Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 21)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

ہانیہ اور وجاہت بیچ سے تقریباً 9 بجے چلے راستے میں ہی ان دونوں نے ڈنر کیا اور اب وہ لوگ گھر واپس جارہے تھے۔۔

ہانیہ کی تو تھکن کے مارے آنکھیں ہی بند ہورہی تھیں۔۔

آج ایک تو وہ صبح سوئی نہیں تھی دوسرا شاپنگ کی اتنے گھنٹے اور پھر شہر سے اتنی دور یہاں آنا راستے سے ہی ہانیہ گھبرا گئی

ورنہ جگہ اسے بہت پسند آئی تھی۔۔

وجاہت بھی کافی تھک چکا تھا مگر ظاہر بلکل نہیں کر رہا تھا۔۔

ایک بات پوچھو۔۔

ہانیہ نے وجاہت کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔

ہاں پوچھو۔۔

وجاہت نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھا پھر دوبارہ اپنی نظریں سامنے کردیں۔۔

آپ ہمیشہ سے ہی تو ایسے نہیں تھے نہ میرا مطلب ہنسنا مسکرانا مزاق کرنا شرارتیں کرنا مجھے چھیڑنا۔۔

یہ سب میں نے کبھی کسی کے منہ سے نہیں سنا آپ کے بارے میں۔۔

ہانیہ کے سوال پر وجاہت ہلکے سے مسکرا دیا۔۔

یہ سچ ہے کہ میں کوئی جولی ٹائپ کا بندہ بلکل نہیں ہوں ہنسی مزاق کرنا مجھے نہیں آتا تھا۔۔

ہاں سب سے مسکرا کے ہی بات کرتا تھا مگر نور کے جانے کے بعد ایک جو گلٹ تھا مجھ میں وہ میری ہنسی بھی کھا گیا تھا۔۔

چاہ کر بھی میں دل سے مسکرا نہیں پاتا تھا۔۔

جو روپ میرا تمہارے سامنے ہوتا ہے وہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا

سچ کہو تو مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ میں کسی کو ہنسا سکتا ہوں یا اس طرح سے بھی زندگی انجوائے کر سکتا ہوں۔۔

وجاہت سنجیدگی سے بول رہا تھا اور ہانیہ خاموشی سے اسے بس سن رہی تھی۔۔

مگر ایسے آپ کیوں تھے میرا مطلب ہے آپ کے گھر میں کوئی اتنا سنجیدہ نہیں رہتا۔۔

جب وجاہت خاموش ہوگیا تو ہانیہ نے ایک اور سوال کیا۔۔

میں ایسا کیسے ہوں ہمم۔۔

ہانیہ کے سوال پر وجاہت کے تھوڑا سوچ کے کہا۔۔

بچپن سے ہی پڑھائی کا شوق تھا تو کتابوں کو ہی سب سے اچھا دوست مانا

اسکول ہو کالج ہو پھر یونیورسٹی میں ہر ایکٹیویٹی میں حصہ ضرور لیا مگر اولین ترجیح کتابوں کو ہی دی

میری سوچ کسی سے بھی نہیں ملتی تھی اسی لئے کبھی دوست نہیں بنائے۔۔

بس نور اور ہادی ہی تھے ہمیشہ سے ساتھ ہادی پھر بھی اپنے پاپا کے پاس جاتا رہتا تھا اسلئے نور ہی میری واحد دوست تھی۔۔

اسی لئے میں اس سے شادی کرنے پر بھی خوش تھا کہ چلو جو مجھے سمجھتی ہے وہی میری لائف پارٹنر بھی ہوگی ۔۔

جانتی ہو نور میرے کہے بغیر ہی میری ہر بات سمجھ جاتی تھی اتنا جانتی تھی وہ مجھے۔۔

مگر ہماری شادی کے بعد کچھ ہی عرصے میں میری دوست گم ہوگئی تھی۔۔

اسے بس ایک اچھا لائف اسٹائل چاہئیے تھا جو کہ میرے ساتھ اسے ملا۔۔

مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑھتا تھا کہ اسکی مانگ جائز ہے یہ ناجائز بس جو وہ کہتی تھی میں کرتا تھا۔۔

مگر جب بات میری اولاد پر آئی تو میں نے اسے روکا اور شاید یہی میری غلطی تھی جس کی وجہ سے وہ مجھ سے ایسے روٹھی کہ چھوڑ کر ہی چلی گئی۔۔

وجاہت کا چہرا بولتے وقت ایک دم سپاٹ تھا ہانیہ اندازہ بھی نہیں کر پارہی تھی کہ اس پر اس کے دل میں کیا چل رہا ہے۔۔

آپ کو زبردستی نہیں کرنی چاہئے تھی

ہانیہ نے رخ موڑ کے کہا وہ اب اپنے تاثرات وجاہت کو دکھانا نہیں چاہتی تھی۔۔

جانتا ہوں غلط کیا مگر جب مجھے پتہ چلا تھا کہ وہ پہلے بھی ابارشن کروا چکی تھی تو مجھے بہت زیادہ غصہ آیا تھا اور میں نے پھر ضد باندھ لی تھی کہ یہ بچہ مجھے ہر حال میں چاہئیے۔۔

وجاہت کی بات پر ہانیہ نے فوراً رخ وجاہت کی طرف کر کے کہا۔۔

آپ کو کیسے پتہ وہ یہ پہلے بھی کروا چکی تھی اور جب کروا چکی تھی تو آپ کو پتہ کیسے نہیں چلا۔۔

ہانیہ کو حیرت میں مبتلا دیکھ کے وجاہت تنزیہ ہنسا۔۔

شادی کے 1 ماہ بعد مجھے کینیڈہ جانا پڑا تھا 2 ماہ کیلئے میں نے نور کو ساتھ چلنے کا کہا تھا مگر وہ بلکل نہیں مانی اسی بیچ اسے پتہ چلا تھا کہ وہ ایکسپیکٹ کر رہی ہے تو اس نے میری غیر موجودگی میں یہ سب کیا۔۔

پھر جب حور ہونے والی تھی تب مجھے اسکی ڈاکٹر نے اسکے کیس کے بارے میں ڈیٹیل دی تھی پچھلی پریگنینسی کے بارے میں بھی بتایا تھا۔۔

مجھے معلوم تو ہوگیا تھا مگر میں نے کچھ کہا نہیں تھا اسے کیونکہ وہ تو پہلے ہی حور کو دنیا میں نہیں لانا چاہتی تھی۔۔

جس دن اسکی ڈیتھ ہوئی میرا اور اسکا جھگڑا اسی بات پہ ہوا تھا جب اس نے یہ بات قبول کی تھی تو غصے میں میں نے اسے تھپڑ مار دیا تھا۔۔

اور وہ بہت غصے میں گھر سے گئی تھی کبھی نہ واپس آنے کیلئے۔۔

گاڑی میں اب بلکل خاموشی تھی وجاہت ڈرائیونگ کر رہا تھا

دوسری طرف ہانیہ شیشے کے پار ہی دیکھ رہی تھی

آج اسے وجاہت کے سرد رویے کی وجہ معلوم ہوئی تھی وہ ایسا کیوں تھا اسے اب سمجھ آرہا تھا۔۔

پہلے تو اسنے اپنی اولاد کھوئی تھی اسکا دکھ پھر دوست کھوئی اسکا دکھ اور پھر بیوی ۔۔

کافی دیر کی خاموشی کے بعد وجاہت نے محسوس کیا ہانیہ کسی گہری سوچ میں چلی گئی تھی۔۔

گہرا سانس لے کر وجاہت نے خود کو نارمل کیا اور پھر ہانیہ کو مخاطب کیا۔۔

ایک بات بتاؤں۔۔

وجاہت کی آواز پر ہانیہ نے چونک کر وجاہت کو دیکھا۔۔

میری زندگی میں ایسے بہت سے پل آئے ہیں جس نے مجھے سخت بننے پر مجبور کردیا مگر ۔۔

وجاہت مگر پر رکا تو ہانیہ نے مگر کا مطلب پوچھا۔۔

مگر کیا۔۔

ہانیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر وجاہت بولا

مگر یہ کہ جب سے تم زندگی میں آئی ہو میں پھر سے خوش رہنے لگا ہوں ۔۔

تم سے بات کرنا اچھا لگتا ہے تمہارا ساتھ اچھا لگتا ہے تمہارے پاس آنا اچھا لگتا ہے۔۔

وجاہت نے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔

اتنی خوبصورتی سے کہنے پر ہانیہ نے محبت سے اسے دیکھا ۔۔

نور کو کبھی بھلا نہیں سکتا کیونکہ وہ میری بچپن کی دوست تھی مگر تمہارے ساتھ اپنی آخری سانس تک رہنا چاہتا ہوں۔۔

پتہ نہیں ان الفاظوں سے دل کا حال بیان ہوتا ہے کہ نہیں مگر یہ الفاظ خوبصورت ہیں۔۔

وجاہت بولتے بولتے مسکرانے لگا۔۔

کونسے الفاظ۔۔ وجاہت کو ہنسا دیکھ ہانیہ نے سوال کیا۔۔

ارے یار تم دنیا کی پہلی اور آخری لڑکی ہو جسے میں یہ کہہ رہا ہو۔۔

آج پہلی بار ہانیہ نے وجاہت کو کنفیوز ہوتا دیکھا۔۔

بولیں بھی۔۔

ہانیہ کی بات پر وجاہت نے گاڑی روکی اور اسکا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔۔

مسز ہانیہ وجاہت عالم آئی لو یو۔۔

وجاہت کے انداز پر ہانیہ مسکرادی جب کہ آنکھوں میں نمی آگئی تھی۔۔

جانتا ہوں چیزی لائنز ہیں پر دل کر رہا تھا بولو۔۔

گہری نظروں سے ہانیہ کو دیکھ کے وجاہت نے ایک بار پھر گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف بڑھادی۔۔

اگلے پانچ منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ گئے۔۔

❤️💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

گھر وہ لوگ 11 بجے واپس آئے تھے ممکن تھا کہ سب سو چکے ہونگے یہ پھر اپنے اپنے کمروں میں ہونگے۔۔

گاڑی پارکنگ ایریا میں پارک کر کے وجاہت نے ہانیہ کا ہاتھ تھاما اور گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔

وجاہت کا یوں اسکا ہاتھ تھام کر گھر میں داخل ہونے پر ہانیہ کو بہت خوشی ہوئی۔۔

اسے بھی ایسا ہی لگا کہ سب اس وقت اپنے اپنے کمرے میں ہونگے تو اس نے اپنا ہاتھ وجاہت کی گرفت سے نہیں نکالا۔۔

گھر میں جب وہ دونوں داخل ہوئے تو ان دونوں کے ہی چہروں پر مسکراہٹ تھی جو کہ ہال کا منظر دیکھ کے ہی غائب ہوگئی۔۔

کیونکہ آج سبھی گھر والے ہال میں ہی موجود تھے اور وجاہت اور ہانیہ کو غصے سے دیکھ رہے تھے۔۔

سب کی نظریں خود پر دیکھ ہانیہ گھبرا گئی وہ اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہتی تھی مگر وجاہت نے اسکا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا۔۔

وجاہت عالم کہاں تھے آپ۔۔

دادو کی غصے سے بھری آواز سن کے اب وجاہت کو بھی جھٹکا لگا۔۔

دادو وہ ہم۔۔

ہانیہ بولنے لگی کہ دادو نے اسے بھی ڈانٹ دیا۔۔

ہانیہ آپ سے بات نہیں کی میں نے اپنے پوتے سے سوال کر رہی ہوں۔۔

دادو کے لہجے پر ہانیہ کو ایک دم رونا آیا اور اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی۔۔

باہر گئے تھے ہم۔۔

وجاہت نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔۔

یہ کیسا باہر جانا ہوا تم لوگوں کا گھر میں بتانا بھی مناسب نہ سمجھا کب سے پریشان ہورہے ہیں ہم سب تم لوگوں کیلئے۔۔

اور تم ہو کہ غائب ہی ہوگئے نیلم نے ہمیں بتایا تھا کہ تم بہت غصے میں ہانیہ کو لے گئے تھے۔۔

شان صاحب نے بھی تھوڑا سخت لہجا اپنایا مگر آواز دھیمی ہی رکھی۔۔

ڈیڈ اپنی بیوی کے ساتھ تھا کسی غیر انسان کے ساتھ نہیں جو آپ لوگ پریشان ہورہے تھے۔۔

وجاہت نے اب تھوڑے سرد رویے سے کہا اسے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ہانیہ کا یوں آنسو بہانا۔۔

بیوی کے ساتھ۔۔ وجاہت تم اسی بیوی کے ساتھ گئے تھے جس سے تم نفرت کرتے ہو جسے دیکھنا تک تو گوارہ نہیں ہے تمہیں۔۔

ہمیں ڈر تھا کہ کہیں تم اسے نقصان نہ پہنچا دو اسی لئے پریشان ہورہے تھے ہم سب

دادو نے اب بھی غصے سے ہی کہا۔۔

عالیہ بیگم اور نیلم بلکل خاموش تھے۔۔

ہاں اور میں نے تو پولیس کو کال بھی کر دی تھی۔۔

ہادی کے بولنے پر وجاہت کا پارہ ایک دم سے چڑھ گیا۔۔

ہو کیا گیا ہے آپ سب کو۔۔

پہلے تو پیچھے پڑے رہتے تھے کہ ہانیہ کو وقت دوں اس سے بات کروں اس کے ساتھ رویہ اپنا بہتر کروں ۔۔

اب میں یہ سب کر رہا ہوں تو بھی آپ سب کو مسئلہ ہے۔۔

وجاہت غصے میں تھا مگر بہت ضبط کے باوجود بھی اسکی آواز تھوڑی اونچی تھی۔۔

مانتے ہیں ہم نے زبردستی کی اور تم بھی مجبور ہو کر ہی ہانیہ کے ساتھ اس رشتے میں ہو اسی لئے ہم سب نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تم لوگ ساتھ میں خوش نہیں تو تم دونوں کو الگ ہوجانا چاہئیے۔۔

دادو نے یہ بات بہت ٹھنڈے لہجے میں کہی۔۔

مگر ہانیہ اور وجاہت کو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے گرم دہکتا ہوا سیسہ ان کے کان میں ڈالا ہو۔۔

دادو کی بات پر جہاں ہانیہ کے آنسوؤں میں روانی آگئی وہیں وجاہت نے اب اپنا اپا کھو دیا۔۔

میں ایسا کچھ نہیں کروں گا سن لیں سب

ہانیہ میری بیوی ہے اسے میں کسی بھی قیمت پر خود سے دور نہیں کروں گا۔۔

اور ہاں کسی نے اگر ایسا کرنے کا سوچا بھی تو اس کی شکل میں ساری زندگی نہیں دیکھو گا۔۔

ہانیہ میری ہے اور میری آخری سانس تک میری ہی رہے گی ۔۔

سختی تھی وجاہت کے چہرے پر مگر لفظوں میں تڑپ تھی۔۔

وجاہت نے جب بات ختم کی تو سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ مسکراہٹ قہقہوں میں بدل گئی ۔۔

سب کو قہقہہ لگاتا دیکھ وجاہت نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا۔۔

کیسے بھول گیا وہ کہ اس کے گھر والے بات اگلوانے کیلئے ہی یہ غصے والی ٹرک اپناتے تھے۔۔

سب کو قہقہے لگاتا دیکھ کے ہانیہ ہونقوں کی طرح سب کو دیکھ رہی تھی۔۔

عالیہ بیگم کو اپنی بہو پر ترس آگیا انہوں نے ہانیہ کو مسکراتے ہوئے گلے لگا لیا۔۔

عالیہ بیگم کے کندھے پر ہانیہ پھوٹ پھوٹ کے روئی ڈر جو گئی تھی سچ میں۔۔

دوسری طرف وجاہت گہرے سانس لے کر اپنا غصہ ختم کر رہا تھا اسکے چہرے پر بھی اب ہنسی آگئی تھی مگر وہ اپنا چہرا جھکائے اسے چھپانے کی ناکام کشش کر رہا تھا۔۔

دیکھا دادو میں نے کہا تھا نہ کہ سیدھے طریقے سے وجی کبھی نہیں مانے گا

دیکھو میرا آئیڈیا کیسے کام آیا۔۔

ہادی شان سے اپنا کالر پکڑ کے بول رہا تھا جب کے وجاہت نے فوری اسکی گردن دبوچ لی۔۔

دادو کے بچے مزاق کے چکر میں تو میرے ہاتھوں سے ضائع نہ ہوجاتا۔۔

وجاہت نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔

ارے ہانی بچاؤ اس جلاد سے مجھے۔۔

ہادی نے ہانیہ کو آواز لگائی تو ہانیہ نے عالیہ بیگم سے الگ ہو کر ہادی کو دیکھا جو اسے ہی بیچارگی سے دیکھ رہا تھا۔۔

ہانیہ کو لگا وجاہت غصے میں ہے اب اس میں کہاں اتنی ہمت تھی کہ وجاہت کو سب کے سامنے کچھ کہتی ۔۔

ہانی نہیں بھابھی بول بھابھی ہے وہ تیری جب دیکھو ہانی ہانی کرتا رہتا ہے۔۔

وجاہت نے اسکی گردن چھوڑ کے کہا۔۔

میں تو ہانی ہی کہوں گا سب لوگ یہی کہتے ہیں اسے۔۔

ہادی بول کر تیزی سے دادو کے پیچھے چھپ گیا۔۔

آئیندہ ایسا مزاق مت کیجیئے گا میرے ساتھ۔۔

وجاہت نے اب بہت نرم لہجے میں سب سے کہا۔۔

برو برا مت مانیں مگر اگر ہم ایسا نہ کرتے تو آپ تو کبھی یہ بات ایکسیپٹ نہیں کرتے کہ کے آپ ہانیہ بھابھی کو پسند کرتے ہیں۔۔

نیلم کے بولنے پر وجاہت نے بس اسے گھورا۔۔

دادو نے سب کو اشارے سے کہا کہ سب اب اپنے اپنے کمرے میں جائیں

سبھی مسکراتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں جانے لگے۔۔

وجاہت اور ہانیہ وہیں دادو کے ساتھ تھے۔۔

اب جب تم مان ہی چکے ہو کہ تم ہانیہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو پھر اب یوں الگ الگ کمروں میں نہیں رہوگے بلکہ جو برابر والا کمرہ تمہاری کمرے سے جوڑا گیا ہے اس میں حور رہے گی

تاکہ تم دونوں ہی اسے دیکھ سکو۔۔

اور اب سے تم دونوں ہی ساتھ میں رہو گے۔۔

تمہاری پیرس جانے کیلئے پیکنگ ہادی کرچکا ہے جبکہ ہانی کی پیکنگ نیلم نے کر دی ہے حور کا سامان بھی عالیہ نے پیک کر دیا ہے بس اسے ایک نظر دیکھ لینا۔۔

اور اب جاکر آرام کرو کل ہانی کے گھر والے لنچ کیلئے یہیں آئیں گے۔۔

اپنے گھر والوں کی آمد کا سن کے ہانیہ خوش ہوگئی۔۔

سچی دادو امی پاپا بھابھی بھائی سب آئیں گے۔۔

جی بیٹا پھر تم دونوں پیرس چلے جاؤگے آنے کے بارے میں تو ابھی تک ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ کب آؤگے تو اسی لئے سوچا کہ سب سے ہی مل کے جاؤ تو بہتر رہے گا۔۔

ہانیہ نے دادو کو گلے لگا کر شکریہ کہا تو دادو نے پیار سے ہانیہ کا ماتھا چوما اور اسے دل سے دعا دی

ہمیں خوش رہو میرے بچو ۔۔

دادو یہ بول کر چلی گئیں وجاہت نے ہانیہ کو ایک نظر دیکھا جو مسکرا رہی تھی پھر اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔۔

کمرے میں آکر سب سے پہلے انہوں نے ساتھ والے کمرے میں حور کو دیکھا جو کہ اپنے بے بی کوٹ میں سورہی تھی۔۔

حور کا اور ہانیہ کا ضرورت کا سامان بھی اب انہیں کمروں میں تھا۔۔

ہانیہ نے وجاہت کے کمرے کا جائزہ لیا وہ پہلے بھی اس کمرے میں آ چکی تھی مگر کبھی بھی اس کمرے کو اس نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا

ڈارک رائل بلیو اور وائٹ کلر کے کامبینیشن کا کمرہ تھا جو کہ شاید اس گھر کا سب سے خوبصورت کمرہ تھا۔۔

پورا فرنیچر بھی سفید رنگ کا ہی تھا بس سفید رنگ کے صوفوں پر ڈارک رائل بلیو کشن تھے اور بیڈ پر بھی تکیے اور کشنز بلیو رنگ کے تھے۔۔

وہ سادگی سے بھرپور کمرہ ہانیہ کو بہت اچھا لگا تھا۔۔

کمرے میں لیلیز کی خوشبو بہت بھلی لگ رہی تھی کمرے میں موجود ٹیبل پر رکھے واز میں تازے لیلیز تھے جو کہ ہانیہ کو بہت پسند تھے۔۔

سب سے بڑھ کر بیڈ سے منسلک دیوار پر ہانیہ وجاہت اور حور کی بڑی سی تصویر تھی جو کہ پارٹی میں لی ہوئی تھی

وہ ایک مکمل اور خوبصورت تصویر تھی جس میں دیکھ وہ دونوں حور کو رہے تھے مگر دیکھنے والوں کو ایسا لگتا کہ وہ تینوں ہی ایک دوسرے کو بہت پیار سے دیکھ رہے تھے۔۔

ہانیہ اس تصویر کو غور سے دیکھنے لگی وجاہت نے بھی اس تصویر کو دیکھا اور ہانیہ کو پیچھے سے اپنی گرفت میں لے کر اسکے گرد اپنا حصار مضبوطی سے باندھ دیا۔۔

ٹھوڑی ہانیہ کا کندھے پر رکھ کر وجاہت ہانیہ سے سوال کرنے لگا۔۔

اچھی لگی تصویر ۔۔

بہت۔۔

ہانیہ نے اپنا سر وجاہت کے سر سے ٹکرا کے کہا۔۔

خوش ہو۔۔

بہت زیادہ

اب ہانیہ نے اپنے ہاتھ سے وجاہت کے گال پر ہاتھ رکھ کے کہا۔۔

نیچے ڈر گئی تھی۔۔

بہت سے بھی زیادہ ۔۔

ہانیہ کی ڈری ہوئی آواز سن کے وجاہت مسکرا دیا۔۔

ہانیہ کا رخ اپنی طرف کر کے اسے کندھوں سے تھام کے بولا۔۔

میرے گھر والے ایسے ہی ہیں جب انہیں مجھ سے کوئی بات منوانی ہوتی ہے تو مجھے ایسے ہی غصہ دلاتے ہیں جانتے ہیں سب کہ غصے میں میرے دل میں جو ہوتا ہے وہ میں کہہ دیتا ہوں۔۔

اور میری یہ کمزوری سب کو پتہ ہے اور ہادی کا بچہ سب کو گائیڈ کرتا ہے۔۔

وجاہت مسکرا کے بولا اور اپنا سر ہانیہ کے سر سے جوڑ لیا۔۔

آپ ہادی پر غصہ کیوں کرتے ہیں۔۔

ہانیہ کے بولنے پر وجاہت نے اسے گھور کے دیکھا

کیونکہ وہ تمہیں ہانی بولتا ہے مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا۔۔

وجاہت کے جیلسی سے بولنے پر ہانیہ ہنس دی۔۔

ہنس کیوں رہی ہو۔۔

ہانیہ کو ہنستا دیکھ وجاہت نے اسے خود سے الگ کر کے دیکھا۔۔

وہ مجھے بھابھی بھی بولتا ہے۔۔

ہانیہ نے کہنے پر وجاہت نے سر نفی میں ہلایا۔۔

نہیں میں نے اسے کبھی بھابھی بولتے ہوئے نہیں دیکھا وہ تمہیں ہانی کہتا ہے۔۔

وہ مجھے ہانی صرف آپ کے سامنے کہتا ہے آپ کو تنگ کرنے کیلئے اور آپ بلا فضول ہی اس بیچارے کو غصے سے گھورتے رہتے ہو۔۔

ہانیہ ہنسی کنٹرول کرکے بولنے لگی۔۔

وجاہت نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے اپنے قریب کرکے بولا۔۔

وہ بیچارہ ہے اچھا جی۔۔

اور میں کیا ہوں بتانا پسند کروگی۔۔

وجاہت نے دوسرا ہاتھ ہانیہ کے بالوں میں پھنسا کے کہا مگر گرفت بہت نرم تھی۔۔

آپ۔۔

ہانیہ سوچنے لگی پھر بولی۔۔

آپ مسٹر اکڑو ہی ہو۔۔

ہانیہ کے معصومیت سے کہنے پر وجاہت بھی ہنس دیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

صبح 6 بجے الارم کی آواز پر وجاہت کی آنکھ کھلی تو اس نے فوراً آلارم بند کیا کیونکہ ہانیہ سورہی تھی۔۔

اور الارم کی آواز پر وہ تھوڑا کسمسائی تھی مگر پھر دوبارہ سے سوگئی۔۔

وجاہت نے دیکھا تھا کہ وہ رات میں دو سے تین بار تھکن کے باوجود جاگی تھی حور کے رونے کی آواز پر۔۔

اور اب حور بھی پرسکون ہو کر سورہی تھی اور ہانیہ بھی وجاہت کے بازو پر سر رکھے گہری نیند میں تھی۔۔

اسے اپنے بازو پر سر رکھا دیکھ وجاہت کے لبوں پر تبسم بکھر گیا۔۔

سوتے ہوئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی

وجاہت کے جاگنگ پر جانے کا وقت ہوگیا تھا مگر آج اسکا کہیں بھی جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔۔

دوسرے ہاتھ سے وہ ہانیہ کے بالوں سے کھیلنے لگا کبھی اسکے چہرے پر لے آتا تو کبھی چہرے سے ہٹا دیتا۔۔

نہ جانے اسے کیا خوشی مل رہی تھی ایسا کرنے سے مگر پھر جب اسے محسوس ہوا کہ ہانیہ کی نیند خراب ہورہی ہے تو الارم 2 گھنٹے بعد کا سیٹ کر کے وہ ہانیہ کو خود میں بھینچے دوبارہ سے سوگیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

عالم ولا میں ایک طرف ہانیہ اور وجاہت اپنی اپنی تیاریوں کو ایک نظر دیکھ رہے تھے تو دوسری طرف عالیہ بیگم اور نیلم نے لنچ کی تیاریوں کی ذمیداری سنبھالی ہوئی تھی۔۔

عالیہ بیگم اپنی نگرانی میں سارے کام کروا رہی تھیں اور نیلم بھی تھوڑا بہت کام کر رہی تھی۔۔

آج پہلی بار نیلم کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کسی نے اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیا ہوا ہے۔۔

مگر جب وہ ادھر ادھر دیکھتی تو اسے کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو اسے ہی مسلسل دیکھ رہا تھا ۔۔

اپنا وہم سمجھ کر اسنے ایک بار پھر کام میں مصروف ہونا چاہا تو ایک بار پھر اسے وہی نظریں تنگ کرنے لگی۔۔

ہادی دور سے ہی نیلم کی بے چینی دیکھ کے مسکرا رہا تھا۔۔

پرنسس محبت کرتی ہو تو امتحان بھی دینا ضروری ہے یہ پرنس بغیر کسی امتحان کے اپنا دل کسی پرنسس کو نہیں دیتا۔۔

کیا پتہ یہ محبت نہیں صرف وقتی ایٹریکشن ہو میرا تو دل ٹوٹ جائے گا نہ پھر تو۔۔

ہادی دور سے ہی نیلم کو اپنی نظروں کے حصار میں لے خود سے کہنے لگا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

سعید صاحب اپنی فیملی کے ساتھ عالم ولا آئے تھے

اپنی لاڈلی بیٹی کا کھلا ہوا چہرا دیکھ کے سبھی سرشار تھے۔۔

آج تو وجاہت کے چہرے پر سے بھی مسکان ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔۔

فاخر بھی ہانیہ کو خوش دیکھ کے بہت زیادہ مطمئن ہوگیا تھا اور دل سے اس کیلئے خوشیوں کی دعا کر رہا تھا۔۔

جبکہ ایشا ہانیہ کا نصیب دیکھ کے ہی دنگ رہ گئی تھی۔۔

عالیشان گھر محبت کرنے والا شوہر اور اتنی اہمیت دینے والا سسرال۔۔

اس نے تو خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ جسے وہ اتنا دھتکارتی تھی ان لوگوں نے اسے دل میں بسایا ہوا تھا۔۔

ہانیہ کا پہلا شوہر جو کہ ایک عام انسان تھا اسے دیکھنا تک پسند نہیں کرتا تھا۔۔

اور کہاں یہ خوبصورت شہزادہ جسکی آنکھوں میں ہانیہ کیلئے محبت کا ایک سمندر تھا جسے اب ہر کوئی محسوس کرتا تھا۔۔

سب کی ڈھیروں دعائیں لے کر ہانیہ وجاہت کے ہمراہ حور کو لئے ائیرپورٹ کیلئے روانہ ہوگئی۔۔

اپنی زندگی کے ایک نئے باب کیلئے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *