Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 02)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

ہانیہ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔

ایشا نے غصے سے ہانیہ کو مخاطب کیا جو کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی۔۔

بھابھی میں تو رات کیلئے کھانا بنا رہی ہوں۔۔

ہانیہ نے ایشا کی بات کا مطلب نہ سمجھتے ہوئے عام سے لہجے میں جواب دیا۔۔

تم اچھے سے جانتی ہو کہ آج تمہارے بھائی گھر پر ہیں اور انہوں نے تمہیں یوں کچن میں دیکھا تو مجھ پر غصہ کریں گے ۔۔

تم تو چاہتی ہی یہی ہو نہ کہ میرے اور میرے شوہر کی ہمیشہ لڑائی ہی ہو ۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں بھابھی بھلا میں کیوں ایسا چاہوں گی ۔۔۔

رہنے دو بس اچھے سے جانتی ہوں میں تمہیں اپنا شوہر تو سنبھلا نہیں تم سے اب مجھے بھی تم میرے شوہر کے ساتھ خوش نہیں دیکھ سکتی ۔۔

بھابھی آپ جس کے بارے میں بول رہی ہیں وہ میرے بھائی ہیں بھلا میں اپنے بھائی کو دیکھ کے ناخوش کیسے ہوسکتی ہوں۔۔

رہی بات میرے شوہر کی تو میں نے ہر ممکن کوشش کی تھی اپنے رشتے کو نبھانے کی ۔۔۔

ہانیہ آج پہلی بار تھوڑا تلخ ہوئی تھی ایشا کے ساتھ وجہ صبح کا ممانی کا لایا ہوا رشتہ پھر ایشا کی طنز بھری باتیں اور اب اسکا یوں اسے باتیں سنانا تھا۔۔

نکلو کچن سے ابھی تمہارے بھائی نے مجھے کم باتیں سنائی ہیں جو اور سنوانا چاہتی ہو۔۔

ایشا نے نخوت سے کہہ کر ہانیہ کو کچن سے جانے کا کہا۔۔

پر بھابھی کھانا تو روز میں ہی پکاتی ہوں۔۔

ہانیہ نے اب کے بھرائے لہجے میں کہا۔۔

آج کے بعد تم یہاں مجھے کچن میں نظر نہ آؤ اور ہاں اپنی پڑھائی کا خواب چھوڑو اور کہیں جاکر نوکری کرو میرے میاں اپنے ماں باپ کو پال رہے ہیں یہی کافی ہے اوپر سے تم بھی آگئی ہو اس گھر میں۔۔

ہانیہ ایشا کی باتیں سن کے خاموشی سے کچن سے نکلتی چلی گئی کیونکہ وہ اس سے زیادہ سن بھی نہیں سکتی تھی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت حور کو روز آفس لے آتا تھا اور پچھلے ایک ہفتے سے اس نے حور کیلئے ایک نئی نینی بھی اپائنٹ کی تھی۔۔

حور ایک پری میچور بچی تھی اسی لئے کوئی بھی نینی اسکا ٹھیک سے دیہان نہیں رکھ پا رہی تھی ۔۔

اب بھلا کوئی کوئی نینی ایک ماں کی جگہ تھوڑی لے سکتی تھی۔۔

وجاہت نے حور کیلئے ایک آفس کا کمرا کافی حد تک سیٹ کروا دیا تھا جس میں حور اور اسکی نینی ہی ہوتی تھی۔۔

کمرے میں موجود خفیہ کیمرے کی وجہ سے وجاہت پل پل کی نظر رکھتا تھا اپنی بیٹی پر۔۔

اسی لئے اسنے حور کی پچھلی نینی کو نکال باہر کیا تھا کیوں کہ وہ سمجھی اسے یہاں کوئی نہیں دیکھ رہا تو اس نے حور کی دیکھ بھال میں بہت لاپرواہی برتی۔۔

وجاہت کا حور کو آفس لے جانا گھر والو کو بہت برا لگا خاص کر عالیہ بیگم کو مگر ساجدہ بیگم نے سب کو کچھ بھی کہنے سے منع کیا تھا۔۔

کیوں کہ شاید یہی ایک راستہ تھا وجاہت کو یہ احساس دلانے کا کہ حور بغیر ماں کے کیسے رہے گی۔۔

آج مسلسل ایک ہفتہ ہوگیا تھا وجاہت کو حور کو لئے آفس جانے کا وہ کافی پریشان رہتا تھا حور کو لے کر مگر گھر میں کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

بابا میں سوچ رہی ہوں کہیں جاب کرلو۔۔

ہانیہ نے جھجکتے ہوئے سعید صاحب سے بات کی۔۔

کیوں میری جان تمہیں کیا ضرورت نوکری کی۔۔

بابا میں پورا دن گھر میں بور ہوجاتی ہوں گھر کے کام کاج بھی اتنے نہیں ہوتے اور گھر سے باہر نکلو گی میرا دماغ دنیا کی باتوں سے تھوڑا دور بھی رہے گا۔۔

اور ویسے بھی بابا بھائی آخر کب ہماری زمہ داری سنبھالیں گے آخر کو اب انکی بھی تو ایک فیملی ہے اور میں بھی تو آپ کی ہی اولاد ہوں میرا بھی تو فرض بنتا ہے نہ کہ میں بھی اپنے ماں باپ کیلئے کچھ کروں۔۔

لیکن بیٹا تم نا سمجھ ہو تمہیں اس دنیا کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کیسے کیسے لوگ ہیں اس دنیا میں تم نہیں جانتی۔۔

اب کی بار ہانیہ کی امی بولیں۔۔

امی میں باہر جاؤنگی تو ہی دنیا سے کیسے ڈیل کرنا ہے سیکھ پاؤنگی ۔۔

اور آخر کب تک آپ لوگ مجھے ایسے دنیا والوں سے چھپا کر رکھیں گے ۔۔

ہانیہ جو سعید صاحب کو سمجھانا چاہتی تھی وہ اچھی طرح سمجھ رہے تھے۔۔

ٹھیک ہے بیٹا میں آج ہی فاخر سے بات کرتا ہوں ۔۔

ہانیہ خاموشی سے سر اثبات میں ہلا کر وہاں سے چلی گئی۔۔

آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہانی جاب کرے گی۔۔

بیگم اس میں غلط کیا ہے اور یہ بھی تو سچ ہی ہے نہ کہ آخر کب تک ہم اپنی بیٹی کو دنیا کی نظروں سے بچا کر رکھیں گے ۔۔

ہماری آنکھیں میچ جانے کے بعد بھی تو اسے دنیا کا اکیلے ہی سامنہ کرنا ہے اور ایشا کو تو تم جانتی ہو فاخر کتنا ہی اپنی بہن پر جان چھڑکے ایشا کبھی ہانیہ کو برداشت نہیں کرے گی۔۔

تو اس وقت سے بہتر ہے ہانیہ ابھی سے ہی دنیا داری سیکھے کم سے کم ابھی ہم اسے اچھے برے کے بارے میں بتا تو سکیں گے۔۔

ہمم ٹھیک ہے جیسا آپ کو بہتر لگے۔۔

سعید صاحب کی بات سے فاطمہ بھی متفق تھیں۔۔

پھر سعید صاحب نے بہت مشکل سے فاخر کو راضی کیا ہانیہ کی جاب کیلئے ۔۔

پہلے تو فاخر بلکل بھی راضی نہیں تھا ہانیہ کی جاب کیلئے مگر پھر سعید صاحب نے اسے پیار سے سمجھایا اور مستقبل کے بارے میں ہانیہ کیلئے کیا بہتری ہے یہ بھی سمجھایا تو بل آخر فاخر مان ہی گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ شروع سے ہی پڑھائی میں بہت تیز تھی مگر وہ لوگوں سے بہت کم ہی گھل مل پاتی تھی یہی وجہ تھی کہ اسنے کبھی کوئی دوست نہیں بنائی تھی ۔۔

پہلے اسکول اور پھر کالج ہانیہ فاخر کے ساتھ جاتی اور چھٹی کے وقت سعید صاحب کے ساتھ ہی واپس گھر آجاتی ۔۔۔

اور پھر کم عمری میں شادی اور شادی کے بعد گھر کی زمہ داریاں ۔۔

ہانیہ کبھی دنیا اور دنیا داری کے بارے میں کچھ سیکھ ہی نہ سکی۔۔

کچھ دنوں میں ہی اسنے کئی جگاؤں پر انٹرویو دیئے جو بھی اخباروں میں ایڈ آیا یا ان لائن ویکینسی آئی اسنے فاخر سے بات چیت کرکے وہاں پر انٹرویو دئیے مگر صرف گریجویٹ ہونے پر اسے اچھی نوکری ملنے میں تھوڑی دقت آرہی تھی۔۔

اور جو نوکری اسے مل رہی تھی وہ فاخر کو پسند نہیں آرہی تھی ۔۔

اب کل بھی اسکا ایک انٹرویو تھا اور آج وہ تھکی ہاری جب گھر میں آئی تو دیکھا کہ کچن کا کام نہ ہونے کے برابر ہوا تھا اپنا بیگ کمرے میں رکھ کر ہانیہ کچن میں آئی اور ایک بار پھر کام میں لگ گئی۔۔

بیٹا تم کب آئی۔۔

فاطمہ نے ہانیہ کو کچن میں مصروف دیکھا تو بولیں۔۔

امی بس آدھا گھنٹہ ہوگیا ہے گھر آئی تو دیکھا کہ کچن پھیلا پڑا ہے اور بھابھی سورہی ہیں۔۔

اب وقت پر کھانا نہیں بنا تو بابا کھانا دیر سے کھائیں گے اور پھر دوا میں بھی دیری ہوجائے گی۔۔

اسی لئے کھانا پکا رہی ہوں۔۔

بیٹا تم ہٹو میں کر دیتی ہوں تم پہلے ہی صبح سے پتہ نہیں کہاں کہاں دھکے کھاتی رہی ہونگی۔۔

فاطمہ نے اپنی بیٹی کا اترا چہرا دیکھ کے کہا۔۔

امی میں اتنا تھکی نہیں ہوں جتنا حیران ہوں۔۔

کیا مطلب۔۔؟

امی ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کیسی نظروں سے دیکھتے ہیں نہ جب وہ نوکری کیلئے گھر سے نکلتی ہیں ۔۔

ہانیہ نے مصروف سے انداز میں کہا۔۔

بیٹا کسی نے تمہیں کچھ کہا ہے کیا یہ پھر راستے میں تو کسی نے تنگ نہیں کیا نہ۔۔

فاطمہ کو ہانیہ کی فکر ہونے لگی۔۔

نہیں امی ہوا کچھ نہیں نہ ہی کسی نے کچھ کہا میں تو بس لوگوں کی نظروں سے تھک گئی ہوں ہر آدمی کی آنکھوں میں لگتا ہے کہ ایکسرے مشین فٹ ہوئی وی ہے ۔۔

ان دنوں میں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے لڑکیاں کوئی نمائش کی چیز ہوں جسے ہر آدمی گھور گھور کے اور غوروفکر سے دیکھنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔۔

بیٹا اسی لئے فاخر اور تمہارے بابا نہیں چاہتے کہ تم گھر سے باہر کہیں بھی نوکری کرو۔۔

امی بابا اور بھائی کا سایہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے پہلے دن مجھے اکیلے جانے میں بہت ڈر لگا مگر میں پورے پورے راستے بھائی سے یہ بابا کے ساتھ رابطے میں تھی اور پھر دن بہ دن یہ ڈر بھی ختم ہوگیا۔۔

ان دس پندرہ دنوں میں ہی مجھے یہ احساس ہوگیا کہ بھائی اور باپ کی ایک عورت کی زندگی میں کیا اہمیت ہوتی ہے ۔۔

بس یہی سوچتی ہوں کہ جن کے سروں پر باپ اور بھائی جیسی نعمت نہیں ہوتی انکا کیا ہوتا ہوگا کیسے وہ لوگ دنیا کا سامنہ کرتی ہونگی۔۔

ہانیہ اپنا کام کرتی جارہی تھی اور ساتھ میں اپنے دل کی بات بھی اپنی امی سے کر رہی تھی۔۔۔

مشرقی لڑکیاں اپنے دل کا ہر حال اپنی ماؤں کو ہی تو بتاتی ہیں۔۔

مگر کچن کے باہر کھڑے سعید صاحب کی آنکھیں نم ہوگئی تھی وہ کچن میں پانی لینے کی غرض سے آئے تھے مگر ہانیہ کی باتوں کو سن کے وہیں کے وہیں جم گئے۔۔

کتنی خواہشوں سے انہوں نے ہانیہ کی شادی کی تھی یہ سوچ کے کہ اسکے سر پر ہمیشہ ایک مضبوط سایہ رہے گا اور اسکا شوہر اسکا ہر اچھے برے وقت میں ساتھ دے گا اور اسے ہمیشہ تحفظ فراہم کرے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا جو کچھ انہوں نے سوچا تھا۔۔

ہانیہ شروع سے ہی کم گو تھی مگر خوش رہا کرتی تھی اسکے چہرے کی مسکراہٹ میں اسکے ماں باپ اور اسکے بھائی کی جان بستی تھی۔۔

جو اب زبردستی وہ چہرے پر لانے کی کوشش کرتی تھی مگر زیادہ تر ناکام رہتی تھی۔۔۔

اس وقت سعید صاحب نے دل سے دعا کی کہ ہانیہ کو کوئی ایسا مضبوط سہارا ملے جو اسے دنیا کی ہر نرمی گرمی سے بچا کر رکھے جیسے اتنے سالوں اسکے باپ اور بھائی نے اسے تحفظ فراہم کیا۔۔

اور اس وقت شاید قبولیت کی گھڑی تھی سعید صاحب کی دعا اللّٰہ کی بارگاہ میں قبول ہو چکی تھی جسکا انہیں ابھی اندازہ نہیں ہونا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

آج بھی ہانیہ کا انٹرویو تھا اس کمپنی میں جاب کا ایڈ اسنے ایک ان لائن سائٹ پر دیکھا تھا کمپنی بہت بڑی تھی اور جاب ملنے کے چانسس اسے کم ہی لگ رہے تھے ۔۔

بڑی بڑی کمپنیوں میں تو کتنے ہی لوگ جاب کیلئے انتظار میں بیٹھے پوتے ہیں یہ تو ہانیہ کی قسمت ہی تھی جسے اپلائے کرنے پر ہی اسے انٹرویو کی کال آگئی تھی۔۔

ہانیہ اس وقت ایک عالیشان آفس کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھی تھی۔۔

وہ بار بار اپنے ڈاکومنٹس چیک کر رہی تھی ساتھ میں نظریں آس پاس کے لوگوں پر ڈال رہی تھی ۔۔

اس آفس میں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی اس جاب کیلئے انٹرویو دینے آئی تھی۔۔۔

یہ ملک کی جانی مانی کمپنیوں میں سے ایک تھی جس میں جاب ملنا ہانیہ کیلئے بہت بڑی بات تھی۔۔

اس پاس موجود لڑکیاں چہرے پر میک اپ ایسے لگائی ہوئی تھی جیسے وہ کسی پارٹی میں موجود ہوں ۔۔۔

ایک لڑکی کو اسنے کہتے سنا کہ سنا ہے اس کمپنی کا جو مالک ہے

وجاہت عالم وہ بہت وجیہہ شخصیت کامالک ہے مگر مغرور شہزادہ ہے ۔۔

قریب آدھے گھنٹے سے وہ لڑکیوں کی باتیں ہی سن رہی تھی جس میں ذکر صرف وجاہت عالم کا ہی تھا

ہانیہ کو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ تو بس اپنے ماں باپ کیلئے کچھ کرنا چاہتی تھی اور اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہتی تھی۔۔

اتنی دیر بیٹھنے کے بعد اسے پیاس کی شدت محسوس ہوئی تو اسنے ریسیپشن سے پانی کا پوچھ کے واٹر ڈسپینسر کے پاس رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئی۔۔

وہ واٹر ڈسپینسر کے پاس چیئر پر بیٹھ کر پانی پی رہی تھی جب اسے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس آواز کی طرف کھنچتی ہی چلی گئی۔۔

پاس کے ہی ایک روم میں ایک عمر رسیدہ خاتون ایک بچے کو لیے ہوئے تھیں جو کہ مسلسل رورہا تھا۔۔

ہانیہ نے اس عورت سے بچے کے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں کیوں رورہا ہے۔۔

آپ کا بچہ ہے اور آپ کو معلوم ہی نہیں ہے۔۔ ہانیہ کو حیرت ہوئی۔۔

نہیں بی بی یہ میرا بچہ نہیں ہے میں اسکی آیا ہوں تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں مجھے اس بچی کی آیا بنے ہوئے۔۔

ہانیہ سے جب رہا نہ گیا تو اس نے بچہ ان کے ہاتھ سے لے کر اپنی گود میں لیا اور دونوں بازوؤں سے ایسے پکڑا جس سے بچے کے ہاتھ پیر دب گئے اور وہ چند ہی پل میں خاموش ہوگیا۔۔

ہانیہ نے اسے گلے سے لگا کر آنکھیں موند لیں ڈھیروں سکون نے اسے آن گھیرا۔۔

ایک بچے کی کمی نے ہی تو اسکی ذات کو توڑ دیا تھا ساتھ میں اسکے رشتے کو بھی۔۔

ہانیہ نے سوچا کہ یہ کیسا انصاف ہے میں ایک بچے کیلئے تڑپی اور اللہ نے جسے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اسنے اپنی اولاد آیا کی گود میں ڈالی ہوئی ہے۔۔

کافی دیر تک ہانیہ اس بچی کو گود میں لی ہوئی تھی چونکہ رانیہ کئی سال تک ہانیہ کے پاس ہی پلی تھی تو ہانیہ کو بچوں کا رکھ رکھاؤ اچھے سے آتا تھا۔۔

ایشا کو تو کبھی اپنی بچی کی فکر ہی نہ ہوئی تھی۔۔

جب وہ بچی سوگئی تو ہانیہ نے اسے شال میں اچھے سے لپیٹ کر اس عورت کو دیا۔۔

ٹھنڈ کا موسم ہے اسی لئے تھوڑی احتیاط کرنی پڑتی ہے بچوں کی ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں آپ مالش کیا کریں انکی۔۔

ہانیہ ایسے بول رہی تھی جیسے 4 5 بچوں کی ماں ہو۔۔

اس عورت نے اس لڑکی کا شکریہ ادا کیا جو محض 22 یا 23 سال کی ہوگی مگر اپنی عمر سے کئی بڑی باتیں کر رہی تھی۔۔

کمرے میں موجود سی سی ٹی وی کی مدد سے وجاہت عالم کی نظریں اسکرین پر اسے بہت دیہان سے دیکھ رہی تھیں۔۔

اور اب اسکے ذہن میں اسکی دادو کی باتیں گونجی کہ اس دنیا میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں اور کوئی ہوسکتی ہے جو کہ حور کو ایک ماں سے بڑھ کر پیار کرے گی۔۔

پھر چند پل میں ہی وجاہت عالم نے فیصلہ کرلیا اپنی بیٹی کے مستقبل کا۔۔

بغیر یہ سوچے کہ اس فیصلے میں کسی اور کی بھی زندگی جڑی ہے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ویٹنگ ایریا واپس آکر بھی تقریباً دس منٹ بعد اسے آفس میں بلایا گیا ۔۔

مس ہانیہ سعید آپ اندر جاسکتی ہیں۔۔

کسی لڑکی نے اسے آفس میں جانے کا کہا تو وہ اپنا بیگ سنبھالتی دروازہ ناک کرکے آفس میں پہنچی۔۔۔

فائل تھوڑی دیر پہلے ہی اندر جا چکی تھی

سامنے جو بھی شخص تھا وہ چئیر مخالف سمت کئے بیٹھا تھا اور اسکے ہاتھ میں ہانیہ کی ہی فائل تھی جسے وہ پڑھ رہا تھا۔۔

السلام علیکم ۔۔ ہانیہ نے سلام کیا تو سامنے سےبھاری مردانہ آواز میں اسے بیٹھنے کیلئے کہا گیا ۔۔۔

وہ بہت پزل ہورہی تھی کیونکہ سامنے بیٹھا شخص مسلسل خاموش ہی تھا ۔۔

تھوڑی دیر بعد چئیر گھومی تو اس آدمی کا چہرا ہانیہ نے دیکھا۔۔

براؤن گھنے بال اور براؤن ہی گھنی داڑھی مونچھیں اسکے صاف شفاف سرخ و سفید چہرے پر حد سے زیادہ جچ رہی تھی اس پر اس انسان کی بھوری آنکھیں اور گھنی براؤن پلکیں جس میں حد درجہ سنجیدگی تھی ہانیہ کو ایک پل میں چونکا دینے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔

وہ بلکل کہانیوں میں موجود شہزادوں جیسا تھا جسکا ہر لڑکی خواب دیکھتی ہے۔۔

مگر وہ ہانیہ سعید تھی اسے اپنے جزبات اور احساسات پر عام لڑکیوں سے کہیں زیادہ کنٹرول تھا فوراً اسنے نظروں کا زاویہ تبدیل کر کے اپنی فائل کو دیکھنے لگی ۔۔۔

گندمی صاف شفاف رنگت اور کھڑے ناک نقش کی حامل وہ سنجیدہ چہرا لئے وہ اپنی بڑی بڑی کالی آنکھوں سے سامنے بیٹھے شخص کے وجود سے تھوڑا گھبرا رہی تھی

وجاہت اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر اس سے بات کا آغاز کرنے لگا۔۔

سو مس ہانیہ سعید آپ کی کوالیفیکیشن اس جاب کیلئے بہت کم ہے جبکہ اس پوسٹ کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے تو ہم آپ کو یہ جاب نہیں دے سکتے ۔۔۔

سامنے بیٹھے مغرور شخص کی بات سن کے ہانیہ نے کوئی رسپانس نہیں دیا اور اپنا ہاتھ اپنی فائل لینے کیلئے بڑھا دیا نظریں اسنے ابھی بھی نیچی کی ہوئی تھی۔۔

مگر ۔۔۔۔

فائل کی طرف بڑھتا ہاتھ اس لفظ مگر پر رک سا گیا۔۔

جی ۔۔

آپ کو یہ جاب نہیں مل سکتی مگر میرے لئے آپ کیلئے ایک اور جاب ہے۔۔

ہانیہ کو سمجھ نہ آیا وہ شخص کس جاب کیلئے بات کر رہا ہے۔۔

مجھے لگتا ہے یہاں اور بھی لوگ موجود ہیں انٹرویو کیلئے اور مجھے چلنا چاہئے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو جاتے دیکھا تو مضبوط لہجے میں ہانیہ کو دریافت کیا۔۔

مس ہانیہ انٹرویو جاری ہیں اور انٹرویو میرے مینیجر لے رہے ہیں جبکہ میں وجاہت عالم اس کمپنی کا مالک ہوں میں یہ چھوٹی موٹی پوسٹ کیلئے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا۔۔

تو پھر کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ مجھے انٹرویو والے روم میں جانے کے بجائے اس کمرے میں کیوں بلایا گیا ہے۔۔

آپ کیلئے ایک لائف ٹائم جاب ہے۔۔

اس پر سوالیہ نظروں سے ہانیہ نے وجاہت کو دیکھا ۔۔۔

کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی۔۔۔؟؟

یہ کیسا سوال ہے دماغ ٹھیک ہے آپ کا ۔۔

ہانیہ ایک بار پھر کھڑی ہوگئی باہر جانے کیلئے۔۔۔

جاب کی نوعیت سنتی جائیں شاید اس میں آپکا فائدہ ہو اور ایک بات اور یہ آفر صرف آج ابھی اور اسی وقت تک محدور ہے تو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سوچ لیں۔

وجاہت عالم نے سنجیدگی سے کہا تو ہانیہ نے اسکی طرف دیکھا اشارہ اسکی آفر سننے کا تھا۔۔۔

مجھے شادی کرنی ہے اپنے لئے نہیں اپنی بیٹی کیلئے مجھے بس اسکی ماں چاہئے۔۔

اگر آپ ہاں کرتی ہیں تو ہمارے بیچ ایک لائف ٹائم کانٹریکٹ ہوگا

جس میں دنیا کیلئے آپ میری بیوی ہونگی مگر سچ یہ ہوگا کہ آپ کا اور میرا ایک دوسرے سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔۔۔

آپ کو ہر ماہ سیلری ملے گی اپکی ہر ضرورت پوری ہوگی اور ساتھ آپ کو رہنے کیلئے ایک عالیشان زندگی ملے گی ۔۔

ہانیہ بس اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی کہ کتنی آسانی سے وہ یہ بات کر رہا ہے۔۔۔

مجھے آپکی آفر میں کوئی کوئی دلچسپی نہیں ہے میں آج ابھی اور اسی وقت یہ آفر ٹھکراتی ہوں۔۔

ہانیہ کی بات پر وجاہت نے غصے سے اپنے لب بھینچ لئے کیونکہ آج پہلی بار کسی نے اسکی بات کی نفی کی تھی ۔۔

ہمیشہ سے ہی وجاہت کو ہاں سننے کی عادت تھی مگر اسنے یہ ایک بار نہیں سوچا کہ جسے وہ اپنی بیٹی کی زندگی میں لانا چاہتا ہے اس سب میں اسکی زندگی بھی تو شامل تھی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *