Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 07,08)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 07,08)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
وجاہت اپنے کمرے میں لیٹا آج کے دن کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔
اور گھوم پھر کے اسکی سوچ کا مرکز ہانیہ ہی ہوتی۔۔
میں بھلا کیوں اس لڑکی کے بارے میں اتنا سوچ رہا ہوں مجھے کیا اسے برا لگے بھلا لگے ۔۔
میں بلا سے وہ کھانا کھائے یا بھوکی رہے۔۔
وجاہت کو ہانیہ کا بھوکی رہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا اسی نے اسے اتنی باتیں سنائی تھی اور اب اسی کیلئے پریشان بھی ہورہا تھا
مگر یہ مان نہیں رہا تھا۔۔
اگر وہ بیمار پڑگئی تو میری بیٹی کا خیال کون رکھے گا۔۔
وجاہت نے اپنی سوچوں کو ایک نیا رخ دیا۔۔
وجاہت نے کچھ سوچ کے اپنا لیپ ٹاپ کھولا وہ اب ہانیہ پر نظر رکھنا نہیں چاہتا تھا مگر رہ بھی نہیں پارہا تھا
یہ جاننے کیلئے کہ وہ اس وقت کیا کر رہی ہوگی۔۔
جیسے ہی اس نے ویڈیو ان کی دیکھا ہانیہ کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔۔
وجاہت نے بھی بیڈ کراؤن سے ٹیگ لگا کر اپنی نظریں لیپ ٹاپ پر ہی رکھیں۔۔
ہانیہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پی رہی تھی۔۔
شاید اسے اب بھوک لگ رہی ہوگی۔۔
یا وجاہت کو ایسا لگا مگر اسے یوں تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پیتا دیکھ وجاہت تھوڑا جھنجلانے لگا۔۔
بے وقوف لڑکی جب بھوک لگتی ہے تو پانی نہیں پیتے اتنا کھانا کھاتے ہیں۔۔
وجاہت چڑ کر ہانیہ سے مخاطب تھا جو اسے لیپ ٹاپ کی اسکرین میں نظر آرہی تھی۔۔
پھر غصہ میں وجاہت نے اپنا لیپ ٹاپ بند کردیا۔۔
اپنی لمٹ میں رہو۔۔
جیسے ہی وجاہت نے لیٹ کر آنکھیں بند کیں اسکے کانوں میں یہ الفاظ گونجے۔۔
میں نے یہ ہانیہ سے کہا مگر یہ نہیں کہا کہ لمٹ کس بارے میں اس آدھی ادھوری بات کے وہ کئی معنی نکال سکتی ہے۔۔
یہ سوچ کہ وجاہت ایک بار پھر اٹھ کے بیٹھ گیا اور اب اسکا رخ ہانیہ اور حور کے کمرے کی طرف تھا۔۔













ہانیہ کا یہ معمول تھا کہ وہ رات میں کتاب پڑھا کرتی تھی کیونکہ حور تھوڑی تھوڑی دیر بعد جاگتی تھی ۔۔
ہانیہ اگر کچی نیند سے اٹھے تو اسکا سر بہت دکھتا تھا اسی لئے اسنے راتوں کو سونا ہی چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
ہانیہ کی طبیعت دیکھ کے عالیہ بیگم نے فجر کے بعد حور کو اپنے ساتھ لے جانا شروع کردیا تاکہ ہانیہ 5 سے 6 گھنٹے سو سکے ۔۔
ابھی بھی وہ کتاب پڑھ رہی تھی مگر بھوک کی شدت سے اسکا برا حال ہورہا تھا۔۔
اس وقت وہ کچن میں جانا نہیں چاہتی تھی مگر بھوک سے اسکا برا حال ہورہا تھا ۔۔
دن بھر میں بھی اسنے کچھ نہیں کھایا تھا مگر وجاہت کی باتوں سے اسنے غصے میں کچھ نہیں کھایا۔۔
اور اب رات کاٹنی اسے بہت مشکل لگ رہی تھی سہ بار بار پانی پی رہی تھی کہ شاید پانی پینے سے بھوک کی شدت تھوڑی کم ہوسکے۔۔
مگر ناکام ہی رہی۔۔
اتنے میں ہی کسی نے دروازہ ناک کیا۔۔
ہانیہ نے پہلے گھڑی میں ٹائم دیکھا رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔۔
ہانیہ نے دروازہ کھولا تو دروازے پر وجاہت کو کھڑا دیکھ چونک گئی۔۔












وجاہت کا رخ ہانیہ کے کمرے کی طرف تھا مگر وہ جاتے جاتے رک گیا۔۔
میں وہان جا کر کہونگا کیا۔۔
وجاہت نے کچھ پل سوچا پھر اپنا رخ کچن کی طرف کیا۔۔
کچن میں جا کر کھانا مائیکرو ویو میں گرم کیا اور چل دیا ہانیہ کے کمرے کی طرف دروازہ ہلکے سے ناک کیا کیونکہ حور سورہی تھی۔۔
جیسے ہی ہانیہ کے دروازہ کھولا وہ وجاہت کو اس وقت وہاں دیکھ حیرت زدہ ہوگئی۔۔
وجاہت کو اسے یوں حیرت زدہ دیکھ تھوڑی جھجھک محسوس ہوئی۔۔
تم سے کچھ بات کرنی ہے حور کے حوالے سے ۔۔
وجاہت نے دھیمی آواز میں کہا کیونکہ وہ حور کو جگانا نہیں چاہتا تھا۔۔
ہانیہ نے وجاہت کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے دیکھی۔۔
ہاں وہ مجھے بھوک لگ رہی تھی تو سوچا کچھ کھاتے ہوئے ہی حور کے بارے میں بات کرلونگا
ہانیہ نے وجاہت کو عجیب نظروں سے دیکھا کیونکہ وجاہت بہت سوچ سوچ کے بول رہا تھا۔۔
اور وجاہت کو بھی ہانیہ کا گھورنا برا لگا۔۔
اب راستہ دوگی یہ میری بیٹی کا کمرا بھی ہے۔۔
وجاہت نے دھیمی آواز سے کہا۔۔
ہانیہ نے فوراً ہی وجاہت کو راستہ دیا۔۔
وجاہت کمرے میں جاکر صوفے پر بیٹھ گیا اور کھانا ٹیبل پر رکھا۔۔
وہ میری ایک عادت ہے۔۔
ہانیہ بیڈ پر بلکل وجاہت کے سامنے بیٹھی تھی۔۔
کیسی عادت ؟
ہانیہ نے وجاہت کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
میں کبھی اکیلے کھانا نہیں کھاتا؟؟
وجاہت نے بے تکا سا بہانا بنایا۔۔
تو اس وقت اپ کے ساتھ کون کھانا کھائے گا۔۔
ہانیہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا اور وجاہت کا دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے۔۔
تم آکر میرے ساتھ کھانا کھاؤ پھر مجھے حور کے بارے میں کافی بات کرنی ہے۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔
ہانیہ نے تھوڑے نروٹھے پن سے کہا۔۔
بے وقوف لڑکی بھوک لگی ہے مگر اکڑ ہے کہ کم ہی نہیں ہورہی ۔
وجاہت نے ہانیہ کو گھور کے دل میں کہا۔۔
بھوک ہو یا نہیں یہاں آکر بیٹھو۔۔
اب کی بار وجاہت نے غصے سے کہا۔۔
ہانیہ احسان کرنے کے سے انداز میں وجاہت کے پاس بیٹھ گئی۔۔
وجاہت نے تو کم ہی کھایا البتہ ہانیہ نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا صبح سے بھوکی جو تھی۔۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وجاہت نے حور کے بارے میں ہانیہ سے سوالات کئے تو ہانیہ نے اسے حور کے بارے میں بتانا شروع کیا۔۔
اس کی ضروریات
اس کی پسند
اس کی دن بھر کی مصروفیات۔۔
اور بہت کچھ
وجاہت خاموشی سے سن بھی رہا تھا اور حیرت زدہ بھی تھا کہ ہانیہ اتنا سب کچھ مینیج کیسے کر لیتی ہے۔۔
ابھی ہانیہ اسے اور بھی بہت کچھ بتاتی اتنے میں حور کی رونے کی آواز آئی تو ہانیہ اور وجاہت دونوں ہی حور کی طرف بڑھے۔۔
ہانیہ نے اسے گود میں لیا اور کندھے سے لگا لیا۔۔
وجاہت بھی حور کی پیٹھ اپنے ہاتھ سے تھپک رہا تھا
حور مسلسل رورہی تھی اور ہانیہ اور وجاہت دونوں ہی اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
وجاہت اور ہانیہ کو احساس ہی نہ ہوا کہ وجاہت نے حور کو چپ کروانے کیلئے ایک ہاتھ سے اسے تھپک رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ ہانیہ کو اپنے بازوؤں میں تھاما ہوا تھا۔۔
جب وجاہت کے کلون کی خوشبو ہانیہ کو محسوس ہوئی تو وہ ایک دم ہی دو قدم پیچھے ہوئی۔۔
چونکہ وجاہت کی گرفت بہت ڈھیلی تھی اسی لئے ہانیہ آسانی سے اسکی گرفت سے آزاد ہوگئی۔۔
وجاہت کو جیسے ہی احساس ہوا وہ خود بھی دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔۔
ہانیہ نے حور کو گود میں لئے لئے ہی اسکا فیڈر ریڈی کیا پھر حور جیسے ہی تھوڑا خاموش ہوئی ہانیہ نے اسے لٹا کے اسے فیڈر پلانے لگی۔۔
فیڈر پورا ختم بھی نہ ہوا تھا کہ حور دوبارہ سو چکی تھی۔۔
یہ رات میں کتنی بار ایسے جاگتی ہے۔۔
حور کے سوجانے کے بعد وجاہت نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔
یہی کوئی 3 سے چار بار کبھی کبھی ہر گھنٹے بعد اسی لئے میں رات کو سوتی ہی نہیں کہ کبھی حور اٹھ گئی اور میں سوتی رہی تو اسے سنبھالے گا کون۔۔
ٹھیک ہے حور کو کب کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے مجھے بتاؤ تم کل چلی جاؤگی تو میں خود اسے سنبھال لونگا۔۔
وجاہت نے صوفے سے ٹیک لگا کے آرام دہ انداز میں بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
وجاہت کو اب نیند آرہی تھی رات کے 4 بجنے والے تھے۔۔
ہانیہ کا یہ معمول تھا تو وہ با آسانی جاگ رہی تھی ہانیہ نے رخ موڑ کے نظریں حور کی طرف کرکے وجاہت کو اس کی ہر چیز کے بارے میں بتانے لگی۔۔
تھوڑی دیر بعد ہانیہ کو اندازہ ہوا کہ وجاہت کی کوئی آواز نہیں آرہی۔۔
جب ہانیہ نے وجاہت کو دیکھا تو وہ سو چکا تھا۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو جگانے کی ناکام سی کوشش کی اسے آواز دے کر۔۔
مگر وجاہت ٹس سے مس بھی نہ ہوا۔۔
وجاہت کو جگانا تو تھا کیونکہ فجر کے وقت عالیہ بیگم حور کو لینے آتی تھیں۔۔
اگر مما آگئی تو کیا سوچیں گی کہ یہ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔
ہانیہ اسی سوچ میں تھی۔۔
وجاہت اسے بے وقوف لڑکی ٹھیک ہی کہتا تھا بھلا عالیہ بیگم وجاہت کو وہاں دیکھ کیوں کچھ سوچتی وہ ہانیہ کا شوہر تھا اور حود کا باپ وہ وہاں آسکتا تھا۔۔
ہانیہ نے کھانے کی ٹرے سائڈ کر کے ٹیبل پر ہی بیٹھی اور یہ سوچنے لگی کہ اسے جگائے کیسے۔۔
سوتے ہوئے وجاہت کے چہرے پر بچوں جیسی معصومیت ہانیہ کو محسوس ہوئی ۔۔
اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وجاہت کو دیکھتے ہوئے کب اسکے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔
دل نے ایک عجیب خواہش کی ۔۔
کہ وجاہت کا چہرا چھو کر دیکھے ۔۔
مگر ہانیہ نے اپنے دل کو ڈپٹ دیا۔۔
ممکن تھا کہ ہانیہ کے چھونے پر وجاہت جاگ جائے۔۔
ہانیہ اسے ایسے ہی تکے جارہی تھی۔۔
کسی کی نظروں کی تپش خود پر محسوس کرکے وجاہت نے ایک دم سے آنکھیں کھولیں۔۔
اور ہانیہ کو خود کو تکتا ہوا دیکھ وجاہت چونگ گیا۔۔
جبکہ ایک دم سے وجاہت کو جاگتا دیکھ ہانیہ تھوڑا گھبرا گئی۔۔
وہ آپ سوگئے میں نے آپ کو آواز بھی دی مگر آپ جاگے نہیں ۔
ہانیہ گھبراتے ہوئے بولنے لگی۔۔
میں یہی سوچ رہی تھی کہ آپ کو جگاؤں کیسے مگر آپ خود جاگ گئے۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے جواب میں کچھ نہ بولا۔۔
وہ فجر ہونے والی ہے مما آتی ہونگی آپ اپنے کمرے میں چلے جائیں۔۔
آپ کو یہاں دیکھ کے مما پتہ نہیں کیا سوچیں۔۔
کیا کہا تم نے مام مجھے یہاں دیکھ کیا سوچیں گی۔۔
وجاہت نے ہانیہ کی بے تکی بات سن کے کہا ۔۔
وہ۔۔ وہ۔۔ وہ
ہانیہ وہ وہ کرتا دیکھ وجاہت نے اپنا چہرا ہانیہ کے چہرے کےقریب کیا۔۔
ہمارے بیچ جو رشتہ ہے دنیا کیلئے اسے مدے نظر رکھتے ہوئے کوئی کچھ نہیں سوچے گا۔۔
ہانیہ کی تو وجاہت کی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرکے ہی آنکھیں پٹھی کی پٹھی رہ گئی۔۔
جبکہ وجاہت اسکے حیران پریشان سے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔
ایک خواہش وجاہت کے دل نے بھی کی مگر وہ اسے ڈپٹتا ہانیہ سے دور ہوا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔
ہانیہ اسے بس جاتا دیکھتی رہ گئی۔۔۔












اگلے دن ہانیہ سب سے مل کر وجاہت کے ساتھ سعید صاحب کے گھر روانہ ہوئی۔۔
اسکا بلکل دن نہیں کر رہا تھا حور کو چھوڑ کے جانے کا اس نے دادو کو منع بھی کر دیا تھا کہ وہ کہیں نہیں جائے گی۔۔
مگر دادو نے اسے زبردستی بھیجا بغیر کوئی وجہ بتائے۔۔
وجاہت اور ہانیہ گاڑی میں سوار تھے۔۔
ہانیہ سیٹ سے ٹیگ لگائے شیشے کے پار دیکھ رہی تھی اور وجاہت گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔۔
دونوں بلکل خاموش تھے۔۔
مگر ہانیہ کو رہ رہ کر حور کا خیال آرہا تھا۔۔
اگر حور اپ کو تنگ کرے گی تو آپ اسے مجھ سے ملوانے لائیں گے نہ۔۔
ہانیہ نے دھیمی آواز میں کہا۔۔
میری بیٹی مجھے تنگ کرے گی تو اسے میں خود سنبھال لونگا۔۔
وجاہت نے ایک نظر ہانیہ پر ڈال کر جواب دیا۔۔
ہانیہ افسردہ سی تھی وجاہت نے یہ بات محسوس کی۔۔
میری بیٹی کو تم نے مجھ سے دور کیا اب تمہیں بھی احساس ہوگا کہ کیسا لگتا ہے جب کوئی اپنا آپ کو اگنور کرے ۔۔
کل حور کا وجاہت کی گود میں رونا اور بار بار ہانیہ کی طرف بڑھنا وجاہت کو بہت برا لگا تھا۔۔
بس اسی غصے میں اس نے ہانیہ کو اتنی باتیں بھی سنا دیں جو کہ اسے بری بھی نہ لگی تھیں۔۔
بلکہ وجاہت کو تو ایسے لوگ پسند تھے جو دوسروں کو خاموش کروانا جانتے ہوں۔۔
اور ایسے لوگ وجاہت سے کم ہی ٹکراتے تھے۔۔
گاڑی سعید صاحب کے گھر کے باہر رکی۔۔
ہانیہ گاڑی سے اتری تو ساتھ ہی وجاہت بھی گاڑی سے اتر گیا۔۔
دادو اور شان صاحب نے اسے بہت سی ہدایات دے کر بھیجا تھا جس پر اسے اب عمل کرنا تھا۔۔
ہانیہ نے بیل بجائی تو دروازہ سعید صاحب نے کھولا۔۔
اپنے بابا کو دیکھ کے ہی ہانیہ کی آنکھوں میں نمی تیر گئی ۔۔
وہ جب بھی اپنے گھر آتی تھی شادی کے بعد اپنے بابا سے مل کر اسکی آنکھوں میں نمی آجاتی تھی۔۔
وجاہت نے سعید صاحب کو سلام کیا تو سعید صاحب نے خوشدلی سے وجاہت کے سلام کا جواب دیا اور دنوں کو لئے گھر میں اندر گئے۔۔
سبھی کو وجاہت کا آنا بہت اچھا لگا۔۔
فاخر جاب پر تھا اسی لئے اسکی ملاقات وجاہت سے نہ ہوسکی۔۔
فاطمہ نے اپنے داماد کی خوب خاطر داری کی۔۔۔
وجاہت سعید صاحب کی ہر بات کا جواب اچھے سے دے رہا تھا اور ہانیہ اسے چونک کر دیکھ رہی تھی
ہانیہ اسی سوچ میں تھی کہ کیا ہوجائے اگر یہ شخص مجھ سے بھی آرام سے بات کرلے۔۔
ہانیہ کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وجاہت نے ایک آئی برو اٹھا کے ہانیہ کی طرف دیکھا جیسے سوال کر رہا ہو کہ دیکھ کیوں رہی ہو۔۔
وجاہت نی نظروں کا مفہوم سمجھ کے ہانیہ نے اپنی نفی میں سر ہلا کے وہاں سے اٹھ کر ہی چلی گئی۔۔
کھانا کھانے کے بعد وجاہت نے سب سے جانے کی اجازت چاہی اور ہانیہ کے ساتھ دروازے تک گیا۔۔
جب بھی آنا ہو بتا دینا ڈرائیو آجائے گا تمہیں لینے۔۔
Episode 8
وجاہت کے جانے کے بعد ہانیہ ایک بار پھر اپنے بابا کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔۔
ہانی تم خوش ہو نہ وہاں۔۔
فاخر نے ہانیہ کا اترا ہوا چہرا دیکھ کے کہا۔۔
ایسا کیوں کہہ رہے ہیں بھائی میں تو بہت خوش ہوں۔۔
ہانیہ دل میں سوچنے لگی کہ کیوں وہ اپنی فیلینگس چھپا نہیں سکتی۔۔
اچھا خوش ہو تو یہ چہرا کیوں اترا ہوا ہے۔۔
فاخر نے جانچتی ہوئی نظروں سے ہانیہ کو دیکھا۔۔
بھئی میاں 4 ماہ بعد گھر آیا اور یہ یہاں آگئی تو اداس تو ہوگی نہ۔۔
ایشا نے ہانیہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی کہا۔۔
ایشا کی بات پر ہانیہ خجل سی ہوگئی اور فاخر نے ایشا کو آنکھیں دکھائی۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے بھابھی میں تو بس حور کیلئے پریشان ہوں۔۔
ہاں بیٹا تم حور کو لے کر کیوں نہیں آئی۔۔
فاطمہ جو کب سے سوچ رہی تھی وجاہت کے جانے کے بعد پوچھ بیٹھیں۔۔
امی مجھے دادو نے حور کو ساتھ لانے ہی نہیں دیا
وہ کہہ رہی تھیں کہ حور کو میں دن رات سنبھالتی ہوں تو مجھے بھی ایک دو دن کا بریک ملنا چاہیئے۔۔
ہانیہ نے سب کو ادھوری بات ہی بتائی وجاہت کی بات وہ کسی کوبتانا نہیں چاہتی تھی۔۔
ہانیہ کی بات سن کے سبھی مطمئن ہوگئے سبھی جانتے تھے کہ ساجدہ بیگم جان چھڑکتی تھیں ہانیہ پہ اگر انہوں نے حور کو ساتھ لے جانے سے منع کیا ہے تو کچھ سوچ کے ہی کیا ہوگا۔۔












وجاہت ہانیہ کو چھوڑ کے گھر واپس آکر سیدھے اپنے کمرے میں گیا اور بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں گر گیا۔۔
ہانیہ کے گھر وہ گیا تو شان صاحب اور دادو کے کہنے پر تھا مگر کھانا اس نے وہاں خوب ڈٹ کے کھایا تھا۔۔
ہانیہ کی امی نے سارا کھانا خود بنایا تھا اور مٹن کڑاہی تو وجاہت کو حد سے ذیادہ لزیز لگی۔۔۔
اب وجاہت کو نیند آرہی تھی تو اسنے سوچا کے ابھی تو بس دن کے 3 بجے ہیں۔
تھوڑا سولیتا ہوں آفس تو کل ہی جانا ہے۔۔
جیسے ہی وجاہت نے اپنی آنکھیں موندیں کسی نے اسکا دروازہ ناک کیا۔۔وجاہت نے کوفت سے انکھیں کھولیں اور اندر آنے کا کہا۔۔
ایک ملازمہ گود میں حور کو لئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
وہ سر بڑی بیگم صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ حور کو آپ کھانا کھلا کے سلا دیجیئے گا۔۔
وجاہت نے ایک نظر حور کو دیکھا اور ایک نظر ملازمہ کو۔۔
دادو سے کہو ابھی حور کو نیلم کو دے دیں۔۔
میں ابھی سورہا ہوں شام میں حور کو دیکھ لونگا۔۔
پر سر نیلم بی بی تو یونیورسٹی گئی ہوئی ہیں ۔۔
ملازمہ نے نیلم کے بارے میں بتایا۔۔
اچھا تو مام کہاں ہیں۔۔
وجاہت نے ایک اور سوال کیا۔۔
بیگم صاحبہ بھی اس وقت آرام کر رہی ہیں۔۔
تو گھر میں اتنے ملازم ہیں کسی سے بھی کہہ دو وہ بس دو گھنٹے حور کو سنبھال لیں۔۔
وجاہت کے ایک بار پھر لیٹتے ہوئے کہا۔۔
سر وہ بڑی بیگم صاحبہ کا حکم ہے کوئی ملازم بے بی کو نہیں سنبھالے گا۔۔
اب کی بار وجاہت نے غصے سے حور کو ملازمہ کے ہاتھ سے لے لیا۔۔
ٹھیک ہے اسے جو کھلانا ہے وہ مجھے لا کر دو میں کھلا دونگا۔۔
وجاہت نے تھوڑی سختی سے کہا۔۔
معافی چاہتی ہوں مگر ہمیں نہیں پتہ کہ بے بی کیا کھاتی ہے بہو بیگم ہی بے بی کو سنبھالتی ہیں وہ کسی کو بھی بے بی کا کام کرنے نہیں دیتی خود ہی سارا کام کرتی ہیں۔۔
وجاہت نے اب غصے سے ملازمہ کو کمرے سے بھیج دیا اور حور کو گود میں لئے بیٹھ گیا۔۔
چھوٹے بچے کیا کھاتے ہونگے۔۔
وجاہت سوچنے لگا پھر حور کو گود میں ہی لئے وہ ہانیہ کے کمرے میں گیا۔۔
وہاں اسکی نظر شیشے پر لگی چٹ پر گئی
وجاہت نے وہ چٹ پڑھی اس پر لکھا تھا کہ حور کی تمام ضروریات کے بارے میں ٹیبل پر رکھی ڈائری میں سب لکھا ہے۔۔
وجاہت وہ چٹ پڑھ کے سوچنے لگا کہ کیا وہ لڑکی جانتی تھی کہ میں اس کمرے میں آونگا۔۔
ٹیبل پر رکھی ڈائری جب وجاہت نے اٹھا کر پڑھی تو اس میں سب کچھ لکھا تھا۔۔
کب کس وقت حور کو کیا کھلانا ہے اور اسکا سامان کیا کیا ہے اور کہاں رکھا ہے اس ڈائری میں سب لکھا تھا۔۔
ڈائری میں لکھا تھا کہ 3 بجے حور کو دلیہ دینا ہے۔۔
وجاہت نے ملازمہ سے کہہ کر حور کیلئے دلیہ بنوایا اور اب اسے کھلانے لگا۔۔
مگر حور تھی کہ وجاہت کے ہاتھ سے کھا ہی نہیں رہی تھی۔۔
حور میرے بچی کچھ تو کھالو۔۔۔
وجاہت حور کو پچکارنے لگا مگر حور بھی اپنے نام کی ڈھیٹ تھی ایک نوالا بھی نہ کھایا۔۔
اپنی مما جیسی نہ بننا حور وہ بہت اکڑو اور بے وقوف ہے۔۔
وجاہت نے حور کو ضد کرتے ہوئے دیکھا تو اسے سمجھانے لگا جیسے وہ 8 ماہ کی نہیں 8 سال کی بچی ہو۔۔
دیکھو بیٹا تھوڑا کھالو پھر میں آپ کو مما کے پاس لے جاؤنگا۔۔
وجاہت کے یہ کہنے کہ دیر تھی کہ حور نے واقعی اسکی طرف بڑھائے ہوئے چمچ سے دلیہ کھالیہ۔۔
وجاہت کو یہ دیکھ بہت حیرت ہوئی کہ وہ کب سے اسے کھلانے کی کوشش کر رہا تھا مگر اب صرف اپنی مما کے پاس جانے کی بات سے ہی حور نے دلیہ کھالیا۔۔
باقی کا کھانا وجاہت نے ایسے ہی باتیں کر کے حور کو کھلا ہی دیا۔۔
آج وجاہت کو احساس ہوا کہ اس کی بیٹی کتنی باتونی ہے۔۔
جب تک وہ اس سے بات کرتا وہ خاموش رہتی جیسے ہی وہ خاموش ہوجاتا حور رونے لگ جاتی ۔۔
ساڑھے چار ہوچکے تھے اور اب وجاہت کا تھکن اور نیند سے برا حال ہوگیا تھا۔۔
اسے پچھلا ڈیڑھ گھنٹہ ڈیڑھ دن کے برابر محسوس ہورہا تھا۔۔
وجاہت حور کو اسکے کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر لٹا دیا مگر حور پھر سے اٹھ کے بیٹھ گئی
بیٹا سو جاؤ بابا کو بھی نیند آرہی ہے
وجاہت نے حور سے التجا کی مگر حور اپنے کھلونوں کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔
وجاہت نے حور کو اسکے کھلونے پکڑائے اور خود بھی بیڈ پر ہی لیٹ گیا۔۔
اسکی نظریں حور پر تھی مگر نیند اس پر حاوی ہورہی تھی تو جلد ہی اسکی آنکھیں بند ہوگئیں۔۔
ذہن پوری طرح حور کی طرف ہونے کی وجہ سے وجاہت سو نہیں پارہا تھا
مگر آنکھیں کھولنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔
وجاہت کا دل کیا کہ جب وہ آنکھیں کھولے تو وہی دو آنکھیں اور چہرا اسے نظر آئے جو کل رات کو اسنے دیکھا تھا۔۔
اپنی ہی سوچ پر وجاہت نے آنکھیں کھولیں اور ادھر ادھر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔
سر جھٹک کر اسنے سائڈ ٹیبل پر رکھی ہانیہ اور حور کی تصویر کو اٹھا لیا۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں اپنی بیٹی کو سنبھال نہیں سکتا ۔۔
تم دیکھنا جب تک تم اپنے بابا کے گھر پہ ہو حور کو میں اچھے سے سنبھالوں گا۔۔
اور جب تم واپس آوگی نہ تو حور تمہیں ویسے ہی اگنور کرے گی جیسے کل مجھے کیا تھا۔۔
وجاہت ہانیہ کی تصویر سے مخاطب تھا۔۔













ہانیہ کا حور کیلئے پریشان ہونا ایک فطری عمل تھا۔۔
دن رات وہ ہی حور کے ساتھ ہوتی تھی اسکی ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھی۔۔
اب اسے رہ رہ کے یہ خیال آرہے تھے کہ حور نے کچھ کھایا ہوگا کہ نہیں کچھ وہ کیسی ہوگی کیا کر رہی ہوگی ۔۔
یہ سوچ سوچ کہ وہ ہر آدھے گھنٹے میں کبھی دادو کو تو کبھی عالیہ بیگم کو فون کر کے حور کے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔۔۔
سامنے سے دادو اور عالیہ بیگم اسے تسلی دے رہی تھی کہ وہ وہاں آرام سے رہے حور بلکل ٹھیک ہے۔۔
مگر ہانیہ پھر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی نہ کسی کو کال کر ہی رہی تھی۔۔













امی اپنے حور کو وجاہت کو کیوں دے دیا اور ہم سب کو اور ملازموں کو منع کیوں کیا ہے حور کو لینے سے۔۔
عالیہ بیگم ساجدہ بیگم کے کمرے میں ان سے سوالات کر رہی تھی۔۔
کیوں یہ وجاہت کی ہی تو ضد تھی کہ حور ہانی کے ساتھ نہیں جائے گی وہ اسکی بیٹی ہے تو سنبھالے اپنی بیٹی کو خود ہی۔۔
ساجدہ بیگم نے آرام سے کہا۔۔
مگر امی وجاہت حور کو کیسے سنبھالے گا اسے تو بچے سنبھالنے آتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔
عالیہ بیگم نے اپنی ساس کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔
اب ذمہ داری لی ہے تو نبھائے بھی۔۔
وہ ہی تو ہانی کو حور کی ماں بنا کے لایا تھا نہ اب جب ہانی اسکی ماں ہے تو وہ اسے جہاں چاہے لے جاسکتی ہے وجاہت کون ہوتا ہے ماں بیٹی کو الگ کرنے والا۔۔
ارے یہ تو اس بچی کی محبت ہی ہے جو ہانیہ نے وجاہت عالم جیسے روکھے انسان سے شادی کی ۔۔
میں نے دیکھا تھا آج صبح کیسے ہانی حور کو بار بار دیکھ رہی تھی جاتے ہوئے اسنے تو منع بھی کیا تھا مجھے کہ وہ نہیں جانا چاہتی مگر میں نے ہی اسے زبردستی بھیجا۔۔
پتہ تو چلے وجاہت کو کہ بچے کیسے سنبھلتے ہیں۔۔
دادو کو رہ رہ کر وجاہت پر غصہ آرہا تھا۔۔
ٹھیک ہے امی میں آج حور کو نہیں لونگی وجاہت سے۔۔
عالیہ بیگم بھی اپنی ساس کی بات سے متفق تھیں اسی لئے انہوں نے بھی ساس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔












کھیلتے کھیلتے حور سوگئی تو وجاہت نے بھی سکھ کا سانس لیا۔۔
حور کو ٹھیک سے لٹا کر وجاہت اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا۔۔
مگر تھوڑی دیر بعد اسے کمرے میں بدبو سی محسوس ہوئی۔۔
وجاہت ایک بار پھر اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔
اور دیکھنے لگا کہ بدبو کہاں سے آرہی ہے اور دیکھا تو حور کے پاس سے ہی بدبو آرہی تھی ۔۔
شاید اسکی نیپی چینج کرنی تھی ۔۔
اب وجاہت ایک بار پھر سوچ میں پڑھ گیا کہ نیپی چینج کیسے کرے گھر میں کسی کو بھی بولنا بے کار تھا
وہ جانتا تھا کہ سب کو کس نے منع کیا ہے حور کو لینے سے اور دادو کا حکم کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔
تو وجاہت عالم یہ کام بھی آپ کو خود ہی کرنا ہے۔۔
وجاہت نے سر کو کھجاتے ہوئے سوچا۔۔
اپنے موبائل سے اسنے یوٹیوب پر نیپی چینج کرنے کا طریقہ دیکھا اور شروع ہوگیا۔۔
مگر جیسے ہی اسنے حور کا پیمپر کھولا اسے ابکائی سی محسوس ہوئی وہ وہاں سے اٹھ کے کمرے سے باہر آگیا اور ایک ملازمہ کو بلایا۔۔
جا کے حور کی نیپی چینج کرو وجاہت نے ملازمہ کو حکم دیا تو وہ پر پر کرنے لگی مگر وجاہت نے جب اس پہ غصہ کیا تو وہ حور کی نیپی چینج کرنے لگی وہ بھی عجیب آڑے تیڑھے منہ بنا کے۔۔
وجاہت کو ملازمہ پر بہت غصہ آیا۔۔
کہ وہ اسکی بیٹی سے منہ بنا رہی تھی۔۔
غصہ کیوں کر رہے ہو بیٹا وہ گھر کی ملازمہ ہے حور کی ماں نہیں۔۔
ساجدہ بیگم نے وجاہت سے کہا۔۔
دادو آپ یہاں کب آئی۔۔
وجاہت نے دادو کو دیکھ کے کہا۔۔
اسی وقت جب تم ملازمہ پر چلا رہے تھے۔۔
ملازمہ نیپی چینج کر کے جا چکی تھی تو دادو وجاہت کو لئے کمرے میں چلی گئیں۔۔
تم اپنی بیٹی پر حق جتانا چاہتے ہو مگر اسکے زرا سے کام میں تم اپنی بیٹی سے ہی گھبراگئے۔۔
ایسا نہیں ہے دادو مجھ سے بس بدبو برداشت نہیں ہوتی۔۔
وجاہت نے وضاحت دی۔۔
جانتے ہو ہانی یہ سب کام خود کرتی ہے اور ہم نے کبھی اس کے ماتھے پر ایک بل نہیں دیکھا
تمہیں کیا لگتا ہے اس کے پاس ناک نہیں ہے اسے بدبو نہیں آتی ہوگی کیا مگر وہ یہ سب صرف اس محبت کیلئے کرتی ہے جو ایک ماں ہی اپنی اولاد کیلئے کر سکتی ہے۔۔
دادو جو وجاہت کو سمجھانا چاہتی تھی اب وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا۔۔
دادو میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں مگر آپ نے کل دیکھا تھا نہ میری بیٹی میرے ہی پاس نہیں آرہی تھی اس لڑکی نے میری بیٹی کو مجھ سے دور کر دیا ہے۔۔
وجاہت نے اب کھل کے اپنی دادو سے بات کی۔۔
وجاہت ایک بچہ اس کے پاس ہی جاتا ہے جو اس سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔
ہانی نے حور کو تم سے دور نہیں کیا تم ہی حور سے خود دور ہوگئے۔۔
کچھ دن رکو حور تمہارے ساتھ ٹھیک ہوجائے گی بچہ کو تھوڑا وقت لگتا ہے کسی کے لمس کو اپنانے میں۔۔۔۔












رات کے 10 بج رہے تھے اب ہانیہ اپنے کمرے میں لیٹی ایک بار پھر حور کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہوگی۔۔
وہ صبح سے کئی بار گھر پر کال کر چکی تھی اور سبھی نے اسے تسلی دی تھی کہ حور ٹھیک ہے
مگر اسے حور کی بہت فکر ہورہی تھی وہ پوری رات تھوڑی تھوڑی دیر بعد جاگتی تھی پتہ نہیں وجاہت کیسے سنبھالے حور کو۔۔
ہانیہ اسی سوچ میں تھی کہ کیا کرے اتنے میں ہانیہ کا فون بجا۔۔
فون کرنے والا وجاہت تھا۔۔۔
ہانیہ کو حیرت ہوئی کہ وجاہت نے شادی کے بعد سے ہی کبھی اسے کال نہیں کی ۔۔
پھر حور کے بارے میں کوئی بات نہ ہو یہ سوچ کے ہانیہ نے کال ریسیو کرلی۔۔
اپنا سارا سامان پیک کرو میں آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں تم ابھی میرے ساتھ واپس گھر آؤ گی ۔۔
اپنے گھر پہ بتادو کوئی مجھ سے سوال نہ کرے۔۔
یہ کہہ کے وجاہت نے کال کاٹ دی بغیر ہانیہ کا جواب سنے اور ہانیہ بس اپنے فون کو دیکھے گئی۔۔
