Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 14)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

ہانیہ بھی وجاہت کے پاس پہنچی تو دروازے کو بند دیکھ کے وہ بھی چونک گئی۔۔

وجاہت اب جھنجھلایا ہوا تھا

جبکہ ہانیہ نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔۔۔

یہ کس نے کیا ہے؟

ہانیہ نے وجاہت سے سوال کیا۔۔

بھوت رکھے ہوئے ہیں میں نے انہیں کو آرڈر دیا تھا۔۔

وجاہت نے تپے ہوئے انداز میں کہا۔۔

خیر بھوت تو نہیں ہاں مگر نوکروں کی فوج رکھی ہوئی ہے آپ نے جو آپ کے ہر اشارے پر چلتے ہیں۔۔

ہانیہ نے دروازے کو چیک کرکے کہا ۔۔

ٹینشن ہانیہ کو بھی ہوئی مگر وجاہت کو حد سے زیادہ اکتایا ہوا دیکھ کے ہانیہ کو نہ جانے کیوں ہنسی آرہی تھی۔۔

وجاہت کو ہانیہ کی ہنسی طنزیہ لگی۔۔

جھنجھلاہٹ وجاہت کو اس بات سے ہورہی تھی کہ وہ اپنا موبائل فون کمرے میں چھوڑ آیا تھا اور گھر میں بھی اس وقت کوئی نہیں تھا

سب باہر لان میں موسم کے مزے لے رہے تھے۔۔

تم کیوں ہنس رہی ہو۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو گھور کے دیکھا۔۔

مرضی میری میرا منہ ہے۔۔

ہانیہ نے رخ موڑ کے کہا۔۔

جب وجاہت اسے گھورنے لگا تو وہ دروازے کے پاس سے ہٹ کر کتابوں کے پاس چلی گئی۔۔

وجاہت چاہتا تو ایک بار زور لگانے سے ہی دروازہ کھل جاتا وجاہت کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔۔

مگر ہانیہ کی مسکراہٹ نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔۔

تمہیں ڈر نہیں لگ رہا تم اور میں یہاں اکیلے ہیں

وجاہت نے اپنی مسکراہٹ دبا کہ کہا

سوچو کہ ہم یہاں پورا دن بند رہیں گے

سوچو کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم یہاں ہیں

وجاہت نے مزے سے کہا

مگر ہانیہ کو چونکا دینے والے وجاہت کے الفاظ نہیں تھے اسکا لہجہ تھا۔۔

ایک نظر ہانیہ نے وجاہت کو دیکھا جو اسے ہی شوخ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔

ہانیہ جو وجاہت کی جھنجلاہٹ سے مزے لے رہی تھی اب اسکی سہی کی ہوائیاں اڑ گئی تھی

جب وہ کھلے دروازے میں اسکا ہاتھ پکڑ سکتا ہے تو بند دروازے میں۔۔

ہانیہ کو ایک دم خوف آنے لگا ۔۔

مانا کہ وجاہت اسکا شوہر ہے مگر ان کے بیچ ایسا کوئی رشتہ نہیں تھا۔۔

مجھے ایسا لگتا ہے ہمیں دروازہ بجاتے رہنا چاہئے۔۔

ہانیہ وجاہت سے دور ہوکر دروازے تک جانے لگی تو وجاہت نے ایک بار پھر اسکا راستہ روک دیا۔۔

جب وہ دوسری طرف سے جانے لگی تو دوسری طرف کا راستہ بھی وجاہت نے بند کر دیا۔۔

اب ہانیہ وجاہت کے بازوؤں کے گھیرے میں تھی۔۔

آفس سے دیر تو اب وجاہت کو ہوہی گئی تھی تو کیوں نہ بدلہ لیا جائے۔۔

وہ۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ حور ڈھونڈ رہی ہوگی مجھے۔۔

ہانیہ نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔

نہیں ڈھونڈ رہی ہوگی سب کے ساتھ ہے وہ ۔۔

وجاہت نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔۔

سب کیا سوچیں گے کہ ہم یہاں بند کیوں ہیں۔۔

ہانیہ نے وجاہت کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی

وجاہت نے اپنی گرفت شیلف پر مضبوط کردی۔۔

کوئی یہی سوچے گا کہ میرڈ کپل ہیں اکیلے میں رومانس ہی کر رہے ہونگے ۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی۔۔

ہانیہ کے چہرے پر خوف کے سائے پھیلے دیکھے تو وجاہت کے لبوں پر تبسم پھیل گیا۔۔

بے اختیاری میں وجاہت نے ہانیہ کی پیشانی پر محبت کی پہلی مہر ثبت کر دی

جسے محسوس کر ہانیہ کو ڈھیروں سکون نے آن گھیرا۔۔

ہانیہ کے چہرے کے بدلتے تاثرات وجاہت بہت غور سے دیکھ دہا تھا کہ اچانک باہر سے تھوڑی کھٹ پٹ کی آواز آنے پر وجاہت نے ہانیہ پر بھرپور نظر ڈال کر دروازے کی طرف گیا

کوئی نوکر اسٹڈی کی طرف کام سے آیا تو دیکھا اسٹڈی کا دروازہ کوئی بجا رہا تھا۔۔

نوکر نے فوراً دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وجاہت کھڑا تھا

نوکر وجاہت کو دیکھ کر گھبرانے لگا کہ کہیں اسکی شامت نہ آجائے مگر اپنی عادت کے بر عکس وجاہت وہاں سے خاموشی سے چلا گیا۔۔

جبکہ ہانیہ کافی دیر تک وہیں جمی رہی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہادی دروازہ باہر سے بند کرکے لان میں آگیا تھا اور اب سب کے ساتھ باتوں میں مگن ہوگیا۔۔

نیلم حور کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی

تھوڑی دیر بعد ہانیہ کی کمی نیلم کو ہی محسوس ہوئی تو اس نے نوکر سے کہا کہ بھابھی کو بھی بلا لائے

نوکر کو اندر جاتا دیکھ ہادی نے اسے روک دیا۔۔

بیٹا تم منع کیوں کر رہے ہو۔۔

ہادی جھوٹ کم ہی بولا کرتا تھا تو اصل وجہ سب کو بتا دی کہ وہ وجاہت اور ہانیہ کو اسٹڈی میں لاک کر کے اگیا۔۔

ہادی کی بات پر سب ہنس دیئے۔۔

ایسا کیوں کیا تم نے۔۔

دادو نے ہادی سے سوال کیا۔۔

دادو پرسوں دیکھا تھا نہ کیسے پارٹی میں ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہ دونوں ایک دوسرے سے زرا بات نہیں کر رہے تھے

اور پرسوں سے اب تک میں نے ان دونوں کو بات کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں تھا

اوپر سے سونے پہ سہاگہ دونوں رہتے بھی الگ الگ کمرے میں ہیں۔۔

تو جب میں نے ہانیہ کو کتاب لے جاتے ہوئے اسٹڈی میں دیکھا اور پھر وجاہت کو فائل لینے اسٹڈی میں جاتا دیکھا تو دونوں کو وہیں لاک کر دیا۔۔

ہادی نے پوری بات بتائی اور اب سب کا ری ایکشن دیکھنا چاہ رہا تھا مگر سب کے سپاٹ چہرے دیکھ کر ہادی گھبرا گیا ۔۔

کیونکہ سب اسے نہیں اس کے پیچھے کھڑے وجاہت کو دیکھ رہے تھے۔۔

اچھا تو یہ تمہاری حرکت تھی۔۔

ہادی نے بغیر پیچھے مڑے ہی وجاہت کی بات سنی۔۔

اور لاچار نظروں سے دادو کی طرف دیکھا۔۔

کیا ہوگیا وجاہت ہادی نے بس شرارت ہی تو کی تھی دادو نے وجاہت کے تیور چڑھے ہوئے دیکھا۔۔

ایسا نہیں تھا کہ وجاہت کو غصہ آیا تھا ہادی کو انہیں لاک کرنے پر۔۔

غصہ وجاہت کو ہادی کا کام پورا نہ کرنے پر آیا تھا۔۔

کام ہوگیا تمہارا۔۔

وجاہت نے اب ہادی سے ایک اور سوال کیا جس پر ہادی نے اسے گھور کے دیکھا۔۔

نہیں وہ میں نے سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ تھوڑا ٹائم اسپینڈ کرلوں..

تم چار دنوں سے پاکستان آئے ہوئے ہو اور ابھی تک تم نے گھر والوں کے ساتھ ٹائم اسپینڈ ہی نہیں کیا۔۔

ہادی کے پاس وجاہت کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔

ہادی وجاہت سے بلکل ڈرتا نہیں تھا مگر اسے ڈر اس بات کا تھا کہ کہیں وجاہت کو یہ بات ناگوار نہ گزری ہو کہ اس نے اسے ہانیہ کے ساتھ لاک کیا۔۔

چلو ہم آفس جارہے ہیں وجاہت نے ہاتھ پکڑ کے ہادی کو اٹھایا

ہادی بھی خاموشی سے اٹھ گیا اسکا دل بہت بری طرح سے خراب ہوا تھا وجاہت کا ری ایکشن دیکھ کر

ہادی کو ایسا ہی لگا کہ وجاہت کو ہانیہ کے ساتھ رہنا بہت ناگوار گزرا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

اسٹڈی سے نکل کر ہانیہ اپنے کمرے میں آئی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔۔

نظر اپنی پیشانی پر مرکوز کی جہاں ابھی تک وجاہت کا لمس محسوس ہورہا تھا۔۔

خود کا عکس دیکھا آئینے میں تو ہانیہ کا چہرا ایک بار پھر سرخ ہونے لگا۔۔

کیا اسکا رشتہ اتنا مضبوط تھا کہ وجاہت جیسے شخص نے خود اسکی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔

سوچتے ہوئے آج ہانیہ کو خوف نہیں آرہا تھا بلکہ خوشی ہورہی تھی۔۔

کیونکہ محبت بھرا لمس وجاہت نے اسکی پیشانی پر چھوڑا تھا

یعنی اسے مجھ پر مان ہے کیا وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ ساری زندگی رہوں۔۔

خود سے بات کرتے ہوئے ہانیہ کو ایسا لگا جیسے وجاہت اسکے آس پاس ہی ہو۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت ہادی کو لئے آفس آچکا تھا مگر اب اسکا ہر چیز سے دل اچاٹ ہورہا تھا۔۔

بار بار اسکے سامنے ہانیہ کا ڈرا ہوا چہرا آرہا تھا

یہ سوچ کے ہی وجاہت کے لبوں پر مسکراہٹ آرہی تھی کہ جب اسنے جب محبت کی چھاپ اسکی پیشانی پر چھوڑی تو اسکے چہرے پر اس نے سکون دیکھا تھا

ایک پل کےلئے ڈرے ہوئے چہرے کو سرخ ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔۔

دھیرے دھیرے ہی وجاہت ہانیہ کو خود کے قریب کرنا چاہتا تھا

اور ان سب کیلئے ضروری تھا کہ وجاہت ہانیہ کے ساتھ وقت گزارے کسی ایسی جگہ جہاں وہ ہو اور بس ہانیہ۔۔

کچھ سوچتے ہوئے وجاہت نے پیرس جانے کا سوچا وہ بھی بزنس کا بہانا کرکے۔۔

اپنے گھر والوں کو وہ بہت اچھے سے جانتا تھا

اسکے نہ کہنے پر بھی وہ لوگ ہانیہ کو زبردستی وجاہت کے ساتھ بھیجیں گے

کیونکہ وہ یہ بات محسوس کر چکا تھا کہ اسکے گھر والے یہ چاہتے ہیں کہ ہانیہ اور وجاہت ایک ساتھ رہیں

اور آج کے واقعے سے یہ بات ثابت بھی ہوچکی تھی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہادی اپنے کیبن میں بیٹھا وجاہت اور ہانیہ کے بارے میں سوچ رہا تھا

وہ اس وقت بلکل پہلے والا ہادی نہیں لگ رہا تھا۔۔

پارٹی والی رات سب کچھ سننے کے بعد بھی ہادی نے ایک کوشش کی تھی یہ دیکھنے کیلئے کہ وجاہت اور ہانیہ کو ساتھ ملانے کی کوئی گنجائش ہے بھی کہ نہیں۔۔

مگر وجاہت کا رویہ دیکھ ہادی کو ایسا لگا جیسے اسے ہانیہ کے ساتھ رہنا بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔۔

نہیں میں کسی لڑکی کی زندگی ایسے برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا

ہانیہ جیسی لڑکی تو ہر لڑکے کا آئیڈیل ہوتی ہیں ۔۔

اور وجاہت اسے اپنی بیٹی کیلئے یوں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔۔

ہانیہ کیلئے ہادی کے دل میں ہمدردی آہستہ آہستہ کچھ اور ہی رنگ لے رہی تھی

جس سے ہادی تھوڑا گھبرا بھی رہا تھا کیونکہ اس کے کچھ بھی کرنے پر وہ اپنے قیمتی رشتے بھی کھو سکتا تھا۔۔

جسے کھونے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *