Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 19)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 19)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
صبح صبح ہانیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنے بال بنا رہی تھی حور عالیہ بیگم کے پاس تھی
آئینے میں خود کو دیکھ کے ہی ہانیہ مسکرا رہی تھی گالوں پر ابھی بھی اسے وجاہت کا لمس محسوس ہورہا تھا۔۔
ایسے خوبصورت لمحوں کے بارے میں تو کبھی ہانیہ نے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔
یہ رشتہ تو بس ایک مجبوری کے تحت ہی جڑا تھا۔۔
وجاہت کمرے میں آیا تو دیکھا حور کمرے میں موجود نہیں تھی اور ہانیہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی
نظریں نیچی کئے اسکے چہرے پر بہت خوبصورت مسکان تھی۔۔
وجاہت نے دروازہ لاک کیا اور دبے قدموں سے آگے بڑھ کر پیچھے سے ہانیہ کو اپنے حصار میں لے لیا۔۔
اس اچانک عمل پر ہانیہ ڈر سی گئی وہ چلا جاتی کہ وجاہت نے اسکے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔۔
میں ہوں مس بے وقوف ۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے کان میں کہا تو ہانیہ آئینے میں وجاہت کا عکس دیکھ کے مسکرا دی۔۔
مس بے وقوف نہیں مسز اکڑو۔۔
ہانیہ نے آئینے میں وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔
وہ کیسے بھلا۔۔ میں اکڑو ہوں کیا
وجاہت نے بھی ہانیہ کو آئینے میں ہی دیکھ کے کہا۔۔
جی بلکل آپ بہت بڑے اکڑو ہیں یقین نہ آئے تو کسی سے بھی پوچھ لیجیے۔۔
ہانیہ بول رہی تھی کہ وجاہت نے اسکے کان کی لو چوم لی جس میں اسنے نازک اور خوبصورت سی بالیاں پہنی ہوئی تھی۔۔
مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے تم نے کہہ دیا کافی ہے۔۔
وجاہت نے اسکے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتار کے کہا۔۔
اچھا چلیں ہٹیں اب ورنہ کوئی نہ کوئی آجائے گا ہمیں اوپر بلانے۔۔
ہانیہ نے وجاہت کی گرفت سے نکلنا چاہا تو وجاہت نے اپنی گرفت اور مضبوط کردی۔۔
مجھے نہیں مسز اکڑو آپ کو بلانے آئے گا کوئی اور سوچو کہ کوئی اوپر آیا اور ہمیں اس رومینٹک انداز میں دیکھ لیا تو کتنا مزہ آئے گا نہ۔۔
وجاہت کے مزاق پر ہانیہ گھبرا گئی۔۔
ہانیہ کا گھبرایا ہوا چہرا دیکھ کے وجاہت کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
ڈرپوک ہو یار تم بہت۔۔
وجاہت نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
بہت برے ہیں آپ۔۔
ہانیہ نے روٹھنے والے لہجے میں کہا۔۔
اگر تم نے مجھے برا کہا تو اچھا نہیں ہوگا ۔۔ سوچ لو۔۔
وجاہت نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔
کیا کرلیں گے آپ۔۔
ہانیہ نے اب تپے ہوئے انداز میں کہا۔۔
وجاہت بغیر کچھ بولے ہانیہ کو گدگدی(tickle) کرنے لگا۔۔
وجاہت کے گدگدانے پر ہانیہ ایک دم اچھل گئی۔۔
نہیں نہیں نہیں۔۔ پلیز پلیز یہ نہ کرو۔۔
ہانیہ وجاہت سے التجا کرنے لگی۔۔
جبکہ ہلکا سا گدگدانے پر ہانیہ کا ری ایکشن دیکھ کے وجاہت کی حیرت سے آنکھیں پھٹ گئیں۔۔
تمہیں گدگدی ہوتی ہے۔۔؟؟
وجاہت نے اسی حیرت سے سوال کیا۔۔
بہت زیادہ۔۔ ہانیہ نے وجاہت سے اور فاصلہ قائم کرکے کہا۔۔
گہرا سانس لے کر وجاہت نے دھیمی آواز میں خود سے کہا۔۔
وجاہت عالم تیرا کیا ہوگا۔۔ رب خیر ہی کرے۔۔
وجاہت کو بڑبڑاتا دیکھ ہانیہ اسے گھورنے لگی جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو کہ وہ کیا بول رہا ہے۔۔
کچھ بولا آپنے مجھے۔۔
کچھ نہیں میں کیا بولو گا بس اپنے فیوچر کو لے کر پریشان ہورہا ہوں ۔۔۔
ہانیہ کو وجاہت کی بات سمجھ نہیں آئی مگر آگے سے اسنے کوئی سوال نہیں کیا
کہیں پھر سے گدگدانے نہ لگ جائے ۔۔
ہانیہ فوراً کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ وجاہت ہانیہ کے بارے میں سوچ کر ہنسنے لگا ۔۔
پاگل ہے یہ مسز اکڑو۔۔ ہیں میں اکڑو ہوں۔۔؟؟
خود سے بولتے ہوئے وجاہت خود سے ہی سوال کرنے لگا۔۔













ہانیہ دادو سے نیلم اور ہادی کی بات کرنا چاہتی تھی مگر اسے کل موقع ہی نہ ملا تو سوچا اب جا کر بات کرلو۔۔
ہانیہ جانے ہی لگی تھی کہ اسکے سیل فون پر کسی کی کال آنے لگی۔۔
ہانیہ نے دیکھا تو اسکرین پر وجاہت کا نام جگمگا رہا تھا
کال ریسیو کرتے وقت ہانیہ کے چہرے پر خوبصورت مسکان تھی۔۔
آپ کو گئے ابھی آدھا گھنٹہ نہیں ہوا اور کال بھی کرلی آپ نے۔۔
ہانیہ نے بغیر وجاہت کو بولنے کا موقع دیئے خود بولنے لگی۔۔
بولنے دوگی مجھے۔۔
وجاہت کی سنجیدہ آواز سن کے ہانیہ بھی خاموش ہو گئی۔۔
جی۔۔
میں نے یہ بتانے کیلئے کال کی تھی کہ پیرس کا ویزا اپروو ہوگیا ہے کل شام کی فلائٹ ہے
تو 2 بجے تک ریڈی رہنا حور کیلئے شاپنگ کرلیں گے اور تمہارے لئے بھی وہاں کافی ٹھنڈ ہے تو اسی حساب سے کپڑے لینگے۔۔
وجاہت بول کے خاموش ہوگیا مگر ہانیہ آگے سے کچھ نہ بولی۔۔
کچھ بولوگی یہ میں کال کاٹ دوں۔۔
وجاہت کی آواز پر ہانیہ صرف اتنا بولی
میں کیا کہوں آپ نے جو بتانا تھا بتا دیا میں نے سن لیا ٹھیک ہے 2 بجے تک ریڈی رہو گی حور کو بھی ریڈی رکھو گی۔۔
ہانیہ کے اداس لہجے سے وجاہت کو اپنے لہجے کا احساس ہوا ۔۔
وہ ایسا ہی تھا کام کے وقت اس میں خود بہ خود سختی آجاتی تھی
وہ اپنے کام کے معاملے میں بہت سخت تھا۔۔
ایک بات بولو۔۔
ہانیہ نے وجاہت سے کہا۔۔
ہاں بولو۔۔
کیا ہم نیلم کو لے لیں اپنے ساتھ اسکی چھٹیاں چل رہی ہے تو وہ پھر اکیلے بور ہوجائے گی
ٹھیک ہے اسے بھی بول دو ریڈی ہونے کیلئے۔۔
ہانیہ کی بات سن کے وجاہت کے چہرے پر فخر کی لہر تھی
اپنی پسند پر اسے فخر تھا جو کہ اب اسکے دل پر راج کر رہی تھی
اسکی یہی ادا ہی تو وجاہت کو بھاتی تھی کہ وہ خود سے پہلے دوسروں کے بارے میں سوچتی تھی۔۔
ہانیہ کال کاٹ چکی تھی مگر وجاہت موبائل کان سے ہی لگایا ہوا تھا۔۔
جب اسے احساس ہوا کہ کال کب کی کٹ چکی ہے تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔
اگر آفس میں کوئی وجاہت عالم کو ہنستا ہوا دیکھ لیتا تو وہ خود کی نظروں پر یقین ہی نہ کرتا۔۔












وجاہت نے 2 بجے گھر سے ہانیہ اور نیلم کو پک کرلیا ۔۔
شاپنگ مال میں انہوں نے سب سے پہلے حور کیلئے شاپنگ کی وجاہت اور ہانیہ کو جو بھی حور کیلئے پسند آیا وہ لیتے ہی گئے۔۔
حور وجاہت کی گود میں بری طرح اچھل رہی تھی
اشارہ صاف تھا کہ اسے نیچے چھوڑ دیا جائے۔۔
مگر وجاہت اسے بہت مشکل سے تھامے ہوئے تھا۔۔
مشہور برانڈ کے آوٹ لیٹ پر جب وہ لوگ داخل ہوئے تو ہانیہ صرف نیلم کیلئے ہی کپڑے دیکھ رہی تھی
وجاہت نے جب اسے ٹوکا تو اس نے سہولت سے بہانہ بنا کے انکار کر دیا۔۔
وجاہت سمجھ گیا کہ آج بھی ہانیہ اسکے پیسوں سے کچھ نہیں لے گی۔۔
غصہ اس وقت وجاہت کو بہت آیا مگر وہ خاموش رہا کیونکہ اس وقت نیلم اور حور ساتھ میں تھے۔۔
مگر غصہ تو نکالنا تھا پھر بھی۔۔
پھر کیا ہوا جو بھی چیز وجاہت کو سمجھ آئی وہ لیتا ہی گیا
اس میں سینڈلز ڈریسز اور جیولری کاسمیٹکس سب شامل تھا ۔۔
نیلم کی تو ہنسی ہی نہیں بند ہورہی تھی جبکہ ہانیہ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔۔
مانا وجاہت اسے پسند کرنے لگا تھا مگر وہ کانٹریکٹ وہ تو ابھی تک صحیح سلامت تھا ۔۔
اور اس کے مطابق آج بھی ہانیہ کو وجاہت پر یا اسکی کسی بھی چیز پر کوئی حق نہیں تھا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کیلئے جو اچھا لگا وہ سب لیا پھر اپنے اور باقی گھر والوں کیلئے بھی اسنے کچھ نہ کچھ ضرور لیا۔۔
اب وہ لوگ ریسٹورنٹ میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے۔۔
جب وجاہت ہانیہ حور اور نیلم کو پک کرنے آیا تھا تب اسکا موڈ کافی اچھا تھا۔۔
مگر اب تو چہرے پر صاف صاف نو لفٹ کا بورڈ لگا ہوا تھا
ایک بار پھر ہانیہ کو وہ پہلے والا وجاہت لگا جو اسے ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا۔۔
ہانیہ نے اسٹیک کے چند ہی نوالے زبردستی کھائے کیونکہ کوئی بیر نہ تھا وجاہت اسکے نہ کھانے پر بھی غصہ کر سکتا تھا۔۔
کھانے کے دوران ہی وجاہت نے کسی کو کال کی تھی جس سے اس نے کچھ منٹ بات کی تھوڑی دور جاکر ۔۔
واپسی پر بھی وجاہت ایک دم خاموش ہی تھا
گھر کے پارکنگ ایریا پہنچ کر وجاہت نے نیلم سے کہا کہ وہ حور کو لے جائے ہانیہ اور میں رات تک آئیں گے۔۔
نیلم بھی فوراً ٹھیک ہے کہہ کر ہانیہ سے حور کو لے چلی گئی۔۔
ملازموں نے گاڑی سے سارا سامان بھی لے لیا اور ایک ملازم نے وجاہت کو ایک پیکٹ پکڑایا جسے لیتے ہی وجاہت نے گاڑی ریورس کر کے ایک بار پھر روڑ پر دوڑا دی۔۔
ہانیہ نے تمام کاروائیاں خاموشی سے دیکھی بولنے کی تو جیسے اس میں ہمت ہی نہیں ہورہی تھی۔۔
نہ جانے وجاہت اسے لے کر کہاں جا رہا تھا۔۔
کافی دیر تک ہانیہ چپ ہی رہی مگر جب اس سے صبر نہ ہوا تو پوچھ ہی لیا۔۔
ہم کہاں جارہے ہیں۔۔
تھوڑا ڈرتے ہوئے ہانیہ نے یہ الفاظ ادا کئے۔۔
دیٹس نن اف یور بزنس۔۔
صاف دو ٹوک لہجے میں کہا گیا۔۔
اس جواب کے بعد ہانیہ نے اور کیا کہنا تھا خاموش رہی
مسٹر اکڑو تو آج کچھ زیادہ ہی اکڑے ہوئے تھے۔۔
سمندر کنارے وجاہت نے گاڑی روکی تو ہانیہ کو بھی اترنے کا کہا۔۔
اتنا حسین منظر دیکھ کے ہانیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔
وہ کئی بار اپنی فیملی کے ساتھ بیچ جا چکی تھی
کراچی میں ویسے تو بہت سے بیچز ہیں جس کے الگ الگ ہی پوائنٹس ہیں مگر ہانیہ کی سوچ میں بھی نہیں تھا یہ پوائنٹ
وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ یہ کونسی جگہ ہے مگر وجاہت تو جیسے کسی بھی بات کرنے کے موڈ میں ہی نہیں تھا۔۔
خیر چھوڑو نام میں کیا رکھا ہے مسٹر اکڑو کا تو موڈ خراب ہی رہتا ہے میں کیوں اپنا موڈ خراب کروں۔۔
ہانیہ دل میں سوچتی جگہ کو دیکھ کے مسکرا دی۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو ایک نظر دیکھا مگر نظر دوبارہ پلٹ نہ سکا۔۔
معمول سے ہٹ کر آج ہانیہ نے کرتی کے بجائے آج لیمن کلر کی شیفون انارکلی فراک پہنی ہوئی تھی جو کہ بلکل سادہ تھی بغیر کسی بھی چیز سے لیس
ہانیہ کی سنہری چمکتی ہوئی رنگت پر لیمن رنگ ایک الگ ہی تازگی بخش رہا تھا ۔۔
اوپر سے وہ ایک جگہ کو آنکھیں پھاڑے لبوں پر گہری مسکراہٹ لئے آس پاس دیکھ رہی تھی ۔۔
بچوں جیسی معصومیت دیکھ کے وجاہت کا غصہ سمندر کی ٹھنڈی ہوا میں کہیں گم ہوگیا۔۔
وہ جانتا تھا ہانیہ کو سمندر اور نیچر بہت پسند ہیں
اسکے کمرے میں ایک پینٹنگ تھی جس میں سمندر کا کنارہ بنا ہوا تھا اور سورج گروب ہورہا تھا ۔۔
وہ پینٹنگ ہانیہ خود ہی لے کر آئی تھی شادی کے بعد۔۔
ہانیہ اب آنکھیں بند کئے ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کر رہی تھی دوسری طرف وجاہت بس اپنی مسز اکڑو کو دیکھنے کا شغل فرما رہے تھے۔۔
ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ وجاہت نے ہانیہ کا ہاتھ تھام کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔
وجاہت کے چہرے پر مسکان دیکھ ہانیہ نے بھی سکون کا سانس لیا۔۔
شکر ہے اپکا موڈ تو اچھا ہوا مجھے لگا آج تو میں گئی کام سے۔۔
ہانیہ نے وجاہت کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
تم کام ہی ایسے کرتی ہو کہ بندہ غصہ نہ کرے تو کیا کرے۔۔
وجاہت اب دھیمے لہجے میں بولا۔۔
میں نے کیا کیا بھلا۔۔
تم نے مجھے روکا تھا شاپنگ سینٹر میں تمہارے لئے کچھ بھی لینے سے۔۔
تو آپ کونسا رک گئے بلکہ ڈبل ٹرپل چیزیں ہی لے لی ہوگیں۔۔
وجاہت کا لائٹ موڈ دیکھ کے ہانیہ نے اپنی بھڑاس نکالنی چاہی۔۔
ایک بات بتائیں آپ نے کچھ کپڑے مجھے ایسے لے کر دئیے ہیں جو کہ مجھے یقین ہے کہ پہننے تو دینگے نہیں
ہانیہ نے وجاہت کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
کونسے کپڑے۔۔ میں نے تو تمہیں کوئی بھی ایسے کپڑے نہیں دلائے جسے پہننے سے میں منع کرونگا۔۔
وجاہت نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا۔۔
اچھا آپ نے مجھے 4 پنک کلر کے ڈریس دلائے ہیں جہاں تک مجھے یاد ہے پنک کلر اپ کو مجھ پر بلکل نہیں پسند ۔۔
دوسرا آپنے فارمل ڈریسز میں مجھے 3 ساڑھیاں دلائی جبکہ آپنے ہی میرے ساڑھی پہننے پر اتنا غصہ کیا تھا۔۔
اتنا سارا کاسمیٹکس کا سامان لے لیا جبکہ زرا سی ڈارک لپ اسٹک لگا لوں تو آپ فوراً اسے لائٹ کروا دیتے ہو اور دھمکی بھی کیا دیتے ہو کہ۔۔
ہانیہ تیزی سے بولتے بولتے ایک دم خاموش ہوگئی۔۔
کہ۔۔ کیا۔۔ وجاہت نے ہانیہ کا سرخ پڑتا چہرا دیکھ کے اسے چھیڑا۔۔
کے بہت ڈانٹوں گا۔۔
ہانیہ کے جو منہ میں آیا وہ بول گئی۔۔
نہیں نہیں۔۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔۔
بولتے ہوئے وجاہت کے چہرے پر بڑی شریر مسکراہٹ تھی جسے دیکھ ہانیہ یہاں سے فرار ہونے کا سوچنے لگی۔۔
میں نے کیا کہا تھا وہ مجھے یاد ہے ایم شور تمہیں بھی یاد ہی ہوگا ویسے مجھے آج بھی تمہاری لپ اسٹک تھوڑی گہری لگ رہی ہے ۔۔
وجاہت شرارت سے بول ہی رہا تھا کہ ہانیہ نے محسوس کیا وجاہت کی گرفت اسکے ہاتھ پر بہت نرم تھی
فوراً سے اپنا ہاتھ چھڑا کر وہ بھاگی پانی کی طرف ۔۔
ہانیہ بھاگ کر تھوڑی دور گئی اور دور جاکر اسنے مڑ کر وجاہت کو دیکھا جو وہیں حیرت سے کھڑا تھا دور سے ہی ہانیہ نے اسے منہ چڑایا
تو وجاہت بھی اسکے پیچھے بھاگا۔۔
ہانیہ کتنا ہی تیز بھاگ لیتی وجاہت کا مقابلہ کیسے کرتی۔۔
آخر کار وجاہت نے اسے پکڑ لی لیا اور بہت خوبصورت چھوٹی سی سزا بھی دی۔۔













نیلم بیٹا کیا پورا مال ہی خرید لیا تم لوگوں نے۔۔
دادو اور عالیہ بیگم ہال میں بیٹھے کسی بات میں مصروف دکھائی دے رہے تھے جبکہ ہادی بھی تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے اکر ہال میں بیٹھا دادو اور عالیہ بیگم کے ساتھ بحث کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔۔
نیلم اسے دیکھ جہاں تھی وہی جم گئی۔۔
مگر جیسے ہی عالیہ بیگم پر اسکی نظر گئی اور پھر ملازموں کے ہاتھوں میں اتنا سامان دیکھ کے وہ پوچھنے لگی۔۔
حور نیلم کی گود میں مچلنے لگی ہادی کو دیکھ کے تو نیلم نے چونک کر حور کو دیکھا پھر اسے نیچے اتار دیا وہ گھٹنے چلتے ہوئے ہادی کی طرف بھاگی۔۔
اس میں آدھے سے بھی کہیں زیادہ سامان ہانی بھابھی کا ہے مما۔۔
نیلم عالیہ بیگم کو بتاتے ہوئے سب کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔
وہ بہت تھک گئی تھی سیدھے اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی مگر ہادی کو دیکھ کے وہ وہیں رک گئی۔۔
ہیں۔۔ کیا واقعی تم سچ کہہ رہی ہو ہانی نے یہ سب لیا۔۔
دادو حیرت سے نیلم سے پوچھنے لگی۔۔
بھابھی نے نہیں برو نے لیا ہے یہ سب سامان بھابھی کیلئے۔۔
نیلم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
یہ انقلاب کیسے آگیا وجی میں۔۔
ہادی نے حور کو گود میں لے کر حیرت سے سوال کیا۔۔
میں اور برو بھابھی کیلئے ایک بہت ہی ایکسپینسو برانڈ کا ڈریس دیکھ رہے تھے۔۔
بھابھی نے وہ لینے سے منع کردیا بس پھر کیا تھا برو کو غصہ آیا پھر جو انہیں اچھا لگا وہ لیتے ہی گئے ساتھ میں میرا اور حور کا بھی بھلا ہوگیا۔۔
نیلم ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے بولی۔۔
جبکہ باقی گھر والے بھی وجاہت کا ہانیہ کی پرواہ کرنا اچھا لگا ۔
ہادی بھی مسکرا ہی رہا تھا بس۔۔ اگر وہ ہانیہ کے بارے میں اتنا نہ سوچ رہا ہوتا تو اس وقت وہ بہت زیادہ چہک رہا ہوتا اور وجاہت کو خوب چھیڑتا۔۔
ویسے امی وجاہت کتنا بدل رہا ہے نہ مسکرانے لگا ہے سب سے خوش ہو کے بات کرنے لگا ہے۔۔
سب سے بڑھ کر اب وہ ہانی سے بات بھی کرتا ہے اسکے ساتھ کھانا کھاتا ہے اور دیکھو اسکے لئے اتنی ساری شاپنگ کی ساتھ لے کر بھی جارہا ہے پیرس۔۔
امی یہ خواب ہی ہے نہ۔۔
عالیہ بیگم خوشی سے اپنی ساس سے سوال کرنے لگیں۔۔
ماشاءاللہ کہو عالیہ تمہارا بیٹا سدھر رہا ہے۔۔
یہ سب ہانی کی وجہ سے ہی ہورہا ہے میں جانتی تھی کہ شادی کے بعد وہ زندگی کی طرف پھر سے لوٹ آئے گا
وقت لگے گا جو کہ لگا بھی مگر وہ پھر سے خوش رہنا سیکھ گیا۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ امی اور ان سب میں ہانیہ نے بہت صبر سے کام لیا۔۔
عالیہ بیگم دل میں ہانیہ کو دعا دیتی ہوئی بولی ۔
عالیہ نکاح کے بول میں بہت طاقت ہوتی ہے دو لوگ جو ایک دوسرے سے انجان ہوتے ہیں انہیں اپنا بنا دیتی ہے۔۔
دادو نے خوشی سے کہا۔۔
نیلم اور ہادی خاموشی سے بس عالیہ بیگم اور دادو کی بات سن رہے تھے۔۔













وجاہت ہانیہ کو لئے وہیں بیچ پر ایک کاٹیج نما خوبصورت سے گھر میں لے آیا
وہاں ٹیرس سے سمندر کا بہت خوبصورت نظارہ دکھائی دے رہا تھا ہانیہ کا دل ہی نہیں چارہا تھا وہاں سے کہیں بھی جانے کا جبکہ وجاہت ٹیرس پر رکھی ہوئی چئیر پر بیٹھا ہانیہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔
یہ کتنی پیاری جگہ ہے نہ۔۔
ہانیہ نے وجاہت سے سوال کیا۔۔
ہمم۔۔ بہت میں جب جب ڈسٹرب ہوتا ہوں یہیں آجاتا ہوں۔۔
یہاں آکر اچھا لگتا ہے۔۔
وجاہت ہانیہ کو نظروں میں لے کر کہنے لگا۔۔
بیٹھو بات کرنی ہے مجھے کچھ ۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو چئیر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
ہانیہ وجاہت کے سامنے رکھی چئیر پر بیٹھ گئی۔۔
وجاہت نے تھوڑا اگے کو جھک کے ہانیہ کا ہاتھ تھاما اور گہرا سانس لے کر بولنے لگا ۔
مجھے تم پر گلابی رنگ حد سے زیادہ پسند ہے وہ رنگ ویسے بھی کسی کسی پر ہی جچتا ہے تم ان لوگوں میں سے ایک ہو۔۔
مگر تمہیں پہننے سے روکتا ہوں وہ بھی بس باہر پہن کر جانے سے گھر میں کبھی نہیں ٹوکتا۔۔
سوچو مجھے اتنا پسند ہے تو اور لوگوں کو بھی پسند آسکتا ہے
اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو پائے گا کہ کوئی تمہیں دیکھے بھی نظر اٹھا کے۔۔
رہی بات ساڑھی کی تو وہ بھی مجھے بہت زیادہ پسند ائی تھی من ہی نہیں کر رہا تھا کہ تم پر سے نظریں ہٹانے کا
مگر جیسے ہی یہ خیال دل کیں آیا کہ اتنے لوگ ہیں پارٹی میں وہ لوگ بھی تو تمہیں دیکھیں گے
اسی لئے تم سے کہا کہ چینج کرو جا کے اور وہ ساڑھیاں بھی ہماری پرائیویٹ پارٹیز اور سپیشل دن ہی پہنو گی وہ تو بس تین ہی ہیں اگر اور اچھی لگتی تو اور لیتا۔۔
جانتی ہو نور بھی فارمل ڈریسز میں سب سے زیادہ ساڑھیاں ہی پہنتی تھی مگر ہمیشہ سلیولیس اور ڈیپ نیک کے ساتھ پہنتی تھی جسکا بیک کبھی کبھی نیٹ کا ہوتا تھا۔۔
گھر والے اس کے پہناوے پر اعتراض کرتے تھے مگر میں نے کبھی بھی اسے کچھ نہیں کہا
لوگ اسکی تعریف کرتے تھے مگر مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔۔
ہم دونوں نے ہی ایک دوسرے کو اسکی اسپیس دی ہوئی تھی ہم دوست تھے اور شاید ہمیشہ دوست ہی رہے کیونکہ اگر ہمارے بیچ محبت ہوتی تو مجھے بھی اس پر کئی اعتراضات ہوتے۔۔
ایسا نہیں ہے کہ میں ٹیپیکل سوچ کا بندہ ہوں جو سات پردوں میں اپنی بیوی کو چھپا کر رکھے۔۔
مگر بس جب یہ خیال دل میں آتا ہے کہ جیسے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اگر کسی اور نے دیکھا تو مجھے کیسا لگے گا۔۔
اور اسی سوچ کے آتے ہی مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ ہاں یہ رشتہ بھلے ہی کاغزی ہو مگر میرے لئے اہم ہے اور بہت زیادہ اہم ہے۔۔
تم پر روک ٹوک نہیں کرنا چاہتا میں اور نہ ہی میں ایسا بندہ ہوں مگر پارٹی میں ایک آدمی کو تمہارے بارے میں بولتے سنا اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اسے سبق سکھانا پڑا۔۔
ہانیہ جو دم سادھے وجاہت کی بات سن رہی تھی اس کی آخری بات پر چونک گئی۔۔
کیسا سبق۔۔؟؟
ہانیہ کے سوال پر صرف وجاہت مسکرا دیا ۔۔
کچھ نہیں چھوڑو کیا کروگی جان کر۔۔
میری بات مکمل ہونے دو۔۔
وجاہت نے اسے سہولت سے منع کیا اور آگے بولنے لگا۔۔
مجھے یہ لگنے لگا تھا کہ واقعی اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں دل سے ایک دوسرے کو قبول کریں
میں چاہتا ہوں تم مجھ پر بھروسہ کرو جیسے میں تم پر کرتا ہوں ۔۔
اور مجھے لگا بھی تھا کہ تم مجھے نا پسند نہیں کرتی کیونکہ جب جب میں تمہارے قریب آیا تمہارے چہرے پر انجانی سی خوشی ہی دیکھی میں نے
مگر آج جو تم نے مال میں کیا وہ بہت غلط تھا
میں نے کہا بھی تھا کہ مجھے کبھی کسی چیز سے منع مت کرنا ورنہ سزا دونگا۔۔
اب ٹریلر تو تم دیکھ ہی چکی ہو سزا کا آئیندہ ہوشیار رہنا ورنہ مجھے ایسی سزائیں دینا بہت اچھا لگتا ہے۔۔
سنجیدگی سے بات کرتے کرتے وجاہت نے ایک دم سے شرارتی انداز اپنایا۔۔
جسے دیکھ ہانیہ نظریں جھکا گئی۔۔
وجاہت نے اسکا ایک ہاتھ چھوڑ کے سائڈ پر رکھی ٹیبل پر ایک پیکٹ اٹھایا اس میں سے کچھ پیپرز نکالے اور ہانیہ کو تھما دیئے۔۔
پیپرز دیکھ کے ہانیہ کے ہاتھ کانپ گئے۔۔
کیونکہ وہ انکی شادی کے کانٹریکٹ کے پیپرز تھے۔۔
یہ ہی دیوار ہیں نہ ہمارے بیچ ۔۔
میں نے ہی تمہیں یہ پیپرز سائن کرنے کیلئے دیئے تھے اب میں ہی کہہ رہا ہوں کہ انہیں پھاڑ کے پھینک دو۔۔
ویسے میں نے یہ کام پیرس میں کرنے کا سوچا تھا جب ہم اپنی نئی زندگی شروع کرتے مگر تمہاری حالت دیکھ کے لگ رہا ہے کہ یہ کام ابھی ہوجانا چاہیئے۔۔
کیا پتہ تم میرے ساتھ جانے سے ہی منع کردو۔۔
ہانیہ کی نظریں پیپرز پر ہی تھی آنسو لگاتار اسکے چہرے کو بھگو رہے تھے مگر وہ کوئی حرکت نہیں کر رہی تھی۔۔
وجاہت سمجھ گیا کہ وہ یہ نہیں کر پائے گی اسی لئے اسنے وہ پیپرز ہانیہ کے ہاتھوں سے لئے اور اسے پھاڑ کر ہوا میں پھینک دیئے۔۔
