Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 04)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 04)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
مجھے جواب چاہیئے۔۔
ہاں یا ناں۔۔
وجاہت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔۔
میری کچھ شرائط ہیں اگر آپ مانتے ہیں تو ہاں اگر آپ کو اعتراض ہوا تو میری طرف سے نہ ہی سمجھئے گا۔۔
اس رشتے اور وجاہت کے نام کی اب ہانیہ کو بہت ضرورت تھی مگر وہ بلکل بھی یہ بات وجاہت عالم کو جتانا نہیں چاہتی تھی۔۔
بہت کوششوں سے وہ اپنے لہجے کو ہموار رکھ کے وجاہت سے بات کر رہی تھی ورنہ انجان لوگوں کے آگے اسکی کبھی زبان نہیں چلی مگر اب تو یہ اس کی پوری زندگی کا سوال ہے تو اسے ہمت تو دکھانی ہی تھی نہ۔۔
آپ کو ایک عالیشان زندگی مل رہی ہے شان و شوکت ملے گی اس سے زیادہ کیا چاہیئے آپ کو۔۔
مجھے آپکی جیسی شان و شوکت اور عالیشان زندگی کی کبھی کوئی خواہش نہیں رہی یہ میری زندگی کا معاملہ ہے۔۔
ہانیہ نے صاف الفاظ میں وجاہت کو یہ بتا دیا تھا کہ وہ اپنی شرائط کے بغیر حور کی ذمیداری نہیں سنبھالے گی۔۔
ٹھیک ہے بتائیں آپکی شرائط اگر ۔۔ اگر مجھے مناسب لگی تو ہی میں مانو گا۔۔
وجاہت نے اگر لفظ پر زور دے کر کہا۔۔
سب سے پہلی بات اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی زندگی میں دخل اندازی نہ کروں تو اس بات کا خیال آپ بھی رکھیں گے
اگر مجھے آپ کے معاملات میں بولنے کی اجازت نہیں تو آپ بھی میرے معاملات سے دور رہیں گے۔۔
اگر میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہوگا تو آپ بھی مجھ پر کبھی کوئی حق نہیں جتائیں گے۔۔
اور سب سے اہم بات اس کانٹریکٹ کے بارے میں آپ کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے یہ بات ہمیشہ صرف آپ کے اور میرے بیچ ہی رہے گی۔۔
اب آخری بات میں ایک عزت دار گھرانے کی لڑکی ہوں اور ہر عزت دار لڑکی کی جیسے شادی ہوتی ہے ویسے ہی میری رخصتی بھی میرے گھر سے ہی ہوگی ۔۔
اس کے لئے آپ اپنے پیرنٹس کو میرے گھر لے کر آئیں گے ۔۔
ہانیہ نے اپنی شرائط وجاہت کے سامنے رکھی تو وجاہت طنزیہ مسکرانے لگا۔۔
آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کی یہ شرائط مانو گا۔۔
بلکل کیونکہ میں نے کوئی ناجائز مانگ نہیں کی ہے ۔۔
وجاہت کو بھی یہ سب مانگ ناجائز نہ لگی اور اپنی بیٹی کیلئے وہ اتنا تو کر ہی سکتا ہے ۔۔
ٹھیک ہے میں آج شام ہی اپنے گھر والوں کے ساتھ آپ کے گھر آونگا اور کل ہی ہمارا نکاح ہوگا اور میرے گھر آتے ہی آپ کانٹریکٹ سائن کریں گی۔۔
وجاہت نے بھی اپنی بات مکمل کی۔۔
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو اپنے گھر کا ایڈریس دیا۔۔
مجھے یقین ہے آپ کبھی کسی کو کانٹریکٹ کے بارے میں نہیں بتائیں گے۔۔
ہانیہ یہ کہہ کر آفس سے چلی گئی۔۔
اور وجاہت اپنی سوچوں میں گم ہوگیا۔۔
کیا ایک باپ ہونا ایک آدمی کیلئے کمزور ہونے کی بات ہے۔۔
کیوں وہ ہانیہ کی ہر شرط مان گیا تھا۔۔












مام۔۔
ڈیڈ۔۔
دادو۔۔
وجاہت نے گھر میں آتے ہی زور زور سے سب کو پکارنا شروع کر دیا۔۔
کیا ہوگیا ہے بیٹا اس طرح سے کیوں چلا رہے ہو۔۔
عالیہ بیگم نے وجاہت کو چلاتے ہوئے دیکھا تو بول دیں۔۔
مام سب کو آنے دیں پھر بتاتا ہوں۔۔
عالیہ بیگم کے بعد شان صاحب اور نیلم ساجدہ بیگم کو لئے آگئی۔۔
بولو کیا بولنا ہے تمہیں ۔۔
عالیہ بیگم نے سب کے بیٹھنے کے بعد بات کو شروع کیا۔۔
میں شادی کر رہا ہوں۔۔
وجاہت کے الفاظ نے ہال میں بیٹھے سبھی افراد کو شاک کر دیا۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو تم اور شادی تم جانتے بھی ہو کہہ کیا رہے ہو۔۔
شان صاحب نے تھوڑی سختی سے کہا۔۔
ڈیڈ میں جانتا ہوں میں کیا کر رہا ہوں اور میں شادی اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی بیٹی کیلئے کر رہا ہوں ۔۔
وجاہت نے شادی کی اصل وجہ بتائی تو اب شان صاحب تھوڑے نرم پڑھے۔۔
لڑکی کون ہے۔۔ ساجدہ بیگم نے بس اتنا ہی پوچھا۔۔
ہے ایک لڑکی آپ لوگ ابھی میرے ساتھ اس کے گھر چلیں کل ہی نکاح ہوگا کیونکہ پرسوں مجھے ائر لینڈ جانا ہے تین سے چار ماہ کیلئے۔۔
وجاہت بیٹا پہلے تو تم کہہ رہے ہو کہ تمہیں کل شادی کرنی ہے اور دوسری طرف تم تین چار ماہ کیلئے باہر ملک جاؤ گے اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر۔۔
عالیہ بیگم کو وجاہت کی سوچ کبھی سمجھ نہ آئی۔۔
مام میں شادی اپنے لئے نہیں اپنی بیٹی کیلئے کر رہا ہوں اس لڑکی سے میں بات کر چکا ہوں وہ اس گھر میں اور میری زندگی میں صرف میری بیٹی کیلئے ہی آئے گی اور اسے اس بات سے کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔۔
شان صاحب اور عالیہ بیگم وجاہت کو کچھ بولتے اس سے پہلے ہی ساجدہ بیگم بیچ میں بولیں۔۔
ٹھیک ہے کب تک چلنا ہے۔۔
آپ سب لوگ ریڈی ہوجائیں پھر چلتے ہیں۔۔











اگلے دو گھنٹے میں وجاہت اپنے گھر والوں کے ساتھ ہانیہ کے گھر پر موجود تھا۔۔
ہانیہ نے پہلے ہی وجاہت کے بارے میں سب کو گھر میں بتا دیا تھا۔۔
سوائے کانٹریکٹ والی بات کے اس نے وجاہت کا اپنی بیٹی کیلئے شادی کرنے کے بارے میں بھی بتایا تھا۔۔
دونوں گھرانوں میں بات چیت ہوئی اور سبھی کافی حد تک مطمئن تھے ساجدہ بیگم کو ہانیہ کے گھر والے بہت اچھے لگے اور ہانیہ بھی۔۔۔
اور سعید صاحب کو بھی وجاہت بہت بھایا وجاہت سب سے بہت احترام سے ملا ۔۔
فاطمہ تو اپنی بیٹی کیلئے اتنا اچھا رشتہ آنے پر ہی بہت خوش تھیں۔۔
اور ایشا تو پھولے ہی نہ سما رہی تھی پہلے تو اسکی ہانیہ سے جان چھوٹ رہی تھی اور سے اتنے امیر کبیر گھرانے سے رشتہ جو جڑ رہا تھا۔۔
سعید صاحب ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کا نکاح کل ہی ہوجائے ۔۔
شان صاحب نے اصل مدعے کی بات کی۔۔
یہ کیسے ممکن ہے شان صاحب آپ لوگ رشتہ آج لے کر آئے اور کل نکاح کی بات کر رہے ہیں۔۔
اصل میں سعید صاحب پرسوں وجاہت کو ائر لینڈ جانا ہے اور اسے وہاں کتنا ٹائم لگے یہ بتانا تھوڑا مشکل ہے
حور بہت چھوٹی ہے اور اسے ایک ماں کی ضرورت ہے صرف اسی لئے ہم جلدی کر رہے ہیں۔۔
سعید صاحب نے تھوڑا سوچا اور پھر ہانیہ کیلئے دوسرے آئے ہوئے رشتے کے بارے میں سوچ کر انہوں نے اللہ کا نام لے کر سب کو ہاں کردی ۔۔
اور اس طرح اگلے ہی دن ہانیہ اور وجاہت کا نکاح سادگی سے کر دیا گیا۔۔












ہانیہ رخصت ہو کر عالم ولا آئی تو وجاہت کی نظریں اسی پر تھی
وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ہانیہ اس محل نما گھر کو کن نظروں سے دیکھتی ہے
مگر وجاہت کی سوچ کے برعکس ہانیہ نے گھر کو نظر بھر کے بھی نہ دیکھا۔۔
ہانیہ نے حسرت سے دیکھا تو صرف حور کو دیکھا وہ چھوٹی سی بچی کسی عورت کی گود میں تھی ہانیہ نے محبت سے حور کو دیکھا تو ساجدہ بیگم نے میڈ کو اشارہ کیا کہ حور کو ہانیہ کو دے۔۔
میڈ نے بھی سر ہلا کے حکم پورا کیا اور حور کو ہانیہ کی گود میں دے دیا۔۔
ہانیہ نے حور کو گود میں لیتے ہی اسے پیار کیا۔۔
وجاہت سب پر ایک نظر ڈال کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
ساجدہ بیگم نے نیلم سے ہانیہ کو کمرے میں لے جانے کا کہا۔۔
تو نیلم ہانیہ کو لئے وجاہت کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
نیلم نے دروازہ ناک کیا تو وجاہت کی اجازت ملتے ہی نیلم ہانیہ کو لئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
ہانیہ کو وہاں دیکھ ابھی وجاہت کچھ بولنے ہی والا تھا کہ نیلم پہلے ہی بول پڑی۔۔
برو میں بھابھی کو لے آئی اب میرا نیگ دیجئے۔۔
وجاہت نے نیلم کو گھور کے کہا۔۔
یہ کوئی سیلیبریشن نہیں ہے نیلم کہ تمہیں نیک دیا جائے اور ہانیہ حور کے کمرے میں رہے گی۔۔
اسے حور کے روم میں لے کر جاؤ۔۔۔
وجاہت نے نیلم اور ہانیہ دونوں کو حور کے کمرے میں جانے کا کہا تو پیچھے سے دادو بھی وجاہت کے روم میں چلی آئی۔۔
نیلم بیٹا تم جاؤ تمہارا تحفہ تمہیں مل جائے گا۔۔
دادو ںے نیلم کو وہاں سے بھیج کر رخ وجاہت کی طرف کیا۔۔
ہانیہ تمہاری بیوی ہے اس رشتے سے وہ تمہارے کمرے میں ہی رہے گی وہ الگ بات ہے کہ تمہارے جانے کے بعد وہ حور کے روم میں شفٹ ہو جائے گی مگر اس سے پہلے وہ یہی رہے گی ۔
ساجدہ بیگم نے دو ٹوک بات کی ۔۔
دادو آپکو پتہ ہے یہ شادی میں نے کیوں کی ہے اور اس کے آگے آپ مجھے کسی بھی چیز کیلئے پریشرائز نہیں کر سکتیں۔۔۔
وجاہت عالم نکاح کوئی مزاق نہیں ہوتا ۔۔
دادو یہ نکاح ایک مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔
وجاہت نے بھی اپنی بات رکھی مگر ساجدہ بیگم کہا ہار ماننے والی تھیں۔۔
ہانیہ کو وہیں رہنے کا کہہ کر وہ وہاں سے چلیں گئی۔۔
اور ہانیہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی ہی رہ گئی۔۔
جبکہ دادو کے جانے کے بعد وجاہت نے غصے سے ہانیہ کو صوفے پر بیٹھنے کا کہا۔۔
اب تم کیا وہیں کھڑی رہوگی بیٹھو وہاں جاکر۔۔۔
ہانیہ خاموشی سے کمرے میں موجود تھری سیٹر صوفے پر جاکر بیٹھ گئی۔۔
وجاہت نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھا ۔۔
سنہرے رنگ کی گھیردار پاؤں تک آتی فراک میں سرخ رنگ کا ڈوپٹہ پہنے کانوں میں چھوٹی مگر خوبصورت جھمکے پہنے ہلکے میک اپ کئے میں وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔۔
وجاہت نے اس کے سامنے کانٹریکٹ کے پیپر رکھے۔۔
میں نے آپ کی شرائط مانی اب آپ بھی اپنی ذمہ داری پوری کریں ۔۔
وجاہت نے اب کی بار لہجے کو ہموار رکھ کے کہا۔۔
ہانیہ نے بھی بغیر کچھ کہے ہی پیپرز پر سائن کر دیے۔۔
پیپر لے کر وجاہت کمرے میں بنے اسٹڈی روم میں چلا گیا۔ جبکہ ہانیہ وہیں بیٹھی رہی۔۔
قریب دو گھنٹے بعد وجاہت کمرے میں واپس آیا تو دیکھا ہانیہ وہیں صوفے پر اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی جیسے وہ اسے چھوڑ کے گیا تھا۔۔
وجاہت کچھ کہتا اس سے پہلے ہی ہانیہ نے گھڑی پر ٹائم دیکھ کر وجاہت کو مخاطب کیا۔۔
اس وقت مجھے لگتا ہے آپ کے گھر والے سو چکے ہونگے آپ مجھے حور کا کمرا دکھا دیجئے کونسا ہے میں وہیں جانا چاہتی ہوں۔۔
ہانیہ کا انداز دیکھ وجاہت کا دل کیا کہ اسے خوب باتیں سنائے۔۔
مگر اس نے ایک بار پھر تحمل کا مظاہرہ کیا اور صرف ایک بات کہی۔۔
آپ کیلئے یہی بہتر ہے۔۔
ہانیہ کو حور کے کمرے کو بتایا تو ہانیہ بغیر وجاہت کی طرف دیکھے کمرے سے چلی گئی ۔۔
ہانیہ کے جانے کے بعد وجاہت نے بس ایک بات سوچی۔۔
پتہ نہیں خود کو سمجھتی کیا ہے۔۔
اتنا بول کے وجاہت اپنا لیپ ٹاپ لئے بیٹھ گیا۔۔
اور اسکرین پر حور کے کمرے میں موجود خفیہ کیمرے کی ویڈیو آن کی۔۔
اسی کیمرے کی مدر سے وہ حور پر ہر وقت نظر رکھتا تھا۔۔
ہانیہ کمرے میں آتے ہی حور کو گود میں لئے بیٹھ گئی اس کے ساتھ کھیلنے لگی۔۔
وجاہت کافی دیر تک ان دونوں کو دیکھتا رہا تب تک جب تک ہانیہ نے حور کو سلا کر خود بھی حور کو لئے لیٹ گئی
