Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 05)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 05)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
وجاہت ویڈیو دیکھتے دیکھتے کب سویا اسے پتہ نہ چلا اس کی آنکھ صبح سے 7 بجے کھلی تو اس نے ایک بار پھر نظر لیپ ٹاپ کی اسکرین پر کی تو دیکھا حور اکیلے کمرے میں بیڈ پر لیٹی رورہی تھی۔۔
یہ دیکھ وجاہت کا پارہ ایک دم ہائی ہوگیا اور وہ تیزی سے اٹھ کے حور کے کمرے میں گیا۔
وہاں جا کے دیکھا تو ہانیہ کہیں بھی نہیں تھی وجاہت نے حور کو چپ کروانا چاہا مگر حور تھی کہ گلہ پھاڑ کے رورہی تھی۔۔
اتنے میں ہی ہانیہ ہاتھ میں تھرماس لئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
وجاہت کی اس پر جیسے ہی نظر پڑی اسنے ہانیہ پر برسنا شروع کر دیا۔۔
تم کو میں یہاں گھومنے پھرنے کیلئے نہیں لایا ہوں ۔۔
کہاں تھی تم حور کب سے رورہی ہے ۔۔
وجاہت نے چلا کر ہانیہ کو کہا۔۔
وہ۔۔ وہ میں کچن میں گئی تھی۔۔
ہانیہ نے آج پہلی بار وجاہت کو اتنا غصہ کرتے ہوئے دیکھا تھا تو وہ تھوڑا گھبرا رہی تھی وجاہت سے۔۔
کیا کرنے گئی تھی تم کچن میں۔۔
وجاہت نے اسی ٹون میں ہانیہ سے سوال کیا۔۔
میں حور کیلئے پانی گرم کرنے گئی تھی۔۔
پانی گرم کرنے گئی تھی کیوں ؟؟
کیونکہ حور کو فیڈر دینی تھی اور اسکا سارا گرم پانی ختم ہوگیا تھا جو رات میں گرم کر کے لائی تھی میں۔۔
گرم پانی کی کیا ضرورت تھی منرل واٹر استعمال کیا جاتا ہے یہاں۔۔
وجاہت کو گرم پانی کرنے کا ہانیہ کا بہانا لگا ۔۔
حور بہت چھوٹی ہے اور بچوں کو نیم گرم پانی میں ہی فیڈر بنا کے دیتے ہیں کیونکہ ٹھنڈے پانی میں یہ پاؤڈر ملک نقصان دیتا ہے ایسا میری امی کہتی ہیں۔۔
وجاہت نے پوری بات سنی مگر ایک بار پھر ہانیہ پہ غصہ کرنے لگا۔۔
تو تم یہ کام گھر کے کسی بھی نوکر سے کہہ سکتی تھی حور کو اکیلا چھوڑ کے کیوں گئی۔۔۔
میں جب گئی تو حور سورہی تھی اور میں اسے ایسے ہی چھوڑ کے نہیں گئی اس کے اس پاس ڈھیر سارے کشن لگا دیئے تھے اور میں بس 5 منٹ میں ہی تو واپس آگئی۔۔
ہانیہ نے اپنی صفائی پیش کی۔۔
وجاہت نے ایک نظر بیڈ پر دیکھا کشن واقعی حور کے آس پاس لگے ہوئے تھے۔۔
یہ دیکھ وجاہت کمرے سے بغیر کچھ بولے چلا گیا ۔۔
اور اپنے کمرے میں آکر اسنے پوری رات کی ریکارڈنگ لگائی اور اسے فاسٹ فارورڈ موڈ پہ کر کے دیکھنے لگا۔۔
وجاہت کو یہ دیکھ کے بہت زیادہ حیرت ہوئی کہ حور رات میں کئی بار اٹھی اور ساتھ میں ہانیہ بھی اٹھی اور رات کو بھی وہ 5 سے 7 منٹ کیلئے کمرے سے باہر گئی اور پھر جب واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں وہی تھرماس تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے تھا پھر اسنے حور کو فیڈر بنا کے دی اسے گود میں لئے بیٹھی رہی اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہی تھا ہانیہ پوری رات ہی نہیں سوئی تھی۔۔
یہ سب دیکھ وجاہت کو بہت شرمندگی ہوئی کہ بلا فضول ہی اسنے ہانیہ کو اتنی باتیں سنا دیں۔۔
مگر اپنے کئے کی معافی وہ مانگ نہیں سکتا تھا اور نہ ہی مانگنا چاہتا تھا ہاں وہ پشیمان ضرور تھا جسکا اندازہ وہ کسی کو بھی ہونے نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔













ناشتے کے وقت نیلم ہانیہ کو اسکے کمرے میں بلانے گئی تو ہانیہ حور کو تیار کر رہی تھی۔۔
بھابی چلیں ناشتہ کرتے ہیں دادو آپ کو بلا رہی ہیں۔۔
نیلم نے پیار سے ہانیہ کو مخاطب کیا۔۔
ٹھیک ہے بس حور کو ریڈی کردوں پھر چلتے ہیں۔۔
ہانیہ نے مسکرا کے مصروف سے انداز میں نیلم کو جواب دیا۔۔
پھر حور کو ریڈی کر کے ہانیہ اور نیلم ساتھ ہی ڈائیننگ ٹیبل تک گئے۔۔
اسلام وعلیکم۔۔ ہانیہ نے سب کو مشترکہ سلام کیا۔۔
سبھی افراد نے ہانیہ کے سلام کا جواب دیا اور عالیہ بیگم نے حور کو ہانیہ سے لے لیا ۔۔
بیٹا آپ آرام سے ناشتہ کرو میں ناشتہ کر چکی ہوں تو میں حور کو سنبھال لونگی۔۔۔
ہانیہ نے حور کو عالیہ بیگم کو دے کر ناشتہ کیا۔۔
وجاہت آج معمول سے ہٹ کر ناشتہ کرنے ٹیبل پر آیا تو کسی نے نہیں بس دادو نے اسے ضرور ٹوک دیا۔۔
برخودار آج آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔
دادو کی بات پر نیلم مسکرانے لگی جسے عالیہ بیگم نے آنکھیں دکھا کر خاموش رہنے کا کہا۔۔
دادو میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا اسی لئے بھوک رہی ہے اگر آپکو میرا ناشتہ کرنا اچھا نہیں لگ رہا تو میں چلا جاتا ہوں۔۔
ارے بیٹا اتنی صفائی کیوں دے رہے ہو ہم نے تو کچھ پوچھا ہی نہیں خیر تم بچے ناشتہ کرو ہم تو ناشتہ کرچکے چلو عالیہ ہم بھی تھوڑا حور کے ساتھ باتیں کرلیں۔۔
دادو اور عالیہ بیگم ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کر چلی گئی شان صاحب ہانیہ کے آنے سے پہلے ہی ناشتہ کرکے اپنے اسٹڈی روم میں جا چکے تھے اب ڈائننگ ٹیبل پر وجاہت ہانیہ اور نیلم تھی بس ۔۔
وجاہت ہانیہ سے ایکسکیوز کرنا چاہتا تھا پر نیلم کی موجودگی میں وہ ایسا کر نہیں پارہا تھا ۔۔
اور نیلم تو ہانیہ کے ساتھ باتوں میں ہی مگن تھی اور ہانیہ بھی نیلم سے ایسے باتیں کر رہی تھی کہ جیسے اسے کتنے سالوں سے جانتی ہو۔۔
کوفت زدہ ہو کے وجاہت ٹیبل سے اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا ۔۔
آج اسے آفس نہیں جانا تھا بلکہ 11 بجے کی اسکی ائرلینڈ کی فلائیٹ تھی تو وہ ہانیہ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر 9 سے 10 بج گئے تھے پر ہانیہ ایک بار بھی اس سے بات کرنے یا کچھ پوچھنے نہیں آئی تھی۔۔
اب غصے میں آکر وجاہت نے اپنا سامان اٹھایا اور ایئرپورٹ جانے کیلئے دادو اور باقی سب سے ملنے چلا گیا۔۔
بھاڑ میں جائے یہ لڑکی میں نے کونسا گناہ کیا ہے جو اس سے معافی مانگو۔۔
یہ سوچ کہ اس نے اپنا سامان نوکر کو دیا گاڑی میں رکھنے کیلئے اور دادو کے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
دادو کے کمرے میں گیا تو دیکھا عالیہ بیگم نیلم اور ہانیہ حور سمیت دادو کے کمرے میں ہی موجود تھی ۔۔
وجاہت نے اپنے جانے کی اطلاع دی تو دادو نے بس اتنا کہا ۔۔
ٹھیک ہے بیٹا جب وہاں پہنچ جاؤ تو ہمیں اطلاع کر دینا جاؤ اللہ کی حفاظت میں ۔۔
دادو یہ بول کے ایک بار پھر ہانیہ کی طرف متوجہ ہوگئی تو وجاہت ایک نظر حور اور ہانیہ پہ ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔۔
کمال ہے بہو کیا آگئی بیٹے کو ہی بھول گئے سب۔۔
وجاہت بڑبڑاتے ہوئے گھر سے نکلا۔۔
اور گاڑی میں بیٹھ کر ائیرپورٹ کیلئے روانہ ہوگیا۔۔












وجاہت کو ائیرلینڈ گئے 4 ماہ ہوگئے تھے ۔۔
وہ وہاں کسی پراجیکٹ کے سلسلے میں گیا تھا۔۔
یہاں آنے کے بعد وہ روز ہی ہانیہ اور حور کو اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دیکھتا تھا کمرے میں موجود ہانیہ کی ایک ایک بات پر وہ نظر رکھتا تھا ۔۔
مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وجاہت چاہ کر بھی ہانیہ کی کوئی غلطی اور کوتاہی دیکھ نہ پایا تھا حور کے معاملے میں ۔۔
ایک دو رات اسکی بار بار جاگتے ہوئے گزری تو اسنے راتوں کو سونا ہی چھوڑ دیا تھا اور یہ بات شاید عالیہ بیگم نے نوٹ کی تھی۔۔
اسی لئے وہ فجر پڑھنے کے بعد حور کو ہانیہ کے پاس سے لے جاتی تھیں اور ہانیہ پھر فجر کے بعد سے لے کر صبح 9 بجے تک سوتی تھی ۔۔
وجاہت دن بھر کے کام کے بعد جب اپنے ہوٹل کے روم میں آرام کرتا تو وہ ہانیہ اور حور کی دن بھر کی مصروفیات دیکھتا تھا۔۔
ہانیہ اور حور دن کے وقت کم ہی ہوا کرتی تھیں روم میں شاید وہ سب گھر والوں کے ساتھ رہتی تھی۔۔
لیکن بیچ بیچ میں وہ کمرے میں آتی تھی حور کو لے کر کبھی اسے سلانے کیلئے کبھی اسے تیار کرنے کیلئے کبھی اسکا پیمپر چینج کرنے کیلئے۔۔
ایسا کوئی کام نہ تھا جو ہانیہ حور کا نہ کرتی ہو قریب ایک ماہ تک ہانیہ کی طرف سے وجاہت کو کوئی لاپرواہی نہ دکھی تو وجاہت نے ہانیہ پر نظر رکھنا چھوڑ دیا۔۔
اسے یہ یقین ہوگیا تھا کہ ہانیہ اسکی بیٹی کا بہت اچھے سے خیال رکھتی ہے۔۔
وجاہت ہفتے دو ہفتے بعد گھر پر کال کیا کرتا تھا مگر ہانیہ کو کبھی کال نہیں کی
اور نہ اس پورے عرصے میں ہانیہ نے وجاہت سے کبھی بات کی
گھر والے یہی سمجھتے تھے کہ وجاہت ہانیہ کو کال کرتا ہوگا اسی لئے کبھی کسی نے ہانیہ کو وجاہت سے بات کرنے پر اصرار نہیں کیا۔۔












ہانی میری جان۔۔
ادھر آؤ۔۔
دادو نے پیار سے ہانیہ کو بلایا۔۔
اس عرصے میں ہانیہ اپنے ماں باپ کے گھر کی طرح یہاں بھی سب کیلئے ہانیہ سے ہانی ہوگئی تھی بس نیلم ہی اسے بھابی کہتی تھی باقی سب اسے ہانی ہی کہتے تھے۔۔
اور دادو اسے پیار سے ہانی میری جان ہی کہہ کر پکارتی تھی۔۔
جی دادو بلایا اپنے۔۔
ہانیہ نے احترام سے جواب دیا۔۔
بیٹا آج شام کو وجاہت واپس آرہا تھا تو میں چاہتی ہوں کہ تم اسے لینے ائیر پورٹ جاؤ۔۔
دادو کی بات پر ہانیہ تھوڑا گھبرا گئی۔
دادو اسکی کیا ضرورت ہے وہ خود ہی آجائیں گے نہ ڈرائیور لے آئے گا وجاہت کو۔۔
ہانیہ نے بہانا بنایا۔
نہیں بیٹا آپ ہی جاؤ۔۔
دادو کے اصرار پر ہانیہ نے انکی بات مان ہی لی۔۔
سبھی ہانیہ سے بہت محبت کرنے لگے تھے ۔۔
یہ دیکھ سعید صاحب اور فاطمہ بھی مطمئن تھے کہ انہوں نے اتنی جلد بازی میں فیصلہ کر تو دیا تھا مگر وہ تھوڑا ڈر بھی رہے تھے ۔۔
مگر ہانیہ کو خوشحال دیکھ اب سب خوش تھے۔۔
اور جو لوگ ہانیہ پر مصنوعی ترس کھایا کرتے تھے اب وہی لوگ اسے رشک سے دیکھتے تھے۔۔
وجاہت سے شادی کر کے وہ بیوی نہ سہی مگر ایک بہو ایک بھابی سب سے بڑھ کر حور کی ماں بن گئی تھی اور دنیا کی نظروں میں وہ وجاہت عالم کی بیوی بھی تھی۔۔۔
ہانیہ ائیرپورٹ پہنچ چکی تھی اور اب وجاہت کا انتظار کر رہی تھی۔۔
وجاہت کی فلائٹ لینڈ کر چکی تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد ہانیہ کی نظروں نے وجاہت کو دیکھا بلیک پینٹ کے ساتھ گرے شرٹ پہنے وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا ہانیہ نے شاید پہلی بار اسے اتنی غور سے دیکھا گھنی داڑھی مونچھیں آج بھی نفاست سے اسکے چہرے پر سجی تھیں بھوری آنکھوں میں آج بھی سنجیدگی تھی۔۔
ہانیہ کو اسے دیکھنا اچھا لگ رہا تھا اور وہ دیکھ بھی سکتی تھی اسکا محرم جو تھا۔۔
ایک دم وجاہت کی نظر ہانیہ پر گئی تو وہ اسے وہاں دیکھ کے چونگ گیا۔۔
وجاہت کو اپنی طرف دیکھ کے ہانیہ نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ۔۔
جبکہ وجاہت بھی ہانیہ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔
ان چار ماہ میں ہانیہ پوری طرح سے بدل گئی تھی سنہری رنگت میں اب سرخی بھی شامل ہوگئی تھی۔۔
بلیک شارٹ شرٹ پر بلیک کلر کی ہی کیپری پہنے گلے میں سرخ رنگ کا ڈوپٹہ پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
ہانیہ کو دیکھتے ہوئے وجاہت نے اپنی چال اور دھیمی کردی تھی۔۔
ہانیہ کو وہ جیسے چھوڑ کے گیا تھا وہ ویسی بلکل نہیں لگ رہی تھی اور سب سے منفرد جو اسے لگی وہ اسکے بالوں کی کٹنگ تھی
اسکے بال زیادہ لمبے نہ تھے مگر اب ان بالوں میں اسنے فل لئیر کٹنگ کروالی تھی اور فرنٹ سے بھی فرینچ کٹ کروایا تھا جو اسکے چہرے پر حد سے زیادہ سوٹ کر رہا تھا
وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا کہ ہانیہ کو احساس بھی نہ ہوا اور وجاہت اسکا بھرپور جائزہ بھی لے چکا تھا وہ بھی اتنی سی دیر میں ۔۔
اور وہ اسے دیکھ بھی سکتا تھا محرم جو تھی وہ اسکی۔۔
ہانیہ کے قریب آکر وجاہت نے اس سے سوال کیا۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟
وجاہت کے سوال پر ہانیہ کو سہی کی تپ چڑھی اور وہ خود کو دل ہی دل میں کوسنے لگی کہ کیوں اسنے دادو کی بات مانی ۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔
ہانیہ نے وجاہت کے سوال پر اسے صرف سلام ہی کیا۔۔
وعلیکم السلام۔۔ تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔
خوشی سے نہیں آئی دادو کے کہنے پر آئی ہوں۔۔
اب ہانیہ کے جواب پر وجاہت کو تپ چڑھی ۔۔
تو کس نے کہا تھا ان کی بات ماننے کیلئے۔۔
وجاہت نے ایک بار پھر طنزیہ لہجہ اپنایا ۔۔
ہمیں ہمارے بڑوں نے اپنے بڑے بزرگوں کی ہر بات ماننا ہی سکھایا ہے۔۔
ہانیہ بھی کونسا پیچھے ہٹنے والی تھی۔۔
ویسے مجھ سے شادی کرکے تم تو بلکل بدل ہی گئی خود کو ہمارے لائف اسٹائل کے مطابق ڈھال ہی لیا۔۔
ایک اور طنز۔۔۔
یہ کل ہی کروایا ہے۔۔
ہانیہ اچھے سے سمجھ رہی تھی وجاہت کا اشارہ کس طرف ہے۔۔
آپکے آنے کی خبر کل ہی ملی دادو کو آپ کے گھر والے کافی خوش بھی ہیں آپ کے آنے سے تو دادو نے زبردستی مجھے نیلم کے ساتھ شاپنگ پر بھیجا اور پھر اسکے بعد سیلون۔۔
نیلم کی پسند کی میں نے شاپنگ کی اور پھر اسی کے اسرار پر یہ لک بھی کیری کیا ۔۔
ہانیہ نے چلتے ہوئے وجاہت کو تفصیل سنائی اور ساتھ میں یہ بھی جتا دیا کہ یہ سب اسنے وجاہت کیلئے بلکل نہیں کیا۔۔
اوہ تو یعنی بہت خرچہ کیا ہے آپ نے خود پر۔۔
وجاہت نے اب کی بار کوئی طنز نہیں کیا تھا مگر ہانیہ کو یہ طنز ہی لگا۔۔
آپ بے فکر رہیں سارے بل میں نے اپنے کارڈ سے پے کئے ہیں ہر مہینے مجھے میری سیلری مل رہی ہے اور خود پر خرچہ بھی میں خود کر سکتی ہوں۔۔
تم نے پے کیوں کیا اور نیلم نے کچھ نہیں کہا۔۔
وجاہت نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے ہانیہ سے سوال کیا۔۔
نیلم ایک بہت سمجھدار لڑکی ہے وہ اتنے سوال نہیں کرتی ۔۔
ہانیہ یہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گئی جبکہ وجاہت نے ہانیہ کا جواب سن کے اپنے لب بھینچ لئے جیسے خود پر ضبط کر رہا ہو ۔۔













ہانیہ مسلسل وجاہت کو زچ کر رہی تھی اور اس سب کا کریڈٹ خالصتاً ساجدہ بیگم کو جاتا تھا۔۔
انہوں نے ہی ہانیہ میں اتنی ہمت پیدا کی تھی کہ وہ وجاہت کی ہر بات کا جواب دیا کرے۔۔
کیونکہ وہ یہ بات شادی والے روز ہی سمجھ گئی تھی کہ ہانیہ وجاہت سے گھبراتی ہے۔۔
انہوں نے ہانیہ کو وجاہت کے کمرے میں ہی رہنے کا کہا تھا مگر کچھ گھنٹے بعد ہی ہانیہ حور کے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔
اور ساجدہ بیگم اپنے پوتے کو بھی اچھے سے جانتی تھیں۔۔
اسے ڈرپوک لوگوں سے چڑ ہوتی تھی۔۔
ہانیہ کو بھی اسنے اسی لئے چنا تھا کیونکہ اسنے اپنے لئے وجاہت کے سامنے شرائط رکھی تھیں۔۔
اور وجاہت کو بھی ہانیہ مضبوط کردار کی لگی اسی لئے اسنے اسکی تمام شرائط قبول کی تھیں۔۔
