Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 35,36)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

کیا ہوا کہیں نوکری ملی کیا۔۔؟؟

فرزانہ کچن کاؤنٹر پر سبزی بنا رہی تھی جب انکی نظر اس پر پڑی۔۔

نہیں اماں لگتا ہے قسمت ہی پھوٹ چکی ہے۔۔

وہ اپنے ہاتھوں میں لی ہوئی فائل کو دیکھ کے بولا جس میں اسکا اکیڈمیک ریکارڈ تھا۔۔

ہمیشہ خود کو خوش قسمت سمجھنے والا جسے ہر چیز اسکی سوچ سے بھی بڑھ کر ملی تھی

آج آزمائش کے اس مشکل وقت میں ہمت ہار رہا تھا۔۔

چلو کوئی بات نہیں فکر مت کرو جلد ہی تمہیں کوئی اچھی جاب مل جائے گی۔۔

فرزانہ نے اپنے اکلوتے خوبرو بیٹے سے کہا جو صوفے پر سر ہاتھوں میں دئیے بیٹھا تھا۔۔

مجھے تو سمجھ نہیں آتا اماں نوکری ہے نہیں اوپر سے دو بہنوں کی ذمہ داری ایک کا رشتہ تو ٹوٹ چکا وقت پر شادی نہ کرنے کی وجہ سے کہیں دوسری کے ساتھ بھی ایسا نہ ہوجائے۔۔

معظم فکر کیوں کرتے ہو جو اللہ نے اسکے نصیب میں لکھا ہوگا وہ ہوجائے گا۔۔

نصیب تو خدا نے میرا بھی اچھا لکھا تھا اماں مگر میں ہی نافرمان تھا۔۔

معظم اپنے ہاتھوں کے انگھوٹوں سے اپنی کنپٹیاں سہلاتے ہوئے بولا۔۔

میری جان تم نے ایسا کچھ غلط نہیں کیا میں جانتی ہوں ہانیہ کو طلاق دے کر تمہیں کافی پچھتاوا ہے مگر بیٹا وہ اس گھر کو وارث نہیں دے سکتی تھی اور تم تو میری اکلوتی اولاد ہو تمہاری اولاد دیکھنا تو میری بہت بڑی خواہش ہے۔۔

معظم نے ان کی بات پر ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا۔۔

لیکن یہ تو آپ مانتی ہیں نا کہ وہ اس گھر کیلئے بہت خوش قسمت ثابت ہوئی تھی۔۔

ہاں یہ تو ہے بہت پیاری بچی تھی مجھے تو آج بھی اتنی ہی عزیز ہے معصوم سی سب سے محبت کرنے والی مگر اسکے عیب کے آگے ہمیں کچھ سمجھ ہی نہیں آیا

اس کے ساتھ جو سلوک کیا شاید یہ سب اسکا ہی صلح ہے جو آج ہم اتنے پریشان ہیں۔۔

معظم نے زخمی سا مسکرا کے اپنی ماں کو دیکھا جو کہ کچھ نہ جانتے ہوئے بھی خود کو قصوروار سمجھتی ہیں اصل میں تو وہ کچھ جانتی ہی نہیں ہیں۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

اسلام و علیکم۔۔ مجھے آپ سے ملنا تھا کچھ ضروری کام تھا۔۔

وجاہت نے آفس پہنچتے ہی سب سے پہلا کام ڈاکٹر ناز سے بات کرنے کا کیا۔۔

وجاہت بیٹا میں اس وقت شہر سے باہر ہوں اور یہاں مجھے کچھ دن لگ جائیں گے کیا تم فون پر بتا سکتے ہو۔۔

ڈاکٹر کی بات سن کے وجاہت نے کچھ سوچتے ہوئے ہانیہ کی کنڈیشن ڈاکٹر سے ڈسکس کی۔۔

کیا تم شور ہو۔۔ جی بلکل ڈاکٹر میں نے نور کو دیکھا تھا جب وہ ایکسپیکٹ کر رہی تھی اسکی بھی بلکل یہی کنڈیشن ہوتی تھی۔۔

مگر وجاہت جیسے کہ تم نے بتایا کہ ہانیہ کا کہنا ہے کہ وہ ماں نہیں بن سکتی اسنے اپنی رپورٹس دیکھی ہیں تو ایسے سینسیٹو میٹر پر تم اس سے بات کر سکو گے۔۔

ہوسکتا ہے کہ اسے فوڈ پوائزنگ ہو کیونکہ فوڈ پوائزنگ میں بھی متلی وغیرہ ہوجاتی ہے منہ کا ذائقہ بگڑتا ہے تو کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔

ڈاکٹر کی بات وجاہت اچھے سے سمجھ آرہی تھی مگر نہ جانے کیوں اسے یقین تھا کہ ہانیہ ایکسپیکٹ کر رہی ہے۔۔

ہاں مگر سیفٹی کیلئے ٹیسٹ تو کیا جاسکتا ہے نہ۔۔

ائی مین یہ تو سائنس بھی کہتی ہے کہ ہیومن باڈی چینج ہوتی رہتی ہے اور خدا چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا۔۔

وجاہت نے ڈاکٹر کو اپنا پوائنٹ سمجھایا

ٹھیک کہہ رہے ہو اس معاملے میں لاپرواہی بھی نہیں برتی جاسکتی

تم ایسا کرو کہ کسی اور ڈاکٹر سے کانٹیکٹ کرلو میں دوں کیا کسی کا مشورہ یا پھر سب سے بہتر آپشن ہے کہ گھر میں ٹیسٹ کرلو

نہیں کسی اور ڈاکٹر سے تو نہیں ہاں گھر پر ٹیسٹ کے بارے میں میں ہانیہ سے بات کرسکتا ہوں۔۔

ٹھیک ہے پھر میں جیسے ہی شہر واپس آؤں گی تو ہانیہ کے میں خود سارے ٹیسٹ پھر سے کرونگی

ڈاکٹر سے بات کرکے وجاہت نے کال ڈسکنیکٹ کردی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت کو گئے ابھی کچھ گھنٹے ہی ہوئے تھے

اس بیچ وہ کئی بار ہانیہ کو کال کرچکا تھا اسکی طبیعت کا پوچھنے کیلئے۔۔

ابھی ہانیہ باہر لان میں بیٹھی دھوپ سے لطف اندوز ہورہی تھی

سردیوں کی دھوپ کافی سکون بخش رہی تھی۔۔

حور کو سنبھالنے کی ذمیداری آج نیلم نے لی ہوئی تھی کیونکہ وجاہت کے علاوہ عالیہ بیگم نے بھی نیلم سے کہا تھا کہ حور کو وہ دیکھے

ہیلو مائی سن شائن ۔۔

ہانیہ چیئر پر بیٹھی سوچوں میں گم تھی تبھی وجاہت نے اپنے بازو اسکے کندھوں پر رکھ کے جھک کر اسکے گال پر پیار کیا۔۔

ارے آپ اتنی جلدی آگئے۔۔ ہانیہ وجاہت کو آج جلدی گھر میں دیکھ کے حیران ہوگئی۔۔

ہاں کچھ اتنا خاص کام نہیں تھا اور پھر ذہن تمہاری طرف ہی لگا ہوا تھا تو سوچا کہ گھر ہی چلا آؤں۔۔

وجاہت اسکے ساتھ اسکے سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔

گرے پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے آستینوں کو تھوڑا فولڈ کئے وہ ہانیہ کے بلکل سامنے بیٹھا اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔

کچھ کھایا تم نے۔۔

وجاہت نے اسکا پیلا زرد چہرہ دیکھ کے کہا۔۔

نہیں صبح جو ناشتہ کیا تھا وہ بھی متلی کی صورت سارا باہر آگیا اب تو کچھ کھاتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا ہے پتہ ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میری آنتیں باہر آجائیں گی۔۔

ہانیہ نے تھکے ہوئے انداز میں کہا۔۔

ایک کام کہوں گا مانو گی۔۔

وجاہت نے سوچ کے کہا۔۔

کھانے کے علاوہ جو کہیں گے کرلوگی۔۔

ہانیہ تھوڑا سیدھا ہوکر بیٹھی ۔۔

دیکھو مجھے غلط مت سمجھنا مگر تمہاری کنڈیشن بلکل ویسی ہورہی ہے جیسی حور کو ایکسپیکٹ کرتے وقت نور کی تھی ۔۔

وجاہت نے بہت پیار سے کہا مگر ہانیہ اس کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔۔

میں نے آپ کو سب کچھ بتایا تھا کہ۔۔

مگر آپ کو لگتا ہے کیا کہ میں نے آپ سے جھوٹ کہا ہے میں نے خود اپنی ریپورٹس اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔۔

دیکھو سن شائن کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا خدا اگر چاہے تو سب ممکن ہے۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ ایک پل کو سوچ میں پڑگئی۔۔

ہانیہ کو سوچ میں گم دیکھ وجاہت کے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما

دیکھو ہم ٹیسٹ کر کے دیکھ سکتے ہیں آئی پرامس اگر یہ سب صرف میرا وہم ہوا تو میں تمہیں کبھی اس ٹاپک پر کچھ نہیں کہوں گا۔۔

وجاہت نے اسے پیار سے سمجھانا چاہا مگر ہانیہ کے ذہن میں اس وقت کچھ اور چل رہا تھا۔۔

ٹھیک ہے۔۔ کافی دیر سوچنے کے بعد ہانیہ نے ہامی بھری۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

مام یہ حور بہت شرارتی ہو رہی ہے

نیلم نے حور کو دیکھ کے کہا جو کہ صوفوں کے سہارے سے ادھر سے ادھر چل رہی تھی۔۔

ہاں تو تم کیا کم شرارتی تھی اپنے بچپن میں

عالیہ بیگم نے نیلم کو دیکھ کے کہا جو کہ حور کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی کہ کہیں وہ گر نہ جائے۔۔

مام مگر آپ تو کہتی تھی کہ میں نے آپ کو بلکل تنگ نہیں کیا۔۔

نیلم نے عالیہ بیگم کو معصومیت سے دیکھ کے کہا۔۔

ایسے تنگ نہیں کیا جیسے کہ آج کل کے بچے ہیں مگر جب تم چلنے لگی تھی تب تو مجھے بھی اسی طرح تمہارے آگے پیچھے بھاگنا پڑتا تھا تمہاری دادو کی سخت ہدایات تھی کہ گھر میں چاہے ہزاروں ملازم ہوں بچوں کی دیکھ بھال میں ہی کروں

تو میں نے ایسا ہی کیا اور میری بہو کو یہ سب مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا وہ پہلے ہی حور کو خود سنبھالتی ہے۔۔

عالیہ بیگم نے مسکرا کے کہا۔۔

مام بھابھی کو کیا ہوا ہے اتنی ویک لگ رہی ہیں۔۔

نیلم نے فکرمندی سے کہا۔۔

وجاہت کہہ رہا تھا کہ اسے فوڈ پوائزننگ ہوئی ہے تبھی ویکنینس ہورہی ہے۔۔

عالیہ بیگم نے وہی بتایا جو کہ وجاہت نے انہیں بتایا۔۔

تو پھر برو بھابھی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر کیوں نہیں جارہے ۔۔

تمہیں لگتا ہے وجاہت نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوا بلکہ اب تک تو وہ دنیا جہاں کی دوائیاں کھلا چلا ہوگا ہانی کو۔۔

عالیہ بیگم بولتے ہوئے مسکرا دی تو نیلم بھی ہنس دی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

وجاہت کمرے میں آیا تو ہانیہ کھڑکی سے ٹیک لگائے باہر لان کا منظر دیکھ رہی تھی

آنسو لڑیوں کی صورت اسکے گال پر بہہ رہے تھے

وجاہت نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تو اسنے منہ موڑ لیا۔۔

کیا ہوگیا سن شائن اب اس طرح منہ موڑو گی مجھ سے۔۔

وجاہت نے اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں لے کر کہا۔۔

میں آپ کو یہ خوشی نہیں دے سکتی وجاہت آپ کیوں مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔

روتے ہوئے اسنے وجاہت کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ کے کہا۔۔

میں نے اپنی سن شائن سے محبت کی ہے اور اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔۔

وجاہت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا مگر وہ اس وقت کچھ بھی سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔

وجاہت کے کہنے پر اسنے ٹیسٹ کیا تھا اور ایک بار نہیں تین چار بار مگر سارے ریزلٹ نگیٹیو تھے۔۔

2 سال لگے تھے اس زخم کو بھرنے میں وجاہت 2 سال۔۔

میں نے اپنا بکھرا وجود بہت مشکل سے سمیٹا تھا۔۔

اس ایک کمی کی وجہ سے دنیا نے مجھے دھتکار دیا تھا۔۔

آپ بھی مجھے چھوڑ دینگے جیسے پہلے سب نے چھوڑا تھا۔۔

ایک ادھورے انسان سے کوئی محبت نہیں کرتا۔۔

مجھے سب کچھ ایک بار پھر سے دیکھنا ہوگا لوگوں کی نظروں میں اپنے لئے حقارت ، نفرت ، غصہ ، بے بسی ، اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں آنسو سب کچھ دیکھنا ہوگا ایک دن آپ بھی مجھے چھوڑ دینگے۔۔

سب مجھے چھوڑ دینگے کوئی مجھ سے پیار نہیں کرے گا کوئی مجھے اپنا نہیں سمجھے گا میں پھر روؤں گی پھر تڑپو گی پھر مجھے لوگوں کی نظروں سے چھپنا پڑے گا۔۔

ہانیہ کے آنسو میں روانی آرہی تھی شرٹ پر گرفت بھی مضبوط ہوتی جارہی تھی اور ہر لفظ کے ساتھ اسکا بھرایا ہوا لہجہ اور بھاری ہورہا تھا۔۔

وجاہت کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اسے سمبھالے۔۔

اسے اس بات کا زرہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کے صرف ایک شک کا نتیجہ یہ نکلے گا اگر اسے پتہ ہوتا تو وہ سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر بس ہانیہ کا اچھے سے خیال رکھتا۔۔

وجاہت پلیز مجھے خود سے الگ مت کرنا میں آپ سے کبھی کچھ نہیں کہوں گی جیسا آپ کہو گے میں ویسا ہی کروں گی اگر اولاد کی خاطر آپ شادی کرنا چاہیں تو میں خود ۔۔۔۔

آگے کی بات بولنے سے پہلے ہی وجاہت نے ہانیہ کو خاموش کردیا پھر زور سے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔

میں مر کر بھی ایسا کچھ نہیں کروں گا تمہارا اور میرا رشتہ اتنا کمزور نہیں ہے۔۔

تم سے کس نے کہا تم ادھوری ہو میرا وجود تمہیں مکمل کرتا ہے اور پھر ہماری زندگی میں ہماری ایک بیٹی ہے تم کیوں یہ بھول جاتی ہو

وجاہت نے ہانیہ کو خود سے الگ کر کے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیئے۔۔

کسی کی نظروں کو تم تک پہنچنے سے پہلے مجھ سے ہو کر گزرنا پڑے گا سمجھی تم اب صرف ہانیہ نہیں مسز ہانیہ وجاہت عالم ہو۔۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کوئی بھی تمہیں اگر بری نظر سے دیکھے گا تو وہ پھر اس دنیا کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکے گا۔۔

میرے لئے سب سے ضروری تمہارا ساتھ ہے اس سے بڑھ کر مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔

وجاہت کے لفظوں میں شدت تھی کہ ہانیہ کو اپنا آپ سنبھالنا پڑا مگر اسکے زخم پھر سے تازہ ہوئے تھے جو کہ اتنی آسانی سے بھرنے والے نہیں تھے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ایک ہفتے بعد ۔۔

بھابھی یہ ڈریس دیکھیں کتنا خوبصورت ہے ہماری حور پر کتنا اچھا لگے گا ۔۔

ایک ہفتے بعد حور کی پہلی سالگرہ تھی تو سبھی گھر والے اسے شاندار طریقے سے منانا چاہتے ہیں

اسی لئے عالیہ بیگم نے آج زبردستی ہانیہ کو نیلم کے ساتھ شاپنگ پر بھیج دیا۔۔

پچھلے ایک ہفتے سے ہانیہ دوا کے اثر سے تھوڑی بہتر ہوگئی تھی مگر وہ زیادہ تر خاموش ہی رہتی تھی

اس بات کی وجہ تو خیر کسی کو معلوم نہ تھی سوائے وجاہت کے سب کو یہی لگتا تھا کہ بیمار پڑھنے سے اس کی طبیعت میں کافی چینج آگیا ہے۔۔

وجاہت نے ڈاکٹر ناز کی بتائی گئی دوائیاں اسے دیں جس سے وہ کافی بہتر ہوگئی تھی

آج بھی حور کے برتھ ڈے سیلیبریشن کیلئے نیلم شاپنگ پر جانا چاہ رہی تھی مگر وجاہت نے اسے ہادی کے ساتھ جانے سے منع کردیا عنقریب ان کی شادی کی تاریخ رکھی جانی تھی۔۔

شاپنگ وہ لوگ تقریباً 3 گھنٹے سے کر رہے تھے ہانیہ پہلے بھی نیلم کے ساتھ شاپنگ پر آچکی ہے کئی بار وہ اچھے سے جانتی ہے نیلم پورا مال گھوم کر ہی کچھ لیتی ہے

مگر آج اسے بہت زیادہ تھکن محسوس ہورہی تھی جبکہ نیلم اپنی انرجی کے مطابق یہاں سے وہاں بہت آرام سے گھوم رہی تھی۔۔

نیلم چندا ہمیں گھر چلنا چاہئے میں تھک گئی ہوں۔۔

ہانیہ نے تھکے ہوئے انداز میں کہا تو نیلم نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔

بھابھی ابھی تو ہم نے حور کا ڈریس لیا ہی نہیں گھر کیسے جاسکتے ہیں۔۔

نیلم نے بوتیک پر ڈریسز دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اچھا یہ بتائیں یہ کیسا لگے گا حور پر مجھے تو اس مال میں اس سے بہتر کوئی ڈریس ابھی تک نہیں لگا۔۔

نیلم نے وہی ڈریس ہانیہ کو ایک بار پھر دکھایا جو وہ اسے کوئی دسویں بار دکھا رہی تھی۔۔

نیلم تم پورا مال گھوم پھر کر بار بار یہیں آرہی ہو اور اسی ڈریس کو دیکھ رہی ہو

ہانیہ نے تھوڑے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا ویسے بھی وہ کچھ دنوں سے تھوڑی چڑچڑی بھی ہوتی جارہی تھی۔۔

ٹھیک ہے بھابھی یہی فائنل کرتے ہیں آپ رکیں میں اسکا آرڈر دے کر آتی ہوں مجھے یہ حور کے سائز کا نہیں لگ رہا اور پھر اپکا بھی تو بلکل ایسا ہی ڈریس بنوانا ہے۔۔

پتہ ہے بھابھی میں بھی آپ کے اور حور کے ساتھ پرنسس گاؤن پہنو گی کتنا اچھا لگے گا نہ۔۔

نیلم ہانیہ کے چڑچڑے لہجے کو بھلائے ایک بار پھر اس سے چہک کر بات کرنے لگی اور ہانیہ تھکن کے باوجود اسے دیکھ کے مسکرا دی۔۔

وہ نیلم سے بات کر ہی رہی تھی کہ اسے اسکا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔۔

ہاتھوں میں ڈھیروں شاپنگ بیگز پکڑے ہانیہ کو ایسا لگا وہ وہیں گر جائے گی۔۔

دسمبر کی ٹھنڈ میں بھی اسے پسینہ آرہا تھا

نیلم پلیز گھر چلو

ہانیہ نے خود کو سنبھال کر کہا تو نیلم سر اثبات میں ہلاتے ہوئے ہانیہ کے ساتھ مال سے باہر جانے لگی مگر اسکی کسی پر نظر پڑی تو وہ رک گئی

ہانیہ نے جیسے ہی ان لوگوں کو دیکھا تو وہ بھی نظر پلٹنا بھول گئی یہی کچھ ہال سامنے موجود ہستیوں کا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

حرا اگر معظم کو پتہ چلا کہ تم جاب کرنا چاہتی ہو تو وہ پتہ نہیں کیا کہے گا۔۔

فرزانہ اپنی بیٹی کو لئے مال سے باہر جارہی تھی جو کہ یہاں سیلز گرل کے طور پر جاب کی بات کرنے آئی تھی۔۔

اماں بھائی کی خود کی تو جاب ہے نہیں اور انہیں جاب کب ملے گی پتہ نہیں پرانی کچھ سیونگ سے گھر تو چل رہا ہے مگر مہرو کی شادی نہیں ہوسکتی۔۔

میری شادی نہ ہوئی خیر ہے مگر میں مہرو کی شادی رکنے نہیں دے سکتی۔۔

حرا سنجیدگی سے انہیں دیکھ کر بولنے لگی۔۔

یہ مت بھولو جس بھائی کی تم بات کر رہی ہو وہ جان چھڑکتا ہے تم پر۔۔

اماں بھائی نے جو کچھ کیا ہے نہ اپنی زندگی میں اپنی اس سو کالڈ محبت کے پیچھے بھاگ کر اسکا خمیازہ ہم سب بھگت رہیں ہیں۔۔

حرا تلخی سے کہتی مال سے باہر جانے ہی لگی تھی کہ کسی نے اسے آواز دی

حرا اور فرزانہ نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے حرا کی یونیورسٹی کی پرانی دوست نیلم تھی مگر اسکے ساتھ شاید ہانیہ ہے۔۔

ہاں وہ ہانیہ ہی ہے فرزانہ اور حرا نے غور سے اسے دیکھ کے سوچا۔۔

اوشین بلو کلر کے قیمتی سوٹ میں ملبوس جسے دیکھ کر ہی اسکی قیمت کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔۔

ہاتھوں میں کئی برانڈ کے شاپنگ بیگز پکڑے اور حیران نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہانیہ کی شخصیت میں نکھار آگیا تھا اب وہ کہیں سے بھی وہ پرانی ہانیہ نہیں لگ رہی تھی جو کہ اپنا پورا دن کچن میں گزار دیا کرتی تھی۔۔

کیسی ہو حرا 2 سال کے بعد تمہیں آج دیکھ رہی ہوں گریجوئیشن کے بعد تو تم غائب ہی ہوگئی تھی۔۔

نیلم نے خوشی سے اپنی پرانی دوست کو دیکھا اور اسکے گلے لگ گئی۔۔

حرا اور فرزانہ نیلم سے خوشی سے ملے تو نیلم نے ہانیہ کا تعارف حرا سے کروایا۔۔

حرا یہ میری پیاری سی بھابھی ہیں ہانیہ اور بھابھی یہ میری بہت اچھی اور گریجویشن کے ٹائم کی فرینڈ ہے حرا۔۔

حرا نے ہاتھ بڑھایا ہانیہ سے مصاحفے کیلئے مگر ہانیہ اس سے پہلے ہی اپنا چکرایا ہوا سر سنبھال نہ پائی اور زمین پر گر گئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ کو بے ہوش دیکھ نیلم گھبرا گئی اسکے تو ہاتھ پیر ہی پھول گئے تھے ہانیہ کو ایسے دیکھ کر ۔۔

فرزانہ اور حرا کی مدد سے وہ اسے گھر لے کر آئی

ہادی کو وہ بتا کر چکی تھی وہ گھر پر ہی موجود تھا جیسے ہی نیلم نے گھر میں گاڑی روکی ہادی لان میں ہی ان لوگوں کا انتظار کر رہا تھا۔۔

گاڑی کے رکتے ہی ہادی نے ہانیہ کو گاڑی سے نکالا اور اسے لئے گھر کے اندر داخل ہوا۔۔

نیلم بھی اس کے پیچھے بھاگی

فرزانہ اور حرا کو بھی ہانیہ کی فکر ہورہی تھی تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی چل دیں۔۔

پہلے تو وہ دونوں گھر کو دیکھ کر ہی حیران رہ گئی تھیں

گھر تھا یہ کوئی محل دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی اسی سمت چلتی گئی جس سمت نیلم گئی تھی۔۔

ہانیہ کے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے کمرہ دیکھا

ایسا کمرہ تو انہوں نے کبھی ٹی وی پر بھی نہیں دیکھا تھا

اتنا خوبصورت کمرہ اور کمرے میں رکھے بیڈ سے منسلک دیوار پر پورٹریٹ دیکھ کر وہ لوگ ایک پل کیلئے جم سے گئے۔۔

دیوار پر ہانیہ وجاہت اور حور کی بڑی سی تصویر تھی

جس میں وہ تینوں ایک دوسرے کو پیار سے دیکھ رہے تھے۔۔

تصویر اتنی خوبصورت اور مکمل تھی کہ حرا اور فرزانہ سے اپنی آنکھیں جھپکنا مشکل لگا۔۔

نیلم نے ان دونوں کو دیکھا تو وہ بھی تھوڑا شرمندہ ہوگئی کہ ان کی وجہ سے ان لوگوں کو بھی پریشانی ہوئی۔۔

سوری حرا اور انٹی ہماری وجہ سے آپ کو پریشانی ہوئی وہ دراصل بھابھی کی کچھ دن سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی مگر میں ضد کر کے انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔۔

آپ لوگوں کو میں ڈرائنگ روم تک لے جاتی ہو آپ لوگ تھوڑا ریسٹ کرلیں۔۔

نہیں بیٹا اگر برا نہ مانو تو ہم اس بچی کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں

فرزانہ نے التجائیہ انداز میں کہا جسے کمرے میں آتی عالیہ بیگم نے سنا۔۔

ارے کیسی بات کر رہی ہیں بہن آپ یہیں بیٹھ جائیں عالیہ بیگم نے نیلم کو اشارہ کیا تو وہ انہیں لئے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

جبکہ عالیہ بیگم ہانیہ کو دیکھنے لگی جو کہ بے ہوش پڑی تھی

ہادی اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا ڈاکٹر کو کال کر دی تھی

وجاہت کو بھی بتا دیا تھا جو کہ اپنا سب کام کاج چھوڑ کر گھر آرہا تھا۔۔

عالیہ بیگم نے پیار سے ہانیہ کے سرہانے بیٹھ کر اسکا سر سہلایا اور اسکے ماتھے پر پیار کیا۔۔

فرزانہ نے سامنے بیٹھی اس نفیس سی خاتون کو دیکھا جو کہ پہلے انہیں گھر کے ہال میں دکھی تھیں مگر وہ ہانیہ کو دیکھ کر اسکے ساتھ آنے کے بجائے کسی کے کمرے کی طرف بڑھی تھیں۔۔

مگر اب وہ ہانیہ کے پاس بیٹھے پیار سے اسکا سر سہلا رہی تھیں فکر انکے چہرے سے واضح تھی۔۔

مام پلیز برو سے کہنا مجھے ڈانٹے نہیں بھابھی نے کہا تھا مجھ سے کے گھر چلتے ہیں میں نے ڈریسز دیکھنے کے چکر میں دیر لگائی

نیلم ڈری ہوئی تھی عالیہ بیگم نے اسے دیکھا جو کہ ہانیہ کو غور سے دیکھتے ہوئے عالیہ بیگم سے مخاطب تھی۔۔

نیلم پہلے تو تمہیں ہانی کی بات ماننی چاہئے تھی دوسرا یہ سب ہوا تھا تو وہیں سے ہادی یا وجاہت کو کال کرتی اب دیکھو بچی کی کیا حالت ہوگئی ہے۔۔

عالیہ بیگم نے ایک بار پھر ہانیہ کے بے ہوش پڑے وجود کو دیکھ کے کہا۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا مام کچھ لوگوں کی مدد سے میں نے بھابھی کو گاڑی تک لے کر گئی اور گھر لے آئی راستے میں مجھے ہادی کی کال آئی تو میں نے انہیں سب بتایا۔۔

عالیہ بیگم کسی بات کا جواب دیتیں اس سے پہلے ہی وجاہت آندھی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا اور بغیر ادھر ادھر دیکھے سیدھے ہانیہ کے پاس گیا اور اسکا چہرا کرب سے دیکھنے لگا۔۔

سن شائن اٹھو کیا ہوا۔۔ اسکا چہرا تھامے ہوئے وجاہت نے کرب سے کہا

مام اسے کیا ہوا یہ بول کیوں نہیں رہی وجاہت نے عالیہ بیگم سے پوچھا مگر وہ کیا جواب دیتی

وہ برو میں بھابھی کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھی تو ہم واپس ہی آرہے تھے کہ یہ بے ہوش ہوگئیں۔۔

نیلم نے ڈرتے ہوئے کہا

کیا!!! مال میں بے ہوش ہوئی تھی تو یہ گھر کیسے آئی ہاسپٹل لے کر کیوں نہیں گئی مجھے کال کیوں نہیں کی

وجاہت نے غصے سے کہا تو نیلم ایک دم سے سفید پڑگئی ہادی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وجاہت کی دھاڑ سنی اور نیلم کا سفید پڑتا چہرا ۔۔

ڈاکٹر کو اندر لے جاکر وہ بغیر کسی سے کچھ کہے نیلم کو لئے کمرے سے باہر آگیا

عالیہ بیگم فرزانہ اور حرا کو لئے کمرے سے باہر آگئی ۔۔

وہ دونوں تو بس اس شاندار سے شخص کو دیکھ کے ہی حیران رہ گئیں

جو کہ ہانیہ کے بے ہوش پڑے وجود کو دیکھ کے پل پل تڑپ رہا تھا۔۔

Episode 36

ہادی نیلم کی کلائی تھامے اسے اسکے کمرے سے لے گیا۔۔

نیلم بھی بغیر کسی مزاحمت کے اسکے ساتھ چلتی جارہی تھی۔۔۔

نیلم کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ہادی نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور اسے پانی کا گلاس تھمایا جسے وہ سارا ایک گھونٹ میں ہی ختم کر گئی

گلاس سائڈ ٹیبل پر رکھ کے ہادی گہرا سانس لیتا اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا

نیلم نے جب ہادی کو ساتھ بیٹھتے ہوئے دیکھا تو وہ اسکے کندھے پر سر رکھے خاموشی سے آنسو بہانے لگی۔۔

میری وجہ سے ہانی بھابھی کی طبیعت خراب ہوئی ہے نہ۔۔

نیلم نے ہادی کے کندھے پر سر رکھے ہوئے ہی کہا۔۔

نہیں ایسا نہیں ہے اسکی کچھ دنوں سے طبیعت خراب ہی تھی تم تو اسکا موڈ فریش کرنے کیلئے اسے ساتھ لے گئی تھی۔۔

ہاں مگر میں نے بے وقوفی تو کی نہ جب وہ بے ہوش ہوئیں تو مجھے آپ کو یا برو کو کال کرنی چاہئے تھے مگر میں بھابھی کو گھر لے آئی۔۔

ہاں یہ تم نے غلطی کی ہے مگر جان بوجھ کر تو نہیں کی

ہادی نے اپنا سر اسکے سر سے ٹکرا کے کہا۔۔

کیا تمہیں برا لگا وجی کا تمہین ڈانٹنا۔۔

ہادی نے نیلم کو دیکھ کے کہا۔۔

نہیں مجھے بھلا کیوں برا لگے گا برو پریشان تھے اسی لئے ایسے کہہ دیا ہوگا

نیلم نے بھی تھوڑا سا سر اٹھا کر ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔

ہادی نے اسکے آنسو صاف کئے

تو پھر یہ آنسو کیوں بہا رہی ہو۔۔

میں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ میری اس بے وقوفی کی وجہ سے اگر بھابھی کو کچھ ہوجاتا تو۔۔

نیلم کے لہجے میں ڈر تھا جسے ہادی نے محسوس کر کے اسے کندھوں سے تھاما اور پیار سے سمجھانے لگا۔۔

دیکھو ہانی بھابھی کو کچھ نہیں ہوگا بے فکر رہو وہ مینٹلی بہت سٹرانگ ہیں۔۔

اور یہ آنسو بہانا بند کرو میں وجی کو دیکھ کے آتا ہوں بولتے ہوئے ہادی بے اختیاری میں نیلم کے ماتھے پر لب رکھ گیا اور پھر بغیر اسکی طرف دیکھے وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ڈاکٹر ہانیہ کا چیک اپ کر رہا تھا اور وجاہت دوسری طرف ہانیہ کا ہاتھ تھام کے بیٹھا ہوا تھا۔۔

ڈاکٹر اسے ہوا کیا ہے ۔۔

وجاہت نے فکرمندی سے ڈاکٹر سے کہا۔۔

دیکھیں انکی پلس بہت لو چل رہی ہے شاید کمزوری سے یہ حال ہے یا پھر کوئی مینٹلی صدمے کی وجہ سے انکا یہ حال ہوا ہے۔۔

میرا مشورہ مانیں تو انہیں جلد از جلد ہاسپٹل شفٹ کریں۔۔

ویسے آپکی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے۔۔

ڈاکٹر بولتے بولتے رکا اور وجاہت سے پوچھنے لگا

یہی کوئی 8 ماہ ہونے والے ہیں مگر آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔

میں انہیں کوئی دوا یا کوئی انجیکشن نہیں دینا چاہ رہا کہیں اگر یہ اکسپیکٹ کر رہی ہونگی تو پرابلم ہوجائے گی ۔۔

ڈاکٹر نے پیشاورانہ انداز اپناتے ہوئے کہا۔۔

ہاں مگر ہم ٹیسٹ کر چکے ہیں گھر پر ایسا کچھ نہیں ہے۔۔

وجاہت نے ٹینشن سے کہا۔۔

دیکھے گھر پر ٹیسٹ سو فیصد رزلٹ نہیں دیتے آپ ان کو جلد ہی کسی ہاسپٹل لے جائیں

وجاہت نے ڈاکٹر کی بات سنی اور کمرے میں داخل ہوتے ہادی کو دیکھ کر اسے گاڑی نکالنے کو کہا

ہادی بغیر کوئی سوال کئے سر اثبات میں ہلا کر چلا گیا اور وجاہت ہانیہ کو بازوؤں میں لئے گھر سے باہر چل دیا۔۔

عالیہ بیگم نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے نیلم کو ہدایات دیں کہ دادو کو اس بارے میں کچھ پتہ نہ چلے

وہ کب سے اپنی ساس کے پاس ہی جارہی تھی بار بار تاکہ انہیں ہانیہ کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلے

فرزانہ اور حرا ہانیہ کے کمرے سے نکل کر سیدھے اپنے گھر چلی گئیں تھی۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو بیک سیٹ پر لٹایا اتنے میں عالیہ بیگم بھی وہاں پہنچی تو وہ ہانیہ کے ساتھ ہی بیٹھیں اور اسکا سر اپنی گود میں رکھ لیا وجاہت ہادی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا آگے

اور ہادی جتنی اسپیڈ سے کار چلا سکتا تھا اسنے چلائی۔۔

بہت ریش ڈرائیونگ کے بعد وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے تو وجاہت ہانیہ کو لئے ایمرجنسی سیکشن میں لے گیا۔۔

ڈاکٹر ناز آج ہی شہر واپس آئی تھی اور آج ایمرجنسی میں انکی ہی ڈیوٹی تھی۔۔

وجاہت ہادی اور عالیہ بیگم کو وہ وہاں دیکھ کے چونک گئی۔۔

کیا ہوا تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو۔۔

ڈاکٹر ناز نے عالیہ بیگم سے سوال کیا۔۔

وجاہت نے انہیں دیکھا تو ان کے پاس گیا

ڈاکٹر میری وائف بے ہوش ہے 3 سے 4 گھنٹے ہوچکے ہیں مگر وہ ہوش میں نہیں آرہی ہے پلیز اسے دیکھیں۔۔

وجاہت نے التجائیہ انداز اپنایا ہوا تھا

ہادی اور عالیہ بیگم نے پہلی بار وجاہت کو ایسے دیکھا تھا ورنہ وہ ہر کسی سے ہمیشہ اکڑ کے ہی بات کرتا تھا۔۔

ڈاکٹر ناز بغیر کچھ کہے ہی وہاں سے چلیں گئیں ایمرجنسی وارڈ میں۔۔

وجاہت وہیں کاریڈور میں یہاں سے وہاں بے بسی سے چکر کاٹ رہا تھا عالیہ بیگم کو ہادی نے بینچ پر بٹھا دیا تھا

قریب آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر ناز باہر آئی تو وجاہت نے ان سے ہانیہ کے متعلق سوال کیا۔

ڈاکٹر میری وائف کیسی ہے۔۔

وجاہت ہانیہ ٹھیک ہے شاید مینٹل اسٹریس کی وجہ سے اور ویکنیس سے بے ہوش ہوگئی تھی۔۔

میں نے کچھ ٹیسٹ کئے ہیں اس کے ریپورٹ آتے ہی پتہ چل جائے گا اصل مسئلہ کیا ہے۔۔

ویسے وہ اتنے ٹائم سے بے ہوش تھی تو اسے ہاسپٹل اتنا لیٹ کیوں لے کر آئے تھے۔۔

وجاہت انکی اس بات پر خاموشی سے عالیہ بیگم کو دیکھنے لگا۔۔

خیر کوئی بات نہیں میں نے انجیکشن دیا ہے وہ کچھ گھنٹے بعد ہوش میں آجائے گی۔۔

ریپورٹس کے آتے ہی میں تم سے ڈیٹیل میں بات کروں گی

ڈاکٹر ناز نے وجاہت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا اور عالیہ بیگم سے مل کر دوبارہ ایمرجنسی وارڈ میں چلی گئیں۔۔

آپ لوگ گھر چلے جائیں اور مام نیلم کو دیکھ لینا میں نے غصے میں اسے ڈانٹ دیا تھا اس سے کہنا کہ میں پریشان تھا سمجھ نہیں آیا کیسے کہہ دیا اسے غصے میں۔۔

وجاہت نے تھکے ہوئے انداز میں خود کو سنبھالتے ہوئے بینچ پر عالیہ بیگم کے ساتھ بیٹھ کے کہا۔۔

میری پرنسس اپنے برو سے بہت محبت کرتی ہے وجی اسے بلکل برا نہیں لگا تمہارا اسے ڈانٹنا بلکہ وہ تو خود کو اس سب کا قصوروار ٹہرا رہی ہے۔۔

وجاہت نے ہادی کی طرف دیکھا جو کہ تھوڑے غصے سے اسے دیکھ کر کہہ رہا تھا۔۔

ہادی کو وجی پر غصہ آرہا تھا وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا نیلم پر کہ اسکا چہرا ایک دم لٹھے کی مانند سفید ہوگیا تھا جسے کاٹو تو خون بھی نہ نکلے۔۔

نیلم کو ایسے دیکھ کر ہادی کو بہت غصہ آیا تھا مگر وہ یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ وجی اس وقت پریشان بہت تھا۔۔

اسی لئے نیلم کا ہاتھ پکڑے ہادی اسے خاموشی سے وہاں سے لے گیا۔۔

میری طرف سے اسے سوری کہنا ہادی میں گھر آکر خود ایکسکیوز کرونگا اپنی گڑیا سے۔۔

اور اسے کہنا کہ ہانیہ کی یہ حالت اسکی وجہ سے بلکل نہیں ہے وہ بے فکر رہے جیسے ہی ہانیہ ٹھیک ہوتی ہے میں اسے گھر لے آؤنگا۔۔

ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں مگر ہمیں ہر بات بتاتے رہنا تمہاری دادو کو اس بارے میں کچھ نہیں پتہ میں گھر جاکر سہولت سے انہیں بتا دونگی۔۔

عالیہ بیگم نے وجاہت کا چہرا تھام کے پیار سے اس سے کہا اور ہادی کے ساتھ گھر کیلئے روانہ ہوگئیں۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

فرزانہ اور حرا گھر میں داخل ہوئیں تو دیکھا معظم ان کے ہی انتظار میں بیٹھا تھا

کہاں تھیں آپ لوگ میں کب سے آپ لوگوں کا انتظار کر رہا تھا

مہرو کو اکیلے گھر میں چھوڑ کر چلیں گئیں آپ

معظم غصے سے ان لوگوں سے بات کر رہا تھا جبکہ وہ دونوں خاموشی سے صوفے پر جاکر بیٹھ گئیں۔۔

کیا ہوگیا کہاں تھے آپ دونوں۔۔

معظم نے ان دونوں کو غور سے دیکھ کے کہا۔۔

ہانیہ کے گھر گئے تھے۔۔

فرزانہ نے معظم کو دیکھ کے کہا۔۔

ہانیہ۔۔۔ ہانیہ۔۔ یعنی ہماری ہانیہ کے گھر

معظم نے یقین دہانی کرنے کیلئے ان سے کہا۔۔

ہماری کہاں بھائی وہ تو کسی محل کی ہانیہ تھی۔۔

حرا نے اسے ساری بات بتائی کیسے وہ مال میں ملی اور پھر کیسے وہ اسکے گھر گئے۔۔

کیا بتاؤ بھائی اسکا گھر کسی محل سے کم نہیں تھا اور اسکا کمرہ مانو کسی جنت کا ٹکڑا لگ رہا تھا ہر چیز شفاف سفید رنگ کی تھی

انکا گھر اتنا بڑا تھا اور جتنا بڑا گھر تھا اتنا ہی بڑا اسکا باغیچہ تھا وہ بھی اتنا خوبصورت

اور اسکا شوہر بھائی ایسا لگتا تھا کوئی کہانیوں کا شہزادہ لمبا چوڑا خوبصورت وہ بھی حد سے کہیں زیادہ

اور اسکے گھر والے اسکے لئے اتنے پریشان ہورہے تھے

اسکی ساس تو بار بار انکا سر سہلا کر انکا ماتھا چوم رہی تھی نند بھی اتنی فکر مند تھی

دیکھ کے ہی لگ رہا تھا کہ ہانیہ بھابھی کی وہاں کتنی قدر ہے۔۔

اور انکا شوہر پاگل ہوا وا تھا انہیں بے ہوش دیکھ لگتا ہے بہت محبت کرتے ہونگے وہ ہانیہ بھابھی سے۔۔

حرا سوچتے ہوئے بولتے جارہی تھی بغیر معظم کی طرف دیکھے۔۔

امی آپ نے دیکھا تھا نہ وہ کمرے میں لگی تصویر جس میں وہ تھیں انکا شوہر اور وہ بچی کون تھی۔۔

بچی کے ذکر پر فرزانہ اور معظم نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔

جتنے پیار سے ہانیہ اور اسکے شوہر نے اسے لیا ہوا تھا دیکھنے میں تو ان کی ہی بیٹی لگ رہی تھی۔۔

فرزانہ نے معظم کو دیکھ کے کہا۔۔

جو اس بات پر زرا نہیں چونکا تھا۔۔

مگر امی۔۔ حرا کچھ کہتی کہ معظم نے اسے ڈانٹ دیا۔۔

حرا خاموش ہوجاؤ۔۔ اور امی کچھ کھانے کو ہے تو دیں مجھے بھوک لگی ہے۔۔

معظم کے ڈانٹنے پر حرا پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔۔

تمہیں حیرت نہیں ہوئی معظم ہانیہ کی بیٹی کے بارے میں سن کے۔۔

فرزانہ نے معظم کو غور سے دیکھ کے کہا۔۔

نہیں امی مجھے حیرت نہیں ہوئی اس میں کوئی کمی نہیں تھی وہ ماں بن سکتی ہے ہوسکتا ہے اسکے شوہر سے اسکی بیٹی ہو ۔۔

معظم نے اتنے آرام سے کہا مگر فرزانہ کے تو مانو پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی۔۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔

میں سچ کہہ رہا ہو امی میں نے اسکی جھوٹی ریپورٹ بنوائی تھی وہ آپ لوگوں کو اتنی عزیز تھی مجھے بس یہی راستہ دکھا تھا جب میں نے آپ کو پوتے کی خواہش کرتے سنا تھا۔۔

یہ سب میں نے اس کے علیحدگی اختیار کرنے کیلئے کیا تھا تاکہ اس سے طلاق کے بعد میں سونیا سے شادی کر سکو

سونیا کی یہی شرط تھی کہ میں اپنی پہلی بیوی کو طلاق دونگا تو ہی وہ مجھ سے شادی کرے گی۔۔

معظم کے اعتراف پر فرزانہ بس اسے دکھ سے دیکھے گئی اور معظم پشیمانی سے سر جھکائے وہیں بیٹھا رہا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ کو چند گھنٹوں بعد روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔

وجاہت اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا کہ اتنے میں ڈاکٹر ناز کمرے میں داخل ہوئیں۔۔

مجھے تم سے بات کرنی ہے زرا میرے آفس میں آؤ۔۔

ڈاکٹر ناز بولتے ہوئے ایک نظر ہانیہ کو دیکھ کے چلیں گئیں

وجاہت بھی انکے ساتھ ہی چل دیا۔۔

آفس میں آتے ہی ڈاکٹر نے وجاہت کو بیٹھنے کا کہا اور خود اپنی چئیر پر جاکر بیٹھ گئیں۔۔

کیا تم بتا سکتے ہو ہانیہ کی ایسی کنڈیشن کب سے ہے

وجاہت نے انہیں وہ سب بتایا جو کہ پچھلے دو تین ہفتوں سے وہ دیکھ رہا تھا۔۔

ہمم۔۔ وجاہت کی پوری بات سننے کے بات ڈاکٹر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔

تمہارا شک ٹھیک تھا ہانیہ ایکسپیکٹ کر رہی ہے وہ 6 ویک پریگنینٹ ہے

ڈاکٹر ناز کے بولنے پر وجاہت نے انہیں مسکرا کے دیکھا۔۔

آپ سچ کہہ رہی ہیں نہ ۔۔ وجاہت نے دوبارہ پوچھا جیسے پہلی بار اسے سنتے ہوئے یقین نہ آیا ہو۔۔

ہاں یہ سچ ہے ڈاکٹر ناز نے سنجیدگی سے کہا۔۔

مجھے تم سے کچھ سوالات کرنے ہیں۔۔

ڈاکٹر ناز کا سنجیدہ چہرا دیکھ کے وجاہت نے اپنی خوشی پر تھوڑا کنٹرول کیا

جی پوچھیں۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ ہانیہ ماں نہیں بن سکتی۔۔

ڈاکٹر کے سوال پر وجاہت نے انہیں حیرت سے دیکھا۔۔

مجھے ہانیہ نے بتایا تھا

وجاہت نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔۔

ہانیہ کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو مجھے۔۔

دیکھو مجھے سب کچھ بتانا یہ سب اسکے کیس اسٹڈی کیلئے جاننا ہے مجھے۔۔

وجاہت نے انہیں پھر سب کچھ بتایا اسکی پہلی شادی اسکے طلاق اور پھر اسکی وجاہت سے شادی سب کچھ بتایا۔۔

ہمم یعنی اسکے ایکس ہسبنڈ نے جھوٹ کہا ہانیہ میں ایسی کوئی پرابلم نہیں ہے وجاہت

وہ فیزیکلی ایک دم فٹ ہے مگر مینٹلی وہ بہت زیادہ ڈسٹرب ہے۔۔

وجاہت نے جب یہ سنا تو ایک دم اسکا جبڑا بھینچ گیا اور ماتھے کی رگیں ابھر گئیں ضبط کرنے سے۔۔

اس آدمی کے ایک جھوٹ کی وجہ سے ہانیہ آج اس حال میں تھی

اور اس سے پہلے دو سال وہ تڑپی ایک ایسے الزام پر جو کہ سرے سے ہی غلط تھا۔۔

لوگوں نے اسے دھتکارہ اسے منحوس کہا سوچتے ہوئے ہی اسے کچھ ہو رہا تھا اور وہ سب وہ اتنے وقت سے سہہ رہی تھی

پچھلے ایک ہفتے میں وجاہت نے ہانیہ کی جو حالت دیکھی وہی اسکے برداشت سے باہر تھی

ڈاکٹر ناز نے وجاہت کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا جو کہ غصہ ضبط کرنے پر ایسی ہورہی تھی۔۔

دیکھو وجاہت غصہ سے نہیں دماغ سے کام لو ہانیہ کو تمہاری ضرورت ہے وہ مینٹلی بہت ڈسٹرب ہے ابھی اسے اس بارے میں کچھ مت بتانا۔۔

فلحال تو وہ یہ خبر سن کے ہی شاک میں آئے گی کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا۔۔

مگر تم اسے پیار سے ہینڈل کرنا یہ سب خدا کی مرضی ہے فلحال یہی کہنا۔۔

اور جتنا ہوسکے اسے مینٹل اسٹریس سے دور رکھنا۔۔

پریگننسی میں چکر آنا یا بے ہوش ہوجانا خطرناک نہیں ہوتا ایسا ویکنیس سے ہوجاتا ہے مگر مینٹل اسٹریس اس حالت میں نہ صرف تمہارے ہونے والے بچے کی جان لے سکتی ہے بلکہ ہانیہ کی جان بھی جا سکتی ہے۔۔

ڈاکٹر ناز نے وجاہت کو بہت اچھے سے سمجھایا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔

جسے وجاہت نے خاموشی سے سنا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

بات سنو۔۔

ہانیہ ہوش میں آئی تو روم میں صرف ایک نرس کو دیکھ کے کہا۔۔

جی کہیئے۔۔

نرس ہانیہ کے پاس آئی تو ہانیہ نے نرس سے کہا۔۔

کیا میرے ہسبینڈ ہیں یہاں تو انہیں بلادیں۔۔

ہانیہ نے کہا تو نرس سر اثبات میں ہلا کر باہر چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد وجاہت ڈاکٹر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔۔

کیسی ہو ہانیہ ۔۔

ڈاکٹر ناز نے مسکرا کر ہانیہ سے سوال کیا۔۔

میں ٹھیک ہوں مگر مجھے ہوا کیا تھا۔۔

ہانیہ نے پہلے ڈاکٹر اور پھر وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔

کچھ نہیں بس بے ہوش ہوگئی تھی ایسی کنڈیشن میں ایسا ہو جاتا ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔۔

ڈاکٹر نے ہانیہ کا چیک اپ کرتے ہوئے مسکرا کے کہا۔۔

کیسی کنڈیشن؟ ہانیہ نے حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھ کے کہا۔۔

مبارک ہو تم ایکسپیکٹ کر رہی ہو

ڈاکٹر ناز نے پیار سے ہانیہ کے سر پر ہاتھ پھیر کے کہا

یہ اب ٹھیک ہے وجاہت بیٹا آپ انہیں تھوڑی دیر بعد گھر لے جا سکو گے بس ہانیہ کا اچھے سے خیال رکھنا اور دوائیاں وقت پر دینا میں ڈسچارج پیپرز ریڈی کرواتی ہوں۔۔

تھینک یو ۔۔ وجاہت نے بس اتنا کہا تو ڈاکٹر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کمرے سے چلی گئیں نرس کو ساتھ لئے۔۔

وجاہت ہانیہ کے پاس گیا اور اسکا ہاتھ تھام کے بیٹھ گیا۔۔

ہانیہ اسے ہی بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔

کچھ بولو گی نہیں ۔۔

وجاہت نے اسکا ہاتھ چوم کے کہا۔۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے وجاہت بولتے ہوئے ہانیہ کی آنکھوں میں نمی آگئی۔۔

میں نے کہا تھا نہ کہ اگر خدا چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا

وجاہت نے اسے تکیہ اونچا کر کے ٹھیک سے بٹھایا۔۔

مگر ہانیہ وجاہت کے سینے سے لگے خوب روئی۔۔

وجاہت نے بھی اسے آج رونے دیا۔۔ اسکی بھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے بے آواز ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *