Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 23,24)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

12 گھنٹے کے سفر کے بعد وہ لوگ پیرس پہنچے ۔۔

اس وقت یہاں رات کے 11 بج رہے تھے۔۔

کھانا وہ لوگ راستے میں ہی ایک ریسٹورنٹ سے کھا چکے تھے۔۔

یہاں پر ہادی کے والد جمشید صاحب کا پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ تھا جسکی چابی ہادی اسے دے چکا تھا۔۔

جمشید صاحب چونکہ الگ الگ ملک گھومتے رہتے تھے اسی لئے وہ اس وقت کینیڈا میں تھے۔۔

وجاہت ہانیہ اور حور کو لئے اسی پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ میں لے گیا۔۔

وہ پہلے بھی پیرس آچکا تھا مگر ہمیشہ ہوٹل میں ہی اپنا اسٹے کرتا تھا۔۔

اسے سخت ناپسند تھا کسی کو ڈسٹرب کرنا یہ کوئی اسے ڈسٹرب کرے ۔۔

گھر کا ایک ملازم وجاہت اور اسکی فیملی کو ائیرپورٹ لینے آیا تھا ۔۔

مگر گھر پہنچ کر ہی وجاہت نے اسے واپس بھیج دیا اور صرف صفائی والوں کو صبح آنے کا کہا وہ بھی صرف 2 گھنٹے کیلئے۔۔

یہ کافی بڑا اپارٹمنٹ تھا جو کہ اٹالین طرز کا بنا تھا

ہر چیز ہی یہاں سفید رنگ کی تھی جو اس اپارٹمنٹ کو اور کشادہ اور خوبصورت دکھا رہی تھی سفید ہی ٹائلز سے بنا صاف شفاف چمکتا ہوا فرش تھا اور ہر چیز سلیقے سے سجائی ہوئی تھی جو کہ کسی کے اعلیٰ ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھی۔۔

لگ ہی نہیں لگا تھا کہ یہ گھر مہینوں بند رہتا تھا۔۔

ہانیہ کو وہ گھر بہت زیادہ پسند آیا تھا ۔۔

اس اپارٹمنٹ میں 3 کشادہ کمرے بھی تھے ایک جمشید صاحب کا تھا دوسرا ہادی کا تھا

ایک بڑا سا ہال تھا جس میں خوبصورت سے صوفوں کے ساتھ جدید ڈیزائن کے ٹیبل تھے اور اسکے ساتھ ہی اوپن کچن اور ٹی وی لاونج تھا۔۔

تیسرا کمرہ ہادی نے وجاہت کیلئے سیٹ کروایا تھا کہ کبھی تو وہ اس گھر میں آئے گا۔۔

اور ہادی نے وہ کمرا کبھی کسی کو استعمال بھی کرنے نہیں دیا تھا۔۔

ہادی اپنے دوست سے بہت محبت کرتا تھا کیونکہ ایک اسی کی بدولت ہی تو وہ اس کے گھر میں رہتا تھا جیسے وہ اسی کا گھر ہو اسکی فیملی کو اپنی فیملی مانتا تھا اگر وجاہت نہ چاہتا تو ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔۔

شان صاحب اور عالیہ کتنا ہی ہادی سے محبت کرتے مگر اگر وجاہت کو اسکا وہاں رہنا اچھا نہیں لگتا تو وہ کبھی اس گھر میں نہیں رہتا۔۔

وجاہت ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کے حور کو گود میں لئے جو کہ سورہی تھی کمرے میں داخل ہوا۔۔

کمرے میں کںگ سائز بیڈ سے منسلک دیوار پر وجاہت کی بڑی سی پورٹریٹ لگی ہوئی تھی

جس میں وجاہت بلیک ٹو پیش میں ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے آنکھوں پر کالا چشمہ پہنے مغروریت سے کھڑا تھا۔۔

ہانیہ نے وہ پورٹریٹ بہت پیار سے دیکھی۔۔

وجاہت نے حور کو بیڈ پر لٹایا اور ہانیہ کو اپنی گرفت میں لے کر اسکے کان میں بولا۔۔

کبھی مجھے بھی اتنے پیار سے دیکھ لیا کرو میری تصویر کو دیکھ کے تمہیں کیا ملے گا۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ مسکرا دی۔۔

میں تو آپکی تصویر دیکھ رہی ہوں کیونکہ اس میں آپ بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں۔۔

ہانیہ نے نظریں ابھی بھی تصویر پر سے نہیں ہٹائی تھی۔۔

وجاہت نے اسکا رخ اپنی طرف کرکے شرارت سے بولا۔۔

اب میں اس تصویر سے زیادہ ہینڈسم ہوگیا ہوں یہ تو کچھ سالوں پرانی تصویر ہے

ایسا لوگ کہتے ہیں تم زرا غور کر کے بتاؤ کیا واقعی ایسا ہے۔۔

وجاہت نے اپنا گال ہانیہ کے ہونٹوں کے بلکل سامنے کر کے کہا۔۔

ہانیہ بس مسکرا دی۔۔

چلو جلدی سے چیک کرو ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔

وجاہت بھی کہا پیچھے ہٹنے والا تھا ۔۔

ہانیہ نے شرارت سے اسے غور سے دیکھا پھر اپنی ہنسی کنٹرول کرکے بولی۔۔

ہینڈسم کا تو پتہ نہیں ہاں بڈھے ہونے لگے ہیں آپ۔۔

ہانیہ کے الفاظ جیسے ہی وجاہت نے سنے اسے لگا اسنے غلط سنا چہرا موڑ کر اسنے ہانیہ کو دیکھا جو اپنی ہنسی ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہورہی تھی۔۔

وجاہت سمجھ گیاکہ وہ بس اسے چھیڑ رہی تھی۔۔

تیس سال کا جوان آدمی تمہیں بوڑھا لگ رہا ہے۔۔ ابھی بتاتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔۔

وجاہت اسے گدگدانے لگا جس سے ہانیہ کی چیخ نکل گئی اور وہ وجاہت سے دور بھاگنے لگی مگر وجاہت نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

زور سے کھینچنے پر ہانیہ وجاہت کے سینے سے جا لگی وجاہت ہنستے ہوئے اسے بولا۔۔

تنگ کیا ہے تو سزا بھی بھگتو

وہ ہانیہ کے چہرے کی طرف جھکا ہی تھا کہ حور کی روتی ہوئی آواز آئی۔۔

وہ ہانیہ کے چیخنے پر ہی آٹھ گئی تھی اور اب باقائدہ گلا پھاڑ کے رو رہی تھی۔۔

ہانیہ نے فوراً خود کو وجاہت کی گرفت سے نکال کر حور کو گود میں لیا اور اسے کندھے سے لگائے اسکی پیٹ تھپکنے لگی۔۔

وجاہت برا سا منہ بنا کر بیڈ پر جاکر لیٹ گیا۔۔

آنکھیں موندیں وہ کروٹ دوسری طرف کرکے سوگیا یا ہانیہ کو ایسا لگا شاید تھکن کی وجہ سے سوگئے ہونگے۔۔

تھوڑی ہی دیر میں حور دوبارہ سوگئی تو ہانیہ نے بھی سوجانے کا ہی سوچا اب کپڑے چینج کرنے تک کا دل نہیں تھا

وجاہت بھی جیسے آیا تھا انہیں کپڑوں میں سوچکا تھا۔۔

حور کو اپنے اور وجاہت کے بیچ میں لٹا کر ہانیہ بھی لیٹنے ہی لگی کہ وجاہت نے اسے مڑ کر دیکھا۔۔

یہ کیا تم حور کو ہمارے بیچ میں سلاؤگی۔۔

ہانیہ جو لیٹنے ہی لگی تھی وجاہت کی آواز پر اسے چونک کر دیکھنے لگی۔۔

مجھے لگا آپ سوگئے ہونگے۔۔

اور حور کو یہاں نہیں لٹاؤ تو کہاں سلاؤگی یہاں تو بے بی کاٹ بھی نہیں ہے ۔۔

ہانیہ نے بے چارگی سے وجاہت کو دیکھا تو وجاہت اپنی جگہ سے اٹھا اور حور کو سائڈ پر لٹا کر اسکے دوسری طرف کشنز رکھ دیئے تاکہ وہ کروٹ لینے پر گرے گی نہیں۔۔

ہانیہ بس اسکی کاروائی دیکھ کے مسکرا دی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

دادو گھر کتنا خالی خالی لگ رہا ہے۔۔

نیلم صوفے پر بیٹھ کر اداسی سے کہنے لگی وہ لوگ ابھی ناشتے سے فارغ ہوئے تھے اور اس ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔

ارے نیلم کل ہی تو سب گئے ہیں تم ابھی سے بور ہوگئی۔۔

شان صاحب نے نیلم کا اترا چہرا دیکھ کے پیار سے بولے۔۔

ہادی اور شان صاحب آفس جانے کے لئے نکل ہی رہے تھے کہ نیلم کا اترا چہرا دیکھ کے شان صاحب رک کر بولے جبکہ ہادی بس اسے دیکھے ہی گیا۔۔

جانتی ہو ڈیڈ پر حور نے جب سے بولنا شروع کیا تھا ہر وقت گھر میں ایک میٹھا سا شور ہوتا رہتا تھا وہ اپنی زبان میں ہی کچھ نہ کبھ بولتی رہتی تھی۔۔

نیلم نے دادو کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔۔

تو پرنسس تم کرلو نہ شور حور کی طرح آئیں آئیں آئیں کر کے۔۔

ہادی نے حور کی نکل اتارتے ہوئے کہا تو نیلم کے ساتھ سبھی گھر والوں کا قہقہہ فضا میں گونجا۔۔

سب کو ہنسا کر ہادی نے شان صاحب کو چلنے کا کہا تو وہ باہر کی طرف بڑھ گئے

ہادی نے جاتے ہوئے ایک نظر نیلم کو دیکھا جو اسے ہی حسرت سے دیکھ رہی تھی

ہادی کی نظریں خود پر پاکر وہ جلدی سے منہ موڑ گئی۔۔

ہادی اسکی اس حرکت پر مسکراتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

صبح کی روشنی کمرے میں داخل ہوئی تو وجاہت کی آنکھ کھلی۔۔

ہانیہ کو خود میں بھینچے شاید وہ رات سے ایسے ہی سو رہا تھا۔۔

ہانیہ کی دوسری طرف حور سورہی تھی جو کہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کے سورہی تھی۔۔

وجاہت نے اسے پیار سے دیکھا ۔۔

واو ۔۔ میری بیٹی ہی مجھے کامپیٹ کرے گی وہ بھی اپنی ماما کیلئے۔۔

وجاہت مسکراتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔۔

رات کے واقعے جب اسے یاد آئے تو چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔

پہلے ہانیہ اور پھر حور کا ماتھا چوم کر وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔

ابھی ان دونوں کے جاگنے کا وقت نہیں ہوا تھا۔۔

واشروم سے فریش ہوکر باہر اپنے کپڑے لینے آیا

سوٹ کیس اٹھا کے اسکے ٹیبل پر رکھا تو ہلکی سی آواز پر ہانیہ کی آنکھ کھل گئی۔۔

کیا کر رہے ہیں آپ صبح صبح۔۔

ہانیہ نے آنکھ مسلتے ہوئے معصومیت سے کہا۔۔

ہانیہ کے بولنے کے انداز پر وجاہت مسکرا دیا۔۔

ارے بچے تم کیوں اٹھ گئی میں بس اپنے کپڑے لے رہا ہوں تم سوجاؤ ۔۔

وجاہت نے دھیمی آواز میں کہہ کر اپنے کپڑے دیکھنے لگا۔۔

پھر کافی کپڑے ادھر ادھر کرنے کے بعد بھی جب اس نے کوئی سوٹ نہ نکالا تو ہانیہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس چلی آئی۔۔

کیا ہوا کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا پہنو تو میں نکال دوں۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو الجھن میں دیکھ کے کہا۔۔

نہیں ضرورت نہیں ہے بس یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہادی کے بچے نے میرے کپڑے اس میں پیک ہی نہیں کئے

وجاہت تاصف سے اپنے بیگ کو دیکھنے لگا جس میں صرف ٹی شرٹ اور جینز ہی تھی جو کہ بلکل نئی تھی

وجاہت نے سفید ٹی شرٹ اور بلیو جینز لے کر واشروم کی طرف چل دیا۔۔

ہانیہ نے ایک نظر اسے دیکھ کے اپنے بیگ کو کھول کے دیکھا کہ کہیں یہ سب اسکے ساتھ تو نہیں ہوا

مگر جیسے ہی اسنے اپنا بیگ کھولا اس میں بھی ہانیہ کے کپڑے نہیں تھے

یہ کپڑے تو ہانیہ نے نیلم کیلئے پسند کئے تھے۔۔

اس میں صرف جینز اور ٹاپ ہی تھے۔۔

ہانیہ نے اپنا دوسرا بیگ کھول کے دیکھا تو اس میں کچھ فارمل ڈریسز تھے۔۔

ہانیہ کو نیلم اور ہادی کی شرارت پر ہنسی آگئی اسی لئے ان دونوں نے وجاہت اور ہانیہ کی پیکنگ کی تھی۔۔

ہانیہ ہنس رہی تھی تبھی وجاہت گلے میں تولیہ لئے باہر آیا اور ہانیہ کو دیکھنے لگا۔۔

تم کیوں اکیلے مسکرا رہی ہو۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو دیکھ کے اپنے بیگ کی طرف اشارہ کیا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے کپڑوں کو دیکھا پھر اپنے کندھے اچکا دیئے۔۔

میں کیا کہہ سکتا ہوں تم نے ہی دونوں کو سر پہ چڑھایا ہوا ہے۔۔

وجاہت نے ہانیہ سے کہا جو اب اسے گھور کے دیکھ رہی تھی۔۔

ویسے یہ کپڑے تم پر بہت اچھے لگے ہیں

وجاہت نے اپنے بال تولیے سے رگڑتے ہوئے کہا۔۔

ہانیہ نے ایک نظر وجاہت کو دیکھا جو آئینے کے سامنے اپنے گیلے بال سکھا رہا تھا

تولیہ وہ اب صوفے پر پھینک چکا تھا اور اب آئینے کے سامنے اپنے بال بنا رہا تھا

ہانیہ اسے دیکھے گئی وہ فریش سا بہت اچھا لگ رہا تھا گیلے بالوں میں وہ جیل لگا کر سیٹ کر رہا تھا۔۔

آئینے میں ہانیہ کا عکس دیکھ کے وجاہت کے چہرے پر تبسم پھیل گیا۔۔

یار جانم ایسے دیکھو گی تو میں گھر سے باہر کیسے جاونگا۔۔

وجاہت نے شرارت سے کہا۔۔

ہانیہ نے ایک دم چونک کر اپنا رخ موڑ لیا اور اپنے لئے کپڑے نکالنے لگی۔۔

وجاہت مسکراتا ہوا اس تک چل کر آیا اور اسکے بیگ سے اسے سفید ٹاپ اور بلیو جینز نکال کے دی ۔۔

آج میرے ڈریس سے کلر میچنگ کرلو پھر باہر چلیں گے

اور اب ایسے مت دیکھو جاو جاکر فریش ہوجاؤ میں ناشتہ منگواتا ہوں دوپہر تک گروسری اجائے گی تو پھر گھر پہ ہی کھانا بنائیں گے۔۔

اوکے۔۔

ہانیہ کا گال تھپکا کے کہتے ہوئے وہ بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا اور ہادی کو کال کرنے لگا۔۔

ہادی اس وقت گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا وہ آفس سے نکل ہی رہا تھا کہ وجاہت کی کال آتا دیکھ پھر اپنی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔

ہاں بول میری جان کدھر چلا گیا تو تیری یاد میں میں صبح سے آنسو بہا رہا ہوں۔۔

ہادی نے شرارت سے کہا تو وجاہت کو اور غصہ آنے لگا۔۔

کمینے انسان یہ کونسے کپڑے پیک کئے ہیں تو نے میرے۔۔

وجاہت جھنجلاتا ہوا بول رہا تھا۔۔

ارے میری جان بلکل نئے اور برانڈڈ کپڑے ہیں تجھ پر بہت سوٹ کرینگے ۔۔

اور نیلم نے ہانی کے کپڑے بلکل تجھ سے ملتے جلتے ہی خریدے تھے۔۔

تو اب تم لوگ ملتے جلتے کپڑے ہی پہننا اور میں جانتا ہوں تو کسی کام سے نہیں گیا بلکہ ہانی کے ساتھ گھومنے گیا ہے جھوٹے آدمی۔۔

زبان سنبھال کر بات کرو ہادی اور ہاں میری گڑیا کو اپنے جیسا بنانے کی بلکل ضرورت نہیں ہے وہ بہت سادہ ہے ۔۔

وجاہت نے نیلم کے بارے میں کہا تو ہادی دل میں سوچنے لگا کہ اب جیسی بھی ہے صرف اور صرف میری ہے۔۔

کہا کھو گئے۔۔ وجاہت کی آواز سے ہادی اپنی سوچ سے باہر آیا۔۔

اب ویکیشنز پر تو انسان ایسے ہی کپڑے پہنتا ہے تو کونسا بزنس کے کام سے گیا ہے جو تیرے لئے سوٹ پیک کرتا۔۔

ہادی کی بات پر وجاہت ایک دم چونک گیا۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔

وجاہت اپنی جھجک چھپاتے ہوئے بولا۔۔

بس ہاں مسٹر وجاہت عالم شاید آپ بھول رہے ہیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہی بزنس کرتا ہوں مارکیٹ کے بارے میں مجھے بھی ہر بات پتہ ہوتی ہے

میں تو اسی دن سمجھ گیا تھا کہ تو جھوٹ بول رہا ہے بہانہ بنا رہا ہے مگر دیہان نہیں دیا تھا تیری بات پر

پھر جب تو ہانی کو ساتھ لے جانے کیلئے مان گیا پھر مجھے شک ہوا تھا

اور اس کے بعد میں نے تجھے ایکسپوز کرنے کا پلان بنایا گھر والوں کے ساتھ

ہادی چہرے پر شرارت لئے بول رہا تھا۔۔

گھر میں کسی کو پتہ تو نہیں ہے اس بارے میں ۔۔

وجاہت نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

نہیں مگر میں بتانے ہی جارہا تھا۔۔

ہادی نے مزاق میں کہا مگر وجاہت چڑ گیا۔۔

کیا ضرورت ہے بتانے کی۔۔

ضرورت تو نہیں ہے مگر مزہ بہت ائے گا ۔۔

ہادی بھی چہک کے بولا۔۔

نہ بتانے کا کیا لوگے۔۔

وجاہت نے اپنی آئی برو پر انگھوٹا پھیرتے ہوئے کہا ۔۔

تم مجھے خرید نہیں سکتے وجاہت عالم میں بہت نایاب ہوں۔۔

ہادی نے ایک ہاتھ سے اپنا کالر جھاڑتے ہوئے کہا۔۔

وجاہت نے سر نفی میں ہلایا کہ اس ڈرامے باز کا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔

اچھا چل نہیں بتاؤنگا مگر ایک پرامس چاہئے تجھ سے۔۔

ہادی کی اواز پر وجاہت ایک بار پھر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔

کیا۔۔

میں جب بھی تجھ سے کچھ مانگو تو مجھے دیگا۔۔

ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

کیا چاہیئے؟؟

وجاہت نے بغیر بات گھمائے سوال کیا۔۔

ابھی میں اس بارے میں سوچ رہا ہوں جب سوچ لونگا تو بتادونگا اور تو نہ نہیں کرے گا۔۔

ہادی کی باتوں پر وجاہت سوچ میں پڑگیا۔۔

ٹھیک ہے۔۔ مجھے منظور ہے۔۔

وجاہت نے ہامی بھری تو ہادی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ اگئی ۔۔

چل اپنا حور اور ہانی کا خیال رکھیو۔۔

ہادی بول کے کال کاٹنے ہی لگا تھا کہ وجاہت کے سخت بول اس نے سنے۔۔

بھابھی بول اسے ہانی نہیں۔۔

میں تو ہانی ہی کہو گا ہانی ہانی ہانی۔۔

ہادی اگے بھی بول رہا تھا مگر وجاہت نے غصے سے کال کاٹ دی۔۔

ہانیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی جو کہ اب تھوڑا غصے میں لگ رہا تھا۔۔

وہ ابھی واشروم سے باہر آئی تھی اور وجاہت کو جھنجھلایا ہوا دیکھ کے اسنے بس اس سے اشارے سے پوچھا کہ کیا ہوا۔۔

پتہ نہیں مجھے اس ہادی کے بچے سے بدلہ لینا کب نصیب ہوگا ہمیشہ میرا خون جلاتا ہے۔۔

جس دن موقع ملا چن چن کے بدلے لونگا۔۔

وجاہت اکتائے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا نظریں فون پر ہی تھی

اس نے ہانیہ کو بس ایک نظر دیکھا تھا ۔۔۔

ہانیہ نے کندھے اچکا کر ائینے کے سامنے کھڑی ہوگئی اور اپنے گیلے بال سلجھانے لگی۔۔

ہادی پہ جو غصہ تھا وہ کم ہوا تو وجاہت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہانیہ کو دیکھنے لگا۔۔

بلیو جینس کے ساتھ سفید ٹاپ پہنے وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔

وجاہت نے اپنے بیگ میں سے ایک مخملی باکس نکالا اس میں سے اس نے ایک چین نکالی اور ہانیہ کی طرف بڑھ گیا۔۔

وہ اپنے بال سلجھا رہی تھی کہ وجاہت نے اسے چین پہنائی اور اسکا لاک بند کرتے وقت اس چین پر اپنے لب بھی رکھ دیئے۔۔

وجاہت کے لمس پر ہانیہ نے چند پل کیلئے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔

پھر جب اسنے آنکھیں کھول کے چین دیکھی تو دیکھتی رہ گئی۔۔

وائٹ گولڈ کی وہ بہت خوبصورت ڈیزائن کی چین تھی جس کے لاکٹ میں ڈائمنڈ لگا ہوا تھا ہانیہ نے اس چین کو گور سے دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں پہنے کڑے کو تو وہ دیکھ کے حیران رہ گئی کہ لاکٹ کا ڈیزائن تقریباً اسکے کڑوں سے ملتا تھا۔۔

یہ کڑے تو دادو کے ہیں جو کہ بہت پرانے ہیں مگر یہ چین کا ڈیزائن۔۔

ہانیہ کو بولتا دیکھ وجاہت سمجھ گیا کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔۔

میں نے جب تمہاری پکس لی تھی جب ہم جھولے پر سوئے تھے اس میں تمہارے ہاتھ کی بھی تصویر تھی تو جب تمہارے لئے یہ بنوانے گیا ڈیزائن سمجھ میں نہیں آیا تو اس سے ملتا ہوا بنوا لیا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو تفصیل سے بتایا۔۔

ویسے اس تحفے کی وجہ۔۔

ہانیہ نے اپنا رخ وجاہت کی طرف کر کے اسکی ٹی شرٹ کو پکڑ کے کہا۔۔

نظریں وجاہت کی نظروں میں دیکھ رہی تھیں۔۔

یہ تحفہ میری زندگی کو خوبصورت بنانے کیلئے۔۔

میری زندگی میں آنے کیلئے

مجھے ہر خوشی محسوس کروانے کیلئے۔۔

اور مجھ سے اتنا پیار کرنے کیلئے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا جو کھلے ہونے کے باعث منہ پر آرہے تھے۔۔

ہانیہ تو بس اس کے الفاظوں میں ہی کھو گئی۔۔

کیا تھا یہ شخص جو اسے صرف اپنے الفاظوں سے ہی دیوانہ کر رہا تھا آگے جاکر تو اپنی محبت اور اپنی شدتوں سے اسے پاگل ہی کر دے گا۔۔

ہانیہ سوچ کے مسکرا دی۔۔

ویسے ہم اتنی دیر سے ساتھ ہیں تمہاری گارڈ نہیں اٹھی ابھی تک

وجاہت نے حور کو دیکھ کے کہا۔۔

میڈم صبح کے پانچ بجے سوئی ہیں تو ابھی کہاں سے اٹھیں گی۔۔

آپ کے سونے کے بعد یہ میڈم جاگ گئی ٹھی۔۔ ہانیہ نے پیار سے حور کو دیکھ کے کہا۔۔

ہانیہ کی بات پر وجاہت نے اسے کندھوں سے تھام کے کہا۔۔

تم رات بھر نہیں سوئی اور پھر اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی۔۔

وجاہت نے پریشانی سے اسے دیکھا۔۔

میں ٹھیک ہوں مجھے عادت ہے اتنی نیند لینے کی اور ویسے بھی نئی جگہ پر نیند آتی بھی نہیں ہے۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو پر سکون کیا۔۔

اتنے میں باہر دروازے پر دستک ہونے لگی۔۔

وجاہت نے دیہان نہیں دیا۔۔

لو جی یعنی کے پہلے میں نے تمہیں جگایا پھر میری بیٹی نے۔۔

وجاہت نے شرارت سے کہا تو ہانیہ جھینپ سی گئی۔۔

وہ اور کچھ کہتا کہ دروازے پر پھر سے دستک ہونے لگی۔۔

ضرور ڈیلیوری بوائے ہوگا ناشتہ آرڈر کیا تھا میں نے۔۔

وجاہت سوچتا ہوا کمرے سے باہر گیا تو ہانیہ نے گہرا سانس لیا۔۔

تیزی سے دھڑکتے ہوئے دل پہ ہانیہ نے ہاتھ رکھا اور پھر مسکرا دی ۔۔

جاری ہے۔۔

Episode 24

‏منا بھی لوں گا، گَلے بھی لگاؤں گا میں

ابھی تو دیکھ رہا ہوں اُسے خفا کر کے

(شبانہ ندیم)

کیا میں اندر آسکتا ہوں۔۔

وجاہت نے نہایت معصومانہ طریقے سے دروازہ ہلکا سا کھول کے کہا۔۔

نہیں۔۔

ہانیہ نے بغیر اسکی طرف دیکھے ہی کہا۔۔

ناراض ہو۔؟؟

وجاہت نے پورا دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا جہاں کافی اندھیرا تھا

ہانیہ نے کمرے کی لائٹ اور کھڑکیاں بند کردیں تھیں۔۔

شاید یہ اسکی ناراضگی دکھانے کا طریقہ تھا۔۔

نہیں بہت خوش ہوں ہوں اپکی سمجھداری پر۔۔

ہانیہ نے طنز کیا تو وجاہت بیچارگی سے اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔

ہانیہ صوفے پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔

وجاہت نے پیار سے اسکی تھوڑی تھام کے سر تھوڑا اونچا کیا۔۔

اسے یہ دیکھ کے تھوڑا سکون ملا کہ وہ رو نہیں رہی تھی ہاں البتہ غصے سے چہرا سرخ ضرور ہورہا تھا۔۔

ہانیہ نے شکوہ کناں نظروں سے وجاہت کو دیکھا۔۔

ایسے تو نہ دیکھو ڈر کا پتہ نہیں پیار آجائے گا تم پہ۔۔

ہانیہ نے اسکے یوں بولنے پر اپنا چہرا دوسری طرف موڑ لیا۔۔

دیکھو اگر تم یہ ایکسپیکٹ کر رہی ہو کہ میں تمہیں مناؤں گا تو سوری کیوں کہ مجھے منانا نہیں آتا

مجھ سے آج تک کوئی لڑکی ناراض ہی نہیں ہوئی اور وجاہت عالم کسی کے آگے جھکا نہیں ہے آج تک۔۔

اب ہانیہ نے وجاہت کو ایک آئی برو اٹھا کے دیکھا۔۔

ہاں ہاں مانتا ہوں تم کوئی عام لڑکی نہیں ہو بہت سے بھی زیادہ خاص ہو مگر سمجھو نہ یار۔۔

وجاہت نے اسے اپنی سیچویشن سمجھانی چاہی ۔۔

آپ نے کیمرے لگوائے وہ بھی میرے بیڈ روم میں۔۔

میں کبھی کبھی سلیولیس شرٹ اور ٹراؤزر پہن کے سوتی تھی۔۔

مجھے تو سوچ سوچ کے شرم آرہی ہے کہ۔۔

کہ کیا ۔۔ ہانیہ جب بولتے بولتے رکی تو وجاہت نے شرارت سے کہا۔۔

آپ ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔

ہانیہ نے شکوہ کیا۔۔

دیکھو میں نے جو کیا وہ صرف حور کیلئے کیا

اسکے لئے بہت پروٹیکٹو تھا میں اتنی آسانی سے کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔۔

مگر میرا یقین کرو صرف ایک مہینہ یہ شاید اس سے بھی کم تم پہ نظر رکھی جب مطمئن ہوگیا تو پھر ویڈیو دیکھنا بند کردیں۔۔

وجاہت ہانیہ کو اپنی صفائی دے رہا تھا اور وہ شکوے بھری نظروں سے اسے سن رہی تھی۔۔

سچ بتائیں صرف ایک مہینے دیکھی اسکے بعد کبھی نہیں دیکھی۔۔

ہانیہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھ کے کہا۔۔

ہاں ویسے ایک دو بار بعد میں بھی دیکھی ہیں۔۔

وجاہت اب تھوڑا کنفیوز ہوگیا۔۔

ایک دو بار اور وہ کب ؟

ہانیہ نے اب وجاہت کو گھورتے ہوئے کہا۔۔

جب جب تمہین ہرٹ کیا آئی مین تم سے جھگڑا ہوا تو دیکھتا تھا کہ کمرے میں جاکر کیا کرتی تھی بس اس کے علاوہ کبھی نہیں۔۔

اور کیا کیا دیکھا۔۔ ہانیہ نے نظریں اپنے ہاتھوں پر مرکوز کئے بولا۔۔

اسکی بات پر اب وجاہت کے چہرے پر شرارتی مسکان آگئی۔۔

دیکھا تو خیر بہت کچھ ہے۔۔ بلکہ بہت کچھ نہیں سب کچھ۔۔

ہانیہ کا جو غصہ کافی حد تک ختم ہوگیا تھا اور اب وہ نارمل ہوگئی تھی وجاہت کی اس بات پر وہ ایک بار پھر سرخ ہونے لگی

اور اب کی بار غصے سے نہیں شرم سے۔۔

اسنے مشکل سے نظریں اٹھا کے وجاہت کو دیکھا تو وہ بمشکل ہی اپنی ہنسی کنٹرول کر رہا تھا۔۔

وجاہت کی شرارت سمجھ کے ہانیہ نے صوفے پہ رکھا کشن اٹھا کے اسے مارنا چاہا تو وجاہت نے فوراً اس سے کشن چھین لیا۔۔

مذاق کر رہا ہوں بیڈ روم میں تھا کیمرہ ڈریسنگ روم میں نہیں ۔۔

اتنی اخلاقیات ہیں مجھ میں۔۔

وجاہت کے بولنے پر ہانیہ نے گہری سانس لی کہ شکر ہے ڈریسنگ روم میں کیمرہ نہیں تھا۔۔

ویسے اگر کچھ دیکھ لیتا تو کوئی مسئلہ تھا کیا۔۔

وجاہت نے ایک بار پھر شرارت سے کہا تو ہانیہ وہاں سے اٹھ کے اب کمرے سے باہر آگئی۔۔

وجاہت بھی اس کے پیچھے آیا اور اسکا ہاتھ تھام کے اسے اپنے سے قریب کیا۔۔

یہ ناراضگی سیشن کب تک چلے گا ۔۔

وجاہت نے اسکے چہرے پر آئے بال اپنے ہاتھوں سے پیچھے کئے اور اب اسکے کندھوں پر اپنے بازو رکھ کے بولا۔۔

کیسی ناراضگی۔۔؟؟ کون ہے ناراض ؟؟ اور اگر کوئی ہے بھی تو کون منانے والا ہے؟؟

ہانیہ نے وجاہت کی ٹی شرٹ کے پرنٹ پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔۔

سیکھ جاؤنگا نا ابھی تو مان جاؤ اب ایک دم سے تو خود کو نہیں بدل سکتا نہ میں۔۔

وجاہت نے ہار مانتے ہوئے کہا تو ہانیہ نے بنی فیس بنا کے اسے دیکھا۔۔

وجاہت نے پیار سے اسکی آنکھوں پر اپنے لب رکھ دیئے۔۔

بہت برے ہیں آپ ۔۔ دیکھنا میں بھی اب آپ کے بیڈ روم میں کیمرے لگاؤ گی اور آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھونگی۔۔

ہانیہ کے سادگی سے کہنے پر وجاہت نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

محترمہ اسی بیڈ روم میں آپ بھی میرے ہی ساتھ رہیں گی اور ہماری ویڈیو دیکھنے کی تمہیں بھلا کیا ضرورت ۔۔

وجاہت کے شوخ لہجے پر ہانیہ نے آنکھیں بند کرلیں اور دل میں سوچنے لگی۔۔

میں بھی کتنی بے وقوف ہوں سوچ سمجھ کے نہیں بولتی

ہانیہ نے دل میں سوچا مگر اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کے وجاہت بولا۔۔

ہاں ٹھیک سوچ رہی ہو بلکل سوچ سمجھ کے نہیں بولتی ایسے ہی تو نہ میں تمہیں مس بے وقوف بولتا ہوں۔۔

وجاہت کے الفاظ سن کے ہانیہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔

ہیں آپ کو کیسے پتہ چلا میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔

سنو جانم یہ جو تمہارا چہرا ہے نہ یہ تمہارے دل کی باتیں چھپا نہیں پاتا صاف صاف تمہارے چہرے پر ہر بات لکھی ہوتی ہے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے چہرہ اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے کہا۔۔

یہ تو خطرناک انسان ہیں۔۔ ہانیہ نے وجاہت کو دیکھ کے دل میں سوچا۔۔

ہاں بہت زیادہ۔۔ وجاہت بھی اسکے دل کی بات سمجھ کے چہرے پر گہری مسکراہٹ لئے بولا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

آج سنڈے تھا تو سبھی آج گھر پر ہی موجود تھے کل کی بنسبت آج نیلم کا موڈ کافی اچھا تھا۔۔

ایک تو ہادی نے اسے کل رات اتنے خوبصورت پھول دیئے۔۔

دوسرا اسے یہ احساس بھی دلایا کہ وہ اس کے لئے بہت اہم ہے ۔۔

سنڈے تھا تو ہادی کافی دیر سے جاگا پھر ناشتہ اسنے اپنے کمرے میں ہی منگوا لیا کیونکہ باقی گھر والے تو پہلے ہی ناشتہ کر چکے تھے۔۔

نیلم باہر لان میں بیٹھی موسم انجوائے کر رہی تھی سردی کی آمد آمد تھی موسم بھی اب ٹھنڈا ہونے لگا تھا۔۔

تو اس وقت صبح کے دس بجے کی ہلکی دھوپ کافی سکون بخش رہی تھی۔۔

فون پر دوستوں سے چیٹینگ کرتے ہوئے نیلم کو کسی کی نظروں کی تپس اس پر محسوس ہوئی

چونک کر اسنے ادھر اُدھر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔

یہ مجھے کیا ہورہا ہے مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ کوئی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے۔۔

خود سے کہتے ہوئے نیلم کندھے اچکا کر ایک بار پھر اپنے سیل فون کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔

کیا کر رہی ہو۔۔

ہادی کی آواز پر اسنے پلٹ کر دیکھا تو کریم کلر کی ٹی شرٹ پر براؤن جینز پہنے فریش سا ہادی اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔

کچھ نہیں بس دوستوں سے باتیں کر رہی ہوں۔۔

آپ کب اٹھے اور ناشتہ کیا۔۔

نیلم نے بھی مسکرا کے اسے جواب دیا اور اس سے ناشتے کے متعلق پوچھا۔۔

ہاں ناشتہ کر چکا ہوں کمرے میں ہی کر لیا تھا ۔۔ اور تمہاری چھٹیاں کب ختم ہورہی ہیں۔۔

ہادی اس سے بہت عام سے لہجے میں بات کر رہا تھا۔۔

جبکہ نیلم سوچ رہی تھی کہ صبح وہ اس سے تھوڑی معزرت کریں گے رات کے مزاق کیلئے

پھر وہ اسے گلاب کے پھولوں کیلئے تھینکس کہے گی مگر یہاں تو ایسے کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے تھے۔۔

کیوں بھول جاتی ہے تو نیلم کہ ہادی تو ہمیشہ سے ہی تیرے لئے کچھ نہ کچھ لے ہی آتے رہتے ہیں کل کونسی انوکھی بات ہوگئی۔۔

دل میں سوچتے ہوئے نیلم گہری نظروں سے ہادی کو دیکھ رہی تھی۔۔

اسے یوں خود کو تکتا ہوا پاکر ہادی سمجھ سکتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہوگی مگر وہ ابھی کوئی بھی رسپونس نہیں دینا تھا چاہتا۔۔

نیلم کیلئے اپنے بدلتے ہوئے احساسات کی وہ ابھی اسے بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا خاص کر کل رات کے واقعے کے بعد۔۔

جب وہ اس پر غصہ ہونے کے باوجود اتنے آرام سے بکے صوفے پر رکھ کے گئی تھی

یعنی اسکی دی ہوئی ہر چیز کی اسکے دل میں خاص جگہ تھی ۔۔

جب وہ اسکی دی ہوئی بے جان چیزوں کی اتنی اہمیت اپنے دل میں رکھ سکتی ہے تو اس کی فیلنگز جان کر تو وہ پتہ نہیں کیا کرے گی۔۔

اور اگر گھر والوں نے انکے رشتے پر ہامی نہ بھری تو اس پر کیا بیتے گی وہ سوچ سکتا تھا۔۔

اسی لئے فلحال وہ اس کے ساتھ پہلے کی طرح نارمل رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔

کیونکہ ہادی جانتا تھا نیلم کا دل کتنا حساس ہے۔۔

آج سنڈے ہے تو کوئی پلان۔۔؟؟

ہادی کو خاموش دیکھ کے نیلم نے اس سے سوال کیا۔۔

نہیں کوئی پلان تو نہیں ہے کیوں کہی جانا ہے کیا۔۔

ہادی نے فون کی اسکرین پر نظریں جمائے کہا۔۔

نہیں میں نے کہا جانا ہے گھر پہ ہی رہو گی۔۔

نیلم نے نظریں ابھی بھی ہادی کے چہرے سے نہ ہٹائی۔۔

نہیں اگر تم گھر پر بور ہورہی ہو تو ہم کہیں باہر چلتے ہیں اگر تم چاہو تو۔۔

فون چیک کر کے اسنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔

ٹھیک ہے اگر آپ فری ہیں تو کہیں باہر چلتے ہیں لنچ بھی باہر کریں گے۔۔

نیلم نے خوشی سے کہا۔۔

ہاں مگر پیٹرول اور لنچ کے پیسے تم دوگی۔۔

اپنے فیلنگز پر کنٹرول کر کے ہادی اپنا شرارتی موڈ آن کر چکا تھا۔۔

اتنے امیر ہو کر بھی مجھ سے پیسے مانگ رہے ہیں آپ۔۔ نیلم نے حیرت سے ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔

جیب میں پیسے لے کر تھوڑی گھومتا ہوں دیکھو آج تو زرا کیش نہیں ہے میرے پاس فلحال کیلئے غریب ہوں۔۔

ہادی نے اپنا والٹ نیلم کو کھول کے دکھایا جس پر نیلم ہنس دی۔۔

کوئی بہت بڑی فلم ہیں آپ ہادی۔۔

کیش نہیں ہے تو کیا ہوا کارڈ تو ہے۔۔

خیر چھوڑیں آج سب چیزوں کی پے میں کرونگی ٹھیک ہے۔۔

نیلم ہنستے ہوئے بول کے اٹھ کر جانے لگی ہادی کا دل کیا اسکا ہاتھ تھامے اور کہے کہ کچھ دیر اور بیٹھو

صبح کی ہلکی دھوپ میں اسکی گلابی رنگت بہت اچھی لگ رہی تھی

مگر وہ کچھ نہ بول سکا اور نہ ہی کچھ کر سکا۔۔

بس ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا اور اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا۔۔

پاپا کب آئیں گے آپ پاکستان۔۔۔

خود سے بولتا ہوا وہ خود بھی گھر کے اندر چلا گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

بات سنیں۔۔

ہانیہ کے معصومیت سے کہنے پر وجاہت نے لبوں پر مسکراہٹ لئے اسے دیکھا۔۔

جی جانم سنائیں۔۔

وجاہت کے شوخی بھرے جواب سن کے ہانیہ تھوڑا جھجھک گئی۔۔

بولو بھی۔۔

ہانیہ کو کچھ نہ بولتے دیکھ کے وجاہت نے کہا۔۔

وہ ہم کل سے یہاں آئے ہوئے ہیں مگر آپ کہیں باہر لے کر نہیں گئے جبکہ آپ نے صبح کہا بھی تھا کہ ہم باہر جائیں گے مگر اب تو لنچ بھی کرلیا۔۔

ہانیہ نے اب بغیر کسی جھجھک کے تیزی سے جو بولنا تھا بول دیا۔۔۔

وجاہت نے اسے غور سے دیکھا جو صوفے پر بیٹھی حور کو دیکھ رہی تھی جو فون میں پوئمز دیکھنے میں مصروف تھی۔۔

تم کیا دیکھو گی مجھے دیکھ رہی ہو کافی نہیں ہے ۔

وجاہت کے شوخی بھرے لہجے پر ہانیہ تپ گئی۔۔

یہ کیا بات ہوئی اتنی دور لائے اور کہیں گھمائے گے نہیں

آپ کو نہیں پتہ پیرس آنا میری کتنی بڑی خواہش تھی اسے سب پیار کا شہر کہتے ہیں۔۔

پتہ ہے میں نے ایک ناول میں پڑھا تھا اس میں ہیرو اپنی ہیروئن کو آئفل ٹاور کے ٹاپ پہ لے جاکر پروپوز کرتا ہے۔

اف۔۔۔ اتنے مزے کا سین تھا میں نے بہت بار پڑھا تھا۔۔

ہانیہ وہ لائنز کو یاد کر کے حسرت سے بولی۔۔

تم رومینٹک ناولز پڑھتی ہو کیا میں نے تو کبھی نہیں دیکھا تمہیں پڑھتے ہوئے۔۔

وجاہت نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

کالج ٹائمز میں پڑھتی تھی پھر شادی ہوگئی پتہ ہے کیا سوچتی تھی میں۔۔

جیسے ناول میں کم عمر ہیروئن کی شادی اسکے اپنے سے تھوڑے بڑی عمر کے لڑکے سے ہوتی ہے تو وہ اسکا بہت خیال رکھتا ہے

(وجاہت اپنی اور ہانیہ کی عمروں کا فرق سوچنے لگا)

اسے اپنی پرنسس بنا کے رکھتا ہے۔۔

بے پناہ محبت ۔۔ بلکہ نہیں حد سے بھی زیادہ عشق کرتا ہے۔۔

میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ جب ہیرو ہیروئن کے قریب جاتا ہے اسکا ہاتھ تھامتا ہے تو اسکی دل کی دھڑکنیں ایک دم تیز کیسے ہوجاتی ہیں

(وجاہت کو یاد آیا جب وہ ہانیہ کے قریب گیا تھا پہلی بار تو اسکا اور ہانیہ کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا)

کیسے اسکا چہرا شرم کی لالی سے سرخ ہوجاتا ہے۔۔(وجاہت کو ہانیہ کا سرخ چہرا یاد آنے لگا جب جب وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا ہے)

کیسے وہ من ہی من ہنستی بھی ہے اور گھبراتی بھی ہے۔۔

ہیروئن کو اگر کوئی ایک نظر اٹھا کر بھی دیکھ لے تو ہیرو اس شخص کا حشر کردیتا ہے۔۔

(پارٹی والی رات اسنے بھی تو ایک آدمی کا برا حشر کر دیا تھا جس نے ہانیہ کے بارے میں کمنٹ پاس کیا تھا)

اتنی جنونی محبت پڑھی ہے میں نے

(اس نے پڑھی ہے اور میں نے کی ہے۔۔ وجاہت نے دل میں سوچا)

مگر شادی کے بعد احساس ہوا کہ وہ سب تو صرف فینٹسی تھا

(صحیح کہتا ہوں میں بے وقوف ہے یہ اسے کبھی محسوس نہیں ہوا میں اس سے ایسی ہی محبت کرتا ہوں یا شاید اس سے بھی زیادہ)

اصل زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا

(کیوں نہیں ہوتا ۔۔ ہوتا ہے۔۔ ہمارا رشتہ کیوں نہیں دیکھتی تم)

جانتے ہو کتنے خواب دیکھے تھے میں نے اپنی زندگی کے بہت بری طرح ٹوٹے تھے

حسرت سے کہتے کہتے ہانیہ کے چمکتے ہوئے چہرے پر کرب کے آثار دکھائی دیئے

وجاہت جو دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھا اب اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کے اسے غور سے دیکھنے لگا۔۔

محبت کے دو بول تو دور کی بات ایک نظر کیلئے بھی ترستی تھی میں

سوچتی تھی کہ جیسے ناول میں ہیروئن ہیرو کی جدائی پر اگلا سانس نہیں لے پاتی میں بھی شاید معظم کے بغیر مر جاوگی۔۔

معظم کے ذکر پر وجاہت نے غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچ لی۔۔

مگر مجھے تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا میں تو زندہ رہی

ہاں دل مر گیا تھا۔۔

بولتے بولتے ہانیہ کی آنکھوں سے اشک بہنے لگے۔۔

وجاہت غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ہانیہ کو صوفے سے اٹھا کے خود میں بھینچ لیا ۔۔

وجاہت کی گرفت بہت مضبوط تھی ہانیہ کو سانس لینا بھی مشکل لگا

مگر وہ منہ سے کچھ نہ بولی۔۔

دیکھو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے

ہانیہ کی آخری بات سن کے وجاہت کو غصہ بہت آیا مگر وہ ہانیہ پر غصہ کرنا نہیں چاہتا تھا تو پیار سے سمجھانے لگا۔۔

ہمیں زندگی میں جتنے بڑے دکھ ملتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ ہمیں خوشیاں ملتی ہیں۔۔

کم سے کم میں نے اپنے ایکسپیرئنس سے تو یہی جانا ہے ۔۔

وجاہت نرم لہجے میں ہانیہ کو سمجھانے لگا۔۔

اب ہانیہ کو احساس ہوا کہیں اس کے الفاظوں سے وجاہت کو دکھ نہ ہہنچا ہو۔۔

افف۔۔ میں بھی کیا کرتی ہوں۔۔

ہانیہ دل ہی دل میں اب خود کو کوس رہی تھی۔۔

چلو تیار ہوجاؤ باہر چلتے ہیں۔۔

ہانیہ کو خود سے الگ کر کے اسکا چہرا تھام کے وجاہت نے پیار سے بولا۔۔

لیکن جائیں گے کہاں ۔۔ ہانیہ نے اسکے اچانک باہر جانے کے بارے سن کے پوچھا۔۔

چلو تمہیں تمہارا پیار شہر اور آئفل ٹاور دکھا کر لاتا ہوں۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی میں لپیٹتے ہوئے کہا۔۔

ٹھیک ہے میں حور کو بھی ریڈی کر دیتی ہوں۔۔

ہانیہ جانے لگی مگر وجاہت نے اسکے بالوں کی لٹ کو چھوڑا نہیں تھا تو ایک دم اسکے بال کھچے ۔۔

بال تو چھوڑ دیں میرے۔۔

ہانیہ نے اپنا سر تھام کے کہا۔۔

لے تو جاؤنگا مگر ٹاپ پر جانے کے بعد مجھے بھی انعام ملنا چاہئے۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے بالوں کو چھوڑتے ہوئے کہا۔۔

فری نہ ہوں زیادہ۔۔ ہانیہ نے ناک چڑھا کے کہا۔۔

سوچ لو تم جو انعام دوگی میں خاموشی سے لے لونگا اگر تم نے نہ دیا تو میں خود لے لونگا۔۔

اور تم اندازہ لگا سکتی ہو میں کیا انعام خود لونگا۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ سرخ ہونے لگی ۔۔

اسکا سرخ چہرا دیکھ کے وجاہت نے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔

ناول میں ہیروئن کا چہرا سرخ پڑتا امیجن کر سکتی ہو مگر آئینہ نہیں دیکھ سکتی ۔۔

تمہارے ناول کے ہیرو سے بھی کئی گنا زیادہ شدت سے عشق کرتا ہوں میں اپنی ہیروئن سے۔

دھیمے لہجے میں کہہ کر وجاہت نے ہانیہ کے کام کی لو دیکھی جو کہ سرخ ہورہی تھی

اس سے رہا نہیں گیا تو اسے چوم لی ۔۔

اور اس سے الگ ہوکر دیکھا تو ہانیہ آنکھیں بند کئے بس وجاہت کا لمس محسوس کر رہی تھی۔۔

وجاہت کے چہرے پر خوبصورت مسکان آگئی اپنی محبت کو اسکا لمس محسوس کرتا دیکھ۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *