Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 45)Part 1,2

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

مایوں خیر سے نمٹ گئی سبھی مہمان بھی اپنے اپنے گھر کو چل دئیے گھر کے بڑے بھی اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے تھے۔۔

لان میں بس اس وقت ہادی نیلم ہانیہ اور وجاہت بیٹھے تھے۔۔

حور کو عالیہ بیگم کے پاس سلا دیا تھا وجاہت نے۔۔

بھئی آج مزا بہت آیا مگر کسی نے بھی ڈانس کیوں نہیں کیا۔۔

ہانیہ نے ٹیبل پر کہنی رکھ کے اپنا چہرا اپنی ہتھیلی پر ٹکا کے کہا۔۔

تم کر لیتی ڈانس ویسے بھی ہمارے ہاں ڈانس وغیرہ نہیں ہوتا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کا تھکا ہوا چہرا دیکھ کے مذاق میں کہا۔۔

میں کونسا ویسے والا ڈانس کہہ رہی ہوں لڈیاں تو ڈالی جاسکتی تھیں نہ یا پھر لڑکیاں ڈانڈیاں ہی کھیلتی ۔۔

ہانیہ نے افسوس سے کہا۔۔ کیا ہوگیا بھابھی آپ کو تو ایسے افسوس ہورہا ہے جیسے ساری ڈانس پریکٹس کرلی ہو اور اینڈ ٹائم پر سب نے منع کردیا ہو۔۔

نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں تو بس ایسے ہی کہہ رہی ہوں۔۔ ہانیہ نے مسکرا کے نیلم سے کہا۔۔

ویسے زرا سوچو مسٹر اکڑو لڈیاں ڈالتے ہوئے کیسا لگتا۔۔ ہادی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو وجاہت اسے گھورنے لگا۔۔

تم دولہے ہو اسی لئے بخش دیا ورنہ رسموں کے دوران جو تم مجھے چڑانے والی اسمائل پاس کر رہے تھے ہر تھوڑی دیر بعد دل تو کر رہا تھا اس وقت اسٹیج سے اٹھا کر پھینک دوں میں ایسا کر بھی جاتا اگر میری گڑیا تمہارے ساتھ نہ بیٹھی ہوتی۔۔

وجاہت نے غصے سے کہا تو ہانیہ اور ہادی دونوں نے نفی میں سر ہلا دیا کہ کیا ہو جو یہ آدمی مزاق کا جواب ہنس کر دے دے مگر نہیں غصہ کرنا تو اولین فرض ہے وجاہت صاحب کا۔۔

ویسے بھابھی اور برو کا ڈانس ہوتا تو لوگ انہیں دیکھتے ہی پاگل ہوجاتے کتنے خوبصورت لگتے آپ لوگ۔۔

نیلم نے بات کا رخ چینج کیا تو وجاہت نیلم کو گھورنے لگا۔۔ تم بھی کیا کہہ رہی ہو پرنسس وجی اور ہانی کے ساتھ ڈانس کبھی نہیں سچ کہوں تو میں خود حیران ہوں کہ اس نے ہانی کو اتنے آرام سے پورے فنکشن میں گھومنے کیسے دیا۔۔

مجھے تو لگا تھا ہر پانچ منٹ بعد وجی ہانی کو کہے گا کہ گھونگھٹ کرو اس طرف نہ جاؤ اتنا مت چلو یہ کھاؤ وہ نہ کھاؤ مگر آج تو کمال ہی ہوگیا وجی خیر تو ہے نہ۔۔

ہادی نے ہنستے ہوئے وجاہت کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔

تم ضائع ہوجاؤگے مجھ سے ہادی سوچ لو ابھی نکاح نہیں ہوا میری گڑیا سے تمہارا ۔۔

وجاہت نے طنزیہ مسکرا کے کہا تو نیلم حیرت سے وجاہت کو تکنے لگی۔۔

مجھے نیند آرہی ہے وجاہت اندر چلیں ۔۔ ہنسی مذاق کا رخ سیریس باتوں کی طرف ہوتا نظر آیا تو ہانیہ نے وجاہت کو لے کر اندر جانا ہی مناسب سمجھا ۔۔ ایک تو پتہ نہیں وجاہت کو کب کس بات پر غصہ آجاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ مذاق کر رہے ہیں یا غصہ۔۔

ہاں چلو چلتے ہیں ۔۔ ہانیہ کو اٹھتا دیکھ وجاہت بھی اپنی جگہ سے اٹھا نیلم کو بھی اپنے ساتھ چلنے کا کہا اور ہادی کو اپنے گھر جانے کا کہا۔۔

جب تک ہادی گھر سے نکل نہیں گیا وجاہت نیلم اور ہانیہ کو لے کر گھر کے اندر داخل نہیں ہوا۔۔

پھر نیلم کو اسکے کمرے میں بھیج کر وہ ہانیہ کو لئے اپنے کمرے میں گیا۔۔

بیڈ پر ہانیہ بیٹھ کر اپنے سینڈل کے اسٹیپس کھولنے لگی تو وجاہت نے اسے روکا اور اپنی شیروانی اتار کر ہانیہ کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا اور اسکی سینڈل کے اسٹیپس کھولنے لگا مگر یہ دیکھ کے ہی وہ حیران رہ گیا کیونکہ ہانیہ کے دونوں پیر سوج چکے تھے اور باقائدہ اسکے پیروں پر اسٹیپس کے نشان بن چکے تھے۔۔

یہ کیا ہے تمہارے پیر سوج کیوں گئے ہیں ہانیہ تم چل کیسے رہی تھی اتنی ٹائم سے درد نہیں ہورہا تھا تمہیں ۔۔ وجاہت نے ہانیہ کے پیروں کو دیکھتے ہوئے فکر سے کہا۔۔

کچھ نہیں ہوا مام سے پوچھا تھا میں نے تو انہوں نے کہا تھا کہ پیروں پر زیادہ چلنے پھرنے کی وجہ سے سوائلنگ آجاتی ہے۔۔

تھوڑا آرام کروگی تو ٹھیک ہوجائے گا۔۔ ہانیہ نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا اور پیر بیڈ پر پھیلا لئے۔۔

تھک گئی نہ آج ۔۔ وجاہت نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسکا چہرا اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے کہا۔۔

ہاں تھوڑا سا مگر آج بہت اچھا لگا بس پاپا اور امی بھائی یہ سب نہیں آسکے انہیں مس کیا بہت۔۔

ہاں فاخر کی کال میرے پاس بھی آئی تھی کہہ رہا تھا پاپا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بارات میں شرکت کریں گے سب لوگ۔۔

ویسے ایک بات کہوں ۔۔ وجاہت نے محبت سے ہانیہ کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔

جی ۔۔ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی نیلم ٹھیک کہہ رہی تھی تم سے آج پھر سے شادی کرنی چاہئے تھی مجھے۔۔

بول کے وجاہت دلفریب انداز میں مسکرا دیا۔۔

کچھ بھی ہاں۔۔ ہانیہ وجاہت کی دوبارہ شادی والی بات پر مسکرا دی ۔۔۔ اچھا چلیں سامنے سے ہٹیں میں زرا یہ زیور اتار کر کپڑے چینج کرلو اب زرا گرمی لگ رہی ہے اس بھاری لہنگے میں۔۔

ہانیہ اٹھنے لگی تو وجاہت نے اسے اسکے بازو سے پکڑ کر دوبارہ پہلے والی پوزیشن میں بٹھا کر کہا۔۔

تمہارے پیر سوج رہے ہیں تھوڑی دیر آرام کرو یہ زیورات تو میں بھی اتار سکتا ہوں نہ۔۔ وجاہت بولتے ہوئے ہی ہانیہ کے ہاتھ سے چوڑیاں اتارنے لگا۔۔

ٹھیک ہے مگر یہ بندیا اور ائررنگ تب تک نہیں اترے گے جب تک میرے بال نہیں کھلیں گے اور یہ آپ سے نہیں ہوگا۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو چوڑیاں اتارتے دیکھ کے کہا۔۔

تم فکر نہ کرو دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں ہے جو وجاہت عالم نہیں کر سکتا۔۔

وجاہت نے مسکراتے ہوئے کہا دیہان سے اسکی چوڑیاں سائڈ ٹیبل پر رکھی پھر اسکے بالوں سے پنیں نکالنے لگا وہ اتنے آرام اور دیہان سے کام کر رہا تھا کہ ہانیہ کو محسوس ہی نہ ہوا اور وہ اسکے بال بیک کامبنگ اور بریڈ سے آزاد کر چکا تھا۔۔

پھر آہستہ سے اسکے ماتھے سے بندیا ہٹائی اور ماتھے پر اپنے لب رکھ دئیے کانوں سے بندے اتارے تو وجاہت نے اسکے کان کی لو کو باری باری لبوں سے چھوا ہانیہ کی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگی۔۔

گلے سے وجاہت نے اسکے نیکلیس نکالا تو جیسے ہی وہ زرا آگے بڑا ہانیہ نے بیڈ سے کشن اٹھا کر وجاہت کے چہرے پر رکھا اور زور سے قہقہہ لگانے لگی۔۔

یہ چیٹنگ ہے یار سن شائن۔۔ چیٹنگ۔۔ بات صرف جیولری اتارنے کی ہوئی تھی رومانس کرنے کی نہیں ۔۔

اچھا ٹھیک ہے تم جیتی ہاتھ نیچے کرو اور جاؤ کپڑے چینج کرلو اور اگر میری خدمت پیش آئے تو بس ہلکی سی آواز دے دینا۔۔ چھوٹی سے شرارت کرکے وجاہت نے ہانیہ کو جانے دیا۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

اگلے دن شام کے وقت مہندی والی آئی تو نیلم کے ہاتھوں پیروں پر دو لڑکیاں مہندی لگانے لگی اور دو لڑکیاں ہانیہ کے ہاتھوں کو رنگنے لگیں۔۔

وجاہت ہانیہ کے چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھ کے بے چین ہورہا تھا ۔۔ ہانیہ کو مہندی کی خوشبو سے ابکائی آرہی تھی مگر وہ پھر بھی مہندی لگوا رہی تھی۔۔

اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اسنے آخری بار مہندی کب لگوائی تھی مگر اسکی خوشبو کا کیا کیا جائے۔۔

اوپر ریلنگ تھامے کھڑا وجاہت بس ہانیہ کا چہرا ہی دیکھ رہا تھا اسنے اسی وقت انٹرنیٹ پر کچھ سرچ کیا اور پھر اسے ایک ادرک کا ایک ٹکڑا دیا جسکی خوشبو سے اسے تھوڑا بہتر محسوس ہوا تو عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے وہ ادرک کا پیس ہانیہ کے گلے کے پاس ہی رکھ دیا تاکہ اسکی خوشبو اس تک پہنچ سکے ویسے بھی وہ ایزی چئیر پر بیٹھ کر مہندی لگوا رہی تھی

نیلم کی مہندی مکمل ہوئی تو اسنے تلوؤں پر مہندی لگانے سے پہلے اپنے کمرے میں جانا چاہا تو عالیہ بیگم نے کچھ لڑکیوں کے ساتھ اسے اسکے کمرے میں بھیج دیا۔۔

پتہ نہیں یہ لڑکیاں کتنا تھک گئی ہونگی مہندی لگا لگا کر میرا تو لگوا کر ہی برس حال ہوگیا ۔

بیڈ پر لیٹتے ہی نیلم نے دل میں سوچا۔۔

مہندی والی مہندی پوری کر کے چلی گئیں تو نیلم نے ایک ہاتھ سے جسکی مہندی کافی سوکھ چکی تھی ہادی کو کال کرنے لگی۔۔

تیسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا ۔۔ اسلام و علیکم ہادی۔۔ نیلم نے دھیمی مسکراتی آواز میں سلام کیا ۔۔

وعلیکم السلام جانے ہادی کیا کر رہی ہیں آپ۔۔ ہادی نے محبت سے جواب دیا تو نیلم کے چہرے پر بھی دلفریب مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔

کچھ نہیں مہندی لگوا کر بیٹھی ہوں تھک گئی بہت مگر مہندی بہت پیاری لگی ہے میری۔۔ نیلم نے بتاتے ہوئے اپنے دوسرے ہاتھ کی مہندی دیکھتے ہوئے کہا۔۔

کیا واقعی تو پھر رکو میں ویڈیو کال کرتا ہوں میں بھی تو دیکھو اپنی جان کے مہندی والے ہاتھ ۔۔ ہادی نے پیار سے کہا تو نیلم نے اسے روک دیا۔۔ نہیں آپ ویڈیو کال نہ کریں اگر آپ ابھی مہندی دیکھ لینگے تو اسکا رنگ پھیکا پڑجائے گا۔۔

یہ سب کیا کہہ رہی ہو میں نے تو سنا ہے شوہر جتنی محبت کرتا ہے اتنا ہی مہندی کا رنگ گہرا ہوتا ہے ۔۔ ہادی نے سوچتے ہوئے کہا۔۔ ہاں مگر میں نے یہ بھی سنا ہے تو آپ کل تک کا انتظار کریں ۔۔

نیلم نے مسکرا کے کہا اور لائن کاٹ دی۔۔

موبائل رکھ کر اسنے آنکھیں موندی ہی تھی کہ پھر سے کال آنے لگی مگر نیلم نے کال نہیں اٹھائی جانتی تھی کس کی کال ہوگی ۔۔

تیسری بار کال آکر بھی بند ہوگئی اب کسی کا میسج آیا تو نیلم نے موبائل پر میسج پڑھا ۔۔

میسج ہادی نے کیا تھا کہ۔۔ جان ہادی کال نہ اٹھانے کا اور مہندی نہ دکھانے کا پورا پورا حساب کل لیا جائے گا تیار رہنا۔۔

میسج پڑھتے ہوئے نیلم کا چہرا شرم و حیا سے لال ہونے لگا۔۔

اور اپنی آنے والی زندگی کے خواب دیکھتے ہوئے وہ نیند کی وادیوں میں کھوگئی۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

بارات کا انتظام شہر کے سب سے بڑے ہال میں شاندار طریقے سے کیا ہوا تھا۔۔

ہر چیز اپنی اعلا معیار کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔۔ میڈیا کو گھر کے اندر رکھے فنکشن میں آنے کی تو اجازت نہیں تھی مگر آج بارات کے دن ایک انٹرنیشنل بزنس ٹائیکون کی شادی تھی تو دوسری طرف دوسرے بزنس ٹائیکون کی اکلوتی بہن کی شادی تھی۔۔

میڈیا کو مکمل طور پر اجازت دی گئی تھی شادی میں آنے کی مگر صرف ایک حد تک وجاہت کو گوارہ نہ تھا کہ ساری دنیا اسکی پرسنل لائف میں جھانکے اب سب سمجھ تو گئے ہونگے وہ پرسنل کون ہے۔۔

فل بلیک شیروانی پہنے ہوئے وجاہت عالم اپنا سحر سب پر طاری کر رہا تھا اور آج ستائش ہانیہ کے چہرے پر تھی کیونکہ جو نظر وجاہت پر اٹھ رہی تھی وہ مڑنے کا نام نہ لے رہی تھی۔۔

ریڈ کلر کی میکسی پہنے جس پر بھاری کاپر نگینوں کا کام ہوا تھا نیٹ کا کاپر رنگ کا ڈوپٹہ نفاست سے سر پر سجائے سرخ نگینوں سے جڑی قیمتی جیولری پہنے ہوئے تھی سر پر خوبصورت سی کندن اور موتیوں سے بنی ماتھا پٹی پہنے اور بیوٹیشن کے مہارت سے کئے گئے میک اپ میں وہ کسی حور سے کم نہ لگ رہی تھی رہ رہ کر وجاہت کی نظر اس پر ٹہر رہی تھی خاص کر کے اسکے ہونٹوں پر جس پہ ڈیپ ریڈ کلر کی لپ اسٹک لگی ہوئی تھی ۔۔ مگر آج وہ اپنے آپ کو بھلائے وجاہت کو تکنے میں ہی مصروف تھی لگ رہا تھا جیسے دونوں میاں بیوی کی روح بدل گئی تھی کیونکہ آج ہانیہ کا دل کر رہا تھا کہ وجاہت سے کہے کہ یہ خوبصورت شیروانی اتار کر کوئی سادہ سی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن لے مگر شادی بھی تو اسکی بہن کی تھی ۔۔

یہ سوچتے ہوئے ہانیہ خود ہی اپنی سوچ پر مسکرا دی اور آج احساس بھی ہوا کہ وجاہت کیوں اسے ہر چیز پر ٹوکتا تھا۔۔

ہانیہ کو مسکراتا دیکھ وجاہت اسکے پاس آیا اور ویٹر سے اورنج جوس لے کر اسے تھمایا۔۔

سن شائن جلدی سے یہ پی لو اور جب تک بارات نہ آجائے تم نیلم کے ساتھ ہی بیٹھی رہو آج زیادہ چلنے پھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔

بولتے ہوئے وجاہت نے اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے چلا گیا۔۔ مصروف جو تھا بہت بارات آنے والی تھی جبکہ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا مگر اس سب میں بھی وہ اپنی سن شائن کو بھلا کر بھی نہ بھول پا رہا تھا۔۔

تھوڑی دیر بعد بارات کے آنے کا شور ہوا تو ہانیہ وجاہت اور گھر والے ہادی کے استقبال کیلئے گیٹ تک گئے۔۔

جمشید صاحب اور شان صاحب آپس میں بگل گیر ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارک بار دی۔۔

بلیک اور گولڈن شیروانی میں اپنے چوڑے سینے درازقد کے ساتھ ہادی ہر کسی کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔۔ اسکے لبوں پر مسکان غضب ڈھا رہی تھی ۔۔۔

وجاہت نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگایا ہادی بھی خوشی سے اس سے ملا۔۔ چلو جی سالے صاحب آج آپ آفیشلی میرے سالے بن جاؤگے۔۔ ہادی نے شرارت سے کہا تو سبھی مسکرا دیئے۔۔

ہاں ٹھیک کہا اس کا جواب میں دوں یا ہم اندر چلیں ۔۔ وجاہت نے بھی مسکرا کے کہا تو ہادی قہقہہ لگانے لگا۔۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے دس بارہ سال بعد جواب دینا۔۔

عالیہ بیگم نے ہانیہ سے کہا کہ وہ ہادی کی دودھ پلائی کی رسم کرے تو ہانیہ نے جیسے ہی گلاس ہادی کی طرف بڑھایا تو ہادی نے وجاہت کو دیکھ کر شرارت سے کہا۔۔ اجازت ہو تو پی لو۔۔ وجاہت نے دانت پیستے ہوئے سر اثبات میں ہلایا ۔۔

دودھ پلائی کی رسم تک میڈیا والوں کو دور رکھا گیا پھر عالیہ بیگم اور ہانیہ کے وہاں سے جاتے ہی میڈیا والوں کو تصویریں لینے کی اجازت دی گئی تو کیمرے کھٹا کھٹ سب کی تصویریں لینے لگے۔۔

مہمانوں کی ہنسی شور اور کھلکھلاہٹیں خوشی بھرے قہقہے ماحول کو بہت ہی خوبصورت بنا رہے تھے۔۔

جیسے جیسے ہادی ہال میں داخل ہونے لگا اس پر گلاب کے پھولوں کی پتیوں سے بارش کی گئی اور وہ دلفریبی سے مسکراتا دادو کی طرف بڑھا۔۔

دادو نے اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔۔

اسٹیج پر بیٹھ کر اسنے وجاہت سے سوال کیا۔۔ ویسے یار وجی میرے بھائی یہ تو بتا شادی کا لڑو پہلے میٹھا ہوتا ہے یا بعد میں وہ کیا ہے نہ میں نے سنا ہے جو بھی یہ میٹھا لڑو کھاتا ہے وہ پچھتاتا ضرور ہے۔۔ تو شادی شدہ ہے تو سوچا اپنی آزادی کے آخری پلوں میں تجھ سے پوچھ لوں کہ تو کتنا پچھتایا شادی کے بعد ۔۔ اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے ہادی نے کہا تو وجاہت اسے گھورنے لگا۔۔

کبھی دانت ٹوٹا دلہا دیکھا ہے۔۔ وجاہت نے طنزیہ ہنس کے سوال کیا ۔۔ نہیں تو ہادی نے ناسمجھی سے جواب دیا۔۔

کہے تو آج دنیا کو دکھا دوں۔۔ وجاہت نے مسکرا کے کہا تو ہادی مصنوعی ڈر دکھانے لگا ۔۔ معاف کردے بھائی تو تو میرا بھائی ہے نہ بھائی کے ساتھ ایسا کرے گا۔۔ ہادی نے بیچارگی سے کہا تو وجاہت مسکرا دیا۔۔

خاموش رہ پھر۔۔ وجاہت نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔ پھر میں نکاح کے وقت قبول ہے کیسے کہوں گا اگر خاموش رہوں گا تو۔۔

ہادی نے معصومیت سے کہا تو وجاہت سر نفی میں ہلاتا ہوا اسٹیج سے اتر گیا۔۔

نکاح خواں آیا نکاح ہوا اور نیلم نکاح کے بعد نیلم عالم سے نیلم ہادی ہوگئی۔۔

نکاح نامے پر سائن کرتے وقت وہ بہت روئی وجاہت کے گلے لگ کر مگر ہانیہ اور وجاہت نے اسے سنبھالا۔۔ عالیہ بیگم اور شان صاحب نیلم سے نکاح ہونے کے بعد ملے تاکہ وہ ان کے آنسو نہ دیکھ سکیں بیٹی پرائی جو ہوئی تھی بھلے سے وہ انکے ساتھ ہی رہتی مگر ہادی کونسا گھر پر رہتا تھا سال کے 8 سے 10 مہینے وہ دنیا کے الگ الگ شہروں میں رہتا تھا بزنس کے سلسلے میں۔۔

کچھ ہی دیر گذری تو دلہن کے آنے کا شور ہوا۔۔

ہانیہ کے ساتھ آج ایشا تھی جو کہ نیلم کو لئے اسٹیج تک گئی ۔۔

ہادی کے چہرے پر تبسم پھیل گیا اپنی پرنسس کو دیکھ کر جو کہ ایک کوئین کی طرح آرہی تھی اس کے پاس اسکی بن کر۔۔

سرخ نگینوں کے کام سے بھرا ڈیپ ریڈ بھاری لہنگا اپنے نازک سے بدل پر سجائے خوبصورت ہیوی جیولری پہنے تیکھی ناک میں خوبصورت سی نتھ پہنے وہ ہادی کی دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر گئی۔۔ پارلر کے خوبصورت مہارت سے کیے گئے میک اپ نے اسکے غیر معمولی حسن کو قیامت خیز بنادیا تھا ۔۔

جو کوئی دیکھتا پلکیں جھپکانا بھول جاتا۔۔

ہانیہ اور ایشا کے ساتھ چلتی ہوئی وہ اسٹیج تک گئی تو ہادی نے اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا نیلم نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنا نازک زیوروں سے سجا حنائی ہاتھ ہادی کی مضبوط ہاتھ میں تھمایا۔۔ ایک پل کو تو نیلم کانپ سی گئی مگر ہادی نے محبت سے اسکا ہاتھ تھاما اور اپنے ساتھ بٹھایا۔۔

مہمانوں کی نظریں ٹکی ہوئی تھی ان دونوں پر ہر کوئی رشک سے اس خوبصورت جوڑے کو دیکھ رہا تھا اور ڈھیروں دعائیں دے رہا تھا۔۔

عالیہ بیگم اور دادو نے اپنے بچوں کی خوشیوں کیلئے دل میں کئی دعائیں مانگیں۔۔

اس حسین منظر کو کئی کیمروں نے قید کیا۔۔ سبھی لوگ کسی سحر میں جکڑے انہیں دیکھ کر سہراہ رہے تھے۔۔

ہادی نے محبت سے ایک نظر نیلم کے جھکے سر کو دیکھ کر اسکا ہاتھ پھر سے تھام لیا بقول دنیا کے وہ تھا ہی بے شرم کو اسے کسی کی کیا پرواہ۔۔

نکاح مبارک ہو جان ہادی ۔۔ محبت سے چور لہجے میں ہادی نے سرگوشی نما آواز میں کہا جسے صرف برابر میں بیٹھی نیلم ہی سن سکتی تھی۔۔

دل کر رہا ہے ابھی اسی وقت تمہیں لے کر بھاگ جاؤں مگر تمہارا اکڑو بھائی سامنے ہی کھڑا ہے۔۔ نیلم ہادی کی بات پر سر جھکائے ہی مسکرا دی۔۔

آہستہ آہستہ سب آکر انہیں مبارک باد دینے لگے جنہیں وہ خوش دلی سے وصولتے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وجاہت مہمانوں سے ملتا ہوا بار بار اپنی نظروں سے اپنی سن شائن کو ڈھونڈ رہا تھا جو کہ کہیں دکھ نہیں رہی تھی کچھ پل تو اسنے ادھر اُدھر دیکھا پھر مہمانوں سے معزرت کر کے ہانیہ کے دیکھنے لگا تو وہ ایک ٹیبل پر بیٹھی حور کو کچھ کہہ رہی تھی۔۔

یہاں کیوں بیٹھی ہو۔۔ وجاہت نے ہانیہ کے پاس جا کر کہا ۔۔

کچھ نہیں وہ مما نے کہا کہ تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ فوٹو سیشن ہوجائے گا تو پھر رسمیں شروع کریں گے

ہانیہ نے حور کے بال ہاتھ سے سہی کرتے ہوئے کہا۔۔ ٹھیک ہے تم نے کچھ کھایا۔۔ وجاہت نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔

نہیں اور مجھے بھوک بھی نہیں لگی ہے اور آپ ضد نہیں کریں گے ویسے ہی کچھ نہ کچھ کھلا ہی رہے ہیں آپ ہر تھوڑی دیر بعد اب میرا پیٹ پوری طرح سے بھر چکا ہے۔۔

ہانیہ نے معصومیت سے ٹیبل پر کہنیاں رکھ کے کہا۔۔

تمہیں نہ سہی میرے بیٹے کو بھوک لگی ہوگی اسے کیوں بھوکا رکھ رہی ہو۔۔

وجاہت کچھ اور کہتا مگر اتنے میں ہی کسی نے اسے آواز دی تو وہ وہاں سے اٹھا مگر جاتے ہوئے وہ ویٹر سے کچھ کہہ رہا تھا جس سے ہانیہ سمجھ گئی کہ وہ ضرور اسکے لئے کھانے کیلئے کچھ بجھوائے گا لازمی۔۔

part 2

کچھ وقت کےبعد جوتا چھپائی کی رسم کا شور ہوا تو ہانیہ نیلم کی ایک کزن کے ساتھ رسم کرنے لگی جوتے تو ہادی نے بہت آرام سے اتار کر دے دئیے۔۔

چلو بھئی ہادی نکالو نوٹ جلدی سے۔۔ ہانیہ نے ہادی کے ساتھ ہی بیٹھتے ہوئے کہا ہادی کے دوسری طرف نیلم بھی ہانیہ کو دیکھنے لگی۔۔

نوٹ دینے کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے بھابھی (وجاہت ابھی سامنے نہ تھا تو ہادی بھابھی بول رہا تھا ) میں اپنی دلہن کو بغیر جوتوں کے بھی لے جاؤنگا آپ لوگ جوتے ہی رکھ لیں۔۔

ہادی نے بے نیازی سے کہا۔۔

نہیں ہم اپنی دلہن کو بغیر جوتوں والے دلہا کے ساتھ رخصت نہیں کریں گے۔۔ ہانیہ نے ہٹ شرارت سے کہا۔۔

بھئی بھابھی میرا مطلب ہے ہانی (وجاہت اب ہادی کے سامنے ہی کھڑا تھا) میں نئے جوتے منگوا لونگا مگر اپنی جیب ڈھیلی نہیں کرونگا۔۔

سب لوگ ہادی کی ہٹ دھرمی پر ہنس رہے تھے۔۔

ٹھیک ہے بیٹھو پھر بغیر جوتوں کے جتنی دیر تم لگاؤگے پیسے دینے میں اتنی ہی دیر سے رخصتی ہوگی۔۔

کسی کزن نے کہا تو ہادی تھوڑی دیر سوچنے لگا ۔۔ چلو کیا یاد کروگے آپ سب بولتے ہوئے ہادی نے جیب سے اپنا والٹ نکالا اور ہانیہ کے ہاتھ پہ رکھتے ہوئے کہا۔۔ کہ کتنا اچھا بہنوئی ملا ہے سب کو۔۔

ہادی کے اکڑ کے بولنے پر سب لڑکے لڑکیوں نے خوب ہوٹنگ کی ۔۔

ہانیہ نے بھی مسکرا کر ایک لڑکی کو اشارہ کیا وہ جوتے لے کر آئی اور ہادی کے سامنے رکھ دئیے۔۔

ہادی نے جوتے پہنے پھر ہانیہ کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔

چلیں بھابھی اب رخصتی کروا بھی دیں قسم سے بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی ہے میری اور نیلم بھی تھک گئی ہوگی۔۔

ہادی کے کہنے پر ہانیہ زور سے ہنسی سامنے کھڑے وجاہت نے آنکھیں سکیڑ کے ہادی کو دیکھا۔۔

تمہاری ہی برائی کر رہا تھا ہانی کو ٹپس دے رہا تھا کہ شوہر کو تنگ کیسے کیا جاتا ہے۔۔

ہادی نے زور سے کہا تو سب نے قہقہہ لگایا۔۔ ہانیہ کو چھوڑو ہادی یہ مت بھولو اب تمہاری بھی ایک بیوی ہے اور تنگ کرنا وہ بھی جانتی ہے کیوں گڑیا۔۔ وجاہت کے ہادی کے سامنے کھڑے ہو کر پھر نیلم کو دیکھتے ہوئے کہا تو نیلم صرف مسکرا دی۔۔

آج وہ خالصتاً مشرقی دلہن بنی ہوئی تھی سر جھکائے بیٹھی تھی کوئی کچھ کہتا تو صرف مسکرا کے جواب دیتی۔۔

اور کچھ فطری گھبراہٹ بھی تھی جو کہ اسے کچھ بولنے ہی نہ دے رہی تھی ویسے بھی اسکے بدلے کا ہادی بول تو رہا تھا۔۔

کچھ دیر اور ایسے ہی ہنسی اٹھکیلیاں کرتے گزرا تو جمشید صاحب نے چلنے کی اجازت چاہی سب سے۔۔

رخصت ہو کر آج نیلم کو ہادی کے فلیٹ جانا تھا۔۔

رخصتی کے وقت نیلم سب کے گلے لگ کر خوب روئی اپنے ماں باپ سے الگ ہونے کا غم بھائی سے جدائی اور بہن جیسی بھابھی سے الگ ہونا بہت مشکل تھا۔۔

رخصتی کے وقت اپنی عادتوں کے برعکس ہادی ایک دم خاموش اور سنجیدہ تھا وہ سمجھ سکتا تھا کہ اس وقت نیلم اور اسکے گھر والوں پر کیا گزر رہی تھی۔۔

سب سے مل کر آخر کار نیلم ہادی کے ساتھ اپنی نئی زندگی کے سفر کیلئے روانہ ہوگئی۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

حور سوگئی۔۔ وجاہت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ہانیہ کو حور کے روم سے نکلتے ہوئے دیکھ کے پوچھا۔۔

ہاں سوگئی ہے تھک جو گئی تھی۔۔ ہانیہ بیڈ کے دوسری طرف بیٹھتے ہوئے بولی۔۔

سوجاؤ تم بھی تھک گئی ہوگی ۔۔ طبیعت ٹھیک ہے نہ۔۔ وجاہت نے گردن ہانیہ کی طرف موڑ کے کہا۔۔

طبیعت ٹھیک ہے میری آپ کیوں ابھی تک جاگ رہے ہیں۔۔

ہانیہ نے وجاہت کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔۔

نیند ہی نہیں آرہی میری گڑیا اس گھر سے آج چلی گئی سن شائن میں خوش ہوں اس کے لئے مگر دل اداس ہورہا ہے۔۔

وجاہت نے بھی اپنا سر ہانیہ کے سر پر رکھتے ہوئے کہا۔۔

نیلم بہت خوش تھی آج ۔۔ آپ بھی خوش رہیں ہادی بہت اچھے انسان ہیں وہ ہماری نیلم کو ہمیشہ خوش رکھیں گے اسکا خیال رکھیں گے اور ہمیشہ اس سے محبت کریں گے۔۔

ہانیہ نے اپنا سر اٹھا کر وجاہت کا گال چومتے ہوئے کہا۔۔

ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔ وجاہت نے مسکرا کے کہا۔۔ تمہارے پیر ٹھیک ہیں آج تو سوج نہیں رہے۔۔ کہتے ہوئے وجاہت نے ہانیہ کے پیر دیکھے جو آج بھی سوجے ہوئے تھے۔۔

یہ کیا ہے یار کیوں ہورہے ہیں یہ ایسے۔۔ وجاہت نے فکرمندی سے کہا ۔۔

بتایا تو تھا آپ کو پریشان کیوں ہورہے ہیں۔۔

ہانیہ نے اپنے پیر پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔

اب ولیمے میں تمہیں ادھر سے ادھر گھومتا ہوا نہ دیکھوں میں۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا اسے لٹایا اور کمفرٹر اسے اچھے سے اوڑھا کر وہ اسٹڈی میں آگیا

ہانیہ کے سمجھانے کے باوجود بھی وجاہت کا دل تھوڑا اداس ہورہا تھا۔۔

رہ رہ کر اسکی آنکھوں کے سامنے چھوٹی سے نیلم گھر کے لان میں سائیکل چلاتی ہوئی نظر آرہی تھی تو کہیں پہلی بار اسکول جانے کیلئے تیار ہوتے ہوئے۔۔

اسکول میں جب اسنے ٹاپ کیا تھا تو گھر میں ایک شور کرتے ہوئے داخل ہوئی تھی وجاہت نیک کے بارے میں سوچتے ہوئے مسکرا رہا تھا جبکہ آنکھیں اسکی نم تھیں۔۔

دنیا کی یہ کیسی ریت تھی ساری زندگی جو بہن ساتھ رہی وہ ایک پل میں ہی پرائی ہوگئی۔۔

یہ تو شکر تھا کہ وجاہت نے شرط رکھی تھی کہ ہادی اور نیلم جب بھی پاکستان میں رہیں گے انہیں کے گھر میں رہیں گے مگر ہادی کہاں رہتا تھا پاکستان میں ۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ہادی کے گھر میں تو اس وقت کوئی تھا ہی نہیں جو رستہ رکائی کی رسم کرتا تو وہ اس رسم سے بچتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔

پورے کمرے کو گلاب کے پھول اور لیلیز سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔

ہر طرف سینٹڈ کینڈلز تھوڑے تھوڑے فاصلے پر جل رہی تھیں۔۔

بیڈ کے چاروں طرف سرخ رنگ کے نیٹ کے پردے تھے اور ان کے اوپر گلاب اور موتیے کے پھولوں کی لڑیاں تھی

ہادی نے ماڈرن انداز اپنانے کے بجائے پرانے زمانے کی طرح پھولوں کی لڑیوں سے کمرہ سجوایا تھا۔۔

فرش پر بھی ہر جگہ پھولوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔۔

پورا کمرہ ہی ایک خواب ناک منظر پیش کر رہا تھا

بیڈ کے درمیان میں ہادی کی پرنسس سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔

اسے دیکھ کر ہادی کے لبوں پر تبسم بکھر گیا۔۔ اسلام و علیکم ۔۔ ہادی نے نیلم کے سامنے بیٹھتے ہوئے سلام کیا نیلم نے بس سر ہلا کر جواب دیا۔۔

تم ٹھیک ہو میرا مطلب ہے کمفرٹیبل تو ہو نہ۔۔ ہادی کو کچھ نہ سوجھا کہ کیا بات کرے تو یہی پوچھنے لگا۔۔

ہر وقت بولنے والا ہادی بھی آج زرا خاموش تھا۔۔

پھر کچھ یاد آنے پر بیڈ سے اٹھا اور سائڈ ٹیبل کی دراز سے ایک مخملین کیس نکالا۔۔

پھر اپنا ہاتھ اسنے آگے بڑھایا نیلم کا ہاتھ تھامنے کیلئے نیلم نے جھجکتے ہوئے اپنا ہاتھ ہادی کے ہاتھ میں دیا۔۔

ہادی نے ڈائمنڈ کی خوبصورت سی رنگ نیلم کی مخروطی انگلی میں پہنا کر اس پر اپنے لب رکھ دیئے۔۔

خوش ہو تم ۔۔ ہادی نے نیلم کی جھکی آنکھوں کو دیکھ کے کہا تو نیلم نے سر اہستہ سے اثبات میں ہلا دیا۔۔

میں بھی بہت خوش ہوں یہ سوچ کر کہ جس سے محبت کی اسے ہی اپنا ہمسفر بنایا۔۔ میرا رب جانتا ہے نیلم کہ میری زندگی میں تم ہی ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتی تھی مگر کبھی بھی کسی غلط نظر سے نہ دیکھا تھا تمہیں مگر جب مجھے پتہ چلا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور بے تحاشہ محبت کرتی ہو تو میرے دل نے بھی تمہارے لئے دھڑکنا شروع کیا۔۔

جھوٹ نہیں بولوں گا تھوڑا امتحان بھی لیا تھا تمہارا یہ جاننے کیلئے کہ تمہاری محبت سچی ہے یا یہ صرف ایک وقتی جزبہ ہے مگر مجھے خود پتہ نہیں چلا کہ کب تم اس دل پر راج کرنے لگی۔۔

میں آج تم سے وعدہ کرتا ہوں پرنسس ہمیشہ تم سے ایسے ہی محبت کرونگا اور جتنی محبت کرونگا اتنی ہی تمہاری عزت کرونگا اور تم سے بھی یہی کہوں گا کہ ہمیشہ مجھ سے ایسے ہی محبت کرنا یہ رشتہ ہم دونوں کیلئے بہت اہم ہے اور سب سے بڑھ کر میرے لئے تم۔۔

ہادی نیلم کا ہاتھ تھامے بول رہا تھا اور نیلم کسی سحر میں جکڑی ہوئی اسکی بات سن رہی تھی۔۔

بولو دوگی میرا ساتھ چلو گی میرے ساتھ زندگی کے اس خوبصورت سفر پر۔۔

ہادی نے محبت سے اسکا چہرا اسکی ٹھوڑی سے پکڑ کر اونچا کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔

تو نیلم نے مسکرا کے ہاں کہا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *