Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 40)Part 1,2
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 40)Part 1,2
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
وجاہت ہانیہ کو لئے ہوٹل سے نکلا اور اسے گاڑی میں بٹھا کر گھر کیلئے روانہ ہوگیا۔۔
راستے میں ہانیہ نے وجاہت کو دیکھا جو ایک نظر بھی ہانیہ کو نہیں دیکھ رہا تھا۔۔
چہرا اسکا ایک دم سپاٹ تھا جسے سامنے والا دیکھ کے اندازہ نہ لگا پائے کہ اسکے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔
دوسری طرف سبھی گھر والے وجاہت اور ہانیہ کو ہوٹل میں نہ پاکر پریشان ہورہے تھے
وجاہت کا موبائل اسی روم میں تھا جو اسنے ہانیہ کیلئے لیا تھا۔۔
اور ہانیہ کا موبائل نیلم کے پرس میں تھا۔۔
پھر ریسیپشن سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وجاہت عالم اپنی وائف کا ہاتھ پکڑے باہر لے کر گئے تھے۔۔
سب نے جیسے تیسے کر کے مہمانوں کو الوداع کیا اور پھر وہ لوگ بھی گھر کیلئے روانہ ہوئے۔۔
چونکہ وجاہت اور ہانیہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا تو سبھی ان کے لئے پریشان تھے۔۔
کہ کہیں ہانیہ کی سچ میں طبیعت خراب نہ ہوگئی ہو کیونکہ وجاہت نے اپنی مام سے کہا تھا کہ اسے ہانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔
اس طرف ہانیہ کا وجاہت کو دیکھ دیکھ کے دل گھبرا رہا تھا کیونکہ ایک تو وہ خاموش تھا دوسرا وہ گاڑی گھر کے راستے کے بجائے نہ جانے کن راستوں پر لے جارہا تھا۔۔
ہم کہاں جارہے ہیں۔۔؟؟
کوئی تیسری بار ہانیہ نے وجاہت سے سوال کیا مگر وجاہت نے کوئی جواب نہ دیا۔۔
گاڑی کی رفتار کافی تیز تھی اور راستہ کافی سنسان تھا روڈ پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔۔
پلیز بتائیں نہ وجاہت ہم کہاں جارہے ہیں
ہانیہ نے اب کے بار وجاہت کو کندھا پکڑ کے اسے کہا۔۔
تم جان کر کیا کروگی؟؟
سپاٹ لہجے میں جواب آیا۔۔
مجھے جاننا ہے اتنی رات کو آپ مجھے وہاں سے لے آئے اور اب ہم کہاں جارہے ہیں۔۔
ہانیہ نے سنسان علاقے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ڈر لگ رہا ہے؟
وجاہت نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھ کے کہا تو ہانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
اسی وقت ایک طنزیہ مسکراہٹ وجاہت کے لبوں پر آئی۔۔
بھروسہ نہیں ہے مجھ پہ؟
ایک اور سوال کر کے وجاہت نے ہانیہ کو بغور دیکھا
آپ پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے خود پر نہیں ہے۔۔
ہانیہ نے اپنی غیر ہوتی حالت محسوس کر کے کہا۔۔
بے فکر رہو کچھ نہیں کرونگا تمہارے ساتھ بلکہ میں تو۔۔۔۔
اتنے میں وجاہت کچھ اور کہتا اس سے پہلے ہی ایک کار تیزی سے سامنے سے آئی جسکی ہیڈ لائٹ کی روشنی سے وجاہت اور ہانیہ کی نظریں ایک دم چھندھیاں گئیں۔۔
وجاہت نے بر وقت اسٹئیرنگ سیدھے ہاتھ کی طرف موڑا مگر گاڑی بروقت اپنا راستہ نہیں بدل پائی اور سامنے والی گاڑی سے جا ٹکرائی۔۔
وجاہت!!!! ایک نسوانی چیخ تھی جو اس جگہ گونجی تھی۔۔













آخر گئے کہاں یہ لوگ ہادی مسلسل موبائل پر مصروف کسی نہ کسی سے بات کر رہا تھا۔۔
گھر وہ لوگ آچکے تھے مگر وجاہت اور ہانیہ گھر پر نہیں تھے۔۔
پھر ہادی نے ہٹ کے کئیر ٹیکر کریم سے پوچھا تو وہ لوگ ہٹ بھی نہیں گئے تھے
ہادی نے اپنے فارم ہاؤس کے بارے میں پتہ کیا تو گارڈ نے بتایا کہ وہاں بھی انکی فیملی سے کوئی نہیں گیا تھا۔۔
اب تو سب لوگوں کو واقعی وجاہت اور ہانیہ کی فکر ہورہی تھی۔۔
ہادی اور شان صاحب اپنے اپنے طور پر وجاہت اور ہانیہ کا پتہ کروا رہے تھے۔۔
نیلم کو حور کو لئے اسکے کمرے میں بھیج دیا تھا اب عالیہ بیگم اور دادو دل ہی دل میں اپنے بچوں کیلئے دعاگو تھے۔۔
اب تو انہیں گئے تقریباً چار گھنٹے ہونے کو تھے مگر ان لوگوں کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔۔
رات کے تین بجے بھی سب گھر والے لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔
پولیس کو اطلاع کردی گئی تھی وہ وجاہت اور ہانیہ کی تلاش جاری تھی۔۔
وجاہت پہلے بھی ایسے قدم اٹھا چکا تھا کہ ہانیہ کو بغیر کسی سے پوچھے ہی کہیں لے گیا۔۔
مگر ایسی غیر ذمیداری آج تک نہیں نبھائی تھی اس نے وہ جہاں جاتا تھا بتا کے جاتا تھا اور اپنا فون وہ کبھی بند نہیں کرتا تھا۔۔
اب تو سرے سے ہی اس کے پاس فون نہیں تھا۔۔
سب اسی ٹینشن میں تھے کہ گھر کے لینڈ لائن پر رنگ ہوئی۔۔
ہادی نے فوراً میں فون اٹھایا۔۔
جی کہیئے۔۔ ہاں یہ عالم ولا ہی ہے۔۔
جی ہاں ۔۔ جی جی ۔۔۔ کیا!!!!
کب ۔۔ کیسے ۔۔ کہاں۔۔ کونسے ہاسپٹل میں ۔۔
ٹھیک ہے
ہادی فون پر بات کر رہا تھا اور سب کا دل خوف کے مارے لرز رہا تھا ہاسپٹل کا سن کر۔۔
کیا ہوا کون تھا۔۔ شان صاحب نے ہادی کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کے پوچھا۔۔
ہاسپٹل سے کال تھی وجی کی کار کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔
ہادی نے کس تکلیف سے وہ الفاظ ادا کئے وہ ہی جانتا تھا۔۔
کیا!! کہاں ہیں میرے بچے عالیہ بیگم تڑپ کر ہادی سے پوچھنے لگی۔۔
ہمیں چلنا چاہئے۔۔
ہادی نے کوئی جواب نہ دیا اور گھر سے باہر چل دیا
جبکہ شان صاحب اور عالیہ بیگم بھی اس کے ساتھ ہی گھر سے باہر کی طرف بڑھے۔۔
نیلم اور دادو وہیں گھر پر ہی رہے۔۔













مسٹر ہادی وجاہت عالم اور انکی وائف کو کچھ گھنٹے پہلے یہاں لایا گیا تھا
وجاہت عالم چونکہ ایک ملٹی میلنیئر ہیں تو کون انہیں نہیں جانتا ہاں البتہ ان کے ساتھ ان کی وائف اور جس کی کار کے ساتھ انکا ایکسیڈینٹ ہوا وہ آدمی بھی یہیں موجود ہے۔۔
کیا وجاہت اور اسکی وائف ٹھیک ہے۔۔؟؟
ہادی نے ڈاکٹر سے سوال کیا۔۔
وہ لوگ ابھی ہاسپٹل پہنچے تھے تو ہادی نے آئی سی یو سے نکلتی ہوی ڈاکٹر سے سوال کئے۔۔
مسٹر وجاہت کو تھوڑے زخم آئے ہیں وہ انڈر آبزرویشن ہیں۔۔ اور مسز وجاہت کو زیادہ چوٹ ان کے سر پر آئی ہے
سیٹ بیلٹ کی وجہ سے انہیں زیادہ چوٹیں نہیں آئی ہاں سر گاڑی کے شیشے سے ٹکرایا ہے جسکی وجہ سے سر سے کافی خون بہا ہے۔۔
انہیں ڈاکٹرز چیک کر رہے ہیں ابھی کوئی ریپورٹ ان کے حوالے سے سامنے نہیں آئی ہے۔۔
ڈاکٹر نے تفصیل سے سب بتایا۔۔
ڈاکٹر میری بہو ایکسپیکٹ کر رہی ہے کیا اسکا ہونے والا بچہ ٹھیک ہے۔۔
عالیہ بیگم نے روتے ہوئے سوال کیا۔۔
دیکھیں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ڈاکٹرز ابھی انکا معائنہ کر رہی ہیں جیسے ہی مجھے کوئی ریپورٹ ملے گی میں آپ کو انفارم کردوں گی۔۔
ڈاکٹر کہہ کر رکی نہیں
ہادی نے عالیہ بیگم کو سمبھالا جنکے آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے
دوسری طرف شان صاحب بھی اپنا سر تھامے آئی سی یو کے باہر رکھی بینچ پر بیٹھ گئے
تھوڑی دیر بعد وہی ڈاکٹر آئیں
مسٹر وجاہت کو ہوش آگیا ہے ہم انہیں روم میں شفٹ کر رہے ہیں۔۔
اور میری بہو عالیہ بیگم نے ہانیہ کے متعلق سوال کیا۔۔
وہ ٹھیک ہیں انکا بچہ بھی ٹھیک ہے پر ابھی وہ بے ہوش ہیں جب تک انہیں ہوش نہیں آجاتا وہ انڈر آبزرویشن رہیں گی اور تب تک کوئی ان سے مل نہیں سکتا۔۔
ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ لوگ وجاہت کے روم میں گئے
وجاہت کو روم میں منتقل کر دیا گیا تو ہادی شان صاحب اور عالیہ بیگم اس سے ملنے گئے۔۔
وجاہت اس وقف نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔۔
کیسے ہو بیٹا ۔۔ عالیہ بیگم اور شان صاحب نے وجاہت سے سوال کیا۔۔
میں ٹھیک ہوں مگر میں یہاں میں تو ہانیہ کے ساتھ ۔۔۔۔
سوچتے ہی وجاہت کو ہانیہ کا خیال آیا۔۔
ڈیڈ ہانیہ کہاں ہے۔۔ مام۔۔
وجاہت نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے اپنے مام ڈیڈ سے سوال کیا۔۔
بیٹا وہ ٹھیک ہے تم آرام کرو۔۔ عالیہ بیگم نے اپنی سی تسلی دی تھی وجاہت کو۔۔
اور میرا بے بی ۔۔ بولتے ہوئے وجاہت کے چہرے پر الگ ہی ڈر کا تاثر تھا۔۔
وہ بھی ٹھیک ہے ۔۔ عالیہ بیگم کے الفاظ سنتے ہی وجاہت کو ایسا لگا جیسے اسکی اٹکی ہوئی سانس واپس چلنے لگی ہو۔۔
part 2
وجاہت اور ہانیہ کی آنکھوں پر اچانک سے تیز روشنی پڑی تھی۔۔
سامنے سے آتی کار جو کہ بہت تیزی سے آرہی تھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔
وجاہت نے بروقت اپنی کار موڑی مگر کار کی پچھلی سمٹ سامنے سے آتی کار نے ان کی کار کو ٹکر ماری۔۔
کاروں کی اسپیڈ تیز تھی تو جھٹکا بھی تیز ہی لگا وجاہت نے اپنی پرواہ کئے بغیر ہانیہ کو پکڑنا چاہا مگر اسکا سر بری طرح سے کار کے شیشے سے ٹکرایا تھا
شیشہ ٹوٹا تھا اور ہانیہ نے سر سے خون بہہ رہا تھا۔۔
زخم وجاہت کو بھی کئی آئے تھے مگر آخری نظر اسنے ہانیہ کو ہی دیکھا تھا جو ہوش و خرو سے بیگانہ ہوچکی تھی۔۔














مام مجھے ہانیہ سے ملنا ہے کہاں ہے وہ۔۔؟
وجاہت نے کینولا اپنے ہاتھ سے کھینچ کر نکالا عالیہ بیگم حیرت اور بے یقینی سے وجاہت کو دیکھ رہی تھیں۔۔
نہیں وجاہت وہ ڈاکٹر کی آبزرویشن میں ہے کسی کو بھی اس سے ملنے کی فلحال اجازت نہیں۔۔
عالیہ بیگم نے وجاہت کے ہاتھ کو دیکھ کے کہا جہاں سے خون نکل رہا تھا۔۔
مجھے کچھ نہیں پتہ میں ابھی اس کے پاس جاؤنگا۔۔
بولتے ہوئے وجاہت اٹھا اور اپنے روم سے باہر نکلا۔۔
آئی سی یو کے باہر اس نے ایک نرس کو دیکھ کے پوچھا ہانیہ کے بارے میں۔۔
دیکھیں آپ کی مسز ٹھیک ہیں مگر ابھی کسی کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے جب تک انہیں ہوش نہیں آجاتا۔۔
وجاہت نے نرس کو گھورا جیسے کہہ رہا ہو تمہاری ہی تو سنو گا۔۔
اور پھر وہ بغیر نرس کی آوازوں کی پرواہ کئے آئی سی یو میں گھس گیا
ہانیہ بے ہوشی کی حالت میں آس پاس سے انجان بیڈ پر لیٹی تھی۔۔
وجاہت اسکے پاس گیا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا جس پر بینڈیج باندھی گئی تھی۔۔۔
سن شائن اٹھ جاؤ یار کتنا آرام کروگی
وجاہت نے تھکے ہوئے انداز میں کہا۔۔
نرس ڈاکٹر کو بلا لائی تھی مگر اندر آکر جب ڈاکٹر نے وجاہت کو دیکھا تو نرس کو خاموش رہنے کا کہا۔۔
وجاہت ہانیہ کا ہاتھ تھامے اسکا چہرا غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
ڈاکٹر نے وجاہت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔
ینگ مین تمہارے وائف ٹھیک ہے بس انجیکشن کے زیر اثر سورہی ہے جیسے ہی اسے ہوش آئے گا ہم تمہیں اس سے ملنے دیں گے
وجاہت نے بے بسی سے ڈاکٹر کو دیکھا۔۔
ابھی کیلئے تمہیں بھی آرام کرنا کرنا چاہئیے اور اپنی وائف کو بھی ریسٹ کرنے دو۔۔
ڈاکٹر کی بات پر وجاہت ہار مانتے ہوئے اٹھا اور ایک بار ہانیہ کو دیکھ کر چل دیا
ڈاکٹر نے نرس کو وجاہت کے ساتھ جانے کا اشارہ کیا
اپنے روم میں آکر وجاہت اپنے بیڈ پر تھکے ہوئے انداز میں بیٹھ گیا
عالیہ بیگم نے اسے کچھ نہیں کہا خاموشی سے صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھی رہیں۔۔
نرس وجاہت کو پھر سے ڈرپ لگا کر چلی گئی مگر وجاہت جیسے کسی گہری سوچ میں تھا۔۔
ہانیہ کے الفاظ اس نے سنے تھے کاریڈور میں وہ تو اس آدمی کو الٹا سنا رہی تھی
آخری بات جو اس نے کہی تھی وہ یہ تھی کہ اسنے اپنے شوہر سے کچھ نہیں چھپایا
سچ ہی تو کہہ رہی تھی وہ آج تک اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا وجاہت سے
وجاہت کیلئے ہانیہ کی زندگی ایک کھلی کتاب ہی تو تھی
پھر کیوں میں نے ایسے ری ایکٹ کیا
اپنے روم کی کھڑکی سے نظر آتے چاند پر وجاہت کی نظریں ٹکی تھیں۔۔
ہاں سن شائن نے اسے روکا تھا وہ بھی جھوٹ بول کر وہ اس آدمی کو بچانا چاہ رہی تھی مگر کیوں۔۔
کون تھا وہ شخص اور ہانیہ کو کیوں وہ سب کہہ رہا تھا۔۔
وجاہت کو اسی بات کا جواب چاہیے تھا اسی لئے وہ ہانیہ کو غصے سے وہاں سے لے کر گیا
وہ اسے لئے پتہ نہیں کن راستوں پر گاڑی چلائے جارہا تھا
اپنے اضطراب کی حالت میں وہ ہانیہ سے بات نہیں کر سکتا تھا
اپنے غصے کو وہ اچھے سے جانتا تھا سوچا کہ جب دماغ تھوڑا ٹھنڈا ہوگا تو کسی اچھی سی جگہ پر ہانیہ سے بات کرے گا
مگر اس جگہ کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
چاند سے نظر ہٹا کے اس نے ایک نظر ہاسپٹل کے اس روم کو دیکھا۔۔
اگر اسکی سن شائن کو کچھ ہوجاتا یا پھر ان کے بچے کو یہ سوچ آتے ہی وجاہت نے زور سے اپنی آنکھیں میچ لیں
عالیہ بیگم بہت غور سے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہی تھیں۔۔
مام،
وجاہت نے اپنی ماں کو آواز دی تو عالیہ بیگم اٹھ کر اسکے پاس والی چئیر پر بیٹھ گئیں۔۔
بولو۔۔ عالیہ بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
حور کہاں ہے؟ اگلا خیال وجاہت کو اپنی بیٹی کو آیا پتہ نہیں کیوں وہ ہانیہ کے معاملے میں اتنا ایکسٹریم ہوتا جارہا تھا کہ گھر والوں کے ساتھ ساتھ وہ حور کو بھی نظر انداز کردیا کرتا تھا
اپنی اسی بیٹی کو جس کی وجہ سے ہانیہ اسکی زندگی میں آئی تھی
حور ٹھیک ہے نیلم اسے سنبھال لے گی تم ٹینشن مت لو اسکی۔۔
عالیہ بیگم وجاہت سے تھوڑا ناراض تھیں مگر اسکی حالت دیکھ کر اسکے لئے فکرمند بھی تھیں اسی لئے اسے مختصر جواب دے رہی تھیں۔۔













نیلم حور کو ناشتہ کروا رہی تھی مگر حور کے آج کچھ زیادہ ہی نخرے ہورہے تھے۔۔
حور چندا جلدی سے یہ کھاؤ نیلم نے سیریل سے بھرا اسپون حور کی طرف بڑھایا مگر حور نے اپنا منہ پھیر لیا۔۔
نی ماما۔۔ وہ کب سے ایک ہی بات کی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ اسے ماما چاہئے۔۔
نیلم نے کافی کوشش کی مگر حور نے ایک نوالہ بھی منہ میں نہیں لیا۔۔
تھک ہار کر نیلم اپنا سر ہاتھوں میں لئے وہیں فلور کشن پر ہی بیٹھ گئی
حور اپنے ارد گرد ڈھیر سارے کھلونوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی۔۔
وہ ضد نہیں کرتی تھی مگر تھی تو بچی جس نے ان تین دنوں میں اپنی ماما کو دیکھا تک نہیں تھا۔۔
تم سے ایک بچی سنبھالی نہیں جارہی ہمارے 4 بچوں کو کیسے سنبھالو گی۔۔
ہادی نے شرارت سے کہا وہ بھی صرف نیلم کا دیہان بھٹکانے کیلئے ۔۔
کوئی اور وقت ہوتا تو ہادی کی اس بات پر نیلم سرخ ہوچکی ہوتی مگر اس وقت اسنے بس خالی نظروں سے ہادی کو دیکھا۔۔
کیا ہوگیا پرنسس ؟ ہادی نے اسکے اداس چہرے کو دیکھ کے کہا۔۔
ہادی کیا میرے بھائی کو خوشیاں راز نہیں ہیں وہ جب جب خوش ہوتے ہیں کوئی نہ کوئی غم انکی خوشی مانند کردیتا ہے۔۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو سب کچھ ٹھیک ہے ہانیہ بھی ٹھیک ہے اور اسکا بے بی بھی ہادی نے نیلم کا گال تھام کے کہا۔۔
مگر برو ٹھیک نہیں ہیں ہادی تم نے دیکھا تین دن سے وہ ہانی بھابھی کے ساتھ ہیں مگر کچھ بولتے ہی نہیں ہیں۔۔
وجی پریشان ہے پرنسس بس ہانی بھابھی آج شام تک گھر آجائیں گی دیکھنا کچھ ہی دن میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔
ہادی نے اسے پیار سے سمجھایا۔۔ وعدہ کرو۔۔
نیلم نے ہادی کا ہاتھ جو اسکے گالوں پر تھا اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا۔۔
وعدہ کرتا ہوں۔۔ ہادی نے نیلم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔
اب ہٹو زرا میں تمہیں اپنا ٹیلنٹ دکھاتا ہوں
ہادی نے اپنے ہاتھ نیلم کی گرفت سے چھڑوا کر حور کو اپنے سامنے بٹھایا اور اسے کھیل میں اور باتوں میں لگا کر واقعی اس نے اسے کھانا کھلا دیا۔۔
نیلم حیرت سے بس دیکھتی ہی رہ گئی۔۔
یہ کیسے کیا۔۔ نیلم کا حیرت زرہ چہرہ دیکھ کے ہادی شرارت سے مسکرا دیا۔۔
کیا کروں اپنے چار بچوں کو سنبھالنا ہے تو اتنا تو ابھی سے سیکھ ہی چکا ہوں تم بے فکر رہو تم آرام کرنا بس میں اپنے بچوں کو سنبھال لونگا۔۔
ہادی کی باتوں کو سن کے نیلم نے اپنا رخ موڑ لیا جیسے اسنے کچھ سنا ہی نہ ہو اور ہادی بس اسے دیکھے گیا۔۔
محبت سے۔۔













یہ سب کیا ہے معظم یہ چوٹیں کیسے آئی تمہیں۔۔
معظم گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ فرزانہ نے اسے دیکھ کر سوالات شروع کردئے۔۔
کچھ نہیں ہوا اماں بس کسی سے جھگڑا ہوگیا تھا۔۔
بولتے ہوئے وہ بغیر اپنی ماں کی اگلی بات سنے اپنے روم میں گیا اور دروازہ اندر سے بند کرلیا۔۔
نظروں کے سامنے بار بار ہانیہ کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ آرہا تھا۔۔
اور پھر اسنے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا اسکے گال پر آنکھوں سے زرا نیچے نیل پڑا ہوا تھا
جیسے ہی اسنے اس نیل کو چھوا کراہ کر ہاتھ دوبارہ نیچے کرلیا۔۔
اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اسکے گال کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو ۔۔
یہ تم نے اچھا نہیں کیا ہانیہ تمہیں اس کا حساب دینا ہوگا
بہت اکڑ سے کہہ رہی تھی نہ کہ میرا شوہر مجھ سے محبت کرتا ہے تو اسی محبت کو تم سے چھین لونگا میں۔۔
معظم نے آئینے میں خود کو دیکھ کے کہا اب اسے بس ہانیہ کے اس شوہر سے ملنا ہے جس نے اسے یہ زخم دیا۔۔
بدلے میں اسے بھی تو الفاظوں کے زخم دینے ہیں جو کہ ہاتھ کے زخم سے کئی زیادہ خطرناک اور دیرپا اثر کرنے والے ہوتے ہیں۔۔














تم ٹھیک ہو۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لے کہا
ہانیہ نے ایک نظر وجاہت کو دیکھا پھر رخ موڑ کر صرف ہمم کہا۔۔
ناراض ہو مجھ سے۔۔
وجاہت نے اب کے اسکا چہرا تھام کے اسکا رخ اپنی طرف کرکے کہا۔۔
کتنی محبت کرنے والا تھا یہ شخص جو کہ خود بھی زخمی ہونے کے با وجود تین دن سے ہانیہ کے پاس سے ہلا بھی نہیں تھا۔۔
ایکسیڈنٹ کے 32 گھنٹے بعد کہیں جاکر ہانیہ کو ہوش آیا تھا ڈاکٹر نے اسے سب سے پہلی بات یہی بتائی تھی کہ اسکا ہسبینڈ اسکے کیلئے کتنا پریشان رہا ہے۔۔
وجاہت کو یوں اسے تکتا ہوا پاکر ہانیہ نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔
جب اتنی محبت ہے مجھ سے تو پھر اعتبار بھی تو کرتے
ہانیہ نے وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔
سن شائن میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا نہ کچھ پوچھا نہ کوئی سوال کیا۔۔
وجاہت نے بے یقینی سے ہانیہ کا ناراض چہرا دیکھ کے کہا۔۔
اگر آپ کے غصے کی وجہ سے ہمارے بچے کو کچھ ہوجاتا تو۔۔
ہانیہ کی آنکھیں نم ہونے لگی وجاہت نے بھی ہانیہ سے نظریں چرا کے گہرا سانس لیا۔۔
مجھے بلکل احساس نہیں تھا ایسا سب ہوجائے گا معاف کردو مجھے
بولتے ہوئے وجاہت ہانیہ نے پاس سے اٹھنے لگا مگر ہانیہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
وجاہت ایک نظر اپنے ہاتھ کو دیکھا جسے ہانیہ نے تھاما ہوا تھا پھر اپنے ہاتھ کو چھڑانے لگا۔۔
تم سکون سے آرام کرو میں بس ابھی آیا۔۔ وجاہت نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر ہانیہ نے دوسرے ہاتھ سے بھی وجاہت کا ہاتھ تھام لیا۔۔
میرا سکون تو آپ ہیں آپ کے بغیر کیسا سکون کیسا آرام ۔۔
ہانیہ نے بھرائی آواز میں کہا۔۔
وجاہت نے واپس اسکے پاس بیٹھ کر اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگا لیا۔۔
آئی ایم رئیلی سوری۔۔ مجھے نہیں پتہ میں کیوں ایسا ہوتا جارہا ہوں
تمہاری محبت میں میں الگ ہی انسان بنتا جارہا ہوں اتنا ایکسٹریم میں کبھی نہیں تھا مگر تمہارے معاملے میں میں بے بس ہوجاتا ہوں۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے ہاتھوں پر نظریں جمائے کہا۔۔
ہانیہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی شان صاحب نے دروازہ ناک کیا۔۔
پھر دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئے۔۔
وجاہت ہانیہ کے ڈسچارج پیپرز ریڈی ہیں تم ایک بار ڈاکٹر سے ہانی کا چیک اپ کروا لو پھر اسے گھر لے کر چلتے ہیں۔۔
شان صاحب نے وجاہت سے کہا اور ہانیہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر شفقت سے اس سے اسکی خیریت دریافت کی
کیسی ہو بیٹا۔۔
میں ٹھیک ہوں ڈیڈ۔۔ ہانیہ نے مسکرا کے شان صاحب کو جواب دیا۔۔
تو شان صاحب مسکرا کے کمرے سے چلے گئے۔۔
میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں وجاہت بھی بولتے ہوئے کمرے سے باہر گیا۔۔
ڈاکٹر آئیں ہانیہ کا چیک اپ کیا پھر وجاہت کے ساتھ وہ اپنے آفس میں آئیں اور اس سے ہانیہ کے متعق بات کرنے لگیں۔۔
مسٹر وجاہت آپکی وائف اب بلکل ٹھیک ہیں آپ انہیں گھر لے جاسکتے ہیں مگر ایک بات کا خیال رکھیئے گا انہیں کسی بھی طرح کا انٹرنل پین ہو آپ انہیں فوراً ہاسپٹل لے کر آئیں گے۔۔
انہیں دو دن ایکسٹرا یہاں رکھنے کا مقصد یہی تھا کہ بظاہر تو کوئی انکی باڈی پر انجری نہیں ہے مگر انٹرنل کوئی پرابلم نہ ہو۔۔
ان کے سارے ٹیسٹ کلئیر ہیں مگر میں پھر بھی کہوں گی کہ آپ محتاط رہئے گا کبھی کبھی مائنر سی پرابلم بھی انسان کو بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔۔
ڈاکٹر نے وجاہت سے صاف گوئی سے بات کی
ٹھیک ہے ڈاکٹر میں خیال رکھوں گا۔۔
وجاہت ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتا انکے آفس سے نکلا













وجاہت ہانیہ کو لئے عالم ولا میں داخل ہوا تو گھر میں اپنی ماں کو دیکھتے ہی حور جلدی سے ہانیہ کے پیر سے لپٹ گئی۔۔
ہانیہ نے حور کو نم آنکھوں سے دیکھا۔۔
وہ اسے اٹھانے کیلئے جھکنے لگی کہ دادو نے اسے روک دیا۔۔
ہانی میری جان جھکو نہیں پھر دادو نے وجاہت کو اشارہ کیا کہ وہ حور کو گود میں لے لے۔۔
وجاہت نے حور کو گود میں لے کر اسے پیار کیا اور اسے پکڑے ہی ہانیہ کی طرف بڑھایا۔۔
ہانیہ نے اپنی جان کو سینے سے لگا لیا حور بھی ہانیہ سے چپک گئی۔۔
وجاہت نے حور کو پکڑا ہوا تھا تو اسنے حور کو ہانیہ سے الگ کیا اور عالیہ بیگم نے ہانیہ کو اندر آنے کا کہا۔۔
وجاہت حور اور ہانیہ کو لئے اپنے روم میں آگیا
ہانیہ بیڈ پر بیٹھی تو حور وجاہت کی گود سے اتر کر ہانیہ کے پاس چلی گئی
ماما ماما بولتے ہوئے وہ ایک بار پھر ہانیہ سے لپٹ گئی۔۔
وجاہت نے مسکرا کر حور کو دیکھا
ہانیہ نے حور کو پیار سے دیکھا۔۔
میری جان ماما کو مس کر رہی تھیں آپ۔۔
ہانیہ نے حور کو دیکھ کے کہا تو حور نے سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
اسکے زور زور سے سر ہلانے پر ہانیہ اور وجاہت دونوں ہنسنے لگے۔۔
ہانیہ کو آرام کرنے تاکید کر کے وجاہت روم سے نکلا ابھی اسے بہت سے کام تھے سب سے پہلا اس ذلیل شخص کا پتہ کرنا تھا جسکی وجہ سے اس نے ہانیہ کو اتنی تکلیف میں دیکھا۔۔
