Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 37)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

وجاہت نے گھر میں ابھی کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔۔

وہ از خود سب کا ری ایکشن دیکھنا چاہتا تھا یہ خبر سن کے گھر والوں کا۔۔

ہاں البتہ ہانیہ کی خیریت وہ پہنچا چکا تھا۔۔

ریسیپشن پر ساری فرمالیٹی وہ پوری کر کے ڈاکٹر ناز سے ایک بار مل کر دوائیوں اور ہانیہ کی ڈائٹ کے مطالع سوالات پوچھ کر وہ ہانیہ کو گھر لے جانے کیلئے اسکے روم میں گیا

جہاں وہ لیٹی چھت کو گھور رہی تھی اور کسی گہری سوچ میں تھی۔۔

وجاہت اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا کسی کو اپنے پاس محسوس کرکے اسکے وجاہت کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کے مسکرا رہا تھا۔۔

چلیں گھر ؟ وجاہت نے پیار بھرے لہجے میں کہا مگر ہانیہ نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔۔

کیا آپ خوش ہیں ؟

ہانیہ نے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔

وجاہت کو ایک پل سمجھ نہ آیا اس وقت وہ یہ سوال کیوں کر رہی ہے۔۔

جانتی ہو سن شائن جب مجھے پتہ چلا تھا کہ نور ایکسپیکٹ کر رہی ہے تو یہ خبر سن کے ایک پل کو مجھے خوشی ہوئی مگر اگلے ہی پل مجھے بہت غصہ آیا تھا

کیونکہ اس خبر کے ساتھ مجھے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ وہ میرے بچے کو مارنے والی ہے۔۔

میں نے بہت مشکل سے اسے روکا ہمارے روز جھگڑے ہوتے تھے وہ کئی کئی دن مجھ سے ناراض رہتی تھی۔۔

ناراضگی میں وہ اپنے پاپا کے گھر چلی جایا کرتی تھی۔۔

یہ خوبصورت مرحلہ میں نے کبھی انجوائے نہیں کیا

پھر جب حور اس دنیا میں آئی تو میں مانو ساتویں آسمان پر چلا گیا تھا لیکن صرف چند پل کیلئے کیوں کہ اگلے ہی پل مجھے جو خبر ملی وہ میری ساری خوشیاں ہی کھا گئی۔۔

پھر نور سے ملا تو اس نے اپنے آخری وقت میں جو بات کہی وہ سن کر مجھے ایسا لگا جیسے جو کچھ بھی ہوا اس کا قصوروار میں ہی ہوں۔۔

پھر نور چلی گئی میری گود میں ایک بہت کمزور سی مگر بے حد خوبصورت بچی کو دے کر۔۔

میں جب جب حور کو دیکھتا تھا مجھے نور کے ساتھ کیا گیا برا سلوک یاد آتا تھا

میں نے وہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا تھا مجھے نہیں پتہ تھا کہ مجھے کبھی نور سے اس سب کی معافی مانگنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔۔

زندگی میں پہلی بار میں نے سیلفیش ہو کر نور کو اتنا پریشرائز کیا تھا کہ وہ حور کو اس دنیا میں لائے وہ نہیں چاہتی تھی مگر میں چاہتا تھا۔۔

حور ایک بہت ہی سینسیٹو اور کمزور بچی تھی میں اسکے لئے ہر چیز بہترین کرنا چاہتا تھا مگر میں اسے پیار نہیں کرپاتا تھا۔۔

اپنی زندگی کے وہ خوبصورت لمحے میں نے اپنی خودسری کی نظر کر دیئے تھے۔۔

وجاہت روم میں لگی ایک بچے کی تصویر کو دیکھتے ہوئے وہ سب کہہ رہا تھا۔۔

ہانیہ نے ایک بار بھی اسے نہیں ٹوکا بس خاموشی سے اسے سنتی گئی۔۔

مگر تم سوچ نہیں سکتی میں آج کتنا خوش ہوں ہانیہ میں یہ پل اور تب تک کے ہر پل کو جینا چاہتا ہوں جب ہماری اولاد ہماری گود میں آئے گی۔۔

میں تمہیں ایک شہزادی کی طرح رکھنا چاہتا ہوں ہر طرح سے تمہارا خیال رکھنا چاہتا ہوں اپنی اولاد کو اپنی گود میں لے کر خوشی سے پاگل ہونا چاہتا ہوں۔۔

میں وہ سب کرنا چاہتا ہوں جو میں حور کے وقت نہیں کرپایا۔۔

وجاہت کے چہرے پر ایک چمک تھی خوشی کی جسے ہانیہ نے پیار سے دیکھا۔۔

مگر وجاہت حور تو ابھی بہت چھوٹی ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں اس حالت میں اسے وہ توجہ دے پاؤنگی جسکی وہ حقدار ہے۔۔

ہانیہ نے اب اپنا خدشہ ظاہر کیا تو وجاہت کو سمجھ آیا کہ وہ اتنی دیر سے کن سوچوں میں گھری تھی۔۔

تم دوگی اسے توجہ اور محبت میں جانتا ہوں تم کر سکتی ہو ہاں بس تھوڑی احتیاط کی ضرورت ہے مگر تمہارے ساتھ میں ہوں سب گھر والے ہونگے سب کچھ اچھا ہوگا اتنا مت سوچو۔۔

میں کسی بات سے نہیں حور کیلئے پریشان ہورہی ہوں۔۔

سن شائن اپنے ملٹی ٹیلنٹڈ میاں کے ہوتے ہوئے تم پریشان ہورہی ہو۔۔

وجاہت نے کالر جھاڑ کے محض اسے ہنسانے کیلئے کہا اور واقعی ہانیہ اسکی اس حرکت پر مسکرا دی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہادی عالیہ بیگم کو گھر ڈراپ کرکے گاڑی ریورس کر کے پھر مین سڑک پر لے آیا اسکی پرنسس اپسیٹ تھی

اسے اسکا موڈ ٹھیک کرنا تھا نیلم کا موڈ کیسے ٹھیک ہوتا تھا وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔

مال جاکر اسنے سب سے پہلے نیلم کیلئے ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر لیا اور ویسا ہی ایک چھوٹا حور کیلئے کیونکہ وہ بھی تو اسکی چھوٹی سی گڑیا تھی۔۔

پھر نیلم کیلئے اسنے ایک خوبصورت فوٹو فریم لیا جسکا آرڈر وہ کافی دن پہلے دے چکا تھا مگر وہ باہر ملک سے بن کر آنا تھا تو ابھی تک بن کر نہیں آیا تھا پھر جب آیا تو ہادی کو موقع ہی نہ ملا اسے لینے جانے کا۔۔

پرانے فریم کا گلاس نیلم ٹھیک کروا چکی تھی جس پر پرنسس لکھا تھا۔۔

مگر اب جو فریم ہادی نے بنوایا تھا اس پر کوئین لکھا تھا عنقریب وہ اسے اپنی کوئین جو بنانے والا تھا۔۔

پھر کچھ اور شاپنگ کی نیلم کو تحائف لینا بہت پسند تھا وہ بھی صرف ہادی سے۔۔

ہادی یہ بات اچھے سے جانتا تھا۔۔

اسنے کچھ سامان حور کیلئے اور باقی گھر والوں کیلئے بھی لیا تھا سوائے وجاہت کے ابھی تک اس سے وہ تھوڑا ناراض تھا۔۔

پھر جب وہ گھر جانے لگا تو اسے آفس سے کال آنے لگی تو وہ گھر جانے سے پہلے آفس چلا گیا وجی وہاں نہیں تھا تو اسے ہی کام ختم کرنا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

سبھی گھر والے ہال میں بیٹھے ہوئے تھے وجاہت نے کہا تھا کہ وہ بس تھوڑی دیر میں ہانیہ کو لئے گھر آرہا ہے۔۔

شان صاحب کو ہادی گھر بھیج چکا تھا اور دادو کو بھی عالیہ بیگم نے ہانیہ کی طبیعت کے بارے میں مختصر بتا دیا تھا

نیلم ہال میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی اسکی نظر صرف دروازے پر ہی تھی۔۔

ان سب سے بیگانہ حور اپنے کھلونوں میں مصروف تھی۔۔

وہ اپنے آپ میں خوش رہنے والی بچی تھی کسی کو بھی زیادہ تنگ نہیں کرتی تھی ہاں بس اپنی ماما کے معاملے میں وہ بہت پوزیسو تھی اپنے پاپا کی طرح۔۔

وجاہت ویسے تو پہلے ہی کال کر کے بتا چکا تھا کہ ہانیہ ٹھیک ہے مگر جب تک گھر والے اسے نہ دیکھ لیں انہیں کہاں سکون ملتا۔۔

وجاہت ہانیہ کو لئے گھر میں داخل ہوا تو سب کو ہال میں دیکھ کے مسکرا دیا

لو جی ہمیں کیا پتہ تھا کہ ہمارے گھر والے ہمارے استقبال کیلئے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔۔

ہانیہ کے ساتھ سبھی ہلکا سہ مسکرا دئیے۔۔

نیلم تو فوراً ہی ہانیہ سے لپٹ گئی ۔۔

کیا ہوا چندا ہانیہ نے اسے خود سے الگ کر کے پیار سے دیکھا۔۔

سوری بھابھی میری وجہ سے آپ کی طبیعت بگڑی۔۔

نیلم کچھ اور کہتی وجاہت نے اسے بیچ میں ٹوک دیا۔۔

ایسا نہیں ہے گڑیا تم نے کچھ نہیں کیا وجاہت نے نیلم کو اپنے ساتھ لگاتے کہا۔۔

معافی تو مجھے مانگنی چاہئے اپنی پریشانی میں تمہیں بلا فضول ہی ڈانٹ دیا

وجاہت کے کہنے پر ہانیہ نے اسے دیکھا کہ اسنے نیلم کو ڈانٹا۔۔

نہیں بھائی وہ سب تو۔۔ نیلم کچھ اور بھی کہہ رہی تھی اتنے میں ہادی ہاتھ میں ڈھیر سارا سامان لئے گھر میں داخل ہوا۔۔

معافی تلافی کا سیشن ختم کرو تم دونوں اور ہانی کو بیٹھنے تو دو۔۔

وجاہت نے ایک بار پھر ہادی کو ہانیہ کو ہانی کہتے سنا تو اسے گھورنے لگا۔۔

ہادی نے بھی شرارتی مسکان وجی کو پاس کی تو وجاہت لب بھینچے ہانیہ کو دیکھ کے کہنے لگا۔۔

یہاں بیٹھو گی یا ریسٹ کروگی ۔۔

وجاہت سب لوگ یہاں ہیں میں روم میں اکیلے رہ کر کیا کروگی۔۔

ہانیہ کے کہنے پر وجاہت نے اسے صوفے پر بٹھایا جسے دیکھ ہانیہ کو ہنسی بھی آرہی تھی جیسے وہ خود تو بیٹھ نہیں سکتی تھی نہ۔۔

سبھی نے ہانیہ سے اسکی خیریت پوچھی دادو جو اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھیں انہوں نے تو اسے سینے سے لگا لیا تھا۔۔

میں ٹھیک ہوں بلکل ہانیہ نے مسکرا کر دادو سے کہا جو اسے فکرمندی سے دیکھ رہی تھی۔۔

ہاں جی اگر ٹھیک نہیں بھی ہیں تو میں سب کا موڈ ٹھیک کئے دیتا ہوں۔۔

ہادی سامان لئے صوفے پر بیٹھا جبکہ ایک ملازم دو ٹیڈی بئیر لے کر آیا اور اسے ہادی کے پاس ہی رکھ دئیے۔۔

یہ سب کیا ہے ۔۔ وجاہت جو اسکے بلکل سامنے بیٹھا تھا اتنے سارے تحفے تحائف دیکھ کے پوچھنے لگا۔۔

بے فکر رہو اس سب میں تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔۔ ہادی نے سامان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

وجاہت ہادی کے روٹھے لہجے پر مسکرا دیا۔۔ وہ جانتا تھا وہ اس سے کیوں ناراض ہے۔۔

تو پھر یہ سب کس کیلئے۔۔

تم نے میری پرنسس کو اپ سیٹ کیا بس اسی کو چئیر اپ کرنے کیلئے اسکی پسند کی چیزیں لے آیا۔۔

ہادی نے اب وجاہت کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اب یہ سب چونچلے تھوڑے کم کرو اور جتنی جلدی ہو سکے اس گھر سے روانہ ہوجاؤ۔۔

وجاہت نے یہ سب صرف مذاق میں کہا تھا کیونکہ اسکا آج موڈ بہت اچھا تھا اب ہمیشہ ہادی ہی اسے تھوڑی تنگ کر سکتا تھا یہ کام وجاہت کو بھی اچھے سے آتا تھا۔۔

ہادی سامان الگ کرنے میں ایسے دکھانے لگا جیسے اس نے وجاہت کی بات سنی ہی نہ ہو یہ دیکھ سبھی مسکرا دئیے۔۔

لو پرنسس یہ سب تمہارے لئے

کچھ شاپنگ بیگز اور بڑا والا ٹیڈی بئیر اسنے نیلم کو تھمایا

ہادی ان لوگوں میں سے تھا جو کوئی بھی کام چھپ کر نہیں کرتا تھا

اس کی سوچ ہی یہی تھی کہ وہ کچھ غلط نہیں کر رہا تو لوگوں سے چھپائے کیوں اور اسکی یہ عادت سب سے زیادہ وجاہت کو پسند تھی

نیلم نے مسکراتے ہوئے مشکور نظروں سے ہادی سے وہ سامان لیا اور اپنے ٹیڈی کو پکڑے کو صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

اسکے چہرے پر پھر سے خوبصورت مسکراہٹ آگئی جو صرف ہادی ہی لا سکتا تھا۔

پھر ہادی نے ایک ایک کرکے سب کو ان کے تحفے دیئے ویسے بھی وہ ہمیشہ جب بھی کچھ تحائف لاتا تھا تو سب کیلئے لاتا تھا..

میرے لئے کچھ نہیں لائے وجاہت نے مسکراتے ہوئے کہا تو ہادی نے اسے دیکھ کے کہا۔۔

نہیں میں غصیل اور اکڑو لوگوں کیلئے تحفے نہیں لاتا۔۔

ہادی کے بولنے پر وجاہت ہنس دیا۔۔

سبھی نے یہ بات نوٹ کی آج وجاہت ضرورت سے زیادہ ہنس رہا تھا جبکہ کچھ گھنٹے پہلے کا وجاہت تو کچھ اور ہی تھا جسے ہادی نیلم اور عالیہ بیگم نے دیکھا تھا۔۔

ٹھیک ہے تمہاری مرضی مگر اب تمہیں اپنے تحائف لینے کا بجٹ تھوڑا بڑھانا پڑے گا۔۔

وہ کیوں ؟؟ ہادی نے نہ سمجھی سے وجاہت کو دیکھا۔۔

وجاہت نے پہلے ہانیہ کو دیکھا جو اسے دیکھ کے مسکرا دی

کیونکہ اب تمہیں ایک اور گھر کے فرد کیلئے تحائف لینے ہونگے جو جلد ہی اس دنیا میں آجائے گا۔۔

وجاہت نے جس لہجے میں کہا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ کتنی خوشی سی یہ کہہ رہا تھا۔۔

کچھ پل تو سب ساکت رہ گئے اسکی اس بات پر مگر پھر سب سے پہلے ہادی نے اٹھ کر وجاہت کو گلے لگا لیا۔۔

باقی سب کو تھوڑا اور وقت لگا سمجھنے میں یا یقین کرنے میں۔۔

تو سچ کہہ رہا ہے میں پھر سے چاچو بننے والا ہوں یا نہیں اب تو میں پھوپھا بنوں گا۔۔

ہادی خوشی سے کہہ رہا تھا وجاہت بھی ہنستے ہوئے سب کو دیکھ رہا تھا۔۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب نے ہانیہ اور وجاہت کو گلے لگا لیا۔۔

ہادی نے حور کو گود میں اٹھا لیا۔۔

شان صاحب نے خوشی سے وجاہت کو گلے لگایا اور پھر محبت اور شفقت سے ہانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔

سب نے انہیں مبارک باد دی اور عالیہ بیگم نے جلدی سے ملازم سے کہا کہ سب کو منہ میٹھا کروائے۔۔

جانتی ہو حور تمہارا چھوٹا بھائی یا بہن آنے والی ہے۔۔

ہادی نے حور کو گود میں لئے کہا تو وہ نہ سمجھی سے بس سب کو مسکراتا دیکھ خود بھی کھلکھلا دی۔۔

وجاہت نے حور کو ہادی سے لیا اور اسے گلے لگا لیا۔۔

ہانیہ نے بھی اسے پیار کیا اور پیار سے اسے دیکھنے لگی۔۔

نیلم نے اپنے فون کے کیمرے سے انکا یہ خوبصورت مومنٹ محفوظ کرلیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *