Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 39)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

کراچی کے مشہور ترین ہوٹل کے باہر کھڑا معظم نے ایک نظر ہوٹل کو دیکھا پھر اندر جانے کے راستے کو

آج اگر اسے یہاں مینیجمنٹ میں جاب مل جاتی ہے تو وہ حرا کی جاب چھڑوا سکتا ہے اور مہرو کی شادی بھی کرواسکتا ہے۔۔

دل میں اچھے کی امید لیتے ہوئے وہ ہوٹل کے اندر داخل ہوا جہاں انٹرویو چل رہے تھے۔۔۔

قریب ایک گھنٹے انتظار کرنے کے بعد اسے پتہ چلا کہ جس پوسٹ کیلئے وہ جاب تھی وہ تو کسی کو مل چکی ہے

افسوس کی بات یہ تھی کہ جس کو وہ جاب ملی وہ تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے تو کم تھا مگر سفارشی تعلقات کی بنا پر اسے نوکری مل گئی تھی۔۔

اور دوسری طرف اعلا تعلیمی کارکردگی والے اپنی فائلیں لے کر جانے لگے۔۔

معظم جانے ہی لگا تھا کہ اس نے وہاں کے مینیجر کو بولتے ہوئے سنا کہ ایک ویٹر آج چھٹی پر ہے اور آج بہت اونچے گھرانے کی تقریب ہے۔۔

کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے یہی سوچ کے معظم نے مینیجر سے بات کی اور ویٹر کی جگہ لے لی۔۔

تقریب شروع ہوئی تو معظم ویٹر کی یونیفارم پہنے وہاں پہنچا اسکی ڈیوٹی سب مہمانوں کو ویلکم ڈرنکس سرو کرنے کی تھی۔۔

مگر جیسے ہی مہمانوں کی آمد شروع ہوئی اسنے سب سے پہلے جسے دیکھا وہ فاخر تھا اسکی سابقی بیوی ہانیہ کا بھائی جو کہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ اندر داخل ہوا۔۔

پھر بہت سے مہمان آئے مگر معظم اسی سوچ میں تھا کہ یہ عام سے طبقے کے لوگ اس شاندار جگہ کس کی دعوت میں آئے

جہاں تک اسے پتہ تھا کہ ان کے خاندان میں کوئی اتنا امیرکبیر نہ تھا۔۔

ویلکم ڈرنک اسنے ہانیہ کے گھر والوں کو ساتھی ویٹر کے ذریعے ہہنچائی۔۔

مگر جب ہال میں اندھیرا ہوا اور اسپاٹ لائٹ میں دو افراد ایک بچی کو لئے داخل ہوئے ۔۔

وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت کپل تھا جو کہ لوگوں سے گھرا ہوا تھا۔۔

وہ دو لوگ ایک بچی کو لئے اندر کی طرف آرہے تھے۔۔

معظم نے غور کیا لڑکی کا چہرا جانا پہچانا ہے مگر کام میں مصروفیت کی سبب وہ دیہان نہیں دے پارہا تھا۔۔

کیک جب لایا گیا تو معظم نے دیکھا تھا کہ ایسا کیک تو اسنے ساری زندگی نہیں دیکھا تھا

امیر لوگوں کے تھاٹھ ۔۔ معظم نے دل میں سوچ کر سر جھٹکا۔۔

لیکن جب تمام لائٹس آن ہوئی تب تو مانو معظم کو لگا وہ اپنے جگہ سے ہل ہی نہ سکے گا۔۔

پریوں کی کہانی اسنے بچپن میں سنی تھی مگر جو انسان اسکے سامنے ذرا فاصلے پر تھا معظم کو اپنی آنکھوں پر کچھ پل کیلئے یقین نہ آیا۔۔

سامنے ہانیہ تھی شاکنگ پنک کلر کے پرنسس گاؤن پہنے اپنے دلکش سراپے میں وہ کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔۔

جو لڑکی لان کے سادھے سے سوٹ میں اپنا پورا دن کچن کی گرمی میں خاموشی سے گزار دیا کرتی تھی وہ یہ لڑکی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔۔

یہ تو کوئی شہزادی تھی جو کہ اپنے شہزادے کی آغوش میں تھی۔۔

کیونکہ اس کے ساتھ جو آدمی تھا وہ مسلسل اسے کندھوں سے تھامے ہوئے ہی تھا جیسے وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو چھوڑے گا تو ٹوٹ جائے گی۔۔

جس لڑکی کو عام سا سمجھ کر اسنے چھوڑ دیا تھا وہ آج خاص سے بھی کچھ زیادہ لگ رہی تھی۔۔

اور یہ کیا وہ ایک بچی کو لئے یہاں آئی تھی یعنی یہ تقریب اسکی بیٹی کی سالگرہ کی تھی۔۔

جو لڑکی اتنا تڑپی تھی کہ اسے طلاق نہ دی جائے چاہے تو دوسری شادی کر لے کیا اسنے مجھ سے طلاق کے بعد ہی شادی کرلی تھی جو کہ اب اسکی ایک سال کی بیٹی کی ماں تھی۔۔

بے یقینی تھی معظم کی آنکھوں میں اور ساتھ ساتھ طیش یعنی وہ سب جو وہ کہتی تھی کہ ساری زندگی میرے قدموں میں گزار دے گی اس نے ایک سال بھی اپنے الفاظوں کا بھرم نہ رکھا اور کرلی ایک ارب پتی سے شادی ۔۔

معظم کی نظریں ہانیہ پر ہی تھی جب ہانیہ نے اسکی طرف دیکھا

ہانیہ کے چہرے پر واضح ڈر تھا بے یقینی تھی اسکی آنکھوں میں خوف تھا جو کہ معظم کی آنکھوں سے نہ چھپا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

کیا ہوا سن شائن تمہیں پسینہ کیوں آرہا ہے۔۔

ہانیہ کے ماتھے پر پسینہ دیکھ کے وجاہت نے فکرمندی سے اسے دیکھا۔۔

وجاہت کی آواز پر ہانیہ نے چونک کر نظریں بدلی اور اپنا رخ وجاہت کی طرف کیا جو اسے ہی فکرمندی سے دیکھ رہا تھا۔۔

کچھ نہیں بس تھوڑی سی گھبراہٹ ہورہی ہے۔۔

ہانیہ نے کن آنکھیوں سے اسی جانب دیکھ کے کہا جہاں اس نے معظم کو دیکھا تھا مگر وہاں اب کوئی ویٹر نہیں تھا۔۔

اپنا وہم سمجھ کے ہانیہ نے گہرا سانس لے کر دیکھا کہ وجاہت اسکے لئے اورنج جوس لے آیا تھا ۔۔

یہ پیو جلدی سے وجاہت نے اسے چئیر پر بٹھایا اور اسے اپنے ہاتھوں سے ہی جوس پلایا۔۔

یہ منظر کسی کی نظروں نے بہت غور سے دیکھا تھا۔۔

ٹھیک ہو اب ۔۔ وجاہت کو اسکی طبیعت ٹھیک نہ لگی۔۔

ہاں میں ٹھیک ہوں وہ بس اس ڈریس میں تھوڑی گھبراہٹ ہورہی ہے۔۔

جنوری کی ٹھنڈ میں تمہیں پسینے آرہے ہیں اور گھبراہٹ وہ کیوں ہورہی ہے۔۔

وجاہت ہانیہ سے کم اپنے آپ سے زیادہ بول رہا تھا۔۔

پھر عالیہ بیگم کے پاس گیا ۔۔ مام ہانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی میں اسے یہاں سے لے کر جارہا ہوں۔۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو وجاہت یہ سب لوگ تم لوگوں کیلئے یہاں ہیں۔۔

ہانی کو تھکن محسوس ہورہی ہوگی تم ایک کام کرو اسے کسی روم میں لے جاؤ تھوڑا ریسٹ کرے گی تو ٹھیک ہوجائے گی

عالیہ بیگم کے کہنے پر اس نے سر ہاں میں ہلا کر ہانیہ کو ساتھ لیا اور مینیجر سے بات کرکے ایک روم بک کیا اور ہانیہ کو وہاں ریسٹ کرنے کا کہہ کر ڈاکٹر ناز کو لینے چل دیا جو کہ پارٹی میں مہمان کے طور پر آئی ہوئی تھیں۔۔

وجاہت اسے چھوڑ کر کمرا بند کرکے جاچکا تھا مگر ہانیہ کو یہاں بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔

معظم کو اس نے خود دیکھا تھا مگر وہ یہاں کیوں تھے

ہانیہ اسی سوچ میں تھی کہ وجاہت 5 منٹ میں ہی ڈاکٹر ناز کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔۔

ہانیہ ڈئیر کیا ہوا آپ کو۔۔

ڈاکٹر ناز میں اپنے شائستہ لہجے میں ہانیہ کی نبض چیک کرتے ہوئے پوچھا۔۔

کچھ نہیں بس گھبراہٹ ہورہی ہے تھوڑی۔۔

ہانیہ نے بظاہر مسکرا کے کہا مگر اسکی مسکراہٹ جھوٹی تھی۔۔

ینگ مین تم نے تو ڈرا ہی دیا تھا ۔۔ ڈاکٹر ناز نے وجاہت کو دیکھ کے کہا

وجاہت نے مجھ سے کہا کہ جلدی چلیں ہانیہ کی طبیعت بہت خراب ہے میں تو واقعی ڈر گئی کہ اچانک سے کیا ہوا ابھی تو میں نے ٹھیک دیکھا تھا بلکل۔۔

ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے ہانیہ کو بتایا۔۔

ہاں تو یہ پریشانی کی بات نہیں ہے کیا اتنی ٹھنڈ میں ہانیہ کو پسینے آرہے ہیں اور چہرا دیکھیں اسکا ایک دم بجھا ہوا ہے۔۔

وجاہت نے ڈاکٹر سے کہا تو ڈاکٹر اور ہانیہ دونوں مسکرا دی۔۔

ینگ مین ایسا ہوجاتا ہے تم خود تو پریشان ہوتے ہی ہو ساتھ میں اسے بھی کرتے ہو کچھ نہیں ہے بلکل ٹھیک ہے ہانیہ۔ باہر تھوڑا کراؤڈ ہے اسی لئے گھبراہٹ ہورہی ہوگی ابھی تھوڑی دیر یہاں یہ ریسٹ کد لے بلکل ٹھیک ہو جائے گی۔۔

ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ باہر کافی رش ہے ہم یہیں رہتے ہیں۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلایا۔۔

وجاہت میرے ساتھ چلو اور ہانیہ کو آرام کرنے دو آدھے گھنٹے بعد اسے پھر سے باہر لے جانا

مگر یہ اکیلے کیسے رہے گی وجاہت نے ڈاکٹر سے کہا۔۔

رہ لے گی تم دونوں ہی اگر پارٹی میں موجود نہیں رہوگے تو اچھا نہیں لگے گا۔۔

ٹھیک ہے سن شائن یہ موبائل رکھو میرا اور اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو نیلم یہ ہادی کے نمبر پر کال کر دینا ٹھیک ہے۔۔

ڈاکٹر کی بات مانتے ہوئے وجاہت ہانیہ کو آرام کرنے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔۔

وجاہت کے جانے کے 10 منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی تو ہانیہ مسکرا دی۔۔

دیکھ لو بے بی تمہارے پاپا 10 منٹ بھی مجھ سے دور نہیں رہ سکتے۔۔

دل ہی دل میں بولتے ہوئے ہانیہ نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کے وہ مانو پتھر کی ہوگئی کیونکہ سامنے معظم تھا۔۔

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔

ہانیہ نے ہمت کر کے سوال کیا لہجا وہ اپنا کوشش کے بعد بھی مضبوط نہیں رکھ پائی تھی۔۔

یہ دیکھنے آیا ہوں کہ جو لڑکی ساری زندگی میرے قدموں میں رہنے کیلئے تیار تھی وہ آج کیسے ایک بچی کی ماں کی صورت میرے سامنے کھڑی ہے۔۔

آپ سے مطلب میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں ہے میری زندگی میں جیسے چاہے گزاروں جس کے ساتھ چاہے گزاروں۔۔

ہانیہ نے ڈرتے ہوئے جواب دیا۔۔

اسکے اس جواب پر معظم کا قہقہہ فضا میں گونجا۔۔

ویسے پھنسایا تو تم نے بہت امیر آدمی ہے مجھے تو تم نے کبھی نہیں رجھایا تو یہ شہزادوں سا آدمی تمہیں کیسے ملا ۔۔

ہانیہ کو معظم کی باتوں سے گھن سی آنے لگی۔۔

چلے جائیں یہاں سے ورنہ میرے ہسبینڈ آپ کو جان سے مار دینگے۔۔

ہانیہ نے نم آنکھوں سے معظم کو ڈرانا چاہا۔۔

اندر تو آنے دو کیا ایسے ہی راستے میں کھڑا رکھو گی اپنے سابقہ شوہر کو۔۔

میرا آپ سے کوئی رشتہ نہیں ہے میرے شوہر مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اگر انہوں نے آپ کو ایسے مجھے تنگ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ کی آنکھیں ہی نوچ لینگے۔۔

اپنے سے ہانیہ نے معظم کو باز رہنے کا کہا وہ جانتی تھی وجاہت کی عادت کو اور اسکی کار میں کہی گئی بات وہ بھولی نہیں تھی۔۔

شوہر کتنی ہی محبت کرنے والا کیوں نہ ہو مگر جب اسکا بھروسہ ٹوٹتا ہے نہ تو نفرت بھی وہ ہی سب سے زیادہ کرتا ہے۔۔

معظم نے یہ بات کیوں کہی ہانیہ کو سمجھ میں نہ آیا۔۔

ویسے میں تمہارے شوہر سے ملنا چاہو گا آخر اسے بھی تو پتہ چلنا چاہیئے اپنی موجودہ بیوی کا ماضی۔۔

معظم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

میں نے اپنے شوہر سے کچھ نہیں چھپایا سب کچھ جانتے ہیں وہ جھوٹ نہیں بولتی میں ۔۔

ہانیہ نے چلا کے کہا اور دروازہ بند کرنے لگی مگر معظم نے دروازہ پکڑ لیا۔۔

دھان پان سی ہو تمہیں لگتا ہے کہ تم میرے منہ پر دروازہ بند کر سکتی ہو۔۔

معظم کچھ اور کہتا اس سے پہلے ہی کسی نے اسے گردن سے دبوچ کے پیچھے کیا اور زور سے ایک مکا اسکے چہرے پر مارا۔۔

ہاتھ تھا یا ہتھوڑا معظم ایک ہاتھ کی مار سے ہی زمین پر گر گیا۔۔

وجاہت نے اسے گریبان سے پکڑ کے اٹھایا مگر ہانیہ نے وجاہت کو روک دیا یہ کہہ کر کہ یہ ویٹر تو صرف آرڈر لینے آیا تھا مگر وہ اسے دیکھ کے ڈر گئی تھی اسی لئے دروازہ بند کر رہی تھی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

برو آپ کہاں چلے گئے تھے مسٹر ہمدان آپکا پوچھ رہے تھے۔۔

یہ مسٹر ہمدان تم سے ہی کیوں پوچھ رہے تھے۔۔

نیلم کے کہنے پر وجاہت کچھ کہتا اس سے پے ہی ہادی نے نیلم سے سوال کیا۔۔

میں وہیں تھیں تو انہوں نے مجھ سے ہی پوچھا نہ ۔۔

نیلم نے بغیر ہادی کی طرف دیکھ کے کہا۔۔

وہ میں ہانیہ کو روم میں لے کر گیا تھا۔۔ وجاہت نے آس پاس نظر دوڑا کے کہا۔۔

بھائی رومانس تم لوگ گھر جاکر بھی کر سکتے ہو ابھی تو مہمانوں سے بات چیت کرو جو تمہارے لئے ہی آئیں ہیں۔۔

ہادی کے شرارت سے کہنے پر وجاہت نے اسے گھورا۔

ہانیہ کو گھبراہٹ ہورہی تھی اسی لئے لے کر گیا تھا۔۔

وجاہت نے ہادی کو گھورتے ہوئے جواب دیا۔۔

بھابھی ٹھیک تو ہیں نہ برو۔۔ نیلم نے پریشانی سے پوچھا۔۔

ہاں ٹھیک ہے میں زرا حور کو دیکھ رہا ہو دکھ ہی نہیں رہی۔۔

ارے بھائی حور کو مست ہوئی وی ہے دیکھ وہاں اپنے دادا دادی کے ساتھ ہی ہے۔۔

ہادی نے اسے اشارے سے حور کو دکھایا جو شان صاحب اور عالیہ بیگم کے ساتھ ہی تھی۔۔

ٹھیک ہے دس منٹ ہوچکے ہیں میں ذرا سن شائن کو دیکھ لو۔۔

وجاہت بولتے ہوئے جانے لگا مگر ہادی نے وجاہت کو ہانیہ کو سن شائن کہنے سن لیا۔۔

یہ سن شائن کون ہے بھئی۔۔ ہادی اچھے سے جانتا تھا وجاہت کس کو سن شائن کہہ رہا تھا مگر اسے چھیڑنے کیلئے بولا۔۔

تم سے مطلب اپنا کام کرو۔۔

وجاہت ہادی کو جواب دے کر ہانیہ کے پاس چل دیا۔۔

مگر وہ ابھی کاریڈور میں ہی تھا جب اسنے ہانیہ کی آواز سنی وہ کسی سے بات کر رہی تھی۔۔

لہجے میں نمی صاف واضح تھی۔۔

شوہر کتنی ہی محبت کرنے والا کیوں نہ ہو مگر جب اسکا بھروسہ ٹوٹتا ہے نہ تو نفرت بھی وہ ہی سب سے زیادہ کرتا ہے۔۔

وجاہت نے کسی مرد کی الفاظ سنے۔۔

ویسے میں تمہارے شوہر سے ملنا چاہو گا آخر اسے بھی تو پتہ چلنا چاہیئے اپنی موجودہ بیوی کا ماضی۔۔

یہ سن کے وجاہت کے جبڑے بھینچ گئے دماغ کی رگیں کنپٹی پر واضح ہونے لگی

میں نے اپنے شوہر سے کچھ نہیں چھپایا سب کچھ جانتے ہیں وہ جھوٹ نہیں بولتی میں ۔۔

وجاہت نے دیکھا ہانیہ نے زور سے کہا اور دروازہ بند کرنے لگی جب اس شخص نے دروازے کو پکڑ لیا۔۔

اب وجاہت کو اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہوگیا۔۔

اس نے اس آدمی کو گردن سے دبوچا اور ایک زور دار مکا اسکے چہرے پر مارا۔۔

اس کی ہمت کیسے ہوئی اسکی بیوی پر نظر بھی اٹھانے کی

آج وہ اسے جان سے بھی مار دیتا تو کوئی غم نہ تھا مگر یہ کیا

اسے کسی نے روکا وجاہت جو جلال کے عالم میں دوبارہ معظم کو گریبان سے پکڑ کر اٹھا رہا تھا

کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے روکا

روکنے والی اسکی زندگی تھی جو آنسو لئے اسے روک رہی تھی پھر اس نے جھوٹ بھی کہا۔۔

وجاہت نے خود ساری باتیں سنی تھی مگر ہانیہ نے جھوٹ کہا۔۔

ایک جھٹکے سے اس آدمی کو وجاہت نے پھینکا جو کہ بے ہوش تھا

وجاہت کے ایک ہاتھ کی مار سے ہی وہ ہوش کھو بیٹھا تھا۔۔

وجاہت نے سرخ ہوتی آنکھوں سے ہانیہ کو دیکھا جو وجاہت کے اس جلالی روپ کو دیکھ کے تھر تھر کانپ رہی تھی

سب سے خطرناک ہانیہ کو وجاہت کی لہو کی مانند آنکھیں لگیں۔۔

وجاہت نے بغیر ہانیہ کے ڈر کی فکر کئے اسکی کلائی کو پکڑا اور اپنے ساتھ لے جانے لگا۔۔

بغیر کسی کو بتائے وہ ہانیہ کو لئے ہوٹل سے گھر لے گیا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *