لگا۔۔
کمینے انسان یہ کونسے کپڑے پیک کئے ہیں تو نے میرے۔۔
وجاہت جھنجلاتا ہوا بول رہا تھا۔۔
ارے میری جان بلکل نئے اور برانڈڈ کپڑے ہیں تجھ پر بہت سوٹ کرینگے ۔۔
اور نیلم نے ہانی کے کپڑے بلکل تجھ سے ملتے جلتے ہی خریدے تھے۔۔
تو اب تم لوگ ملتے جلتے کپڑے ہی پہننا اور میں جانتا ہوں تو کسی کام سے نہیں گیا بلکہ ہانی کے ساتھ گھومنے گیا ہے جھوٹے آدمی۔۔
زبان سنبھال کر بات کرو ہادی اور ہاں میری گڑیا کو اپنے جیسا بنانے کی بلکل ضرورت نہیں ہے وہ بہت سادہ ہے ۔۔
وجاہت نے نیلم کے بارے میں کہا تو ہادی دل میں سوچنے لگا کہ اب جیسی بھی ہے صرف اور صرف میری ہے۔۔
کہا کھو گئے۔۔ وجاہت کی آواز سے ہادی اپنی سوچ سے باہر آیا۔۔
اب ویکیشنز پر تو انسان ایسے ہی کپڑے پہنتا ہے تو کونسا بزنس کے کام سے گیا ہے جو تیرے لئے سوٹ پیک کرتا۔۔
ہادی کی بات پر وجاہت ایک دم چونک گیا۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔
وجاہت اپنی جھجک چھپاتے ہوئے بولا۔۔
بس ہاں مسٹر وجاہت عالم شاید آپ بھول رہے ہیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہی بزنس کرتا ہوں مارکیٹ کے بارے میں مجھے بھی ہر بات پتہ ہوتی ہے
میں تو اسی دن سمجھ گیا تھا کہ تو جھوٹ بول رہا ہے بہانہ بنا رہا ہے مگر دیہان نہیں دیا تھا تیری بات پر
پھر جب تو ہانی کو ساتھ لے جانے کیلئے مان گیا پھر مجھے شک ہوا تھا
اور اس کے بعد میں نے تجھے ایکسپوز کرنے کا پلان بنایا گھر والوں کے ساتھ
ہادی چہرے پر شرارت لئے بول رہا تھا۔۔
گھر میں کسی کو پتہ تو نہیں ہے اس بارے میں ۔۔
وجاہت نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
نہیں مگر میں بتانے ہی جارہا تھا۔۔
ہادی نے مزاق میں کہا مگر وجاہت چڑ گیا۔۔
کیا ضرورت ہے بتانے کی۔۔
ضرورت تو نہیں ہے مگر مزہ بہت ائے گا ۔۔
ہادی بھی چہک کے بولا۔۔
نہ بتانے کا کیا لوگے۔۔
وجاہت نے اپنی آئی برو پر انگھوٹا پھیرتے ہوئے کہا ۔۔
تم مجھے خرید نہیں سکتے وجاہت عالم میں بہت نایاب ہوں۔۔
ہادی نے ایک ہاتھ سے اپنا کالر جھاڑتے ہوئے کہا۔۔
وجاہت نے سر نفی میں ہلایا کہ اس ڈرامے باز کا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔
اچھا چل نہیں بتاؤنگا مگر ایک پرامس چاہئے تجھ سے۔۔
ہادی کی اواز پر وجاہت ایک بار پھر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
کیا۔۔
میں جب بھی تجھ سے کچھ مانگو تو مجھے دیگا۔۔
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
کیا چاہیئے؟؟
وجاہت نے بغیر بات گھمائے سوال کیا۔۔
ابھی میں اس بارے میں سوچ رہا ہوں جب سوچ لونگا تو بتادونگا اور تو نہ نہیں کرے گا۔۔
ہادی کی باتوں پر وجاہت سوچ میں پڑگیا۔۔
ٹھیک ہے۔۔ مجھے منظور ہے۔۔
وجاہت نے ہامی بھری تو ہادی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ اگئی ۔۔
چل اپنا حور اور ہانی کا خیال رکھیو۔۔
ہادی بول کے کال کاٹنے ہی لگا تھا کہ وجاہت کے سخت بول اس نے سنے۔۔
بھابھی بول اسے ہانی نہیں۔۔
میں تو ہانی ہی کہو گا ہانی ہانی ہانی۔۔
ہادی اگے بھی بول رہا تھا مگر وجاہت نے غصے سے کال کاٹ دی۔۔
ہانیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی جو کہ اب تھوڑا غصے میں لگ رہا تھا۔۔
وہ ابھی واشروم سے باہر آئی تھی اور وجاہت کو جھنجھلایا ہوا دیکھ کے اسنے بس اس سے اشارے سے پوچھا کہ کیا ہوا۔۔
پتہ نہیں مجھے اس ہادی کے بچے سے بدلہ لینا کب نصیب ہوگا ہمیشہ میرا خون جلاتا ہے۔۔
جس دن موقع ملا چن چن کے بدلے لونگا۔۔
وجاہت اکتائے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا نظریں فون پر ہی تھی
اس نے ہانیہ کو بس ایک نظر دیکھا تھا ۔۔۔
ہانیہ نے کندھے اچکا کر ائینے کے سامنے کھڑی ہوگئی اور اپنے گیلے بال سلجھانے لگی۔۔
ہادی پہ جو غصہ تھا وہ کم ہوا تو وجاہت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہانیہ کو دیکھنے لگا۔۔
بلیو جینس کے ساتھ سفید ٹاپ پہنے وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔
وجاہت نے اپنے بیگ میں سے ایک مخملی باکس نکالا اس میں سے اس نے ایک چین نکالی اور ہانیہ کی طرف بڑھ گیا۔۔
وہ اپنے بال سلجھا رہی تھی کہ وجاہت نے اسے چین پہنائی اور اسکا لاک بند کرتے وقت اس چین پر اپنے لب بھی رکھ دیئے۔۔
وجاہت کے لمس پر ہانیہ نے چند پل کیلئے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔
پھر جب اسنے آنکھیں کھول کے چین دیکھی تو دیکھتی رہ گئی۔۔
وائٹ گولڈ کی وہ بہت خوبصورت ڈیزائن کی چین تھی جس کے لاکٹ میں ڈائمنڈ لگا ہوا تھا ہانیہ نے اس چین کو گور سے دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں پہنے کڑے کو تو وہ دیکھ کے حیران رہ گئی کہ لاکٹ کا ڈیزائن تقریباً اسکے کڑوں سے ملتا تھا۔۔
یہ کڑے تو دادو کے ہیں جو کہ بہت پرانے ہیں مگر یہ چین کا ڈیزائن۔۔
ہانیہ کو بولتا دیکھ وجاہت سمجھ گیا کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔۔
میں نے جب تمہاری پکس لی تھی جب ہم جھولے پر سوئے تھے اس میں تمہارے ہاتھ کی بھی تصویر تھی تو جب تمہارے لئے یہ بنوانے گیا ڈیزائن سمجھ میں نہیں آیا تو اس سے ملتا ہوا بنوا لیا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو تفصیل سے بتایا۔۔
ویسے اس تحفے کی وجہ۔۔
ہانیہ نے اپنا رخ وجاہت کی طرف کر کے اسکی ٹی شرٹ کو پکڑ کے کہا۔۔
نظریں وجاہت کی نظروں میں دیکھ رہی تھیں۔۔
یہ تحفہ میری زندگی کو خوبصورت بنانے کیلئے۔۔
میری زندگی میں آنے کیلئے
مجھے ہر خوشی محسوس کروانے کیلئے۔۔
اور مجھ سے اتنا پیار کرنے کیلئے۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا جو کھلے ہونے کے باعث منہ پر آرہے تھے۔۔
ہانیہ تو بس اس کے الفاظوں میں ہی کھو گئی۔۔
کیا تھا یہ شخص جو اسے صرف اپنے الفاظوں سے ہی دیوانہ کر رہا تھا آگے جاکر تو اپنی محبت اور اپنی شدتوں سے اسے پاگل ہی کر دے گا۔۔
ہانیہ سوچ کے مسکرا دی۔۔
ویسے ہم اتنی دیر سے ساتھ ہیں تمہاری گارڈ نہیں اٹھی ابھی تک
وجاہت نے حور کو دیکھ کے کہا۔۔
میڈم صبح کے پانچ بجے سوئی ہیں تو ابھی کہاں سے اٹھیں گی۔۔
آپ کے سونے کے بعد یہ میڈم جاگ گئی ٹھی۔۔ ہانیہ نے پیار سے حور کو دیکھ کے کہا۔۔
ہانیہ کی بات پر وجاہت نے اسے کندھوں سے تھام کے کہا۔۔
تم رات بھر نہیں سوئی اور پھر اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی۔۔
وجاہت نے پریشانی سے اسے دیکھا۔۔
میں ٹھیک ہوں مجھے عادت ہے اتنی نیند لینے کی اور ویسے بھی نئی جگہ پر نیند آتی بھی نہیں ہے۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو پر سکون کیا۔۔
اتنے میں باہر دروازے پر دستک ہونے لگی۔۔
وجاہت نے دیہان نہیں دیا۔۔
لو جی یعنی کے پہلے میں نے تمہیں جگایا پھر میری بیٹی نے۔۔
وجاہت نے شرارت سے کہا تو ہانیہ جھینپ سی گئی۔۔
وہ اور کچھ کہتا کہ دروازے پر پھر سے دستک ہونے لگی۔۔
ضرور ڈیلیوری بوائے ہوگا ناشتہ آرڈر کیا تھا میں نے۔۔
وجاہت سوچتا ہوا کمرے سے باہر گیا تو ہانیہ نے گہرا سانس لیا۔۔
تیزی سے دھڑکتے ہوئے دل پہ ہانیہ نے ہاتھ رکھا اور پھر مسکرا دی ۔۔
