Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 01)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 01)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
کراچی میں واقع نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سعید صاحب جو کہ ایک خوش اخلاق اور نیک سیرت کے مالک تھے ۔۔
اپنی فیملی کے ہمراہ ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے ۔۔
سعید صاحب اور فاطمہ ہر حال میں اللہ کے ہمیشہ شکر گزار رہتے تھے
اللہ نے انہیں 2 بچوں سے نوازا تھا جن میں 1 بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔۔
بڑا بیٹا فاخر سعید ایک پرائیویٹ کمپنی کا ملازم تھا جس کی شادی اسکی پسند سے اسکی کلاس فیلو ایشا سے ہوئی تھی اور اب انکی ایک بیٹی تھی جو کہ 7 سال کی تھی جسکا نام رانیہ تھا۔۔
اور چھوٹی ہانیہ سعید جس کی شادی سعید صاحب نے اپنے دور کے رشتہ دار سے کردی تھی جب وہ صرف بیس سال کی تھی رشتہ مناسب تھا اور پھر مڈل کلاس میں بیٹیوں کو جلد سے جلد رخصت کرنے کا بھی رواج عام تھا۔۔
مگر محض دو سال میں ہی ہانیہ ایک طلاق یافتہ کے طور پر باپ کے گھر واپس آچکی تھی اور وجہ شادی کے دو سال تک کوئی اولاد کا نہ ہونا ساس کے کہنے پر شوہر نے اسے بانجھ سمجھ کر صرف دو سال میں ہی اسے طلاق دے دی تھی۔۔
جبکہ ہانیہ بہت محبت کرنے والی حساس اور اپنے رشتوں سے مخلص تھی مگر انسانوں کی چھوٹی سوچ کی بھینٹ چڑھ گئی تھی ۔۔
طلاق کے بعد ماں باپ اور بھائی کا رویہ تو ہانیہ کے ساتھ بلکل نہیں بدلا مگر دنیا کافی حد تک اس پر تنگ ہوگئی تھی جس میں سب سے بڑا کردار فاخر کی بیوی ایشا نے نبھایا تھا ۔۔
جب تک ہانیہ کی شادی نہیں ہوئی تھی ایشا ہانیہ کے ساتھ بہت اچھے سے رہتی تھی مگر جب سے ہانیہ اس گھر میں واپس ائی تھی ایشا کا رویہ ہانیہ کے ساتھ بہت بدل گیا تھا۔۔
ایشا کے رویّے کے بارے میں فاخر کو کچھ بھی علم نہیں تھا کیوں کے وہ تو جان دیتا تھا اپنی اکلوتی لاڈلی بہن پر۔۔۔
اپنی کم عمر بیٹی کے ساتھ لوگوں کا رویہ دیکھ سعید صاحب ٹینشن سے تھوڑے بیمار رہنے لگے تھے اور فاطمہ بیگم بھی اپنے شوہر اور بیٹی کیلئے بہت پریشان رہتی تھیں۔۔
ایشا کا رویہ ساس سسر کے ساتھ تو اچھا تھا مگر ہانیہ سے وہ بہت برا سلوک رکھتی تھی اور وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے ایشا کو یہ کہہ کر ہانیہ سے دور رہنے کا کہا تھا کہ اسکے ہی پرچھاوے کی وجہ سے اسکے ہاں رانیہ کے بعد کوئی اولاد نہ ہوئی جبکہ اسے بیٹے کی بہت خواہش تھی۔۔
اور ہانیہ خاموشی سے جہاں اپنے ماں باپ اور بھائی کے سائے میں تھوڑا پر سکون تھی وہیں دنیا کے رویّے کی وجہ سے اور بھی زیادہ کم گو ہوگئی تھی۔۔











عالم ولا کراچی کے مہنگے ترین علاقے میں اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔۔
اس گھر میں کل 5 افراد رہتے تھے ۔۔
سب سے بڑی ساجدہ بیگم تھی جنہیں اللہ نے ایک بیٹا دیا تھا جسکا نام انہوں نے شان عالم رکھا تھا ۔۔
شان عالم ایک بہت ہی کامیاب اور سلجھے ہوئے انسان تھے۔۔
انہوں نے اپنی زندگی جتنی کامیابیاں دیکھی تھیں وہ شاید کسی کسی نے دیکھیں ہوں مگر پھر وہ اتنے ہی عبادت گزار اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے۔۔
شان عالم اور انکی زوجہ عالیہ بیگم کو اللہ نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا تھا بڑا بیٹا وجاہت عالم اور چھوٹی بیٹی نیلم عالم تھی۔۔
وجاہت عالم اپنے نام کی ہی طرح مردانہ وجاہت کا شاہکار مانا جاتا تھا اپنی خوبصورت اور چارمنگ پرسنالٹی کی وجہ کئی دلوں کی دھڑکنوں کا مالک تھا جبکہ اسکا دل صرف ایک لڑکی کیلئے دھڑکتا تھا وہ تھی اسکی بچپن کی دوست نور ۔۔
نور جتنی حسین تھی اتنی ہی مغرور بھی تھی وہ اپنے سے کم تر لوگوں کو بلکل بھی پسند نہیں کرتی تھی غرور اور تکبر اسکی ہر ادا سے جھلکتا تھا مگر وہ وجاہت سے محبت کرتی تھی۔۔
نور کے غرور اور تکبر کے باوجود شان عالم اور عالیہ بیگم نے خوشی سے اپنے بیٹے وجاہت کی شادی نور سے کروا دی تھی کیوں وہ جانتے تھے کہ وجاہت اور نور بچپن سے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔
مگر یہ محبت چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان کم سے کم تر ہوگئی تھی جب شادی کے 6 ماہ بعد اللہ نے وجاہت اور نور کے ہاں خوشخبری دی
پورے عالم ولا میں خوشیوں کی ایک مہک آگئی تھی سب بہت خوش تھے سوائے نور کے وہ ابھی ماں نہیں بننا چاہتی تھی مگر وجاہت کی ضد کے آگے وہ خاموش تھی۔۔
پھر کچھ مہینوں بعد وجاہت اور نور ایک پارٹی سے لیٹ نائٹ واپس آرہے تھے کہ کسی کار نے انکی گاڑی کو زوردار طریقے سے ٹکر ماری ۔۔
دونوں ہی بہت زخمی ہوئے تھے مگر نور اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی اور جاتے جاتے وہ اپنی پرچھائی اپنی بیٹی وجاہت کو دے گئی تھی جس کا نام عالیہ بیگم نے حور رکھا تھا ۔۔
نور کے جانے کے بعد وجاہت نے خود کو کام میں اتنا الجھا لیا تھا کہ پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ اپنے گھر والوں اور دنیا سے دور ہوتا چلا گیا۔۔
جس مسکراہٹ پر لڑکیاں فدا ہوتی تھیں وہ مسکراہٹ کہیں گم ہی ہوگئی تھی۔۔












بھائی آپ اتنا پریشان کیوں رہنے لگے ہیں ۔۔
ہانیہ فاخر کو ٹی وی لاؤنج میں موجود بیٹھا دیکھ وہیں اسکے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔
کیونکہ فاخر ہانیہ کو بہت پریشان لگا وہ بار بار ٹی وی کا چینل چینج کر رہا تھا مگر دیکھ کچھ نہیں رہا تھا۔۔
کچھ نہیں ہانی بس اپنی جاب کے وجہ سے بہت پریشان ہوں۔۔
فاخر اور ہانیہ ایک دوسرے سے بہت اٹیچ تھے دونوں ایک دوسرے سے کبھی کچھ نہیں چھپاتے تھے۔۔
کیسی پریشانی بھائی؟
ہانی 5 سال ہوگئے ہیں مجھے یہ جاب کرتے ہوئے پوسٹ کو بڑھی ان 5 سالوں میں مگر سیلری بلکل نہیں بڑھی آج تک اور مہنگائی بھی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔۔
بھائی لیکن آج سے پہلے تو آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے۔۔
ہانیہ نے فاخر سے دھیمے لہجے میں کہا۔۔
ہانی یہ سال کا شروع ہے اور ابھی سے ہی مہنگائی کتنی ہی گنا بڑھ گئی ہے رانیہ کی فیس اور بابا کی میڈیسن سب سے ضروری ہیں اور گھر کا خرچ اور یہ سب تو پھر بھی اللّٰہ سب کروا ہی رہا ہے۔۔
تو آپ پریشان کس لئے ہیں بھائی۔۔؟
ہانیہ کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ فاخر جو کبھی اپنی آمدنی کو لے کر پریشان نہیں ہوا بلکہ وہ جتنا بھی کماتا تھا اس میں بھی اللہ کا شکر گزار رہتا تھا۔۔
ہانی میں تمہیں ماسٹرز کروانا چاہتا ہوں تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں اس قابل بنانا چاہتا ہوں کہ لوگ تمہیں دھتکارنے سے پہلے دس بار سوچیں۔۔
مگر چاہ کر بھی میں اپنے بجٹ سے تمہاری پڑھائی کے اخراجات نہیں مینج کرپا رہا ہوں۔۔
آج پہلی بار مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ پیسہ واقعی بہت ضروری ہوتا ہے انسان کی زندگی میں۔۔
بھائی آپ یہ سب ممانی جان کی باتوں کی وجہ سے سوچ رہے ہیں نہ ۔۔
ہانیہ کو اب سمجھ آیا کہ فاخر آج اتنا پریشان کیوں ہے۔۔
وہ ہوتی کون ہیں میری ہانی کے بارے میں کچھ بھی بولنے والی سنا تھا میں نے جب وہ تمہارے لئے ایک بوڑھے آدمی کا رشتہ لے کر آئیں تھی جو کہ پوتے پوتی اور نواسہ نواسی والا تھا۔۔
سمجھ کیا رکھا ہے انہوں نے میری معصوم سی بہن کیا میرے لئے کوئی بوجھ ہے ۔۔
فاخر شدید اشتعال میں بول رہا تھا اور ہانیہ نم آنکھوں سے بس اپنے بھائی کو مان سے دیکھ رہی تھی۔۔
غصہ کم کریں فاخر بھلا ممانی جان نے ایسا بھی کیا کردیا جس سے آپ اتنا غصہ کر رہے ہیں ۔۔
ایشا نے جب فاخر کی غصے بھری آواز سنی تو وہ بھی ٹی وی لاؤنج میں چلی آئی۔۔
اب بھلا ایک طلاق یافتہ اور اوپر سے بانجھ لڑکی سے کون شادی کرتا ہے بھلا۔۔
وہ تو ہانیہ کیلئے اچھا ہی سوچ رہی تھیں نہ۔۔
فاخر اور ہانیہ حیرت سے ایشا کو بولتا دیکھ رہے تھے جو کہ بہت عام سے انداز میں فاخر سے مخاطب تھی پر نظریں ہانیہ کی طرف کی ہوئی تھی۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے تمہارا کہاں میری کم عمر بہن اور کہاں وہ 65 سال کا بوڑھا آدمی۔۔
فاخر اب باقائدہ ایشا پر چلا رہا تھا جبکہ ہانیہ ایشا کی باتیں اس سے زیادہ سن نہیں پائی اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔۔













وجاہت عالم کدھر چلے آپ؟؟
ساجدہ بیگم نے اپنے پوتے کو مخاطب کیا جو تیزی سے گھر کے داخلی دروازے کی سمت بڑھ رہا تھا۔۔
دادو میں روز اس وقت آفس جاتا ہوں۔۔
وجاہت نے دھیمے لہجے میں اپنی دادو کو جواب دیا۔۔
برخودار یہ وقت ناشتے کا ہے اور آپ ابھی اسی وقت یہاں آکر سب کے ساتھ ناشتہ کرو۔۔
ساجدہ بیگم نے بھی پیار سے اپنے پوتے کو حکم دیا۔۔
دادو آپ جانتی ہیں مجھے ناشتہ کرنا نہیں پسند یہ عادت میں بہت پہلے ہی چھوڑ چکا ہوں ۔۔
وجاہت نے ایک بار پھر گھر کے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔۔
ٹھیک ہے ناشتہ مت کرو کم سے کم ہم سب کے ساتھ یہاں بیٹھ ہی جاؤ۔۔
اب کی بار وجاہت سے ہار مانتے ہوئے ڈائیٹنگ ٹیبل پر موجود سب کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
جی کہئے کیا بات کرنی ہے آپ کو۔۔
پہلے تھوڑا کچھ کھالو پھر آرام سے بات کروگی۔۔
وجاہت اپنی دادو کو شکوے بھری نظر سے دیکھ رہا تھا جبکہ باقی گھر والوں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی دادو کی چلاکی پر۔۔
دادو پلیز مجھے ناشتہ نہیں کرنا۔۔
وجاہت نے ایک بار پھر ناشتہ کرنے سے منع کرنا چاہا
برو جب آپ ہمارے ساتھ بیٹھ ہی گئے ہو تو ناشتہ بھی کرلو۔۔
اب کی بار نیلم نے پیار سے وجاہت کو کہا۔۔
تو اس نے بس جوس ہی پیا۔۔
ناشتے سے فارغ ہوکر وہ دادو کو لئے انکے کمرے میں چلا آیا ۔۔
جی کہئے دادو کیا بات کرنی تھی آپ کو مجھ سے۔۔
بیٹا میں چاہتی ہوں کہ تم پھر سے شادی کرلو۔۔
دادو نے بغیر کسی لگی لپٹی کے وجاہت سے بات کی کیوں کہ وہ ہمیشہ مدعے کی بات کرتی تھیں باتوں کو گھما پھرا کر کرنے کی عادت ان میں بلکل نہیں تھی۔۔
جبکہ وجاہت بس دادو کو حیرت اور صدمے سے دیکھے گیا۔۔
آپ جانتی ہیں دادو نور کو گئے ابھی صرف 4 ماہ ہی ہوئے ہیں اور میں اس زندگی میں نور کی جگہ کبھی کسی کو نہیں دونگا۔۔
وجاہت نے اٹل لہجے میں دادو کو جواب دیا۔۔
میں جانتی ہو بیٹا مگر میں تمہارے لئے نہیں بلکہ حور کیلئے تمہیں شادی کرنے کیلئے کہہ رہی ہوں۔۔
بیٹا حور بہت چھوٹی ہے اور ہر بچے کی طرح اسے بھی ایک ماں کی ضرورت ہے۔۔
دادو نے وجاہت کو سمجھانا چاہا۔۔
دادو پلیز اتنے سارے لوگ ہیں گھر میں اتنے نوکر چاکر ہیں میری بیٹی کو سوتیلی ماں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وجاہت نے ابکی بار تھوڑے روکھے لہجے میں کہا۔۔
بیٹا نیلم اپنی پڑھائی میں مصروف رہتی ہے تمہاری ماں کتنا بھی حور کو پیار سے رکھیں وہ اسکی دادی ہیں ماں نہیں اور مجھ سے اس عمر میں بچے نہیں سنبھالے جاتے ۔
عالیہ بیگم حور کو بہت اچھے سے سنبھالتی تھی لیکن وہ بھی اپنی پوری کوشش کے باوجود حور کو وہ توجہ نہیں دے پاتی تھی جو کہ ایک چھوٹے بچے کو چاہئے ہوتی ہے۔۔
عالیہ بیگم بلڈ شوگر کی مریضہ تھیں تو ان کیلئے آرام بہت ضروری تھا اسی لئے وجاہت نے حور کیلئے میڈ بھی رکھی ہوئی تھی۔۔
دادو ماما نہ سہی گھر میں اتنے نوکر چاکر ہیں حور کی الگ سے نینی ہے ۔۔
وہی نینی جو کہ دسویں ہے پچھلے 4 ماہ میں تم 9 نینیوں کو نکال باہر کر چکے ہو کیوں کہ وہ حور کا اچھے سے خیال نہیں رکھ پارہی تھیں۔۔
تو اس بات کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ ایک سوتیلی ماں میری بیٹی کو وہ پیار دے گی جو ایک ماں اپنی سگی بیٹی کو دیتی ہے۔۔
وجاہت کی بات پر ابکی بار ساجدہ بیگم چند پل کیلئے لا جواب ہوگئی تھیں۔۔
میں تمہارے خدشات بہت اچھے سے سمجھ سکتی ہو بیٹا مگر اس دنیا میں ابھی بھی اچھے لوگ موجود ہیں ۔۔
دادو پلیز آج کے دور میں کوئی کسی کو اہمیت نہیں دیتا بلکہ یہ سب چھوڑیں اگر حور کی سگی ماں بھی زندہ ہوتی نہ تو تب بھی حور کسی آیا کی گود میں ہی بڑی ہوتی نور کو تو آپ اچھے سے جانتی تھیں وہ تو حور کو اس دنیا میں ہی نہیں لانا چاہتی تھی اسے پیار کیا کرتی ۔۔
ساجدہ بیگم غور سے اپنے خوبرو پوتے کو دیکھ رہی تھیں جو وقت سے ساتھ ساتھ تلخ ہوتا جارہا تھا۔۔
اور اگر میری بیٹی سے آپ لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے تو میں اسے اپنے ساتھ آفس لے جایا کرونگا اور اپنے ساتھ ہی اسے گھر لایا کرونگا۔۔
وجاہت عالم تم جانتے بھی ہو تم کہہ کیا رہے ہو۔۔
ہم اپنی پر پوتی سے بھلا کیسے پریشان ہوسکتے ہیں۔۔
دادو نے بھی ابکی بار وجاہت سے غصے سے بات کی ۔۔
میں کچھ نہیں جانتا دادو بس اب اپنی بیٹی کو میں اپنے ساتھ ہی رکھوں گا۔۔
وجاہت یہ کہہ کر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔
اور ساجدہ بیگم اپنا سر تھامے وہیں بیٹھ گئیں ۔۔۔
وہ وجاہت کو کیا سمجھانا چاہتی تھیں اور وہ کیا سمجھ کے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
