Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 13)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 13)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
پارٹی ختم ہوچکی تھی سب اپنے اپنے کمروں میں آرام فرما رہے تھے
مگر کوئی جاگ رہا تھا کس کے لئے یہ وہ اچھے سے جانتا تھا مگر کیوں یہ نہیں جانتا تھا۔۔
کچھ الگ محسوس ہوا آج کسی کی ہنسی میں بھی اداسی پہلی بار دیکھی۔۔
کسی کے چمکتے ہوئے سنہرے رنگ میں بھی زردی آج دیکھی ۔۔
کسی کی خوبصورت آنکھیں آج بلکل خالی اور اداس دیکھیں ۔۔
وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔۔
جانتا تھا کہ یہ غلط ہے
مگر نظریں بار بار ایک ہی چہرے کے گرد گھوم رہی تھی
جیسے ہی وہ اپنی آنکھیں بند کر رہا تھا وہ ہی چہرا اسے دکھائی دے رہا تھا
وہ سونا چاہتا تھا مگر کسی کی نظریں اسے سونے نہیں دے رہی تھیں۔۔
وہ نظریں جو شاید بھٹکتی ہوئی ہی اس پر گئی ہونگی وہ بھی صرف ایک پل کیلئے
مگر وہ ایک پل ہی کافی تھا۔۔
وہ کسی اور کی ہے۔۔
اس سوچ کے آتے ہی وہ جھنجلا کے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔
یہ غلط ہے۔۔ میں یہ سب کچھ کیوں سوچ رہا ہوں۔۔
وہ اپنے آپ کو ہی غلط ٹہرا رہا تھا
کیونکہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا جانتا تھا













ہانیہ آج خالی دماغ لئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی
آج اسکا کتاب پڑھنے کا دل بلکل نہیں کر رہا تھا
دل ۔۔ دل تو بہت زور سے ڈھڑک رہا تھا
اسی پل سے جب اسنے وجاہت کے سینے پر سر رکھا تھا
اپنے اوپر اسکا لمس محسوس کیا تھا
وہ جانتی تھی کہ اسکے رشتے کا کیا سچ ہے
مگر وہ جھٹلانا چاہتی تھی
اپنے دل پر ہاتھ رکھے وہ کسی اور کو محسوس کر رہی تھی۔۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے چھلکنے کو بے تاب تھی
ہانیہ نے بھی انہیں روکا نہیں تھا
وہ کسی کی بیوی رہ چکی تھی ایک مکمل ازدواجی زندگی جی چکی تھی
مگر یہ لمس وہ بھلا کر بھی خود سے الگ نہیں کر پارہی تھی
دل کہہ رہا تھا کہ جائے اس کے پاس پوچھے کہ میرے مرے ہوئے دل کو کیوں دھیرے دھیرے جگا رہے ہو
کیوں مجھے وہ خواب دکھا رہے ہو جو کبھی پورے نہیں ہو سکتے
ادھورے خواب کتنی تکلیف دیتے ہیں یہ ہانیہ اچھے سے جانتی ہے
اسی لئے ایک بار پھر خواب دیکھنے سے ڈرتی ہے۔۔














وجاہت اپنے کمرے میں اندھیرا کئے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا
ایک ہاتھ میں لیمپ کا بٹن لئے کبھی لائٹ آن کر رہا تھا کبھی لائٹ اف
اسکے دل کا بھی یہی حال تھا کبھی دھڑکتا کبھی رک جاتا۔۔
اور دوسرے ہاتھ میں وہ سیگریٹ لیا ہوا تھا
نہ جانے وہ کتنی سگریٹ سلگا چکا تھا۔۔
مگر اسکے اندر کی آگ بجھ کے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔
کیوں آخر کیوں میں اس پر اپنا حق جتانا چاہتا ہوں
کیوں میں اس پر اٹھنے والی نظر کو برداشت نہیں کر پاتا
کیوں میں چاہتا ہوں وہ صرف میری سامنے رہے۔۔
کیوں میں بار بار حور کے بہانے اسے دیکھنے جاتا ہوں۔۔
کیوں میں اپنے ہی الفاظ کو جھٹلانا چاہتا ہوں۔۔
کیوں میں چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔۔
کیوں مجھے میرے ہی بھائی سے جلن ہورہی ہے۔۔
وجاہت کے پاس ایسے بہت سے کیوں تھے
مگر جواب ایک کا بھی نہیں تھا
اور کوئی جواب نہ پاکر اسکے اندر ایک آگ جل رہی تھی جسے وہ دوسری آگ سے بجھانے کی کوشش کر رہا تھا
کیا ڈیڈ ٹھیک کہتے ہیں میں کسی کی زندگی برباد کر رہا ہوں
ڈیڈ کو یا گھر میں کسی کو نہیں دکھتا کے میں بھی تو جل رہا ہوں وہ بھی اپنی ہی بنائی ہوئی آگ میں۔۔
نور ہانیہ سے کہیں زیادہ حسین تھی مگر مجھے کبھی اس پر کسی کی اٹھی ہوئی نظر بری ہی نہیں لگی۔۔
وہ تھی ہی اتنی بولڈ اینڈ بیوٹیفل کے ہر کوئی اسے پلٹ پلٹ کے دیکھتا تھا۔۔
اور اسے بھی تو لوگوں کی خود پر اٹھتی ہوئی نظریں پسند تھیں۔۔
اور ہر دوسرے انسان کی آنکھوں میں اپنے لئے ستائش دیکھتا چاہتی تھی۔۔
مجھے تب کچھ کیوں نہیں ہوا۔۔
میں تو کہتا تھا کہ وہ میری بچپن کی محبت تھی اسکی جگہ میں کسی کو نہیں دے سکتا
مگر کیا وہ سچ میں محبت تھی کیا واقعی اسکی کوئی جگہ تھی میرے دل میں
اگر تھی تو کوئی اور کیسے آیا اس میں اور اگر نہیں تھی تو وہ کیا تھا۔۔
ہانیہ پر دو بول غلط بولنے والے کی ٹانگیں وجاہت توڑ چکا تھا جب وہ اپنے گھر واپس جارہا تھا۔۔
مگر میں نے ایسا کیوں کیا۔۔
وجاہت کی سوچوں کا رخ جہاں سے شروع ہوا وہیں پر آکر رک گیا۔۔
مگر کوئی جواب نہ ملا اور جواب ہمیشہ صحیح وقت پر ملا کرتے ہیں۔۔













لان میں ہادی اور نیلم بینچ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور ہانیہ حور کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔
حور گٹھنے گٹھنے چلتی تھی ہانیہ بھی اس کے ساتھ اسی کی طرح بچی بنی ہوئی تھی۔۔
نیلم ہانیہ کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی جبکہ ہادی ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔
اسے رہ رہ کر کل والی باتیں یاد آرہی تھیں جو وجاہت اور ہانیہ کے درمیان ہوئی تھی۔۔
کہاں کھو گئے مسٹر کیا ہوا۔۔
نیلم نے ہادی کی چہرے کے سامنے چٹکی بجائی تو ہادی ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔۔
کہاں کھوئے ہوئے تھے۔۔
نیلم نے ایک بار پھر پوچھا۔۔
کچھ نہیں کام کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔
ہادی نے بہانا بنایا جسے نیلم نے سچ مان لیا۔۔
وہ ایسی ہی تھی ہادی کی ہر بات وہ مان جاتی تھی۔۔
کب اسے ہادی سے محبت ہوئی وہ بھی نہیں جانتی تھی
مگر اسے ہادی کے ساتھ رہنا ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا۔۔
ہادی بھی تو جب بھی آتا تھا نیلم کو ایک پرنسس کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔۔
تم جانتے ہو ہادی جب ہانی بھابھی گھر میں نہیں آئی تھی ۔۔
سب حور کیلئے بہت پریشان تھے۔۔
ہم سب حور سے پیار کرتے تھے مگر ایک ماں کا پیار نہیں دے پارہے تھے۔۔
پھر ہانی بھابھی گھر میں آئی انہوں نے حور کو ایسے سنبھالا جیسے وہ ان کی سگی اولاد ہو
بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ اگر حور کی سگی ماں یعنی نور بھابھی زندہ ہوتیں تو کبھی اپنی بیٹی سے اتنا پیار نہیں کرتیں۔۔
نور بھابھی تو کسی سے بھی پیار نہیں کرتی تھیں سوائے خود کے۔۔
میں نے انکی نظروں میں برو کیلئے بھی پیار نہیں دیکھا تھا
انہوں نے تو بس برو سے اس لئے شادی کی تھی کیونکہ برو ایک بہت ڈیشنگ انسان اور ساتھ میں ایک بلینئر بھی تھے۔۔
برو سے شادی کرکے انکا اسٹیٹس بڑھا تھا اور یہی ان کے لئے کافی تھا۔۔
مگر ہانیہ بھابھی وہ تو بلکل سادہ طبیعت کی ہیں سب سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔
پتہ ہے مجھے کیا کہتی ہیں
کیا۔۔
ہادی نیلم کی باتیں بہت غور سے سن رہا تھا۔۔
وہ کہتی ہیں نیلم میری نہ کبھی کوئی دوست بنی اور نہ ہی کوئی بہن ہے۔۔
کیا تم میری دوست اور بہن بنو گی ۔
یقین مانو ہادی مجھے اتنی خوشی ہوئی تھی جب ہانی بھابھی نے پیار سے میرا ماتھا چوما تھا۔۔
وہ ہمیشہ ایسے کرتی ہیں جب جب انکو مجھ پر پیار آیا ہے وہ میرا ماتھا چومتی ہیں بلکل ایک بڑی بہن کی طرح جبکہ وہ مجھے بس ایک سال بڑی ہیں۔۔
میں ان سے پوچھتی تھی کہ ماتھا ہی کیوں چومتی ہیں تو وہ کہتی تھیں کہ ماتھا ہم صرف اسکا چومتے ہیں جو ہمیں بے حد عزیز ہوتا ہے جو ہمارا مان ہوتا ہے اور جسے ہم کبھی کھونا نہیں چاہتے۔۔
نیلم انکھوں میں ہلکی سی نمی لئے اپنے دل کی بات ہادی سے کر رہی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ اسی سے بات کرتی تھی۔۔
جبکہ ہادی ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان لئے نیلم کی باتوں کو سن رہا تھا۔۔
بینچ کے بلکل اوپر ایک بالکونی تھی جو کہ وجاہت کے کمرے سے منسلک تھی۔۔
اور اسی بالکونی پر کھڑے وجاہت کی نظریں سامنے ہنسے کھیلتے وجود پر تھی مگر الفاظ وہ کسی اور کے سن رہا تھا۔۔
بھوری آنکھوں میں ایک چمک تھی کیا اسے اس کے تمام کیوں کے جواب مل رہے تھے یا ابھی امتحان باقی تھا۔۔













مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔
ہانیہ شان صاحب کی اسٹڈی میں کتاب رکھنے آئی تھی جو وہ پڑھ چکی تھی اب اسے کوئی دوسری کتاب بھی لینی تھی۔۔
وجاہت آج کافی ٹائم بعد آفس جارہا تھا مگر اسکی کچھ فائلیں شان صاحب کے پاس تھی جو انہوں نے اسٹڈی میں رکھی تھیں۔۔
وجاہت وہی لینے آیا تھا۔۔
مگر ہانیہ کو وہاں دیکھ وہ چونک گیا اور اب جو سوال اسے تنگ کر رہے تھے وہ اس سوال کے جواب ہانیہ سے لینا چاہتا تھا۔۔
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔
ہانیہ یہ بول کے اسٹڈی سے جانے لگی وہ بھی بغیر کتاب لئے۔۔
مگر وجاہت نے اس کے راستے میں آکر اسکا جانے کا راستہ ہی بند کر دیا۔۔
موسم اچھا ہونے کے باعث سب گھر والے باہر لان میں بیٹھے تھی
ہادی ہی بس لاؤنج میں بیٹھا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا اور اسکے سامنے ایک فائل کھلی ہوئی تھی۔۔
وجاہت آج آفس جارہا تھا اور ہادی کو بھی چلنے کا کہا تھا جس پر ہادی نے وجاہت کو منع کردیا تھا کہ وہ گھر پہ ہی کام کر لے گا اب وہ جلدی جلدی اپنا کام ختم کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ سب گھر والے باہر تھے اور وہ بھی جانا چاہتا تھا
مگر اگر وجاہت اسے یوں مستیاں کرتا ہوا دیکھ لیتا تو اسے آفس لے جاتا۔۔
ہادی نے ہانیہ کو اسٹڈی میں جاتے ہوئے دیکھا تھا اور پھر اسنے وجاہت کو بھی وہیں جاتا ہوا دیکھا
وہ دونوں اسٹڈی کیوں گئے تھے وہ جانتا تھا
مگر جب وہ دونوں ہی 5 منٹ تک باہر نہیں آئے تو ہادی کے لبوں پر ایویل مسکراہٹ آئی اور اسنے دبے قدموں سے جاکر بغیر آواز کئے اسٹڈی کا دروازہ باہر سے لاک کردیا۔۔
کہ چلو شاید اکیلے رہ کر ہی وہ ایک دوسرے کو سمجھے یا پھر کھا جائیں ایک دوسرے کو۔۔
سب گھر والے باہر تھے ہادی بھی انہی کے پاس چل دیا اب اگر وہ دروازہ بجاتے بھی تو انکی سنتا کون۔۔
نوکر چاکر بھی اپنے کام میں لگے تھے کون اتنا دیہان دے گا۔۔
ہادی مسکراتا ہوا وہاں سے چل دیا۔۔













ہٹیں میرے راستے سے۔۔
ہانیہ نے آرام سے کہا وہ اپنی آواز تیز کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔
کہا نہ تم سے بات کرنی ہے۔۔
وجاہت نے اسکے چہرے پر فوکس رکھتے ہوئے کہا۔۔
ہانیہ سمجھ گئی کہ یہ بلا اتنی آسانی سے نہیں ٹلے گی۔۔
کہیں جلدی کیا بات کرنی ہے۔۔
وہ اپنے ہاتھ سینے پر باندھ کر بولی۔۔
تم کیا مجھ سے ڈر گئی تھی ۔۔
وجاہت کی بات پر ہانیہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
کب؟؟
ہانیہ نے حیرت سے وجاہت سے سوال کیا۔۔
جب میں نے تمہیں خود کے قریب کیا۔۔
وجاہت نے ابھی تک اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹائی۔۔
بھول ہے آپ کی۔۔
ہانیہ بول کے وہاں سے جانے لگی کہ ایک بار پھر وجاہت نے اسے ویسے ہی تھام کیا جیسے پارٹی والی رات اپنے کمرے میں تھاما تھا۔۔
وجاہت کے چھوتے ہی ہانیہ کا سانس ایک بار پھر بند ہونے لگا۔۔
اور وجاہت کے دل کی دھڑکنیں بھی ایک دم تیز ہوگئیں جیسے دل باہر آجائے گا۔۔
یہ کیسا احساس ہے اور کیوں اتنا خاص ہے۔۔
وجاہت نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں خوف کا سایہ لہرا رہا تھا۔۔
ڈرتی ہو کیا مجھ سے یا میری قربت سے۔۔
وجاہت کی بات پر اسکی آنکھوں میں پانی بھرگیا۔۔
بغیر کوئی جواب دیتی اس نے وجاہت کو اتنی زور سے دھکا دیا جتنا زور وہ لگا سکتی تھی۔۔
وجاہت اس حملے کیلئے تیار نہیں تھا اور ایک دم پیچھے ہوگیا۔۔
دور رہا کریں مجھ سے سمجھیں آپ۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو خود سے الگ کر کے کہا۔۔
دو دن لگے تھے اسے پھر سے نارمل ہونے میں مگر آج ایک بار پھر وجاہت کا یوں اس کے سامنے آنا وہ اب برداشت نہیں کرپا رہی تھی۔۔
اور اگر میں کہوں کے میں چاہ کر بھی ایسا نہیں کرپا رہا تو۔۔
وجاہت نے اب تھوڑا فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہا۔۔
تو میں کیا کروں آپ پلیز جائیں یہاں سے کوئی آجائے گا۔۔
ہانیہ ایک بار پھر جانے لگی مگر وجاہت نے اسکے گرد بازو پھیلا کر اسے ایک بار پھر جانے سے روکا۔۔
کوئی نہیں آئے گا سب گھر سے باہر ہیں اور اگر کوئی آبھی جاتا ہے تو مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں ہے بیوی ہو تم میری۔۔
وجاہت کی بات پر ہانیہ طنزیہ ہنسی بیوی نہیں مسٹر وجاہت عالم مجبوری ہوں میں یہی کہتے ہیں نہ آپ۔۔
وجاہت کو ہانیہ کے الفاظ تیر کی طرح چبھ رہے تھے پہلی بار۔۔
ہاں یہی کہا کرتا تھا مگر تم خاص ہوتی جارہی ہو۔۔
دل کی بات وجاہت زبان پر لے ہی آیا تھا جس میں وہ بلکل نہیں جھجک رہا تھا۔۔
جھجھک وجاہت عالم میں کبھی نام کی بھی نہ رہی تھی۔۔
کتنے وقت کیلئے۔۔
ہانیہ کے الفاظ تھے یا امتحان وجاہت سمجھ نہیں پایا۔۔
آخری سانس تک کیلئے۔۔
وجاہت نے بھی بغیر سوچے سمجھے جواب دیا۔۔
آپ بھول رہے ہیں ہمارے بیچ ایک کانٹریکٹ ہوا تھا۔۔
ہانیہ نے اسے یاد دلانا چاہا۔۔
تم ہر وقت کانٹریکٹ کی بات کیوں کرتی رہتی ہو۔۔
وجاہت اب جھنجلانے لگا تھا اس کانٹریکٹ لفظ سے۔۔
کیونکہ یہ آپ کا ہی فیصلہ تھا۔۔
ہانیہ نے نظریں نیچی کر کے کہا۔۔
تم یہ کیوں بھول جاتی ہو کہ اس سے پہلے میں نے نکاح نامے پر بھی تو سائن کیے تھے۔۔
وجاہت اب تھوڑی شوخ مسکراہٹ لئے بولا۔۔
اپنی بیٹی کیلئے۔۔
ہانیہ نے اب بھی تلخی سے کہا۔۔
ہانیہ کی تلخی دیکھ کے وجاہت کا پارا ایک بار پھر ہائی ہونے لگا۔۔
اچانک ہی اس نے ہانیہ کے ارد گرد سے اپنے بازو ہٹا لئے اور اسٹڈی سے جانے لگا
مگر جیسے ہی اس نے دروازہ کھولنا چاہا وہ باہر سے بند تھا۔۔
یہ کس نے بند کردیا۔۔
وجاہت نے دروازہ بجایا مگر کوئی آس پاس ہوتا تو سنتا ۔۔
وجاہت کو دروازہ بجاتا دیکھ ہانیہ بھی اسکے پیچھے آئی اور دروازہ بند دیکھ کے چونک گئی
