Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 11,12)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 11,12)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
وجاہت گھر سے باہر جاہی رہا تھا کہ اچانک نیلم نے اسے آواز دی۔۔
برو آپ کہاں چلے ادھر آئیں آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔
نیلم گڑیا مجھے جانا ہے کام سے۔۔
وجاہت نے پھر سے باہر کی طرف قدم بڑھائے تو ہادی بھاگتا ہوا آیا اور وجاہت کو پکڑ کے واپس گھر کے اندر لایا۔۔
بھائی صاحب میں بھی آپ کے ساتھ ہی کام کرتا ہوں میرا نہیں خیال آج کل کوئی بھی ضروری کام ہیں آفس میں تو بس یہی اپنی تشریف فرمائیے۔۔
ہادی نے زبردستی وجاہت کو صوفے پر بٹھا کر خود بھی اسے پکڑ کے بیٹھ گیا کہ کہیں واقعی وہ بھاگ نہ جائے۔۔
نیلم نے سب کو وہیں ہال میں بلایا۔۔
تم مجھے چھوڑ سکتے ہو کہیں نہیں جارہا میں۔۔
وجاہت نے ہادی کو گھور کے کہا۔۔
سب کے آنے کے بعد نیلم نے بات کا آغاز کیا۔۔
بھائی آپ نے کہا تھا کہ جب ہادی آجائیں گے تو آپ ایک گرینڈ پارٹی دینگے تو بتائیں پھر کب ہے پارٹی۔۔
ہاں بھائی پارٹی تو بنتی ہے اتنی بڑی کامیابی کا سیلیبریشن تو پکا ہے
ویسے پارٹی کا کیا سین ہے۔۔
ہادی نے پرجوش انداز میں کہا۔۔
جب تم کہو۔۔
وجاہت نے ہادی کی گرم جوشی دیکھ کے مسکرا کے کہا۔۔
وجاہت بھی ہادی سے بہت محبت کرتا تھا اسے اپنا سگا بھائی ہی مانتا تھا مگر اسکی حرکتوں سے کبھی کبھی اکتا جاتا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے تو پھر کل پارٹی ہے۔۔
ہادی نے اعلان کیا ۔۔
لیکن بیٹا اتنی جلدی تیاریاں کیسے ہونگی۔۔
شان صاحب نے وجاہت اور ہادی سے سوال کیا۔۔
انکل ابھی تو دن شروع ہوا ہے انویٹیشن ہم دوپہر تک سب کو فون پر بھی دے سکتے ہیں
پارٹی کی تیاری کیلئے ایوینٹ پلانر آجائے گا
اب وہ اسکا سر درد کیسے کرے تیاری کل تک۔۔
رہی بات گھر والوں کی انہیں بس تیار ہوکر پارٹی میں آنا ہے۔۔
ہادی نے سارا مسئلہ ہی حل کردیا۔۔
نیلم چہک کر بولی وہ ہمیشہ سے ہی ہادی سے انسپائر ہوتی تھی۔۔
تو پھر ٹھیک ہے بھلا کسی کو کیا اعتراض۔۔
شان صاحب نے مسکرا کے کہا تو سبھی نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔














بھابھی ہم حور کیلئے شاپنگ کرنے چلیں ساتھ میں اپنے لئے بھی شاپنگ کریں گے۔۔
سبھی گھر والے ابھی بھی ہال میں بیٹھے پارٹی کے متعلق بات کر رہے تھے۔۔
ہمم اپنے لئے تو نہیں ہاں مگر مجھے واقعی حور کیلئے شاپنگ کرنی ہے وہ اب بڑی ہورہی ہے تو اس کے لئے اب نئے کپڑوں اور ضروری سامان کی ضرورت پڑ رہی ہے۔۔
ہانیہ نے حور کو گود میں لے کہا۔۔
ٹھیک ہے بھابھی تو ہم ابھی چلتے ہیں شاپنگ پہ۔۔
نیلم چہک کر بولی۔۔
وجاہت اور ہادی ایوینٹ پلانر سے بات کر رہے تھے اتنے میں ہادی وجاہت کے پاس سے سبھی گھر والو کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔۔
کیا باتیں ہورہی ہیں۔۔
ہادی نے سب سے سوال کیا۔۔
ہم شاپنگ پر جارہے ہیں وہ بھی ابھی۔۔
نیلم نے ہادی کو جواب دیا۔۔
ہادی کی نظر وجاہت پر گئی جو بات پلانر سے کر رہا مگر نظریں اسی کی طرف تھیں۔۔
ہادی کو شرارت سوجھی۔۔
ہانی آپ بھی جارہی ہیں نہ۔۔
ہاں بلکل میں بھی جارہی ہوں مگر حور کی شاپنگ کیلئے۔۔
ہانیہ نے ہلکا کا مسکرا کے جواب دیا۔۔
حور کی کیوں آپ بھی کریں نہ شاپنگ آپ کو بھی تو بیسٹ لگنا ہے کل۔۔
وجاہت نے اب غور سے سب کو دیکھنا شروع کردیا
ہادی کی بات پر عالیہ بیگم بولیں۔۔
ہاں بیٹا تم بھی اپنے لئے اچھا سا ڈریس لینا کل کیلئے۔۔
نہیں مما میرے پاس بہت سارے ڈریسز ہیں جو میں نے ابھی تک پہنے بھی نہیں ہیں۔۔
ہانیہ نے بات ٹالنی چاہی۔۔
ایسے کیسے دادو آپ ہانی سے کہیں کہ وہ اپنے لئے کچھ لے گی اور میں دیکھو گا کہ کیسے آپ کچھ نہیں لیں گی کیونکہ میں آپ لوگوں کے ساتھ چل رہا ہوں۔۔
ہادی نے ضد کی تو ہانیہ نے ہامی بھرلی وقتی طور پہ۔۔
تو پھر ٹھیک ہے ہانی اور نیلم دونوں تیار ہوجاؤ میں آپ لوگوں کو لے کر چلتا ہوں۔۔
ہادی نے حکم جاری کیا تو دادو نے بھی دونوں کو تیار ہونے کا کہہ دیا۔۔













ہانیہ کو تو تیار نہیں ہونا تھا وہ تو ویسے بھی سادگی میں ہی رہتی تھی کمرے میں آکر وہ حور کے کپڑے چینج کرنے لگی۔۔
حور کو تیار کر کے ہانیہ اپنے بال ٹھیک کر رہی تھی اسی وقت وجاہت کمرے میں داخل ہوا۔۔
وجاہت کو دیکھ حور اسکے پیر سے لپٹ گئی اشارہ گود میں اٹھانے کا تھا۔۔
وجاہت نے حور کو گود میں لے کر اسے پیار کیا۔۔
تم ان کپڑوں میں باہر جاؤگی۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو پونی ٹیل باندھتے ہوئے کہا۔۔
کیا خرابی ہے ان کپڑوں میں۔۔
ہانیہ نے بغیر وجاہت کی طرف دیکھے جواب دیا۔۔
بہت برے ہیں چینج کرو انہیں۔۔
وجاہت نے حکم جاری کیا۔۔
آپ سے مطلب ۔۔
ہانیہ نے اب ہئیر برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کے کہا۔۔
مجھے کچھ نہیں معلوم تم ابھی اور اسی وقت یہ کپڑے تبدیل کرو
وجاہت دبے دبے غصے سے بولا۔۔۔
نہیں کروں گی چینج میں بلکل تیار ہوں اور آپ ہوتے کون ہیں میرے معاملات میں بولنے والے۔۔۔
ہانیہ نے بھی اب غصے سے وجاہت کو انکار کیا۔۔
ٹھیک ہے جا کر دکھاؤ باہر وجاہت نے اب کے آرام سے کہا۔۔
ٹھیک ہے نہیں جاتی۔۔ ہانیہ بھی آرام سے بیڈ پر بیٹھ کر بولی۔۔
وجاہت ہانیہ کو گھورنے لگا۔۔
وہ ہانیہ کو اس ڈریس میں باہر بھیجنا نہیں چاہتا تھا وجہ یہ تھی کہ پیلا رنگ ہانیہ پر حد سے زیادہ جچ رہا تھا
اس پر اسکی سنہری رنگت جب وجاہت کو وہ اتنی اچھی لگ رہی تھی تو اور لوگوں کو بھی وہ اچھی لگتی
اور کوئی میلی نظر سے اسکی بیوی کو دیکھے وجاہت یہ کہاں برداشت کرنے والا تھا
تم اتنی ضدی کیوں ہو۔۔
وجاہت کوفت سے بولا۔۔
ضد میں کر رہی ہوں۔۔
ہانیہ نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کر کے کہا۔۔
کیا میں نے کبھی آپ سے کہا ہے کہ آپ ایسے کپڑے کیوں پہنتے ہیں نہیں نہ تو پھر آپ کیوں ٹوک رہے ہیں مجھے۔۔
کیونکہ یہ رنگ مجھے نہیں پسند۔۔
وجاہت نے بہانا بنایا۔۔
تو آپ کو دکھانے کیلئے نہیں پہنا مجھے یہ رنگ بہت پسند ہے اسی لئے پہنا ہے۔۔
کچھ بھی ہو سب نیچے انتظار کر رہے ہیں اگر جانا ہے تو چینج کر کے آؤ۔۔
ہانیہ نے اب غصے سے وجاہت کو گھورا اور پیر پٹختی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی اب وجاہت حور کے ساتھ کھیلنے لگا۔۔
سب سہی کہہ رہے تھے کہ حور ایک دو دن میں میرے ساتھ نارمل ہوجائے گی میں ہی جلد باز ہوں۔۔
حور کو پیار کر کے وجاہت نے دل میں سوچا۔۔
پانچ منٹ بعد ہانیہ پنک شارٹ فراق کے ساتھ بلیک کیپری پہنے باہر آئی اور اب پونی ٹیل بنانے کے بجائے بالوں میں برش کر کے اس نے بس کیچر لگا لیا۔۔
وجاہت کو ایک بار پھر غصہ چڑھا کیونکہ ان کپڑوں میں وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔۔
اس پر اسکے ادھ کھلے بال اور چہرے پر آئی فرینچ کٹنگ اس کو اور پیارا بنا رہی تھی وہ سچ میں بہت کیوٹ تھی چھوٹے بچوں جیسے معصوم سے گال تھے اسکے جو کہ گلابی سے تھے۔۔
وجاہت نے اسے ایک بار پھر ٹوکا۔۔
کیا تمہارے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں۔۔
ہانیہ نے بس وجاہت کو گھورنا ہی بہتر سمجھا۔۔
اور اسے اب مزید تپانے کیلئے اسنے ڈارک پنک کلر ہی لپ اسٹک لگائی اور چل دی باہر جانے کیلئے۔۔
وجاہت نے حور کو نیچے اتار کر ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔۔
اس اچانک حرکت پر ہانیہ بیلنس نہ برقرار رکھ پائی اور سیدھا وجاہت کے چوڑے کسرتی سینے سے جالگی۔۔
وجاہت کے سینے سے لگے وہ اسکی مخصوص خوشبو کو محسوس کر رہی تھی۔۔
وجاہت نے غصے سے اسکا چہرا تھام کے کہا۔۔
میں کچھ بول نہیں رہا اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم آزاد ہو اس طرح نمائش کا سامان بن کے گھر سے باہر قدم بھی رکھا تو ٹانگیں توڑ دونگا۔۔
وجاہت کے الفاظ سے ہانیہ کو بھی غصہ آگیا۔۔
میں آزاد ہی ہوں مسٹر وجاہت عالم آپ مجھ پر کوئی روک ٹوک نہیں کر سکتے۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکی مضبوط گرفت سے نکل نہیں پارہی تھی ۔۔
وجاہت کی نظر ہانیہ کی غصے سے بھری آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کے لبوں پر گئی اور اسکی نظر وہیں جم سی گئی۔۔
اہم اہم۔۔
بھائی بھابھی رومانس بعد میں کر لینا ابھی ہادی ویٹ کر رہا ہے۔۔
نیلم دروازے پر کھڑی ان دونوں کو چونکا گئی۔۔
وجاہت ایک دم ہانیہ سے دور ہوا۔۔
ہانیہ بھی ایک دم حور کی طرف گئی اسے گود میں اٹھایا اور بیگ لئے باہر بڑھ گئی نیلم کے ساتھ۔۔
جبکہ ہانیہ کو ایسے جاتا دیکھ وجاہت نے غصے سے دیوار پر مکا مارا۔۔













لیڈیز کب سے انتظار کر رہا ہوں کہاں رہ گئی تھی۔۔
ہادی نے خفگی سے دونوں سے کہا۔۔
وہ بس حور کو تیار کر رہی تھی اسی لئے دیر ہوگئی۔۔
واؤ بھابھی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔
ہادی نے ہانیہ کی تعریف کی۔۔
میں بھی یہیں ہوں میری تعریف بھی کی جاسکتی ہے۔
نیلم نے ہادی کو مخاطب کیا۔۔
تم تو ہمیشہ سے ہی میری پرنسس ہو اب چلیں۔۔
ہادی کی بات پر نیلم بلش کرنے لگی۔۔
ہادی نے تو نہیں مگر ہانیہ نے یہ بات ضرور نوٹ کی۔۔
چلیں اب۔۔
ہادی گاڑی کی چابی ہاتھ میں لئے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔
اتنے میں وجاہت بھی پورچ میں آگیا۔۔
میں بھی ساتھ چلو گا۔۔
وجاہت نے ہادی سے کہا۔۔
بھائی خیریت تو ہے تم اور شاپنگ۔۔
ہادی نے حیرت سے وجاہت کو دیکھا۔۔
میں اپنی بیٹی کیلئے خود شاپنگ کروں گا۔۔
وجاہت نے بغیر کسی کی طرف دیکھے جواب دیا تو ہادی نے اسے گاڑی کی چابی تھما کر بولا۔۔
تو ڈرائیو بھی تم ہی کرنا۔۔
ٹھیک ہے بیٹھو سب۔۔
وجاہت چابی لئے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا نیلم نے ہانیہ کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود حور کو لے کر ہادی سے ساتھ بیک سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔
گاڑی اپنے راستے پر رواں تھی ہادی اور نیلم اپنی باتوں میں مصروف تھے اور ساتھ ساتھ وجاہت اور ہانیہ کو بھی شامل کر رہے تھے ۔۔
جسکا وہ دونوں مختصر سا ہی جواب دے رہے تھے ۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے وجاہت کی نظر بار بار ہانیہ پر جارہی تھی جو ونڈو سے باہر ہی دیکھ رہی تھی۔۔
گاڑی شاپنگ مال کے باہر رکی تو سب گاڑی سے اتر گئے وجاہت نے گاڑی ویلے کو دی پارک کرنے کیلئے اور سب کے ساتھ چل دیا مال کے اندر۔۔
نیلم نے تو ڈھیر ساری شاپنگ کی جو کہ اسے ہادی نے کروائی وہ ہمیشہ نیلم کے بہت لاڈ اٹھاتا تھا۔۔
جبکہ ہانیہ اور وجاہت حور کی شاپنگ میں مصروف ہوگئے ۔۔
وجاہت ہانیہ کے ساتھ ایسے چپکا ہوا تھا جیسے اسکا کتنا بڑا عاشق ہو ۔۔
اس پر اٹھنے والی نظر کو وہ گھور کے دیکھنے لگ جاتا۔۔
اس کی پرسنالٹی ہی ایسی تھی کہ اسکا گھورنا ہی بہت تھا لوگوں کیلئے۔۔
اس بیچ ہادی نے اپنے لئے بھی ڈریس لیا اور زبردستی وجاہت کیلئے بھی جو کہ انہیں کل پارٹی میں پہننا تھا۔۔
جب سب کی شاپنگ مکمل ہوگئی تو نیلم اور ہادی ہانیہ کے پیچھے پڑ گئے کہ وہ بھی اپنے لئے پارٹی میں پہنے کا ڈریس لے۔۔
وہ لوگ ایک بوتیک پر گئے جہاں کچھ لڑکیاں ایک ڈریس کو بہت ستائش سے دیکھ رہی تھیں۔۔
وہ ایک وائٹ رنگ کا گاؤن تھا جس پر بہت نفیس کام ہوا تھا دیکھنے میں وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔۔
گڈ آفٹر نون سر آپ کو یہ ڈریس اچھا لگا۔۔
جی اچھا ہے وجاہت نے جواب دیا۔۔
جی سر یہ ڈریس آج ہی شاپ پر آیا ہے اور یہ ہمارے ڈزائینر کا سب سے بہترین ڈریس ہے اپنی نئی کلیکشن کا۔۔
اس پر سونے کے تار سے کام ہوا ہے اور اسکا باقی میٹیریل بھی بہت اعلا قسم کا ہے۔۔
ورکر بہت پروفیشنل انداز میں سب کو بتا رہا تھا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کی نظروں میں اس ڈریس کیلئے پسند دیکھی۔۔
مگر جیسے ہی اس نے اسکے پرائز دیکھے تو وہ حیران رہ گئی ۔۔
وہ جوڑا ساڑھے چار لاکھ کا تھا۔۔
اس میں اور بھی کلرز ہونگے وائٹ بہت کامن کلر ہے ۔۔
نیلم نے ورکر سے سوال کیا۔۔
جی بلکل میم اس میں وائٹ کے علاوہ بس بلیک کلر ہی ہے یہ ڈریس بہت اعلا ذوق کے لوگوں کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جو کہ ڈیسنٹ اور سٹل لک پسند کرتے ہیں۔۔
ورکر نے انہیں بلیک گاؤن دکھایا۔۔
واؤ۔۔ بھابھی آپ پر یہ بلیک گاؤن بہت خوبصورت لگے گا بلکل پرنسز لگوگی۔۔
نیلم نے ستائش سے اس گاؤن کو دیکھ کے کہا۔۔
مجھے نہیں پسند یہ ہانیہ نے صاف جھوٹ بولا۔۔
مگر کیوں اتنا اچھا تو ہے۔۔
نیلم نے ہانیہ کو حیرت سے دیکھ کے کہا۔۔
نیلم حور بہت چھوٹی ہے میں اسے سنبھالوں گی یا اس وزنی گاؤن کو۔۔
ہانیہ نے بہانا بنایا اور بہانے میں وزن بھی تھا۔۔
نیلم خاموش ہوگئی تو ہادی بیچ میں بول پڑا۔۔
ٹھیک ہے یہ نہ لیں کچھ اور لے لیں۔۔
نہیں کچھ نہیں اب ریسٹورنٹ چلتے ہیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔
ہانیہ زبردستی سب کو اس بوتیک سے باہر لے آئی۔۔
نیلم اور ہادی تھوڑا آگے چل رہے تھے اور وجاہت حور کو گود میں لئے ہانیہ کے ساتھ چل رہا تھا۔۔
جب ڈریس پسند آرہا تھا تو لیا کیوں نہیں حور کو تو کوئی بھی سنبھال سکتا تھا ۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔
جانتی ہوں مگر میں وہ ڈریس میں افورڈ نہیں کر سکتی
وہ ڈریس ساڑھے چار لاکھ کا تھا اتنی تو میری سیلری بھی نہیں ہے۔۔
ہانیہ نے بغیر وجاہت کی طرف دیکھے بہت صاف گوئی سے جواب دیا۔۔۔
میں تو افورڈ کر سکتا ہوں۔۔۔
وجاہت نے نظریں اب بھی ہانیہ کے چہرے پر جمائے رکھی۔۔
جی آپ کر سکتے ہیں نیلم کیلئے لے لیجئے ۔۔
اب ہانیہ نے بھی وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔
میں تمہاری بات کر رہا ہوں۔۔
میرے لئے بھلا کیوں آپ اتنے پیسے ضائع کریں۔۔
ہانیہ نے اب رک کے وجاہت کی انکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔
کیوں کیا کوئی رشتہ نہیں ہے ہمارا۔۔
وجاہت نے بھی رک کر ہانیہ کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔
وجاہت کی باتوں پر ہانیہ کو ہنسی آگئی۔۔
ہمارا پتہ نہیں ہاں جس رشتے سے آپ کے گھر میں ہوں اسکی مجھے منتھلی پے ملتی ہے اور اسی منتھلی پے سے میں کچھ ہی دن پہلے شاپنگ کر چکی ہوں۔۔
اور ویسے بھی مجھے اتنے برانڈڈ کپڑے پہننے کی عادت نہیں ہے مجھے اپنی لمٹس اچھے سے پتہ ہے ۔۔
اب کی بار ہانیہ نے مسکرا کے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی جبکہ وجاہت واپس اسی بوتیک پر گیا ہانیہ کیلئے وائٹ ڈریس ہی پیک کروایا
کیونکہ ہانیہ کو وائٹ ہی پسند آیا تھا۔۔
اپنے کارڈ سے پے کر کے اس نے وہ ڈریس اپنے کارڈ پر لکھے ایڈریس پر ڈلیور کرنے کا کہا۔۔












ارے میرا اکڑو شہزادہ کہاں ہے۔۔
ہادی نے نظریں ادھر ادھر گھوما کر دیکھا سب تھے سوائے وجاہت اور حور کے۔۔
پتہ نہیں ابھی تو یہی تھے کہاں چلے گئے۔۔
نیلم نے بھی ہادی کی بات کی تائید کی۔۔
یہی کہیں ہونگے آجائیں گے۔۔
ہانیہ نے ان دونوں کو بیٹھنے کا کہا۔۔
وجاہت کو آتا دیکھ ہادی فورا ہانیہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
وجاہت ہادی اور ہانیہ کو گھرتے ہوئے اب نیلم کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
بھابھی آپ کو پتہ ہے یہاں کی چنا چاٹ بہت مزے کی ہے پلیز آپ میرے ساتھ وہی کھانا۔۔
نیلم نے پیار سے ہانیہ کو کہا۔۔
ٹھیک ہے۔۔ ہانیہ نے بھی مسکرا کے نیلم کو ہاں کہا۔۔
وجاہت نے اپنے لئے چکن سینڈوچ اور ہادی نے اپنے لئے بیف برگر منگوایا۔۔
اور ساتھ میں سبھی نے ائسکریم کھائی۔۔
اب سب واپس گھر جانے کیلئے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو ہانیہ حور کو لے کر بیک سیٹ پر سب سے پہلے بیٹھ گئی۔۔
نیلم بھی ہانیہ کے ساتھ بیٹھی تو ہادی وجاہت کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔
گاڑی چلاتے وقت وجاہت نے بیٹ ویو مرر سے ہانیہ کو دیکھا جو حور کو گود میں لئے بیٹھی ہوئی تھی۔۔
اور حور ہانیہ کی گود میں پرسکون ہو کر سورہی تھی۔۔
اچانک ہانیہ کی نظر وجاہت پر گئی جو گاہے بگاہے مرر میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کی نظروں میں شکایت دیکھی تو ہانیہ کو دیکھنا بند کر دیا۔۔













گھر اکر وجاہت اپنے کمرے میں گیا اور غصے میں اپنے کوٹ اتار کر زمین پر پھینکا۔۔
یہ لڑکی میرے صبر کے پیمانے کو لبریز کر رہی ہے۔۔
غصے میں وجاہت نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنی کنپٹیاں مسلی اور چل دیا ہانیہ کے کمرے کی طرف
مگر جیسے ہی اسنے دروازہ کھولا وہ کمرے میں نہیں تھی اب وجاہت کا رخ دادو کے کمرے کی طرف تھا۔۔
بیٹا بہت اچھی شاپنگ کی آپ لوگوں نے۔۔
دادو نے سب کا سامان دیکھ کے دل سے تعریف کی۔۔
ہانی میری جان۔۔
جی دادو۔۔
بیٹا تم نے کچھ نہیں لیا۔۔
دادو نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔
اتنے میں وجاہت بھی کمرے میں داخل ہوگیا۔۔
دادو مجھے کچھ پسند ہی نہیں آیا۔۔
ہانیہ نے صاف جھوٹ بولا جسے وجاہت نے محسوس کرلیا۔۔
وجاہت نے نوٹ کیا تھا کہ ہانیہ جھوٹ بولتے وقت اپنی نظریں جھکا لیتی ہے ۔۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے ہانی کہ تمہیں پورے مال میں کچھ اچھا نا لگا ہو۔۔
دادو نے اب ہانیہ سے سوال کیا۔۔
دادو مجھے اتنی جلدی کچھ بھی پسند نہیں آتا۔۔
اب ہانیہ نے مسکرا کے بات کو ٹالنا چاہا۔۔
وجاہت بیٹا تم ہی کچھ ہانی کو دلا دیتے اپنی پسند سے۔۔
دادو نے اب وجاہت سے کہا جو ہانیہ کے بلکل سامنے جاکر بیٹھ گیا۔۔
میں کسی کے ساتھ زبر دستی نہیں کرتا دادو جسے جو پسند ہو وہ لے سکتا ہے۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو نظروں میں لئے کہا۔۔
وجاہت کی نظروں کی تپش ہانیہ محسوس کر رہی تھی اسی لئے وہ نیلم سے بات کرنے لگی ۔۔
دادو بھی ان دونوں سے باتوں میں لگ گئیں۔۔
اتنے میں ہادی کمرے میں آکر وجاہت کے ساتھ بیٹھ گیا اور اسے محسوس بھی نہ ہوا۔۔
پھر ہادی نے وجاہت کی نظروں کو دیکھا جو ہانیہ پر جمی ہوئی تھی۔۔
بس کر دے بھائی کھا جائے گا کیا۔۔
ہادی نے وجاہت کے کان میں کہا۔۔
تو وجاہت ہادی کو بس گھور کے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
لگتا ہے میرے اکڑو شہزادے اور مس کیوٹی کے بیچ کچھ گڑبڑ ہے ۔۔
اب ہادی دی گریٹ کو ہی کچھ کرنا پڑے گا
Episode 12
نیلم ہادی اور ہانیہ باہر لان میں بیٹھے سجاوٹ کو دیکھ رہے تھے جو کہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
باقی کی سجاوٹ کل صبح سے دوبارہ شروع ہونی تھی ابھی سارے ورکر جاچکے تھے
تو ہادی ہانیہ اور نیلم کو لئے باہر آگیا اور اب سبھی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔
ہانیہ آج ہادی سے اچھے سے بات کر رہی تھی کل کی نسبت کیوں کہ وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ دل کا برا نہیں ہے اور ویسے بھی اس نے ہمیشہ اسکی تعریف ہی سنی تھی۔۔
حور چونکہ عالیہ بیگم اور شان صاحب کے پاس تھی کچھ اس لئے بھی ہانیہ پر سکون بیٹھی تھی۔۔
ویسے بھابھی آپ نے شادی کر کیسے لی اس اکڑو شہزادے سے۔۔
ہادی نے اب سوال ہانیہ سے کیا۔۔
مگر ہادی کے بولنے کے انداز پر ہانیہ مسکرادی۔۔
میں نے شادی حور کیلئے کی تھی جب میں اس سے پہلی بار ملی مجھے اس سے محبت ہوگئی پھر مجھ سے رہا ہی نہیں گیا
اسی لئے میں نے وجاہت سے شادی کرلی وجاہت کو بھی حور کی دیکھ بھال کیلئے کوئی چاہیئے تھا اسی لئے انہوں نے بھی کرلی مجھ سے شادی۔۔
ہانیہ نے کچھ سچ اور کچھ جھوٹ بتایا۔۔
ہادی کو ڈھونڈتا ہوا وجاہت جیسے ہی باہر آیا اس نے ہانیہ کا یہ جواب سنا۔۔
ویسے ہادی آپ وجاہت کو اکڑو شہزادہ ہی کیوں کہتے ہیں۔۔
ہانیہ جو کب سے پوچھنا چاہ رہی تھی اب پوچھ ہی بیٹھی۔۔
بھئی میرا بھائی کسی شہزادے سے کم تو ہے نہیں اسی لئے اسے شہزادہ کہتا ہوں مگر ہر وقت اکڑا رہتا ہے بات بات پر گھورتا رہتا ہے
بس اسی لئے اسے اکڑو شہزادہ کہتا ہوں۔۔
اور آپ کو پتہ ہے کالج اور یونیورسٹی میں اتنی لڑکیاں پاگل تھیں اس کے لئے مگر وہ تھا کہ نظر بھر کے بھی کسی کو نہ دیکھتا تھا ۔۔
اس کے دل میں تو بس نور کا ہی نور تھا وہ بس اس سے ہی ملتا تھا اس سے بات کرتا تھا
وہ ہی اسکی سب سے اچھی دوست تھی۔۔
وجاہت بہت چاہتا تھا نور کو ۔۔
ہادی آسمان کی طرف دیکھ کے بولا ۔۔
وجاہت نے بھی گہرا سانس لے کر ہانیہ کو دیکھا اسے ایسا لگا جیسے ہانیہ کے چہرے پر اچانک اداسی آگئی ہو۔۔۔
کتنی خوشنصیب تھی نہ نور اسے زندگی میں سب کچھ ملا پیار عزت محبت کرنے والا شوہر اور سب سے بڑھ کر اولاد۔۔
ہانیہ نے بہت دھیمی آواز میں کہا مگر جو کہ ہادی اور نیلم نے نہیں سنی مگر اسکے بلکل پاس کھڑے وجاہت نے وہ الفاظ با آسانی سن لئے تھے۔۔
مگر وجاہت وہاں ایسے آکر بیٹھا جیسے کسی کی کوئی بات نہ سنی ہو۔۔
کیا ہوا ہے۔۔
وجاہت نے ہادی کو مخاطب کیا۔۔
اب بھائی تم سے کیا چھپانا خالصتاً تمہاری ہی برائی کر رہے ہیں ۔۔
ہادی کے انداز اور الفاظ پر وجاہت مسکرا دیا۔۔
اور ہاں ہانی کو تمہارے خلاف بڑھکا بھی رہا ہوں۔۔
ہادی نے ایک اور چٹکلا چھوڑا مگر اب کی بار وجاہت کے چہرے سے ہنسی غائب ہی ہوگئی۔۔
ہادی نے نوٹ نہیں کیا اور نیلم کی کسی بات کا جواب دینے لگا۔۔
کچھ دیر وجاہت اور ہانیہ خاموش بیٹھے رہے۔۔
ایک ملازم سب کیلئے کافی لے آیا تو سب اپنا اپنا کپ لے کر بیٹھ گئے۔۔
ہانی آپ ہر وقت چپ چپ اور اداس کیوں رہتی ہیں۔۔
ہانی نے ہانیہ کو مسلسل خاموش دیکھا تو بولے بنا نہ رہا۔۔
کچھ نہیں بس یہی سوچ رہی ہوں کہ جب جب مجھے ایسا لگتا ہے میں مکمل ہوں کوئی نہ کوئی مجھے یہ احساس دلا ہی دیتا ہے کہ نہیں میں مکمل نہیں ہوں۔۔
کمی ہے مجھ میں ہانیہ کافی کے مگ کو گھورتے ہوئے بولی۔۔
کیسی کمی ۔۔
ہادی نے سیریس ہو کر ہانیہ سے پوچھا۔۔
ہانیہ نے دیکھا سب کی نظریں اس پر تھی تو وہ ایک دم بات بدل گئی۔۔
کانفڈینس کی۔۔
ہانیہ نے زبردستی مسکرا کے کہا۔۔
وجاہت کو اسکی ہنسی ایک دم بناوٹی لگی۔۔
ایسا کیوں کہا آپ نے بھابھی۔۔
نیلم نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔
کیوں کہ میں تم لوگوں کی طرح ہنسی مزاق نہیں کر سکتی خود سے کسی سے آگے بڑھ کر بات نہیں کر سکتی اور کسی کو جوک سنانا وہ تو مجھے بلکل بھی نہیں آتا۔۔
ہانیہ کے لہجے میں صاف لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔
بس اسی لئے ہمیشہ خاموش رہتی ہوں۔۔
ہانیہ نے کہا اور گھر کے اندر جانے لگی ۔۔
چلو دیر ہورہی ہے کل بہت سے کام ہیں۔۔
ہانیہ یہ بول کہ چلی گئی رکی نہیں تو نیلم بھی اسی کے ساتھ چلی گئی۔۔
اب ہادی اور وجاہت اکیلے بیٹھے تھے لان میں۔۔
وجی ایک بات پوچھوں۔۔
ہادی نے وجاہت کو مخاطب کیا۔۔
ہاں بولو۔۔
تو نے ہانی سے شادی کیوں کی۔۔
ہادی نے سوال کیا جو وہ صبح سے سوچ رہا تھا۔۔
حور کیلئے۔۔
وجاہت نے بھی فوراً ہی جواب دیا۔۔
مطلب تجھے ہانی سے محبت نہیں ہے۔۔
ہادی نے اب وجاہت کا چہرا نظروں میں لے کر کہا۔۔
وہ وجاہت کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا جب وہ ہانیہ کے بارے میں بات کرتا تو۔۔
تمہیں میری پرسنل لائف میں دخل اندازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
وجاہت نے اب کے دو ٹوک جواب دیا۔۔
یعنی تمہارا جواب نہ ہے۔۔
ہادی نے اب بھی ہار نہیں مانی اور پھر سے سوال کرنے لگا۔۔
مین نے بتایا نہ میں نے شادی حور کیلئے کی تو اس میں محبت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔
وجاہت نے اب تھوڑا جھنجھلا کے کہا۔۔
ہادی نے آگے سے کچھ نہیں بولا اور خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔۔
شب بخیر میرے اکڑو بھائی۔۔
ہادی وجاہت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے گیا۔۔
اس کے یوں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنا وجاہت کو سمجھ میں نہ آیا۔۔














اگلے دن سبھی اپنی اپنی تیاریوں میں جٹ گئے پارٹی بس شروع ہی ہونے والی تھی تو سب اپنے اپنے کمرے میں ہی تھے۔۔
نیلم نے پرپل کلر کی پیروں کو چھوتی ہوئی فراک پہنی تھی جس پر نگوں سے بہت نفیس کام ہوا وا تھا
کمر سے تھوڑے اونچے بالوں میں اسنے لوز کرلز ڈالے ہوئے تھے۔۔
وجاہت کی ہی طرح کا کھڑا ناک نقش لئے سرخ و سفید رنگت کی حامل نور اپنے نازک سے سراپے میں بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔
ہادی نے بھی بلیک پینٹ کے ساتھ پرپل ٹی شرٹ پہنی تھی جو کہ نیلم نے اس کے لئے لی تھی اور اس پر بلیک پارٹی کوٹ پہنے وہ بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔
ہادی بھی وجاہت سے کم ہینڈسم نہ تھا مگر اسکی شخصیت میں ایک شوخ پن تھا جبکہ وجاہت کی شخصیت بہت رعب دار تھی۔۔۔
شان صاحب نے بھی ٹو پیش پہنا تھا اور عالیہ بیگم نے بلو ساڑھی پہنی تھی۔۔
حور کو ہانیہ نے وائٹ کلر کی پرنسس فراک پہنائی تھی جس میں حور کا اپنا رنگ ملتا ہوا رنگ رہا تھا ۔۔
گول مول سی حود اس میں بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
ساجدہ بیگم نے پارٹی میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔۔
وجاہت نے نیوی بلیو پینٹ کے ساتھ گلر شرٹ پہنی تھی اور اس پر نیوی بلیو ہی پارٹی کوٹ پہنا تھا۔۔
ڈارک براؤن بالو کو جیل سے نفاست سے سیٹ کئے اپنی گھنی داڑھی مونچھوں میں وہ غضب ڈھا رہا تھا۔۔
پارٹی میں جانے سے پہلے وہ ہانیہ کے کمرے میں گیا حور کو لینے
مگر جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا وہیں جم گیا۔۔
ہانیہ سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی جیولری پہن رہی تھی۔۔
وہ اس وقت کاہیا رنگ کی نیٹ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔۔
ساڑھی میں اسکا نازک سراپا صاف جھلک رہا تھا۔۔
ہانیہ نے بہت سلیقے سے ساڑھی پہنی ہوئی تھی اپنے آپ کو پوری طرح سے ڈھانپے ہوئے نیٹ کی ساڑھی میں بھی اسکا جسم بلکل بھی نہیں جھلک رہا تھا۔۔
مگر وجاہت کو تو اسے دیکھ کے ہی آگ لگ گئی۔۔
وجاہت کوئی چھوٹی سوچ کا حامل نہیں تھا وہ ایک کھلے دماغ کا انسان تھا اور ساڑھی تو اسکی مام بھی پہنا کرتی ہیں۔۔
اور نور وہ تو سلیولیس بلاؤز والی ساڑھی ہی پہنتی تھی ڈیپ نیک کے ساتھ وہ اسے فیشن کا نام دیتی تھی جس پر وجاہت نے اسے کبھی نہیں ٹوکا۔۔
مگر ہانیہ کے معاملے میں وہ ایسی سوچ چاہ کر بھی نہیں رکھ پا رہا تھا۔۔
جٹھکے سے اسکا ہاتھ پکڑ کے وجاہت نے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
یہ کیا بے ہودہ لباس پہنا ہے۔۔
وجاہت کی آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھی ۔۔
بے ہودہ ۔۔ بے ہودہ لباس مسٹر وجاہت عالم یہ لباس اپکی مام نے مجھے دیا تھا اور انہوں نے بھی ایسا ہی لباس پہنا ہے اور اپکی نور بھی ایسے ہی لباس پہنا کرتی تھی
اس وقت آپ کو یہ بے ہودہ نہیں لگا۔۔
ہانیہ نے بھی غصے سے اپنا ہاتھ چھڑایا
تم اس طرح باہر نہیں جاؤگی۔۔
وجاہت نے نیا حکم جاری کیا۔۔
اب ہانیہ تنگ آرہی تھی وجاہت کی روک ٹوک سے۔۔
آپ ہوتے کون ہیں مجھے یہ بولنے والے۔۔
ہانیہ نے بھی تیش میں آکر کہا۔۔
میں جو بھی ہوں تمہیں میری بات ماننی ہوگی۔۔
وجاہت نے بھی اسے اسی کی ٹون میں جواب دیا۔۔
بھول ہے آپ کی ہمارے کانٹریکٹ میںی ایسا کچھ نہیں لکھا تھا میرے جو جو فرائض ہیں وہ میں دل سے اور اچھے سے نبھا رہی ہوں
اب آپ میری زندگی میں مداخلت نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔۔
ہانیہ یہ کہہ کر کمرے سے جانے لگی وجاہت نے زور سے پرفیوم کی بوتل دیوار پر کھینچ کے ماری ۔۔
بات اتنی بڑی تھی نہیں جتنا بڑا اسے وجاہت بنا رہا تھا۔۔
آپ کی پرابلم کیا ہے۔۔ ہو کیا گیا ہے آپ کو۔۔
ہانیہ نے حیرت سے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔
تم میرا صبر آزما رہی ہو۔۔
وجاہت نے آنکھیں بند کر کے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔
میں نے کیا کہا ہے کیا کیا ہے کیوں آپ اتنا عجیب انداز اپنائے ہوئے ہیں۔۔
کچھ دن پہلے تو آپ کو میرے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑھتا تھا اور اب اچانک یہ روک ٹوک ہانیہ نے نم آنکھوں سے وجاہت کو دیکھا۔۔
وہ وجاہت کا یہ جنونی انداز دیکھ کے بہت ڈر گئی تھی۔۔
تم مجھے غصہ دلاتی ہو ۔۔
وجاہت نے اب ہانیہ کے آنسو دیکھے تو نرم انداز میں بولا۔۔
میں غصہ دلاتی ہوں کیسے بتائیں مجھے۔۔
میں نہیں بتانا چاہتا بس یہ ڈریس چینج کرلو کچھ سادہ سا پہنو بہت سادہ اور چہرا ایک دم سادہ رکھنا یہ میک اپ صاف کرو مجھے تم بلکل اچھی نہیں لگ رہی۔۔
وجاہت نے ابھی بھی آواز نیچی رکھ کے کہا ۔۔
آپ کیا چاہتے ہیں میں پارٹی میں شامل نہ ہوں تو ایسے ہی کہہ دیجیئے بہانے کیوں بنا رہے ہیں۔۔
صاف کہئے نہ آپ کو شرم آئے گی میرے ساتھ پارٹی میں جاتے ہوئے۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو غور سے دیکھا وہ بات کا کیا مطلب نکال رہی تھی۔۔
جانتی ہوں اپکی پہلی بیوی کی طرح حسین نہیں ہوں مگر حقیر بھی نہیں ہوں
مانتی ہوں کوئی رشتہ نہیں ہے ہمارا مگر دنیا کیلئے تو بیوی ہوں نہ آپ کی
کیا میں اتنی بری ہوں کہ آپ کو اب میری ذات سے شرمندگی ہوگی۔۔
ہانیہ نے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے۔۔
وجاہت اسے شکایتی نظروں سے بس گھورے جارہا تھا۔۔
دروازے کے باہر کھڑا ہادی اب جا چکا تھا وہ آیا تھا ہانیہ اور وجاہت کو بلانے۔۔
کیونکہ اس نے وجاہت کو ہانیہ کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا۔۔
مگر اب جو کچھ اس نے سنا وہ ہمت نہیں کر پایا کمرے کے اندر جانے کی اور الٹے قدم واپس چلا گیا۔۔
تمہیں ایسا لگتا ہے کہ مجھے تمہارے ساتھ شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔۔
وجاہت نے ہانیہ سے سوال کیا۔۔
ہانیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
وجاہت اسکا ہاتھ پکڑے کمرے سے لے گیا اور جاتے ہوئے ایک میڈ سے کہا کہ کمرے کی اچھے سے صفائی کر دے کیوں کہ کمرے میں ہر طرف کانچ کے ٹکڑے بکھر گئے تھے۔۔
ہانیہ کو نیلم کے کمرے کے پاس چھوڑ کر وجاہت وہاں سے چلا گیا۔۔
اپنا حلیہ درست کرو 5 منٹ میں نیچے آجانا ۔۔
وجاہت یہ بول کر رکا نہیں چلا گیا اور ہانیہ نے نیلم کے کمرے میں جا کر اپنا چہرا صاف کیا جو آنسوؤں میں بھیگا ہوا تھا۔۔
پھر اس نے ہلکا سا میک اپ دوبارہ کیا لائٹ سی لپ اسٹک لگائی اور تیار ہوکر باہر آئی سب لوگ نیچے پارٹی میں جا چکے تھے۔۔
ہانیہ بھی نیچے جانے لگی مگر سیڑھیوں پر جیسے ہی اس نے قدم رکھا سبھی نے اسکی طرف اپنی نظریں کرلی۔۔
پارٹی میں آئے سبھی لوگ وجاہت کی بیوی کو دیکھنا چاہتے تھے۔۔
اتنے سارے لوگوں کی نظریں خود پر دیکھ ہانیہ وہیں کنفیوز ہوگئی۔۔
سب اسے دیکھ چکے تھے وہ اب واپس بھی نہیں جا سکتی تھی۔۔
اتنے میں وجاہت سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آیا اور ہانیہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔۔
ہانیہ نے پہلے غور سے وجاہت کو دیکھا جس کا چہرا ایک دم سپاٹ تھا۔۔
ہانیہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا مگر وجاہت کے ہاتھ میں دیا نہیں وجاہت نے خود ہی اسکا ہاتھ تھام لیا اور اسے نیچے لے جانے لگا۔۔
ہانیہ نے دیکھا وجاہت کا جیسے ہی رخ سبھی لوگوں کی طرف پوا اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔
جو ہانیہ کو بناوٹی ہی لگی۔۔
نیچے جا کر وجاہت نے سب کو ہانیہ سے انٹروڈیوس کروایا اپنی بیوی کے طور پر۔۔
ہانیہ کو دیکھ سبھی باتوں میں لگ گئے۔۔
ہانیہ سب سے مسکرا کر ملی۔۔
وجاہت عالم کی پہلی بیوی کتنی حسین تھی مگر تھی بہت بولڈ اور گھمنڈی جبکہ یہ تو بہت معصوم سی بہت نازک اور پیاری ہے۔۔
کسی عورت کی آواز وجاہت کے کانوں سے ٹکرائی۔۔
ہر کوئی ہانیہ کا نور سے موازنا کر رہا تھا۔۔
مگر تعریف سب ہانیہ کی ہی کر رہے تھے۔۔
یار اس وجاہت عالم کو اتنی خوبصورت اور معصوم حسینہ کہاں سے مل گئی۔۔
دیکھ یار ساڑھی میں کیا کمال لگ رہی ہے
ارے یہ کیا بول رہے ہو بھائی وجاہت نے سن لیا نہ تو اپنے پیروں پر چل کر گھر نہیں جاؤگے ۔۔
کسی دوسرے آدمی نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
وجاہت نے اسکی بات بھی سنی اور غصے سے مٹھیاں بھینچ گیا ۔۔
اس آدمی کی شکل وہ دیکھ چکا تھا مگر اس وقت وہ کوئی تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ اسکا فیملی فنکشن تھا۔۔
وجاہت ہانیہ کے پاس گیا اور ویٹر کو بھی اپنے پاس بلایا جو سب کو جوس اور کولڈ ڈرنک پیش کر رہا تھا۔۔
وجاہت نے کچھ ایسے اپنا پیر بیچ میں آڑایا کی بغیر کسی کو شک ہوئے اسنے ویٹر کا بیلنس بگاڑ دیا اور ویٹر میں ہاتھ میں پکڑی ٹرے زمیں پر گر گئی جبکہ ساری کولڈ ڈرنک ہانیہ کے کپڑوں پر گر گئی۔۔
فاتحانہ مسکراہٹ چھپاتے ہوئے وجاہت ویٹر کو ڈانٹنے لگا جو ہانیہ سے معافی مانگ رہا تھا۔۔
کوئی بات نہین ہو جاتا ہے۔۔
ہانیہ نے جب اس ویٹر کو گھبراتا ہوا دیکھا تو اسے اس پر ترس آگیا۔۔
وجاہت اسکا ہاتھ تھام کے اوپر لے گیا سب کے سامنے تو ہانیہ نے کچھ نہیں کہا مگر اب اوپر آتے ہی ہانیہ نے اپنا ہاتھ وجاہت کے ہاتھ سے چھڑوالیا۔۔
ابھی وہ اپنے کمرے میں جانے لگی کہ وجاہت نے اسے ایک بار پھر ٹوک دیا۔۔
وہاں کانچ بکھرا ہوا ہے وہاں مت جاؤ ۔۔
وجاہت ہانیہ کو اپنے روم میں لے آیا اور اسے ایک باکس پکڑایا۔۔
ہانیہ نے ناسمجھی سے وہ باکس کھولا تو اس میں وہیں ڈریس تھا جو ہانیہ کو مال میں پسند آیا تھا۔۔
ہانیہ نے اس ڈریس کو بیڈ پر رکھ دیا۔۔
ہانیہ یہ پہنو۔۔
وجاہت نے بہت آرام سے اس سے کہا۔۔
میں یہ نہیں پہن سکتی۔۔
ہانیہ نے بھی تحمل سے اسے جواب دیا۔۔
مگر کیوں۔۔
وجاہت کا پارا ایک بار پھر ہائی ہونے لگا۔۔
اسے نہ لفظ سے ہی نفرت تھی اور یہ لڑکی اسے ہمیشہ نہ ہی کہا کرتی تھی ہر معاملے میں۔۔
کیونکہ میری اتنی اوقات نہیں ہے کہ میں یہ اتنی مہنگی ڈریس پہنوں۔۔
ہانیہ نے دو ٹوک جواب دیا۔۔
وجاہت بس اسے گھورنے لگا۔۔
اور ویسے بھی میرے کپڑے اتنے خراب نہیں ہوئے میں بس اسے پانی سے صاف کر کے ڈرائیر سے سکھا لونگی
ہانیہ واشروم کی طرف جانے لگی کہ وجاہت نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
تم ابھی اور اسی وقت یہ کپڑے تبدیل کرو ورنہ ابھی تو بس کسی کے ہاتھ پیر توڑنے کا ارادہ ہے یہ نہ ہو کوئی ضائع ہی ہوجائے میرے ہاتھ سے۔۔
وجاہت کا اشارہ اس آدمی پے تھا جو ہانیہ کے بارے میں بات کر رہا تھا۔۔
مگر ہانیہ کو اس کی بات بلکل سمجھ نہیں آئی۔۔
جاؤ اور چینج کرو۔۔
وجاہت نے اسے ایک بار پھر آرام سے کہا۔۔
میں نے نہ کہا ہے۔۔
ہانیہ نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلا دیا۔۔
لڑکی تم مجھے چیلنج مت کرو۔۔
وجاہت نے آنکھوں میں تیش لئے کہا۔۔
ہاں کر دیا چیلنج جو کرنا ہے کرلیں ۔۔
ہانیہ نے بھی اسے بس وجاہت کی دھمکی سمجھ کر بول دیا۔۔
مجھے چیلنجز بہت پسند ہیں۔۔
اچانک وجاہت کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی جسے ہانیہ ہوئی نام نہ دے سکی۔۔
وجاہت آگے بڑھا اور اسکے کان میں بولا۔۔
تم چینج نہیں کروگی تو ٹھیک مت کرو میں ہی کر دیتا ہوں تمہارا ڈریس چینج۔۔
وجاہت کی بات پر ہانیہ کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔
ہانیہ دو قدم پیچھے ہو کر بولی۔۔
کیوں نہیں کر سکتا شوہر ہوں تمہارا قانونی اور شرعی جائز حق رکھتا ہوں تم پہ۔۔
وجاہت کے تیور دیکھ ہانیہ وہیں جم سی گئی وجاہت نے اپنا ہاتھ اسکے کمر کے گرد باندھ کے اسے اپنے قریب کیا۔۔
اتنا کہ وہ اسکی سانسیں اپنی پیشانی پر محسوس کر سکتی تھی ۔۔
ہانیہ کو لگا وہ ابھی بے ہوش ہوجائے گی۔۔
جیسے ہی وجاہت نے اپنا ہاتھ ہانیہ کے پلو پہ رکھا ہانیہ ایک دم بول پڑی ۔۔
رکو۔۔ رک جاؤ۔۔
میں کرتی ہوں چینج خود ہی۔۔
ہانیہ کے بوکھلا کر بولنے پر وجاہت کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آگئی۔۔
گڈ گرل اسکی کان میں بولتا ہوا وہ ہانیہ سے دور ہوا اور اسے ڈریس پکڑائی جو ہانیہ تھام کے تیزی سے ڈریسنگ روم میں گئی اور دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔۔
جلدی سے اپنا ڈریس چینج کیا مگر باہر نہیں آئی بلکہ وہیں بیٹھ گئی۔۔
5 منت بعد وجاہت نے دروازہ ناک کیا
مگر ہانیہ نے کوئی جواب نہ دیا۔۔
میرے پاس اس کمرے کی چابی موجود ہے اگر تم باہر نہیں ائی تو میں تمہیں خود لے آؤ گا۔۔
ہانیہ نے ناچار دروازہ کھول کے باہر آگئی۔۔
سفید رنگ اس پر بہت جچ رہا تھا اس پر ہانیہ کی رنگت سرخ ہوئی وہ تھی وجاہت کی قربت پر۔۔
وجاہت اسے دیکھ اسکا ہاتھ تھام کے باہر لے جانے لگا اور ہانیہ بھی اسی کے پیچھے خاموشی سے چل رہی تھی۔۔
وجاہت اسے لئے پارٹی میں آیا تو سب ایک بار پھر ہانیہ کو دیکھ کے حیران رہ گئے۔۔
سب سے زیادہ حیران ہادی اور نیلم تھے کہ کب وجاہت نے ہانیہ کیلئے وہ ڈریس خریدا ۔۔
ہانیہ اب پہلے سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔
وجاہت اب اس کا ہاتھ تھامے نیچے لے گیا۔۔
ان دونوں کے آنے کے بعد ہادی نے کیک منگوایا اور وجاہت نے حور کو گود میں لے لیا
وجاہت کی گود میں آتے ہی حور کھلکھلا دی
حور کو مسکراتا دیکھ وجاہت اور ہانیہ دونوں مسکرا دئیے۔۔
اسی لمحے فوٹو گرافر نے ان تینوں کی تصویر لے لی ۔۔
کیک آیا تو وجاہت اور ہادی نے شان صاحب اور عالیہ بیگم سے کیک کٹ کروایا۔۔
اور سب پھر پارٹی انجوائے کرنے لگے۔۔
وجاہت ایک کے بعد ایک ہانیہ کو اپنے دوستوں اور ساتھ کام کرنے والے ورکرز سے ملوا رہا تھا۔۔
ہانیہ مسکرا کر سب سے مل رہی تھی مگر وہ بار بار کسی کی نظریں خود پر محسوس کر کے بے چین ہورہی تھی۔۔
وجاہت اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا مگر پھر بھی وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی ۔۔
آنے والے وقت سے انجان وہ اسی پل سے گھبرا رہی تھی۔۔
